قومی اسمبلی کا افتتاحی اجلاس: پیر کو اجلاس بلانے کا کہا لیکن صدر کوئی فیصلہ نہیں کر سکے، مسلم لیگ ن
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت صدارت کے عہدے اور حلف کے ساتھ انصاف نہیں کر سکے ہیں اورقومی اسمبلی کے اجلاس پر وہ ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کر سکے ہیں۔ اس سے قبل سینیٹر اسحاق ڈار نے پنجاب اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر مملکت نے سمری پر اجلاس نہ بلایا تو 29 فروری کو سپیکر آئینی طورپر خود اجلاس طلب کر سکتا ہے۔
لائیو کوریج
وزیراعلی پنجاب کے انتخاب کا شیڈول جاری
سیکرٹری پنجاب اسمبلی نے صوبائی اسمبلی میں وزارتِ اعلٰی کے انتخاب کا شیڈول جاری کر دیا۔
جاری کردہ شیڈول کے مطابق، وزارتِ اعلٰی کا انتخاب سوموار 26 فروری کو دن 11 بجے ہو گا۔
وزیراعلٰی کے عہدے کے لیے کاغذات نامزدگی اتوار کی شام 5 بجے تک جمع کروائے جا سکتے ہیں۔
اس سے قبل، سنیچر کے روز پاکستان مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے ملک احمد خان کو پنجاب اسمبلی کا سپیکر منتخب کر لیا گیا۔
سپیکر انتخاب میں مسلم لیگ ن نے 225 ووٹ حاصل کر کے میدان مار لیا: مریم اورنگزیب
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
شہباز شریف کی ملک احمد خان کو سپیکر پنجاب اسمبلی منتخب ہونے پر مبارکباد
نامزد وزیراعظم شہبازشریف نے ملک محمد احمد خان کو سپیکر پنجاب اسمبلی منتخب ہونے پر مبارکباد دی ہے۔ انھوں نے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ ’خوشی ہے کہ پنجاب اسمبلی کو ایک پڑھا لکھا، تحمل مزاج اور محنتی سپیکر میسر آیا ہے۔‘
شہباز شریف کے بیان کے مطابق ’ایوان کی بھاری اکثریت نے آپ پر اعتماد کیا، آپ کو مبارک ہو۔
امید ہے کہ آپ کی وجہ سے پنجاب اسمبلی کا اعزاز اور وقار بلند ہوگا۔
آئین، قانون اور جمہوریت شناس شخصیت کے آنے سے قانون سازی کا معیار بڑھے گا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, ملک احمد خان پنجاب اسمبلی کے سپیکر منتخب ہو گئے
ملک احمد خان پنجاب اسمبلی کے سپیکر منتخب ہو گئے ہیں۔ انھوں نے اپنے عہدے کا حلف بھی اٹھا لیا ہے۔ ان سے سبطین خان نے حلف لیا۔
اس وقت ملک احمد خان پنجاب اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔ سپیکر کے انتخاب کے بعد ڈپٹی سپیکر کے لیے انتخاب ہو گا۔
بریکنگ, پنجاب اسمبلی کے نئے سپیکر ملک احمد خان کون ہیں؟, اعظم خان، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہPTV
ملک احمد خان کا تعلق پنجاب کے ضلع قصور کے قصبے کھڈیاں سے ہے۔ اس قصبے کے نواح میں ان کا گاؤں کھائی ہٹھاڑ واقع ہے۔
ان کے دادا اس علاقے کی ذیلدار تھے۔
ملک احمد خان کے والد ملک محمد علی خان سیاسی میدان میں متحرک رہے اور وہ 23 جنوری 1986 سے 20 مارچ 1988 تک ڈپٹی چیئرمین سینیٹ رہے۔ وہ اپنے گاؤں کے نام کی نسبت ملک محمد علی خان کھائی والا کے نام سے جانے جاتے تھے۔
اس دوران ایک موقع ایسا بھی آیا کہ جب صدر اور چیئرمین سینیٹ دستیاب نہیں تھے تو وہ 31 دنوں تک پاکستان کے قائم مقام صدر بھی رہے۔
،تصویر کا ذریعہSenate of Pakistan
،تصویر کا کیپشنملک احمد خان کے والد ملک محمد علی کھائی والا جو سنہ 1985 سے لے کر 1988 تک ڈپٹی چیئرمین سینیٹ رہے
ملک احمد خان ایچی سن کالج کے بعد لندن سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور پھر اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سیاسی میدان میں اترے۔
سنہ 2002 میں وہ پاکستان مسلم لیگ ق کے پلیٹ فارم سے رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے۔ سنہ 2008 میں وہ ق لیگ کی طرف سے دوبارہ انتخابی میدان میں اترے مگر اس بار وہ ناکام رہے۔ اس کے بعد ان کی ق لیگ سے دوریاں پیدا ہو گئیں۔ ان کے شہباز شریف سے روابط بڑھے تو پھر وہ ان کی جماعت میں بھی شامل ہو گئے۔
سنہ 2013 میں ملک احمد خان مسلم لیگ ن سے رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے اور پھر سنہ 2018 اور سنہ 2024 کے عام انتخابات میں بھی پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ سنہ 2018 کے بعد ملک احمد خان شہباز شریف کی حکومت کے ترجمان رہے۔ بعد میں انھیں قانون کا قلمبندان بھی سونپا گیا۔
،تصویر کا ذریعہMalik Ahmad Khan Facebook
جب سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی تو پھر ملک احمد خان نئی حکومت میں وزیراعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی برائے دفاع چُن لیے گئے۔
ملک احمد خان کے قریبی ساتھی مقصود احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ملک احمد خان دھیمے مزاج کے مالک ہیں اور انھیں بہت کم ہی غصہ آتا ہے۔ مقصود احمد کے مطابق ملک احمد خان اچھے وکیل بھی ہیں اور جج کو اپنے دلائل سے قائل کرنے میں بھی خاص مہارت رکھتے ہیں۔
ان کے مطابق ملک احمد خان کا لاہور کے جِم خانہ کے قریب ظفر علی روڈ پر چیمبر بھی ہے۔
لاہور میں سینیئر صحافی سلمان غنی نے بی بی سی کو بتایا کہ ملک احمد خان کی خاص اہمیت سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے سمدھی صابر مٹھو سے تعلقات کی وجہ سے بنی۔ ان کے مطابق ان تعلقات کی بدولت وہ جنرل باجوہ سے بھی تواتر سے ملتے رہے۔ اور یوں وہ پارٹی کے تمام اہم فیصلوں میں شامل ہونے لگے۔
،تصویر کا ذریعہ@president_pmln
ان کے مطابق جب پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت ختم ہوئی تو یہ خیال کیا جاتا تھا کہ ملک احمد خان ن لیگ کی طرف سے وزیراعلیٰ پنجاب ہوں گے۔ سلمان غنی کے مطابق حمزہ شہباز شریف کو وزیراعلیٰ بنایا گیا اور اس کی بھی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ ملک احمد خان کے لیے بطور کلاس فیلو زیادہ قابل قبول تھے۔
سلمان غنی کے مطابق ملک میں جس طرح عام انتخابات میں اصل میدان پنجاب ہوتا ہے اسی طرح پنجاب اسمبلی ہی اصل سیاسی میدان ہو گا۔
،تصویر کا ذریعہMalik Ahmad Khan Facebook
ان کی رائے میں ملک احمد خان کی فیصلہ ساز حلقوں تک رسائی ہے۔ وہ شہباز شریف کے بھی انتہائی قریبی ساتھی ہیں۔ پنجاب اسمبلی کی اقدار اور روایات سے بھی واقف ہیں اور ان کے تحریک انصاف کے رہنما میاں اسلم اقبال سے بھی اچھے تعلقات رہے ہیں۔
اس وجہ سے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بطور سپیکر محض ایوان ہی نہیں چلائیں گے بلکہ پارٹی کے مفادات کا بھی تحفظ کریں گے۔
سلمان غنی کے مطابق ملک احمد خان کو پنجاب اسمبلی کا بزنس چلانے کے لیے صرف پارٹی ہی نہیں بلکہ کچھ اور حلقوں کی بھی تائید حاصل رہے گی۔
خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس 28 فروری کو طلب
گورنر خیبر پختونخوا غلام علی نے خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس 28 فروری کو طلب کر لیا ہے۔ اس افتتاحی اجلاس میں نو منتخب اراکین حلف اٹھائیں گے۔
خیال رہے کہ حالیہ انتخابات میں اس صوبے سے پاکستان تحریک انصاف کو واضح اکثریت ملی ہے۔ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ اراکین نے سُنیّ اتحاد کونسل سے اتحاد کر لیا ہے اور اب اس صوبے وہ اس جماعت کے پلیٹ فارم سے ہی حکومت سازی کریں گے۔
پی ٹی آئی میں ’قیادت کا بحران‘: ’قیادت اس کو دینی چاہیے جسے عمران خان تک رسائی ہو‘
سپیکر پنجاب اسمبلی کا انتخاب: نامزد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
سپیکر پنجاب اسمبلی کے انتخاب کے لیے کارروائی کا آغاز
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
’مولانا صاحب سے قوم پوچھ رہی ہے کہ پی ٹی آئی معاہدے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے‘: رہنما پیپلز پارٹی
پیپلزپارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات فیصل کریم کنڈی نے مولانا فضل الرحمان سے کہا ہے کہ ’وہ الیکشن کے پی کے میں ہارے ہیں اور چیخیں سندھ میں سنائی دے رہی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’مولانا صاحب سے قوم پوچھ رہی ہے کہ پی ٹی آئی معاہدے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔‘
فیصل کریم نے سوال اٹھایا کہ ’آپ کو اور آپ کے خاندان کو جس طرح کے پی کے کی عوام نے مسترد کیا، اس پر احتجاج کیوں نہیں کیا اور آپ نے کے پی کے عوام کو کتنی قیمت پر بیچا ہے؟‘
’آئی ایم ایف کو خط لکھنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، دھاندلی پر احتجاج وہ کر رہے ہیں جو خود کبھی دھاندلی کے بغیر نہیں جیت سکتے‘: بلاول بھٹو
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے عمران خان کے آئی ایم ایف کو خط لکھنے سے متعلق موقف پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس خط سے کوئی فرق نہیں پڑے گا مگر اس کے نتیجے میں ان کی اصلیت پاکستانی عوام کے سامنے آئے گی۔‘
ان کے مطابق ’پاکستان میں مزید معاشی بحران کی وجہ سے ان کی سیاست کا فائدہ ہو گا۔‘
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ’تحریک انصاف بلکہ سوری سُنّی اتحاد کونسل کو بھی اپنے کارکن کو سچ کہنا چاہیے کہ ان کے پاس وہ نمبر نہیں ہیں کہ وہ حکومت بنا سکیں۔‘
ان کے مطابق جہاں شہباز شریف پیپلز پارٹی کے شکرگزار ہوں گے وہ سُنّی اتحاد کونسل کے بھی شکر گزار ہوں گے کہ ان کا مقابلہ نہیں کر رہے ہیں۔ شہباز شریف کو عمران خان کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہیے جنھوں نے ان کے خلاف کوئی امیدوار نہ لانے کا فیصلہ کیا ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ جو ہمارے پاس آئے ہم نے ان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور اب ہماری حکومت بننے جا رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’سنہ 2018 کے مقابلے میں اس الیکشن کے مقابلے میں اس الیکشن میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے۔ ہمارے اعتراضات اور شکایتیں ہیں اور ہم ان کی پیروی کریں گے۔‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’دھاندلی کے بارے میں احتجاج آج کل وہ جماعتیں کرر ہی ہیں جو خود دھاندلی کے بغیر نہیں جیت سکتی ہیں اور وہ اب پیپلز پارٹی پر تنقید کر رہی ہیں۔‘
ان کے مطابق کچھ جماعتیں اس وجہ سے احتجاج کر رہی ہیں کہ مزید دھاندلی ہونی چاہیے تھی تا کہ اکا دکا مزید نشستیں انھیں بھی دی جا سکتیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’دو نشستوں پر ہماری شکایات اور احتجاج ہے۔ پی ایس 124 اور 125 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے فارم 45 کے مطابق ہم اکثریتی جماعت ہیں اور ان دونوں نشستوں کو کسی اور جماعت کے حوالے کیا گیا ہے۔‘
بلاول بھٹو کے مطابق ملک بھر میں پی پی پی کی شکایات ہیں اور ہم قانونی فورمز پر ان شکایات کی پیروی کریں گے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمیں انصاف ملے گا۔ اگر انصاف نہ نہ ملا تو پھر آگے کا لائحہ عمل طے کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ جے آئی ٹی بنا کر الیکشن کے دوران تشدد، فائرنگ کی تحقیقات ہوں گی۔
ان کے مطابق الیکشن کے دوران ہمارے دو کارکنان شہید ہوئے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’میں نے لا انفورسمنٹ ایجنسی کے سربراہ کو فون کر کے بتایا کہ یہ ہمارے کارکنان کے ساتھ ہو رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’جو سیاسی جماعتیں اور قوتیں یہ سمجھتی ہیں کہ وہ ایک بار پھر میرے شہرکراچی میں تشدد کی سیاست متعارف کروا سکتی ہیں تو یہ ان کی بھول ہے، ہم اس شہر میں اس صوبے میں ان چیزوں کو برداشت نہیں کریں گے۔‘
ان کے مطابق ’سیاسی کارکنان کے قاتلوں کو عبرت کا نشان بنائیں گے۔‘
پاکستان تحریک انصاف کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کے اہم ملزم طارق شفیع کو بیرون ملک جانے کی اجازت مل گئی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
پاکستان تحریک انصاف کی ممنوعہ فنڈنگ کیس کے اہم ملزم طارق شفیع کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے ریلیف مل گیا ہے۔
عدالت نے طارق شفیع کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکال کر بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس میں اہم ملزم طارق شفیع کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا چھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
عدالت نے طارق شفیع کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کی ہدائت کرتے ہوئے ڈی جی پاسپورٹ کو ایک ہفتے میں رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ اسی کیس میں ایک اور ملزم فیصل مقبول شیخ کا نام 20 جولائی 2023 کو نکالنے کا حکم ہوا۔ 23 جنوری 2023 کو طارق شفیع کا نام پی سی ایل پر ڈالا گیا۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا یہ بھی فیصل مقبول شیخ اور شیریں مزاری کیس جیسا ہے۔ دونوں کیسز میں عدالت نے پی سی ایل سے نام نکالنے کا حکم دیا، دونوں فیصلے فیلڈ میں ہیں۔
عدالت طارق شفیع کا نام بھی ایک ہفتے میں پی سی ایل سے نکالنے کا حکم دیتی ہے۔
آزاد امیدوار اور نمبرز گیم: صوبہ پنجاب میں بننے والی نئی حکومت کتنی مستحکم ہو گی؟
،تصویر کا ذریعہPML-N
پاکستان میں مرکزی حکومت قائم کرنے کا راستہ زیادہ تر صوبہ پنجاب سے ہو کر گزرتا ہے اور عمومی طور پر جس سیاسی جماعت کو انتخابات میں پنجاب سے برتری حاصل ہو جائے اس کے لیے مرکز کا دروازہ باآسانی کُھل جاتا ہے۔
پھر مرکز میں بہتر انداز حکومت چلانا بھی کافی حد تک پنجاب میں اقتدار سے جڑا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سنہ 2018 میں پاکستان تحریک انصاف نے پنجاب اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت نہ ہونے کے باوجود بھی اپنی حکومت بنانے پر زور دیا تھا۔
تکنیکی طور پر پی ٹی آئی کی نشستوں کی تعداد پاکستان مسلم لیگ ن کی نشستوں سے کم ہونے کے باوجود سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت نے آزاد امیدواروں اور پاکستان مسلم لیگ ق کو ساتھ ملا کر حکومت بنانے کے لیے 186 کا مطلوبہ ہدف پورا کیا تھا۔
پنجاب پر گرفت کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ سنہ 2022 میں جوں ہی مرکز میں عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آئی تو اُن کی مخالف اتحادی جماعتوں نے پہلی فرصت میں پنجاب میں بھی انھیں چلتا کرنے پر کام شروع کیا۔
تو کیا حالیہ انتخابات کے بعد پنجاب میں حکومت قائم کرنے کی رسہ کشی تھم جائے گی یا کسی آئینی بحران کا دروازہ اب بھی کُھلا ہے؟
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
سائفر اور توشہ خانہ مقدمات میں عمران خان کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت 26 فروری کو ہو گی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
سائفر اور توشہ خانہ کیسز میں سابق وزیر اعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت 26 فروری کو ہو گی۔
چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب پر مشتمل ڈویژن بینچ سماعت کرے گا۔ شاہ محمود قریشی اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں پربھی سماعت ہو گی۔ یہی بینچ سزا معطل کر کے ضمانت پر رہا کرنے کی درخواستیں بھی سنے گا۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی سائفر کیس میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت سے دس سال قید اور توشہ خانہ
نیب ریفرنس میں احتساب عدالت سے 14 سال قید کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت 26 فروری کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہو گی۔
سائفر کیس میں شاہ محمود قریشی جبکہ توشہ خانہ ریفرنس میں بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر بھی سماعت ہو گی۔
تمام سزا یافتہ مجرموں نے سزا معطل کر کے ضمانت پر رہا کرنے کی درخواستیں بھی دائر کر رکھی ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب پر مشتمل ڈویژن بینچ سماعت کرے گا۔
بانی پی ٹی آئی کی 190ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں ضمانت کی درخواست پر سماعت کے لیے بھی بینچ تشکیل دے دیا گیا۔
چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل ڈویژن بینچ سماعت کرے گا۔
بیرسٹر گوہرعلی کے خلاف بیان بازی، شیر افضل مروت کو شوکاز نوٹس
،تصویر کا ذریعہGOHAR ALI KHAN
تحریک انصاف کے مرکزی رہنما بیرسٹر گوہر علی خان کے خلاف بیان دینے پر پی ٹی آئی کے رہنما شیر افضل مروت کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا۔
یہ نوٹس چیف آرگنائزر عمر ایوب خان نے شو کاز نوٹس جاری کردیا۔
اس نوٹس میں کہا گیا ہے کہ دو دن کے اندر غیر مشروط معافی مانگیں اور غیرتسلی بخش جواب پر پارٹی آپ کے خلاف ایکشن لے گی۔
خیال رہے کہ شیر افضل نے گذشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ بیرسٹر گوہر پاٹی کو ٹھیک طریقے سے نہیں چلا سکے جس وجہ سے انھیں اس منصب سے ہٹا دیا گیا ہے۔
پنجاب اسمبلی میں اجلاس کے گھنٹیاں بجنا شروع، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب کچھ ہی دیر میں
،تصویر کا ذریعہ@pmln_org
پنجاب اسمبلی
پنجاب اسمبلی اجلاس کے لیے گھنٹیاں بجنا شروع ہو گئی ہیں۔ اجلاس کے ایجنڈے پر سپیکر ڈپٹی سپیکر کا انتخاب شامل ہے۔
ارکان اسمبلی کی اکثریت ایوان میں پہنچنا شروع ہو گئی ہے۔
مسلم لیگ ن کے ملک محمد احمد خان اور سنی اتحاد کونسل کے ملک احمد خاں بھچڑ کے درمیان سپیکر کی نشست پر مقابلہ ہوگا۔ ڈپٹی اسپیکر کے لیے ن لیگ کے ملک ظہیر اقبال چنڑ اور سنی اتحاد کونسل کے معین ریاض کے درمیان مقابلہ ہوگا۔
اجلاس کی صدارت سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کریں گے۔
مسلم لیگ ن کی نامزد وزیر اعلی مریم نواز ایوان میں داخل ہو گئی ہیں۔ مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں کے اراکین اسمبلی اور سنی اتحاد کے ارکان اسمبلی بھی پنجاب اسمبلی میں موجود ہیں۔
پی ٹی آئی کے امیدوار سنی اتحاد کونسل میں آئے انھیں لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ملی: سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان
سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے احاطہ سے اگر کسی کو گرفتار کیا گیا تو وہ ایسا نہیں ہونے دیں گے۔
انھوں نے کہا کہ مال روڈ اور چئیرنگ کراس کی نہیں بلکہ پنجاب اسمبلی کی اتھارٹی ہے۔
سبطین خان کے مطابق کسی نے اب تک پروڈکشن آرڈر کی درخواست نہیں کی۔
انھوں نے کہا کہ ’میاں اسلم اقبال نے ابھی تک حلف نہیں اٹھایا پشاور ہائی کورٹ کی ہدایت پر وہ آئیں گے۔ پی ٹی آئی کے امیدواروں سنی اتحاد کونسل میں آئے انہیں لیول پلینگ فیلڈ نہیں ملا۔‘
پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج ہوگا، نئے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب ایجنڈے میں شامل
،تصویر کا ذریعہScreengrab
پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج دوبارہ ہو گا۔ اس اجلاس کی صدارت سپیکر اسمبلی سبطین خان کریں گے۔ آج کے اجلاس میں نئے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز ہونے والے اجلاس میں نومنتخب ارکان اسمبلی نے حلف اٹھایا تھا۔
پاکستان مسلم ن کی طرف سے سپیکر کے امیدوار ملک احمد خان ہوں گے جبکہ سنی اتحاد کونسل (تحریک انصاف) نے ملک احمد خان پھچر کو میدان میں اتارا ہے۔
،تصویر کا ذریعہscreengrab
ن لیگ کی طرف سے ڈپٹی سپیکر ملک ظہیر اقبال چنڑ جبکہ سنی اتحاد کونسل کی طرف سے معین ریاض قریشی نے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔
سیکریٹری پنجاب اسمبلی عامر حبیب نے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے کاغذات نامزدگی وصول کیے ہیں۔
بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 28 فروری کو طلب, محمد کاظم، نامہ نگار بی بی سی اردو کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
گورنر ہاؤس کے ترجمان نے بتایا کہ
گورنر بلوچستان نے اسمبلی کا اجلاس 28 فروری سہہ پہر تین بجے طلب کرلیا ہے۔
اجلاس میں نومنتخب اراکین اسمبلی
حلف اٹھائیں گے جبکہ نئے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے لیے شیڈول کا اعلان کیا
جائے گا۔
بلوچستان اسمبلی کے 65 اراکین میں
سے اب تک 62 نشستوں پر منتخب ہونے والے اراکین کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا
جا چُکا ہے۔
بلوچستان اسمبلی کی تین نشستوں پر
تنازعہ کے باعث نتائج کو الیکشن کمیشن نے روک دیا ہے جن میں سے زیارت اور ہرنائی
سے بلوچستان اسمبلی کی بعض نشستوں پر دوبارہ پولنگ کا حکم بھی دیا گیا ہے۔
’ہر قدم آئین اور قانون کے مطابق اُٹھایا جائے گا‘ ملک احمد خان
پنجاب اسمبلی کے لیے پاکستان
مُسلم لیگ ن کے اُمیدوار ملک احمد خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’صوبائی
اسمبلی میں ہر قدم آئیں اور
قانون کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہوگا۔‘
ایک سوال کے جواب میں اُن کا کہنا
تھا کہ ’سپیکر کا کردار گھر کے بڑے یا کسٹوڈین کا ہوتا ہے اور اسمبلی کے سپیکر کا وہی
کردار ہونا چاہیے کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلے۔‘
واضح رہے کہ سپیکرپنجاب اسمبلی کے
لیے ن لیگ کی جانب سے ملک احمد خان نے اور سنی اتحاد کونسل کی طرف سے سپیکر کے لیے
احمد خان بھچر نے کاغذات نامزدگی جمع کروا رکھے ہیں۔
گزشتہ روز پنجاب اسمبلی کے نو
مُنتخب اراکین نے حلف اُٹھائے تھے جبکہ آج صوبائی اسمبلی کے لیے سپیکر اور ڈپٹی
سپیکر کے لیے خفیہ رائے شماری ہوگی۔