آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستانی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات تک نئی حکومت کو تسلیم نہ کریں، امریکی اراکینِ کانگرس کا صدر بائیڈن کو خط
امریکہ میں دو درجن سے زائد اراکینِ کانگرس نے صدر بائیڈن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں بننے والی نئی حکومت کو اس وقت تک تسلیم نہ کریں جب تک انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات نہ ہو جائیں۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی نے بلوچستان کی وزارتِ اعلیٰ کے لیے سرفراز بگٹی کے نام کا اعلان کر دیا ہے جبکہ ن لیگ کے ایاز صادق قومی اسمبلی کے تیسری بار سپیکر منتخب ہو گئے ہیں۔
لائیو کوریج
قومی اسمبلی میں عمران خان تو نہیں لیکن ’عمران خان ماسک‘ موجود, سحر بلوچ، بی بی سی اردو
سابق وزیرِ اعظم اور بانی تحریکِ انصاف عمران خان تو اس وقت اڈیالہ جیل میں قید کی سزا کاٹ رہے ہیں لیکن ان کے چہرے سے ملتا جلتا ماسک آج قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں سب کی نظروں کا مرکز بنا رہا ہے۔ قومی اسمبلی آنے والے عام لوگوں کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی رہنماؤں علی محمد خان اور شیر افضل مروت کی جانب سے بھی یہ ماسک پہنے گئے ہیں۔
بھرپور نعرے بازی کے درمیان نو منتخب اراکینِ قومی اسمبلی نے حلف اٹھا لیا
نو منتخب اراکینِ قومی اسمبلی نے حلف اٹھا لیا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف کے اسمبلی آمد کے موقع پردونوں جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی۔
اجلاس سے قبل، قومی اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ ایک نئے قسم کی ففتھ جنریشن رگگنگ ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کا ’اصل مقصد یہ ہے کہ پارلیمان مضبوط ہو۔ اور یہی مقصد جمہوریت کا ہوتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پالیمان کے اندر صرف وہ جائیں جو خود کو عوامی نمائندہ کہ سکتے ہوں اور یہ اس ہی صورت ممکن ہے اگر اس کے پاس مینڈیٹ ہو۔ ’کسی کا مینڈیٹ چوری کر کے اس ایوان میں آنا، جمہوریت کے روح کے منافی ہے۔‘
سپیکر راجہ پرویز اشرف کی صدارت میں قومی اسمبلی کا اجلاس شروع
ایک گھنٹے کی تاخیر کے بعد، قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہو گیا ہے۔
اجلاس کی صدارت سپیکر راجہ پرواز اشرف کر رہے ہیں۔ وہ نو منتخب اراکینِ اسمبلی سے حلف لیں گے۔
اجلاس کے موقعے پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
الیکشن نتائج، دھاندلی کے الزامات اور حکومت سازی: الیکشن کے بعد سے اب تک کیا ہوا ہے؟
آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد کئی جماعتوں بشمول پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے دھاندلی کے الزامات جا چکے ہیں۔ اس حوالے سے ملک بھر میں مختلف دنوں میں احتجاج کیے جا چکے ہیں۔
پی ٹی آئی کا الزام ہے کہ دھاندلی کے ذریعے ان کی 80 سے زائد نشستیں دوسری جماعتوں کو دے دی گئی ہیں۔
تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ، 101 نشستیں آزاد امیدواروں نے حاصل کی ہے۔ ان میں سے بیشتر پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ تھے جنھیں الیکشن کمیشن کی جانب سے اپنی جماعت کا نشان لیے جانے کے بعد آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینا پڑا تھا۔
انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ 82 آزاد امیدواروں نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ تاہم، پی ٹی آئی کے نامزد کردہ وزیرِ اعظم کے امیدوار عمر ایوب خان اور بیرسٹر گوہر علی خان سنی اتحاد کونسل میں شامل نہیں ہوئے۔
دوسری جانب، کئی آزاد امیدواروں نے پاکستان مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کر لی ہے جس کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن اور سنی اتحاد کونسل ایوانِ زیریں میں سب سے بڑی جماعتیں بن گئی ہیں۔
سنی اتحاد کونسل نے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں کی شمولیت کے بعد الیکشن کمیشن سے مخصوص نشستوں کے حصول کے لیے رجوع کیا تھا جس کے متعلق الیکشن کمیشن نے بدھ کے روز فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ، 54 اور 17 سیٹوں کے ساتھ قومی اسمبلی میں بالترتیب تیسری اور چھوتی بڑی جماعتوں کے طور پر سامنے آئی ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی حکومت سازی کے لیے پاکستان مسلم لیگ ن کے ساتھ اتحاد میں داخل ہو گئی ہے جس کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت قائم کرنے کے امکانات بظاہر یقینی نظر آتے ہیں۔
وزراتِ عظمٰی کے عہدے کے لیے سابق وزیرِ اعظم شہباز شریف اتحادی جماعتوں کے مشترکہ امیدوار ہیں جبکہ سنی اتحاد کونسل کی جانب سے پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب خان وزراتِ عظمٰی کے امیدوار ہیں۔
معاشی صورتحال پاکستان کی نئی حکومت کی ترجیح ہونی چاہیے: امریکہ
امریکی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت کو فوری طور پر معاشی صورتحال کو ترجیح دینا ہوگی۔
عمران خان کی جانب سے آئی ایم ایف کو لکھے گئے خط کے بارے میں ایک سوال کے جواب امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر کا کہنا تھا کہ امریکہ قرضوں اور بین الاقوامی مالیات کے شیطانی چکر سے آزاد ہونے کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی نئی حکومت کو فوری طور پر معاشی صورتحال کو ترجیح دینی چاہیے کیونکہ آئندہ کئی ماہ کی پالیسیاں پاکستانیوں کے لیے معاشی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہوں گی۔
انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ میکرو اکنامک اصلاحات کے لیے کام جاری رکھنا چاہیے۔
مریم نواز کا پولیس اہلکار کے سر پر دوپٹہ ٹھیک کرنے پر کہیں شاباشی تو کہیں ’پرسنل سپیس‘ کی بحث
سپیکر، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کے انتخابات کا شیڈول جاری, شہزاد ملک
قومی اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخابات کا شیڈول جاری کردیا گیا ہے۔
شیڈول کے مطابق سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار آج (جمعرات) دن بارہ بجے تک سیکرٹری قومی اسمبلی کے پاس اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروائیں گے جس کے بعد تین بجے تک کاغذات کو حتمی شکل دی جائے گی۔
عمومی طور پر ارکانِ اسمبلی کے حلف اٹھانے کے اگلے روز سپیکر کے انتخاب کا عمال شروع کیا جاتا ہے لیکن اس مرتبہ ایسا نہیں ہو رہا اور حلف برداری کے دن ہی کاغذات نامزدگی جمع کروائے جا رہے ہیں۔
قومی اسمبلی کے سپیکراور ڈپٹی سمیکر کا انتخاب یکم مارچ کو ہوگا۔ سپیکر کے لیے، سردار ایاز صادق حکمران اتحاد کے مشترکہ امیدوار ہیں جبکہ سنی اتحاد کونسل کی جانب سے عامر ڈوگر کو سپیکرکے عہدے کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔
نومنتخب سپیکر کے حلف اٹھانے کے بعد ڈپٹی سپیکر کا انتخاب کیا جائے گا جس کے لیے حکمران اتحاد کی جانب سے پیپلز پارٹی کے غلام مصطفٰی شاہ جب کہ سنی اتحاد کونسل کی جانب سے جنید خان کو نامزد کیا گیا ہے۔
سمیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب خفیہ رائے شماری سے ہوگا۔ یہ مرحلہ مکمل ہونے کے بعد، وزیر اعظم کا انتخاب ہوگا۔ وزیر اعظم کے انتخاب کیے کاغذات نامزدگی تین مارچ کو جمع کروائے جائیں گے جبکہ وزیر اعظم کا انتخاب چار مارچ کو ہوگا۔
گذشتہ روز کی اہم خبریں
گذشتہ روز کی کچھ اہم خبروں کا خلاصہ:
- پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے بدھ کو بانی چیئرمین عمران خان کی طرف سے آئی ایم ایف کو لکھے گئے خط میں پاکستان کی معیشت کے خلاف کچھ نہیں لکھا گیا۔ بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ یہ خط اس وقت آئی ایم ایف کے جاری پروگرام سے متعلق نہیں ہے بلکہ یہ مستقبل میں دھاندلی کے نتیجے میں بننے والی حکومت سے کسی بھی نئی ڈیل سے متعلق ہے۔
- پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور وکیل بیرسٹر علی ظفر کا بدھ کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اگر ان کی مخصوص نشستیں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی میں تقسیم کی گئیں تو ان کی جماعت سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔ الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
- بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر اور اس کے نواحی علاقوں میں منگل کی صبح شروع ہونے والی بارش کی وجہ سے بڑا علاقہ زیر آب آ گیا ہے۔ گوادر سے تعلق رکھنے والے صحافی بہرام بلوچ نے بتایا کہ موسلادھار بارش نے شہر کے نظام کو درہم برہم کر دیا ہے اور کئی علاقوں میں چار چار فٹ پانی کھڑا ہے۔
- اسلام آباد ہائی کورٹ میں جبری طور پر لاپتہ ہونے والے بلوچ طلبا کی بازیابی سے متعلق دائر درخواست کی سماعت کے دوران نگران وزیرِ اعظم انوارالحق کا کڑ پیش ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ جبری طور پر گمشدگی کے معاملات میں ریاستی اداروں کو ملوث کرنا مناسب نہیں ہے۔ اٹارنی جنرل نے آئندہ سماعت کے لیے وقت دینے کی استدعا کی اور کہا کہ چاہتے ہیں نئی حکومت آجائے اور اسے تھوڑا وقت مل جائے۔ عدالت نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے لاپتہ افراد سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔
- اسلام آباد کی مقامی عدالت نے احتجاج توڑ پھوڑ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے مقدمے میں سابق وزیر اعظم عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کو اس مقدمے سے بری کردیا ہے۔ ملزمان کی جانب سے249-A کے تحت الگ الگ بریت کی درخواستیں دائر کی گئیں تھیں۔
صدر عارف علوی نے قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کی سمری پر دستخط کر دیے
صدر مملکت عارف علوی نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے قومی اسمبلی کا اجلاس 29 فروری بروز جمعرات طلب کر لیا ہے۔
صدر علوی نے امید ظاہر کی ہے کہ انتخابات کے بعد 21ویں دن سے پہلے مخصوص نشستوں کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل، صدر مملکت نے یہ کہہ کر اجلاس طلب کرنے سے متعلق سمری واپس کر دی تھی کہ پہلے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دی جائیں تا کہ قومی اسمبلی کی کپمپوزیشن مکمل ہو سکے۔
الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلہ کل محفوظ کیا تھا۔
اس کے بعد، بدھ کے روز قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے نو منتخب اراکینِ اسمبلی کی حلف برداری کے لیے ایوان زیریں کا افتتاحی اجلاس جمعرات کی صبح دس بجے طلب کر لیا۔
صدر مملکت نے نگراں وزیر اعظم کی طرف سے بھیجی گئی سمری کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے معزز نگران وزیر اعظم کا لہجہ افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر، جو ریاست کے سربراہ تھے اور آئین کے آرٹیکل 41 کے مطابق جمہوریہ کے اتحاد کی نمائندگی کرتے تھے، نے سمری کے مندرجات سے استثنیٰ لیا۔
نگران وزیرِ اعظم کی جانب سے قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کے متعلق بھیجی گئی سمری کے بارے میں صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ یہ افسوسناک ہے کہ ملک کے چیف ایگزیکٹو نے ریاست کے سربراہ کے بارے میں ناقابل قبول زبان استعمال کی اور الزامات کا سہارا لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ آئینِ پاکستان کے تحت اپنے حلف اور ذمہ داریوں کے مطابق معروضیت اور غیر جانبداری کے اصول پر یقین رکھتے ہیں اور ہمیشہ اس پر برقرار رہیں گے۔
بلوچستان اسمبلی کا افتتاحی اجلاس، عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف کوئٹہ شہر میں احتجاج, محمد کاظم، بی بی سی اردو
بلوچستان اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کے موقع پر حالیہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف کوئٹہ شہر میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔
یہ احتجاج دو سیاسی جماعتوں ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی اور پشتونخوا نیشل عوامی پارٹی کی جانب سے کیا گیا۔ دونوں جماعتیں دھاندلی کے خلاف بلوچستان اسمبلی کی عمارت کے سامنے احتجاج کرنا چاہتی تھیں لیکن پولیس نے اسمبلی جانے والی شاہراؤں کو بند کر دیا تھا جبکہ اسمبلی کے گردونواح میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے احتجاج میں خواتین کی بڑی تعداد شریک تھی۔
پولیس کی رکاوٹوں کی وجہ سے ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی اور پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے کارکنان نے الگ الگ جی پی او چوک پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔
مظاہرے کے شرکا نے مطالبہ کیا کہ جن انتخابی حلقوں کے نتائج کو تبدیل کیا گیا ہے، وہاں سے ان امیدواروں کی کامیابی کا اعلان کیا جائے۔ احتجاج کے پیش نظر شاہراؤں کی بندش سے شہر کے وسطی علاقوں میں ٹریفک کی روانی معطل ہونے سے لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
پاکستان: حکومت بنانا مشکل کیوں؟
قومی اسمبلی کا اجلاس کس نے اور کس قانون کے تحت جمعرات کو طلب کیا؟, اعظم خان، بی بی سی اُردو
پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں بدھ کے روز نئی تاریخ اُس وقت رقم ہوئی جب نگران وفاقی وزیر برائے پارلیمانی اُمور مرتضیٰ سولنگی نے وفاقی وزارتِ قانون کی ایڈوائس (مشورے) پر نئی قومی اسمبلی کا افتتاحی اجلاس بلانے کی سمری پر دستخط کیے۔
قومی اسمبلی کا افتتاحی اجلاس بلانے کا معاملہ گذشتہ کئی دنوں سے خبروں میں زیر بحث تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی ایڈوائس پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی یہ اجلاس طلب کرنے کی سمری پر دستخط کرنے سے گریزاں تھے۔
اس معاملے پر تاخیر کی وجہ سے قانونی ماہرین اور سیاسی رہنماؤں کے درمیان یہ بحث جاری تھی کہ اگر صدر مملکت اجلاس بلانے سے انکار کرتے ہیں تو کیا سپیکر نیشنل اسمبلی کو یہ قانونی اور آئینی اختیار حاصل ہے کہ وہ اجلاس طلب کر سکیں؟
اس مسئلے پر صدر مملکت کے آفس کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا تھا کہ چونکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے سُنی اتحاد کونسل کو خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں الاٹ نہیں کی گئیں ہیں، چنانچہ تکنیکی اعتبار سے یہ ایوان ابھی نامکمل ہے اور اسے طلب نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی یہ رائے تھی کہ اگر انتخابات کے 21 روز کے اندر صدر مملکت اجلاس طلب نہیں کرتے تو قانون کے مطابق سپیکر 29 فروری کو خود ہی اجلاس طلب کر سکتے ہیں اور اس معاملے میں کوئی آئینی یا قانونی قدغن نہیں۔
تاہم بدھ کی شام 29 فروری کی صبح دس بجے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے سے متعلق جو نوٹیفیکیشن سرکاری سطح پر جاری کیا گیا اس میں واضح ہے کہ یہ اجلاس وزارت قانون کے مشورے پر وزارت پارلیمانی اُمور نے طلب کر لیا ہے۔ اس ضمن میں سمری پر وفاقی وزیر برائے پارلیمانی اُمور نے دستخط کیے ہیں۔
اس معاملے سے منسلک ایک اعلیٰ شخصیت نے بی بی سی کو بتایا کہ آئین کا آرٹیکل 91 (2) بہت واضح ہے کہ الیکشن کے 21 روز کے اندر نئی قومی اسمبلی کا سیشن بلایا لازماً جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ صدر کے اس ضمن میں صوابدیدی اختیارات الیکشن کے بعد 21 روز کے اندر اجلاس بلانے سے متعلق ہے، تاہم اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو ان کی صوابدید 21ویں روز پر لاگو نہیں ہوتی۔
انھوں نے کہا کہ آئین میں لکھا ہے کہ صدر اجلاس بلا سکتے ہیں مگر ایک مخصوص آئینی مدت کے اندر اور اگر اس مدت کے اندر وہ ایسا کرنے سے گریزاں رہتے ہیں تو اجلاس کو تو لازمی ہونا ہے کیونکہ یہ ایک آئینی تقاضہ ہے۔
انھوں نے کہا وزارت پارلیمانی اُمور نے یہ فیصلہ وزارت قانون کی رائے پر کیا اور سپیکر قومی اسمبلی بھی اس معاملے پر آن بورڈ ہیں اور وہ کل (جمعرات) اجلاس کی سربراہی کریں گے۔
گھڑی، جوتا اور بوتل: خیبرپختونخوا اسمبلی کے افتتاحی سیشن میں کیا کچھ ہوا؟, عزیز اللہ خان، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان میں عام انتخابات کے بعد آج خیبر پختونخوا اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں نو منتخب اراکین صوبائی اسمبلی نے حلف اٹھا لیا ہے لیکن اس کارروائی کے دوران اسمبلی ہال میں داخلے کے لیے دھکم پیل اور ایوان کے اندر شدید بد نظمی دیکھنے میں آئی۔
بدھ کی دوپہر خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس سپیکر مشتاق غنی کی صدارت میں منعقد ہوا ہے اس میں 116 اراکین صوبائی اسمبلی نے حلف اٹھایا۔حلف اٹھانے والوں میں پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ اراکین کی تعداد 89، جمعیت علمائے اسلام ف اور مسلم لیگ ن کے نو، نو، پاکستان پیپلز پارٹی کے پانچ، پی ٹی آئی پی کے دو اور عوامی نیشنل پارٹی کا ایک رکن شامل تھا۔
خیبرپختونخوا اسمبلی کے اس افتتاحی اجلاس کے لیے حکام کی جانب سے بڑی تعداد میں سیاسی رہنماؤں، ان کے اہلخانہ اور کارکنوں کو اجازت نامے یا کارڈز جاری کیے گئے تھے جس وجہ سے بدھ کی صبح سے ہی اسمبلی کی عمارت کے اندر اور باہر بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے اور لوگوں کے رش کو دیکھتے ہوئے سیکیورٹی حکام کو انٹری گیٹ بند کرنا پڑے۔
اگرچہ اسمبلی کے باہر بھاری تعداد میں پولیس اہلکار تعینات تھے لیکن بد نظمی کی صورتحال یہ تھی کہ اسمبلی کا گیٹ کھلتے ہی ہجوم کی شکل میں لوگ اندر داخل ہو جاتے تھے۔
اسی صورتحال کے دوران جب اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی تو ایوان کے اندر بھی سخت نعرہ بازی اور بد نظمی دیکھنے میں آئی۔ ایوان میں قیدی نمبر 804 اور عمران خان کے نعرے لگائے جاتے رہے۔
ایوان کے اندر موجود صحافی آفتاب احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ایوان کی کارروائی کے دورانپاکستان مسلم لیگ نواز کی ایک رکن اسمبلی ثوبیہ شاہد اپنے ہاتھ میں گھڑی اٹھائے سپیکر ڈائس کے سامنے آ گئیں اور گیلری میں بیٹھے لوگوں کی طرف ہاتھ اونچا کر کے یہ گھڑی لہراتی رہیں۔ اس معاملے پر کشیدگی بڑھی اور گیلری میں بیٹھے سیاسی کارکنوں کی جانب سے ان پر جوتا اور بوتل اچھالی گئی ۔
سپیکر مشتاق غنی نعرہ بازی کرتے لوگوں کو خاموش رہنے کا کہتے رہے، لیکن ایوان میں شور شرابا جاری رہا اور اسی شور شرابے کے دوران ہی اراکین نے حلف اٹھایا۔
پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ اراکین نے عمران خان کی تصویر والے بیجز اپنے سینوں پر لگا رکھے تھے جبکہ بعض اراکین عمران خان کی بڑی تصویریں بھی ساتھ لائے تھے۔ نامزد وزیر اعلی علی امین گنڈہ پور نے پی ٹی آئی کے پرچم کے رنگوں والا مفلر پہن رکھا تھا۔ ایوان کے اندر اراکین اسمبلی ایک دوسرے سے بڑی گرم جوشی سے مصافحے کرتے رہے ۔ اس ایوان میں بیشتر اراکین نوجوان ہیں اور پہلی مرتبہ رکب صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔
ایوان میں ہونے والی اس پوری کارروائی کے دوران اسمبلی کے باہر گیٹ کے قریب بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے، جو اندر جانے کی کوشش کرتے رہے اور اگر کسی ایک شخص کے لیے دروازہ کھولا جاتا تو اس دوران پورا ہجوم اندر داخل ہو جاتا۔
آج خیبر پختونخوا اسمبلی میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کیے جا رہے ہیں اور انتخاب کل 29 فروری کی صبح ہو گا ۔ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سپیکر کے عہدے کے لیے بابر سلیم اور ڈپٹی سپیکر کے لیے چترال سے نو منتخب خاتون رکن ثریا بی بی کو نامزد کیا گیا ہے۔ دوسری جانب حزب اختلاف کی جانب سے سپیکر کے لیے احسان اللہ میانخیل اور ڈپٹی سپیکر کے لیے ارباب وسیم کو نامزد کیا گیا ہے۔
بریکنگ, عمران خان کی طرف سے آج آئی ایم ایف کو ایک خط بھیج دیا گیا ہے: بیرسٹر گوہر علی خان
پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے بدھ کو بانی چیئرمین عمران خان کی طرف سے آئی ایم ایف کو خط لکھ دیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں دیگر سینیئر رہنماؤں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ جب یہ خط واشنگٹن پہنچے گا تو پھر اسے میڈیا کے ساتھ بھی شیئر کیا جائے گا۔ بیرسٹر گوہر علی خان کے مطابق اس خط میں پاکستان کی معیشت کے خلاف کچھ نہیں لکھا گیا بلکہ آئی ایم ایف کو صاف اور شفاف انتخابات کا وعدہ یاد دلایا گیا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے خط کے مندرجات شیئر نہیں کیے ہیں۔ تاہم انھوں نے بتایا کہ یہ خط اس وقت آئی ایم ایف کے جاری پروگرام سے متعلق نہیں ہے بلکہ یہ مستقبل میں دھاندلی کے نتیجے میں بننے والی حکومت سے کسی بھی نئی ڈیل سے متعلق ہے۔ ان کے مطابق آئی ایم ایف کو خط لکھنا کوئی بہت اچنبھے کی بات نہیں ہے۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب نے کہا ہے کہ جب آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے پروگرام شروع کیا تھا تو عمران خان کی مرضی معلوم کی گئی تھی۔ ان کے مطابق عمران خان نے آئی ایم ایف سے صاف اور شفاف انتخابات کی ضمانت مانگی گئی تھی جو انھیں دے دی گئی تھی۔
ان کے مطابق اس وقت یہ انتخابات نومبر میں ہونے تھے مگر پھر یہ نہیں ہوئے اور جب یہ انتخابات ہوئے تو پھر نہ صرف دھاندلی ہوئی بلکہ بہت بڑا دھاندلا ہوا ہے۔
’مجھے نکالنے والوں میں ججز کے علاوہ کچھ دیگر پلیئرز بھی تھے‘: نواز شریف
سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنی جماعت کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے جیسے غصے سے نکالا ہے مجھے۔ ان کے مطابق سنہ 2017 تک جب سپریم کورٹ نے مجھے فارغ کیا تو پوری قوم جانتی ہے کہ وہ کیا ججز تھے اور وہ کیا مقدمات تھے۔
انھوں نے سوال کیا کہ ’کیا آج وہ ججز کسی کو منھ دکھانے کے لائق ہیں۔ ان میں سے ایک جج جس نے چند دن بعد ملک کا چیف جسٹس بننا تھا وہ استعفیٰ دے کر گھر چلے گئے۔ یہ کیا ہے؟ ثاقب نثار نے میرے خلاف فیصلے کیے وہ آج کہاں ہیں؟‘
انھوں نے کہا کہ ’جنھوں نے ہمیں سسلین مافیا کہا۔ میں نے کیا بگاڑا تھا آپ کا بھائی۔‘ انھوں نے کہا کہ ’اس میں اور بھی پلیئرز تھے۔ انھوں نے پاکستان کے ساتھ ظلم کیا۔‘
نواز شریف نے کہا کہا ’سنہ 2018 میں مسلم لیگ کے دوبارہ جیتنے کے واضح امکانات تھے۔ یہ نقصان انھوں نے ن لیگ کو نہیں بلکہ ملک کو پہنچایا ہے۔‘
نواز شریف نے اپنے تینوں ادوار پر بھی بات کی اور کہا کہ ان ادوار میں پاکستان آگے بڑھ رہا تھا اور اس دوران بڑے منصوبے شروع کیے گئے مگر اس ترقی کے پہیے کو روکا گیا، جس کا نقصان ان کی جماعت ہی کو نہیں بلکہ ملک کو بہت بڑا نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق اگر ترقی کا سفر نہ روکا جاتا تو پاکستان جی 20 ممالک میں آج شامل ہوتا۔
مشکل حالات میں شہباز شریف بہترین چوائس ہیں، انشااللہ پاکستان اگلے ڈیڑھ دو سال میں مشکل سے نکل آئے گا: نواز شریف
پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شہباز شریف کو بطور وزیراعظم اور سردار ایاز صادق کو بطور سپیکر نامزد کیا ہے۔
اپنے خطاب میں نواز شریف نے شہباز شریف کے بارے میں کہا کہ ’ان ہی کی ہمت ہے کہ جس طرح انھوں نے گذشتہ ڈیڑھ برس گزارے ہیں، میں ہوتا تو نہ چل سکتا۔‘ نواز شریف نے کہا کہ ’ان حالات میں شہباز شریف بہترین چوائس ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں آج شہباز شریف کو وزیراعظم کے عہدے کے لیے ڈکلیئر کر رہا ہوں۔‘ نواز شریف نے کہا ’آج پاکستان کو ٹھیک کرنا بہت جان جوکھوں کا کام نظر آتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں شہباز شریف کو مبارکباد دیتا ہوں کہ انھوں نے پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچایا ہے۔ انھوں نے پاکستان کو مشکل سے نکالنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔‘
نواز شریف نے کہا کہ ’ہم نے اس مشکل میں ایک ہو کر رہنا ہے، اپنے مخالفین کا بھرپور مقابلہ کریں گے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ہم نے مل کر پاکستان کے زخم بھرنے ہیں۔ پاکستان اس وقت بہت زخمی ہے۔‘
نواز شریف نے کہا کہ اس ملک کو مصیبتوں سے نکالنا ہے۔
نواز شریف کی قیادت پر مکمل اعتماد ہے، شہباز شریف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں قرار داد
صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب میں ایک قرارداد پیش کی جس میں کہا گیا کہ یہ اجلاس نواز شریف کی قیادت پر مکمل اعتماد کرتا ہے۔
انھوں نے اس اجلاس سے اس قرارداد کی منظوری بھی حاصل کی۔
نواز شریف نے جعلی جھوٹے مقدمے برداشت کیے مگر کسی کو میر جعفر نہیں کہا: شہباز شریف
صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف نے جعلی جھوٹے مقدمے برداشت کیے مگر کسی کو میر جعفر نہیں کہا۔
انھوں نے کہا کہ بھٹو پھانسی پر جھول گئے مگر کسی نے جی ایچ کیو کی طرف نہیں دیکھا۔ اسی طرح بینظیر بھٹو شہید ہو گئیں مگر کسی نے جی ایچ کیو کی طرف نہیں دیکھا۔
اس موقع پر شہباز شریف نے آزاد اراکین کو بھی مسلم لیگ ن میں شمولیت پر خوش آمدید کہا ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آزاد اراکین کی ن لیگ میں شمولیت کے بعد اب قومی اسمبلی میں ان کی پارٹی کے اراکین کی تعداد 104 ہو چکی ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ آزاد اراکین اپنی مرضی سے اور بغیر کسی پیشگی شرط کے ان کے پارٹی میں شامل ہوئے ہیں۔
تحریک انصاف کے اراکین کل قومی اسمبلی میں تقریب حلف برداری میں شریک ہوں گے: عمر ایوب
پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کے کل افتتاحی اجلاس میں تحریک انصاف کے نو منتخب اراکین حلف اٹھائیں گے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بدھ کو خیبرپختونخوا ہاؤس میں منعقد ہوا ہے، جس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ قومی اسبملی کے افتتاحی اجلاس میں تقریب حلف برداری کے لیے جائیں گے اور سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے لیے بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔
ان کے مطابق ’لوگ دیکھیں گے ایک صحیح اور سچی پارٹی کیا ہوتی ہے۔‘ ان کے مطابق ’اس شرکت کا مقصد محبوب قائد عمران خان، بشریٰ بی بی، شاہ محمود قریشی اور پرویز الٰہی کی بازیابی ہے۔‘