آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

قومی اسمبلی کا افتتاحی اجلاس: پیر کو اجلاس بلانے کا کہا لیکن صدر کوئی فیصلہ نہیں کر سکے، مسلم لیگ ن

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت صدارت کے عہدے اور حلف کے ساتھ انصاف نہیں کر سکے ہیں اورقومی اسمبلی کے اجلاس پر وہ ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کر سکے ہیں۔ اس سے قبل سینیٹر اسحاق ڈار نے پنجاب اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر مملکت نے سمری پر اجلاس نہ بلایا تو 29 فروری کو سپیکر آئینی طورپر خود اجلاس طلب کر سکتا ہے۔

لائیو کوریج

  1. مبارک احمد کیس: سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کی نظر ثانی درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی

    سپریم کورٹ نے مبارک احمد کیس میں پنجاب حکومت کی نظر ثانی درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی ہے۔

    سپریم کورٹ نے نظرثانی درخواست پر پیر کے لیے نوٹس جاری کر دیا ہے۔

    اسٹنٹ پراسیکیوٹر پنجاب نے درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ مبارک ثانی کیس فیصلہ کے پیرا نو میں آرٹیکل 20 کی مکمل وضاحت نہیں کی گئی۔ آئین کے آرٹیکل 20 کے تحت مذہبی آزادی لامحدود نہیں ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ وضاحت نہ ہونے سے فیصلہ کا غلط تاثر دیا گیا۔ اسسٹنٹ پراسیکیوٹر پنجاب کی درخواست پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہیں کہ جب آرٹیکل 20 کا ذکر آگیا تو وضاحت کی ضرورت نہیں تھی، کہتے ہیں تو وضاحت کر دیتے ہیں۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 20 کے مطابق مذہبی آزادی پبلک آرڈر اور اخلاقیات سے مشروط ہے۔ نظرثانی میں وضاحت کے لیے نوٹس کرنا پڑے گا۔ سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کو نظرثانی پر 26 فروری کو نوٹس کر دیا۔

  2. بریکنگ, پنجاب اسمبلی کا اجلاس دو گھنٹے کی تاخیر سے شروع، اللہ کرے پنجاب میں خدمت کا نیا دور شروع ہو، مریم نواز

    پنجاب اسمبلی کا پہلا اجلاس دو گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہو گیا ہے اور نومنتخب اراکین پنجاب اسمبلی کی آمد کا سلسلہ جاری ہے جب کہ پنجاب اسمبلی کے باہر پولیس اہلکاروں کی بڑی نفری تعینات ہے۔

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس 10 بجے طلب کیا گیا تھا، اراکین کو بلانے کے لیے گھنٹیاں بجانے کا سلسلہ جاری ہے۔

    صوبائی اسمبلی کے پہلے اجلاس کی صدارت سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کر رہے ہیں۔

    وزیراعلی پنجاب کے عہدے کے لیے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے نامزد رہنما مریم نواز صوبائی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچ چکی ہیں۔

    اس موقع پر مریم نواز نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ کرے کہ صوبے کے لیےخدمت کا نیا دور شروع ہو۔ پنجاب کو ترقی کی راہ پر پھر سے گامزن کریں گے، مہنگائی کا خاتمہ کرکے عوام کو ریلیف دیں گے۔

    اس سے قبل پنجاب اسمبلی کے باہر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب میں عوامی فلاح کے منصوبے مکمل ہوں گے اور مہنگائی میں بھی کمی آئےگی۔

    عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پنجاب کی عوام نے (ن) لیگ کو واضح اکثریت دی ہے، پنجاب میں گڈ گورننس کا دوبارہ سے آغاز ہونے جا رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں عمرانی ٹولے سے جان چھوٹی ہے، ہمارے پاس 210 ارکان کی واضح اکثریت موجود ہے، 160 منتخب ارکان (ن) لیگ کا حصہ ہیں۔

    جبکہ عظمٰی بخاری نے دعوی کیا کہ مریم نوا ز پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعلی ہوں گی۔

  3. دورانِ عدت نکاح کیس: عمران خان، بشرٰی بی بی نے فیصلہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں چیلنج کردیا

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی نے عدت کے دوران نکاح کے مقدمے میں سینیئر سول جج قدرت اللہ کی طرف سے سنائے جانے والے فیصلے کو اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں چیلنج کردیا ہے۔

    عمران خان اور بشریٰ بی بی نے اپنے وکلاء عثمان گِل، خالد یوسف اور سلمان صفدر کے ذریعے اپیلیں دائر کردی ہیں۔ الگ الگ دائر درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ سول جج قدرت اللہ کی جانب سے 2 فروری، 2024 کو سنایا گیا فیصلہ حقائق کے خلاف ہے جبکہ سولہ جنوری کو بشریٰ بی بی پر عائد کی گئی فردِ جرم بھی غیرقانونی ہے۔

    ان درخواستوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دائرہ اختیار کی درخواست کو بغیر کوئی وجہ بتائے مسترد کردیا گیا۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ سول عدالت نے ٹرائل درست طریقہ سے نہیں چلایا جس کی بنا پر عمران خان اور بشریٰ بی بی کیس ڈسچارج کرنے کی درخواست کا حق رکھتے ہیں۔

    ان درخواستوں میں موقف اپنایا گیا ہے کہ شکایت کنندہ خاورمانیکا نے 6 سال بعد شکایت دائر کی، اور ایسی ہی ایک اور درخواست اس سے قبل ایک دوسرے شکایت کنندہ کے ذریعے بھی فائل کی گئی تھی۔

    عمران خان اور بشرٰی بی بی کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواستوں میں موقف اپنایا گیا ہے کہ کیس کے دوران، عدالت نے رجوع کے قوانین کو تو دیکھا لیکن طلاق کے حوالے سے شریعت کو نظر انداز کیا گیا اور شکایت کنندہ خاور مانیکا اور گواہان کے بیانات تبدیل ہوتے رہے۔

    درخواستوں میں یہ موقف بھی اپنایا گیا ہے کہ مفتی سعید بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی کے دوسری مرتبہ پڑھائے جانے والے نکاح کو بھی ثابت نہ کر پائے جبکہ تاخیر سے شکایت کے اندراج سے شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔

    ان درخواستوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سول جج قدرت اللہ نے بھی اپنا غلط عدالتی مائنڈ استعمال کیا اس لیے ٹرائل عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے اور کیس خارج کیا جائے۔

  4. ’سپریم کورٹ فیصلے پر گمراہ کن خبریں پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی‘

    اسلام آباد پولیس نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بارے میں گمراہ کن خبریں پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    پولیس کے مطابق کچھ عناصر افواہوں کی آڑ میں امن عامہ خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    شہریوں سے کسی بھی ایسی سرگرمی کا حصہ نہ بننے کی گزارش کرتے ہوئے، آسلام آباد پولیس کا کہنا تھا کہ غیر قانونی عوامل پر اکسانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

    یاد رہے کہ توہین مذہب کے مقدمے میں گرفتار ایک ملزم کی درخواستِ ضمانت پر پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے چھ فروری 2024 کو دیے گئے فیصلے نے رواں ہفتے اچانک سوشل میڈیا پر ان کے خلاف ایک منظم مہم کو جنم دیا جس میں اب ملک کی مذہبی جماعتیں بھی شامل ہو گئی ہیں۔

    اس مہم کے دوران چیف جسٹس کے فیصلے کو آئین اور دین سے متصادم قرار دیا جا رہا ہے اور ان پر توہینِ مذہب جیسے سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

    جمعرات کے روز، سپریم کورٹ نے ایک اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں عدلیہ کے خلاف ایک ’منظم مہم‘ پر افسوس ظاہر کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ سپریم کورٹ نے دوسری آئینی ترمیم یعنی مسلمان کی تعریف سے انحراف کیا یا مذہب کے خلاف جرائم سے متعلق تعزیرات پاکستان کی دفعات ختم کرنے کا کہا ہے۔ ’تنقید کے نام پر، یا اس کی آڑ میں عدلیہ یا ججوں کے خلاف منظم مہم افسوسناک ہے‘

  5. بریکنگ, پاکستان نئے آئی ایم ایف پروگرام میں چھ ارب ڈالر قرض کی درخواست کرے گا، بلوم برگ

    امریکی جریدے بلوم برگ نے امکان ظاہر کیا ہے کہ پاکستان نئے آئی ایم ایف پروگرام میں 6 ارب ڈالر قرضے کی درخواست کرے گا۔

    برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے بلوم برگ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے رواں سال واجب الادا قرض ادائیگی میں مددکے لیے آئی ایم ایف کو نئے قرضے کی درخواست کی جائےگی۔

    روئٹرز کے مطابق پاکستان آئی ایم ایف سے توسیعی فنڈ کی سہولت پر بات چیت کرے گا، آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت مارچ یا اپریل میں شروع ہونے کی توقع ہے۔

    گزشتہ موسم گرما میں پاکستان نے آئی ایم ایف سے مختصر مدت کے بیل آؤٹ کی بدولت ڈیفالٹ سے نکل گیا تھا، تاہم یہ پروگرام اگلے ماہ ختم ہو جائے گا اور نئی حکومت کو 350 ارب ڈالر کی معیشت کے استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے طویل مدتی انتظامات پر بات چیت کرنا ہوگی۔

    بلوم برگ کی رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ بیل آؤٹ سے قبل پاکستان کو آئی ایم ایف کی جانب سے مطالبات کے متعدد اقدامات اٹھانے پڑے تھے، جن میں بجٹ پر نظر ثانی، سود کی شرح میں اضافہ اور بجلی اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہے۔

    آئی ایم ایف کے ترجمان نے بتایا کہ آئی ایم ایف کا عملہ پاکستانی حکام کے ساتھ طویل مدتی اصلاحات کی کوششوں کے حوالے سے جاری بات چیت میں مصروف ہے۔

    ترجمان نے مزید کہا کہ اگر درخواست کی جائے تو پاکستان میں جاری چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایک نئے انتظام کے ذریعے انتخابات کے بعد کی حکومت کی مدد کے لیے فنڈز دستیاب ہیں۔

    پاکستان کے نگراں وزیر خزانہ نے بلومبرگ کی رپورٹ کے بارے میں تبصرہ کرنے کے لیے روئٹرز کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

  6. بریکنگ, پنجاب اسمبلی کا افتتاحی اجلاس آج صبح 10 بجے ہو گا، پی ٹی آئی کی اسمبلی کے باہر ’پُرامن احتجاج‘ کی کال

    پنجاب اسمبلی کا افتتاحی اجلاس جمعے کے روز صبح 10 بجے ہو گا جس میں نومنتب ارکان پنجاب اسمبلی حلف اٹھائیں گے۔ اجلاس کی صدارت سپیکر پنجاب اسمبلی سردار سبطین خان کریں گے۔

    پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن تاحال جاری نہیں کیا گیا ہے تاہم نگران حکومت نے اس بارے میں اسمبلی سیکرٹریٹ کو زبانی طور پر آگاہ کر دیا ہے۔

    یاد رہے کہ عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ نواز نے پنجاب اسمبلی میں سب سے زیادہ 137 نشستیں حاصل کی ہیں، جبکہ اسمبلی میں آزاد امیدواروں کی تعداد 138 ہے۔

    پاکستان مسلم لیگ ن کا دعوٰی ہے کہ پنجاب اسمبلی کے تقریباً 20 آزاد ارکان نے ان کی جماعت میں شمولیت اختیار کر لی ہے اور انھیں حکومت قائم کرنے کے لیے سادہ اکثریت حاصل ہے۔

    پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے پنجاب کے وزارتِ اعلی کے لیے مریم نواز کو نامزد کیا گیا ہے۔

    ادھر تحریک انصاف نے جمعے کی صبح 10 بجے پنجاب اسمبلی کے باہر ’پُرامن احتجاج‘ کا اعلان کیا ہے۔

    ایک پیغام میں رہنما پی ٹی آئی حماد اظہر نے کہا کہ ’جتنے تحریک انصاف کے امیدوار پنجاب کی صوبائی اسمبلی کا الیکشن جیتے لیکن انھیں فارم 47 کی جعل سازی کے ذریعے ہرایا گیا ہے، وہ کل صبح 10 بجے پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے آگے کارکنان کے ہمراہ پرامن احتجاج کریں۔

  7. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • الیکشن کمیشن نے پنجاب اور سندھ کی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ اس سنی اتحاد کونسل (جس میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ نومنتخب آزاد امیدواروں نے شمولیت اختیار کی) کے لیے سیٹوں کے اجرا کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اس اعلامیے کے تحت پنجاب اسمبلی میں خواتین کی 36 مخصوص نشستوں پر مسلم لیگ ن کی امیدوار، پیپلز پارٹی کی تین اور مسلم لیگ ق کی دو خواتین کامیاب ہوئی ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں استحکام پاکستان پارٹی کی امیدوار ایک نشست پر کامیاب قرار پائیں۔ الیکشن کمیشن نے پنجاب اسمبلی کی خواتین کی 66 میں سے 24 نشستیں اور تین اقلیتی نشستیں تاحال کسی کو الاٹ نہیں کی ہیں۔ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد ارکان کی شمولیت کے بعد سنی اتحاد کونسل کی خواتین کی 24 سیٹیں اور تین اقلیتی سیٹیں بنتی ہیں۔
    • این اے 194 لاڑکانہ سے نومنتخب چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے اس حلقے میں دھاندلی کے ذریعے جیتنے کے الزام پر ردعمل دیا ہے۔ انھوں نے ہر پولینگ سٹیشن کا فارم 45 گوگل ڈرائیو پر اپ لوڈ کیا ہے۔ ایکس پر پیغام میں وہ کہتے ہیں کہ ’ایک جھوٹے شخص نے دعویٰ کیا کہ میں دھاندلی کے ذریعے لاڑکانہ میں جیتا۔۔۔ میں ایسے الزامات کو سنجیدگی سے لیتا ہوں۔۔۔ الیکشنز میں دھاندلی اور بے ضابطگیوں کے الزام سنجیدہ ہوتے ہیں اور انھیں سنجیدگی سے ہی لینے چاہییں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے خلاف جھوٹے الزام پر قانونی راستہ اختیار کریں گے۔
    • سپریم کورٹ نے جمعرات کو ایک اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں اس نے عدلیہ کے خلاف ایک ’منظم مہم‘ پر افسوس ظاہر کیا ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ سپریم کورٹ نے دوسری آئینی ترمیم یعنی مسلمان کی تعریف سے انحراف کیا یا مذہب کے خلاف جرائم سے متعلق تعزیرات پاکستان کی دفعات ختم کرنے کا کہا ہے۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس اور سپریم کورٹ نے کسی کو نظرثانی سے نہ پہلے روکا نہ اب روکیں گے۔ ’تنقید کے نام پر، یا اس کی آڑ میں عدلیہ یا ججوں کے خلاف منظم مہم افسوسناک ہے۔۔۔ اس سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اس ستون کو نقصان پہنچ سکتا ہے جس پر آئین نے لوگوں کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری ڈالی ہے۔
    • پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر علی ظفر نے راولپنڈی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان آئی ایم ایف کو خط لکھیں گے جس میں ہم واضح کریں گے آئی ایم ایف کسی بھی قسم کی بات چیت کے لیے یہ شرط رکھے کہ جتنے بھی حلقوں میں دھاندلی ہوئی ہے اس کا آڈٹ ہو گا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’اگر یہ آڈٹ ٹیم سپریم کورٹ کی سربراہی میں بنائی جائے تو بہت اچھا ہے۔‘ راولپنڈی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے بتایا کہ مجھے عمران خان نے بتایا ہے کہ وہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کو ایک خط لکھیں گے۔ انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف، یورپی یونین اور دیگر اداروں کا ایک چارٹر ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ قرض دینے یا کسی ملک کے ساتھ کام کرنے کے لیے وہاں ’گڈ گورننس‘ ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’گڈ گورننس کی سب سے اہم شرط جمہوریت ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ لوگوں کا مینڈیٹ آٹھ فروری کے الیکشن میں چھینا گیا۔
  8. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کی لائیو پیج کوریج میں خوش آمدید!

    22 فروری تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں