قومی اسمبلی کا افتتاحی اجلاس: پیر کو اجلاس بلانے کا کہا لیکن صدر کوئی فیصلہ نہیں کر سکے، مسلم لیگ ن
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت صدارت کے عہدے اور حلف کے ساتھ انصاف نہیں کر سکے ہیں اورقومی اسمبلی کے اجلاس پر وہ ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کر سکے ہیں۔ اس سے قبل سینیٹر اسحاق ڈار نے پنجاب اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر مملکت نے سمری پر اجلاس نہ بلایا تو 29 فروری کو سپیکر آئینی طورپر خود اجلاس طلب کر سکتا ہے۔
لائیو کوریج
’احتجاج کر کے عوامی مینڈیٹ کی توہین نا کریں‘ نثار کھوڑو
کراچی میں صوبائی اسبملی میں میڈیا
سے بات کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ ’جی ڈی
اے، جے یو آئی، پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی دھرنے دے کر اپنا وقت ضایع نہ کریں اور
اگلے انتخابات کا انتظار کریں۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’دھرنوں
کی سیاست نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔ پیپلز پارٹی کا مینڈیٹ فارم 45 پر مبنی ہے۔
مینڈیٹ پر اعتراض کرنے اور مبینہ دھاندھلی کے الزامات لگانے والے عدالتوں میں ثبوت
پیش کریں۔ احتجاج کر کے وہ عوامی مینڈیٹ کی توہین کر رہے ہیں۔‘
نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ ’سندھ
اسمبلی نے پاکستان بنایا اور سندھ اسمبلی ہی پاکستان بچانے کے لئے کردار ادا کرے گی۔
ملک بھر میں جمھوری حکومتیں وجود میں آ رہی ہیں۔ پارلیمنٹ اور اسمبلیاں وجود میں آئیں
گی تو ہی جمہوریت رائج ہوگی۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ملک میں
جمہوری حکومتیں اپنی آئینی مدت پوری کریں گی۔‘
پنجاب کے بعد سندھ اسمبلی میں بھی نو منتخب اراکینِ صوبائی اسمبلی نے حلف اُٹھا لیا
،تصویر کا ذریعہPTV
سندھ اسمبلی میں ایک جانب حلف
برداری کی تقریب ہوئی وہیں دوسری جانب اسمبلی کے باہر جی ڈی اے اور جماعت اسلامی
کے اراکین اور تحریک انصاف پر مشتمل اپوزیشن اتحاد نے سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج
جاری ہے۔
سندھ اسمبلی میں نومنتخب اراکین کی
تقریب حلف برداری کے لیے ہونے والے اہم اجلاس کی صدارت سابق سپیکر آغا سراج درانی
نے کی اور اراکین سے حلف لیا۔
واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی
کی جانب سے سیدمراد علی شاہ وزارت اعلی کیلئے نامزد ہیں جبکہ سپیکرسندھ اسمبلی کے
لیے اویس شاہ اور ڈپٹی سپیکر کے لیے نوید انتھونی کی نامزدگی کی گئی ہے۔
،تصویر کا ذریعہPTV
سندھ اسمبلی کے پہلے اجلاس کی کارروائی کا آغاز، اسمبلی کے باہر اپوزیشن کا احتجاج متعدد افراد گرفتار
،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
سندھ اسمبلی کے نومنتخب
اراکین کی تقریب حلف برداری کے لیے اجلاس کا آغاز ہو چُکا ہے۔ اجلاس سابق سپیکر
آغا سراج درانی کی زیر صدارت ہو رہا ہے۔
سندھ اسمبلی کے 168 اراکین میں سے
114 کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے جبکہ 36 اراکین کا تعلق ایم کیو ایم پاکستان سے ہے۔
تاہم جی ڈی اے اور جماعت اسلامی
کے اراکین اور تحریک انصاف پر مشتمل اپوزیشن اتحاد نے سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج
کا اعلان کر رکھا ہے۔
تاہم محکمہ داخلہ سندھ نے کراچی
میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کر رکھی ہے۔ کراچی میں سندھ اسمبلی کے باہر
افتتاحی اجلاس کے موقع پر احتجاج کرنے پر قومی عوامی تحریک کے تقریباً 10 کارکنان
کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
بریکنگ, سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج، قومی عوامی تحریک کے کارکنان گرفتار
کراچی میں سندھ اسمبلی کے باہر افتتاحی اجلاس کے موقع پر احتجاج کرنے پرقومی عوامی تحریک کے تقریباً 10 کارکنان کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
افتتاحی اجلاس کے موقع پر سیاسی جماعتوں بشمول گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس، جماعت اسلامی اور جمیعت علمائے اسلام کی جانب سے ممکنہ احتجاج کے پیشِ نظر، اسمبلی کے باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب، محکمہ داخلہ سندھ نے صوبائی اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر کراچی کے ریڈ زون میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی ہے۔
الیکشن کمیشن نے اسلام آباد سے مسلم لیگ (ن) کے تمام 3 ایم این ایز کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
،تصویر کا ذریعہEPA
الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب
سے اسلام آباد کے قومی اسمبلی کے تین حلقوں سے مسلم لیگ ن کے تینوں امیدواروں کی
کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
مسلم لیگ ن کے تین امیدوار انجم
عقیل، طارق فضل چوہدری اور راجہ خرم نواز نے بالترتیب این اے 46، این اے 47 اور
این اے 48 سے کامیابی حاصل کی تھی۔
تاہم اس سے قبل پاکستان تحریکِ
انصاف کی جانب سے ای سی پی کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کا
رخ کیا گیا تھالیکن
عدالت نے درخواست نمٹاتے ہوئے معاملہ واپس کمیشن کو بھیج دیا تھا۔
یاد رہے کہ بدھ کو عدالت نے کہا
تھا کہ زیرِ التوا مقدمات پر ای سی پی کے فیصلے تک مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کی
کامیابی کے نوٹیفکیشن معطل رہیں گے۔
محمد حنیف کا کالم: قیدی نمبر 804 اور ہمارا مستقبل
ایچ آر سی پی کی جانب سے سندھ اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کے عہدے کے لیے نوید انتھونی کی نامزدگی کا خیرمقدم
،تصویر کا ذریعہ@anthonynaveed1
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے
سندھ اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کے عہدے کے لیے نوید انتھونی کی نامزدگی کا خیرمقدم کیا
ہے۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی
جانب سے ایکس پر جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’نوید اینتھونی کے
ڈپٹی سپیکر کے طور پر نامزدگی کے سامنے آنے سے پاکستان میں مذہبی اقلیتی برادریوں
کو ان کی شہریت کی حیثیت اور پاکستان کی سیاست اور معاشرے میں جگہ حاصل کرنے کے
امکانات کے حوالے سے اعتماد حاصل ہوگا۔‘
واضح رہے کہ جمعے کو میڈیا سے
گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ’ہماری
جماعت ڈپٹی سپیکر کے عہدے کے لیے غیر مسلم رُکن صوبائی اسمبلی انتھونی نوید کو
نامزد کر رہی ہے۔‘
سندھ اسمبلی کا پہلا اجلاس آج ہوگا جس میں نو منتخب اراکین حلف اُٹھائیں گے
مُلک میں انتخابات کے انعقاد کے بعد
سندھ اسمبلی کا پہلا اجلاس آج ہوگا جس میں اسمبلی کے نومنتخب اراکین حلف
اُٹھائیں گے۔
تاہم گزشتہ روز سندھ اسمبلی میں
نو منتخب ارکان کے پہلے اجلاس کے موقع پر گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس، جماعت اسلامی
اور جمیعت علمائے اسلام کی جانب سے سندھ اسمبلی کے باہر دھرنا دینے کا اعلان کیا
گیا تھا۔
دھرنے کے اس مشترکہ اعلان
میں جی ڈی اے اور دیگر سیاسی جماعتوں کا کہنا تھا کہ آج حلف اٹھانے کی بجائے
اسمبلی کے باہر احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا۔
دھرنے کی وجہ سے پیدا ہونے والی
صورتحال سے نمٹنے کے لیے محکمہ داخلہ سندھ نے سندھ اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر
سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کراچی کے ریڈ زون میں ایک ماہ کیلئے دفعہ 144 نافذ کردی
ہے۔
نگران وزیرِ داخلہ سندھ کا کہنا
تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے باعث سندھ اسمبلی پر جلوس، احتجاجی مظاہروں پر پابندی
ہے، کسی بھی قسم کی شرپسندی کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہوگی۔
دوسری جانب آج ہی پنجاب اسمبلی
میں خفیہ رائے شماری کے ذریعے نو منتخب ارکان اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب
کریں گے۔
امریکی سینیٹر کا انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی اطلاعات پر پاکستانی سفیر کو خط ’پاکستانی عوام کی مرضی کا احترام کیا جانا چاہیے‘
پاکستان میں ہونے والے حالیہ عام
انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور مداخلت کی خبروں پر امریکی سینیٹر کرس وان ہولینز کی جانب سے تشویش کا
اظہار کیا گیا ہے۔
امریکی سینٹر کی جانب سے ایکس پر
جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’میں ان لاکھوں پاکستانیوں کو سراہتا ہوں کہ
جنھوں نے بڑی تعداد میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔۔۔ یہ جمہوری عمل کی مضبوطی
کی جانب ایک قدم ہے۔‘
تاہم ایکس پر اسی بیان میں اُن کا
مزید کہنا تھا کہ انھوں نے پاکستان میں امریکی سفیر مسعود خان کو ایک خط لکھا ہے
جس میں عام انتخابات میں مبینہ ’دھوکہ دہی اور مداخلت کی مصدقہ اطلاعات‘ کی
تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی سفیر کی جانب سے امریکہ میں پاکستانی سفارتخانے
کو لکھے جانے والے خط میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستانی عوام کی مرضی کا احترام کیا
جانا چاہیے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بلوچستان اسمبلی: مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کے بعد پیپلزپارٹی کی نشستوں کی تعداد 17، ن لیگ 16 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان اسمبلی میں خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کے بعد پیپلز پارٹی کی نشستوں کی تعداد 17 ہو گئی ہے جبکہ پیپلز پارٹی کو حکومت سازی کے لیے ایک آزاد رکن کی حمایت بھی حاصل ہے۔
مسلم لیگ نون 16 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر جبکہ جمیعت علمائے اسلام 12 نشستوں کے ساتھ اسمبلی میں تیسری بڑی جماعت بن گئی ہے۔
سنہ 2018 کے عام انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) خواتین کی ایک مخصوص نشست ملنے کے بعد چوتھی بڑی جماعت بن گئی ہے۔
تاہم بلوچستان اسمبلی کی تین عام نشستوں پر الیکشن کمیشن نے نتائج کو روک دیا ہے جن پر ن لیگ، جمیعت علمائے اسلام اور بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدواروں کی کامیابی کا اعلان کیا گیا تھا۔
خواتین کی ایک ایک نشست ملنے کے بعد نیشنل پارٹی کے اراکین کی تعداد بلوچستان اسمبلی میں 4 جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے اراکین کی تعداد تین ہو گئی ہے۔
بلوچستان اسمبلی میں بلوچستان نیشنل پارٹی، حق دو تحریک، بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی اور جماعت اسلامی کے اراکین کی تعداد ایک ایک ہے۔
بلوچستان میں حکومت سازی کے لیے پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے درمیان اتفاق رائے ہو گیا ہے جن کو حکومت بنانے کے لیے سادہ اکثریت حاصل ہو گئی ہے۔
بلوچستان اسمبلی کی کل نشستوں کی تعداد 65 ہے جس میں سادہ اکثریت کے ساتھ حکومت سازی کے لیے 33 اراکین کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی نے بھی وفاق اور بلوچستان میں حکومت سازی کے لیے نون لیگ کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔
کوہستان میں ’نام نہاد غیرت‘ کے نام پر ایک اور لڑکا لڑکی قتل: ’وقوعہ پر پہنچے تو لاشیں خون میں لت پت پڑی تھیں‘
مبینہ کرپشن: عدالت نے یوٹیوبر عمران ریاض خان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا
،تصویر کا ذریعہIMRAN RIAZ KHAN/TWITTER
ڈائریکٹوریٹ آف اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب نے جمعے کو
یوٹیوبر عمران ریاض خان کو لاہور کی مقامی عدالت میں پیش کر دیا ہے۔
ڈی اے سی ای نے عدالت سے استدعا کی کہ عمران ریاض کو 14
روز کے جسمانی ریمانڈ پر ان کے حوالے کیا جائے۔
تاہم جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے ان کی درخواست کو مسترد
کرتے ہوئے عمران ریاض کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت میں پیشی کے دوران ڈی اے سی ای کے وکیل نے مجسٹریٹ
کو بتایا کہ عمران ریاض کے والد محمد ریاض کے خلاف ڈی اے سی ای میں آمدن سے زائد
اثاثے بنانے اور ضلع چکوال میں واقع دھرابی ڈیم میں ماہی گیری کا ٹھیکہ اونے پونے
داموں حاصل کرنے کے الزامات پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ڈی اے سی ای کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 'انکوائری میں
یہ بات بھی عیاں ہوئی ہے کہ محمد ریاض نے اپنی ٹرانسپورٹ کمپنی سے کی گئی کرپشن کی
آمدنی سے اپنے بیٹوں عمران ریاض اور عثمان ریاض کے نام پر چکوال میں 14 مختلف جائیدادیں
خرید رکھی ہیں۔'
ان کے خلاف درج مقدمہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عمران ریاض
کے والد نے 'اپنے بیٹے عمران ریاض اور اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے
دھونس، دھاندلی اور جعلی انتقالات کے ذریعےدھرابی ڈیم پر 222 کنال رقبہ اپنے بیٹے
عمران ریاض اور عثمان ریاض کے نام پر رجسٹر کروا رکھا ہے۔'
ڈی اے سی ای پنجاب کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ انھوں
نے 23 فروری کو عمران ریاض کو گرفتار کیا۔
ان سے 'دھونس، دھاندلی اور کرپشن کے ذریعے حاصل کردہ جائیداد
کے کاغذات اور سرکار کو پہنچائے گئے نقصان کی برآمدگی کی جانا مطلوب ہے۔'
تاہم عمران ریاض کے وکیل نے عدالت میں کو بتایا کہ عمران
ریاض کے خلاف مقدمہ خلاف قانون درج کیا گیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ عمران ریاض کے والد کبھی سرکاری
عہدے پر نہیں رہے اور 'ان کے خلاف مقدمہ جھوٹ کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہئے۔'
انھوں نے عدالت کو بتایا کہ عمران ریاض نے قومی خزانے کو
نقصان نہیں پہنچایا نہ ہی محکمہ اینٹی کرپشن کے پاس ان کے خلاف کوئی ثبوت یا
دستاویز موجود ہیں۔
عمران ریاض نے خود عدالت کو مخاطب کرتے ہوئے دعویٰ کیا
کہ 'جس ٹھیکے کی یہ بات کر رہے ہیں کہ اونے پونے داموں لیا، جھوٹ بول رہے ہیں۔'
انھوں نے عدالت کو بتایا کہ 'دھرابی ڈیم کا گزشتہ ٹھیکہ
ایک کروڑ دس لاکھ روپے کا تھا، ہم نے یہ ٹھیکہ چار کروڑ سے زائد کا لیا۔'
عدالت نے دونوں اطراف کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ
کر لیا اور کچھ دیر کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے ڈی اے سی ای کی جسمانی ریمانڈ
کی درخواست مسترد کر دی۔
عدالت نے اپنے حکم میں لکھا کہ ملزم عمران ریاض نے پہلے
ہی تمام مطلوبہ دستاویزات انکوائری آفیسر کو فراہم کر دی ہیں اور مزید کوئی برآمدگی
ہونا درکار نہیں ہے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے عمران ریاض کو 14 روزہ جوڈیشل
ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔ پولیس اور ڈی اے سی ای کے حکام نے عمران ریاض کو لاہور
کی کیمپ جیل منتقل کر دیا ہے۔
سندھ میں ایک بار پھر مراد علی شاہ وزیرِ اعلیٰ ہوں گے: بلاول بھٹو زرداری
،تصویر کا ذریعہPPP
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا
کہنا ہے کہ ان کی جماعت ایک بار پھر سندھ کے وزیرِ اعلیٰ کے لیے مراد علی شاہ کو
نامزد کر رہی ہے۔
جمعے کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا
کہنا تھا کہ ’ہم مراد علی شاہ سے درخواست کریں گے کہ وہ ایک بار پھر یہ عہدہ سنبھالیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ان کی جماعت ڈپٹی سپیکر کے عہدے کے
لیے غیر مسلم رُکن صوبائی اسمبلی انتھونی نوید کو نامزد کر رہی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے انتھونی نوید کو مخاطب کر کے کہا
کہ ’ہم ایک بار پھر تاریخ رقم کرنے جا رہے ہیں۔ آپ کا الیکشن پاکستان پیپلز پارٹی
کے لیے، اور اس پورے ملک کے لیے ایک بہت اچھا پیغام ہوگا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ سکھر سے نومنتخب ممبر صوبائی اسمبلی
اویس شاہ کو سپیکر کے عہدے کے لیے نامزد کیا جا رہا ہے۔
اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ’ہماری
پہلی ترجیح ہوگی کہ سیلاب متاثرین سے کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں۔‘
آئی ایم ایف کو لکھا گیا خط ملکی مفاد میں ہوگا: رہنما پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور سابق وزیر اعظم کے وکیل
بیرسٹر گوہر علی خان نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے
کہا کہ ’نگران حکومت صاف شفاف انتخابات کروانے میں ناکام رہی ہے اور الیکشن کمیشن
فارم 47 کے تحت نتائج جاری کرنے میں بھی ناکام رہا ہے۔'
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم میدان چھوڑ کر نہیں جائیں
گے، ہم آج آئی ایم ایف کو خط لکھیں گے اور ہر حال میں پاکستان میں قانون کی
بالادستی اور رول آف لا چاہتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جو خط ہم آئی ایم ایف کو لکھیں گے وہ
ملکی مفاد میں ہو گا۔‘
بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ ’ملک کے خلاف ہم کچھ
نہیں کریں گے، ریاست، جمہوریت اور قانون کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔‘
یاد رہے کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے یہ
بات سامنے آئی تھی کہ ان کی پارٹی کےسربراہ عمران خان کی جانب سے آئی ایم ایف کو خط لکھا جا رہا ہے جس میں عالمی
ادارے کو موجودہ حالات میں ملک کو قرض نہ دینے کی درخواست کی جائے گی۔
اسرائیل، فلسطین تنازع: ’پاکستان سمجھتا ہے دو ریاستی حل ہی امن کی بُنیاد ہو‘
،تصویر کا ذریعہSCREENGRAB
پاکستان نے عالمی عدالتِ انصاف کو بتایا ہے کہ وہ سمجھتا ہے اسرائیل
اور فلسطین تنازع ’دو ریاستی حل‘ کے تحت ہی حل ہونا چاہیے۔
جمعے کو عالمی عدالتِ انصاف میں اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی نسل کشی کےمقدمے
کی سماعت کے دوران بات کرتے ہوئے پاکستان کے نگراں وزیرِ قانون احمد عرفان اسلم کا
کہنا تھا کہ ’پاکستان سمجھتا ہے کہ دو ریاستی حل ہی امن کی بُنیاد ہونا چاہیے۔‘
سماعت کے دوران پاکستانی وزیرِ قانون نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ فلسطینی عوام
اور ان کے حقِ خودارادیت کا محافظ رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’فلسطینی
عوام حق خودارادیت کا حق محفوظ رکھتے ہیں اور اس عدالت نے بھی اس بات کو تسلیم کیا
ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ فلسطین میں اسرائیلی اقدامات فلسطینی
عوام کے حقِ خودارادیت کے خلاف ہیں جو کہ عالمی قوانین کے منافی ہے۔
پاکستانی وزیرِ قانون نے مزید کہا کہ ’اسرائیل کی پالیسیاں
اور اقدامات منظم نسل پرستی کے مترادف ہیں۔‘
القادر ٹرسٹ کرپشن ریفرنس: عمران خان اور بشریٰ بی بی پر فردِ جرم 27 فروری کو عائد ہوگی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم اور بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان
اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف القادر ٹرسٹ کرپشن ریفرنس میں فردِ جرم عائد
کرنے کے لیے 27 فروری کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔
جمعے کو القادر کرپشن ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے
جج ناصرجاوید رانا نے اڈیالہ جیل میں کی۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر
عباسی، عرفان بھولا، سہیل عارف اور دیگر کے علاوہ پی ٹی آئی کے وکلا سلمان
صفدر،عثمان گل اور چودھری ظہیر عباس بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عدالت میں
پیش کیا گیا۔
دورانِ سماعت عمران خان روسٹرم پر آئے اور کہا کہ انھیں
ڈینٹسٹ سے اپنا چیک اپ کروانا ہے، جس پر جج نے کہا کہ ان کے لیے جیل میں ڈاکٹرز
موجود ہیں۔
کمرہ عدالت میں موجود جیل کے ایک اہلکار کے مطابق عمران خان نے کہا کہ سات مہینے
ہوگئے لیکن ایک مرتبہ بھی وہ ڈاکٹر کے پاس نہیں گئے، کہیں جیل کا ڈاکٹر ان کے دانت
ہی نہ نکال دے۔
جج نے عمران خان کو کہا کہ وہ درخواست جمع کروا دیں،
عدالت مناسب وقت پر حکم سنا دے گی۔
دوران سماعت وکلا صفائی نے ریکارڈ نامکمل ہونے کی نشاندہی
کی جس پرعدالت نے دوبارہ ریکارڈ کی فراہمی کیلئے ہدایات جاری کردیں۔
القادر ٹرسٹ کیس اس ساڑھے چار سو کنال سے زیادہ زمین کے عطیے سے متعلق ہے جو
بحریہ ٹاؤن کی جانب سے القادر یونیورسٹی کے لیے دی گئی تھی۔
ماضی میں پی ڈی ایم کی حکومت نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ یہ معاملہ عطیے کا نہیں بلکہ
بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور عمران خان کی حکومت کے درمیان طے پانے والے ایک
خفیہ معاہدے کا نتیجہ ہے اور حکومت کا دعویٰ تھا کہ 'بحریہ ٹاؤن کی جو 190ملین
پاؤنڈ یا 60 ارب روپے کی رقم برطانیہ میں منجمد ہونے کے بعد پاکستانی حکومت کے
حوالے کی گئی وہ بحریہ ٹاؤن کراچی کے کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک ریاض
کے ذمے واجب الادا 460 ارب روپے کی رقم میں ایڈجسٹ کر دی گئی تھی۔'
حکومت کا دعویٰ تھا کہ اس کے عوض بحریہ ٹاؤن نےمارچ 2021 میں القادر یونیورسٹی
ٹرسٹ کو ضلع جہلم کے علاقے سوہاوہ میں 458 کنال اراضی عطیہ کی اور یہ معاہدہ بحریہ
ٹاؤن اور عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے درمیان ہوا تھا۔
جس ٹرسٹ کو یہ زمین دی گئی تھی اس کے ٹرسٹیز میں عمران خان اور ان کی اہلیہ
بشریٰ بی بی کے علاوہ تحریکِ انصاف کے رہنما زلفی بخاری اور بابر اعوان شامل تھے
تاہم بعدازاں یہ دونوں رہنما اس ٹرسٹ سے علیحدہ ہو گئے تھے۔
پنجاب اسمبلی کے نومنتخب اراکین نے حلف اُٹھا لیا، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب کل ہوگا
،تصویر کا ذریعہViDEOGRAB
پاکستان کے صوبے پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے نومنتخب
اراکینِ اسمبلی نے جمعے کو حلف اُٹھا لیا ہے۔
اسمبلی کے سیکریٹری کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے
کہ صوبائی اسمبلی میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب سنیچر کو ہوگا۔
صوبائی اسمبلی میں کیے گئے اعلان کے مطابق سپیکر
اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب سے قبل امیدواران اپنے کاغذتِ نامزدگی آج شام پانچ بجے
سے پہلے اسمبلی کے سیکریٹری کے پاس جمع کروائیں گے۔
کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال کا عمل بھی آج ہی
مکمل کیا جائے گا۔ اسمبلی کے سیکریٹری کے مطابق سنیچر کو سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا
انتخاب خفیہ رائے شماری کے تحت ہوگا۔
اسمبلی میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے
لیے دو پولنگ بوتھ قائم کیے جائیں گے۔
سپیکر صاحب ٹی پارٹی پر نہیں آئے انھیں حلف لینا پڑے گا: اعظمیٰ بخاری
،تصویر کا ذریعہAZMA BOKHARI/FACEBOOK
پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں نو منتخب اراکین کی
جانب سے نعرے بازی اور ہنگامہ آرائی کے بعد کارروائی کو ملتوی کرنے پر ردعمل دیتے
ہوئے مسلم لیگ ن کی رہنما اعظمیٰ بخاری نے کہا ہےکہ ’آج لگ رہا ہے کہ سپیکر صاحب
اپوزیشن کے کنٹرول میں ہیں، اسمبلی میں ابھی تک کارروائی غیر قانونی ہوئی ہے۔ جب
تک ممبران حلف نہ لے لیں بات نہیں کی جاسکتی۔
انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب
اسمبلی کا اجلاس آج دس بجے شروع ہونا تھا، افسوس کی بات ہے کہ سپیکر پنجاب اسمبلی
سبطین خان کا الیکشن کیسے ہوا تھا۔
اعظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ سبطین خان رولز
اوپن کر لیں اور پڑھ لیں کہ پہلے اجلاس میں حلف سے پہلے کچھ نہیں ہوسکتا۔ سپیکر
صاحب ٹی پارٹی پر نہیں آئے ان کو حلف لینا پڑے گا اور
اگر وہ حلف نہیں لیتے تو گورنر کسی اور ممبر
کو کہہ سکتے ہیں کہ وہ حلف لے۔
انھوں نے کہا کہ سبطین خان ایک دن کے مہمان ہیں،
کل ہمارے سپیکر آجائیں گے اور ہم ہاؤس کو
آئین اور قانون کے تحت چلائیں گے۔ انھوں نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ
2018 میں ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا تھا، آج کہہ رہے ہیں گیلریوں میں ان کے لوگ زیادہ
کیوں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کے اگر پی ٹی آئی رہنما اسلم
اقبال پکڑے گئے ہیں تو وہ نو مئی کے واقعات میں مطلوب مجرم ہیں۔ یہ لوگ قانون سے
بھاگ کیوں رہے ہیں قانون کے سامنے آئیں۔
انھوں نے کہا اس مرتبہ پرویز الہی نہیں بلکہ دو
تہائی کے ساتھ ن لیگ اپنے اتحادیوں کے ساتھ موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن صحیح اپوزیشن کرے، ماضی
میں آپ اپوزیشن میں تھے لیکن ہم نے اپوزیشن کا کردار ادا کیا۔ برائے مہربانی یہ
فتنہ فساد چھوڑ دیں کیونکہ پنجاب حکومت ایک بڑے مینڈیٹ کے ساتھ بننے جارہی ہے اور مریم
نواز کی قیادت میں پنجاب کی عوام کی خدمت کریں گے۔
چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ نعیم اختر افغان کو سپریم کورٹ کا جج بنانے کا فیصلہ
چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ نعیم اختر افغان
کو سپریم کورٹ کا جج بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
جمعے کو سپریم کورٹ میں ججز کی تقرری سے متعلق
جوڈیشل کمیشن کا اجلاس چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ن کی صدارت میں ہوا۔
جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں جسٹس نعیم اختر
افغان کو سپریم کورٹ جج بنانے پر غور کیا گیا، جوڈیشل کمیشن نے چیف جسٹس بلوچستان
ہائی کورٹ نعیم اختر افغان کو سپریم کورٹ جج بنانے کا فیصلہ کیا۔
اس کے علاوہ جوڈیشل کمیشن نے جسٹس شہزاد احمد
ملک کو چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ بنانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
جوڈیشل
کمیشن نے دونوں ناموں کی منظوری دے کر معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو بھجوا دیا۔
بریکنگ, پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے آغاز میں ہی نومنتحب اراکین کی نعرے بازی،کارروائی 45 منٹ کے لیے ملتوی
پنجاب اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتے ہی نو منتخب
اراکین کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کے بعد اجلاس کی کارروائی میں 45
منٹ کا وقفہ کر دیا گیا ہے۔
جمعے کو پنجاب اسمبلی کا پہلا اجلاس دو گھنٹے
کی تاخیر سے شروع ہوا تو ایوان میں موجود سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے مسلم لیگ ن
کے اراکین سے نوک جھوک اور پی ٹی آئی بانی کے حق میں نعرے بازی شروع کر دی۔ جس پر سپیکر
پنجاب اسمبلی نے ارکان کو بات کرنے سے روک دیا
سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے اراکین سے
کہا کہ ابھی انھوں نے حلف نہیں لیا ہے اور ابھی آپ ممبر نہیں بننے ہیں لہذا ایوان
میں بات نہیں کر سکتے۔
اس موقع پر سنی اتحاد کونسل کے نو منتخب رکن
رانا شہباز نے مخصوص نشستوں کا معاملہ ایوان میں اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’جناب سپیکر
ہم نے سنی اتحاد میں شمولیت اختیار کر لی ہے، ہمیں ہراساں کیا جارہا ہے اور ہمارے
مہمانوں کو اندر آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
اس موقع پر
مسلم لیگ ن کے ملک احمد خان نے ایوان میں سپیکر کو مخاطب کرتے
ہوئے کہا کہ حلف سے پہلے بات نہیں کی جا سکتی ہے۔ جناب سپیکر پہلے ارکان کا حلف لیں
پھر بات ہو گی۔
جس پر پنجاب اسمبلی کے ایوان میں موجود سنی
اتحاد کونسل کے ارکان نے بانی پی ٹی آئی کے حق میں نعرے بازی کی۔ جبکہ سنی اتحاد
کونسل کے رکن اسمبلی رانا آفتاب نے نقطئہ اعتراض پر اظہار خیال کیا کہ ایک مخصوص
جماعت کے لوگ مہمانوں کی گیلری میں بٹھا دئیے گئے ہیں جبکہ ہمارے مہمانوں کو اندر
نہیں آنے دیا گیا۔
اس پر سپیپکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ ’رانا
صاحب آپ اپنے مہمانوں کی لسٹ دیں میں ان کو اندر بلواؤں گا۔‘ ان کا مزید کہنا تھا
کہ میاں اسلم اقبال کی رپورٹ منگواتا ہوں۔اگر وہ گرفتار ہیں تو میں ان کے پروڈکشن
آڈر جاری کروں گا۔
اس موقع پر ن
لیگی ارکان نے سپیکر سے حلف لینے کی استدعا کی جسے انھوں نے مسترد کرتے ہوئے صوبائی
اسمبلی کا اجلاس 45 منٹ کے لیے ملتوی کر دیا۔