یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!
بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
23 فروری کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ عمران خان آئی ایم ایف کو خط میں لکھیں گے کہ اگر آئی ایم ایف نے پاکستان سے کوئی بات چیت کرنی ہے تو پہلے وہ یہ شرط واضح کر دے کہ جن حلقوں میں دھاندلی ہوئی، ان میں آڈٹ ہو۔ دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف نے تین مارچ کو انٹرا پارٹی الیکشن کروانے کا اعلان کیا ہے اور عمران خان نے بیرسٹر علی ظفر کو پارٹی کی چیئرمین شپ کا امیدوار نامزد کیا ہے۔
بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
23 فروری کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
تحریک انصاف کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان آئی ایم ایف سے بذریعہ خط مطالبہ کریں گے کہ بات چیت کو انتخابات کے آڈٹ سے مشروط کیا جائے۔
اس پر معاشی امور کے صحافی خرم حسین کہتے ہیں کہ اس کے صفر اثرات ہوں گے مگر ’اس سے واضح ہوتا ہے کہ عمران خان اقتدار میں آنے کے لیے ملک کو نقصان پہنچانے کے لیے بھی تیار ہیں۔‘
مسلم لیگ ن کے سینیٹر افنان اللہ خان نے سوال کیا کہ ’اب بھی کسی کو شک ہے کہ عمران خان بیرونی ایجنڈے پر کام کر رہا ہے؟ اس کا مقصد پاکستان میں عدم استحکام لانا تھا۔ جب سے پی ٹی آئی نے طاقت پکڑی ہے تب سے ملک عدم استحکام کا شکار ہے۔‘
امریکہ میں قائم ولسن سینٹر سے وابستہ تجزیہ کار مائیکل کوگلمین کہتے ہیں کہ اس خط کی کوئی قدر نہیں ہوگی مگر یہ ایک فضول خیال ہے۔ ’پاکستان کو بُری طرح قرض کی ضرورت ہے۔ اگر اسے قرض نہ ملا تو معیشت کے لیے تباہ کن ہوگا۔‘
الیکشن کمیشن نے پنجاب اور سندھ کی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ اس سنی اتحاد کونسل (جس میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ نومنتخب آزاد امیدواروں نے شمولیت اختیار کی) کے لیے سیٹوں کے اجرا کا ذکر نہیں کیا گیا۔
اس اعلامیے کے تحت پنجاب اسمبلی میں خواتین کی 36 مخصوص نشستوں پر مسلم لیگ ن کی امیدوار، پیپلز پارٹی کی تین اور مسلم لیگ ق کی دو خواتین کامیاب ہوئی ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں استحکام پاکستان پارٹی کی امیدوار ایک نشست پر کامیاب قرار پائیں۔
صحافی ماجد نظامی کے مطابق ’قابل ذکر یہ کہ مسلم لیگ ن کی 20 ممبر پنجاب اسمبلی خواتین کا تعلق لاہور سے ہے۔‘
الیکشن کمیشن نے پنجاب اسمبلی کی خواتین کی 66 میں سے 24 نشستیں اور تین اقلیتی نشستیں تاحال کسی کو الاٹ نہیں کی ہیں۔ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد ارکان کی شمولیت کے بعد سنی اتحاد کونسل کی خواتین کی 24 سیٹیں اور تین اقلیتی سیٹیں بنتی ہیں۔
پنجاب اسمبلی میں اقلیتوں کی پانچ نشستیں مسلم لیگ ن کو الاٹ کی گئی ہیں۔ الیکشن کمیشن نے سندھ اسمبلی کی خواتین کی 27 مخصوص نشستوں کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا ہے۔
سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کو 20، ایم کیو ایم چھ اور جی ڈی اے کو ایک خواتین کی نشست الاٹ کی گئی ہے۔ سندھ اسمبلی میں اقلیتوں کی چھ نشستیں پیپلز پارٹی کو دی گئیں جبکہ ایم کیو ایم کو دو نشستیں ملی ہیں۔
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے صوبائی اسمبلی کا اجلاس سنیچر کو طلب کر لیا ہے۔ امکان ہے کہ اس اجلاس میں نومنتخب رکن سندھ اسمبلی اپنے عہدوں کا حلف اٹھائیں گے۔
تحریک انصاف نے جمعے کی صبح 10 بجے پنجاب اسمبلی کے باہر ’پُرامن احتجاج‘ کا اعلان کیا ہے۔
ایک پیغام میں رہنما پی ٹی آئی حماد اظہر نے کہا کہ ’جتنے تحریک انصاف کے امیدوار پنجاب کی صوبائی اسمبلی کا الیکشن جیتے لیکن انھیں فارم 47 کی جعل سازی کے ذریعے ہرایا گیا ہے، وہ کل صبح 10 بجے پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے آگے کارکنان کے ہمراہ پرامن احتجاج کریں۔
’سب لوگ اس احتجاج میں شامل ہوں۔‘
این اے 194 لاڑکانہ سے نومنتخب چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے اس حلقے میں دھاندلی کے ذریعے جیتنے کے الزام پر ردعمل دیا ہے۔ انھوں نے ہر پولینگ سٹیشن کا فارم 45 گوگل ڈرائیو پر اپ لوڈ کیا ہے۔
ایکس پر پیغام میں وہ کہتے ہیں کہ ’ایک جھوٹے شخص نے دعویٰ کیا کہ میں دھاندلی کے ذریعے لاڑکانہ میں جیتا۔۔۔ میں ایسے الزامات کو سنجیدگی سے لیتا ہوں۔۔۔ الیکشنز میں دھاندلی اور بے ضابطگیوں کے الزام سنجیدہ ہوتے ہیں اور انھیں سنجیدگی سے ہی لینے چاہییں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے خلاف جھوٹے الزام پر قانونی راستہ اختیار کریں گے۔
سپریم کورٹ نے جمعرات کو ایک اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں اس نے عدلیہ کے خلاف ایک ’منظم مہم‘ پر افسوس ظاہر کیا ہے۔
اس میں لکھا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ سپریم کورٹ نے دوسری آئینی ترمیم یعنی مسلمان کی تعریف سے انحراف کیا یا مذہب کے خلاف جرائم سے متعلق تعزیرات پاکستان کی دفعات ختم کرنے کا کہا ہے۔
سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس اور سپریم کورٹ نے کسی کو نظرثانی سے نہ پہلے روکا نہ اب روکیں گے۔ ’تنقید کے نام پر، یا اس کی آڑ میں عدلیہ یا ججوں کے خلاف منظم مہم افسوسناک ہے۔۔۔ اس سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اس ستون کو نقصان پہنچ سکتا ہے جس پر آئین نے لوگوں کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری ڈالی ہے۔‘
سپریم کورٹ کا فیصلہ کیا تھا؟
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چھ فروری کو ایک درخواست گزار کی جانب سے اپنے خلاف فردِ جرم سے بعض الزامات حذف کروانے اور ضمانت کی درخواست پر فیصلہ دیا تھا کہ ’آئین نے قرار دیا ہے کہ کسی شخص پر ایسے کام کے لیے فردِ جرم عائد نہیں کیا جا سکتا جو اس وقت جرم نہیں تھا، جب اس کا ارتکاب کیا گیا۔‘ اس حوالے سے فیصلے میں آئین کی دفعہ 12 (1) کا حوالہ دیا گیا ہے۔
فیصلے میں بتایا گیا تھا کہ ’درخواست گزار پر چھ دسمبر 2022 کو ضلع چنیوٹ میں درج ایف آئی آر کے مطابق تین الزامات لگائے گئے تھے جو پنجاب قرآن شریف قانون 2011، تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 298 سی اور دفعہ 295 بی شامل کے تحت لگائے گئے تھے۔‘
فیصلے کے مطابق ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ’ملزم ممنوعہ کتاب ’تفسیرِ صغیر‘ تقسیم کر رہا تھا۔ ان کے وکیل کے مطابق کسی بھی ممنوعہ کتاب کی تقسیم یا اشاعت کو پنجاب قرآن شریف (ترمیم) قانون کے تحت سنہ 2021 میں جرم بنایا گیا تھا جبکہ ایف آی آر میں الزام ہے کہ درخواست گزار نے اس کا ارتکاب 2019 میں کیا تھا۔‘
فیصلے میں سپریم کورٹ کی جانب سے وکیل کے اس دعوے کی تصدیق کی گئی ہے کہ مذکورہ جرم قانون میں 2021 میں شامل کیا گیا تھا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چونکہ سنہ 2019 میں ممنوعہ کتاب کی تقسیم جرم نہیں تھی اس لیے درخواست گزار پر یہ فردِ جرم عائد نہیں کی جا سکتی۔
فیصلے میں درخواست پر ایف آئی آر میں عائد کی گئی دیگر دفعات 298 سی اور 295 بی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ’وکیل کا کہنا تھا کہ نہ تو ایف آئی آر میں اور نہ ہی پولیس کی تفتیش میں جمع کی گئی پولیس رپورٹ میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ درخواست گزار نے کسی ایسے فعل کا ارتکاب کیا ہے جس سے مذکورہ جرائم تشکیل پاتے ہوں۔‘
’وکیل کی جانب سے ایف آئی آر پڑھا، لیکن اس میں ایسا کچھ ذکر نہیں تھا جس سے دفعات 295 بی اور 298 سی کے تحت جرائم تشکیل پاتے اور چالان بھی اس بارے میں خاموش ہے۔‘
فیصلے کے مطابق ’اس بنا پر دفعات 295 بی اور 298 سی ایف آئی آر سے نکال دی جاتی ہیں۔‘
چیئرمین پاکستان علما کونسل اور وزیرِ اعظم کے نمائندہ خصوصی مولانا طاہر اشرفی نے سپریم کورٹ سے گزارش کی ہے کہ ختم نبوت کے معاملے پر ’جو ابہام پیدا ہوا ہے‘ اس کی وضاحت کی جائے اور اس ضمن میں پنجاب حکومت کی طرف سے نظرثانی درخواست بھی دائر کی جائے گی۔
انھوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ’چھ فروری کو سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ آیا تھا جس کے بعد اس حوالے سے تمام علما سے ہمارا رابطہ ہے۔ عقیدۂ ختمِ نبوت ہر مسلمان کا معاملہ ہے لیکن کچھ لوگوں نے اس کو بھی اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’اس تناظر میں اگر کوئی ابہام ہے یا کسی بات کی وضاحت چاہیے تو سپریم کورٹ سے گزارش ہے کہ اس بارے میں وضاحت جاری کر دے اور حکومتِ پنجاب ابہامات دور کرنے کے لیے ریویو پٹیشن دائر کر دے تاکہ انتشار پھیلانے والوں کو انتشار پھیلانے کا موقع نہ ملے۔‘
طاہر اشرفی نے مزید کہا کہ ’ہم کسی کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ پیغمبرِ اسلام کا نام اور مقدسات کا نام لے کر انتشار پھیلائے۔‘
’ختمِ نبوت کے معاملے پر میں سمجھتا ہوں کہ سیاست کرنا جرم ہے کیونکہ یہ تو ہمارا ایمان اور عقیدہ ہے۔‘
انھوں نے سپریم کورٹ سے گزارش کی کہ ’جو ابہام پیدا ہوا اس میں جو الفاظ کا معاملہ ہے تو اس کی وضاحت ہو جائے۔‘
اس دوران وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ کچھ لوگ جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو تشدد پر اکسانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں ’یہ سرگرمی خلافِ قانون ہیں اور حکومت ایسی تمام سرگرمیوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کرے گی۔‘
پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر علی ظفر نے راولپنڈی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان آئی ایم ایف کو خط لکھیں گے جس میں ہم واضح کریں گے آئی ایم ایف کسی بھی قسم کی بات چیت کے لیے یہ شرط رکھے کہ جتنے بھی حلقوں میں دھاندلی ہوئی ہے اس کا آڈٹ ہو گا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اگر یہ آڈٹ ٹیم سپریم کورٹ کی سربراہی میں بنائی جائے تو بہت اچھا ہے۔‘
راولپنڈی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے بتایا کہ مجھے عمران خان نے بتایا ہے کہ وہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کو ایک خط لکھیں گے۔
انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف، یورپی یونین اور دیگر اداروں کا ایک چارٹر ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ قرض دینے یا کسی ملک کے ساتھ کام کرنے کے لیے وہاں ’گڈ گورننس‘ ضروری ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’گڈ گورننس کی سب سے اہم شرط جمہوریت ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ لوگوں کا مینڈیٹ آٹھ فروری کے الیکشن میں چھینا گیا۔
انھوں ںے کہا کہ اگر الیکشن صاف اور شفاف نہیں تھے تو کوئی بھی ادارہ ایسے ملک کو ’قرض‘ دینے سے گریز کرے گا۔ ’کیونکہ ایسا قرض لوگوں پر مزید بوجھ ڈالے گا کیونکہ ایسی حکومت اس قرض کو واپس کرنے میں ناکام رہے گی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پی ٹی آئی الیکشن نتائج کا آڈٹ چاہتی ہے اور یہ شرط آئی ایم ایف کے سامنے رکھی جائے گی۔‘
خیال رہے کہ اس سے قبل اگست 2022 کے دوران پاکستانی ذرائع ابلاغ پر دو فون کالز کی آڈیو نشر کی گئی جن میں شوکت ترین کو پنجاب کے وزیر خزانہ محسن لغاری اور کے پی کے وزیر خزانہ تیمور جھگڑا سے الگ الگ آئی ایم ایف سے معاہدے کے تناظر میں وفاقی حکومت کو جواب دینے کے بارے میں بات کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔
اسی ماہ جھگڑا نے اس وقت کے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو ایک خط میں کہا تھا کہ ’آئی ایم ایف کی شرط پر سرپلس بجٹ نہیں چھوڑ سکتے۔‘ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت نے اس وقت اپنے مطالبات کی منظوری تک آئی ایم ایف کے ساتھ وفاقی حکومت کے معاہدے میں تعاون نہ کرنے کی پالیسی کا عندیہ دیا تھا۔
پاکستان تحریکِ انصاف نے تین مارچ کو انٹرا پارٹی الیکشن کروانے کا اعلان کیا ہے اور جماعت کے رہنما بیرسٹر گوہر کے مطابق عمران خان نے بیرسٹر علی ظفر کو پارٹی کی چیئرمین شپ کا امیدوار نامزد کیا ہے۔
جمعرات کو راولپنڈی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر خان کا کہنا تھا کہ بیرسٹر علی ظفر چیئرمین شپ جبکہ عمر ایوب جماعت کے جنرل سیکریٹری کے عہدے کے لیے امیدوار ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی پارلیمان کا حصہ بن کر اپنا کردار ادا کرے گی۔
تحریکِ انصاف کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق انٹرا پارٹی الیکشن کے لیے کاغذاتِ نامزدگی 23 اور 24 فروری کو جمع کروائے جائیں گے اور جانچ پڑتال کے بعد ان پر حتمی فیصلہ 27 فروری کو ہو گا۔ پی ٹی آئی کے مطابق ان انتخابات کے لیے پولنگ جماعت کے مرکزی دفتر سمیت چاروں صوبائی سیکریٹریٹس میں ہو گی۔
خیال رہے کہ عام انتخابات سے قبل پی ٹی آئی نے اپنی جماعت میں انتخابات کا انعقاد کیا تھا جس میں بیرسٹر گوہر کو چیئرمین منتخب کیا گیا تھا تاہم اس انتخاب کو الیکشن کمیشن نے کالعدم قرار دیتے ہوئے جماعت سے اس کا انتخابی نشان واپس لے لیا تھا۔
پی ٹی آئی نے اس فیصلے کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا اور عدالت نے الیکشن کمیشن کا یہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا تھا تاہم عدالتِ عالیہ کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔
پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو قیدِ ناحق سے رہا کر کے ملک کی قیادت کا حق دیا جانا چاہیے۔
انھوں نے عمران خان کی قید کو 200 دن مکمل ہونے کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’قانون و اقدار سے یکسر بے نیاز ریاستی غیض و غضب کی واحد قابلِ فہم وجہ عمران خان کا ’غلامی نامنظور‘ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے اپنی قوم کے لیے’حقیقی آزادی‘ کا خواب دیکھنا اور پاکستان کو دستور کے مکمل احترام پر یقین رکھنے والی ریاست بنا کر ملک میں قانون کی حکمرانی کی روایت کو بدرجۂ اتم پختہ کرنے کا عزم ہے۔‘
پنجاب اسمبلی کا افتتاحی اجلاس جمعے کے روز صبح 10 بجے ہو گا جس میں نومنتب ارکان پنجاب اسمبلی حلف اٹھائیں گے۔
اجلاس کی صدارت سپیکر پنجاب اسمبلی سردار سبطین خان کریں گے۔
پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن تاحال جاری نہیں کیا گیا ہے تاہم نگران حکومت نے اس بارے میں اسمبلی سیکرٹریٹ کو زبانی طور پر آگاہ کر دیا ہے۔
اسمبلی سیکریٹریٹ نے افتتاحی اجلاس کے حوالے سے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
یاد رہے کہ عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ نواز نے پنجاب اسمبلی میں سب سے زیادہ 137 نشستیں حاصل کی ہیں، جبکہ اسمبلی میں آزاد امیدواروں کی تعداد 138 ہے۔
پاکستان مسلم لیگ ن کا دعوٰی ہے کہ پنجاب اسمبلی کے تقریباً 20 آزاد ارکان نے ان کی جماعت میں شمولیت اختیار کر لی ہے اور انھیں حکومت قائم کرنے کے لیے سادہ اکثریت حاصل ہے۔
پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے پنجاب کے وزارتِ اعلی کے لیے مریم نواز کو نامزد کیا گیا ہے۔
امریکی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں اتحادی حکومت کے قیام سے پہلے اس پر کوئی تبصرہ کرنا نہیں چاہتے۔
بدھ کے روز امریکی دفترِ خارجہ کی پریس بریفنگ کے دوران ایک صحافی نے پوچھا کہ آیا امریکہ پاکستان میں قائم کی جانے والی اتحادی حکومت جس میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی پارٹی شامل نہیں کو پاکستان عوام کی نمائندہ جماعت سمجھتا ہے؟ اس پر امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کے اندر کی جانے والی اتحادی سیاست اس کا اندرونی معاملہ ہے۔ ’یہ اس ملک کا اپنا فیصلہ ہے، نہ کہ ایسی چیز جس پر ہم تبصرہ کریں۔‘
یاد رہے کہ عام انتخابات کے بعد ملک میں پھیلی سیاسی غیر یقینی کی صورتحال میں اس وقت کمی دیکھنے میں آئی جب منگل کی شب پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ دونوں جماعتیں ملک میں اگلی حکومت بنائیں گی۔ اس نئے حکومتی اتحاد کے تحت، شہباز شریف وزارتِ عظمیٰ جبکہ آصف علی زرداری عہدۂ صدارت کے لیے دونوں جماعتوں کے مشترکہ امیدوار ہوں گے۔
پاکستان میں عام انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کے الزامات کے بارے میں ملر کا کہنا تھا کہ امریکی انتظامیہ الیکشن میں بے ضابطگیوں کے کسی بھی دعوے کی مکمل تحقیقات دیکھنا چاہتی ہے۔
پاکستان میں انٹرنیٹ کی بندش بشمول سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملر کا کہنا تھا کہ ’ہم پاکستان سے آزادی اظہار کا احترام کرنے اور ٹویٹر (جسے اب X کہا جاتا ہے) سمیت کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم تک رسائی کو بحال کرنے کا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا امریکہ نے سرکاری سطح پر اس بارے میں پاکستانی حکام کو اپنی تشویش سے آگاہ کر دیا ہے۔
پاک افغان سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور افغان طالبان کی جانب سے ڈیورنڈ لائن کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان باضابطہ سرحد ماننے سے انکار پر ملر کا کہنا تھا کہ امریکہ افغانستان اور پاکستان دونوں کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحدوں کے اندر علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما رانا ثناللہ نے کہا ہے کہ یہ تین پارنٹرز کی حکومت ہے اور ذمہ داری بھی سب کی مشترکہ ہو گی۔ ان کے مطابق یہ حکومت کچھ اچھا کرے گی تو سب کو کریڈٹ جائے گا اور اگر کچھ برا ہوا تو بھی سب کا ہو گا۔
رانا ثنااللہ نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی کچھ ایسی باتیں ہیں کہ جو عام نہیں ہوئی ہیں تاہم تنقید کرنے کا حق تو ہر ایک کو دیا جانا چاہیے۔
رانا ثناللہ نے کہا کہ اس سے قبل شہباز شریف نے 13 جماعتوں کی حکومت 16 ماہ چلائی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے آڈیو لیکس کیس میں چیئرمین پی ٹی اے کو چار مارچ کو طلب کر لیا۔ عدالت نے ڈی جی آئی بی اور ڈی جی ایف آئی اے بھی آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے تین صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامے میں لکھا کہ عدالت کو بتایا گیا کہ انٹیلیجنس بیورو اور ایف آئی اے کے سربراہان بیمار ہیں۔
عدالت نے ڈی جی آئی بی اور ڈی جی ایف آئی اے کو آئندہ سماعت سے قبل میڈیکل رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ میڈیکل سرٹیفکیٹ دیں کہ بیماری کس نوعیت کی تھی جس کے باعث عدالت نہ آ سکے۔
عدالت کے مطابق اے پی این ایس کے وکیل نے پاور آف اٹارنی اور جواب جمع کرانے کے لیے مہلت طلب کی جبکہ عدالتی معاون جاوید جبار کی طرف سے بریف جمع کرا دیا گیا ہے۔
آر آئی یو جے کے جنرل سیکریٹری آصف بشیر چودھری نے جواب جمع کرانے کا کہا۔ انھوں نے بتایا کہ سینیئر صحافی مظہر عباس بھی عدالت کی معاونت کے لیے بریف جمع کرائیں گے۔ پاکستان بار کونسل کو دوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوئے عدالتی معاونت کی ہدایت کی گئی ہے۔
اس مقدمے کی آئندہ سماعت چار مارچ کو ہو گی۔
گمشدہ بلوچ طلبا کی بازیابی کے مقدمے میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے تین رکنی کمیٹی قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق یہ مشترکہ کمیٹی ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ایم آئی اور ڈی جی انٹیلیجنس بیورو پر مشتمل ہو گی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے گذشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا ہے۔ کمیٹی گمشدہ افراد سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کرے گی۔ فیصلے کے مطابق ڈی جی انٹیلیجنس بیورو کمیٹی کے سربراہ ہوں گے۔
عدالت کمیٹی لاپتہ بلوچ طلبا اور نئے لاپتہ ہونے والوں کے حوالے سے رپورٹ آئندہ سماعت سے پہلے پیش کرے گی۔
کمیٹی متعلقہ ضلع اور ڈویژن کے سیکٹر کمانڈر سے معلومات لے کر بند لفافے میں رپورٹ عدالت کو پیش کرے گی۔
کمیٹی جبری گمشدگی میں ملوث ماتحت حکام کے خلاف کارروائی کے لیے سفارشات پیش کرے گی۔
عدالت نے وزیراعظم، وزیر داخلہ اور دفاع کو ان وزارتوں کے سیکریٹریز سمیت آئندہ سماعت پر طلب کر لیا ہے۔ اس مقدمے کی اگلی سماعت اب 28 فروری کو ہوگی۔