یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے ہمارے نئے لائیو پیج پر آئیں۔
انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والی ایک عالمی تنظیم نیٹ بلاکس کا کہنا ہے کہ ملکی سطح پر سوشل میڈیا تک رسائی میں تعطل ایک ایسے وقت پر آیا جب جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت تحریک انصاف عام انتخابات کے لیے فنڈز جمع کرنے کے لیے ایک ٹیلی تھون کانفرنس کر رہی تھی۔
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے ہمارے نئے لائیو پیج پر آئیں۔
انٹرنیٹ، سائبر سکیورٹی اور ڈیجیٹل گورننس پر نظر رکھنے والی عالمی تنظیم نیٹ بلاکس نے کہا ہے کہ پاکستان میں اتوار کو انٹرنیٹ سروسز میں تعطل دیکھنے میں آیا ہے۔
تنظیم کے مطابق ملک گیر سطح پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی مشکل ہو گئی۔ سوشل میڈیا پر ایکس (سابقہ ٹوئٹر)، فیس بیک، انسٹا گرام اور یوٹیوب کے صارفین اس تعطل سے متاثر ہوئے ہیں۔
نیٹ بلاکس کے مطابق یہ تعطل ایک ایسے وقت میں آیا جب جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت تحریک انصاف عام انتخابات کے لیے فنڈز جمع کرنے کے لیے ایک ٹیلی تھون کانفرنس کر رہی تھی۔
خیال رہے کچھ ہفتے قبل تحریک انصاف کے ’ورچوئل جلسے‘ کے دوران بھی پاکستان میں انٹرنیٹ سروسز متاثر ہوئی تھیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ دوسری بار ان کے ورچوئل پروگرام کے دوران اس طرح انٹرنیٹ کا تعطل دیکھنے میں آیا ہے۔
تحریک انصاف نے نیٹ بلاکس کے ٹویٹ کے جواب میں کہا ہے کہ پاکستان میں نگراں حکومت نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز معطل کی ہیں۔ تحریک انصاف کے مطابق اس طرح کے اقدامات سے پاکستان کا نقصان ہو رہا ہے۔
تاحال پی ٹی اے نے نیٹ بلاکس یا پی ٹی آئی کے اِن بیانات کا جواب نہیں دیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2

،تصویر کا ذریعہRADIO PAKISTAN
الیکشن کمیشن کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سیکریٹری الیکشن کمیشن عمرحمید طبیعیت کی ناسازی کے باعث چھٹی پر ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل مقامی میڈیا پر یہ خبریں سامنے آئیں کہ سیکریٹری الیکشن کمیشن نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے مگر چیف الیکشن کمشنر نے ان کا یہ استعفیٰ قبول نہیں کیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے اس خبر کی وضاحت اس طرح کی کہ ’سیکریٹری الیکشن کمیشن عمرحمید ایک ذہین اور محنتی افسر ہیں، عمرحمید بہت اچھے طریقے سے کام کر رہے ہیں اور ان کی طبیعت کچھ دنوں سے خراب تھی۔ اس وقت میڈیکل ریسٹ پر ہیں، ان کی صحت نے اجازت دی تو وہ جلد اپنے فرائض انجام دیں گے۔
الیکشن کمیشن نے مزید وضاحت کی کہ الیکشن کمیشن مکمل طور پر فعال ہے اور اس کے کسی کام میں رکاوٹ یا رخنہ نہیں ہے۔
ترجمان کے مطابق تعطیلات کے دنوں میں بھی الیکشن کمیشن کے دفاتر کام کر رہے ہیں۔ ترجمان کے مطابق ’سیکریٹری کی غیر موجودگی میں دونوں سپیشل سیکریٹریز الیکشن کمیشن کا کام احسن طریقے سے چلا رہے ہیں۔‘
واضح رہے کہ سیکریٹری الیکشن کمیشن عمر حمید کی دو سالہ مدت ملازمت گذشتہ برس جولائی میں ختم ہوئی تھی۔ تاہم چیف الیکشن کمشنر نے ان کی مدت ملازمت میں ایک سال کی توسیع کی تھی۔
خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے 8 فروری کو ملک بھر میں عام انتخابات کا اعلان کر رکھا ہے اور اس وقت کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے بعد درخواستوں پر فیصلے کیے جا رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAzmat Ali Zai
صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں ایک مسافر گاڑی پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے خیبرمیڈیکل یونیورسٹی پشاور میں زیر تعلیم نرسنگ کی طالبہ سمیت چار لوگوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔ اس واقعے پر علاقہ مکینوں نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا ہے۔
کرم کی پولیس کے مطابق فائرنگ کا نشانہ بننے والی مسافر کوچ پارا چنار سے پشاور جا رہی تھی جس کا ڈرائیور بھی ہلاک ہوا ہے۔ جبکہ فائرنگ کی زد میں ایک دوسری گاڑی بھی آئی اور مجموعی طور پر تین افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ایک عینی شاہد کے مطابق لوئر کرم کے علاقے صدہ میں صبح آٹھ بجے بائی پاس پُل کے قریب مسافر کوچ پر ’روڈ کے دونوں اطراف سے جدید اسلحے سے اندھا دھند فائرنگ ہوئی۔‘ ایک اور عینی شاہد کے مطابق ’یہ فائرنگ تقریباً دس منٹ تک جاری رہی‘ جس میں بظاہر مسافر کوچ نشانہ تھی مگر اس کے ساتھ موجود کار بھی فائرنگ کی زد میں آ گئی۔

،تصویر کا ذریعہAzmat Ali Zai
کرم کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ میڈیکل کی طالبہ کی نماز جنازہ ادا کر کے ان کی تدفین کر دی گئی ہے جس دوران احتجاجی مظاہرہ بھی ہوا۔ واقعے میں طالبہ کے والد اور بھائی بھی زخمی ہوئے ہیں۔
ضلع کرم ایجنسی کے صحافی عصمت علی زئی کے مطابق لوئر کرم میں اس نوعیت کے واقعات میں ’گذشتہ ایک سال میں کم از کم بیس افراد مارے جاچکے ہیں جبکہ تیس کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔‘ واضح رہے کہ چند ہفتے قبل ضلع کرم میں دو گروہوں کے درمیاں کئی روز تک مسلح جھڑپیں جاری رہی تھیں جس دوران امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے علاقے میں کرفیو نافذ کیا گیا۔
انجمن تاجرانِ پارا چنار کے صدر حاجی روف حسین کا کہنا ہے کہ اس واقعے پر پیر کی صبح ایک جرگہ بلایا گیا ہے جس میں صورتحال کا جائزہ لے کر کوئی فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’اب حالات انتہائی خراب ہوچکے ہیں، اس صورتحال میں اب طوری بنگش اقوام چپ نہیں رہیں گے۔‘
ان کا دعویٰ ہے کہ مسافر گاڑیوں پر تسلسل سے صدہ کے آس پاس بائی پاس پر ’بنگش قبائل کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ لوگ سفر نہیں کرسکتے ہیں۔‘ ضلع کرم پولیس نے اپنے اعلامیہ میں کہا کہ واقعے کی ہر زاویے سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ ’شاہراہ کو محفوظ بنایا جائے گا اور ملزمان کو گرفتار کیا جائے گا۔‘
ترجمان جے یو آئی ف اسلم غوری کے مطابق جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن افغانستان پہنچ گئے ہیں۔
اسلم غوری نے وائس آف امریکہ کے نمائندے علی فرقان کو بتایا ہے کہ مولانا کے دورے کا مقصد پاکستان اور افغانستان کے درمیان پائی جانے والی غلط فہمیوں اور کشیدگی کو دُور کرنا ہے۔
خیال رہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کو اسلام آباد میں تعینات طالبان حکومت کے عبوری سفیر سردار شکیب نے دورۂ افغانستان کی دعوت دی تھی۔
مولانا فضل الرحمٰن ایسے وقت میں کابل کا دورہ کر رہے ہیں جب پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پائی جاتی ہے اور سرحد پر وقتا فوقتاً جھڑپیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہر صورت الیکشن آٹھ فروری کو ہی ہوں گے۔
ان کے مطابق سینیٹ چھوڑ کر اگر قرار داد اقوام متحدہ سے بھی کروا لیں پھر بھی الیکشن آٹھ فروری کو ہی ہوگا۔
ان کے مطابق چیف جسٹس نے بھی یہ کہا ہے کہ آٹھ فروری کی تاریخ پتھر پر لکیر ہے۔
اسلام آباد کی آبپارہ مارکیٹ میں اہلسنت والجماعت کا احتجاجی مظاہرہ ختم ہو گیا ہے۔
یہ مظاہرہ سنی علما کونسل کے سینٹرل ڈپٹی سیکریٹری جنرل اور اہلِ سنت والجماعت کے ترجمان علامہ مسعود الرحمان کی ہلاکت کے بعد کیا گیا تھا۔
اس مظاہرے سے اس گروپ کے رہنماؤں نے خطابات کیے اور ہلاک کیے جانے والے ترجمان کے قاتلوں کی گرفتاری کی مطالبہ کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPTI
احتساب عدالت نے عمران خان کے خلاف اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ اور 190ملین پاونڈ ریفرنسسز کی سماعت آٹھ جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔
توشہ خانہ ریفرنس میں ملزمان پر فرد جرم غائد نہ ہو سکی۔ 190ملین پاونڈ ریفرنس میں ملزمان کو نقول کی تقسیم بھی آٹھ جنوری تک مؤخر کر دی گئی۔
بشریٰ بی ںی اور بانی چیئرمین پی ٹی ائی عمران خان کی درخواست ضمانتوں پر سماعت منگل تک ملتوی کر دی گئی۔
عمران خان کی جانب سے بیٹوں سے ٹیلیفونک گفتگو کی استدعا کی گئی جو عدالت نے منظور کرلی۔
سماعت کے دوران ملزم ملک ریاض کی جانب سے وارنٹ گرفتاری منسوخی کی درخواست خارج کر دی گئی۔
ملزم ملک ریاض کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ اور ویڈیو لنک حاضری کی دائر دارخواستیں واپس لے لی گئیں ہیں۔
ملزم ملک ریاض کی جانب سے وکیل فاروق ایچ نائیک عدالت پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہرعلی خان کی بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی درخواست بھی منظور کرلی گئی۔

لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب کے باہر بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے قائم کیے گئے احتجاجی کیمپ میں فاطی نامی خاتون بھی شریک ہیں۔
وہ کوئٹہ میں رہتی ہیں اور یہاں اسلام آباد پریس کلب کے سامنے اپنے شوہر کی بازیابی کے لیے اس احتجاجی کیمپ کا حصہ بنی ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ان کے شوہر مٹّہ خان مری چار سال سے لاپتہ ہیں۔
ان کے مطابق ’جب بالاچ کو مار دیا گیا تب میں بھی کوئٹہ کے احتجاج میں شامل تھی، جس کے بعد میں اب اسلام آباد اکیلی آگئی ہوں۔‘
فاطی نے بی بی سی کو بتایا کہ مجھے اسلام آباد دیکھنے کا بہت شوق تھا مگر یہ معلوم نہیں تھا کہ مجھے اس طرح اس شہر میں آنا پڑے گا۔‘
فاطی ابھی دیگر اپنے ساتھیوں سمیت اس سردی میں واش روم تک جانے کے لیے کئی بار سوچتی ہیں۔
فاطی نے بتایا کہ ’میں ابھی تک ایک نزدیکی پٹرول پمپ ہی استعمال کرتی ہوں اور وہاں بھی ہراساں ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔‘
خیال رہے کہ سنیچر کے روز اس کیمپ میں لاپتہ افراد کے لواحقین کے سات نئے خاندان بھی شامل ہوئے ہیں۔
ان خاندانوں کا تعلق تُمپ، مند، تربت، ڈیرہ بگٹی، منگوچر سے ہے جبکہ ایک خاندان کا تعلق سوات سے ہے۔
ایک ماہ سے لگے اس کیمپ میں مبینہ طور پر جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد کے لواحقین جمع ہو رہے ہیں۔
اس کیمپ میں شرکا کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کے آرڈر کے بعد پریس کلب کو کہا گیا کہ خواتین کو واش روُم جانے دیا جائے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی انتظامیہ نے اس سلسلے میں سی ڈی اے کے چیئرمین سے ملاقات بھی کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
تحریک انصاف کے رہنما اور وکیل سردار لطیف کھوسہ نے راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کوسینیٹ میں انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق منظور کی جانے والی قرارداد پر نوٹس لینا چاہیے۔
لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’الیکشن کسی بھی قیمت پر ملتوی نہیں ہونے چاہیں۔‘
الیکشن کمیشن اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’کسی جماعت سے اس کا انتخابی نشان چھینا پارٹی پر پابندی کے مترادف ہے۔‘
لطیف کھوسہ نے کہا کہ اپیلوں میں بیشتر کاغذات نامزدگی کی منظوری نگراں حکومت کی جانبداری کو ظاہر کرتی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے راجہ ریاض کی قیادت میں منحرف اراکین کو ٹکٹ دینے کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ن لیگ کی جانب سے ’رجیم چینج‘ کے آلہ کار بننے والوں کو ٹکٹ کی پیشکش عمران خان کی حکومت گرانے کی ’سازش‘ میں ملوث کرداروں کا اعترافِ جرم ہے۔
ترجمان تحریک انصاف منحرف اراکین پر ایک منتخب حکومت کے خلاف سازش میں سہولت کاری کے عوض ن لیگ کی خاص نوازشات ملک میں رہی سہی جمہوریت کا قَلع قَمع کرنے کی طرف قدم ہے۔
ترجمان تحریک انصاف کے مطابق 30 سالہ سیاسی تجربہ رکھنے والی ن لیگ کی عوامی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ الیکشن میں اپنے دیرینہ ساتھیوں کے بجائے پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کو میدان میں اتارنے کی تیاری کررہی ہے۔
ترجمان تحریک انصاف 8 فروری کے دن ملک کے مقبول ترین قائد کے خلاف سازش کے ذریعے جمہوریت پر شب خون مارنے والوں کی رسوائی ہی مقدر ہو گی۔
سابق وزیراعظم ذوالفقار بھٹو کی سزائے موت کے خلاف صدارتی ریفرنس میں پاکستان پیپلز پارٹی نے 108 صفحات پر مشتمل تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا ہے۔
یہ تفصیلی جواب بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے وکیل فاروق ایچ نائیک نے جمع کروایا۔ اس تحریری جواب میں مختلف کتابوں کے حوالہ جات موجود ہیں۔
سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کے انٹرویو کی یو ایس بی، سی ڈی اور دیگر تفصیلات بھی اس جواب کا حصہ ہیں۔ تحریری جواب میں انٹرویو کی انگریزی اور اردو میں ٹرانسکرپٹ بھی جمع کرایا گیا۔
واضح رہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں نو رکنی لارجر بینچ 8 جنوری کو ذوالفقار بھٹو صدارتی ریفرنس کیس کی سماعت کرے گا۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے شرکا نے سی ڈی اے کے چیئرمین سے ملاقات کرکے انھیں اپنے مسائل سے آگاہ کیا ہے۔
سمّی دین بلوچ نے بتایا کہ سب سے بڑا مسئلہ خواتین کے لیے ہے کیونکہ وہ باتھ روم نہیں جاسکتیں۔
انھوں نے کہا کہ ’پریس کلب صبح گیارہ بجے کھلتا ہے اور رات بارہ بجے تک بند ہو جاتا ہے۔ اس دوران ہم خواتین کے لیے واش روم جانا مشکل ہوجاتا ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ سی ڈی اے کی جانب سے انھیں مدد کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

دوسری جانب بلوچ یکجہتی کمیٹی میں شریک سبقت اللہ نے بتایا کہ ’جمعے کی نماز پڑھنے کے لیے ہم سب نے یہیں نزدیکی مسجد کا رُخ کیا لیکن وہاں موجود چند لوگوں نے پہلے پوچھا کہ ’کیا آپ بلوچی ہو؟‘
جب ہم سب نے بتایا کہ جی ہم سب بلوچ ہیں، تب انھوں نے ہمیں نہیں آنے دیا اور کہا کہ تم سب مارچ میں شریک ہوں۔
سنی علما کونسل کے سینٹرل ڈپٹی سیکریٹری جنرل اور اہلِ سنت والجماعت کے ترجمان علامہ مسعود الرحمان کی ہلاکت کے بعد آج آبپارہ مارکیٹ کے سامنے احتجاج جاری ہے۔
ریڈزون پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔
مظاہرین نے آبپارہ مارکیٹ چوک میں سٹیج بنا کر اپنے رہنماؤں کے خطابات سن رہے ہیں۔ سٹیج پر اہل سنت والجماعت کے دیگر رہنماؤں کے علاوہ اس جماعت کے سربراہ احمد لدھیانوی بھی موجود ہیں۔
نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ ’دی اکانومسٹ‘ کے ساتھ عمران خان کے گھوسٹ آرٹیکل کی اشاعت کا معاملہ اٹھایا جائے گا۔
دی اکانومسٹ میں مبینہ طور پر عمران خان کے حوالے سے شائع ہونے والے مضمون کے حوالے سے جمعہ کو سماجی رابطہ کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے ٹویٹ میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ’دی اکانومسٹ‘ کے ایڈیٹر کو مبینہ طور پر عمران خان کی جانب سے تحریر کردہ آرٹیکل کے بارے میں لکھا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ یہ بات حیران اور پریشان کن ہے کہ میڈیا کے ایک معزز ادارے نے ایک ایسے فرد کے نام سے مضمون شائع کیا جو جیل میں ہے اور اسے سزا ہو چکی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اخلاقی معیارات کو برقرار رکھنا اور ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دینا انتہائی ضروری ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم جاننا چاہیں گے کہ ’دی اکانومسٹ‘ کی جانب سے مضمون کی اشاعت کے حوالے سے ادارتی فیصلہ کیسے کیا گیا؟
مواد کی قانونی حیثیت اور اعتبار کے حوالے سے کن باتوں کو مدنظر رکھا؟ انھوں نے کہا کہ کیا ’دی اکانومسٹ‘ نے دنیا کے کسی اور حصے سے جیل میں بند سیاستدانوں کے گھوسٹ آرٹیکل شائع کئے ہیں؟
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اگر جیل میں بند مجرم میڈیا کو لکھنے کے لیے آزاد ہوتے تو وہ اپنی یکطرفہ شکایات کو نشر کرنے کے لیے ہمیشہ اس موقع کا استعمال کرتے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
نگران وفاقی وزیر اطلاعات، نشریات و پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ ’آئین کے آرٹیکل 218(3) کے تحت الیکشن کی تاریخ دینا یا تبدیل کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، ہم کسی آئینی ادارے کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتے۔‘
جمعے کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ ایوان بالا میں الیکشن کے التوا کی قرارداد میں دلائل دینے کا موقع نہیں ملا۔
انھوں نے کہا کہ وزیراعظم یا کابینہ کی طرف سے الیکشن کی تاخیر کے حوالے سے کوئی حکم موجود نہیں تھا، اس لیے اس طرح کی قرارداد کی حمایت کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں تھا۔
انھوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 218(3) کے تحت الیکشن کرانا، الیکشن کی تاریخ دینا یا تبدیل کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، ہم کسی آئینی ادارے کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتے۔
انھوں نے کہا کہ قرارداد کے اندر جو مسائل بیان کیے گئے وہ حقیقی مسائل ہیں لیکن پاکستان کی پارلیمانی سیاست اور انتخابات کی تاریخ میں یہ مسائل پہلے بھی رہے ہیں، سکیورٹی کی فراہمی سمیت موسم اور دیگر مسائل کا خیال رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ابھی تک کسی حلقے کی طرف سے ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا، جس میں واضح پیغام ہو کہ انتخابات نہیں ہونے چاہئیں، الیکشن کے التوا یا انعقاد کا آئینی اختیار صرف اور صرف الیکشن کمیشن کے پاس ہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے لاہور میں خواتین کے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اشرافیہ کا خیال رکھنے کے لیے تحریک انصاف اور ن لیگ کو مسلط کیا گیا ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر غریبوں اور مزدوروں کی حکومت بنانی ہے تو پیپلز پارٹی کو جتوانا ہوگا۔ باقی جماعتیں اشرافیہ کی نمائندگی کرتی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی اگر حکومت بنی تو پھر تنخواہیں دگنا کر دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’آپ میری آواز بنیں، آپ میرے نمانندے بنیں۔ میں تقسیم، نفرت اور گالم گلوچ کی سیاست دفن کرنا چاہتا ہوں۔‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ بھوک کو مٹانے کے لیے منصوبے شروع کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نوجوانوں کو بینیظر کارڈ دلوائیں گے۔ کسانوں کو کسان کارڈ دلوائیں گے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ’میں مفت تعلیم اور صحت کے ادارے بنانا چاہتا ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
حکومت نے جمعے کے دن سینیٹرز کو ایک سوال کے جواب میں بتایا ہے کہ چیئرمین کرکٹ بورڈ ذکا اشرف کا مشغلہ کرکٹ ہے۔ واضح رہے کہ سینیٹر مشتاق احمد نے اپنے سوال میں چیئرمین پی سی بی کی قابلیت پوچھی تھی۔
جمعے کو ایوان بالا میں وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر مشتاق احمد کے سوال کے جواب میں نگران وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے ایوان کو بتایا کہ کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی تقرری نگران حکومت نے نہیں کی۔
مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ کھیلوں کے وزیر اس وقت وزیراعظم کے ساتھ مصروف ہیں لہٰذا جب وہ خود آئیں گے تو پھر اس سوال کا جواب دے سکتے ہیں۔ تاہم انھوں نے بتایا کہ ’ان کی تقرری سابق حکومت کے دور میں ہوئی تھی، وہ پہلے بھی کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔‘
مرتضیٰ سولنگی نے مزید وضاحت کی کہ نگراں حکومت نے کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے اختیارات کو محدود کیا ہے اور انھیں ہدایت کی ہے کہ وہ کوئی بنیادی فیصلہ نہیں کر سکتے اور اس کے ساتھ ساتھ الیکشن کا بھی حکم دے دیا گیا ہے۔
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ جب کھیلوں کے وزیر ایوان میں آئیں گے تو پھر وہ خود اس کا تفصیلی جواب دیں گے۔ اب متعلقہ وزیر اس سوال کا جواب دیں گے۔
تاحیات نااہلی سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا کہ ان درخواستوں پر فیصلہ جلد سنائیں گے۔
پاکستان کے پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ نے ملک میں 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات ملتوی کرانے کی قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی ہے۔
سینیٹر دلاور خان نے عام انتخابات ملتوی کرانے کی قرارداد پیش کی، جس میں کہا گیا ہے کہ اکثر علاقوں میں سخت سردی ہے، اس وجہ سے ان علاقوں کی الیکشن عمل میں شرکت مشکل ہے۔
سینیٹر دلاور خان نے کہا کہ جے یو آئی ف کے ارکان اور محسن داوڑ پر بھی حملہ ہوا، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز پر حملے ہوئے ہیں جبکہ ایمل ولی خان اور دیکر سیاسی رہنماؤں کو تھرٹ ملے ہیں۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کے انعقاد کے لئے ساز گار ماحول فراہم کیا جانا چاہے۔
خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں جاری ہیں۔ محکمہ صحت ایک بار پر کورونا وبا کے پھیلنے کا عندیہ دے رہا ہے۔
قرارداد میں کہا گیا کہ چھوٹے صوبوں میں باالخصوص الیکشن مہم کو چلانے کے لئے مساوی حق دیا جائے۔
قرارداد میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن شیڈول معطل کرکے ساز گار ماحول کے بعد شیڈول جاری کرے۔
مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر افنان اللہ نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ میں سینیٹر دلاور خان کی وجوہات کو درست کرنا چاہتا ہوں، ملک میں سکیورٹی کے حالت ٹھیک نہیں لیکن سنہ 2008 اور سنہ 2013 میں حالات اس سے زیادہ خراب تھے۔ ان کے مطابق سیکورٹی کا بہانہ کر کے الیکشن ملتوی کریں گے تو کبھی الیکشن نہیں ہوں گے۔
سینیٹر افنان اللہ کا کہنا تھا کہ کیا دوسری عالمی جنگ میں برطانیہ اور امریکا نے الیکشن ملتوی کیا۔ انھوں نے کہا کہ موسم کا بہانہ بنایا جاتا ہے، فروی میں دو مرتبہ الیکشن ملتوی ہو چکے ہیں۔
انھوں نے سردیوں میں ہونے والے انتخابات کی تاریخ پر بات کی۔ نگراں وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے بھی قرارداد کی مخالفت کی۔
جب قرارداد پیش کی گئی تو اس وقت ایوان میں صرف چودہ ارکان موجود تھے۔ بلوچستان عوامی پارٹی، فاٹا اراکین، پی ٹی آئی کے گردیب سنگھ اور پیپلز پارٹی کے بہرمند تنگی کی قرارداد کی حمایت کی۔