توشہ خانہ ریفرنس: تحائف کی مالیت کم ظاہر کرنے کا الزام، عمران خان اور بشری بی بی پر فرد جرم عائد

اسلام اباد کی احتساب عدالت نے اڈیالہ جیل میں سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر توشہ خانہ ریفرنس میں فرد جرم عائد کی ہے۔ جبکہ جج محمد بشیر نے توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈز ریفرنسز میں عمران خان کی درخواستِ ضمانت مسترد کر دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. ’ذولفقار علی بھٹو نے بذاتِ خود اپنی سزائے موت کے خلاف کوئی رحم کی اپیل دائر نہیں کی تھی‘ عدالتی معاون

    سابق وزیراعظم ذوالفقار بھٹو کی سزائے موت کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں نو رکنی لارجر بینچ کر رہا ہے۔

    سپریم کورٹ نے گزشتہ سماعت پر آرٹیکل 186 کے سکوپ پر معاونت طلب کی تھی اور اس مقصد کے لیے سپریم کورٹ نے کیس پر معاونت کیلئے عدالتی معاونین بھی مقرر کیے تھے۔

    سماعت کا آغاز ہوا تو رضا پاکستان پیپلز پارٹی کے سنئیر رُکن ربانی روسٹرم پر آئے تو چیف جسٹس کی جانب سے استفسار کیا گیا کہ ’کیا آپ عدالتی معاون ہیں؟‘

    جس پر رضا ربانی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’میں عدالتی معاون نہیں لیکن بختاور اور آصفہ بھٹو کا وکیل ہوں، کیس میں فریق بننے کی درخواست جمع کرائی ہے۔‘

    جس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ ’ٹھیک ہو گیا اس درخواست کو دیکھتے ہیں۔‘

    جس کے بعد عدالت کی جانب سے اس عدالتی ریفرنس کے لیے مقرر کیے جانے والے معاون صلاح الدین احمد روسٹرم پر آئے اور دلائل کا آغاز کیا اُن کا کہنا تھا کہ ’میری اہلیہ نواب احمد قصوری کی نواسی ہیں، عدالت فریقین سے پوچھ لے کہ میری معاونت پر کوئی اعتراض تو نہیں؟‘

    جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’اہلیہ نے اعتراض اٹھایا ہے تو پھر بڑا سنجیدہ معاملہ ہے۔‘

    جس پر وکیل فاروق ایچ نائک کا کہنا تھا کہ ’ذولفقار بھٹو کے ورثاء کو بیرسٹر صلاح الدین پر اعتراض نہیں۔‘

    اسی دوران وکیل خواجہ حارث نے بھی کہا کہ ’میرے والد ڈی جی ایف ایس ایف مسعود محمود کے بھٹو کیس میں وکیل تھے، اگر میرے اوپر بھی کسی کو اعتراض ہو تو بتا دیں۔‘

    خواجہ حارث کے ایسا کہنے پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’آپ پر کسی فریق کو اعتراض نہیں آپ فئیر ہیں اس کا یقین سب کو ہے۔‘

    عدالتی معاون مخدوم علی خان نے سید شریف الدین پیرزادہ کا خط پڑھ کر سنایا۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ذولفقار علی بھٹو کی بہن نے صدر مملکیت کے سامنے رحم کی اپیل دائر کی تھی، ذولفقار علی بھٹو نے بذاتِ خود کوئی رحم کی اپیل دائر نہیں کی تھی۔‘

    اسی دوران احمد رضا قصوری روسٹرم پر آ گئے تو چیف جسٹس نے انھیں بات کرنے سے روک دیا اور کہا کہ آپ اپنی نشست پر بیٹھ جائیں، پہلے عدالتی معاون کو بات مکمل کرنے دیں، آپکو انکی کسی بات پر اعتراض ہے تو لکھ لیں۔‘

    عدالتی معاون مخدوم علی خان نے دلائل کا آغاز کیا کہ ’ذولفقار علی بھٹو کو 4 تین کے تناسب سے پھانسی کی سزا دی گئی، بعد میں ایک جج نے انٹرویو میں کہا کہ میں نے دباؤ میں فیصلہ دیا، عدالت کے سامنے سوال بھٹو کی پھانسی پر عمل کا نہیں ہے، بدقمستی سے زوالفقار علی بھٹو کی پھانسی ریورس نہیں ہو سکتی، عدالت کے سامنے معاملہ اس کلنک کا ہے۔‘

    جس پر بینچ میں شامل جسٹس میاں محمد علی مظہر ’اگر اس کیس میں عدالت نے کچھ کیا تو کیا ہر کیس میں کرنا ہو گا؟‘

    اس پر وکیل مخدوم علی خان ’اس ریفرنس کی بنیاد جسٹس نسیم حسن شاہ کا انٹرویو تھا۔‘

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس دئے کہ ’ہمیں ٹی وی چینل کے ڈائریکٹر نیوز نے انٹرویو کی کاپی بھیجی ہے، انٹرویو شاید ہارڈ ڈسک میں ہے، سربمہر ہے ابھی کھولا نہیں۔‘

    چیف جسٹس کی اسٹاف کو انٹرویو کی کاپی ڈی سیل کرنے کی ہدایت۔

  2. باجوڑ میں انسداد پولیو مہم کے لیے جانے والے پولیس اہلکاروں کی گاڑی کے قریب دھماکہ، پانچ اہلکار ہلاک متعدد زخمی, عزیز اللہ خان، نامہ نگار بی بی سی اردو پشاور

    باجوڑ

    ،تصویر کا ذریعہBilal Yasir

    پاکستان میں صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقے باجوڑ میں آج صبح انسداد پولیو مہم کے لیے جانے والے پولیس اہلکاروں کی گاڑی کے قریب ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں کم از کم پانچ پولیس اہلکار ہلاک جبکہ 20 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔

    باجوڑ کے ضلعی پولیس افسر کاشف ذوالفقار کے مطابق یہ واقعہ تحصیل ماموند کے علاقے بیلوٹ فرش میں پیش آیا ہے جہاں نامعلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد نصب کر رکھا تھا۔

    کاشف ذوالفقار نے بی بی سی کو بتایا کہ باجوڑ کے علاقے میں آج (پیر) سے انسداد پولیو مہم کا آغاز ہو رہا ہے اور اسی سلسلے میں پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹی لگائی گئی تھی۔

    ان کے مطابق پولیس اہلکار پولس ٹرک میں سوار تھے، کہ اچانک دھماکہ ہوا۔

    تحصیل ماموند کے علاقے میں اس سے پہلے بھی سکیورٹی اہلکاروں کی گاڑیوں کو سڑک کنارے نصب آئی ای ڈیز سے نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق اس حملے میں ہلاک اور زخمیوں کو فوری طور پر مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    باجوڑ سے مقامی صحافی بلال یاسر اسی علاقے کے رہائشی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’وہ دفتر جانے کے لیے تیار ہو رہے تھے کہ زور دار دھماکہ ہوا۔‘

    ان کے مطابق مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں اور ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں ہسپتال منتقل کیں۔

    پاکستان میں انسداد پولیو ٹیم کے ورکرز اور خاص طور پر ان کی حفاظت پر معمور پولیس اہلکاروں پر یہ پہلا حملہ نہیں بلکہ اس طرح کے متعدد حملے پولیس اہلکاروں پر ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں گذشتہ تیس سالوں میں اس خطرناک مرض پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے جبکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں اس مرض پر قابو پایا جا چکا ہے۔

    گذشتہ سال پاکستان میں پولیو کے 6 مریض سامنے آئے تھے۔

    پاکستان میں انسداد پولیو مہم آج سے پاکستان کے 159 شہروں میں شروع کی گئی ہے۔ ان میں پنجاب میں 23 ملین سے زیادہ، سندھ میں 10 ملین سے زیادہ، خیبر پختونخوا میں 7 ملین سے زیادہ جبکہ بلوچستان میں 2 ملین سے زیادہ بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے کے لیے قطرے پلائے جائیں گے۔

  3. لیول پلیئنگ فیلڈ کیس میں توہین عدالت کی درخواست پر سماعت 15 جنوری تک ملتوی, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سپریم کورٹ آف پاکستان میں آئندہ عام انتخابات میں لیول پلیئنگ فیلڈ کی عدم فراہمی سے متعلق پاکستان تحریک انصاف کی الیکشن کمیشن کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت 15 جنوری تک ملتوی کر دی گئ ہے۔۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس درخواست پر سماعت کی۔ بینج کے دیگر ممبران میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی شامل تھے۔

    یاد رہے کہ 22 دسمبر کو اپنے ایک حکمنامے میں سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی تھی کہ وہ تحریک انصاف کی الیکشن سے متعلق شکایات کو فوری طور پر سن کر حل کرے۔ ان احکامات کے بعد تحریک انصاف کے ایک وفد نے الیکشن کمیشن کا دورہ کر کے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا تھا جس کے جواب میں الیکشن کمیشن نے تمام شکایات کو حل کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی۔

    تاہم تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ اس سپریم کورٹ کے حکم پر پی ٹی آئی کو دی گئی یقین دہانیوں پر عمل درآمد نہ کرنے کے باعث الیکشن کمیشن توہین عدالت کا مرتکب ہوا ہے۔

    تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ انھیں 8 فروری کو ہونے والے الیکشن کے عمل سے باہر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے عمل کے دوران الیکشن کمیشن نے ان کے ’صفِ اول کے 90 فیصد رہنماؤں کے کاغذات مسترد کیے ہیں۔‘

    ان الزامات اور توہین عدالت کی کارروائی سے متعلق پی ٹی آئی کی درخواست کے ردعمل میں الیکشن کمیشن نے اب سپریم کورٹ میں اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے تحریک انصاف کے لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم نہ کرنے سے متعلق دعوے کو مسترد کیا ہے۔

    آج ہونے والی سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکلا ایڈوکیٹ لطیف کھوسہ اور ایڈوکیٹ شعیب شاہین نے دلائل دیے۔

    سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ایڈوکیٹ جنرل پنجاب سے استفسار کیا کہ ’ہم نے پنجاب سے رپورٹ مانگی تھی اُس کا کیا بنا؟ جس پر ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’رپورٹ جمع کروا دی گئی ہے۔‘

    بینچ میں شامل جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ ’ایک رپورٹ الیکشن کمیشن اور دوسری چیف سیکریٹری پنجاب نے جمع کروائی ہے۔‘

    جسٹس محمد علی مظہر نے لطیف کھوسہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’آپ کے لوگوں کے 1195 کاغذات نامزدگی جمع کروائے گئے۔ کیا چیف سیکریٹری پنجاب کا جواب آپ نے دیکھا ہے۔‘

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے لطیف کھوسہ کو مخاطب کرتے ہوا سوال پوچھا کہ ’ہمیں بتائیں رپورٹ میں کیا غلط ہے؟ رپورٹ پر اعتراضات ہیں تو تحریری طور پر جمع کروائیں۔‘

    اس پر لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ’جس وجہ سے رپورٹ مانگی گئی اس کا ایک بھی جواب نہیں دیا گیا۔‘

    اس موقع پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ ’الیکشن کمیشن کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی اُمیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کی شرح 76.18 فیصد ہے۔ آپ یہ بھی کہہ رہے کہ ٹربیونلز نے آپ کے چند اُمیدواروں کی اپیلیں بھی منظور کی ہیں۔‘

    چیف جسٹس نے لطیف کھوسہ کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ’اب آپ چاہتے کیا ہیں؟ کہہ دیں کہ آپ کے سو فیصد کاغذات نامزدگی منظور ہونے چاہییں۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ’الیکشن کمیشن قانون کے مطابق جو نہیں کر رہا وہ عدالت کو بتائیں، یا آپ کو پاکستان کے کسی ادارے پر اعتبار نہیں؟ یا پھر وجوہات بتائیں؟ اگر آپ عدالت سے کوئی حکم چاہتے ہیں تو وہ بتائیں جو ہم کر دیں۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’آپ اپنے دکھڑے نہ روئیں بلکہ بتائیں کہ یہ ریلیف چاہیے۔‘

    چیف جسٹس نے لطیف کھوسہ سے استفسار کیا کہ ’آپ کے مطابق پیپلز پارٹی، ن لیگ سمیت سب جماعتیں آپ کے خلاف سازش کر رہی ہیں، کیا پی ٹی آئی کو الیکشن چاہییں؟‘

    اس پر لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ ’100 فیصد الیکشن چاہییں۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’الیکشن کمیشن کا کام انتخابات کروانا ہے، یہ آپ کے بنائے ہوئے ادارے ہی ہیں، پارلیمان نے ہی بنائے ہیں یہ ادارے، ان اداروں کی قدر کریں۔ اگر ان کی جانب سے بیان کیے گئے حقائق غلط ہیں تو تردید کریں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’آپ کے الزامات پر تردید میں جواب آ جاتا ہے تو آپ کہتے ہیں یہ درست نہیں، ہم کسی کی انتخابی مہم نہیں چلا رہے، دفعہ 144 اور ایم پی او سب کے لیے ہو گا، صرف پی ٹی آئی کے لیے نہیں۔‘

    بلّے کا نشان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لطیف کھوسہ کا چیف جسٹس سے مکالمہ ’میرے منشی سے سپریم کورٹ میں دستاویزات چھینی گئیں، اس واقعہ کا آپکو بھی علم ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’مجھے اس واقعہ کا کوئی علم نہیں ہے، یہ منشی کیا ہوتا ہے وکیل یا ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ہوتا ہے، منشی کو تو چیمبرز جانے کی اجازت ہی نہیں ہے، آپ کے کسی منشی کی درخواست میں نہیں سنوں گا۔‘

    اس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’جسٹس سردار طارق مسعود کے سامنے بھی منشی والا معاملہ اٹھایا تھا۔‘ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’جو ججز یہاں موجود نہیں ان کے بارے میں کوئی بات نہیں سنیں گے، ہمارے سامنے کچھ دائر ہوگا تو ہم اسے دیکھیں گے، اگر ساری دنیا دیکھ رہی اور ہمیں بھی دیکھنا چاہئیے تو یہ بات غلط ہے، کوئی درخواست آئے گی شکایت آئے گی تو ہم سنیں گے۔‘

    لطیف کھوسہ نے ایک مرتبہ پھر دلائیل کا آغاز کیا اور کہا کہ ’پی ٹی آئی کو ختم کرنے کا پلان ہے عمران خان پر فرد جرم عائد کر دی گئی۔‘

    جس پر چیف جسٹس نے اُنھیں روکا اور کہا ’سیاسی باتیں نہ کریں ہمارے سامنے اس وقت عمران خان کی کوئی درخواست نہیں۔‘

    جس پر پی ٹی آئی کہ وکیل شعیب شاہین سامنے آئے اور بولے کہ ’بلے کی نشان والی درخواست آج ہی لگائیں کل پشاور ہائیکورٹ میں سماعت ہے، وکیل حامد خان سپریم کورٹ لائبریری بیٹھے ہیں۔‘

    اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’حامد خان ہمارے سامنے نہیں آئیں گے تو ہم کس کو سنیں، سب سے زیادہ اس وقت مقدمات پی ٹی آئی کے آرہے ہیں، پی ٹی آئی مظلوم ہے اس لیے زیادہ مقدمات آرہے ہیں، سیاسی تقاریر یہاں نہ کی جائیں۔‘

    آپ اس کیس کا بتاتیں کیا کرنا ہے،چیف جسٹس کا لطیف کھوسہ سے مکالمہ ’مجھے تین دن کا وقت دے دیں الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر جواب جمع کرا دونگا، وکیل پی ٹی آئی لطیف کھوسہ کا جواب۔

    سپریم کورٹ نے بلے کے نشان کیس میں حامد خان کو بلا لیا، جس پر پی ٹی آئی کے وکیل شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ ’استدعا ہے کہ آج ہی کیس سماعت کے لیے مقرر کر کے سنا جائے، کل پشاور ہائیکورٹ میں سماعت ہے بلے کے نشان سے متعلق، آج کسی بھی وقت کیس کو سماعت کر کے سن لیں۔‘

    اس پر چیف جسٹس نے شعیب شاہن سے سوال کیا کہ حامد خان کہاں ہیں؟ بلائیں ان کو، اگر آپ اٹھ کر کمرہ عدالت آنے کی زحمت نہیں کریں گے تو ہم کیا کریں؟‘

    پی ٹی آئی کی لیول پلینگ فیلڈ عدم فراہمی پر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت پیر 15 جنوری تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

  4. سپریم کورٹ میں سابق وزیراعظم ذوالفقار بھٹو کی سزائے موت کے خلاف صدارتی ریفرنس پر آج سماعت ہوگی

    بھٹو

    ،تصویر کا ذریعہPPP

    سپریم کورٹ میں سابق وزیراعظم ذوالفقار بھٹو کی سزائے موت کے خلاف صدارتی ریفرنس سے متعلق پاکستان پیپلز پارٹی نے 108 صفحات پر مشتمل تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ آج سابق وزیر اعظم ذوالفقارعلی بھٹو صدارتی ریفرنس کی سماعت کرے گا۔

    تحریری جواب بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے وکیل فاروق ایچ نائیک نے سپریم کورٹ میں جمع کروایا ہے۔ تحریری جواب میں مختلف کتابوں کے حوالہ جات کے ساتھ ساتھ پاکستان کے سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کے انٹرویو کی تفصیلات یو ایس بی اور سی ڈی کی صورت میں جمع کروا دی گئی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے جمع کروائے جانے والے اس تیریری جواب میں سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کے انٹرویو کی انگریزی اور اردو میں ٹرانسکرپٹ بھی جمع کروائی گئی ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ آج سابق وزیر اعظم ذوالفقارعلی بھٹو صدارتی ریفرنس کی سماعت کرے گا۔

    بھٹو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    صدارتی ریفرنس میں کیا کہا گیا تھا؟

    سابق صدر آصف علی زرداری نے اپریل 2011 میں صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا۔ اس ریفرنس میں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کے اُس بیان کو بنیاد بنایا گیا ہے جس میں اُنھوں نے اعتراف کیا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف قتل کے مقدمے کی سماعت کرنے والے بینچ میں سابق فوجی صدر جنرل ضیا الحق کی حکومت کی طرف سے دباؤ تھا۔ اس ریفرنس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف قتل کے مقدمے کی سماعت سیشن کورٹ میں ہونے کی بجائے لاہور ہائی کورٹ میں کی گئی جو کہ آئین کی خلاف ورزی تھی۔

    اس ریفرنس میں وکیل بابر اعوان کا مؤقف تھا کہ قتل میں اعانت پر کسی بھی شخص کو سزائے موت نہیں دی جاسکتی اور یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس کا ریفرنس کسی بھی عدالتی فیصلے میں نہیں دیا جاتا۔ اُنھوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم کے خلاف قتل کے مقدمے کی سماعت کرنے والے ججوں کا رویہ تعصبانہ تھا۔

    ذوالفقار بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اب تک سپریم کورٹ میں چھ سماعتیں ہو چکی ہیں جن میں سے پہلی سماعت دو جنوری 2012 کو جبکہ آخری سماعت 12 نومبر 2012 کو ہوئی تھی۔

    پہلی پانچ سماعتیں سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 11 رکنی لارجر بینچ نے کی تھیں۔ اس آخری ساعت کے آٹھ چیف جسٹس صاحبان اپنی ملازمت کی مدت پوری کر چکے ہیں اور کسی نے بھی اس صدارتی ریفرنس کو سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا۔

    یہ صدارتی ریفرنس پانچ سوالات پر مبنی تھا:

    1۔ ذوالفقار بھٹو کے قتل کا ٹرائل آئین میں درج بنیادی انسانی حقوق مطابق تھا؟

    2۔ کیا ذوالفقار بھٹو کو پھانسی کی سزا دینے کا سپریم کورٹ کا فیصلہ عدالتی نظیر کے طور پر سپریم کورٹ اور تمام ہائیکورٹس پر آرٹیکل 189 کے تحت لاگو ہو گا؟ اگر نہیں تو اس فیصلے کے نتائج کیا ہوں گے؟

    3۔ کیا ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت سنانا منصفانہ فیصلہ تھا؟ کیا ذولفقار علی بھٹو کو سزائے موت سنانے کا فیصلہ جانبدار نہیں تھا؟

    4۔ کیا ذوالفقار علی بھٹو کو سنائی جانے والی سزائے موت قرآنی احکامات کی روشنی میں درست ہے؟

    5۔ کیا ذولفقار علی بھٹو کے خلاف دیے گئے ثبوت اور گواہان کے بیانات ان کو سزا سنانے کے لیے کافی تھے؟

  5. تحریک انصاف کے امیدواروں کی جانب سے جمع کروائے گئے 76 فیصد کاغذات نامزدگی منظور جبکہ 24 فیصد مسترد کیے گئے: الیکشن کمیشن, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں کی جانب سے جمع کروائے گئے 76 فیصد کاغذات نامزدگی منظور جبکہ 24 فیصد مسترد کیے گئے ہیں۔

    الیکشن کمیشن نے یہ جواب پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے دائر کردہ توہین عدالت کی درخواست کے جواب میں جمع کروایا ہے۔ اس سے قبل پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے استدعا کی تھی کہ الیکشن کمیشن اور دیگر ذمہ داران کے خلاف سپریم کورٹ کے 22 دسمبر کے احکامات کی مبینہ خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کارروائی کی جائے کیونکہ الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود پی ٹی آئی کو لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔

    یاد رہے کہ 22 دسمبر کو اپنے ایک حکمنامے میں سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی تھی کہ وہ تحریک انصاف کی الیکشن سے متعلق شکایات کو فوری طور پر سن کر حل کرے۔ ان احکامات کے بعد تحریک انصاف کے ایک وفد نے الیکشن کمیشن کا دورہ کر کے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا تھا جس کے جواب میں الیکشن کمیشن نے تمام شکایات کو حل کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی۔

    تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ انھیں 8 فروری کو ہونے والے الیکشن کے عمل سے باہر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے عمل کے دوران الیکشن کمیشن نے ان کے ’صفِ اول کے 90 فیصد رہنماؤں کے کاغذات مسترد کیے ہیں۔‘

    ان الزامات اور توہین عدالت کی کارروائی سے متعلق پی ٹی آئی کی درخواست کے ردعمل میں الیکشن کمیشن نے اب سپریم کورٹ میں اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے تحریک انصاف کے لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم نہ کرنے سے متعلق دعوے کو مسترد کیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق ریٹرنگ اور ڈپٹی ریٹرنگ افسران سے موصول ہونے والے ڈیٹا کے مطابق تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے قومی اسمبلی کی نشستوں کے لیے جمع کروائے 843 کاغذات نامزدگی میں سے 245 مسترد جبکہ 598 منظور کیے گئے ہیں۔

    اسی طرح صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کے لیے جمع کروائے گئے 1777 کاغذات نامزدگی میں سے 379 مسترد جبکہ 1398 منظور کیے گئے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق مجموعی طور پر تحریک انصاف کے امیدواران کے 76.18 فیصد کاغذات نامزدگی منظور کیے گئے ہیں۔

    اپنے جواب میں الیکشن کمیشن نے مزید کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں تحریک انصاف کے رہنماؤں سے ملاقات کی گئی اور انھیں بلاتفریق لیول پلئنگ فیلڈ فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی اور اس ضمن میں چاروں صوبوں کے آئی جیز اور دیگر متعلقہ حکام کو ہدایات بھی جاری کی گئیں۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق 26 دسمبر تک تحریک انصاف کی جانب سے الیکشن سے متعلق ملک بھر میں 33 شکایات درج کروائی گئیں، جن پر کارروائی کی گئی اور ان شکایات سے متعلق آئی جیز ،چیف سیکریٹریز اور آر اوز نے عملدرآمد رپورٹس بھی جمع کروائیں۔

    سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی اپنی رپورٹ میں الیکشن کمیشن نے عدالت عظمیٰ سے استدعا کی ہے کہ تحریک انصاف کی توہین عدالت سے متعلق درخواست کوجرمانے کے ساتھ مسترد کیا جائے۔

  6. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    گذشتہ روز کی چند اہم خبریں:

    • الیکشن کمیشن کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سیکریٹری الیکشن کمیشن عمرحمید طبیعیت کی ناسازی کے باعث چھٹی پر ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل مقامی میڈیا پر یہ خبریں سامنے آ رہی تھیں کہ سیکریٹری الیکشن کمیشن نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے مگر چیف الیکشن کمشنر نے ان کا یہ استعفیٰ قبول نہیں کیا۔ الیکشن کمیشن نے مزید وضاحت کی کہ الیکشن کمیشن مکمل طور پر فعال ہے اور اس کے کسی کام میں رکاوٹ یا رخنہ نہیں ہے۔
    • صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں ایک مسافر گاڑی پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایبٹ آباد کے ایوب میڈیکل کالج میں زیرِ تعلیم فائنل ایئر کی طالبہ سمیت چار لوگوں کی ہلاکت ہوئی۔ کرم کی پولیس کے مطابق فائرنگ کا نشانہ بننے والی مسافر کوچ پارا چنار سے پشاور جا رہی تھی جس کا ڈرائیور بھی ہلاک ہوا ہے۔ جبکہ فائرنگ کی زد میں ایک دوسری گاڑی بھی آئی اور مجموعی طور پر تین افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
    • ترجمان جمعیت اسلام ف اسلم غوری کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن اتوار کی سہ پہر افغانستان پہنچے ہیں۔ اس دورے کا مقصد پاکستان اور افغانستان کے درمیان پائی جانے والی غلط فہمیوں اور کشیدگی کو دُور کرنا ہے۔ خیال رہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کو اسلام آباد میں تعینات طالبان حکومت کے عبوری سفیر سردار شکیب نے دورۂ افغانستان کی دعوت دی تھی۔
  7. پی ٹی آئی کی آن لائن فنڈ ریزنگ کے دوران پاکستان میں سوشل میڈیا تک رسائی متاثر ہوئی: نیٹ بلاکس

    پی ٹی آئی کی آن لائن فنڈ ریزنگ کے دوران پاکستان میں سوشل میڈیا تک رسائی متاثر ہوئی: نیٹ بلاکس

    انٹرنیٹ، سائبر سکیورٹی اور ڈیجیٹل گورننس پر نظر رکھنے والی عالمی تنظیم نیٹ بلاکس نے کہا ہے کہ پاکستان میں اتوار کو انٹرنیٹ سروسز میں تعطل دیکھنے میں آیا ہے۔

    تنظیم کے مطابق ملک گیر سطح پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی مشکل ہو گئی۔ سوشل میڈیا پر ایکس (سابقہ ٹوئٹر)، فیس بیک، انسٹا گرام اور یوٹیوب کے صارفین اس تعطل سے متاثر ہوئے ہیں۔

    نیٹ بلاکس کے مطابق یہ تعطل ایک ایسے وقت میں آیا جب جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت تحریک انصاف عام انتخابات کے لیے فنڈز جمع کرنے کے لیے ایک ٹیلی تھون کانفرنس کر رہی تھی۔

    خیال رہے کچھ ہفتے قبل تحریک انصاف کے ’ورچوئل جلسے‘ کے دوران بھی پاکستان میں انٹرنیٹ سروسز متاثر ہوئی تھیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ دوسری بار ان کے ورچوئل پروگرام کے دوران اس طرح انٹرنیٹ کا تعطل دیکھنے میں آیا ہے۔

    تحریک انصاف نے نیٹ بلاکس کے ٹویٹ کے جواب میں کہا ہے کہ پاکستان میں نگراں حکومت نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز معطل کی ہیں۔ تحریک انصاف کے مطابق اس طرح کے اقدامات سے پاکستان کا نقصان ہو رہا ہے۔

    تاحال پی ٹی اے نے نیٹ بلاکس یا پی ٹی آئی کے اِن بیانات کا جواب نہیں دیا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

  8. بی بی سی اُردو کی خصوصی لائیو کوریج میں خوش آمدید!

    گذشتہ روز کی خبروں کی تفصیلات کے لیے ہمارے لائیو پیج پر آئیں۔