توشہ خانہ ریفرنس: تحائف کی مالیت کم ظاہر کرنے کا الزام، عمران خان اور بشری بی بی پر فرد جرم عائد

اسلام اباد کی احتساب عدالت نے اڈیالہ جیل میں سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر توشہ خانہ ریفرنس میں فرد جرم عائد کی ہے۔ جبکہ جج محمد بشیر نے توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈز ریفرنسز میں عمران خان کی درخواستِ ضمانت مسترد کر دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!

    بی بی سی کی خصوصی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ 10 جنوری کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  2. پاکستان میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر ’پیراشوٹرز‘ اور ’رشتہ داروں‘ کو ترجیح کیوں ملتی ہے؟

  3. مجھے طاقتور کو قانون کے تابع کرنے کی کوشش پر سزا دی جا رہی ہے: عمران خان

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے توشہ خانہ ریفرنس میں فرد جرم عائد ہونے پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں دعویٰ کیا کہ انھیں اس چیز کی سزا دی جا رہی ہے کہ انھوں نے ’طاقتور کو قانون کے تابع کرنے کی کوشش کی۔‘

    اڈیالہ جیل میں سماعت کے موقع پر موجود صحافیوں اور جیل حکام کے مطابق عمران خان نے کہا کہ ’توشہ خانہ میں کہا گیا ہے کہ میں نے اپنے آفس بوائے کے ذریعے اربوں روپے کی کرپشن کی۔ بطور وزیر اعظم میں نے کسی اور کا نہیں بلکہ آفس بوائے کا استعمال کیا، کیا ایسا ممکن ہے؟‘

    انھوں نے کہا کہ ’میرے خلاف چپڑاسی سمیت دو افراد کو وعدہ معاف گواہ بنایا گیا ہے۔ کیا یہ معاشرہ امر بالمعروف پر چل رہا ہے؟ جبکہ یہ ایک اسلامی معاشرہ ہے۔‘

    ’معاشرہ اچھائی، برائی پر ہوتا ہے۔ اچھائی ختم تو معاشرہ ختم۔ مجھے سزا دی جا رہی ہے کہ میں نے طاقتور کو قانون کے تابع کرنے کی کوشش کی۔‘

    سپریم کورٹ کی جانب سے تاحیات نااہلی ختم کرنے کو انھوں نے ’عدالت کا فیصلہ‘ کہا جبکہ سابق وفاقی وزیر شیخ رشید کی جماعت کے ساتھ پی ٹی آئی کے ممکنہ اتحاد کے سوال پر انھوں نے کہا کہ ’ہمارا سیاسی سیٹ اپ ہے، وہی فیصلہ کرے گا۔‘

  4. توشہ خانہ ریفرنس: ’تحائف کی مالیت کم ظاہر کی گئی‘ عمران خان اور بشری بی بی پر فرد جرم عائد

    عمران خان اور بشری بی بی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسلام اباد کی احتساب عدالت نے اڈیالہ جیل میں سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر توشہ خانہ ریفرنس میں فرد جرم عائد کی ہے۔ جبکہ جج محمد بشیر نے توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ ریفرنسز میں عمران خان کی درخواستِ ضمانت مسترد کر دی ہے۔

    اس دوران ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا جبکہ استغاثہ کی جانب سے 12 گواہان کو طلب کیا گیا۔

    توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان پر الزام ہے کہ سابق وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ کو مختلف سربراہان مملکت کی جانب سے 108 تحائف ملے جن میں سے انھوں نے 58 تحائف اپنے پاس رکھ لیے اور ان تحائف کی ’کم مالیت ظاہر کی گئی۔‘

    ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ ’ملزمان نے سعودی ولی عہد سے ملنے والا جیولری سیٹ بھی کم مالیت پر حاصل کیا۔ بشری بی بی نے سعودی ولی عہد سے ملنے والا جیولری سیٹ توشہ خانہ میں جمع نہیں کروایا۔‘

    اس میں الزام ہے کہ ’ملزمان تحائف توشہ خانہ میں جمع کرواںے کے پابند تھے۔ رولز کے مطابق ہر تحفہ توشہ خانہ میں جمع کرانا ہوتا ہے۔ سعودیہ سے ملا تحفہ ملٹری سیکریٹری وزیراعظم نے 2020 میں رپورٹ کیا۔ گراف جیولری سیٹ کو رپورٹ کرنے کے بعد قانون کے مطابق جمع نہیں کرایا گیا۔‘

    ریفرنس کے مطابق ’نیب نے تحقیقات میں پرائیویٹ مارکیٹ سے بھی تخمینہ لگوایا۔ تحقیقات میں ثابت ہوا کہ گراف جیولری سیٹ کی کم قیمت لگائی گئی۔‘

    دوسری طرف توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ ریفرنسز میں درخواست ضمانت پر عمران خان کے وکلا کی جانب سے دلائل مکمل ہوئے اور محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے جج محمد بشیر نے یہ استدعا مسترد کر دی۔

    190 ملین پاونڈ ریفرنس میں بشریٰ بی بی نے بھی ریفرنس کی نقول وصول کر لی ہیں۔ 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں آئندہ سماعت پر ملزمان پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔

    ملزمان پر قومی خزانے کو ڈیڑھ ارب روپے سے زیادہ نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔ نیب کی جانب سے توشہ خانہ ریفرنس میں 20 گواہان پیش کیے جائیں گے جس میں اطلاعات کے مطابق تحفے کا نجی طور پر تخمینہ لگانے والے صہیب عباسی بطور وعدہ معاف گواہ پیش ہوں گے۔

    نیب کے گواہان میں سابق وزیراعظم کے ملٹری سیکریٹری اور ڈپٹی ملٹری سیکرٹری، ڈپٹی قونصلیٹ جنرل دبئی رحیم اللہ، توشہ خانہ کے سیکشن افسران اور پی ایم آفس کے اسسٹنٹ سیکریٹری پروٹوکول زاہد سرفراز شامل ہیں۔

    توشہ خانہ ریفرنس

    گذشتہ سال 5 اگست کو اسلام آباد کی ایک ٹرائل کورٹ نے عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں سرکاری تحائف ٹیکس گوشواروں میں ظاہر نہ کرنے کے الزام پر تین سال قید کی سزا سنائی تھی جس کے بعد انھیں زمان پارک سے گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی سزا معطل کرتے ہوئے رہائی کا حکم دیا تھا۔

    چھ دسمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی توشہ خانہ ریفرنس میں نااہلی کے خلاف اپیل واپس لینے کی درخواست مسترد کردی تھی۔ گذشتہ برس اگست میں سابق حکمران اتحاد کے پانچ ارکان قومی اسمبلی کی درخواست پر سپیکر قومی اسمبلی نے سابق وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کے لیے توشہ خانہ ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوایا تھا۔

    ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ عمران خان نے توشہ خانہ سے حاصل ہونے والے تحائف فروخت کرکے جو آمدن حاصل کی اسے اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا۔ آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت دائر کیے جانے والے ریفرنس میں آرٹیکل 62 کے تحت عمران خان کی نااہلی کا مطالبہ کیا گیا تھا، جس پر الیکشن کمیشن نے عمران خان کو اس ریفرنس میں نااہل قرار دیا تھا۔

  5. جسٹس مظاہر نقوی کی سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکنے کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ نے جسٹس مظاہر نقوی کی سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکنے کی درخواست مسترد کر دی ہے اور اس کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کی گئی ہے۔

    عدالت نے میاں داؤد سمیت جسٹس مظاہر کے خلاف شکایت گزاروں کو کیس میں فریق بنانے کا حکم دیا ہے۔ 11 جنوری کو جسٹس مظاہر کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی اوپن ہو گی۔

    عدالت نے ہدایت دی کہ درخواست گزار جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف شکایات کنندگان کو فریق بنا کر ترمیمی آئینی درخواست دائر کریں۔ اس کی جانب سے کہا گیا کہ شکایت کنندگان کو فریق بنائے بغیر کارروائی آگے نہیں بڑھائی جا سکتی۔

    جسٹس مظاہر نقوی کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کی یکطرفہ کونسل کی کارروائی روکنے کی مثال موجود ہے۔

    جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ میرٹ پر کیس سنے بغیر حکم امتناع نہیں دے سکتے۔

  6. بلے کے نشان کے لیے پی ٹی آئی کی اپیل پر سپریم کورٹ کا بینچ تشکیل

    تحریک انصاف نے بلے کے نشان کے حصول کے لیے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی جس پر سماعت کے لیے عدالت عظمیٰ کی جانب سے بینچ تشکیل دیا گیا ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ اس اپیل پر سماعت کرے گا جس میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہوں گے۔

    الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم دیتے ہوئے جماعت سے بلے کا نشان واپس لے لیا تھا تاہم پشاور ہائیکورٹ نے اس فیصلے کو معطل کر دیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے اس معاملے پر نظر ثانی اپیل دائر کی تھی جس پر پشاور ہائیکورٹ میں منگل کو سماعت ہوئی۔

  7. راولپنڈی پولیس نے سابق وزیراعظم عمران خان کی جی ایچ کیو حملہ کیس میں گرفتاری ظاہر کر دی, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    راولپنڈی پولیس نے انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت کو آگاہ کیا ہے کہ انھوں نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو جی ایچ کیو حملہ کیس میں گرفتار کر لیا ہے۔ یاد رہے کہ عمران خان پہلے ہی توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ کے مبینہ کرپشن کیسوں میں اڈیالہ جیل میں مقید ہیں اور اب ان کی جی ایچ کیو حملہ کیس میں باضابطہ گرفتاری ڈالی گئی ہے۔

    منگل کے روز انسدادِ دہشت گردی عدالت راولپنڈی کے جج ملک اعجاز آصف نے 9 مئی واقعات سے متعلق 12 کیسوں کی سماعت کی۔ عمران خان کو اڈیالہ جیل سے وڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا۔ تمام 12 مقدمات کے ایس ایچ اوز ریکارڈ سمیت عدالت میں پیش ہوئے اور کیسوں میں پیش رفت سے متعلق عدالت کو آگاہ کیا۔

    یاد رہے کہ جی ایچ کیو پر حملے کا مقدمہ راولپنڈی کے تھانہ آر اے بازار میں درج کیا گیا ہے جس میں عمران خان کو بھی بطور مرکزی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

    دوران سماعت آر اے بازار پولیس نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انھوں نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی جی ایچ کیو حملہ کیس میں گرفتاری ڈال دی اور یہ کہ انھیں تفتیش کے لیے ملزم کی جسمانی تحویل مطلوب ہے۔

    تاہم عدالت نے ملزم کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے پولیس کو ملزم سے جیل میں ہی تفتیش کرنے کی ہدایت کی۔

  8. مقبول یا معقول سیاست؟ عاصمہ شیرازی کا کالم

  9. این اے 71 سیالکوٹ سے ‏عثمان ڈار کی والدہ ریحانہ امتیاز کے کاغذات نامزدگی منظور

    Dar

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    ایپلٹ ٹربیونل نے ریٹرنگ آفیسر کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے، عثمان ڈار کی والدہ ریحانہ امتیاز کے قومی اسمبلی کہ حلقہ این اے 71 سے کاغذاتِ نامزدگی منظور کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

    اس سے قبل 30 دسمبر 2023 کو سیالکوٹ کے حلقہ این اے 71 سے عثمان ڈار کی والدہ ریحانہ امتیاز کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے تھے۔

    کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہونے کی وجہ سے متعلق کہا جا رہا تھا کہ رٹرنگ آفسر یعنی آر او نے کاغذات میں سوشل سکیورٹی واجبات کی عدم ادائیگی اور اثاثے ظاہر نہ کرنے پر مسترد کیے تھے۔

    خیال رہے کہ این اے 71 میں خواجہ آصف کا مقابلہ تحریک انصاف کے سابق رہنما عثمان ڈار سے ہوتا تھا، تاہم اس مرتبہ عثمان ڈار کی والدہ نے سابق وزیر دفاع خواجہ آصف کے مقابلے پر انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر رکھا ہے۔

  10. احتساب عدالت کا 19 کروڑ پاؤنڈ کی کرپشن کیس میں اشتہاری قرار دیے گئے ملک ریاض اور ان کے بیٹے سمیت 5 ملزمان کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کے مقدمے سے متعلق اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اڈیالہ جیل میں اس مقدمے کی سماعت کے بعد شریک ملزمان کو اشتہاری قرار دینے کے ساتھ ساتھ ان کے اثاثے ضبط کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

    احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ملک ریاض اور ان کے بیٹے احمد علی ریاض کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادیں منجمد کرنے کا حکم جاری کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے حکم میں احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے شہزاد اکبر، زلفی بخاری، فرح گوگی، وکیل ضیا المصطفیٰ نسیم کے اثاثے اور بنک اکاونٹس بھی منجمد کرنے کا حکم دیا۔

    اثاثوں اور بینک اکاؤنٹس کے منجمد ہونے کے ساتھ ساتھ عدالت کی جانب سے ملزمان کے نام رجسٹرڈ گاڑیاں بھی ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    عدالت نے اشتہاری قرار دئیے جانے کے بعد تمام ملزمان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے ہیں، احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے حکم جاری کر دیا ہے۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس کیا ہے؟

    القادر ٹرسٹ کیس اس ساڑھے چار سو کنال سے زیادہ زمین کے عطیے سے متعلق ہے جو بحریہ ٹاؤن کی جانب سے القادر یونیورسٹی کے لیے دی گئی تھی۔

    پی ڈی ایم کی حکومت نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ یہ معاملہ عطیے کا نہیں بلکہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور عمران خان کی حکومت کے درمیان طے پانے والے ایک خفیہ معاہدے کا نتیجہ ہے اور حکومت کا دعویٰ تھا کہ 'بحریہ ٹاؤن کی جو 190ملین پاؤنڈ یا 60 ارب روپے کی رقم برطانیہ میں منجمد ہونے کے بعد پاکستانی حکومت کے حوالے کی گئی وہ بحریہ ٹاؤن کراچی کے کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک ریاض کے ذمے واجب الادا 460 ارب روپے کی رقم میں ایڈجسٹ کر دی گئی تھی۔'

  11. سمیع اللہ بلوچ کیس کیا تھا اور تاحیات نااہلی ختم کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے سے کس کو فائدہ ہو گا؟

  12. عمران خان اور ان کی اہلیہ کے خلاف توشہ خانہ اور ایک سو نوے ملین پاؤنڈ مقدمے میں آج فرد جرم عائد ہونے کا امکان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہIMRANKHANOFFICIAL

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ اور ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کے مقدمے میں آج فرد جرم عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

    اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر اڈیالہ جیل میں اس مقدمے کی سماعت کریں گے۔

    پیر کے روز سماعت کے دوران عدالت نے ملزمان میں اس مقدمے کی نقول تقسیم کر دی تھیں، تاہم شریک ملزمہ بشری بی بی کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر ملزمان پر فرد جرم عائد نہیں کی گئی۔

    بشری بی بی کے وکلا کی طرف سے ایک دن کی حاضری سے استثنا کی درخواست دائر کی گئی جو کہ منظور کرلی گئی تھی۔ عدالت نے ملزمہ کے وکلا کو ہدایت کی کہ وہ منگل کو اپنی موکلہ کی عدالت میں حاضری کو یقینی بنائیں تاکہ اس مقدمے کی کارروائی کو آگے بڑھایا جاسکے۔

    عدالت نے بشری بی بی کو ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کے مقدمے میں ضمانت قبل از گرفتاری دے رکھی ہے اس کے علاوہ اس مقدمے میں عمران خان اور بشری بی بی کی ضمانتوں سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت بھی آج ہی ہوگی۔ اس عدالتی کارروائی کو دیکھنے کے لیے صرف چند مخصوص صحافیوں کو اجازت دی گئی ہے۔

    توشہ خانہ کیس کیا ہے؟

    سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی ابتدا اس وقت ہوئی جب مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی بیرسٹر محسن نواز رانجھا نے ان کے خلاف ایک ریفرنس دائر کیا تھا جسے سپیکر قومی اسمبلی نے الیکشن کمیشن کو بھجوایا تھا۔

    ریفرنس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ عمران خان نے سرکاری توشہ خانہ سے تحائف خریدے مگر الیکشن کمیشن میں جمع کروائے گئے اثاثہ جات کے گوشواروں میں انھیں ظاہر نہیں کیا، اس طرح وہ ’بددیانت‘ ہیں، لہٰذا انھیں آئین کے آرٹیکل 62 ون (ایف) کے تحت نااہل قرار دیا جائے۔

    ریفرنس کی کاپی کے مطابق درخواست گزار نے کہا تھا کہ عمران خان پر قانونی طور پر لازم تھا کہ وہ ہر مالی سال کے آخر میں اپنے، اپنی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام تر اثاثے چھپائے بغیر الیکشن کمیشن آف پاکستان میں جمع کرواتے۔

    دستاویز میں یہ الزام بھی لگایا گیا تھا کہ عمران خان نے ’جانتے بوجھتے‘ توشہ خانہ سے لیے گئے تحائف کو چھپایا اور یہ کہ انھوں نے قبول کیا ہے جیسا کہ مختلف میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ انھوں نے یہ تحائف فروخت کیے۔ لیکن الیکشن کمیشن کے دستاویزات میں ان کی فروخت بھی چھپائی گئی۔

    دستاویز کے مطابق سابق وزیر اعظم عمران خان کو اپنی حکومت کے دوران کل 58 تحائف ملے جن میں گراف کی ’مکہ ایڈیشن‘ گھڑی سمیت مختلف اشیا تھیں۔ یہ تحائف عمران خان نے توشہ خانہ سے 20 اور بعد ازاں 50 فیصد رقم ادا کر کے حاصل کیے۔

    ان میں سے کئی ایسے ہیں جن کی لاگت 30 ہزار روپے سے کم تھی لہٰذا قانون کے مطابق وہ یہ تحائف مفت حاصل کر سکتے تھے جبکہ 30 ہزار سے زائد مالیت کے تحائف کی قیمت کا 20 فیصد (قانون میں تبدیلی کے بعد 50 فیصد) ادا کر کے حاصل کیے گئے۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس کیا ہے

    القادر ٹرسٹ کیس اس ساڑھے چار سو کنال سے زیادہ زمین کے عطیے سے متعلق ہے جو بحریہ ٹاؤن کی جانب سے القادر یونیورسٹی کے لیے دی گئی تھی۔

    پی ڈی ایم کی حکومت نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ یہ معاملہ عطیے کا نہیں بلکہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور عمران خان کی حکومت کے درمیان طے پانے والے ایک خفیہ معاہدے کا نتیجہ ہے اور حکومت کا دعویٰ تھا کہ 'بحریہ ٹاؤن کی جو 190ملین پاؤنڈ یا 60 ارب روپے کی رقم برطانیہ میں منجمد ہونے کے بعد پاکستانی حکومت کے حوالے کی گئی وہ بحریہ ٹاؤن کراچی کے کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک ریاض کے ذمے واجب الادا 460 ارب روپے کی رقم میں ایڈجسٹ کر دی گئی تھی۔'

  13. مذہبی آزادی سے متعلق امریکہ کی واچ لسٹ ’متعصبانہ اور من گھڑت‘ ہے، پاکستانی دفترِ خارجہ کا احتجاج

    پاکستان امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان نے پیر کے روز بین الاقوامی مذہبی آزادی ایکٹ کے تحت امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے ’کنٹری آف پرٹیکلر کنسرن‘ یعنی ’خصوصی تشویش کا ملک (سی پی سی)‘ قرار دینے کو ’مسترد‘ کردیا۔

    چار جنوری کو امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کی جانب سے مذہبی آزادی سے متعلق ایک پریس ریلیز جاری کی گئی تھی جس میں پاکستان کے ساتھ ساتھ چین، کیوبا، شمالی کوریا، اریٹریا، ایران، نکاراگوا، روس، سعودی عرب، تاجکستان اور ترکمانستان کو ’مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے یا ان کے خلاف کارروائی نا کرنے‘ کے لئے سی پی سی کی فہرست میں رکھا گیا۔

    اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں کہا گیا کہ وہ ’انتہائی مایوس‘ ہیں کہ درجہ بندی ’متعصبانہ اور من مانے جائزے‘ پر مبنی ہے اور ’زمینی حقائق کے منافی‘ ہے۔

    پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان ایک ایسا ملک ہے کہ جس میں بین المذاہب ہم آہنگی کی شاندار روایت موجود ہے اور ملک نے اپنے آئین کے مطابق مذہبی آزادی کو فروغ دینے اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے وسیع پیمانے پر اقدامات کیے ہیں۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’مذہبی آزادی کی سب سے بڑی اور سلسلہ وار خلاف ورزی کرنے والے مُلک انڈیا کو ایک بار پھر امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی فہرست سے خارج کردیا گیا ہے۔‘

    احمدی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اس طرح کی ’امتیازی، یکطرفہ رپورٹس‘ منفی ہیں اور عالمی سطح پر مذہبی آزادی کو فروغ دینے کے امریکہ اور پاکستان کے مشترکہ مقصد کو نقصان پہنچاتی ہیں۔‘

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس فہرست میں شامل کیے جانے پر تشویش سے امریکہ کو آگاہ کیا جائے گا۔

    اس سے قبل پاکستان کو 2022، 2020 اور 2018 میں سی پی سی کی درجہ بندی میں شامل کیا گیا تھا۔

    ’کنٹری آف پرٹیکلر کنسرن‘ یعنی ’خصوصی تشویش کا ملک (سی پی سی)‘

    1998 کے بین الاقوامی مذہبی آزادی ایکٹ (آئی آر ایف اے) کے تحت امریکی صدر کو ہر سال دنیا کے ہر ملک میں مذہبی آزادی کی حیثیت کا جائزہ لینا ہوتا ہے اور ہر اس ملک کو جس کی حکومت ’مذہبی آزادی کی خاص طور پر سنگین خلاف ورزیوں‘ میں ملوث یا ان پر کوئی روک یا پابندی لگانے میں ناکام رہتی ہے، خصوصی تشویش کا ملک (سی پی سی) قرار دیتی ہے۔ اس قانون میں خاص طور پر سنگین خلاف ورزیوں کو ’مذہبی آزادی کی منظم، جاری، سنگین خلاف ورزیوں‘ کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جس میں مندرجہ ذیل خلاف ورزیاں شامل ہیں: تشدد، بغیر کسی الزام کے طویل عرصے تک حراست میں رکھنا، جبری گمشدگی یا لوگوں کی زندگی، آزادی، یا سلامتی سے واضح انکار شامل ہیں۔

    مسیحی

    ،تصویر کا ذریعہSALEEM IQBAL

    پاکستان میں اقلیتوں کے لیے سال 2023

    پاکستان میں سال 2023 میں بھی مذہبی اقلیتوں کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا اور اس ضمن میں ایک بڑا واقع گذشتہ برس 16 اگست کو پیش آیا جب پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر جڑانوالہ میں توہین قرآن کے الزامات کے بعد مسیحی آبادی پر حملوں اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات پیش آئے اور ان واقعات میں ہونے والے نقصانات کے بارے میں پیش کردہ سرکاری رپورٹ کے مطابق جڑانوالہ اور اس کے گردونواح میں مشتعل ہجوم نے 19 گرجا گھروں اور مسیحی عبادت گاہوں کے علاوہ 86 مکانات کو آگ لگائی اور ان میں توڑ پھوڑ کی۔

    مختصراً اگر اس بات کا جائزہ لیں تو ’ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے 2023 اعداد و شمار کے مطابق اقلیتوں کے خلاف 53 کیسز رپورٹ ہوئے ان اعداد و شمار کی مزید تفصیل میں جائیں تو 49 مرد اور چار خواتین شامل ہیں۔

    ان میں 28 مسلمان، 9 مسیحی، ایک ہندو اور 13 احمدی برادری سے تعلق رکھتے تھے، جبکہ 2 افراد کے مذہب کی شناخت نہیں ہو سکی۔

    ادارے کے مطابق اگر عبادت گاہوں پر حملے کی بات کی جائے تو احمدی برادری کی عبادت گاہوں پر 32 اور مسیحی برادری کی عبادت گاہوں پر 19 حملے ہوئے۔ ہندو برادری کی ایک عبادت گاہ پر حملہ کیا گیا۔

    مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد کی بات کی جائے تو سال 2023 میں مذہبی منافرت کی بنیاد پر تین سکھوں کو قتل کیا گیا جبکہ ایک سکھ زخمی ہوئے۔ اسی طرح سے احمدی برادری کے ایک فرد کو قتل کر دیا گیا جبکہ مسیحی برادری کے تین افراد کو قتل اور ایک کو زخمی کیا گیا۔

  14. ’اپنی ساری سروس میں اتنی لائق طالبہ نہیں دیکھی تھی۔۔۔‘ رقیہ نجف جو کرم میں نامعلوم افراد کی فائرنگ میں ہلاک ہوئیں

  15. ’جن پر صرف الزام ہیں وہ الیکشن نہیں لڑ سکتے لیکن جو سزایافتہ تھے وہ لاڈلے الیکشن کے لیے اہل ہوئے‘: پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور سابق وزیر حماد اظہر نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’جن پر جھوٹے پرچے اور صرف الزام ہیں وہ الیکشن نہیں لڑ سکتے لیکن جو سزایافتہ تھے اور اعلیٰ ترین عدالت سے نااہل قرار پائے، وہ لاڈلے الیکشن کے لیے اہل قرار۔ واہ!‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  16. ’سپریم کورٹ نے بہت بروقت فیصلہ کر کے ایک دھبہ صاف کیا ہے‘: اعظم نذیر تارڑ

    پی ڈی ایم حکومت میں وزیرِ قانون اور شریف خاندان کے قریب سمجھے جانے والے اعظم نذیر تارڑ نے اس سپریم کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہمارا تو پہلے دن سے یہ مؤقف تھا کہ سمیع اللہ بلوچ کیس کا فیصلہ غیرمنصفانہ ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’آئین میں دیے بنیادی حقوق کی نفی کرتا ہے کہ آپ کس طرح کسی شخص کو تاحیات نااہل کر سکتے ہیں جب قانون میں ایسی کوئی بات موجود نہیں ہے۔‘

    اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ نے یہ بہت بروقت فیصلہ کیا ہے اور انھوں نے ایک دھبہ صاف کیا ہے یہ فیصلہ کیا ہے۔

    ’عدالت نے آئین کو تبدیل نہیں کیا، سپریم کورٹ نے جو سمیع اللہ بلوچ کیس میں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت جو تشریح کر دی تھی اس کی درستگی کی ہے۔‘

  17. بریکنگ, سپریم کورٹ کا آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی ختم کرنے کا فیصلہ

    supreme

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح سے متعلق فیصلے میں تاحیات نااہلی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سات رکنی بینچ نے کیس پر سماعت کی تھی اور پانچ جنوری کو سپریم کورٹ نے پانچ جنوری کو فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    اس کیس کی سماعت براہ راست نشر کی گئی تھی جبکہ اس کا فیصلہ بھی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے براہ راست پڑھ کر سنایا گیا ہے۔

    یہ اکثریتی فیصلہ 6-1 کے تناسب سے سنایا گیا ہے اور جسٹس یحییٰ آفریدی کی جانب سے اختلافی نوٹ لکھا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سمیع اللہ بلوچ کا فیصلہ درست تھا کیونکہ رکنِ پارلیمان کی کوئی نہ کوئی قابلیت کا معیار تو ضرور ہونا چاہیے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیونکہ 62 ون ایف میں کوئی سزا تجویز نہیں کی گئی اس لیے اس کو اکیلے نہیں پڑھا جا سکتا۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف اور استحکام پاکستان پارٹی کے چیئرمین جہانگیر ترین پر تاحیات نااہلی سے متعلق اٹھائے گئے قانونی نکات اس فیصلے کے بعد عملی طور پر ختم ہو گئے۔

    ان دونوں رہنماؤں نے آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروا رکھے ہیں۔

    واضح رہے کہ سابق پارلیمان نے الیکشن ایکٹ 2017 ترمیم کر کے نااہلی کی زیادہ سے زیادہ مدت پانچ سال مقرر کی تھی۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن ایکٹ کے تحت اس ضمن پانچ سالہ نااہلی کی مدت برقرار رہے گی۔

  18. ہمارے لیے الیکشن لڑنا مشکل کر دیا گیا، اس کے باوجود الیکشن بروقت ہونے چاہیے، عمران خان

    پاکستان کے سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کے لیے الیکشن لڑنا مشکل کر دیا گیا لیکن اس کے باوجود الیکشن بروقت ہونے چاہیے۔

    اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ کیس کی سماعت کے دوران عمران خان نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن ملکی معیشت اور سیاسی استحکام کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

    اس موقع پر عمران خان نے ’دا اکانومسٹ‘ میں چھپنے والی اپنی تحریر کے بارے میں کہا کہ وہ اس کی ذمہ داری لیتے ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’میں نے کالم لکھ کر نہیں بھیجا بلکہ زبانی لکھوایا تھا۔ آئندہ ہفتے میری ایک تقریر بھی سوشل میڈیا پر آ جائے گی۔ آج کل مصنوعی ذہانت کا زمانہ ہے۔‘

    واضح رہے کہ عمران خان نے جیل سے نامور بین الاقوامی جریدے ’دی اکانومسٹ‘ میں پاکستان کی صورتحال کے حوالے سے شائع ہونے والے ایک آرٹیکل میں کہا تھا کہ پی ٹی آئی کو لیول پلیئنگ فیلڈ دی جائے۔

    اس آرٹیکل کے سامنے آنے کے بعد نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا تھا کہ’دی اکانومسٹ‘ کے ایڈیٹر کو مبینہ طور پر عمران خان کی جانب سے تحریر کردہ آرٹیکل کے بارے میں لکھا جائے گا۔‘

  19. پے پال: کیا آن لائن ادائیگیوں کی کمپنی واقعی پاکستان آ رہی ہے؟

  20. ’عدالت اس وقت ایک شخص کی عزت اور تاریخ کی درستگی دیکھ رہی ہے، عدالت بہتر مثال قائم کرنا چاہتی ہے‘ چیف جسٹس, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی اردو

    سابق وزیراعظم ذوالفقار بھٹو کی سزائے موت کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت فروری کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں نو رکنی لارجر بینچ نے آج اس معاملے کی سماعت کی۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ سماعت پر آرٹیکل 186 کے سکوپ پر معاونت طلب کی تھی اور اس مقصد کے لیے سپریم کورٹ نے کیس پر معاونت کے لیے عدالتی معاونین بھی مقرر کیے تھے۔

    چیف جسٹس کی ہدایت پر جسٹس نسیم علی شاہ کا ٹی وی انٹرویو کمرہ عدالت میں چلایا گیا۔

    دوران سماعت چیف جسٹس نے فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ’انٹرویو کا حصہ مکمل نہیں اور اس میں اُس اعتراض کا جواب نہیں جس کے بارے میں آپ بات کر رہے ہیں۔‘

    چیف جسٹس کی جانب سے فاروق ایچ نائیک کو ہدایت کی گئی کہ ’انٹرویو کی جو کاپی جیو کی طرف سے عدالت کو فرام کی گئی، اُس میں سے متعلقہ حوالہ نکال کر لائیں۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم سارا انٹرویو نہیں سن سکتے، متعلقہ حصہ سے انٹرویو چلایا جائے گا، ہم ابھی عدالتی معاون مخدوم علی خان کو سن لیتے ہیں۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’عدالت اس وقت ایک شخص کی عزت اور تاریخ کی درستگی دیکھ رہی ہے، عدالت بہتر مثال قائم کرنا چاہتی ہے۔‘

    بینچ میں شامل جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ’واحد نکتہ یہی ہے اس وقت عدلیہ آزاد نہیں تھی، ہم کیسے اس مشق میں پڑیں کہ بنچ آزاد نہیں تھا؟‘

    جسٹس یحیی آفریدی نے ریمارکس دیے کہ ’ایک جج کے انٹرویو سے پوری عدالت کے بارے یہ تاثر نہیں دیا جا سکتا کہ تب عدلیہ آزاد نہیں تھی، دوسرے ججز بھی تھے جنھوں نے اپنے نوٹس لکھے اور اختلاف کیا۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’اس کیس میں ایک جج کی رائے کو نظر انداز نہیں کر سکتے، بھٹو کیس میں بینچ کا تناسب ایسا تھا کہ ایک جج کی رائے بھی اہم ہے، ایک جج کے اکثریتی ووٹ کے تناسب سے ایک شخص کو پھانسی دی گئی۔‘

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس میں چند سوالات اُٹھائے اور پوچھا کہ ’ہمارے سامنے قانونی سوال کیا ہے؟ کیا ہم نے صرف قانونی سوال کا جواب دینا ہے؟ کیا ہم نے جسٹس نسیم حسن شاہ کے انٹرویو کی تحقیقات بھی کرانی ہیں؟ کیا ہم ایک انٹرویو کی بنیاد پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لے کر رائے دے دیں؟ کیا عدالت ایک انٹرویو کی بنیاد پر انکوائری کرے؟

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’انٹرویو ایک جج کا تھا جبکہ بینچ میں دیگر ججز بھی تھے، کیا ہم انٹرویو سے متعلقہ لوگوں کو بلا کر انکوائری شروع کریں؟ ہم صرف ایک انٹرویو کی ویڈیو دیکھ کر تو نہیں کہہ سکتے کہ یہ ہوا تھا، آرٹیکل 186 کے تحت عدالت صرف قانونی سوالات پر رائے دے سکتی ہے۔‘

    دوران سماعت عدالتی معاون مخدوم علی خان نے کہا کہ ’یہ فیصلہ انصاف سے زیادتی ہے۔‘

    جس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ’کیا اس میں سپریم کورٹ قصور وار ہے؟ یا پھر پراسیکیوشن اور اس وقت کا مارشل لا ایڈمنسٹریٹر؟

    اس پر بینچ میں شامل جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ ’میری نظر میں ہمیں اپنی تاریخ کو درست کرنا چاہیے، دھبہ ایک خاندان پر نہیں لگا بلکہ اداروں پر بھی لگ چکا ہے۔‘