’توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے، تاحیات نااہلی کا فیصلہ اسلامی اصولوں کے خلاف ہے‘: چیف جسٹس فائز عیسیٰ

ارکان پارلیمنٹ کی آرٹیکل 62 ون ایف اور الیکشن ایکٹ کے سیکشن 232 کے تحت نااہلی کی مدت سے متعلق کیس کی سماعت جمعے تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ ’توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے، تاحیات نااہلی کا فیصلہ اسلامی اصولوں کیخلاف ہے۔‘ دوسری جانب بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے کہا ہے کہ ’پی ٹی آئی کو بلّے کا نشان ملے نا ملے بطور پارٹی یہ سب ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتے۔‘

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے

    اس کے بعد کی خبروں کے لیے ہمارے نئے لائیو پیج پر آئیں۔

  2. پاکستان میں سردیوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ دھند یا کچھ اور؟

  3. ’تاحیات نااہلی کا فیصلہ اسلامی اصولوں کیخلاف ہے‘ چیف جسٹس پاکستان

    ارکان پارلیمنٹ کی آرٹیکل 62 ون ایف اور الیکشن ایکٹ کے سیکشن 232 کے تحت نااہلی کی مدت سے متعلق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سات رکنی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

    چیف جسٹس کے مقرر کردہ عدالتی معاون فیصل صدیقی کی جانب سے اپنے دلائل مکمل کر لینے کی بعد اس کیس کی سماعت کل (جمعہ) تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

    اب سے کُچھ دیر قب عدالتی معاون فیصل صدیقی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’اس ملک میں عدالتی قتل سے بھی جمہوریت کو سبوتاژ کیا گیا۔‘

    عدالت میں ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ ’توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے، تاحیات نااہلی کا فیصلہ اسلامی اصولوں کیخلاف ہے۔‘

    بینچ میں شامل جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ’اس بات کا کیا ثبوت ہوگا کہ کس نے توبہ کی ہے کس نے نہیں۔‘

    عدالتی معاون فیصل صدیقی کی جانب سے یہ استدعا کی گئی کہ ’عدالت آئندہ انتخابات تک ہی نااہلی کو محدود رکھے۔‘

    جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ’آئندہ انتخابات تک ڈیکلریشن ازخود کیسے ختم ہوجائے گا؟ کاغذات نامزدگی مسترد ہو جائیں تو ڈیکلریشن لیکر امیدوار کہاں جائے گا؟‘

    وکیل فیصل صدیقی کا کہنا تھا کہ ’آرٹیکل 62 ون ایف میں ڈیکلریشن دینے کا کوئی طریقہ کار نہیں دیا گیا، بے ایمانی کا ڈیکلریشن آنے تک ہر شخص ایماندار تصور ہوگا، فیصل واووڈا اور تاحیات نااہلی کے فیصلوں میں کوئی تضاد نہیں ہے، فیصل واووڈا کیس میں نااہلی کا فیصلہ سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دیا تھا۔‘

    اپنے دلائل مکمل کرتے ہوئے عدالتی معاون فیصل صدیقی نے کہا کہ ’عدالت نے قرار دیا تھا کہ الیکشن کمیشن عدالت نہیں ہے۔‘

    عدالتی معاون فیصل صدیقی کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے اس کیس کی سماعت کل (جمعہ) صبح ساڑھے نو بجے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

  4. ’کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ سپریم کورٹ یہ معاملہ پارلیمنٹ پر ہی چھوڑ دے؟ کہ جو ترمیم کرنی ہے کر لیں‘ جسٹس منصور علی شاہ

    ارکان پارلیمنٹ کی آرٹیکل 62 ون ایف اور الیکشن ایکٹ کے سیکشن 232 کے تحت نااہلی کی مدت سے متعلق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سات رکنی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

    جہاں چیف جسٹس کے مقرر کردہ عدالتی معاون فیصل صدیقی کی جانب سے دلائل کا سلسلہ جاری ہے۔

    عدالتی معاون نے اپنے دلائل میں دورانِ سمارت کہا ’سمیع اللہ بلوچ کا فیصلہ نااہلی کی مدت کا تعین کر رہا ہے، عدالت نے دیکھنا ہے کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو ختم کرنے کی نیت سے کی گئی یا نہیں، اگر الیکشن ایکٹ کی ترمیم برقرار رکھنی ہے تو سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو ختم ہونا ہو گا۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’نااہلی کی مدت، طریقہ کار اور پروسجر کا تعین ہونا ضروری تھا۔‘

    اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ’اگر پارلیمنٹ نے پہلے ہی سپریم کورٹ کا فیصلہ ختم کر دیا تو عدالت کیوں اپنے فیصلے کو ختم کرے؟‘

    عدالتی معاون فیصل صدیقی نے کہا ’پارلیمنٹ سادہ قانون سازی سے سپریم کورٹ کی آئینی تشریح ختم نہیں کر سکتی، اس میں کوئی شک نہیں کہ سپریم کورٹ کا فیصلے چلے گا یا الیکشن ایکٹ، پارلیمنٹ نے نااہلی کی مدت کم سے کم پانچ سال کرتے وقت الیکشن ایکٹ ترمیم کا اطلاق اٹھارویں ترمیم سے کیا۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’سمیع اللہ بلوچ نے ایسا فیصلہ دیا جس پر آئینی خلا تھا، سمیع اللہ بلوچ فیصلہ اس لیے آیا کہ آئینی خلا پر ہو سکے۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’آئین میں خلا کہ صورت میں یہی کیوں سمجھا جاتا ہے کہ اس کو پر کرنے کے لیے عدالتی تشریح ہی ہو گی؟ آئین جن چیزوں پر خاموش ہے اس کا مقصد قانون سازی کا راستہ کھلا رکھنا بھی ہو سکتا ہے نا کہ عدالتی تشریح، آئین میں تو قتل کی سزا بھی درج نہیں اس لیے تعزیرات پاکستان لایا گیا۔‘

    بینچ میں شامل جسٹس منصور علی شاہ کا وکیل فیصل صدیقی سے مکالمہ ’آپ کہہ رہے الیکشن ایکٹ اور عدالتی فیصلے کی موجودگی میں تیسرا راستہ نکالا جائے، وہ نظریہ بتائیں جو اس صورتحال سے باہر نکالے، کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ سپریم کورٹ یہ معاملہ پارلیمنٹ پر ہی چھوڑ دے؟ پارلیمنٹ خود دیکھے جو ترمیم کرنی ہے کر لیں۔

  5. ’سپریم کورٹ کو تاحیات نااہلی کا فیصلہ واپس لینا ہوگا‘ عدالتی معاون کے دلائل

    ارکان پارلیمنٹ کی آرٹیکل 62 ون ایف اور الیکشن ایکٹ کے سیکشن 232 کے تحت نااہلی کی مدت سے متعلق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سات رکنی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے جہاں اب سے کُچھ دیر قبل لیے جانے والے وقفہ کے بعد ایک مرتبہ پھر سماعت کا آغاز ہو گیا ہے۔

    چیف جسٹس نے آج سماعت کے آغاز پر کہا تھا کہ گذشتہ سماعت پر ہم نے ریما عمر، عزیز بھنڈاری اور فیصل صدیقی کو عدالتی معاون مقرر کیا تھا۔ اب عزیز بھنڈاری کے بعد فیصل صدیقی کی جانب سے دلائل کا آغاز کیا گیا ہے۔

    عدالتی معاون فیصل صدیقی نےدلائل دیتے ہوئے کہا ’میں انھیں نکات پر فوکس کروں گا جو عدالت کے سامنے ہیں، میں نااہلی کی مدت پر بات کروں گا، سمیع اللہ بلوچ کیس صرف مدت کی بات کرتا ہے۔‘

    عدالتی معاون فیصل صدیقی نے تاحیات نااہلی والے سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو ختم کرنے کی حمایت کر دی۔

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’الیکشن ایکٹ میں کی گئی ترمیم کے پیچھے نیت دیکھنا ہوگی، ترمیم سے نااہلی کی مدت زیادہ سے زیادہ پانچ سال کی گئی، صوابدید عدالت پر چھوڑی گئی ہے کہ پانچ سال کے اندر کتنی مدت کی نااہلی کرنی ہے، الیکشن ایکٹ میں ترمیم کا مقصد سمیع اللہ بلوچ کیس کو ’اووررائٹ‘ کرنا تھا، تاحیات نااہلی کے فیصلے کی موجودگی میں الیکشن ایکٹ میں ترمیم بے سود ہے، عدالتی فیصلے کا اثر کسی سادہ قانون سازی سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

    عدالتی معاون فیصل صدیقی کا کہنا تھا کہ ’تاحیات نااہلی کا فیصلہ واپس لئے بغیر پانچ سال نااہلی کا قانون غیرآئینی ہوگا، سپریم کورٹ کو تاحیات نااہلی کا فیصلہ واپس لینا ہوگا، سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی عدالتی ڈیکلریشن کی بنیاد پر دی تھی، لازمی نہیں کہ عدالتی ڈیکلریشن ہمیشہ کیلئے ہو۔‘

    وکیل فیصل صدیقی نے مزید کہا کہ ’ڈیکلریشن ختم ہوتے ہی نااہلی کی معیار بھی ختم ہوسکتی ہے۔‘

  6. ’کیا خود جج اس معیار پر پورا اترتا ہے جو کسی اور کو صادق اور امین قرار دے؟‘ جسٹس مسرت ہلالی

    ارکان پارلیمنٹ کی آرٹیکل 62 ون ایف اور الیکشن ایکٹ کے سیکشن 232 کے تحت نااہلی کی مدت سے متعلق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سات رکنی بینچ اس کیس کی سماعت میں ایک مرتبپ پھر وقفہ۔

    دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ’آئین میں یہ جو چیزیں آئیں کس راستے سے آئیں، لوگوں اور پارلیمنٹ نے سوچ سمجھ کر قانون سازی نہیں کی، ان پر تھونپی گئی ہیں یہ چیزیں، 62 ون ایف کی ٹیونگ کی گئی، جبرا چیزیں، ایک شخص کی مرضی پورے پاکستان پر حاوی ہو گئیں، پاکستان کو یرغمال بنانے والوں نے معافی مانگی کسی سے؟ یہ چیزیں مارشل لا اور ڈکٹیٹرز کے دور کے دوران آئیں۔‘

    بینچ میں شامل جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ ’کیا اس جج کیلئے بھی کوئی معیار ہے جو کسی کو صادق و امین کا ڈکلیریشن دیتا ہے، کیا خود جج اس معیار پر پورا اترتا ہے جو کسی اور کو امین قرار دے۔‘

    سماعت میں ایک مرتبہ پھر وقفہ کردیا گیا ہے۔

  7. ’جھوٹ بولنے والا تاحیات نااہل اور بغاوت کرنے والا پانچ سال نااہل کیسے ہوسکتا؟‘ چیف جسٹس, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی اردو

    ارکان پارلیمنٹ کی آرٹیکل 62 ون ایف اور الیکشن ایکٹ کے سیکشن 232 کے تحت نااہلی کی مدت سے متعلق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سات رکنی بینچ اس کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’جھوٹ بولنے والا تاحیات نااہل اور بغاوت کرنے والا پانچ سال نااہل کیسے ہوسکتا؟ اس نکتے کی طرف کسی کا دیہان نہیں گیا، پارلیمنٹ نے یہ ترامیم مرضی سے نہیں کیں، ان پر تھوپی گئی ہیں۔‘

    عدالتی معاون عزیر بھنڈاری نے کہا ’اٹھارہویں ترمیم کسی نے تھوپی نہیں ہے۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’پورے پاکستان کو یرغمال بنانے والے دوبارہ الیکشن لڑ رہے ہیں، آئین میں یہ سب چیزیں کہاں سے آئیں یہ کوئی نہیں بتا رہا، کوئی وکیل بھی ڈکٹیٹر کیخلاف بات نہیں کرتا، ڈکٹیٹر کہتا ہے یہ ترامیم کرو نہیں تو میں پچیس سال بیٹھا رہوں گا، آمر کو ہٹانے کیلئے پارلیمان اس کی بات مان لیتی ہے۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’ڈکٹیٹرز کی اقتدار کو طول نہ دینے کے لیے پالیمان کو آئین میں ترامیمکرنے سے متعلق اس کی بات کو ماننا پڑتا ہے، ہم ہوا میں باتیں کر رہے ہیں، ایک سوال کا جواب دیں، ایک ڈیکلیریشن آنے کے بعد کوئی دوبارہ عدالت جا سکتا ہے؟ کیا کوئی جا کر کہہ سکتا ہے اب توبہ کر لی ڈیکلیئر کریں میں بہت اچھا مسلمان ہوں؟

  8. ’ہم نے آر او کے لیے چیزیں آسان بنانی ہیں اُن کو مزید مُشکل نہیں کرنا‘ چیف جسٹس, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی اردو

    ارکان پارلیمنٹ کی آرٹیکل 62 ون ایف اور الیکشن ایکٹ کے سیکشن 232 کے تحت نااہلی کی مدت سے متعلق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سات رکنی بینچ اس کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

    چیف جسٹس پاکستان نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ ’ہم نے چیزوں کو آسان بنانا ہے مشکل بنانا نہیں، ہم نے آر او کیلئے آسانی لانی ہے مشکل نہیں لانی، ہمیں صرف بتائیں سزا تاحیات ہوگی یا پانچ سال، آپ نے تو ریٹرننگ افسر کو کورٹ آف لا بنا دیا۔‘

    اس کے بعد بینچ میں شامل جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے ’ایک شخص کوالیفائی کر کے رکن بن گیا اور بعد میں وہ خراب ہو گیا تو کیسے نکالیں گے؟ نااہل کرنے والے آرٹیکل 63 میں تو 62 ون ایف کا ذکر نہیں۔‘

    عدالتی معاون عزیر بھنڈاری کا کہنا تھا کہ ’ایسی صورت میں تو وارنٹو کی رٹ لائی جائے گی۔‘

    جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’بھنڈاری صاحب میں بات نہیں سمجھ پا رہا۔‘

    بھنڈاری کا کہنا تھا کہ ’میں پھر معذرت کر لیتا ہوں، ڈیکلیریشن کہاں سے آنا ہے اگر یہ سوال ہے ہی نہیں تو چھوڑ دیتے ہیں۔‘

    بینچ میں شامل جسٹس یحیحی آفریدی نے ریمارکس کہا ’آپ اپنے دلائل اپنی ترتیب سے جاری رکھیں۔‘

    اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ہم آپ کو سننا چاہتے ہیں مگر ہم نے کیس ختم بھی کرنا ہے، ہم نے اپنا آرڈر لکھنا بھی ہے۔‘

  9. ’ایمانداری، امین اور فضول خرچ نہ ہونے کا تعین عدالتیں کیسے کر سکتی ہیں؟‘ چیف جسٹس

    ارکان پارلیمنٹ کی آرٹیکل 62 ون ایف اور الیکشن ایکٹ کے سیکشن 232 کے تحت نااہلی کی مدت سے متعلق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سات رکنی بینچ اس کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

    عدالت کی جانب سے مقرر کیے جانے والے معاون عزیز بھنڈاری دلائل دے رہے ہیں۔

    عزیز بھنڈاری کا کہنا تھا کہ ’کاغذات نامزدگی ریٹرننگ افسر کے پاس جاتے ہیں جو نااہلی کا ڈیکلریشن نہیں دے سکتا، الیکشن ٹربیونل تسلیم شدہ حقائق کی بنیاد پر نااہلی کا ڈیکلریشن دے سکتا ہے، ڈیکلریشن کون دے سکتا ہے یہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں نہیں لکھا ہوا۔‘

    اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’کوئی عدالت کسی کے سچے اور راست گو ہونے کا ڈیکلریشن کیسے دے سکتی ہے؟ ایمانداری، امین اور فضول خرچ نہ ہونے کا تعین عدالتیں کیسے کر سکتی ہیں؟ تاحیات نااہلی کیس میں تو سب کچھ سپریم کورٹ نے ہی کیا۔‘

    بینچ میں شامل جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ’آئین میں کہاں لکھا ہوا ہے سپریم کورٹ ایسا ڈیکلریشن دے سکتا ہے۔‘

    انھیں کہ ریمارکس کے بعد چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’ایک فوجداری یا سول کیس میں ایک گواہ جھوٹ بولتا ہے، کیا اس بنیاد پر تاحیات نااہلی ہو سکتی ہے۔‘

    عدالتی معاون عزیر بھنڈاری نے کہا کہ ’آرٹیکل دس اے شفاف ٹرائل کی بات کرتا ہے، ریٹرننگ افسر ڈیکلریشن نہیں دے سکتا، ریٹرننگ افسر کورٹ آف لاء نہیں ہے، الیکشن ٹربیونل تسلیم شدہ حقائق کی بنیاد پر ڈیکلریشن دے سکتا ہے۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارک دیے کہ ’آپ اپنے ہی دلائل کی نفی کر رہے ہیں، ایک جج کہے گا نااہلی ہوتی ہے دوسرا جج کہے گا نااہلی نہیں ہوتی۔‘

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے پوچھا کہ ’اصل سوال یہ ہے کہ ڈیکلریشن کہاں سے آئے گا۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’جعل سازی پر ڈیکلریشن کون دے گا؟ کچھ الفاظ ایسے ہیں جو محض کاغذ کے ٹکرے کے سوا کچھ نہیں۔‘

    بینچ میں شامل ججز کی جانب سے عدالتی معاون عزیر بھنڈاری پر متعدد سوالات کی بارش کی گئی تو انھوں نے کہا کہ میں اس مقدمے میں فریق نہیں ہوں میں تو صرف عدالت کی معاونت کے لیے بلایا گیا ہوں جس پر چیف جسٹس نے ان سے معزرت کی اور انھیں دلائل جاری رکھنے کا کہا۔

  10. ’ایک فارم میں تبدیلی پر پورا پاکستان بند کر دیا، ریاست نے سوچا ہو گا ان لوگوں سے کون ڈیل کرے گا‘ عدالت

    ارکان پارلیمنٹ کی آرٹیکل 62 ون ایف اور الیکشن ایکٹ کے سیکشن 232 کے تحت نااہلی کی مدت سے متعلق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سات رکنی بینچ کی جانب سے ایک مختصر وقفے کے بعد دوبارہ آغآز ہو چُکا ہے۔

    چیف جسٹس نے آج سماعت کے آغاز پر کہا تھا کہ گذشتہ سماعت پر ہم نے ریما عمر، عزیز بھنڈاری اور فیصل صدیقی کو عدالتی معاون مقرر کیا تھا۔

    دوبارہ شروع ہونے والی سماعت کے دوران عزیر بھنڈاری کا کہنا تھا کہ ’پارلیمنٹ اٹھارہویں ترمیم کرنے بیٹھی تو 62 ون ایف کو نہیں چھیڑا تھا، پارلیمنٹ کو علم بھی تھا کہ 62 ون ایف کی ایک تشریح آچکی ہے، سمیع اللہ بلوچ کیس کے کچھ پہلو ضرور دوبارہ جائزے کے متقاضی ہیں۔‘

    جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’آپ اپنا پوائنٹ بتائیں۔‘

    تاہم عزیز بھنڈاری کا کہنا تھا کہ ’سمیع اللہ بلوچ کیس نااہلی کے مکینزم کی بات نہیں کر رہا، 18ویں ترمیم کے بعد بھی کئی آئینی ترامیم ہوئیں، کسی بھی آئینی ترمیم میں آرٹیکل 62ون ایف کی بات نہیں ہوئی۔‘

    ریمیارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ایک فارم میں لینگویج کی تبدیلی پر پورا پاکستان بند کر دیا گیا تھا، شاید اس لئے اس معاملے کو چھوڑ دیا گیا ہو، ریاست نے سوچا ہو گا ان لوگوں سے کون ڈیل کرے گا۔‘

    عزیز بھنڈاری کا کہنا تھا کہ ’یہ غالب جیسی بات ہے کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا، 62 ون‌ ایف کے تحت تاحیات نااہلی کی سزائیں دی گئی ہیں۔‘

    اس پر اس کیس کی سماعت کرنے والے سات رُکنی بینچ میں شامل جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ’تاحیات نااہلی کی سزا اٹھارویں ترمیم سے قبل دی گئی یا بعد میں۔‘

    جس پر عزیر بھنڈاری نے عدالت کو بتایا کہ ’2007 میں تاحیات نااہلی کی سزا دی گئی، آٹھارویں ترمیم سے قبل سزائیں دی گئیں۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’آرٹیکل 63 میں سزاؤں کا ذکر کیا گیا ہے لیکن 62 ون ایف میں نہیں۔‘

    عزیز بھنڈاری نے کہا کہ ’62 ون ایف کی سزا کا تعین عدالتوں نے کیا ہے، پارلیمنٹ نے کبھی آرٹیکل 62 اور 63 کی لینگویج تبدیل کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔‘

  11. ’بلّے کا نشان ملے یا نہ ملے یہ سب پی ٹی آئی کا مقابلہ نہیں کر سکتے‘ لطیف کھوسہ

    لطیف کھوسہ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلّے کے نشان سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پی ٹی آئی کو بلّے کا نشان ملے نا ملے بطور پارٹی یہ سب ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’انتخابی نشان سے متعلق پی ٹی آئی کی جانب سے اب دائر کی جانے والی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ’بغیر شواہد کے فیصلہ کر کے بلّے کا انتخابی نشان چھینا گیا۔‘

    درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ’پشاور ہائیکورٹ نے بھی فیصلے میں حقائق کو مدِ نظر نہیں رکھا۔‘

    توشہ خانہ کیس کے معاملے سے متعلق بات کرتے ہوئے لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ’ہم نے عدالت میں یہ درخواست دے رکھی ہے کہ صرف عمران خان سے متعلق ہی نہیں اس معاملے کو نا دیکھا جائے جو تحائف جنرل ضیا نے، جو جنرل مشرف نے اور دیگر نے وصول کیے اُن کی بھی تفصیلات سامنے لائی جائیں۔‘

  12. اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب سزا یافتہ کے لیے دس سالہ نااہلی کی مدت بحال کر دی, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے مقدمات میں نااہلی کی مدت پانچ سال کے بجائے دس کر دی ہے۔

    نیب کی اپیل پر عدالت نے اپنے ہی سنگل بینچ کے فیصلے کو معطل کر دیا ہے۔

    سنگل بنچ نے نااہلی کی مدت دس سال کی بجائے پانچ سال کا فیصلہ دیا تھا۔ جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے اس حکم کے خلاف امتناع جاری کیا۔

    اس سے پہلے جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس ثمن رفعت آغا نے نیب کی اپیل کی سماعت شروع کی تو سینیئر سپیشل پراسیکیوٹر نیب محمد رافع عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

  13. سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی سے متعلق مقدمے کی سماعت میں کچھ دیر کے لیے وقفہ کر دیا گیا

  14. ’الیکشن سر پر ہیں ہم نے یہ مسئلہ حل کرنا ہے‘: چیف جسٹس کے تاحیات نااہلی سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران ریمارکس, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تاحیات نااہلی سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ ’الیکشن سر پر ہیں ہم نے یہ مسئلہ حل کرنا ہے۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’سیاستدان عوام کے منتخب نمائندے ہوتے ہیں، آمروں اورسیاست دانوں کو ایک ساتھ نہیں پرکھا جاسکتا۔ ان کے مطابق ’آمرآئین توڑ کر حکومت میں آتا ہے منتخب ہوکرنہیں آتا۔‘

    دوران سماعت جسٹس منصورعلی شاہ نے استفسار کیا کہ ’جب قانون آچکا ہے اورنااہلی پانچ سال کی ہوچکی توتاحیات والی بات کیسے قائم رہے گی۔‘

  15. فوجی آمر کبھی صادق، امین اور کبھی ڈگری کی شرط عائد کرتے رہے: تا حیات نا اہلی کیس میں چیف جسٹس فائز عیسیٰ کے ریمارکس

    جسٹس قاضی فائز

    ،تصویر کا ذریعہSupreme Court of Pakistan

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ارکان پارلیمان کی تاحیات نااہلی سے متعلق مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ فوجی آمر لوگوں کو انتخابی دوڑ سے باہر رکھنے کے لیے اپنی مرضی کے اقدامات اٹھاتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ایک آمر آ کر کہتا ہے کہ ڈگری کی شرط لازمی ہے اور دوسرا کہتا ہے کہ صادق اور امین ہونا ضروری ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’آمروں نے صادق اور امین کی شرط اپنے لیے کیوں نہیں رکھی۔‘

    چیف جسٹس نے درخواست گزار سجادالحسن کے وکیل خرم رضا سے کہا کہ ’فوجی آمر کے سامنے آپ لوگ کوئی بات ہی نہیں کرتے۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’ریپ کرنے والا انتخاب لڑ سکتا ہے مگر ایک سول نوعیت کے مقدمے کا سامنے کرنے والا سیاست سے تاحیات نااہل ہو جاتا ہے۔‘

    چیف جسٹس نے وکیل خرم رضا سے کہا اب آپ دلائل میں آگے نہیں بڑھ رہے ہیں ’تھوڑا رفتار بڑھا دیں، ہم اس کیس کو بغیر حل کے نہیں چھوڑنا چاہتے۔‘

    ایک اور وکیل نے جب اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات تو سچ ہے کہ فوجی آمروں نے آئین میں ترامیم متعارف کروائیں مگر اس کے بعد منتخب پارلیمان بھی ان ترامیم کے خلاف نہیں گئیں، لہٰذا اس کا مورد الزام صرف آمروں کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

    چیف جسٹس نے وکیل سے کہا کہ ’یہ بات آپ کی درست ہے۔‘

  16. سپریم کورٹ میں ارکان پارلیمان کی تاحیات نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت شروع

    SC

    ،تصویر کا ذریعہSC

    ارکان پارلیمنٹ کی آرٹیکل 62 ون ایف اور الیکشن ایکٹ کے سیکشن 232 کے تحت نااہلی کی مدت سے متعلق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سات رکنی بینچ نے کیس کی سماعت شروع کر دی ہے۔

    عدالت کے اس لارچر بینچ میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحیٰ آفریدی اور جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔

    چیف جسٹس نے سماعت کے آغاز پر کہا کہ گذشتہ سماعت پر ہم نے ریما عمر، عزیز بھنڈاری اور فیصل صدیقی کو عدالتی معاون مقرر کیا تھا۔

    جس میں سے ریما عمر نے اپنا تحریری جواب بھیجوایا ہے۔

    درخواست گزار سجاد الحسن کے وکیل خرم رضا جنھوں نے گذشتہ سماعت پر تاحیات نااہلی کے حق میں اپنی رائے دی تھی۔

    انھوں نے بینچ سے سوال کیا کہ یہ اپیلیں کس قانون کے تحت چل رہی ہیں۔ کیا آرٹیکل 187 کے تحت اپیلیں ایک ساتھ سماعت کے لیے مقرر کی گئیں؟

    چیف جسٹس نے ان سے کہا کہ آپ اپنی درخواست تک محدود رہیں۔

  17. شیخ رشید کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے گئے

    سابق وفاقی وزیر شیخ رشید کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف جو اپیل دائر کی تھی وہ منظور کر لی گئی ہے۔ جسٹس مرزا وقاص رؤف نے راولپنڈی سے قومی اسملبی کے دو حلقوں این اے 56 اور این اے 57 سے شیخ رشید کے کاغذات منظور کیے ہیں۔

    شیخ رشید نے فیصلے کے بعد راولپنڈی کے عوام سے قلم دوات پر مہر لگانے کی اپیل کی ہے۔

  18. بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین نے ’وہ کر دکھایا جو بڑی بڑی سیاسی جماعتیں نہیں کر سکتیں‘

  19. ’نایاب علی الیکشن نہیں لڑ سکتیں‘، مخالف امیدوار کے اعتراض پر الیکشن ٹریبونل نے نوٹس جاری کر دیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے الیکشن اپلیٹ ٹریبونل میں عام انتخابات کے لیے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد اور منظور کیے جانے کے خلاف اپیلیوں پر سماعت ہوئی۔

    اقلیتی نشست پر کاغذات نامزدگی جمع کرانے والی نایاب علی کے کاغذات منظوری کے خلاف اپیل الیکشن اپلیٹ ٹریبیونل کے جج جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کی۔

    وکیل نے کہا کہ ’نایاب علی کے کاغذات پر ٹرانسجینڈر ہونے کی وجہ سے اعتراض ہے۔‘

    وکیل نے کہا کہ ’ان کے شناختی کارڈ میں میل، فی میل نہیں بلکہ ایکس لکھا ہوا ہے۔ جب تک ان کے شناختی کارڈ پر میل یا فی میل نہ لکھا ہو یہ انتخابات نہیں لڑسکتے۔‘

    جج نے استفسار کیا کہ ’کیا آپ نے اس معاملے کو ریٹرننگ افسر کے سامنے اٹھایا تھا؟‘

    جج نے وکیل سے مزید کہا کہ ’آپ کی درخواست ہی مکمل نہیں، اس درخواست کو میں یہاں پر خارج کرسکتا ہوں۔‘

    عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت پیر تک لیے ملتوی کر دی ہے۔

  20. آصف زرداری، نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس پرسماعت

    اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت میں سابق صدر آصف زرداری، سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس پرسماعت ہوئی۔

    نواز شریف کی جانب سے ان کے نمائندے رانا عرفان عدالت میں پیش ہوئے۔ یوسف رضا گیلانی، آصف علی زرداری کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی۔ اس مقدمے میں نیب پراسیکیوٹر سہیل عارف عدالت میں پیش ہوئے۔

    نیب کی جانب سے ضمنی ریفرنس آج بھی عدالت پیش نہ کیا جا سکا۔ قیمتی گاڑیاں اور تحائف وصول کرنے سے متعلق ریفرنس میں نواز شریف شامل تفتیش ہوچکے تھے۔ عدالت نے کیس کی سماعت 15 جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔