انتخابات میں شکست: امیر جماعت اسلامی سراج الحق عہدے سے مستعفی، جہانگیر ترین کا سیاست چھوڑنے کا اعلان

‏سراج الحق نے جماعت اسلامی کے امیر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انھوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’محنت اور کوشش کے باوجود کامیابی نہین دلا سکا، الیکشن میں شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے جماعت اسلامی کی امارت سے استعفی دے دیا ہے۔‘ دوسری جانب استحکام پاکستان پارٹی کے چیئرمین جہانگیر ترین نے بھی عام انتخابات 2024 میں شکست کے بعد پارٹی اور سیاست چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری, محمد کاظم، نامہ نگار بی بی سی اردو، کوئٹہ

    کوئٹہ

    ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے باہر خواتین نے ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا۔

    مظاہرے کے شرکا نے الزام عائد کیا کہ کوئٹہ سے پارٹی کے سربراہ عبدالخالق ہزارہ اور قادر علی نائل کی کامیابی کو شکست میں تبدیل کیا گیا۔

    کوئٹہ شہر میں ڈپٹی کمشنر جو کہ ضلع کوئٹہ سے قومی اسمبلی کی تین اور بلوچستان اسمبلی کی 9 نشستوں کے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر تھے کے دفتر کے قریب مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاجی کیمپ قائم کیا گیا۔ اس احتجاجی کیمپ میں نیشنل پارٹی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے کارکنوں نے دھرنا دیا۔

    نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام کیچ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، جمیعت العلماء اسلام، پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے زیرِ اہتمام بلوچستان کے مختلف علاقوں احتجاج کیا گیا۔

    احتجاجی مظاہروں کے انعقاد کے علاوہ بلوچستان میں اہم قومی شاہراہیں بھی سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے احتجاج کی وجہ سے مختلف علاقوں میں بند رہیں۔

  2. پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد ناممکن ہے: رہنما پی ٹی آئی زلفی بخاری, فرحت جاوید، بی بی سی اردو

    Zulfi Bukhari

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما زلفی بخاری نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پی پی پی کے ساتھ اتحادی حکومت بنانا ناممکن ہے لیکن ہم پارلیمنٹ میں کسی جماعت کے ساتھ اتحاد کریں گے تا کہ ایک متحد اپوزیشن بن سکے۔

    انھوں نے مرکز میں حکومت بنانے کا امکان مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم کسی عارضی حکومت کا حصہ نہیں بننا چاہتے اور ہم پارلیمنٹ میں ایک ملک کی تاریخ کی سب سے مضبوط اپوزیشن ہوں گے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’وفاق میں جو بھی حکومت بنے گی وہ عارضی ہوگی اور اس کا دورانیہ مختصر ہوگا۔‘

  3. ’کسی بھی جماعت کے پاس اکثریت نہیں مرکز میں اتحادی حکومت قائم ہوگی‘ سینٹر اعظم نذیر تارڑ

    Lahore

    ،تصویر کا ذریعہScreen Grab

    پاکستان مُسلم لیگ ن کے رہنما اور سینٹر اعظم نذیر تارڑ نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’مرکز میں شراکتی اور اتحادی حکومت قائم ہوگی کیونکہ کسی بھی سیاسی جماعت کے پاس ایسی اکثریت یا مینڈیٹ نہیں کہ وہ وفاق میں حکومت بنائے، خواہش ہے کہ مضبوط الائنس بنے، مختلف صوبوں، قومیتوں کی نمائندگی ہو۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’مخلوط حکومت بننے سے وفاق مضبوط ہوتا ہے، خواہش تھی کہ کسی جماعت کے پاس سادہ اکثریت ہو اور حکومت بے تاہم وفاق میں زمینی حقائق کی بنیاد پر فیصلے ہوتے ہیں۔‘

    ن لیگ کے رہنما اعظم نذیر تارڑ کا اپنی پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ ’اگر مفاہمتی سیاست کی جائے تو پاکستان کو فائدہ ہوگا۔‘

  4. ’ابھی حکومت سازی پر نہیں صرف مُلک کو درپیش چیلنجز پر بات ہوئی ہے‘ ایم کیو ایم

    MQM

    ،تصویر کا ذریعہScreen Grab

    متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’اس وقت میڈیا پر پاکستان مُسلم لیگ ن کے ساتھ حکومت سازی سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان مسلم لیگ ن کے ساتھ حکومت سازی سے متعلق تو کوئی بات نہیں ہوئی ہاں اگر بات ہوئی ہے تو مُلک کو درپیش مسائل اور خطرات سے نمٹنے کے لیے بات ضرور ہوئی ہے۔‘

    ایم کیو ایم کے رہنما حالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ’یہ بات درست ہے کہ مُلک میں ہونے والے حالیہ عام انتخابات نے ایک چیلنجنگ صورتحال پیدا کر دی ہے، جس کے بعد مُلک کو بچانے کے لیے سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اس وقت مُلک کو جن مسائل کا سامنا ہے ایسے میں سب کو اپنی سیاست اور مفاد کو ایک جانب رکھ کر مُلک کو بچانے کی ضرورت ہے۔‘

    میڈیا کے نمائندوں سے اپنی گفتگو کے اختتام پر خالد مقبول صدیقی نے ایک مرتبہ پھر ایم کیو ایم پاکستان کی سیاسی پوزیشن کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت سازی سے متعلق کوئی اتفاق نہیں ہوا صرف مُلک کو درپیش چیلنجز اور مُلک کو ان سے نکالنے سے متعلق بات ہوئی ہے، اس وقت سیاسی جماعتوں میں تصادم مُلک کو مزید مسائل میں دھکیل دے گا۔‘

  5. ’ہمارے دروازے سب سیاسی جماعتوں کے لیے کُھلے ہیں:‘ شیری رحمان, فرحت جاوید، نامہ نگار بی بی سی اردو

    politics

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیئر رہنما شیری رحمان نے کہا ہے کہ کل یعنی (سوموار) کو ان کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں ہوگا۔

    اس سوال پر کہ کیا پیپلز پارٹی، تحریک انصاف سے حکومت سازی کے لیے بات چیت کرے گی اور مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم کے درمیان طے پانے والے معاملات کے بعد کیا پیپلز پارٹی نواز شریف کے ساتھ اتحادی جماعت بنے گی؟ شیری رحمان نے کہا تھا کہ ان تمام معاملات پر بات کرنے کے لیے کل اسلام آباد میں پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کے دروازے تمام ’سیاسی لوگوں کے لیے کھلے ہیں۔‘

    اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ ن کی سیکٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے ایکس پر جاری ایک بیان میں اس بات کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم پاکستان کے درمیان مل کر چلنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

  6. ’پاکستان مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم پاکستان میں سیاسی تعاون پر اتفاق ہو گیا ہے:‘ مریم اورنگزیب

    پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور سابق وفاقی وزیر مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) کے درمیان مل کر چلنے پر اصولی اتفاق ہوگیا ہے۔

    پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگزیب کا یہ بیان پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے ایم کیو ایم پاکستان کے وفد اور سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے درمیان رائیونڈ میں ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آیا۔

    مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن اور ایم کیوایم پاکستان میں بنیادی نکات طے پا گئے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ملاقات میں دونوں جماعتوں کے درمیان موجودہ صورتحال پر تفصیلی مشاورت ہوئی اور تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

    مریم اورنگزیب کے مطابق، دونوں سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں نے مجموعی سیاسی صورتحال اور اب تک ہونے والے رابطوں کے حوالے سے ایک دوسرے کو اعتماد میں لیا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  7. 'اب احتجاج ان آر اوزکے دفاتر کے باہر کیا جائے گا جہاں فارم 47 میں ہیر پھیر کی گئی'

    پاکستان تحریکِ انصاف کے لیڈر اور سابق وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے جانب سے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف مختلف شہروں کے مرکزی مقامات پر کیے جانے والے تمام احتجاج ملتوی کیے جا رہے ہیں۔

    پی ٹی آئی کے کارکنوں کو ہدایت جاری کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اب احتجاج صرف ان ریٹرننگ افسران کے دفاتر کے باہر کیا جائے گا جہاں فارم 47 میں ہیر پھیر کی گئی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی ایک پرامن جماعت ہے جو ووٹوں کے ذریعے انقلاب لائی ہے۔

    بی بی سی کی نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق، پی ٹی کے کچھ کارکنان لاہور میں لبرٹی چوک پر احتجاج کرنے کے لیے جمع ہونا شروع ہوئے تھے تاہم پارٹی کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر کیے جانے والے اعلانات کے بعد وہ واپس چلے گئے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  8. الیکشن 2024: قومی و صوبائی اسمبلیوں کے تمام حلقوں کے غیر سرکاری نتائج کا اعلان

    پاکستان میں بارھویں عام انتخابات کے انعقاد کے تقریباً تین دن بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بالآخر تمام قومی و صوبائی اسمبلیوں کے حلقوں کے غیر سرکاری نتائج کا اعلان کر دیا ہے۔

    قومی اسمبلی

    حالیہ انتخابات کے بعد، پاکستان تحریکِ انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار 93 نشستوں کے ساتھ قومی اسمبلی میں سرِ فہرست ہیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن کی 75 نشستیں ہیں۔

    پاکستان پیپلز پارٹی 54 سیٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے17 نشستیں حاصل کی ہیں۔

    پاکستان تحریکِ انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار 93 نشستوں کے ساتھ قومی اسمبلی میں سرِ فہرست ہیں

    ،تصویر کا ذریعہْْBBC

    پنجاب اسمبلی

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نتائج کے مطابق، پنجاب اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ ن کی سب سے زیادہ 137 نشستیں ہیں۔ آزاد امیدواروں کی تعداد 138 ہے تاہم یہ سب کے سب پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ نہیں۔

    پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب میں 10 سیٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ ق کی 8 نشستیں ہے۔

    پنجاب اسمبلی میں کل نشستوں کی تعداد 297 ہے جن میں سے ایک پر الیکشن ملتوی ہو گیا تھا۔

    پنجاب اسمبلی میں کل نشستوں کی تعداد 297 ہے

    سندھ اسمبلی

    130 نشستوں پر مشتمل سندھ امسبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کو 84 سیٹوں کے ساتھ سادہ اکثریت حاصل ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ 28 نشستوں کے ساتھ سندھ اسمبلی میں دوسری بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے۔ جبکہ 13 سیٹیں آاد امیدواروں کے پاس ہیں۔

    130 نشستوں پر مشتمل سندھ امسبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کو 84 سیٹوں کے ساتھ سادہ اکثریت حاصل ہے

    خیبرپختونخوا اسمبلی

    پاکستان تحریکِ انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار خیبرپختونخوا اسمبلی میں 90 نشستوں کے ساتھ حکومت بنانے کی پوزیشن میں نظر آتے ہیں۔ 115 نشستوں کے ایوان میں جمیعت علمائے اسلام 7 اور پاکستان مسلم لیگ ن 5 سیٹوں کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔

    پاکستان تحریکِ انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار خیبرپختونخوا اسمبلی میں 90 نشستوں کے ساتھ حکومت بنانے کی پوزیشن میں نظر آتے ہیں

    بلوچستان اسمبلی

    بلوچستان اسمبلی کی تمام 51 عام نشستوں کے نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

    نتائج کے مطابق، پیپلز پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام 11، 11نشستوں کے ساتھ سب سے آگے ہیں، جبکہ مسلم لیگ ن نے دس سیٹیں حاصل کی ہیں ۔

    آزاد حیثیت سے انتخاب لڑنے والے 6 امیدواروں کو کامیابی ملی ہے جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی چار اور نیشنل پارٹی تین نشستیں حاصل کرسکی ہے۔

    بلوچستان اسمبلی کی 51 عام نشستوں میں سے 50 کے نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے
  9. پی ٹی آئی کی احتجاج کی کال کے بعد لاہور میں سکیورٹی کے سخت انتظامات, ترہب اصغر/ بی بی سی اردو، لاہور

    پولیس، لاہور

    صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں پی ٹی آئی کی جانب سے الیکشن میں مبینہ دھاندلی کے خلاف ’پُرامن‘ احتجاج کی کال کے بعد سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

    شہر کے مختلف حصوں میں بڑی تعداد میں پولیس اہلکار، کوئیک رسپانس فورس، ڈولفن فورس اور نیم فوجی دستے تعینات ہیں۔

    پولیس، لاہور

    قانون نافذ کرنے والے ادارے لاہور کے کور کمانڈر ہاؤس، لبرٹی چوک، آر او دفاتر، کینال روڈ اور مال روڈ پر ڈیوٹی دے رہے ہیں۔

    پی ٹی آئی نے احتجاج کا وقت دوپہر دو بجے بتایا تھا اور ابھی تک ان مقامات پر پی ٹی آئی کے کارکنان کا کوئی نام و نشان نہیں ہے۔

    پی ٹی آئی
  10. ایم کیو ایم پاکستان کا وفد نواز شریف سے ملاقات کے بعد روانہ

    متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کا وفد سابق وزیرِ اعظم نوازشریف سے ملاقات کے بعد جاتی امرا سے واپس روانہ ہوگیا ہے۔

    ایم کیو ایم پاکستان اور مسلم لیگ ن کے قائد کے درمیان ملاقات ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  11. علاقے دور دراز ہونے اور موسمی حالات کے باعث نتائج میں تاخیر ہوئی: جان اچکزئی

    بلوچستان کے نگراں وزیراطلاعات جان محمد اچکزئی کا بلوچستان سے انتخابی نتائج کے اعلان میں تاخیر کے بارے میں کہنا ہے کہ علاقے دور دراز ہونے اور موسمی حالات کے باعث نتائج کے اعلان میں تاخیر ہوئی۔

    وہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

    ان کا کہنا ہے کہ جو لوگ انتخابات میں جیت نہیں سکے ہیں، وہ سپورٹس مین اسپرٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے نتائج کو تسلیم کریں۔

    انھوں نے کہا ہے کہ اگر کسی کو نتائج پراعتراض ہے تو وہ متعلقہ فورم سے رجوع کریں۔

  12. حکومت سازی کے لیے کوششیں تیز، ایم کیو ایم کا وفد نواز شریف سے ملاقات کے لیے لاہور پہنچ گیا

    سابق وفاقی وزیر اور پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کا وفد اتوار صبح ساڑھے گیارہ بجے رائیونڈ میں پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سے ملاقات کرے گا۔

    ایم کیو ایم وفد کی سربراہی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کر رہے ہیں جبکہ وفد میں مصطفیٰ کمال، فاروق ستار اور گورنر سندھ کامران ٹیسوری بھی شامل ہیں۔

    سابق وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستان مسلم لیگ کی چیف آرگنائزر مریم نواز شریف بھی اس موقع پر موجود ہوں گے۔

    سیاسی بیٹھک میں نئی حکومت سازی اور آئندہ سیاسی حکمت عملی سمیت دیگر اہم امور پر مشاورت ہوگی۔

    خیال رہے کہ مسلم لیگ ن حالیہ عام انتخابات میں قومی اسمبلی میں 75 سیٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے جبکہ ایم کیو ایم نے 17 نشستیں حاصل کی ہیں۔

  13. انتخابی نتائج میں مبینہ دھاندلی: پی ٹی آئی کا دن دو بجے احتجاج کا اعلان, فرحت جاوید، بی بی سی اردو

    پی ٹی آئی چئیرمین بیرسٹر گوہر اعجاز نے الزام عائد کےس ہی کہ آر اوز نے سول انتظامیہ اور پولیس کی مدد سے مل کر الیکشن رزلٹ تبدیل کیے ہیں۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف نے انتخابی نتائج میں مبینہ دھاندلی کے خلاف آج ملک بھر میں ’پر امن احتجاج‘ کی کال دی ہے۔ یہ فیصلہ تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا تھا۔

    پی ٹی آئی کے میڈیا سیل کے نمائندے نے بی بی سی کو بتایا کہ آج اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں دن دو بجے ریٹرنگ افسران کے دفاتر کے سامنے احتجاج کیا جائے گا۔

    پی ٹی آئی کا الزام ہے کہ ان کے حمایت یافتہ امیدواروں کے نتائج نو فروری کی رات تبدیل کیے گیے اور ان کی جیت کو ہار میں بدل دیا گیا۔ تاہم اس الزام کے حوالے سے تاحال نگران حکومت، الیکشن کمیشن آف پاکستان اور پاکستانی فوج کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

    خیال رہے کہ الیکشن 2024 میں پولنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی اور نتائج کے اعلان میں گھنٹوں کی تاخیر نے اس عمل پر شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ جس کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں نے الزام لگایا ہے کہ سیاسی مینڈیٹ کو چوری کی کرنے کوشش کی گئی ہے۔

    جمعرات کو ہونے والی پولنگ کے بعد نتائج کی آمد کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اب تک قومی اسمبلی کے 265 میں سے260 حلقوں کے نتائج کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار 93 نشستوں کے ساتھ سرفہرست ہیں جب کہ مسلم لیگ ن 75 اور پیپلز پارٹی 54 نشستیں لینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ابھی بھی بلوچستان سے قومی اسمبلی کے سات حلقوں کے نتائج کا اعلان ہونا باقی ہے۔

    پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے الزام لگایا ہے کہ ان کی پارٹی کے جیتی ہوئی بائیس سیٹوں پر دھاندلی ہوئی ہے جن میں سے تین اسلام آباد، چار سندھ اور باقی صوبہ پنجاب میں ہیں۔

    سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ایکس پر پی ٹی آئی کی جانب سے ایک پوسٹ میں دن دو بجے لاہور میں لبرٹی چوک اور فیصل آباد میں گھنٹہ گھر جبکہ راولپنڈی میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے دفتر کے سامنے جمع ہونے کا کہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ گوجرانوالہ، اسلام آباد اور جنوبی پنجاب میں بھی پرامن احتجاج کی کال دی گئی ہے۔

    دوسری جانب جمیعت علمائے اسلام اور جماعتِ اسلامی نے بھی احتجاج کی کال دی ہے۔

    اس سے قبل اسلام آباد پولیس نے خبردار کیا ہے کہ شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے اورکسی بھی غیر قانونی اجتماع کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز قومی اور صوبائی اسمبلی کے تین حلقوں کے 43 پولنگ اسٹیشنز پر ہونے والے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم دیا ہے۔

  14. انتخابات نتائج کے خلاف احتجاج: ’کچھ حلقے تو ایسے ہیں جہاں ہماری جیت سو فیصد یقینی تھی‘, ترہب اصغر، بی بی سی اردو

    الیکشن میں مبینہ دھاندلی کے خلاف تحریک انصاف کی جانب سے ملک بھر میں آج دوپہر دو بجے احتجاج کی کال دی گئی ہے۔

    عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف تحریک انصاف کی جانب سے ملک بھر میں آج دوپہر دو بجے احتجاج کی کال دی گئی ہے۔

    گزشتہ روز پی ٹی آئی چئیرمین بیرسٹر گوہر اعجاز نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے درجنوں حلقوں میں دھاندلی کا الزام عائد کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آر اوز نے سول انتظامیہ اور پولیس کی مدد سے الیکشن رزلٹ تبدیل کیے ہیں۔ جس کے خلاف ان کی پارٹی احتجاج کرے گی۔

    اسی بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے کارکن احمد کا کہنا تھا کہ ہم آج مختلف شہروں میں آر اوز کے دفاتر کے باہر احتجاج کریں گے۔ خصوصی طور پر ان حلقوں میں جن کے رزلٹ ابھی تک ہمیں نہیں دیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حلقے جہاں انکے مطابق کھلے عام دھاندلی ہوئی ہے اور جس کے ثبوت ان کے پاس موجود ہیں، وہاں بھی آر اوز کے دفاتر کے باہر احتجاج کیا جائے گا۔

    احمد کا کہنا تھا کہ 'کچھ حلقے تو ایسے ہیں جہاں ہماری جیت سو فیصد یقینی تھی۔ جیسا کہ لاہور کا حلقہ NA-120 جہاں سے سلمان اکرم راجہ لڑ رہے تھَے، یاسمین راشد اور نواز کے رزلٹ میں فارم 47 کا غلط ہونا یا پھر سیالکوٹ سے ریحانہ ڈار کا حلقہ۔'

    لاہور کے حلقہ 120-NA میں استحکامِ پاکستان پارٹی کے عون چوہدری نے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار کو شکست دی ہے، جبکہ لاہور کے ہی حلقہ 130-NA میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ یاسمین راشد کو 75,000 ووٹوں سے شکست دی ہے۔ سیالکوٹ میں ریحانہ ڈار کو سابق وفاقی وزیر خواجہ آصف کے ہاتھوں شکست ہوئی ہے۔

  15. اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے، غیر قانونی اجتماع کے خلاف کاروائی ہوگی: پولیس

    مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف اتوار کے روز احتجاجی مظاہروں کے اعلان پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے۔

    'کچھ افراد الیکشن کمیشن اور دیگر سرکاری اداروں کے اطراف غیر قانونی اجتماعات پر اکسا رہے ہیں۔'

    پولیس کا کہنا کہ اجتماع کےلیے راغب کرنا بھی جرم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی غیر قانونی اجتماع کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  16. 257 قومی اسمبلی حلقوں کے نتائج: پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدوار آگے، پاکستان مسلم لیگ ن پیچھے

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 8 فروری کو ملک میں ہونے والے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے 265 میں سے257 حلقوں کے نتائج کا اعلان کر دیا ہے۔

    اب تک کے جاری کردہ نتائج کے مطابق، پاکستان تحریکِ انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار 93 نشستوں کے ساتھ سرفہرست ہیں جب کہ مسلم لیگ ن 74 سیٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

    پیپلز پارٹی 54 نشستیں لینے میں کامیاب رہی جبکہ متحدہ قومی موومنٹ نے 17 نشستیں حاصل کی ہیں۔

    اس کے علاوہ۔ پاکستان مسلم لیگ، جمیعت علمائے اسلام پاکستان تین تین سیٹیں لینے میں کامیاب ہوئی ہیں جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کو 2 نشستیں ملی ہیں۔

    مجلسِ وحدت المسلمین، بلوچستان نیشنل پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ضیا الحق کو ایک، ایک سیٹ ملی ہے۔

    ابھی بھی بلوچستان سے قومی اسمبلی کے سات حلقوں کے نتائج کا اعلان ہونا باقی ہے۔

    اب تک کے جاری کردہ نتائج کے مطابق، پاکستان تحریکِ انصاف کے حمایت یافتہ آزادامیدوار 93 نشستوں کے ساتھ سرفہرست ہیں
  17. کراچی سمیت سندھ بھر میں مبینہ دھاندلی کے خلاف مذہبی جماعتوں کا احتجاج کا اعلان

    کراچی میں جماعتِ اسلامی نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف اتوار کے روز شہر کے آٹھ مختلف مقامات پر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ جماعتِ اسلامی کا کہنا ہے کہ 'کراچی کے مینڈیٹ پر ڈاکہ' منظور نہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    جبکہ دوسری جانب، جمیعتِ علمائے اسلام نے مبینہ دھاندلی کے خلاف سندھ بھر میں 28 مقامات پر دھرنے دے کر نیشنل ہائیوے بلاک کرنے کا اعلان کیا ہے۔

  18. ’پی ڈی ایم 2.0‘: مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے اتحاد کی صورت میں کن آپشنز پر غور؟

  19. ’شہباز شریف اور آصف زرداری کی ملاقات میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا‘

    مسلم لیگ ن کی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ شہباز شریف اور آصف زرداری کی ملاقات میں ’کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا‘ اور اب ’مزید بات چیت پر اتفاق کیا گیا ہے‘۔

    ایکس پر پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’جناب آصف زرداری یقیناً اپنی جماعت سے مشاورت کریں گے۔ آزاد امید وار بھی الیکٹورل پراسیس میں بہت اہم ہوتے ہیں، آزاد امیدواروں سے بھی رابطے کی ذمے داریاں لگائی گئی ہیں، ہم سب کے مینڈیٹ کو تسلیم کرتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’کل اہم میٹنگ ہے، قیادت جو فیصلہ کرے گی وہی ہوگا، وفاق میں سنگل لارجسٹ پارٹی پاکستان مسلم لیگ (ن) ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    گذشتہ روز پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ لاہور میں اُن کی حکومت سازی کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ ن سمیت کسی سیاسی جماعت سے کوئی گفتگو نہیں ہوئی ہے۔

    اتوار کو نجی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ 'ابھی تک پاکستان پیپلز پارٹی کی کوئی باضابطہ گفتگو نہ ن لیگ کے ساتھ، نہ پی ٹی آئی کے ساتھ اور نہ کسی اور سیاسی جماعت کے ساتھ ہوئی ہے۔'

    بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ 'ہم انتظار کر رہے ہیں کہ پہلے تمام حلقوں کی گنتی پوری ہوجائے اور نتائج سامنے آجائیں۔'

  20. تین دن گزرنے کے بعد بھی قومی اسمبلی کے سات حلقوں کے نتائج کا انتظار

    پاکستان میں 8 فروری کو منعقد ہونے والے بارھویں عام انتخابات کے اب تک کے نتائج کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں لینے میں کامیاب ہوئے ہیں جبکہ سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی جماعت 74 سیٹیوں کے ساتھ دوسرے نمبر۔

    الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلے کے حلقہ 88-NA (خوشاب)، سندھ اسمبلی 18-PS (گھوٹکی) اور خیبرپختونخوا کے حلقہ 90-PK میں انتخابی مٹیریئل چھینے جانے یا ضائع ہو جانے کے باعث متعلقہ پولنگ سٹیشنز پر 15 فروری کو دوبارہ پولنگ کا حکم دیا ہے۔

    کمیشن کے مطابق 88-NA (خوشاب) میں مشتعل افراد نے 26 پولنگ سٹیشنز کے مٹیریئل ریٹرننگ افسر سے چھین کر جلا دیئے تھے جبکہ 18-PS (گھوٹکی) میں نامعلوم افراد نے دو پولنگ سٹیشنز کا مٹیریئل چھین لیا تھا۔

    اس ہی طرح 90-PK (کوہاٹ) میں نامعلوم افراد نے 15 پولنگ سٹیشنز کا مٹیریئل ضائع کر دیا تھا جس کے باعث ان تینوں حلقوں کے متاثرہ پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ پولنگ 15 فروری کو ہو گی۔

    دوسری جانب، انتخابات کے تقریباً تین دن بعد بھی کئی حلقوں کے نتائج کا اعلان ہونا ابھی بھی باقی ہے جبکہ لاہور ہائیکورٹ نے حلقہ 128-NA کے غیر حتمی نتائج پر عملدرآمد روک دیا ہے۔ اس کے علاوہ 8-NA (دی) میں الیکشن ملتوی ہیں۔

    قومی اسمبلی کے جن سات حلقوں کے غیر حتمی نتائج کا الیکشن کمیشن نے ابھی تک اعلان نہیں کیا، ان سب کا تعلق بلوچستان سے ہے۔

    جن حلقوں کے نتائج کا اعلان نہیں ہوا ان کی فہرست یہ ہے:

    • بلوچستان کا حلقہ 251-NA (شیرانی کم ژوب کم قلعہ سیف اللہ)
    • بلوچستان کا حلقہ 252-NA (موسی خیل کم برکھان کم لورالائی)
    • بلوچستان کا حلقہ 254-NA (جھل مگسی کم کچھی کم نصیرآباد)
    • بلوچستان کا حلقہ 258-NA (پنجگور کم کیچ)
    • بلوچستان کا حلقہ 260-NA (چاغی کم نوشکی کم کھاران)
    • بلوچستان کا حلقہ 261-NA (سوراب کم قلات کم مستونگ)
    • بلوچستان کا حلقہ 266-NA (قلعہ عبداللہ کم چمن)
    قومی اسمبلی کے جن سات حلقوں کے غیر حتمی نتائج کا ابھی تک اعلان نہیں ہوا ان سب کا تعلق بلوچستان سے ہے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images