ملک احمد خان کا تعلق پنجاب کے ضلع قصور کے قصبے کھڈیاں سے ہے۔ اس قصبے کے نواح میں ان کا گاؤں کھائی ہٹھاڑ واقع ہے۔
ان کے دادا اس علاقے کی ذیلدار تھے۔
ملک احمد خان کے والد ملک محمد علی خان سیاسی میدان میں متحرک رہے اور وہ 23 جنوری 1986 سے 20 مارچ 1988 تک ڈپٹی چیئرمین سینیٹ رہے۔ وہ اپنے گاؤں کے نام کی نسبت ملک محمد علی خان کھائی والا کے نام سے جانے جاتے تھے۔
اس دوران ایک موقع ایسا بھی آیا کہ جب صدر اور چیئرمین سینیٹ دستیاب نہیں تھے تو وہ 31 دنوں تک پاکستان کے قائم مقام صدر بھی رہے۔
ملک احمد خان ایچی سن کالج کے بعد لندن سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور پھر اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سیاسی میدان میں اترے۔
سنہ 2002 میں وہ پاکستان مسلم لیگ ق کے پلیٹ فارم سے رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے۔ سنہ 2008 میں وہ ق لیگ کی طرف سے دوبارہ انتخابی میدان میں اترے مگر اس بار وہ ناکام رہے۔ اس کے بعد ان کی ق لیگ سے دوریاں پیدا ہو گئیں۔ ان کے شہباز شریف سے روابط بڑھے تو پھر وہ ان کی جماعت میں بھی شامل ہو گئے۔
سنہ 2013 میں ملک احمد خان مسلم لیگ ن سے رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے اور پھر سنہ 2018 اور سنہ 2024 کے عام انتخابات میں بھی پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ سنہ 2018 کے بعد ملک احمد خان شہباز شریف کی حکومت کے ترجمان رہے۔ بعد میں انھیں قانون کا قلمبندان بھی سونپا گیا۔
جب سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی تو پھر ملک احمد خان نئی حکومت میں وزیراعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی برائے دفاع چُن لیے گئے۔
ملک احمد خان کے قریبی ساتھی مقصود احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ملک احمد خان دھیمے مزاج کے مالک ہیں اور انھیں بہت کم ہی غصہ آتا ہے۔ مقصود احمد کے مطابق ملک احمد خان اچھے وکیل بھی ہیں اور جج کو اپنے دلائل سے قائل کرنے میں بھی خاص مہارت رکھتے ہیں۔
ان کے مطابق ملک احمد خان کا لاہور کے جِم خانہ کے قریب ظفر علی روڈ پر چیمبر بھی ہے۔
لاہور میں سینیئر صحافی سلمان غنی نے بی بی سی کو بتایا کہ ملک احمد خان کی خاص اہمیت سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے سمدھی صابر مٹھو سے تعلقات کی وجہ سے بنی۔ ان کے مطابق ان تعلقات کی بدولت وہ جنرل باجوہ سے بھی تواتر سے ملتے رہے۔ اور یوں وہ پارٹی کے تمام اہم فیصلوں میں شامل ہونے لگے۔
ان کے مطابق جب پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت ختم ہوئی تو یہ خیال کیا جاتا تھا کہ ملک احمد خان ن لیگ کی طرف سے وزیراعلیٰ پنجاب ہوں گے۔ سلمان غنی کے مطابق حمزہ شہباز شریف کو وزیراعلیٰ بنایا گیا اور اس کی بھی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ ملک احمد خان کے لیے بطور کلاس فیلو زیادہ قابل قبول تھے۔
سلمان غنی کے مطابق ملک میں جس طرح عام انتخابات میں اصل میدان پنجاب ہوتا ہے اسی طرح پنجاب اسمبلی ہی اصل سیاسی میدان ہو گا۔
ان کی رائے میں ملک احمد خان کی فیصلہ ساز حلقوں تک رسائی ہے۔ وہ شہباز شریف کے بھی انتہائی قریبی ساتھی ہیں۔ پنجاب اسمبلی کی اقدار اور روایات سے بھی واقف ہیں اور ان کے تحریک انصاف کے رہنما میاں اسلم اقبال سے بھی اچھے تعلقات رہے ہیں۔
اس وجہ سے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بطور سپیکر محض ایوان ہی نہیں چلائیں گے بلکہ پارٹی کے مفادات کا بھی تحفظ کریں گے۔
سلمان غنی کے مطابق ملک احمد خان کو پنجاب اسمبلی کا بزنس چلانے کے لیے صرف پارٹی ہی نہیں بلکہ کچھ اور حلقوں کی بھی تائید حاصل رہے گی۔