القادر ٹرسٹ کرپشن کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر جو فردِ جرم عائد کی
گئی ہے اس کے نکات سامنے آگئے ہیں اور یہ نکات نیب کی طرف سے اس مقدمے میں کی جانے
والی تفتیش کی روشنی میں بنائے گئے ہیں۔
چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ اپریل 2019 میں القادر یونیورسٹی کا کوئی وجود نہیں
تھا اور برطانیہ میں نیشنل کرائم ایجنسی نے 190 ملین پاؤنڈ کا سراغ لگایا۔ لیکن یہ
رقم پاکستان منتقل ہونے سے قبل اثاثہ ریکوری یونٹ کے سربراہمرزا شہزاد اکبر نے پراپرٹی ٹائیکون سے خفیہ
معاہدہ کیا۔
ملزمان پر لگائی گئی فردِ جرم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 190 ملین پاؤنڈ کی رقم
سرکاری خزانے میں جمع کروانے کے بجائے اس مقدمے میں اشتہاری ملزمان اور بحریہ ٹاؤن
کے مالک ملک ریاض اور احمد علی ریاض کی ایما سپریم کورٹ رجسٹرار آفس کے اکاونٹس میں
جمع کروائی گئی۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابقبحریہ ٹاؤن کراچی کے معاملے پر یہ رقم ان پر واجب الاادا تھی اور اس رقم کو
اس اکاونٹ میں ایڈجسٹ کروایا گیا۔
اس چارج شیٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 3 دسمبر 2019 کو وفاقی کابینہ کے اجلاس
میں یہ معاملہ ایڈشنل ایجنڈے میں شامل کیا گیا اور کابینہ کے ارکان سے مخفی رکھتے
ہوئے اس پر ان کیمرہ بریفنگ لی گئی۔
اس چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہسابق
وزیر اعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان رولز آف بزنس 1973 کی خلاف ورزی کے مرتکب
ہوئے ہیں۔
اس چارج شیٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شہزاد اکبر نے 6 دسمبر 2019 کو نیشنل
کرائم ایجنسی کے رازداری ڈیڈ پر دستخط کیے۔
چارج شیٹ کے مطابق عمران خان نے بطور وزیر اعظمالقادر ٹرسٹ کو اپنے اثر و رسوخ سے کابینہ میں
منظور کروایا جبکہ سابق وزیر اعظم کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے 24 مارچ 2021 کو بطور
ٹرسٹی دستاویزات پر دستخط کرکے ملزم عمران خان کی مدد کی۔
اس چارج شیٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس مقدمے میں اشتہاری قرار دیے جانے
والے ملک ریاض حسین کو یہ فیور دینے کے بعد ملزم نمبر ایک یعنی عمران خان کوالقادر ٹرسٹ کا بانی مقرر کیا گیا۔
واضح رہے کہ اس مقدمے میں 6 ملزمان کو اشتہاری قرار دیا گیا ہے جن میں مرزا
شہزاد اکبر، زلفی بخاری، ملک ریاض حسین، احمد علی ریاض، فرحت شہزادی اور ضیا
المصطفی شامل ہیں۔
ملزمان عمران خان اور بشریٰ بی بی پر 27 فروری کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔
اس مقدمے میں استغاثہ کی جانب سے 58 گواہان کی فہرست اسلام آباد کی احتساب
عدالت میں پیش کی گئی ہے جس میں سے اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید
رانا نے 6 مارچ کو پانچ گواہان کو اپنا بیان ریکارڈ کروانے کے لیے طلب کر رکھا ہے۔