سنی اتحاد کونسل میں آزاد امیدواروں ک ی شمولیت اور خصوصی نشستوں کی الاٹمنٹ کے حوالے سے الیکشن کمیشن میں سنی اتحاد کونسل کے خلاف چھ درخواستوں پر سماعت جاری ہے۔
سنی اتحاد کونسل کے وکلا علی ظفر اور بیرسٹر گوہر خان کے دلائل جاری ہیں۔
بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ آزاد امیدواروں پر پابندی نہیں کہ کس جماعت کو جوائن کریں کس کو نہیں
بنیادی مقصد کسی بھی حکومت یا اپوزیشن کا بنانے میں معاونت تھا۔ آئین میں کہیں نہیں ہے کہ کس جماعت میں شمولیت ہوسکتی ہے اور کس میں نہیں۔ پہلا سوال تھا سنی اتحاد کونسل منتخب نہیں، آزاد امیدوار شمولیت کربھی لیں تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک درخواست گزار کا موقف ہے سیاسی جماعت کو پارلیمانی جماعت ہونا ضروری ہے۔ آئین میں سیاسی جماعت کا ذکر ہے نہ کہ پارلیمانی جماعت کا،
پارلیمانی جماعت اور سیاسی جماعت میں فرق متعلق الگ آرٹیکل ہے۔
اس پر ممبر سندھ نثار درانی نے سوال کیا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعت چاہے غیر پارلیمانی ہو اگر ممبران شامل ہوگئے تو پارلیمانی بن جائے گی۔
علی ظفر کا کہنا ہے کہ بلکل سیاسی جماعت پارلیمانی بن سکتی ہے جب ممبران اسمبلی شامل ہوں، اگر ایس آئی سی کو مخصوص نشستیں نہ بھی دی جائیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تمام مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں میں تقسیم کر دی جائیں۔
علی ظفر کا کہنا ہے کہ اگر کوئی سیاسی جماعت اسمبلی میں 20 جنرل نشستیں حاصل کر پائی تو اسے 30 جنرل نشستوں کے حساب سے مخصوص نشستیں نہیں دی جا سکتیں۔ آئین میں درج ہے کہ مخصوص نشستوں کا فیصلہ آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد کیا جائے گا۔
چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ اس آرٹیکل کی یہ تشریح بھی ہو سکتی ہے کہ مخصوص نشستیں صرف اس جماعت کو ملیں گی جو الیکشن کے ذریعے اسمبلیوں میں آئی۔ علی ظفر کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 51 ڈی واضح ہے کہ سیاسی جماعتوں کو متناسب نمائندگی کے تحت مخصوص نشستیں الاٹ ہونی ہیں۔ آزاد ارکان کی شمولیت کے بعد سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حق دار ہے۔
علی ظفر کا کہنا ہے کہ آئین سیاسی جماعت اور پارلیمانی پارٹی میں تفریق کرتا ہے۔ بھلے ہی ایس آئی سی نے خود الیکشن میں حصہ نہیں لیا، آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد وہ پارلیمانی پارٹی بن گئی۔
چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کی ترجیحی فہرست بھی جمع نہیں کرائی، کیا سنی اتحاد کونسل الیکشن کے بعد ترجیحی فہرست جمع کراسکتی ہے؟
ممبر بابر حسن بھروانہ نے ریمارکس دیے کہ کیا صرف آزاد ارکان کی بنیاد پر ایک سیاسی جماعت کو مخصوص نشستیں دیدیں؟ آزاد ارکان کے بغیر اس وقت سنی اتحاد کونسل کی کوئی حیثیت نہیں، ان کا کہنا تھا کہ جن جماعتوں کے ارکان نے نشستیں جیتیں ان جماعتوں میں کیوں مخصوص نشستیں تقسیم نہ کریں؟
علی طفر نے دلائل دیے کہ آئین کے مطابق سیاسی جماعت کے لیے پارلیمانی پارٹی ہونے کی کوئی شرط نہیں، ان کا کہنا تھا کہ مخصوص نشستیں نہ دینے سے سینیٹ الیکشن میں بھی سنی اتحاد کونسل کو نقصان ہوگا۔
اس پر ممبر بابر حسن بھروانہ نے سوال کیا کہ ترجیحی فہرست کون دے گا پارٹی سربراہ یا پارلیمانی پارٹی کا سربراہ؟ فاروق نائیک کا کہنا تھا کہ ترجیحی فہرست اس وقت دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ترجیحی فہرست جمع کرانے کا وقت الیکشن سے پہلے گزر چکا ہے۔