آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پاکستانی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات تک نئی حکومت کو تسلیم نہ کریں، امریکی اراکینِ کانگرس کا صدر بائیڈن کو خط

امریکہ میں دو درجن سے زائد اراکینِ کانگرس نے صدر بائیڈن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں بننے والی نئی حکومت کو اس وقت تک تسلیم نہ کریں جب تک انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات نہ ہو جائیں۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی نے بلوچستان کی وزارتِ اعلیٰ کے لیے سرفراز بگٹی کے نام کا اعلان کر دیا ہے جبکہ ن لیگ کے ایاز صادق قومی اسمبلی کے تیسری بار سپیکر منتخب ہو گئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. نواز شریف نے شہباز شریف کو وزیراعظم اور ایاز صادق کو سپیکر کے لیے نامزد کر دیا

    مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں پارٹی قائد نواز شریف نے با ضابطہ طور پر مسلم لیگ ن کی طرف سے شہباز شریف کو وزیر اعظم کے لیے اور سردار ایاز صادق کو سپیکر قومی اسمبلی کے لیے نامزد کر دیا ہے۔

  2. بریکنگ, قومی اسمبلی کا افتتاحی اجلاس جمعرات کی صبح 10 بجے طلب

    قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق ایوان زیریں کا افتتاحی اجلاس جمعرات کی صبح دس بجے طلب کر لیا ہے۔ اس اجلاس میں نو منتخب اراکین اسمبلی حلف لیں گے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل صدر مملکت نے یہ کہہ کر اجلاس طلب کرنے سے متعلق سمری واپس کر دی تھی کہ پہلے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دی جائیں تا کہ قومی اسمبلی کی کپمپوزیشن مکمل ہو سکے۔

    الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں سے متعلق آج فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

  3. پنجاب کو ایک ماہ کے بجٹ کی فراہمی کے لیے تحریک پیش، ’صوبے میں مالی شٹ ڈاؤن کا خطرہ‘

    سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے صوبہ پنجاب کو ایک ماہ کے بجٹ کی فراہمی کے لیے آئین کے آرٹیکل 125 کی تحریک ضابطے کے مطابق قرار دے دی ہے۔

    پنجاب کی نومنتخب حکومت نے مریم اورنگزیب کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 125 کے تحت سپیکر پنجاب اسمبلی سے ایک ماہ کا بجٹ منظور کرنے کی تحریک پیش کی تھی۔

    تحریک میں کہا گیا ہے کہ ’کابینہ اور حکومت تشکیل نہ پائی ہو تو آئین کے تحت اسمبلی متعلقہ مدت کے لیے بجٹ منظور کرتی ہے۔ کابینہ اور حکومت کی تشکیل مکمل ہونے تک امور حکومت چلانے کے لیے بجٹ دیا جائے۔‘

    تحریک کے مطابق صوبے میں تنخواہوں کی ادائیگی، تعلیم، صحت دوائی کی فراہمی، عدالتوں اور امن و امان سمیت دیگر ضروری اخراجات کے لیے یہ اقدام ضروری ہے۔

    مریم اورنگزیب نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت کی قلت اور کابینہ و حکومت کی عدم تشکیل کی وجہ سے بجٹ تجاویز نہیں بن سکتیں۔ انھوں نے موقف اختیار کیا کہ ’ایک ماہ کا بجٹ منظور نہ ہوا تو صوبے میں مالی شٹ ڈاؤن ہو جائے گا۔‘

  4. بلوچستان اسمبلی کا افتتاحی اجلاس، نومنتخب اراکین اسمبلی نے رکنیت کا حلف لیا

    بلوچستان اسمبلی کے نومنتخب اراکین اسمبلی نے بُدھ کو اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں رکنیت کا حلف لیا۔

    اراکین سے حلف لینے کے لیے بلوچستان اسمبلی کا افتتاحی اجلاس سینیئر رکن انجنیئر زمرک خان اچکزئی کی صدارت میں ہوا۔

    ایوان میں موجود 57اراکین میں سے انجنیئر زمرک خان نے حلف لیا۔ بلوچستان اسمبلی کے تین حلقوں کے نتائج کو روکا گیا ہے جبکہ بعض اراکین اجلاس میں شریک نہیں تھے۔

    اراکین کے حلف لینے کے بعد اجلاس کی کارروائی 29 فروری تک ملتوی کردی گئی۔ 29 فروری کو بلوچستان اسمبلی کے نئے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔

  5. اگر ہماری مخصوص نشستیں ن لیگ، پی پی پی میں بانٹی گئیں تو سپریم کورٹ جائیں گے: پی ٹی آئی

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما اور وکیل بیرسٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ ان کی طرف سے الیکشن کمیشن کو بتایا گیا ہے کہ آئین کے مطابق مخصوص نشستوں میں جو ان کی جماعت کے حمایت یافتہ امیدواروں کا حصہ ہے وہ انھیں ملنا چاہیے۔

    بدھ کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ ’ایک بحث کی گئی کہ سُنّی اتحاد کونسل ایک سیاسی جماعت تو ہے لیکن انھوں نے پارلیمنٹ میں کوئی نشست نہیں جیتی اس لیے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں کی شمولیت کے بعد بھی اس جماعت کو اقلیتوں کی اور خواتین کی مخصوص نشستیں نہیں دی جا سکتیں۔‘

    انھوں نے الیکشن کمیشن میں جاری سماعت کا احوال بتاتے ہوئے کہا کہ ’اس پر ہم نے آرٹیکل 51 دکھایا الیکشن کمیشن آف پاکستان کو اور یہ بتایا کہ وہاں لکھا ہوا ہے کہ کسی بھِی سیاسی جماعت کو جوائن کیا جا سکتا ہے، آئین میں کہیں یہ قدغن نہیں لگائی گئی کہ جو سیاسی جماعت پارلیمنٹ میں ہو صرف اُس میں ہی شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ دوسری بحث یہ کی گئی کہ سُنّی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کے لیے کوئی لسٹ نہیں دی۔

    ’بالکل درست ہے کہ لسٹ نہیں دی لیکن اس میں کہاں قدغن ہے قانون میں کہ آپ دوبارہ لسٹ نہیں دے سکتے؟‘

    پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے اور انھیں امید ہے کہ آئین و قانون کے مطابق فیصلہ ہوگا۔

    انھوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کی سیٹیں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی میں تقسیم کی گئیں تو ان کی جماعت سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔

    خیال رہے بدھ کو الیکشن کمیشن میں سُنّی اتحاد کونسل میں آزاد امیدواروں کی شمولیت اور خصوصی نشستوں کی الاٹمنٹ کے حوالے سے درخواستوں پر سماعت ہوئی۔

    دورانِ سماعت چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ سربراہ سُنّی اتحاد کونسل نے 26 فروری کو الیکشن کمیشن کو خط لکھا، سُنّی اتحاد کونسل نے کہا کہ جنرل الیکشن نہیں لڑے نا مخصوص نشستیں چاہییں۔

    چیف الیکشن کمشنر نے علی ظفر کو مخاطب ہو کر سوال کیا کہ سُنّی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہیں چاہییں تو آپ کیوں ان کو مجبور کر رہے ہیں۔

  6. الیکشن کمیشن کو لکھے گئے خط میں نہیں لکھا کہ ہمیں مخصوص نشستیں نہیں چاہییں: صاحزادہ حامد رضا

    سُنّی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو لکھے گئے خط میں کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ انھیں اسمبلیوں میں مخصوص نشستیں درکار نہیں ہیں۔

    بدھ کو اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کرواتے وقت الیکشن کمیشن تمام سیاسی جماعتوں کو خط لکھتا ہے کہ وہ امیدواروں کو ٹکٹ جاری کرتے وقت خواتین کو بھی پانچ فیصد کوٹہ دیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ 23 تاریخ کو الیکشن کمیشن کی جانب سے ان سے کہا گیا تھا کہ وہ اس پانچ فیصد کوٹے کی فہرست 26 تاریخ تک جمع کروا دیں۔

    صاحبزادہ حامد رضا نے مزید کہا کہ ’ہم نے 26 تاریخ کو ان کو لکھا کہ چونکہ ہمارا اتحاد پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ہے اس لیے سنی اتحاد کونسل نے جنرل نشستوں پر انتخابات نہیں لڑے اور میں بحیثیت چیئرمین بھی نہیں کر سکا تو اس وجہ سے ہم اس کیٹگری میں نہیں آتے۔‘

    صاحبزادہ حامد رضا کے مطابق ان کی جانب سے لکھے گئے خط میں ’مخصوص نشستوں کی کوئی بات نہیں ہے۔‘

    ’ہم نے کسی جگہ پر یہ بات نہیں کی کہ ہماری مخصوص نشستیں بنتی نہیں یا مخصوص نشستیں چاہییں نہیں۔‘

    خیال رہے بدھ کو الیکشن کمیشن میں سُنّی اتحاد کونسل میں آزاد امیدواروں کی شمولیت اور خصوصی نشستوں کی الاٹمنٹ کے حوالے سے درخواستوں پر سماعت ہوئی۔

    دورانِ سماعت چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ سربراہ سُنّی اتحاد کونسل نے 26 فروری کو الیکشن کمیشن کو خط لکھا، سُنّی اتحاد کونسل نے کہا کہ جنرل الیکشن نہیں لڑے نا مخصوص نشستیں چاہییں۔

    چیف الیکشن کمشنر نے علی ظفر کو مخاطب ہو کر سوال کیا کہ سُنّی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہیں چاہییں تو آپ کیوں ان کو مجبور کر رہے ہیں۔

    بیرسٹر علی ظفر نے سُنّی اتحاد کونسل کے خط سے لاعلمی کا اظہار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو سُنّی اتحاد کونسل نے ایسے کسی خط کے حوالے سے نہیں بتایا۔

    الیکشن کمیشن نے سُنّی اتحاد کونسل کی درخواستوں پر سماعت کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

  7. سنی اتحاد کونسل نے کہا ہے کہ جنرل الیکشن لڑے نہ ہی مخصوص نشستیں چاہییں: چیف الیکشن کمشنر

    سنی اتحاد کونسل میں آزاد امیدواروں کی شمولیت اور خصوصی نشستوں کی الاٹمنٹ کے حوالے سے الیکشن کمیشن میں سنی اتحاد کونسل کے خلاف چھ درخواستوں پر سماعت جاری ہے۔

    سنی اتحاد کونسل کے وکلا علی ظفر اور بیرسٹر گوہر خان کے دلائل جاری ہیں۔

    علی ظفر کا کہنا ہے کہ ہم جمہوریت کی بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں، اپنی اپنی سیٹیں لے لی ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ وہ سیٹیں بھی ہم نے لینی ہیں۔

    بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ اب سیاسی جماعتیں ان سیٹوں کی لالچ میں ہیں۔ ا س کے ساتھ ہی بیرسٹر علی ظفر کے دلائل مکمل ہو گئے ہیں۔

    جس کے بعد چیف الیکشن کمشنر نے سنی اتحاد کونسل کا خط بیرسٹر علی ظفر کو دے دیا۔

    چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ سربراہ سنی اتحاد کونسل نے 26 فروری کو الیکشن کمیشن کو خط لکھا، سنی اتحاد کونسل نے کہا جنرل الیکشن نہیں لڑے نا مخصوص نشستیں چاہییں۔

    چیف الیکشن کمشنر نے علی ظفر کو مخاطب ہو کر سوال کیا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہیں چاہییں تو آپ کیوں ان کو مجبور کر رہے ہیں۔

    بیرسٹر علی ظفر نے سنی اتحاد کونسل کے خط سے لاعلمی کا اظہار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو سنی اتحاد کونسل نے ایسے کسی خط کے حوالے سے نہیں بتایا۔

  8. مخصوص نشستیں نہ دینے سے سینیٹ الیکشن میں بھی سنی اتحاد کونسل کو نقصان ہوگا، علی ظفر کے دلائل

    سنی اتحاد کونسل میں آزاد امیدواروں ک ی شمولیت اور خصوصی نشستوں کی الاٹمنٹ کے حوالے سے الیکشن کمیشن میں سنی اتحاد کونسل کے خلاف چھ درخواستوں پر سماعت جاری ہے۔

    سنی اتحاد کونسل کے وکلا علی ظفر اور بیرسٹر گوہر خان کے دلائل جاری ہیں۔

    بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ آزاد امیدواروں پر پابندی نہیں کہ کس جماعت کو جوائن کریں کس کو نہیں بنیادی مقصد کسی بھی حکومت یا اپوزیشن کا بنانے میں معاونت تھا۔ آئین میں کہیں نہیں ہے کہ کس جماعت میں شمولیت ہوسکتی ہے اور کس میں نہیں۔ پہلا سوال تھا سنی اتحاد کونسل منتخب نہیں، آزاد امیدوار شمولیت کربھی لیں تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک درخواست گزار کا موقف ہے سیاسی جماعت کو پارلیمانی جماعت ہونا ضروری ہے۔ آئین میں سیاسی جماعت کا ذکر ہے نہ کہ پارلیمانی جماعت کا، پارلیمانی جماعت اور سیاسی جماعت میں فرق متعلق الگ آرٹیکل ہے۔

    اس پر ممبر سندھ نثار درانی نے سوال کیا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعت چاہے غیر پارلیمانی ہو اگر ممبران شامل ہوگئے تو پارلیمانی بن جائے گی۔

    علی ظفر کا کہنا ہے کہ بلکل سیاسی جماعت پارلیمانی بن سکتی ہے جب ممبران اسمبلی شامل ہوں، اگر ایس آئی سی کو مخصوص نشستیں نہ بھی دی جائیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تمام مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں میں تقسیم کر دی جائیں۔

    علی ظفر کا کہنا ہے کہ اگر کوئی سیاسی جماعت اسمبلی میں 20 جنرل نشستیں حاصل کر پائی تو اسے 30 جنرل نشستوں کے حساب سے مخصوص نشستیں نہیں دی جا سکتیں۔ آئین میں درج ہے کہ مخصوص نشستوں کا فیصلہ آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد کیا جائے گا۔

    چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ اس آرٹیکل کی یہ تشریح بھی ہو سکتی ہے کہ مخصوص نشستیں صرف اس جماعت کو ملیں گی جو الیکشن کے ذریعے اسمبلیوں میں آئی۔ علی ظفر کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 51 ڈی واضح ہے کہ سیاسی جماعتوں کو متناسب نمائندگی کے تحت مخصوص نشستیں الاٹ ہونی ہیں۔ آزاد ارکان کی شمولیت کے بعد سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حق دار ہے۔

    علی ظفر کا کہنا ہے کہ آئین سیاسی جماعت اور پارلیمانی پارٹی میں تفریق کرتا ہے۔ بھلے ہی ایس آئی سی نے خود الیکشن میں حصہ نہیں لیا، آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد وہ پارلیمانی پارٹی بن گئی۔

    چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کی ترجیحی فہرست بھی جمع نہیں کرائی، کیا سنی اتحاد کونسل الیکشن کے بعد ترجیحی فہرست جمع کراسکتی ہے؟

    ممبر بابر حسن بھروانہ نے ریمارکس دیے کہ کیا صرف آزاد ارکان کی بنیاد پر ایک سیاسی جماعت کو مخصوص نشستیں دیدیں؟ آزاد ارکان کے بغیر اس وقت سنی اتحاد کونسل کی کوئی حیثیت نہیں، ان کا کہنا تھا کہ جن جماعتوں کے ارکان نے نشستیں جیتیں ان جماعتوں میں کیوں مخصوص نشستیں تقسیم نہ کریں؟

    علی طفر نے دلائل دیے کہ آئین کے مطابق سیاسی جماعت کے لیے پارلیمانی پارٹی ہونے کی کوئی شرط نہیں، ان کا کہنا تھا کہ مخصوص نشستیں نہ دینے سے سینیٹ الیکشن میں بھی سنی اتحاد کونسل کو نقصان ہوگا۔

    اس پر ممبر بابر حسن بھروانہ نے سوال کیا کہ ترجیحی فہرست کون دے گا پارٹی سربراہ یا پارلیمانی پارٹی کا سربراہ؟ فاروق نائیک کا کہنا تھا کہ ترجیحی فہرست اس وقت دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ترجیحی فہرست جمع کرانے کا وقت الیکشن سے پہلے گزر چکا ہے۔

  9. ممبر اکرام اللہ : اگر ایک پارٹی کے پاس سیٹیں نہیں ہیں تو مخصوص نشستیں کیسے ملیں گی؟

    سنی اتحاد کونسل میں آزاد امیدواروں کی شمولیت اور خصوصی نشستوں کی الاٹمنٹ کے حوالے سے الیکشن کمیشن میں سنی اتحاد کونسل کے خلاف چھ درخواستوں پر سماعت جاری ہے۔

    سنی اتحاد کونسل کے وکلا علی ظفر اور بیرسٹر گوہر خان کے دلائل جاری ہیں۔

    بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ اعتراض یہ ہے کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کی لسٹ نہیں دی، جب غیر معمولی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو تشریح کرنی پڑتی ہے ۔

    بیرسٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعت وہ ہے جو انتخابات میں حصہ لے۔ اس پر ممبر اکرام اللہ نے سوال کیا کہ جس پارٹی کا آپ حوالہ دے رہے ہیں کیا اس پارٹی نے انتخابات میں حصہ لیا؟ علی ظفر کا کہنا ہے کہ اگر وہ پارٹی نہیں ہے تو الیکشن کمیشن کی فہرست پر ان کا نام اور انتخابی نشان کیوں ہے۔

    علی ظفر کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن میں سیاسی جماعتیں الیکشن ایکٹ2017 کے سیکشن 202 کے تحت رجسٹرڈ ہیں۔ سنی اتحادکونسل بطورپارٹی رجسٹرڈ ہےاوراسے انتخابی نشان بھی دیا گیا ہے۔

    مبر خیبرپختونخوا نے ریمارکس دیے کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم اس پارٹی کی رجسٹریشن ختم کردیں، اس پر علی ظفر کا کہنا تھا کہ بے شک ختم کردیں لیکن اس کے لیے پراسس کرنا پڑے گا۔

    علی ظفر نے دلائل دیے کہ سنی اتحاد کونسل ایک سیاسی جماعت ہے اور ان کے پاس ایک انتخابی نشان ہے۔ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد ارکان کی شمولیت کے بعد سنی اتحاد کونسل پارلیمانی پارٹی بن گئی ہے۔

    ممبر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ آپ کہنا چاہ رہے کہ آزاد ارکان ہوں یا پارٹیز سے تعلق ہو سیٹیں ملیں گی، مخصوص نشستوں تو ملیں گی لیکن کس کو ملیں گی یہ الگ بات ہے۔

    علی ظفر نے دلائل دیے کہ ہر سیاسی جماعت کے سیٹوں کے تناسب سے مخصوص نشستیں ملیں گی۔

    چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ اس میں مخصوص نشستوں کی لسٹ کا ذکر بھی ہے۔

    علی ظفر نے دلائل دیے کہ میں آپ سے اختلاف نہیں کروں گا لیکن آپ فارمولا کو تبدیل نہیں کرسکتے۔

    ممبر اکرام اللہ کا کہنا تھا کہ اگر ایک پارٹی کے پاس سیٹیں نہیں ہیں تو مخصوص نشستیں کیسے ملیں گی؟ علی ظفر نے جواب دیا کہ بالکل بھی نہ ملیں لیکن میں ابھی اصول کی بات کررہا ہوں۔

    ممبر پنجاب نے سوال کیا کہ اگر آپ کے لوگ سنی اتحاد کونسل میں شامل نہ ہوتے تو فارمولا کیا ہوتا؟ اس پر علی ظفر نے کہا کہ غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر ماضی میں نہیں سوچا گیا۔

  10. آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ آپ کی درخواست پر تین میٹنگز ہوئیں، چیف الیکشن کمشنر کا علی ظفر سے مکالمہ

    سنی اتحاد کونسل میں آزاد امیدواروں کی شمولیت اور خصوصی نشستوں کی الاٹمنٹ کے حوالے سے الیکشن کمیشن میں سنی اتحاد کونسل کے خلاف چھ درخواستوں پر سماعت جاری ہے۔

    سنی اتحاد کونسل کے وکلا علی ظفر اور بیرسٹر گوہر خان کے دلائل جاری ہیں۔

    چیف الیکشن کمشنر نے بیرسٹر علی ظفر کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ کل الیکشن کمیشن نے حکمنامہ جاری کیا۔

    بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ آپ نے ساری پارٹیوں کو نوٹس کرنے کا فیصلہ لیا، شام کو اگر حکمنامہ جاری ہو تو پارٹیز کیسے تیاری کرکے صبح آسکتی ہیں، یہ ایک بے معنی مشق ہوگا۔

    اس پر الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ ہم نے صرف متعلقہ پارٹیز کو بلایا ہے ۔

    یرسٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ ایم کیو سیٹیں چاہتی ہیں لیکن انھوں نے درخواست میں سیٹوں کی بات نہیں کی، وہ ایک الگ درخواست دیں تاکہ مجھے پتہ ہو کہ وہ چاہتے کیا ہیں۔

    بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ میری درخواست تب لگی جب یہ درخواستیں آئیں۔

    اس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ آپ کی درخواست پر تین میٹنگز ہوئیں، بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ سماعت کی ضرورت تب آتی ہے جب ذہن میں ابہام ہو۔

    بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں خدشے کا اظہار کیا کہ انتخابی نشان نہیں ہوگا تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی، الیکشن کمیشن حکام نے کہا کہ وہ پارٹی جوائن کریں گے تو نشستیں مل جائیں گی۔

    چیف الیکشن کمشنر نے ان سے سوال کیا کہ کیا یہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں موجود ہے؟ علی ظفر کا کہنا تھا کہ نہیں یہ بات سپریم کورٹ کے فیصلے میں موجود نہیں ہے۔

    چیف الیکشن کمشنرکا کہنا تھا کہ آپ کے وکیل نے بھی یہ کہا تھا کہ انتخابی نشان نہیں ہوگا تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی، اگر ریکارڈنگز پہ جانا ہے تو بہت کچھ سننا پڑے گا۔

    بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی اور سب سے زیادہ آزاد امیدوار اسمبلی میں آئے، آزاد امیدواروں نے خیبرپختونخواہ میں بہت زیادہ سیٹیں حاصل کیں۔

  11. سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق درخواست پر سماعت: کیا صرف آزاد ارکان کی بنیاد پر ایک سیاسی جماعت کو مخصوص نشستیں دیدیں؟ بابر بھروانہ

    سنی اتحاد کونسل میں آزاد امیدواروں کی شمولیت اور خصوصی نشستوں کی الاٹمنٹ کے حوالے سے الیکشن کمیشن میں سنی اتحاد کونسل کے خلاف چھ درخواستوں پر سماعت آج دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ سنی اتحاد کونسل نے ترجیحی نشستوں کی فہرست بھی جمع نہیں کرائی، کیا سنی اتحاد کونسل الیکشن کے بعد ترجیحی فہرست جمع کراسکتی ہے؟

    ممبر بابر حسن بھروانہ کا کہنا تھا کہ کیا صرف آزاد ارکان کی بنیاد پر ایک سیاسی جماعت کو مخصوص نشستیں دیدیں؟ آزاد ارکان کے بغیر اس وقت سنی اتحاد کونسل کی کوئی حیثیت نہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ جن جماعتوں کے ارکان نے نشستیں جیتیں ان جماعتوں میں کیوں مخصوص نشستیں تقسیم نہ کریں؟

    بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیے کہ آئین کے مطابق سیاسی جماعت کا پارلیمانی ہونے کی کوئی شرط نہیں، مخصوص نشستیں نہ دینے سے سینیٹ الیکشن میں بھی سنی اتحاد کونسل کو نقصان ہوگا۔

    بممبر بابر حسن بھروانہ نے سوال کیا کہ ترجیحی فہرست کون دے گا پارٹی سربراہ یا پارلیمانی پارٹی کا سربراہ؟

    اس پر بیرسٹر فاروق نائیک کا کہنا تھا کہ ترجیحی فہرست اس وقت دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ترجیحی فہرست جمع کرانے کا وقت الیکشن سے پہلے گزر چکا ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ قانون میں موجود ہے کے ترجیحی فہرست دینا ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قانون میں یہ تو تحریر نہیں کہ اگر کوئی مقررہ وقت پر فہرست جمع نہیں کرواتا تو وہ بعد میں فہرست دے سکتاہے۔

    چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ آپ کی جماعت نے ہمیں تحریری طور پر بتایا ہے کہ وہ الیکشن لڑ رہے ہیں اور نہ انھیں مخصوص نشستوں کی ضرورت ہے، اس پر علی ظفر کا کہنا تھا کہ مگر اب صورت تبدیل ہوگئی اور آزاد امیدواروں نے سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کی تو مخصوص نشستیں ملنی چاہیں۔

  12. لاپتہ بلوچ طلبا کیس: چاہتے ہیں نئی حکومت آ جائے اور اسے تھوڑا وقت مل جائے: اٹارنی جنرل کی استدعا

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں جبری طور پر لاپتہ ہونے والے بلوچ طلبا کی بازیابی سے متعلق دائر درخواست پر سماعت ملتوی کر دی گئی ہے۔

    اختر کیانی کی سربراہی میں سنگل بینچ نے اس درخواست کی سماعت کی۔

    آج کی سماعت میں نگراں وزیر اعظم عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔

    دورانِ سماعت اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ عدالت نے وزیراعظم کو طلب کیا اور وہ پیش ہو گئے، وزیراعظم نے عدالت میں بیان دے دیا اور یہ معاملہ یہاں ختم ہو گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ وزیراعظم اور عدالت کے درمیان تھا، درخواست گزار وزیراعظم کو جواب نہیں دے سکتے۔ جس پر محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ وہ وزیراعظم کو جواب نہیں دے رہیں، ان کا موقف تو پہلے سن لیں۔

    درخواست گزار کی وکیل ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ ہم بھی شدت پسندی کی کارروائیوں کی حمایت نہیں کرتے، انھوں نے کہا کہ کمیشن کی رپورٹس موجود ہیں کہ جبری گمشدگیوں میں ادارے ملوث ہیں۔

    اس پر نگراں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ میں ایمان مزاری کے دلائل سے اختلاف کرتا ہوں۔

    عدالت نے نگراں وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت اور آپ کی اولین کوشش تھی لاپتہ لوگ گھروں کو پہنچ جائیں۔ انھوں نے کہا کہ درخواست پر کارروائی آگے نہ بڑھتی تو لوگ بازیاب نہ ہوتے۔

    جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا تھا کہ ہمیشہ کوشش رہی ہے رہا ہونے والے بھی عدالت میں اکر اپنا موقف دیں۔

    اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ نو لوگ جو سی ٹی ڈی کے پاس ہیں ان کے نام عدالت کو فراہم کردیے ہیں۔

    اٹارنی جنرل نے آئندہ سماعت کے لیے وقت دینے کی استدعا کی اور کہا کہ چاہتے ہیں نئی حکومت آجائے اور اسے تھوڑا وقت مل جائے۔

    عدالت نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت کے لیے تھوڑا وقت دیں گے۔ اس کے ساتھ ہی لاپتہ افراد سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی کر دی گئی۔

  13. کوئٹہ بلوچستان تو دور اسلام آباد کی بات کریں، صحافی مطیع اللہ جان کو کسی نے اغوا کیا: جسٹس محسن اختر کیانی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے جبری طور پر لاپتہ ہونے والے بلوچ طلبا کی بازیابی سے متعلق دائر درخواست پر سماعت جاری ہے۔

    اختر کیانی کی سربراہی میں سنگل بینچ اس درخواست کی سماعت کر رہا ہے۔

    نگراں وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ جبری گمشدگی کے معاملے پر پوری ریاست کو ملزم بنانا مناسب نہیں۔

    نگران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے ہاتھوں 90 ہزار لوگ شہید ہوچکے ہیں اور نان اسٹیک ایکٹرز بلوچستان میں ہماری زندگیوں کے پیچھے پڑے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ مجھے کسی نے کہا کہ آپ بلوچستان کیسے جائیں گے، آئین مجھے سیکورٹی کی گارنٹی دیتا ہے اور آئین مجھے ریاست سے بلا مشروط وفاداری کا بھی پابند کرتا ہے۔

    جسٹس محسنُ اختر کیانی کا کہنا تھا کہ قانون کی پاسداری ہر شہری کا حق ہے، کوئٹہ بلوچستان تو دور اسلام آباد کی بات کریں، صحافی مطیع اللہ جان کو کسی نے اغوا کیا ہے۔

    اس پر نگران وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ تو کارروائی ہونی چاہیے لیکن اس بات کا کریڈٹ حکومت کو جاتا ہے 59 لاپتہ لوگوں میں سے اب صرف آٹھ لوگ رہ گئے ہیں۔

  14. ہم بلوچستان میں مسلح جدوجہد کا سامنا کررہے ہیں: انور الحق کاکڑ

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں جبری طور پر لاپتہ ہونے والے بلوچ طلبا کی بازیابی سے متعلق دائر درخواست پر سماعت جاری ہے۔

    اختر کیانی کی سربراہی میں سنگل بینچ اس درخواست کی سماعت کر رہا ہے۔

    نگراں وزیر اعظم عدالت میں پیش ہوئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ہم بلوچستان میں مسلح جدوجہد کا سامنا کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کی نشاندہی کرنے والے چار پانچ نام دے دیتے ہیں۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ یہ لوگ خود بھی اس معاملے کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔

    نگران وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں کو ایسے معاملات میں شامل کرنا یا الزام عائد کرنا کسی طور پر بھی مناسب نہیں ہے۔

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کسی بھی ملزم یا دہشت گرد کو تحفظ نہیں دے گی لیکن قانون میں ایک طریقہ کار موجود ہے کہ جو کوئی بھی ریاست کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہے تو اس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے عدالتوں میں پیش کیا جائے۔

    نگران وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک دشمن عناصر کے خلاف لڑ رہے ہیں اور یہ لڑائی گزشتہ بیس سال سے جاری ہے۔

  15. جبری طور پر گمشدگی کے معاملات میں ریاستی اداروں کو ملوث کرنا مناسب نہیں ہے: نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں جبری طور پر لاپتہ ہونے والے بلوچ طلبا کی بازیابی سے متعلق دائر درخواست پر سماعت جاری ہے۔

    اختر کیانی کی سربراہی میں سنگل بینچ اس درخواست کی سماعت کر رہا ہے۔

    اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ جو طلبا گمشدہ تھے ان میں سے اکثریت واپس اپنے گھروں کو پہنچُ چکی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ صرف چار طلبا کی بازیابی باقی ہے جس پر کام ہو رہا ہے۔

    عدالت نے نگراں وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ طلبا کی گمشدگی کا معاملہ چل رہا ہے اور جب اس کی سماعت ہوتی ہے تو اس معاملے میں پیش رفت سامنے آتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ لوگوں کے حقوق غصب کرکے حکومت نہیں چلائی جاسکتی۔

    عدالت کا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں کو معلوم ہے کہ ملک کیسے چلانا ہے۔

    نگراں وزیر اعظم نے عدالت کو بتایا کہ عدالت کے کہنے پر وہ عدالت میں پیش ہو گئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ان کا تعلق بھی بلوچستان سے ہے لیکن وہان پر مسلح شورش کا سامنا ہے اور نان سٹیٹ ایکٹرز کی سرگرمیاں نوٹ کی جارہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بلوچستان ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس کو قتل کردیا گیا اور وہ بھی ایک معاملے کی تحقیقات کر رہے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ جبری طور پر گمشدگی کے معاملات میں ریاستی اداروں کو ملوث کرنا مناسب نہیں ہے۔

    نگراں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں صورت حال یہ ہے وہ نسواں سے لوگوں کو اتارتے ہیں اور اگر کسی کے نام کے ساتھ چوہدری یا گجر ہے توُاسے گولی مار دی جاتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ نان سٹیٹ ایکٹرز ان افراد کو قتل کرتے ہیں لیکن ایسے واقعات پر کوئی آواز نہیں اٹھاتا۔

    انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں لوگ نسلی پروفائلنگ کرکے قتل کیے جاتے ہیں۔

    نگران وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ حکومت آئین کے اندر رہتے ہوئے اپنے امور سر انجام دے رہی ہے۔

    انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ نظام میں خرابیاں موجود ہیں جس کی وجہ سے ذمہ داروں کی نشاندہی اور انھیں سزا دینے میں مشکلات درپیش ہیں۔

  16. لاپتہ بلوچ طلبا کیس: نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے

    نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے ہیں۔

    سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری دفاع بھی ان کے ہمراہ ہیں۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے جبری طور پر لاپتہ ہونے والے بلوچ طلبا کی بازیابی سے متعلق دائر درخواست پر نگراں وزیر اعظم کو طلب کیا کر رکھا تھا۔

    جبری طور پر لاپتہ بلوچ طلبا کی بازیابی سے متعلق درخواست پر سماعت شروع ہو گئی ہے۔

    جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں سنگل بینچ اس درخواست کی سماعت کر رہا ہے۔

    نگراں وزیر اعظم وزرا اور سیکرٹریز روسٹم پر موجود ہیں اور اٹارنی جنرل عدالت کو ان طلبا کی بازیابی سے متعلق کیے گئے اقدامات کے بارے میں آگاہ کر رہے ہیں۔

  17. احتجاج توڑ پھوڑ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا مقدمہ: عمران خان سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں کی بریت کی درخواستیں منظور

    اسلام آباد کی مقامی عدالت نے احتجاج توڑ پھوڑ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے مقدمے میں سابق وزیر اعظم عمران خان سمیت پی ٹیُ آئی کے دیگر رہنماؤں کو اس مقدمے سے بری کردیا ہے۔

    جوڈیشل مجسٹریٹ محمد شبیر نے بریت درخواستیں منظور کرنے کا فیصلہ جاری کیا ہے۔

    دوران سماعت وکلا آمنہ علی، سردار مصروف خان اور محسن غفار عدالت پیش ہوئے۔ ملزمان کی جانب سے249-A کے تحت الگ الگ بریت کی درخواستیں دائر کی گئیں تھیں۔

    عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس مقدمے میں ملزمان کو سزا نہیں سنائی جاسکتی اور یہ کہ مقدمے کا مزید ٹرائل چلانا وقت کا ضیاع ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان، اسدعمر، راجہ خرم شہزاد نواز،علی نواز اعوان، فیصل جاوید، عابد حسین اور ظہیر خان کی بریت درخواستیں منظور کی جاتی ہیں۔

    عدالت کا کہنا ہے کہ ملزمان اسدعمر، علی نواز اعوان اور فیصل جاوید ضمانت پر ہیں لہذا اپنے مچلکے واپس لے سکتے ہیں۔

    یاد رہے ملزمان پر 26 مئی2022 کو تھانہ ترنول میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

  18. لاپتہ بلوچ طلبا کیس میں وزیر اعظم کی ممکنہ پیشی: اسلام آباد ہائی کورٹ میں سیکیورٹی ہائی الرٹ

    لاپتہ بلوچ طلبا کیس میں نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکٹر کی ممکنہ پیشی کے مدِنظر اسلام آباد ہائی کورٹ میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔

    نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں ایف سی اہلکار بھی تعینات ہیں اور وزیر اعظم کا سیکیورٹی سکواڈ بھی اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گیا ہے۔

    عدالت نے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکٹر کو ذاتی حثیت میں پیش ہونے کا حکم دے رکھا ہے۔

    گذشتہ سماعت پر بھی نگراں وزیر اعظم عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے اور اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ وزیر اعظم کراچی میں ہیں جس پر عدالت نے اٹارنی جنرل سے کہا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آئندہ سماعت پر وزیر اعظم عدالت میں پیش ہوں۔

  19. 16 گھنٹے کی موسلادھار بارش کے بعد گوادر ’زیرِ آب‘, محمد کاظم، بی بی سی اردو

    بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر اور اس کے نواحی علاقوں میں 16 گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والی بارش کی وجہ سے بڑا علاقہ زیر آب آ گیا ہے۔ گوادر سے تعلق رکھنے والے صحافی بہرام بلوچ نے بتایا کہ بارش کا سلسلہ منگل کی صبح شروع ہو اور بدھ کو علی الصبح تک جاری رہا۔

    ان کا کہنا تھا کہ موسلادھار بارش نے شہر کے نظام کو درہم برہم کر دیا ہے اور کئی علاقوں میں چار چار فٹ پانی کھڑا ہے۔ بہرام بلوچ کے مطابق ملابند، فقیر کالونی سمیت شہر کے بہت سارے علاقوں میں پانی مکانات اور دکانوں میں داخل ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گوادر شہر کے علاوہ سربندن جیسے مضافاتی علاقوں میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوا جس سے متعدد مکانات کی چاردیواریاں منہدم ہوئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ شدید بارش کی وجہ سے ساحل پر کھڑی متعدد کشتیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    کمشنر مکران ڈویژن سعید عمرانی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے گوادر پہنچ گئے ہیں۔ انھوں نے فون پر بتایا کہ شہر کے مختلف علاقوں میں پانی داخل ہونے کی وجہ سے لوگ ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ گھروں کو جُزوی نقصان پہنچا ہے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    کمشنر مکران ڈویژن نے بتایا کہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے ریسکیو کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اب تک 20 سے 25 خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

    نگراں وزیر اعلٰی بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی نے کا گوادر اور گرد و نواح میں بارشوں اور سیلابی صورتحال پر اظہار افسوس،پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ کو مربوط امدادی کارروائیوں کی ہدایت کی ہے۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ ریسکیو کارروائیوں میں مصروف ہیں تاہم رابطہ سڑکیں زیر آب آنے سے ریسکیو کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    گوادر سے نو منتخب رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان نے بتایا کہ شہر میں ترقی اور نکاسی آب کے نظام پر اربوں روپے لگائے گئے لیکن نکاسی آب کے ناقص نظام کی وجہ سے بارش کا پانی باہر جانے کی بجائے گھروں میں داخل ہوگیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حق دو تحریک کے چیئرمین حسین واڈیلہ اور رضاکار لوگوں کی ہرممکن مدد کررہے ہیں جبکہ کارپوریشن کا عملہ بھی مصروف عمل ہے تاہم اصل مسئلہ گھروں سے پانی نکالنے کا ہے۔

  20. ’وار ٹائم وزیرِ اعلیٰ‘: سکواش کے سابق کھلاڑی اور انتخابات میں مولانا فضل الرحمان کو شکست دینے والے علی امین گنڈا پور کون ہیں؟

    پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کی جانب سے پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈاپور کو خیبرپختونخوا کے وزیرِ اعلٰی کے امیدوار کے لیے نامزد کیا ہے۔

    عمران خان کی جانب سے کیے گئے اس اعلان کے بعد سے اس فیصلے پر خاصی تنقید ہوئی ہے اور سوشل میڈیا پر ان کے ماضی میں دیے گئے متنازع بیانات اور واقعات شیئر کیے جا رہے ہیں۔

    ان کی جانب سے ماضی میں خواتین اور اپنے سیاسی مخالفین کے بارے میں متنازع بیانات دینے اور ان کی انتظامی اہلیت کے بارے میں سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

    آئیے پہلے آپ کو یہ بتاتے ہیں کہ علی امین گنڈا پور کون ہیں اور صوبائی سطح پر اپنی جماعت کے لیے انھوں نے کون سے کام کیے جن کے باعث ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا اور وہ حلقے میں مولانا فضل الرحمان کو ہرانے میں کامیاب ہوئے۔