پاکستانی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات تک نئی حکومت کو تسلیم نہ کریں، امریکی اراکینِ کانگرس کا صدر بائیڈن کو خط

امریکہ میں دو درجن سے زائد اراکینِ کانگرس نے صدر بائیڈن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں بننے والی نئی حکومت کو اس وقت تک تسلیم نہ کریں جب تک انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات نہ ہو جائیں۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی نے بلوچستان کی وزارتِ اعلیٰ کے لیے سرفراز بگٹی کے نام کا اعلان کر دیا ہے جبکہ ن لیگ کے ایاز صادق قومی اسمبلی کے تیسری بار سپیکر منتخب ہو گئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!

    بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔

    02 فروری کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  2. پی پی پی کے سرفراز بگٹی بلوچستان کے بلامقابلہ وزیرِ اعلیٰ منتخب

    سرفراز بگٹی، بلوچستان، پی پی پی

    پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد کردہ امیدوار سرفراز بُگٹی بلوچستان کے بلامقابلہ وزیرِ اعلیٰ منتخب ہوگئے ہیں۔

    وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے لیے پانچ بجے کا وقت مقرر کیا گیا تھا لیکن مقررہ وقت ختم ہونے تک کسی نے بھی سرفراز بگٹی کے مقابلے میں کاغذات نامزدگی جمع نہیں کروائے۔

    سپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن ریٹائرڈ عبدالخالق نے کہا کہ سرفراز بگٹی کے کاغذاتِ نامزدگی درست پائے گئے۔

    انھوں نے بتایا کہ چونکہ مقررہ وقت تک کسی اور امیدوار نے کاغذاتِ نامزدگی جمع نہیں کروائے اس لیے میرسرفراز بگٹی بلامقابلہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوگئے ہیں۔

    سرفراز بگٹی وزارت اعلیٰ کے عہدے کے لیے پی پی پی اور ن لیگ کے مشترکہ امیدوار تھے۔

    وزیر اعلیٰ کے باقاعدہ انتخاب کے لیے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس سنیچر کو 11 بجے منعقد ہوگا۔

  3. پی پی پی کے غلام مصطفیٰ شاہ قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر منتخب

    پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد کردہ امیدوار سید غلام مصطفیٰ شاہ 197 ووٹ لے کر قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر منتخب ہوگئے ہیں۔

    جمعے کو قومی اسمبلی میں ہونے والے انتخاب میں پاکستان تحریکِ انصاف کے حمایت یافتہ سُنّی اتحاد کونسل کے امیدوار جنید اکبر نے بھی ڈپٹی سپیکر کے انتخاب میں حصہ لیا۔ وہ صرف 92 ووٹ حاصل کرسکے۔

    قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق نے سید غلام مصطفیٰ شاہ سے ڈپٹی سپیکر کے عہدے کا حلف لیا۔

    خیال رہے اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما ایاز صادق قومی اسمبلی کے سپیکر منتخب ہو ئے تھے۔

    ایاز صادق 199 ووٹ لے کر قومی اسمبلی کے سپیکر منتخب ہوئے جبکہ ان کے مدِ مقابل پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ سُنّی اتحاد کونسل کے امیدوار ملک محمد عامر ڈوگر نے 91 ووٹ حاصل کیے تھے۔

  4. سکواش کے سابق کھلاڑی اور مولانا فضل الرحمان کو شکست دینے والے نومنتخب وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا کون ہیں؟

  5. پاکستان میں صدارتی انتخاب 9 مارچ کو، الیکشن کمیشن نے شیڈول جاری کردیا

    پاکستان کے الیکشن کمیشن نے صدارتی انتخاب کا شیڈول جاری کردیا ہے جس کے مطابق پولنگ 9 مارچ کو ہوگی۔

    صدر کے انتخاب کے لیے پولنگ پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد، لاہور میں پنجاب اسمبلی، کراچی میں صوبائی اسمبلی، پشاور میں صوبائی اسمبلی اور کوئٹہ میں بلوچستان اسمبلی کی عمارتوں میں 9 مارچ کو ہوگی۔

    الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے خواہشمند افراد 2 مارچ تک اپنے کاغذاتِ نامزدگی اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں پریزائڈنگ افسران کے پاس جمع کروا سکتے ہیں۔

    جمع کروائے جانے والے کاغذات کی جانچ پڑتال 4 مارچ کو ہوگی جبکہ امیدوار اپنے کاغذاتِ نامزدگی 5 مارچ تک واپس لے سکتے ہیں۔

    صدارتی انتخاب میں حصہ لینے والے افراد کی حتمی فہرست 5 مارچ کو جاری کی جائے گی۔

    خیال رہے پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے قائدین پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ صدر کے عہدے کے لیے آصف علی زرداری ان کے مشترکہ امیدوار ہوں گے۔

  6. پاکستانی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات تک نئی حکومت کو تسلیم نہ کریں: امریکی اراکینِ کانگرس کا صدر بائیڈن کو خط

    پاکستان، امریکہ، انتخانی دھاندلی، جو بائیڈن، بی بی سی اردو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ میں دو درجن سے زائد اراکینِ کانگرس نے صدر جو بائیڈن اور سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں بننے والی نئی حکومت کو اس وقت تک تسلیم نہ کریں جب تک عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات نہ ہو جائیں۔

    اس خط کی کاپی امریکی ریاست ٹیکساس سے منتخب رُکنِ کانگرس گریگ کاسار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی جس پر مزید 30 اراکینِ کانگرس کے دستخط بھی موجود ہیں۔

    امریکی صدر جو بائیڈن اور سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن کو لکھے گئے خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ 'پاکستان میں نئی حکومت کو تسلیم نہ کیا جائے جب تک انتخابات میں مداخلت کی تفصیلی، شفاف اور مستند تحقیقات نہیں ہوجاتیں۔'

    خط میں مزید کہا گیا ہے کہ 'پاکستانی حکام ان لوگوں کو رہا کریں جنہیں سیاسی تقاریر یا سرگرمیوں پر گرفتار کیا گیا ہے اور محکمہ خارجہ کے حکام کو ذمہ داری سونپی جائے کہ وہ ایسے تمام مقدمات کی تفصیلات جمع کریں اور ان لوگوں کی رہائی کا مطالبہ کریں۔'

    امریکی اراکینِ کانگرس خط میں مزید کہتے ہیں کہ 'پاکستانی حکام پر واضح کیا جائے کہ امریکی قانون انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں اور جمہوریت کو نقصان پہنچانے والوں کا احتساب کرتا ہے۔'

    اس خط میں سابق وزیراعظم عمران خان کو حال ہی میں سُنائی گئی سزاؤں اور انتخابات کے دن 8 فروری کو انٹرنیٹ اور موبائل فون سروسز بند کرنے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔

    امریکی اراکینِ کانگرس اپنے خط کے آخر میں لکھتے ہیں کہ 'پاکستان امریکہ کا دیرینہ اتحادی ہے اور ہم خطے میں استحکام اور دہشتگری کے انسداد کی کاوشوں میں دونوں ممالک کے تعلقات کو تسلیم کرتے ہیں۔'

    'یہ امریکہ کے مفاد میں ہے کہ پاکستان میں جمہوریت پنپتی رہے اور انتخابات کے نتائج پاکستانی لوگوں کے مفاد کے عکاس ہوں نہ کہ پاکستانی اشرافیہ اور فوج کے۔'

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  7. ’پولیس کو معلوم ہی نہیں کہ گستاخانہ الفاظ کیا تھے‘ عدالت نے ہندو پروفیسر کو توہین مذہب کے الزام سے بری کر دیا

  8. بلوچستان میں بارشیں: تین افراد ہلاک، گوادر میں احتجاجی مظاہرے جاری, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    گوادر، بلوچستان، بارش، پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبے بلوچستان میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اب تک کم ازکم تین افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

    ساحلی شہر گوادر سے بارش کے پانی کو نہ نکالنے کے خلاف جمعے کو دوسرے روز بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔

    بلوچستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ذمہ دار ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق بلوچستان میں کوئٹہ اور گوادر سمیت 22اضلاع میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے جہانزیب خان نے بتایا کہ بارشوں سے خاران میں تین افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ تینوں افراد کی ہلاکت گھرکی چھت گرنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔

    خاران میں مقامی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون اور دوبچے شامل ہیں اور ان کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ کوئٹہ میں بارش سے 7 سے 8 گھروں کے گرنے کی اطلاع ہے تاہم بارش کے رُکنے کے بعد ہی نقصانات کا صحیح معنوں میں اندازہ لگایا جاسکے گا۔

    حالیہ بارشوں سے اب تک سب سے زیادہ نقصانات ضلع گوادر اور اس سے متصل ضلع کیچ میں ہوئے ہیں۔

    گوادر شہر میں گزشتہ چار روز سے بارش کا پانی کھڑا ہے جس سے لوگوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

    گوادر شہر، سربندن اور جیونی میں بارشوں سے درجنوں مکانات کو جزوی اور مکمل نقصان پہنچا ہے۔

    گوادر شہر سے پانی کے اخراج کے لیے اقدامات نہ ہونے پر جمعے کو دوسرے روز بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔

    گزشتہ روز شہریوں نے میرین ڈرائیو اور ایئرپورٹ روڈ پر رکاوٹیں کھڑی کرکے احتجاج کیا تھا۔

    مظاہرے کے شرکا کا کہنا ہے کہ شہر میں محلوں اور گھروں سے پانی کو تاحال نہیں نکالا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔

    گوادر سے تعلق رکھنے والے رکنِ بلوچستان اسمبلی اور حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان نے گوادر شہر سے پانی کے اخراج کے لیے اقدامات پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی ادارے لوگوں کی مدد کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ شہر سے پانی نکالنے کے لیے تاحال انتظامات نہیں کیے گئے ہیں اور وہ خود لوگوں کو شہر سے محفوظ مقامات پرمنتقل کررہے ہیں۔

    دوسری جانب ڈپٹی کمشنر گوادر اورنگزیب بادینی نے گوادر میں صحافیوں کو بتایا کہ بارش سے پہلے تمام نالے صاف کیے گئے تھے جبکہ جہاں کٹس لگانے تھے وہاں بھی کٹ لگائے گئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ گوادر میں اس سے پہلے کبھی اتنی بارش نہیں ہوئی۔

    انھوں نے بتایا کہ شہر سے پانی کو نکالنے کے تمام وسائل کو بروئے کارلایا جارہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ گوادر کا محلِ وقوع ایسا ہے کہ بہت سارے علاقوں سے پانی کو پمپ کرنے کے علاوہ نہیں نکالا جاسکتا۔

    انھوں نے بتایا کہ مارکیٹ میں جتنے بھی جنریٹرز تھے وہ ہم نے اٹھا لیے جبکہ کوئٹہ سے بھی مشینری منگوائی گئی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ ہم نے سندھ حکومت سے درخواست کی ہے اور پانچ بڑے بور کے موٹر پمپ وہاں سے بھی پہنچ رہے ہیں۔

    ڈی جی پی ڈی ایم جہانزیب خان کہتے ہیں کہ گوادر میں پہلے دو روز 187 ملی میٹر بارش ہوئی تھی جبکہ گزشتہ روز ایک مرتبہ پھر 67 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ دبئی میں 60 ملی میٹر سے زائد بارش ہوئی تو وہاں بھی پانی کو نکالنے کے لیے تین دن لگے تھے۔

    انھوں نے بتایا کہ پی ڈی ایم اے، ضلعی انتظامیہ، فوج اور دیگر ادارے پانی کو نکالنے کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ بارش کے پانی کے مکمل اخراج کے لیے دو سے تین دن لگیں گے۔

  9. ہم تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں پہلے ہمارا حق ہمیں دیا جائے: عامر ڈوگر

    NA

    ،تصویر کا ذریعہScreen Grab

    پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ سُنّی اتحاد کونسل کے امیدوار ملک محمد عامر ڈوگر نے قومی اسمبلی میں اپنے پہلے خطاب میں کہا ’میں آپ کو تیسری مرتبہ ایک منفرد اعزاز حاصل کرنے اور سپیکر قومی اسمبلی منتخب ہونے پر مبارکباد دیتا ہوں۔‘

    یاد رہے کہ ایاز صادق 199 ووٹ لے کر قومی اسمبلی کے سپیکر منتخب ہوئے جبکہ ان کے مدِ مقابل پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ سُنّی اتحاد کونسل کے امیدوار ملک محمد عامر ڈوگر نے 91 ووٹ حاصل کیے۔

    عامر ڈوگر نے قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران کہا ’ہم نے خصوصی نشستوں کے بغیر احتجاج کے ساتھ یہ الیکشن لڑا کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ ہم ایوان کا حصہ بنیں اور اس ایوان کو باوقار بنائیں، میرے ووٹ 91 نکلے اور آپ کے ووٹ 191 میرا تعلق ایک سیاسی جماعت سے ہے اور آپ کو سات سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔‘

    عامر ڈوگر کا کہنا تھا کہ ’آٹھ فروری کا الیکشن ایک خاموش انقلاب تھا، اگر فارم 45 کے مطابق نتیجہ آتا تو میرے ووٹ 225 ہوتے، آٹھ فروری کو اس مُلک کی غیور عوام نے عمران خان کے نظریہ کو اُس کی جدو جہد کو ووٹ دیا، اور پھر ایک الیکشن نو فروری کو ہوا فارم 47 کی مدد سے ہمارے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا اور 80 قومی اسمبلی کی سیٹیں ہم سے چھینی گئیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر ہم سے یہ نشتیں نا چھینی جاتیں تو ہم آج اس ایوان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آتے۔‘

    عامر ڈوگر کا کہنا تھا کہ یہاں ووٹ ڈالنے والوں سے زیادہ ووٹ کی گنتی کرنے والوں کی طاقت ہے، آج پورا مُلک سوگوار ہے، جب نئی حکومت بنتی ہے تو لوگ خوش ہوتے ہیں کہ نئی حکومت بنے گی تو مُلک میں خوشحالی آئے گی مگر یہاں تو حالات ہی مختلف دیکھائی دے رہے ہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’کل کا سیشن افتتاحی سیشن نہیں بلکہ تعزیتی سیشن تھا، ہم تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں مگر جو مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا وہ ہمیں واپس دلوائے جائیں۔‘

  10. پی پی پی نے بلوچستان کی وزارتِ اعلیٰ کے لیے سرفراز بگٹی کے نام کا اعلان کردیا

    سرفراز بُگٹی، پاکستان پیپلز پارٹی، پی پی پی، بلوچستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان پیپلز پارٹی نے سرفراز بگٹی کو بلوچستان کی وزارتِ اعلیٰ کے عہدے کے لیے نامزد کر دیا ہے۔

    پی پی پی بلوچستان کے سیکریٹری اطلاعات سربلند خان جوگیزئی نے تصدیق کی ہے کہ سرفراز بگٹی کو بلوچستان کی وزارتِ اعلیٰ کے عہدے کے لیے نامزد کر دیا گیا ہے۔

    پی پی پی کی جانب سے وزارتِ اعلیٰ کے عہدے کے لیے چار نام زیرِ غور تھے، جن میں سرفراز بُگٹی کے علاوہ میر صادق عمرانی، نواب ثنا اللہ زہری اور میر ظہور بلیدی شامل تھے۔

    خیال رہے سرفراز بگٹی پاکستان میں عام انتخابات سے قبل نگراں وزیرِ داخلہ کے عہدے سے استعفیٰ دے کر پی پی پی میں شامل ہوئے تھے۔ ان کا تعلق بلوچستان کے شورش سے متاثرہ ضلع ڈیرہ بگٹی سے ہے۔

    بلوچستان کے اگلے وزیر اعلیٰ کا انتخاب سنیچر کو کیا جائے گا جس کے لیے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 11 بجے منعقد ہوگا۔

    پی پی پی اور ن لیگ کے درمیان حکومت سازی کے معاہدے کے تحت بلوچستان کی وزارت اعلیٰ کا عہدہ پیپلز پارٹی جبکہ گورنر کا عہدہ ن لیگ کو دیا گیا ہے۔

    اسی طرح بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر کا عہدہ ن لیگ جبکہ ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ پی پی پی کو دیا جائے گا۔

    بلوچستان اسمبلی کے کل اراکین کی تعداد 65 ہے، سادہ اکثریت سے وزیرا علیٰ کے انتخاب کے لیے 33 اراکین کی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے۔

  11. ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے توہینِ عدالت کیس میں سزا کو چیلنج کردیا

    عرفان نواز، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد، توہینِ عدالت کیس، پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہTwitter/DC ISLAMABAD

    اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن، ایس ایس پی آپریشنز اور تھانہ مارگلہ کے ایس ایچ او نے توہین عدالت کیس میں سزا کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کے لیے انٹراکورٹ اپیلیں دائر کردیں ہیں جن پر سماعت 4 مارچ کو ہوگی۔

    اپیلوں کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل بینچ کرے گا۔

    یاد رہے کہ ڈی سی اسلام آباد کے خلاف عدالتی حکم کے باوجود پی ٹی آئی کے رہنما شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار کو تھری ایم پی او کے تحت حراست میں لینے پر توہین عدالت کی کارروائی شروع کی گئی تھی۔

    جمعے کی صبح اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس بابر ستار نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان میمن کو اس مقدمے میں توہین عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے چھ ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔

    عدالت نے اس مقدمے میں نامزد دیگر ملزمان، ایس ایس پی آپریشن اور ایس ایچ او مارگلہ کو بالترتیب چار ماہ اور دو ماہ قید کی سزا سنائی جبکہ ایک، ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیاگیا۔ دوسری جانب ایس پی صدر کو اس مقدمے سے بری کردیا گیا تھا۔

    ملزمان کی جانب سے دائر کی گئی اپیل میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 5 اگست 2023 کو سابق وزیرِاعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کی اطلاعات ملیں جس کے بعد 8 اگست کو انٹیلیجنس بیورو اور سپیشل برانچ کی رپورٹ کی بنیاد پر نظربندی کے احکامات جاری کیے گئے جس پر توہینِ عدالت کی کارروائی کا آغاز ہوا۔

    اپیل میں مزید کہا گیا ہے کہ ملزمان کی جانب سے عدالت کے سامنے تمام ریکارڈ رکھا گیا، بیان قلمبند کیے گئے اور انٹیلیجنس بیورو اور سپیشل برانچ کے حکام نے بھی تائیدی بیان ریکارڈ کروائے گئے۔

    ملزمان کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت نے تمام بیانات اور ریکارڈ کو نظر انداز کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو توہینِ عدالت کا مرتکب قرار دیا۔

    انٹراکورٹ اپیل میں سوال اُٹھایا گیا ہے کہکیا سنگل بینچ نے توہین عدالت کا کیس ذاتی جذبات کی بنیاد پر چلایا اور میرٹ کے بجائے ذاتی احساسات و جذبات کی بنیاد پر فیصلہ دیا؟

  12. سردار ایاز صادق: پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے صوبائی اسمبلی کا انتخاب ہارنے سے لے کر تیسری مرتبہ سپیکر بننے کا سفر

  13. ن لیگ کے ایاز صادق قومی اسمبلی کے تیسری بار سپیکر منتخب

    ایاز صادق، ن لیگ، پاکستان، سپیکر قومی اسمبلی، بی بی سی اردو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما ایاز صادق قومی اسمبلی کے سپیکر منتخب ہو گئے ہیں۔

    ایاز صادق 199 ووٹ لے کر قومی اسمبلی کے سپیکر منتخب ہوئے جبکہ ان کے مدِ مقابل پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ سُنّی اتحاد کونسل کے امیدوار ملک محمد عامر ڈوگر نے 91 ووٹ حاصل کیے۔

    قومی اسمبلی میں سپیکر کے انتخاب کے لیے کُل 291 ووٹ ڈالے گئے تھے جس میں سے ایک مسترد قرار دیا گیا۔ ایاز صادق قومی اسمبلی کے سپیکر منتخب ہونے کے بعد اپنے مدِ مقابل امیدوار ملک محمد عامر ڈوگر کی نشست پر گئے اور ان سے مصافحہ کیا۔

  14. علی امین گنڈا پور وزیرِ اعلٰی خیبر پختونخوا منتخب

    علی امین گنڈاپور وزیرِ اعلٰی خیبر پختونخوا منتخب

    ،تصویر کا ذریعہKP ASSEMBLY

    سنی اتحاد کونسل کی جانب سے نامزد پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما علی امین گنڈاپور وزیرِ اعلٰی خیبر پختونخوا منتخب ہو گئے ہیں۔

    قائد ایوان کے لیے ان کو 90 ووٹ ملے۔ ان کے مخالف امیدوار پاکستان مسلم لیگ ن کے عباداللہ خان نے 16 ووٹ حاصل کیے۔

    اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے نو منتخب وزیرِ اعلٰی علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا میں سترہ سال سے ایک پارٹی کا رکن ہوں لیکن آج میں ایک ازاد حیثیت ہے یہاں وزیر اعلٰی بنا، مجھے اس کا بہت دکھ ہے۔

    انھوں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ’اوپن، فری اور فیئر‘ ٹرائلل ہونا چاہیے اور جلد سے جلد ان کو رہا کیا جائے۔

    علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی کے ساتھ جو ظلم ہوا ہے، اس کا ازالہ کیا جائے۔ ’اپنی اصلاح کریں‘۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم انتقامی کاروائی نہیں چاہتے، یہ ملک بھی ہمارے ہیں، یہ ادارے بھی ہمارے ہیں اور یہ ریاست بھی ہماری ہے۔‘

    انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دھاندلی کے الزامات کی جانچ پڑتال کے لیے سب سے پہلے وہ خود کو اور خیبر پختونخوا اسمبلی کو پیش کرتے ہیں۔

    ’مینڈیٹ کو چوری کرنا آئین اور قوم سے غداری ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا کام ہے کہ وہ آزاد اور منصفانہ انتخابات کروائے لیکن الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ’میں مطالبہ کرتا ہوں کہ چیف الیکشن کمشنر استعفٰی دیں۔‘

  15. وزیرِ اعلٰی خیبر پختونخوا کے انتخاب کے لیے پولنگ جاری

    خیبر پختونخوا اسمبلی میں وزیرِ اعلٰی کے انتخاب کے لیے پولنگ کا آغاز ہو گیا ہے۔

    سنی اتحاد کونسل کی جانب سے پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما علی امین گنڈاپور کو وزیرِ اعلٰی کے عہدے کے لیے نامزد ہیں۔ ان کا مقابلہ پاکستان مسلم لیگ ن کے عباداللہ خان سے ہے۔

    ہاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ انید وار علی امیں گنڈہ پور اور پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار عباداللہ خان کے درمیان مقابلہ ہے
  16. سپیکر قومی اسمبلی کے انتخاب کے لیے پولنگ جاری

    بیرسٹر گوہر علی خان نے مطالبہ کیا کہ سپیکر کا انتخاب ملتوی کیا جائے کیونکہ ایوان ابھی نامکمل ہے

    ،تصویر کا ذریعہPTV PARLIAMENT

    ایوانِ زیریں میں سپیکر قومی اسمبلی کے انتخاب کے لیے پولنگ جاری ہے۔

    پولنگ کے آغاز سے پہلے، پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر علی خان نے مطالبہ کیا کہ سپیکر کا انتخاب ملتوی کیا جائے کیونکہ ایوان ابھی نامکمل ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سپیکر کا انتخاب اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک ایوان مکمل نا ہو۔

    ’اس وقت اپ کے ہاؤس میں 23 ممبران کی کمی ہے ان میں تین غیر مسلم اور 20 خواتین شامل ہیں۔ ہماری آٹھ خواتین نے خیبر پختونخوا سے آنا ہے جبکہ 12 خواتین نے پنجاب سے انا ہے‘۔

    یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کے لیے دائر درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

  17. ’پارلیمان میں اس وقت اجنبی موجود ہیں‘

    مر ایوب نے اسمبلی میں بات کرتے ہوئے کہا اس پارلیمان میں اس وقت سٹرینجرز موجود ہیں

    ،تصویر کا ذریعہPTV PARLIAMENT

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور سنی اتحاد کونسل کی جانب سے وزارتِ عظمٰی کے لیے نامزد امیدوار عمر ایوب نے قومی اسمبلی میں بات کرتے ہوئے کہا اس پارلیمان میں اس وقت سٹرینجرز موجود ہیں جو کہ فارم 47 کے ذریعے غلط طریقے سے پارلیمان میں آئے ہوئے ہیں۔

    عمر ایوب نے الزام لگایا کہ یہ عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈال کے آئے ہیں۔ ’میں اپ سے ریکویسٹ کرتا ہوں کہ ان کو اس ہاؤس سے باہر نکالا جائے‘۔

  18. سپیکر کے انتخاب کے لیے قومی اسمبلی اجلاس جاری

    سپیکر قومی اسمبلی کے انتخاب کے لیے ایوانِ زیریں کا اجلاس سپیکر راجہ پرویز اشرف کی صدارت میں جاری ہے۔

    سپیکر کے عہدے کے لیے پاکستان مسلم لیگ ن نے سردار ایاز صادق کو نامزد کیا ہے۔ ان کا مقابلہ پاکستان تحریکِ انصاف سے تعلق رکھنے والے سُنّی اتحاد کونسل کے امیدوار عامر ڈوگر سے ہے۔

  19. صدارتی انتخاب کا شیڈول جاری

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صدارتی انتخاب کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق، کاغذاتِ نامزدگی سنیچر کے روز دن 12 بجے تک جمع کروائے جا سکیں گے۔

    پاکستان کے اگلے صدر کے انتخاب کے لیے پولنگ 9 مارچ کو صبح 10 بجے سے دن 4 بجے تک بیک وقت پارلیمان اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہوگی۔

  20. سندھ میں ’رین ایمرجنسی‘ نافذ: ’پرانی شرٹ پینٹ پہنتا ہوں، ڈر لگتا ہے کرنٹ لگنے سے مر گیا تو گھر والوں کا کیا ہو گا‘