یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!
بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
04 فروری کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے سربراہ اور صدارتی امیدوار محمود خان اچکزئی کے گھر پر پولیس نے بلا جواز چھاپہ مارا ہے۔ دوسری طرف حکومت بلوچستان کے سابق ترجمان جان اچکزئی نے کہا کہ پولیس نے یہ کارروائی ان کی رہائش گاہ کے سامنے اراضی پر قبضے کے خاتمے کے لیے کی۔
بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
04 فروری کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
تحریک انصاف نے اپنے گرفتار کارکن احمد شاہ پر پولیس کی حراست میں تشدد کا دعویٰ کیا ہے جس کے بعد لاہور پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انھیں تھانے میں طبیعت خراب ہونے کی شکایت پر ہسپتال لے جایا گیا۔
عمر ایوب نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں بتایا کہ احمد شاہ کو گذشتہ روز پُرامن احتجاج کے دوران گرفتار کر کے ان پر تشدد کیا گیا۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ اس پر آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ لاہور کے جنرل ہسپتال میں زیرِ علاج احمد شاہ کی حالت کافی خراب ہے۔
تاہم لاہور پولیس کا کہنا ہے کہ احمد شاہ کو جب گرفتار کیا گیا تو وہ نارمل تھا۔ تھانے لے کر گئے تو اس نے طبیعت خراب ہونے کی شکایت کی جس پر انھیں فوری ہسپتال لے جایا گیا جہاں ان کا سی ٹی سکین ہوا جس کی رپورٹ نارمل ہے۔‘
پولیس کا کہنا ہے کہ ’احمد شاہ وینٹی لیٹر پر نہیں۔ ڈاکٹرز کی طرف سے دی گئی میڈیسن کی وجہ سے غنودگی میں ہے۔
واقعے کی ایف آئی آر درج کی گئی ہے جس کی میرٹ پر تفتیش جاری ہے۔ پولیس شہریوں کی جان ومال کا تحفظ یقینی بنا رہی ہےآ‘
ادھر چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ ’احمد شاہ پر پولیس حراست میں مبیّنہ تشدد نہایت وحشیانہ، مجرمانہ اور ناقابلِ برداشت ہے جس کی جتنی بھی مذمّت کی جائے کم ہے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’تحریک انصاف اپنے کارکنان کے خلاف مزید لاقانونیّت گوارا نہیں کرے گی اور قانون سے انحراف کو وطیرہ بنانے والوں کے خلاف ہرممکن قانونی و سیاسی اقدام کرے گی۔‘
سنیچر کے روز پی ٹی آئی کے لاہور میں احتجاج کے دوران احمد شاہ کو پولیس کی جانب سے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی بنا پر گرفتار کیا گیا تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2

،تصویر کا ذریعہAFP
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے سربراہ اور صدارتی امیدوار محمود خان اچکزئی کے گھر پر پولیس نے بلا جواز چھاپہ مارا ہے۔
کوئٹہ میں اتوار کی شب پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ پولیس کی بھاری نفری نے پارٹی کے سربراہ کے گھر پر چھاپہ مارا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ چھاپہ ’کسی مجسٹریٹ کے بغیر مارا گیا‘ اور مبینہ طور پر چادر و چار دیواری کی پامالی کی گئی۔
انھوں نے کہا کہ پولیس نے پارٹی کے سربراہ کے ایک ذاتی محافظ کو گرفتار بھی کیا جن کے پاس لائسنس یافتہ اسلحہ تھا۔

،تصویر کا ذریعہPKMAP
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ پارٹی کے سربراہ نے گذشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں حالیہ انتخابات میں دھاندلی اور اس کے ذمہ دار افراد کے خلاف حقائق بیان کیے جس پر رات کو ان کے گھر پر چھاپہ مار کر ان کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا۔
انھوں نے پارٹی کے سربراہ کے گھر پر چھاپے کی مذمت کرتے ہوئے اس کے خلاف پیر کو تین بجے احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کی کاروائیوں سے پارٹی اور اس کی قیادت کو مرعوب نہیں کیا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب حکومت بلوچستان کے سابق نگراں وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے محکمہ اطلاعات کے دفتر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی کے گھر پر چھاپے کے الزام کو مسترد کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے یہ کارروائی محمود خان اچکزئی کے گھر کے سامنے ایک اراضی پر قبضے کے خاتمے کے لیے کی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس اراضی کی رکھوالی محمود خان اچکزئی کا ایک ذاتی محافظ کر رہا تھا جنھیں پولیس کی کارروائی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے پر گرفتار کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ جہاں بھی سرکاری یا نجی اراضی پر قبضہ ہے، حکومت ان کو واگزار کرانے کے خلاف مہم کو جاری رکھے گی۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے وزیر اعظم پاکستان منتخب ہونے پر سوشل میڈیا پر کس ردِ عمل کا اظہار کیا گیا؟
آئیے اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں:
چین کے نشریاتی ادارے ’چائینا ڈیلی‘ کی جانب سے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا گیا کہ ’چین کے صدر شی جن پنگ کی جانب سے شہباز شریف کو مُلک کا وزیرِ اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی گئی ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما حماد اظہر کی جانب سے ایکس پر انتہائی سخت الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے نو منتخب وزیِ اعظم اور انھیں ووٹ دے کر کامیاب کروانے والی سیاسی جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا انھوں نے کہا کہ ’انھیں بے شرمی کا تمغہ دینا چاہیے۔‘
انھوں نے ایکس پر اپنے پیغام میں مزید لکھا کہ ’اسٹیبلشمنٹ کا یہ نیا تجربہ بھی ناکام ہو گا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
پاکستان مُسلم لیگ ن کے رہنما عابد شیر علی نے ایکس پر لکھا ’میاں محمد شہباز شریف وزیرِ اعظم پاکستان کا انقلابی ایجنڈا قوم کے سامنے پیش۔ میثاق مفاہمت کی تجویز۔ تاریخ بدلنی ہے۔ ترقی کے لیے معمار پاکستان میاں محمد نوازشریف کا خواب پورا کریں گے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما میاں اسلم اقبال نے ایکس پر نو منتخب وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف کی تقریر کا وہ حصہ شئیر کیا جس میں وہ جوشِ خطابت میں یہ کہ جاتے ہیں کہ ’میں اپنی تمام اتحادی جماعتوں کا ووٹ دینے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہہ دیا کہ ’ان کے ووٹوں کی وجہ سے وہ اپوزیشن لیڈر بنے ہیں۔‘
اور ساتھ لکھا کہ ’سچ کا مسئلہ یہ ہے کہ کہیں نہ کہیں منہ سے نکل ہی جاتا ہے‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے شہباز شریف کے بطور وزیراعظم پاکستان منتخب ہونے کے حوالے سے صدر مملکت کو خط ارسال کر دیا گیا ہے۔
اتوار کو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سے جاری اعلامیہ کے مطابق صدر مملکت کو لکھے گئے خط میں سپیکر نے انھیں آگاہ کیا کہ میاں محمد شہباز شریف 201 ووٹ حاصل کر کے وزیراعظم پاکستان منتخب ہو گئے ہیں۔
خط میں لکھا گیا کہ وزیراعظم کا انتخاب 3 مارچ بروز اتوار ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔ وزارت عظمیٰ کیلئے انتخابات آئین پاکستان کے آرٹیکل 91 کے تحت ہوئے۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جارے ہونے والے نوٹیفیکیشن میں کہا گیا کہ ’میاں محمد شہباز شریف وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان منتخب ہو گئے ہیں۔‘
اس نوٹیفیکیشن کے جاری ہونے کے بعد سیکرٹری قومی اسمبلی نے نوٹیفکیشن پرنٹنگ پریس آف پاکستان کو گزٹ آف پاکستان میں اشاعت کیلئے بھجوا دیا۔
قومی اسمبلی کا اجلاس کل مورخہ 4 مارچ 2024 کو دن 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہNational Assembly

،تصویر کا ذریعہGetty Images
قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کی جانب سے قومی نشریاتی ادارے پی ٹی وی کو یہ ہدایات جاری کیں کہ وہ پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما عُمر ایوب خان کی تقریر کو نشر کریں۔ واضح رہے کے اس سے قبل مُلک کے نو منتخب وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنا خطاب ختم کیا تو اُس کے بعد جب اُن کے مدِ مقابل وزیرِ اعظم کے اُمیدوار عُمر ایوب نے تقریر شروع کی تو پی ٹی وی نے قومی اسمبلی میں جاری کارروائی براہراست نشر کرنا بند کر دی تھی۔
عُمر ایوب نے خطاب کے دوران کہا کہ ’نو منتخب وزیرِ اعظم کی جانب سے بہت سے وعدہ ہوئے اور فارن انوسٹمنٹ کی بات کی ہے مگر یہ نہیں کہا کے قانون کی بالادستی کی بات نہیں کی گئی۔‘
نومنتخب وزیرِ اعظم شہباز شریف کے قومی اسمبلی میں خطاب کے سپیکر اسمبلی سے چلے گئے اُن کے جانے کے بعد ڈپٹی سپیکر نے قومی اسمبلی کی کارروائی جاری رکھی اور پی ٹی آئی کے رہنما اور وزیر اعظم کے لیے اُن کے اُمیدوار عُمر ایوب حان کو خطاب کا موقع دیا۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما عُمر ایوب نے قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں ایک مرتبہ پھر انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگائے، اُن کا کہنا تھا کہ ’یہاں حکومت بنانے والے لوگ یہ جانتے ہیں کہ انھوں نے الیکشن جیتا نہیں مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آپوزیشن کی جانب سے نعرے بازی اور شور شرابے میں نو منتخب وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’میرے یہ جو دوست شور مچا رہے ہیں یہ بھی جنگلہ بس کے خلاف بات کرتے تھے تنقید کرتے ہیں میں پشاور میں تعمیر ہونے والی بی آر ٹی کے حال اور اس میں ہونے والی کرپشن کا ذکر کسی اور دن کے لیے رکھوں گا، بس یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم مُلک میں پبلک ٹرانسپوٹ کا ایک جال بچھائیں گے۔‘
نو منتخب وزیر اعظم نے کہا ’میں ایک بڑا اعلان کرنا چاہتا ہوں اُن کے لیے بھی جو سکون سے میرے بات سُن رہے ہیں اور اُن کے لیے بھی جو شور مچا کر میری آواز گُم کرنا چاہتے ہیں، جو بچے پڑھائی میں اچھے ہیں اُن کے لیے دُنیا کے بڑے تعلیمی اداروں سے بات کریں گے اور انھیں وظائف وفاقی حکومت دے گی۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’جو خواتین اور بچے سنگین جرائم میں ملوث نہیں ہیں اور اُن کی قید کی مُدت دو سال سے کم ہے اُنھیں رہا کر کے اُنھیں قومی دھارے میں لانے کے لیے بہترین تربیتی پروگرامز شروع کیے جائیں گے۔‘
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’میں یہ سمجھتا ہوں کے ٹیکس کے جو لیول ہیں وہ ہم کم کریں کیونکہ جو ٹیکس دینے والا ایک ایماندار فرد ہے اُسے مزید نئے اور زیادہ ٹیکس کے بوجھ تلے دبانا ظلم ہے، اور جو مافیا اربوں اور کھربوں کا غبن کرتا ہے اُسے پوچھنے والا کوئی نہیں ہے یہ اس مُلک کا ایک سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس لیے جو اچھے ٹیکس پیئیر ہیں اُنھیں اپنا ہیرو بنانا چاہیے۔‘
انھوں نے کہا ’ٹیکس ریفنڈ میں تاخیر ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، ٹیکس ریفنڈ میں سالوں تنگ کیا جاتا ہے اور جیب گرم کیے بغیر اُن کا حق نہیں ملتا، میں یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کے ایف بی آر جن لوگوں کا ٹیکس ڈیو ہے انھیں دس دنوں کے اندر اُن کے گھروں تک پہنچایا جائے۔‘
اپنے خطاب کے آخر میں نو منتخب وزیر اعظم نے فلسطین اور انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کا ذکر کیا اُن کا کہنا تھا کہ ’ان دو معاملات پر دُنیا کے بڑے اور طاقتور مُمالک کے لب سلے ہوئے ہیں ہم اُن کے لیے بھی قرار داد پیش کریں گے اور اس پر بات کرتے رہیں گے۔‘
اُن کا مزید کہا کہ ’موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پاکستان کو شدید مُشکلات کا سامنا ہے ہم نے اس کا خمیازہ بھگتا ہے۔‘
نو منتخب وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’الیکشن پر جنھیں اعتراض ہے اُس کے لیے الیکشن کمیشن موجود ہے اس سب کے لیے آئی ایم ایف کے پاس جانے کی کیا ضرورت تھی، یہ مُلک دُشمنی کی ایک اور مثال ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دوسری بار وزیرِ اعظم منتخب ہونے کے بعد جب شہباز شریف نے ایوان سے خطاب شروع کیا تو ان کو حزبِ اختلاف کی جانب سے شدید نعرے بازی کا سامنا کرنا پڑا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’میں سب کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ مجھے اس ایوان کا لیڈر منتخب کیا گیا ہے۔ میں ڈنکے کی چوٹ پر کہنا چاہتا ہوں کہ نواز شریف اپنی مثال آپ ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’تمام مظالم کے باوجود نواز شریف، آصف زرداری اور بلاول بھٹو نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کبھی نہیں سوچا۔‘
نو منتخب وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’ہمیں جس ایک اور بڑے چیلنج کا سامنا ہے وہ ہے بجلی کے نرخوں میں ہونے والا ہوش رُبا اضافہ ہے، بجلی پر اس وقت گردشی قرضہ 2300 ارب روپے پر پےہنچ چُکا ہے۔‘ اُن کا کہنا تھا کہ ’3800 ارب روپے کی بجلی کی تقسیم ہوتی ہے یعنی فراہم کی جاتی ہے مگر وصولی صرف 2800 ارب روپے ہے اور اس سے اندازہ کریں کے ایک ہزار ارب روپے کا فرق ہے، جس کی مالیت آج کے ریٹ کے مطابق ساڑھے تین ارب ڈالر بنتا ہے۔‘
شہباز شریف نے آپوزیشن کے شور شرابے میں اپنا خطاب جاری رکھا انھوں نے کہا ’ہم یہ بوجھ برداشت نہیں کر سکتے اور اس سب کے وجہ بیڈ گورننس یعنی بد انتظامی رہی ہے، ہم اس سب پیسے کی مدد سے سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر میں درجنوں نئے تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کا قیام عمل میں لایا جا سکتا ہے، غریب اور مجبور کو دوائیاں مفت تقسیم کی جا سکتی ہیں۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارے مُلک میں 500 سے 600 ارب روپے کی بجلی چوری ہوتی ہے، میں گھڑی کی چوری کی نہیں بجلی کی چوری کی بات کر رہا ہوں، ایوان میں شور کی بجائے شعور کا راج ہونا چاہیے تھا۔‘
نو منتخب وزیر اعظم نے کہا ’اسی طرح مُلک میں گیس کا گردشی قرضہ 2900 ارب روپے تک پہنچ چُکا ہے اور اس کی وجہ مہنگی ایل این جی، گیس کی تقسیم کا نظام اور گیس کی چوری ہے، بجلی چوری اور ٹیکس چوری اس مُلاًک اور اس کی قوم کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’بجلی اور گیس چوری کا سارا بوجھ اس مُلک کا غریب اُٹھا رہا ہے۔‘
شہباز شریف نے کہا کہ ’میں آج یہاں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم اس کینسر کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکیں گے اور اس مُلک کو دوبارہ اس کے پیروں پر کھڑا کریں گے، ہمارے اقدامات اور محنت کے اثرات ایک سال کے اندر سامنے آنے لگیں گے اور ہم اس مُلک کو خوش حالی کی جانب لے کر جانے کے قابل ہو جائیں گے۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم چاروں صوبوں کو ساتھ لے کر چلیں گے، چاروں صوبے ہی پاکستان ہیں اور میں واعدہ کرتا ہوں کے ہم سب کو ساتھ لے کر چلیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہgettyimages
آج وزیراعظم کے انتخاب میں پاکستان کے سابق آرمی چیف اور صدر ایوب خان کے پوتے اور سابق وفاقی وزیر گوہر ایوب کے بیٹے عمر ایوب، پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار اور سنی اتحاد کی جانب سے وزارت عظمیٰ کے مقابلے میں میدان میں آئے تھے۔
اگرچہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد اراکین، سنی اتحاد کونسل اور مجلس وحدت المسلمین کے پاس بظاہر اکثریت نہیں لیکن پی ٹی آئی کے بانی سربراہ عمران خان نے وزیر اعظم کے عہدے کے لیے انتخاب میں حصہ لینے کے لیے عمر ایوب کو نامزد کیا تھا۔
26 جنوری 1968 کو سیاسی اور عسکری پس منظر رکھنے والے خاندان میں پیدا ہونے والے عمر ایوب نے کم عمری میں ہی سیاست میں دلچسپی لینا شروع کر دی تھی۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ 1985 کے غیر جماعتی بنیادوں پر ہونے والے انتخابات میں وہ بہت کم عمر تھے لیکن وہ والد گوہر ایوب کی انتخابی مہم میں شریک تھے۔
اس کے بعد 1990 کے انتخابات میں انھوں نے والد گوہر ایوب خان کی انتخابی مہم میں اہم کردار ادا کیا تھا اور اسی طرح 1993 اور 1997 میں بھی وہ والد کے ساتھ رہے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ 2001 میں بلدیاتی انتخابات میں پہلی مرتبہ انھوں نے حصہ لیا اور پھر 2002 کے عام انتخابات میں وہ خود قومی اسمبلی کی نشست کے لیے میدان میں اترے تھے۔
پاکستان مسلم لیگ قاف کے پلیٹ فارم سے 2002 میں اپنے آبائی علاقے ہری پور سے قومی اسمبلی کے انتخاب میں حصہ لینے والے عمر ایوب سابق صدر پرویز مشرف اور سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کی کابینہ کا حصہ رہے ہیں۔
وہ 2004 سے 2007 تک وفاقی وزیر مملکت برائے خزانہ رہے۔ عمر ایوب 2008 کے انتخابات میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔ اس کے بعد 2012 میں ان کی خواہش تھی کہ وہ پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو جائیں لیکن اس وقت مقامی طور پر ان کے لیے میدان سازگار نہیں تھا اس لیے انھوں نے پاکستان مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور 2013 کے انتخابات میں حصہ لیا لیکن وہ کامیاب نہیں ہو سکے۔
عمر ایوب نے 2018 میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی اور وہ 2018 میں ہی این اے 18 ہری پور سے کامیاب ہو گئے تھے۔ انھیں سابق وزیر اعظم عمران خان کی کابینہ میں شامل کیا گیا۔
وہ ابتدائی طور پر وفاقی وزیر برائے پانی بجلی رہے اور اس کے بعد 2019 میں جب کابینہ میں رد وبدل کیا گیا تو انھیں وفاقی وزیر پیٹرولیم کا اضافی چارج بھی دے دیا گیا تھا ۔ عمر ایوب پی ٹی آئی میں ایڈیشنل سیکرٹری جنرل اور بعد میں اسد عمر کے استعفیٰ کے بعد جماعت کے مرکزی سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے۔
اس وقت بھی وہ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی جنرل سیکرٹری ہیں۔ خیبرپختونخوا کے ضلع ہری پور سے تعلق رکھنے والے عمر ایوب نے ابتدائی تعلیم ایبٹ آباد کے برن ہال سکول سے حاصل کی اور اس کے بعد وہ ایچی سن کالج چلے گئے تھے۔
گریجویشن کے لیے جارج واشنگٹن یونیورسٹی امریکہ چلے گئے جہاں انھوں نے 1993 میں پہلے بی بی اے کیا اور پھر 1996 میں ایم بی اے کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شہباز شریف پاکستان کے 24 ویں وزیراعظم منتخب ہو گئے ہیں۔ انھوں نے 201 ووٹ لیے۔ ان کے مقابلے میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار عمر ایوب تھے۔ ، جنھیں 92 ووٹ ملے۔
نئے وزیراعظم کے انتخاب کا عمل آخری مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کچھ دیر میں نتائج کا اعلان کریں گے۔

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز کی ہدایت پر قومی اسمبلی ہال کے دروازے بند کروا دیے ہیں۔ اس سے قبل پانچ منٹ تک گھنٹیاں بجائی گئیں تا کہ باہر اگر کوئی رکن موجود ہے تو وہ اندر آ سکے۔
اب وزیراعظم کے انتخاب کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ شہباز شریف کی حمایت کرنے والے اراکین کو لابی اے جبکہ عمر ایوب خان کی حمایت کرنے والوں کو لابی بی میں جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

نئے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہو گیا ہے۔ اس اجلاس کی صدارت سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کر رہے ہیں۔
تحریک انصاف کے حمایت یافتہ اراکین قومی اسمبلی سپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہو کر احتجاج کر رہے ہیں اور نعرے بازی بھی کر رہے ہیں۔ انھوں نے عمران خان کی رہائی کے مطالبات والے پوسٹرز بھی اٹھا رکھے ہیں۔
سپیکر نے پانچ منٹ کے لیے گھنٹیاں بجانے کی ہدایات کی ہیں تا کہ جو اراکین باہر ہیں وہ قومی اسمبلی کے ہال میں پہنچ سکیں۔ سپیکر نے انتخابی عمل کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ایک دفعہ جب ووٹنگ شروع ہو جائے گی تو پھر کوئی باہر سے رکن اندر داخل نہیں ہو سکے گا اور باہر سے کوئی رکن اندر داخل نہیں ہو سکے گا۔

نواز شریف، شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی کے ہال میں پہنچ چکے ہیں۔ نئے وزیراعظم کا انتخاب کچھ دیر میں عمل میں لایا جائے گا۔
اس وقت اراکین قومی اسمبلی کی بھی بڑی تعداد اسمبلی میں موجود ہے۔ آج کے اس اجلاس کی صدارت سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کریں گے۔
شہباز شریف اور عمر ایوب کے درمیان قائد ایوان کے لیے مقابلہ ہو گا۔
بی بی سی کی نامہ نگار سحر بلوچ کے مطابق اس وقت مسلم لیگ ن اور عمران خان کے حمایتیوں کے بیچ میں نعرے بازی بھی ہو رہی ہے۔
تحریک انصاف کے حمایت یافتہ اراکین اپنے ساتھ عمران خان کے پوسٹرز اور پلے کارڈ بھی اٹھا کر لے آئے ہیں۔، جن پر عمران خان کی رہائی کے مطالبات درج ہیں۔

،تصویر کا ذریعہSAQIB BASHIR
اداروں اور سول سرونٹس پر الزامات لگانے کا کیس میں اسد طور کو مزید تین کے جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کی تحویل میں دے دیا ہے۔
اتوار کی صبح ایف آئی اے نے صحافی اسد طور کو ڈیوٹی مجسٹریٹ عباس شاہ کی عدالت میں پیش کیا ہے اور ان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، جسے منظور کر لیا گیا۔
ڈیوٹی مجسٹریٹ نے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا منظور کرتے ہوئے جسمانی ریمانڈ میں تین دن کی توسیع کر دی۔
صحافی اسد علی طور کی بھوک ہڑتال صحافی مطیع اللہ جان نے کمرہ عدالت میں ختم کرا دی ہے۔ اسد طور کے بقول وہ پانچ روز منگل سے بھوک ہڑتال پر تھے۔
صحافی اسد طور نے دوران سماعت عدالت کے سامنے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اتنے دنوں سے ایف آئی اے کی حراست میں ہوں سوالات سارے مجھ سے فوج کے بارے میں پوچھے جا رہے ہیں۔
انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ’اب ان (ایف آئی اے والوں) کو باہر سے چٹ آتی ہے کہ یہ سوال کرو، وہاں کچھ اود لوگ بھی بیٹھے ہوتے ہیں۔‘
اسد طور نے سوال کیا کہ ’میری خبروں کا کیا کسی ادارے نے انکار کیا ہے، مجھے ایف آئی اے میں عجیب و غریب جگہ پر رکھا ہوا ہے، چھوٹی سی جگہ میں کبھی 19 لوگ ہوتے ہیں تو کبھی زیادہ ہوتے ہیں۔‘
اسد طور نے عدالت سے پوچھا کہ ’کیا میں سچ بولتا ہوں اس کی سزا دی جارہی ہے، کیا یہ چاہتے ہیں کہ اس ملک میں قبرستان کا عالم ہو، کیا اختیار کا غلط استعمال اسی طرح ہی جاری رہنا چاہیے؟‘
انھوں نے کہا کہ ’میں سوشل میڈیا سے ملنے والے ایف آئی اے کے نوٹس پر پیش ہوا ہوں، کیا جو سچ بولتا ہے اس کو یہ بھگتنا پڑے گا، میں صحافی ہوں آج تک کبھی قانون سے نہیں بھاگا، ڈیڑھ ڈیڑھ سال کیسز بھگتے کبھی نوکریوں سے نکالا گیا ان کو کیا قبرستان چاہیے کہ یہاں کوئی نا بولے؟‘

،تصویر کا ذریعہGOHAR ALI KHAN
بیرسٹر گوہر علی خان کو تحریک انصاف کا بلا مقابلہ چیئرمین منتخب کر لیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کے سیکریٹری اطلاعات رؤف حسن نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انٹرا پارٹی انتخابات کے نتائج کا اعلان کیا۔
رؤف حسن کے مطابق ’ہم نے تیسری بار انٹرا پارٹی انتخابات کرائے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہNoman Masroor/BBC
نئے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے اراکین اسمبلی پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ شہباز شریف اور عمر ایوب کے درمیان وزارت عظمیٰ کے لیے مقابلہ ہو گا۔
شہباز شریف کو مسلم لیگ، پاکستان پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کی حمایت حاصل ہے جبکہ عمر ایوب سنی اتحاد کونسل (تحریک انصاف) کے امیدوار ہیں۔
سنی اتحاد کونسل کے عامر ڈوگر نے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے اندر کچھ گھس بیٹھیے داخل ہو گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہNoman Masroor/BBC
عامر ڈوگر کے مطابق عمران خان نے نظریاتی سیاست کو بھی فروغ دیا ہے جس کی وجہ سے تمام تر دباؤ کے باوجود کوئی رکن پارٹی چھوڑ کر نہیں گیا۔

،تصویر کا ذریعہNoman Masroor/BBC
پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے ہمراہ پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی حنیف عباسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انتخابات شفاف ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
نئی وفاقی کابینہ کی تشکیل سے متعلق بات چیت کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما احسن اقبال کا کہنا ہے کہ شہبازشریف اتوار کو وزیراعظم بننے کے بعد اپنی ٹیم چُنیں گے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’دو دن میں کلیئر ہو جائے گا کہ کابینہ میں کون شامل ہوگا۔‘
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ انھوں اسحاق ڈار کے نام پر کوئی اعتراض نہیں سنا ہے۔
احسن اقبال نے الزام عائد کیا کہ پاکستان تحریک انصاف اپنے بانی کو این آر او دلوانے کے لیے امریکا اور آئی ایم ایف کے پیر پکڑ رہی ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ پی ٹی آئی کا مسئلہ دھاندلی نہیں ہے، پی ٹی آئی بیرونی مداخلت کا دروازہ کھول رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’بطور رکن حلف لینے کے بعد یہ لوگ 8 فروری کے انتخابات کو تسلیم کر چکے ہیں، یہ لوگ اپوزیشن کا کردار ادا کریں ہم خوش آمدید کہیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں سوشل میڈیا پر مستقل پابندی کے لیے پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں پاکستان پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر بہرا مند تنگی نے قراردار جمع کرادی ہے۔ اس قرار داد پر پیر کو بحث کے امکانات ہیں۔
اس قراردادا کے پیش ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر پیپلز پارٹی پر بھی تنقید ہو رہی ہے۔ تاہم پی پی پی کے رہنماؤں کے مطابق سینیٹر بہرا مند کا اب ان کی جماعت سے تعلق نہیں رہا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کا کہنا ہے کہ ان کا سینیٹر بہرامند تنگی کی سینیٹ میں جمع کروائی گئی قرار داد سے کوئی تعلق نہیں۔
سنیچر کو جاری ایک بیان میں پی پی پی کے سیکریٹری جنرل نیر حسین بخاری کا کہنا تھا کہ سینیٹر بہرامند تنگی کا پی پی پی سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ پارٹی نے ان کی بنیادی رُکنیت منسوخ کردی تھی۔

،تصویر کا ذریعہSenate of Pakistan
خیال رہے سینیٹر بہرامند خان تنگی نے سینیٹ میں ایک قرار جمع کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’نوجوان نسل کو منفی اور خطرناک اثرات‘ سے بچانے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فیس بُک، ٹِک ٹاک، انسٹاگرام، ٹوئٹر (ایکس) اور یوٹیوب پر پابندی عائد کی جائے۔
ان کی جانب سے جمع کروائی گئی قرار داد میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ’ثقافت اور اسلام مخالف اقدار کو فروغ دینے اور زبان اور مذہب کی بنیاد پر لوگوں میں نفرت پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔‘
قرار داد میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ’فیک نیوز‘ اور پاکستانی فوج کے خلاف ’پروپگینڈا‘ مہم کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔
پی پی پی کے سیکریٹری جنرل نیر حسین بخاری کا کہنا ہے کہ سینیٹر بہرامند تنگی کو پارٹی پالیسی سے انحراف کرنے پر اظہارِ وجوہ نوٹس بھیجا گیا تھا جس کا جواب دینے میں وہ ناکام رہے تھے۔
نیر حسین بخاری کے مطابق جواب دینے میں ناکامی کے بعد پی پی پی چارسدہ کے صدر نے بہرامند تنگی کی رُکنیت معطل کردی تھی۔
سینیٹر بہرامند تنگی 11 مارچ کو سینیٹ کی رُکنیت سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہYOUTUBE/ASADTOOR
صحافی اسد طور کو آج اسلام آباد میں ڈپٹی جج عباس شاہ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ جج نے اس مقدمے کے تفتیشی افسر کو یہ ہدایات دے رکھی ہیں کہ وہ اسد طور کو آج 11 بج کر 45 منٹ سے پہلے پہلے ان کے سامنے پیش کریں۔
واضح رہے کہ اسد طور اس وقت وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی حراست میں ہیں۔ پہلی پیشی پر ایف آئی اے کی درخواست پر عدالت نے ان کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ دیا تھا۔