انتخابات میں شکست: امیر جماعت اسلامی سراج الحق عہدے سے مستعفی، جہانگیر ترین کا سیاست چھوڑنے کا اعلان

‏سراج الحق نے جماعت اسلامی کے امیر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انھوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’محنت اور کوشش کے باوجود کامیابی نہین دلا سکا، الیکشن میں شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے جماعت اسلامی کی امارت سے استعفی دے دیا ہے۔‘ دوسری جانب استحکام پاکستان پارٹی کے چیئرمین جہانگیر ترین نے بھی عام انتخابات 2024 میں شکست کے بعد پارٹی اور سیاست چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. مسلم لیگ ن پنجاب میں حکومت بنائے گی: رانا ثنا اللہ

    مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں ان کی جماعت کو ’138 سیٹیں‘ حاصل ہیں اور صوبے میں انھی کی حکومت قائم ہوگی۔

    ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کی تعداد 112 ہے جبکہ اس کے علاوہ 27 دیگر آزاد امیدوار ہیں۔

    پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی-240 سے کامیاب ہونے والے آزاد امیدوار محمد سہیل نے بھی مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    ’پانچ کامیاب آزاد امیدوار مسلم لیگ ن میں شامل‘

    دریں اثنا مسلم لیگ ن نے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’میڈیا میں موجود باقیات عمرانی کا اگر بس چلتا تو یہ ساری کی ساری سیٹیں عمران نیازی کی جھولی میں ڈال چکے ہوتے۔

    ’مگر اب یہ مخصوص ٹولہ صرف ٹی وی چینلز پہ بیٹھ کر انتخابات کو متنازعہ بنانے اور اپنی ریٹنگ کی خاطر بے بنیاد نتائج اور ان پر تبصروں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

    ادھر قومی اسمبلی کی نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے والے چار آزاد امیدواروں نے مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان کیا ہے جن میں این اے 54 سے بیرسٹر عقیل، این اے 48 سے راجہ خرم نواز، این اے 253 سے میاں خان بگٹی اور این اے 189 سے شمشیر مزاری شامل ہیں۔

    دوسری طرف مسلم لیگ ن کے مطابق این اے 146 سے پیر ظہور حسین قریشی بھی ان کی جماعت میں شامل ہوگئے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

  2. تحریک انصاف کی الیکشن میں مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کی کال

    الیکشن 2024 میں اپنے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کے ذریعے برتری حاصل کرنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے ’عوامی مینڈیٹ کی سر عام ڈکیتی‘ کے خلاف لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، ملتان، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان اور گجرانوالہ میں احتجاج کی کال دی ہے۔

    ایک پیغام میں پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ’کل دوپہر دو بجے لاہور میں لبرٹی چوک پر پُرامن احتجاج ہو گا۔ سب لاہوری تیاری کریں۔۔۔ عوامی مینڈیٹ کی سر عام ڈکیتی کی جانے پر کل دوپہر 2 بجے پورے جنوبی پنجاب میں پر امن احتجاج کرے گی اور اس ڈکیتی تو مسترد کرے گی۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. اب تک کی اہم خبریں

    • الیکشن کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کو برتری حاصل ہے جبکہ ابھی چند نشستوں کے فیصلے آنا باقی ہیں
    • سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی جبکہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کو واضح اکثریت حاصل ہوئی ہے
    • پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ن آگے ہے، بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی سب سے زیادہ نشتیں ہیں
    • سابق وزیر اعظم نواز شریف نے حکومت سازی کے لیے سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کو دعوت دی مگر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کے مطابق تاحال اس پر کسی سیاسی جماعت سے گفتگو نہیں ہوئی
    • تحریک انصاف نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی پر اتوار کو پُرامن احتجاج کی کال دی ہے
    • انتخابی نتائج میں تاخیر اور مبینہ دھاندلی پر جماعت سلامی، ٹی ایل پی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی تشویش ظاہر کی ہے
  4. الیکشن 2024: بی بی سی اردو کی لائیو کوریج میں خوش آمدید