پی ٹی آئی کی آن لائن فنڈ ریزنگ کے دوران پاکستان میں سوشل میڈیا تک رسائی متاثر ہوئی: نیٹ بلاکس

انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والی ایک عالمی تنظیم نیٹ بلاکس کا کہنا ہے کہ ملکی سطح پر سوشل میڈیا تک رسائی میں تعطل ایک ایسے وقت پر آیا جب جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت تحریک انصاف عام انتخابات کے لیے فنڈز جمع کرنے کے لیے ایک ٹیلی تھون کانفرنس کر رہی تھی۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, تاحیات نااہلی کیس کی سماعت: ’پورا پاکستان پانچ سالہ نااہلی کے قانون سے خوش ہے، کسی نے اسے چیلنج نہیں کیا‘، چیف جسٹس, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    پاکستان کی سپریم کورٹ میں آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح کے کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ فیصلہ کیا ہے کہ انتخابات سے متعلق انفرادی کیس ہم نہیں سنیں گے۔

    سپریم کورٹ میں آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح کے کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا سات رکنی بینچ کر رہا ہے، لارجر بینچ میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بھی شامل ہیں۔

    کیس کی سماعت شروع ہونے پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے انتخابات سے متعلق انفرادی کیس ہم نہیں سنیں گے، ہم آئینی تشریح سے متعلق کیس کو سنیں گے، انتخابات سے متعلق انفرادی کیس اگلے ہفتے کسی اور بینچ میں لگا دیں گے۔

    جہانگیر ترین کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کا آغاز کیا جب کہ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ الیکشن سے متعلق تمام کیسز آئندہ ہفتے ریگولر بینچ میں مقرر ہوں گے۔

    مخدوم علی خان نے کہا کہ اس عدالت کے سامنے بنیادی سوال اسی عدالت کے سابقہ فیصلے کا ہے، اس عدالت نے پبلک نوٹس جاری کیا اس پر آیا ہوں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ کے مطابق نااہلی کا ڈیکلیریشن سول کورٹ سے آئے گا؟ مخدوم علی خان نے کہا کہ جی، ڈیکلیریشن سول کورٹ سے آئے گا، سول کورٹ فیصلے پر کسی کا کوئی بنیادی آئینی حق تاعمر ختم نہیں ہوتا، کامن لا سے ایسی کوئی مثال مجھے نہیں ملی، کسی کا یوٹیلٹی بل بقایا ہو جب ادا ہو جائے تو وہ اہل ہوجاتا ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا سول کورٹ نااہلی کا ڈیکلیریشن دے سکتا ہے؟ مخدوم علی خان نے کہا کہ سول کورٹ ایسا ڈیکلیریشن نہیں دے سکتا، کون سا سول کورٹ ہے جو کسی کو واجبات باقی ہونے پر کہہ دے یہ صادق و امین نہیں۔

    جسٹس میاں محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ آرٹیکل 62 کا اطلاق الیکشن سے پہلے ہی ہوتا ہے یا بعد بھی ہو سکتا ہے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم خود کو آئین کی صرف ایک مخصوص جز تک محدود کیوں کر رہے ہیں، ہم آئینی تاریخ کو ، بنیادی حقوق کو نظرانداز کیوں کر رہے ہیں، آئین پر جنرل ایوب سے لے کر تجاوز کیا گیا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مخصوص نئی جزئیات داخل کرنے سے کیا باقی حقوق لے لیے گئے؟ ہم پاکستان کی تاریخ کو بھول نہیں سکتے، پورے ملک کو تباہ کرنے والا پانچ سال بعد اہل ہوجاتا ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ قانون سازی کے ذریعے ڈیکلریشن کی مدت پانچ سال کی گئی ہے، وکیل مخدوم علی خان نے مؤقف اپنایا کہ نااہلی کی مدت مناسب وقت کیلئے ہونی چاہیے تاحیات نہیں، اگر کوئی قانون چیلنج کرے پھر عدالت دیکھے گی۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پورا پاکستان پانچ سال نا اہلی مدت کے قانون سے خوش ہے، کسی نے قانون چیلنج ہی نہیں کیا، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو ختم کریں کیونکہ بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا ایسی مثال ہے کہ جمہوریت کے رنگ میں کسی کو واپس آنے بارے سزاؤں کو دیکھا جائے، جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ڈکلیریشن کی مدت پانچ سال ہے؟

    وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ جب قانون چیلنج ہوگا عدالت تب دیکھ سکتی ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا آئینی شق کو عام قانون سے ریگولیٹ کیا جا سکتا ہے؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس میں اصول طے کر چکے ہیں کہ قانون سے ریگولیٹ ہو سکتا ہے۔

  2. بریکنگ, فواد چوہدری کے جسمانی ریمانڈ میں مزید چار روز کی توسیع

    Fawad Ch

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد کی احتساب عدالت نے جہلم کے تعمیراتی منصوبوں میں خورد برد کے کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما و سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔

    اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے فواد چوہدری کے خلاف جہلم میں تعمیراتی منصوبوں میں خوردبرد کیس کی سماعت کی جس سلسلے میں نیب حکام نے سابق وزیر کو عدالت میں پیش کیا۔

    فواد چوہدری کی جانب سے راجہ عامر نے وکالت نامہ جمع کرایا جب کہ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں دلائل دیے۔ دوران سماعت عدالت نے فوادچوہدری کی جانب سے خاندان سے ملاقات کی استدعا منظور کر لی۔

    نیب پراسیکیوٹر نے فوادچوہدری کے مزید جسمانی ریمانڈ استدعا کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سات بینک اکاؤنٹس سے معلوم ہوتا ہےکہ چند ٹرانزیکشن مشکوک ہوئیں، مشکوک بینک اکاؤنٹس کی ٹرانزیکشن سے ملزم پر رشوت کا شک ہے۔

    نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ فواد چوہدری کیس سے متعلق بینکنگ ریکارڈ برآمد کرنا ہے لہٰذا ان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید توسیع کی جائے۔

    عدالت نے نیب کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو کچھ دیر بعد سناتے ہوئے فواد چوہدری کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔

    عدالت نے سابق وزیر فواد چوہدری کے مزید چار روز کے جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا اور انھیں نو جنوری کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

  3. بریکنگ, ’بلوچ مظاہرین کو ہراساں نہ کریں‘: اسلام آباد ہائی کورٹ کی پولیس اور انتظامیہ کو ہدایت

    بلوچ

    ،تصویر کا ذریعہX/@BYCKECH

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی بلوچ مظاہرین کی اسلام آباد پولیس کی جانب سے مسلسل ہراساں کیے جانے کے خلاف درخواست پر سماعت کر رہے ہیں۔

    پٹشنر سمیع دین بلوچ کی جانب سے وکیل عطا اللہ کنڈی عدالت کے سامنے پیش ہوئے جبکہ انتظامیہ میں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن اور ایس ایس پی آپریشنز عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

    سماعت کے دوران ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے کہا کہ ’راونڈ دا کلاک ساؤنڈ سسٹم تو استعمال نہیں کر سکتے، دوسرے شہریوں کے بھی حقوق ہیں۔‘

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ’اگر عورتیں بچوں کو کچھ ہوا تو انتظامیہ پولیس کی ذمہ داری ہو گی۔ مظاہرین کو تحفظ دینا بھی پولیس انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ’مظاہرین کو ہراساں نہ کریں۔‘

    جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ’جن کے بھائی، باپ، بیٹے گمشدہ ہیں وہی جانتے ہیں ان پر کیا گزر رہی ہے۔ شاہراہ دستور ڈی چوک یہاں تو زندگی گزر گئی لوگ احتجاج کرتے ہیں۔‘

    کیس کی مزید سماعت 19 جنوری کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

  4. بریکنگ, صرف ایک جنرل نے یہ شق ڈال دی تو ہم سب پابند ہو گئے؟: چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    ارکانِ پارلیمان کی تاحیات نااہلی سے متعلق سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کا کہنا تھا کہ ’ہم خود کو آئین کی صرف ایک مخصوص جزو تک محدود کیوں کر رہے ہیں۔ ہم آئینی تاریخ کو، بنیادی حقوق کو نظرانداز کیوں کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے ریمارکس دیے کہ ’آئین پر جنرل ایوب سے لے کر تجاوز کیا گیا۔ مخصوص نئی جزئیات داخل کرنے سے کیا باقی حقوق لے لیے گئے؟

    ’ہم پاکستان کی تاریخ کو بھول نہیں سکتے، پورے ملک کو تباہ کرنے والا پانچ سال بعد اہل ہو جاتا ہے۔‘

    چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ’صرف کاغذات نامزدگی میں غلطی ہو جائے تو تاحیات نااہل؟ صرف ایک جنرل نے یہ شق ڈال دی تو ہم سب پابند ہو گئے؟ خود کو محدود نہ کریں بطور آئینی ماہر ہمیں وسیع تناظر میں سمجھائیں۔‘

  5. الیکشن سے متعلق تمام کیسز آئندہ ہفتے ریگولر بنچ میں مقرر ہوں گے: چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    سپریم کورٹ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں سات رکنی بینچ ارکان پارلیمنٹ کی تاحیات نااہلی کی مدت کے تعین سے متعلق کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

    لارجر بینچ میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان شامل جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بینچ کا حصہ ہیں۔

    جہانگیر ترین کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کا آغاز کر دیا ہے۔

    سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’الیکشن سے متعلق تمام کیسز آئندہ ہفتے ریگولر بنچ میں مقرر ہوں گے۔ ارکان پارلیمان کی باہمی کی مدت کے تعین سے متعلق کیس میں انفرادی لوگوں کے مقدمات نہیں سنیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’انفرادی لوگوں کے الیکشن معاملات آئندہ ہفتے سنیں گے۔ ہو سکتا ہے تب تک ہمارا اس کیس میں آرڈر بھی آ چکا ہو۔‘

  6. دی اکانومسٹ میں عمران خان کی مبینہ تحریر: ’عوام شکوک و شبہات میں مبتلا ہیں کہ الیکشن ہوں گے بھی کہ نہیں‘

    pti

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان نے جیل سے نامور بین الاقوامی جریدے ’دی اکانومسٹ‘ میں پاکستان کی صورتحال کے حوالے سے شائع ہونے والے ایک مبینہ آرٹیکل میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو لیول پلیئنگ فیلڈ دی جائے۔

    بی بی سی آزادانہ طور پر یہ تصدیق نہیں کر سکا کہ آیا یہ تحریر عمران خان کی جانب سے بذاتِ خود لکھ کر دی اکانومسٹ کو ارسال کی گئی ہے یا نہیں۔

    انھوں نے اس تحریر میں کہا ہے کہ ’پاکستان میں وفاقی اور صوبائی دونوں سطحوں پر نگراں حکومتیں چل رہی ہیں۔

    ’یہ انتظامیہ آئینی طور پر غیر قانونی ہے کیونکہ پارلیمانی اسمبلیاں تحلیل ہونے کے 90 دنوں کے اندر انتخابات نہیں کرائے گئے تھے۔‘

    تحریر میں مزید کہا گیا کہ ’اعلان ہو چکا ہے کہ آٹھ فروری کو عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں لیکن سپریم کورٹ کے مارچ میں الیکشن کروانے کے واضح حکم کے باوجود گذشتہ ایک سال کے دوران پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات نہیں کروائے گئے۔

    ’اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے عوام شکوک و شبہات میں مبتلا ہیں کہ الیکشن ہوں گے بھی کہ نہیں۔‘

    عمران خان کہتے ہیں کہ ’الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے عجیب و غریب ہیں ، اس نے نہ صرف سپریم کورٹ کی مخالفت کی ہے بلکہ اس نے میری پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کیے، پارٹی کے اندرونی انتخابات میں رکاوٹیں ڈالی ہیں اور محض تنقید کرنے پر میرے اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے خلاف توہین عدالت کے مقدمات چلائے جا رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’انتخابات ہوں یا نہ ہوں، اپریل 2022 میں عدم اعتماد کے مضحکہ خیز ووٹ کے بعد جس طرح مجھے اور میری پارٹی کو نشانہ بنایا گیا، اس سے ایک چیز واضح ہو گئی ہے، اسٹیبلشمنٹ ہمیں لیول پلیئنگ فیلڈ دینے کیلئے تیار نہیں، لیول ون تو دور کی بات ہے۔ یہ اسٹیبلشمنٹ ہی تھی جس نے امریکا کے دباؤ میں ہماری حکومت ختم کی۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’امریکہ ہماری آزاد خارجہ پالیسی اور فوجی اڈے فراہم کرنے کیلئے ہمارے انکار کی وجہ سے مشتعل تھا۔ میں نے واضح کیا تھا کہ ہم سب کے دوست ہوں گے لیکن جنگوں کے لیے کسی کے پراکسی نہیں ہوں گے۔

    ’میں نے ایسے ہی یہ موقف اختیار نہیں کیا۔‘

  7. بی بی سی اردو کی خصوصی لائیو کوریج میں خوش آمدید!

    اس سے پہلے کی خبروں کے لیے ہمارے پچھلے لائیو پیج پر آئیں۔