’توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے، تاحیات نااہلی کا فیصلہ اسلامی اصولوں کے خلاف ہے‘: چیف جسٹس فائز عیسیٰ
ارکان پارلیمنٹ کی آرٹیکل 62 ون ایف اور الیکشن ایکٹ کے سیکشن 232 کے تحت نااہلی کی مدت سے متعلق کیس کی سماعت جمعے تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ ’توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے، تاحیات نااہلی کا فیصلہ اسلامی اصولوں کیخلاف ہے۔‘ دوسری جانب بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے کہا ہے کہ ’پی ٹی آئی کو بلّے کا نشان ملے نا ملے بطور پارٹی یہ سب ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتے۔‘
لائیو کوریج
ارکان پارلیمان کی تاحیات نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت آج سپریم کورٹ میں ہو گی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ارکان پارلیمنٹ کی آرٹیکل 62 ون ایف اور الیکشن ایکٹ کے سیکشن 232 کے تحت نااہلی کی مدت سے متعلق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سات رکنی بینچ آج درخواستوں پر سماعت کرے گا۔
بینچ میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحیٰ آفریدی اور جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ 11 دسمبر کو میر بادشاہ خان قیصرانی کی نااہلی کے کیس کی سماعت کے دوران چیف قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے تھے کہ تاحیات نااہلی سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ اور الیکشن ایکٹ میں ترامیم دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔
چیف جسٹس اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل بینچ نے تاحیات نااہلی کی مدت کے تعین کے معاملے کو لارجر بینچ کے سامنے مقرر کرنے کے لیے ججز کمیٹی کو بھجواتے ہوئے کہا تھا کہ کیس کی اگلی سماعت جنوری 2024 میں ہوگی۔
تاحیات نااہلی ختم ہونے کی صورت میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور جہانگیر ترین بھی اگلے ماہ عام انتخابات میں حصہ لینے کے اہل ہوں جائیں گے۔
اسلام آباد میں افغان طالبان کے سینیئر وفد کی ملاقاتیں: ’پاکستان الیکشن کے پُرامن انعقاد کی ضمانت اور ٹی ٹی پی کو قابو کرنے پر بات کرے گا‘
بلوچستان مسنگ پرسن: حکومت کی بے رخی مگر مظاہرین پرعزم
نو مئی واقعات پر معافی مانگتی ہوں، پتا نہیں الیکشن لڑ رہی ہوں یا جنگ: پی ٹی آئی رہنما زرتاج گل
پاکستان تحریک انصاف کی خاتون رہنما زرتاج گل نو مئی کے واقعات کی معافی مانگتے ہوئے آبدیدہ ہو گئی۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو میں زرتاج گل کا کہنا تھاکہ پتا نہیں الیکشن لڑ رہی ہو یا کوئی جنگ، میرے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے ہیں۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ ڈیرہ غازی خان میں الیکشن کمیشن کا عملہ یرغمال بنایا گیا، ڈیرہ غازی خان میں جتنا کام میں نے کیا کسی اور نے نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ میں آئین و قانون پر اعتماد رکھتی ہوں، پولیس فورس باہر مجھے گرفتار کرنے کھڑی ہے۔ زرتاج گل کا کہنا تھا کہ میں عدالت سے مطالبہ کرتی ہوں کہ مجھے ضمانت دی جائے اور پولیس کو گرفتاری سے روکا جائے،کوئی بھی بینچ ہمارے لیے معزز ہے، میں کسی بھی عدالت جا سکتی ہوں، پورا ملک ہمارا ہے، جب تک ضمانت نہیں ملتی یہاں سے نہیں جاؤں گی۔
انھوں نے کہا کہ جب میں نہیں گھبرائی تو ووٹرز بھی نہ گھبرائیں۔
شمالی وزیرستان میں حجام کا کام کرنے والے چھ مزدور قتل: ’حجام کی کسی سے کیا دشمنی ہوسکتی ہے؟‘
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال, محمد کاظم/ بی بی سی اردو، کوئٹہ

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بدھ کے روز بلوچ یکجہتی کمیٹی کی کال پر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔
یہ کال اسلام آباد میں موجود بلوچ مظاہرین کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد دی گئی تھی۔ ہڑتال کے باعث بلوچستان کے متعدد شہروں میں کاروباری مراکز بند رہے۔
بریکنگ, چیف الیکشن کمشنر کے خلاف نازیبا زبان کے استعمال کا مقدمہ: عمران خان اور فواد چوہدری پر فرد جرم عائد, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری پر چیف الیکشن کمشنر کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے اور الیکشن کمیشن کو بدنام کرنے سے متعلق مقدمے میں فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن کے رکن نثار درانی کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے چار ارکان نے اڈیالہ جیل میں جاکر ان دونوں ملزمان پر فرد جرم عائد کی تاہم ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے چار رکنی بینچ نے اس معاملے میں شواہد پیش کرنے اور گواہان کو طلب کرنے کے لیے 16 جنوری کی تاریخ مقرر کی ہے۔ اس سے پہلے ملزم فواد چوہدری کے وکیل فیصل چوہدری نے توہین الیکشن کمیشن کے مقدمے کا اوپن ٹرائیل کرنے اور اس مقدمے سے متعلق ضروری دستاویزات کی فراہمی سے متعلقکمیشن کے چار رکنی کمیشن کو درخواست دی تھی جو مسترد کر دی گئی۔
الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری کنور دلشاد کے مطابق سابق وزیر اعظم عمران خان اور فواد چوہدری ملک کے پہلے سیاست دان ہیں جن پر توہین الیکشن کمیشن میں فرد جرم عائد کی گئی ہے اس سے پہلے کبھی بھی کسی سیاست دان کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کی کارروائی شروع نہیں کی گئی۔
واضح رہے کہ عمران خان نے وزیر اعظم بننے سے پہلے اس وقت کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان اور الیکشن کمیشن کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی تھی جس پر اس وقت کے چیف الیکشن کمشنر نے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے تھے اور اسلام آباد پولیس کو عمران خان کو گرفتار کرکے الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ جس کے بعد عمران خان نے الیکشن کمیشن میں پیش ہو کر اس وقت کے چیف الیکشن کمشنر سے غیر مشروط معافی مانگی تھی۔
بریکنگ, پی ٹی آئی کا پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان
پشاور ہائی کورٹ کے ’بلے‘ کے انتخابی نشان پر حکم امتناع واپس لینے کے فیصلے کے خلاف سابق چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر خان نے سپریم کورٹ جانے کا اعلان کر دیا ہے۔
بدھ کو پی ٹی آئی کے انتخابی نشان ’بلے‘ کی بحالی کے خلاف الیکشن کمیشن کی درخواست پر پشاور ہائی کورٹ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے اپنا حکم امتناع واپس لے لیا تھا، جس کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اپنے انتخابی نشان بلے سے اور بیرسٹر گوہر خان پارٹی چیئرمین شپ سے محروم ہوگئے ہیں۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ فیصلے کے خلاف کل ہی سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے، اب کرپشن اور ہارس ٹریڈنگ کی بنیاد رکھیں گے، جو بھی جیتے گا لیکن جمہوریت کی ہار ہو گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے، غلط فہمی ہے کہ الیکشن کمیشن کو نہیں سنا گیا۔ انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کہہ چکی ہے کہ انتخابی نشان واپس لینا پارٹی کو ختم کرنے کے مترادف ہے، مجھے 99 فیصد یقین ہے کہ سپریم کورٹ ہمیں بلے کا نشان واپس دلوائے گی۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ بلے کا نشان بحال نہ ہوا تو ہر امیدوار آزاد لڑے گا۔ بیرسٹر گوہر نے سیاسی مخالفین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ انڈر 19 سے بھی ڈرے ہوئے ہیں جبکہ انتخابی نشان نہ ملا تو پلان ’بی‘ پر عمل کریں گے۔
یاد رہے کہ 22 دسمبر کو الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دے کر انتخابی نشان واپس لے لیا تھا۔ جبکہ 26 دسمبر کو پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی سے ’بلے‘ کا نشان واپس لینے کا فیصلہ معطل کر دیا تھا۔
سرتاج عزیز تحریک پاکستان کے کارکن، ’وہ سیاستدان نہیں تھے مگر سیاستدانوں کو ان کی طرح کا ہونا چاہیے‘
بریکنگ, پشاور ہائیکورٹ نے حکم امتناع واپس لے لیا، پی ٹی آئی سے ’بلے‘ کا انتخابی نشان لینے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ بحال

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے انتخابی نشان ’بلے‘کی بحالی کے خلاف الیکشن کمیشن کی درخواست پر پشاور ہائی کورٹ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے اپنا حکم امتناع واپس لے لیا ہے۔
پشاور ہائی کورٹ کے جج اعجاز خان نے بدھ کو اس کیس کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو اب سے تھوڑی دیر پہلے سنا دیا گیا ہے جس میں پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کا 22 دسمبر کا پی ٹی آئی کے انتخابی نشان ’بلے‘ کو واپس لینے کا فیصلہ بحال کر دیا ہے۔
اس سے قبل پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان کی بحالی کے خلاف الیکشن کمیشن کی نظرثانی درخواست پر آج پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس محمد اعجاز خان نے سماعت کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
یاد رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے 26 دسمبر کو پی ٹی آئی کی درخواست پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کیا تھا جبکہ الیکشن کمیشن نے ان کو سنے بغیر عدالت کی جانب سے حکم امتناع جاری کرنے پر اعتراض کیا تھا۔
الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انتخابی نشان بلا واپس لیا تھا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے بلوچ مظاہرین کو ہراساں کرنے سے روک دیا, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی اردو

اسلام آباد ہائیکورٹ نے بلوچ مظاہرین کو ہراساں کرنے اور نیشنل پریس کلب کے باہر موجود بلوچ فیملیز کو زبردستی ہٹانے سے روک دیا۔
عدالت نے ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی آپریشنز کو 5 جنوری کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے ’ویسے تو لوگ شاہراہ دستور پر تین تین ماہ دھرنا دیتے ہیں جس میں عدالتوں کو بھی گالیاں دی جاتی ہیں۔‘
جسٹس محسن اختر کیانی کیس نے سمی دین بلوچ کی جانب سے بلوچ مظاہرین کو پولیس کی جانب سے مسلسل ہراساں کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔
پٹیشنر کے وکیل عطا اللہ کنڈی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ’بلوچ مظاہرین نیشنل پریس کلب کے باہر دھرنا دیے ہوئے ہیں پولیس نے اس سے قبل مقدمہ درج کر کے خواتین اور بچے گرفتار کئے، عدالت میں درخواست دی تو تمام خواتین کی رہائی ممکن ہوئی پھر اس کے بعد خواتین کو زبردستی بسوں کے ذریعے واپس بھجوانے کی کوشش کی گئی۔‘
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ’اب ہماری طرف جو چیز آتی ہے پولیس اسے روک لیتی ہے اور ہراساں کرتی ہے سپیکر اٹھا لیتے ہیں، رات کو تنگ کرتے ہیں لگتا ہے کہیں دوبارہ آپریشن شروع نہ ہو جائے۔‘
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا ’یہ کام لوکل گورنمنٹ کا ہے لیکن الیکشن کمیشن لوکل گورنمنٹ کا الیکشن کرانے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’عدالت کے حکم کے باوجود الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں لوکل گورنمنٹ الیکشن نہیں کرائے۔ ایم سی آئی کو ایک ایڈمنسٹریٹر چلا رہا ہے اور عوام کے حقوق کو تو یہاں کوئی ماننے کو تیار ہی نہیں۔
سماعت کے بعد عدالت نے ضلعی انتظامیہ کو بلوچ فیمیلیز کو پریس کلب کے سامنے سے ہٹانے سے روک دیا۔
’ریٹائرڈ جج کو کوئی سنجیدگی سے نہیں لیتا‘ اعتزاز احسن
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے لاپتا افراد سے متعلق بیرسٹر اعتزاز احسن سمیت دیگر درخواست گزاروں کی درخواستوں پر آج سماعت کی۔ عدالت نے اب اس کیس کی سماعت نو جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔
عدالت کے سامنے پیش ہونے والے اعتزاز احسن نے لا پتا افراد سے متعلق بنائے جانے والے کشن کی کارکردگی پر سوال اُٹھاتے ہوئے کہا کہ ’کمشن اپنی ذمہ داری درست انداز میں ادا نہیں کر رہا۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اس کمشن کا سربراہ کسی حاضر سروس جج کو ہونا چاہیے، ریٹائرڈ جج کو کمشن کے سربراہ کی حیثیت سے معزرت کے ساتھ کوئی سنجیدگی سے نہیں لے رہا۔‘
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’یہاں اعتزاز احسن سمیت کوئی بھی لاپتا افراد کمشن سے مطمئن نہیں۔‘
دوران سماعت چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ہم مسئلے کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں، حکومت کو کمشین کے پروڈکشن آرڈر پر جواب دینا چاہیے۔‘
عدالت کا کہنا تھا کہ ’کمیشن کی جانب سے جاری کردہ تمام پروڈکشن آرڈر بارے تفصیلی رپورٹ جمع کروایی جائے، اس بارے میں عدالت کی جانب سے لا پتا کمشن کی جانب سے عدالت میں پیش ہونے والے کمشن کے رجسٹرار کو دو ہفتوں کا وقت دیا کہ وہ اپنے رپورٹ اٹارنی جنرل آف پاکستان کو جمع کروائیں جس پر ضروری کاروائی کے بعد اٹارنی جنرل اس رپورٹ کے ساتھ عدالت کے سامنے پیش ہوں۔
’آرمی چیف کو طلب کر کے پوچھیں میرے شوہر کہاں ہیں‘ آمنہ جنجوعہ کی استدعا، ماضی کا ذمہ دار آج والوں کو نہیں ٹھہرا سکتے، سپریم کورٹ, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی اردو
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ بیرسٹر اعتزاز احسن سمیت دیگر درخواست گزاروں کی درخواستوں پر سماعت کر رہا ہے۔
دورانِ سماعت چیف جسٹس نے آمنہ مسعود جنجوعہ کو روسٹرم پر بلا لیا، جس پر اُن کا کہنا تھا کہ میرے شوہر کو 2005 میں جبری طور پر گمشدہ کیا گیا تھا، اس وقت چیف جٹس افتخار چوہدری نے نوٹس لیا تھا۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’مشرف کی حکومت میں میرے بزنس مین شوہر کو اٹھایا گیا۔
اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’آپ کے کارباری شوہر کا حکومت یا ریاست سے کیا تعلق تھا؟ ریاست کس وجہ سے آپ کے شوہر کو اٹھائے گی؟ پہلے وجہ سمجھ آئے کہ حکومت نے کیوں آپ کے شوہر کو اٹھایا ہوگا، کیا آپ کے شوہر مجاہدین کے حامی تھے یا کسی تنظیم کے رکن تھے؟‘
جس پر آمنہ جنجوعہ کا کہنا تھا کہ ’لاپتہ افراد کمیشن نے میرے شوہر کو 2013 میں مردہ قرار دیدیا تھا، میرے شوہر دوست سے ملنے پشاور کیلئے نکلے لیکن پہنچے نہیں۔‘
بینچ پر شامل جسٹس مسرت ہلالی نے آمنہ جنجوعہ سہ سوال کیا کہ ’آپ کو کس پر شک ہے؟ غیر ریاستی عناصر بھی ہیں اور ایجنسیاں بھی۔‘
تاہم آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ ’سال 2007 میں معلوم ہوا کہ میرے شوہرفوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کی تحویل میں ہیں۔‘
آمنہ مسعود جنجوعہ نے چیف جسٹس سے استدعا کی کہ ’آرمی چیف سے پوچھیں کہ میرے شوہر کہاں ہیں؟‘
جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ماضی میں ہونے والے واقعات کی ذمہ داری آج والوں پر نہیں ڈالی جاسکتی۔
’کیا ہم کسی کے لیے ریڈ کارپٹ بچھائیں گے، اگر کسی کو خدشات ہیں تو ایف آئی آر درج کروائیں‘ عدالت
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ بیرسٹر اعتزاز احسن سمیت دیگر درخواست گزاروں کی درخواستوں پر سماعت کر رہا ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’اس کیس سے پہلے ایک اور کیس تھا، ابصار عالم میڈیا پر بات کر رہے تھے انھوں نے ہمت پکڑی اور اس عدالت میں آکر بات کی، کیا عمران ریاض کو عدالت بلاے تو وہ پیش ہونے کو تیار ہیں؟‘
جس پر شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ ’پروٹیکشن فراہم کی جائے۔‘
اس پر چیف جسٹس نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ ’کیا ہم کسی کے لیے ریڈ کارپٹ بچھائیں گے، اگر کسی کو خدشات ہیں تو ایف آئی آر درج کروائیں، ہمارے پاس کوئی فوج کھڑی ہے جو پروٹیکشن دینگے، آپ اس عدالت کو سیاسی اکھاڑا نا بنائیں، یہ بتائیں کے شیخ رشید نے آپکو کیا کہا؟ دھرنا کیس، الیکشن کیس میں شیخ رشید عدالت آ سکتے ہیں تو اس میں کیوں نہیں؟‘
اسی دوران بینچ میں شامل جسٹس مسرت ہلالی کا کہنا تھا کہ ’جو اپنے لیے بات نہیں کر سکتے تو وہ کسی کے لیے کیا بات کرینگے۔‘
دوران سماعت آج اعتزاز احسن کے وکیل شعیب شاہین نے مطیع اللہ جان کیس کا بھی حوالہ دیا جس پر چیف جسٹس نہ کہا کہ ’کل تو آپ مطیع اللہ جان کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ اس وقت کی حکومت نے ذمہ داری لی تھی؟‘
جس پر شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ ’اس وقت کی حکومت کی مداخلت سے ہی شاید وہ جلدی واپس آئے۔‘
اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’کریڈٹ نہ لیں وہ واقعہ کیمروں میں ریکارڈ ہو گیا تھا۔ حیران ہوں اس کیس میں ایک بھی بندے کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔ یہ کیس دو منٹ میں حل ہو سکتا تھا۔‘
سپریم کورٹ میں جبری طور پر گمشدہ کیے جانے والے افراد سے متعلق درخواست کی سماعت کا آغاز
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ بیرسٹر اعتزاز احسن سمیت دیگر درخواست گزاروں کی درخواستوں پر سماعت کر رہا ہے۔
گزشتہ روز کی طرح آج بھی ان درخواست گُزاروں کی جانب سے وکیل شعیب شاہین عدالت میں دلائل دیں رہے ہیں۔
اپنے دلائل کے دوران شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ ’درخواست پر اعتراضات ختم کر دیے تھے لیکن ابھی تک نمبر نہیں لگایا گیا۔‘
جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’کیس آگے بڑھائیں رجسٹرار اعتراضات کیخلاف تحریری آرڈر آج کر دینگے،‘ شعیب شاہین کی جانب سے لاپتہ افراد سے متعلق ماضی کے عدالتی فیصلوں کا حوالہ بھی دیا۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ایجنسیوں کے کردار پر فیض آباد دھرنا کیس میں بھی تفصیل سے لکھا گیا ہے۔‘
جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’فیض آباد دھرنا کیس سے لاپتہ افراد کا کیا تعلق ہے؟‘
وکیل شعیب شاہین نے جواب دیا کہ ’لاپتہ افراد کا براہ راست ذکر نہیں لیکن ایجنسیوں کے آئینی کردار کا ذکر موجود ہے۔‘
ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’فیض آباد دھرنا فیصلے میں قانون کے مطابق احتجاج کے حق کی توثیق کی گئی ہے، کچھ دن پہلے مظاہرین کو روکا گیا تھا اس حوالے سے بتائیں۔‘
جس پر شعیف شاہین کا کہنا تھا کہ ’عدالت نے سڑکیں بند کرنے اور املاک کو نقصان پہنچانے پر کارروائی کا کہا تھا۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’حیرت ہے آپ فیض آباد دھرنا کیس کا حوالہ دے رہے ہیں۔‘
تاہم شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ ’ہر ادارہ اپنی حدود میں رہ کر کام کرتا تو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔‘
انتخابات میں لیول پلیئنگ فیلڈ کے معاملے پر سماعت پیر 8 جنوری تک ملتوی ’مسئلہ یہ ہے کہ کوئی بھی اپنی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں‘
انتخابات میں لیول پلیئنگ فیلڈ کے معاملے پر پی ٹی آئی کی الیکشن کمیشن کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت پیر 8 جنوری تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رُکنی بینچ نے اس کیس کی سماعت کی۔ اس تین رُکنی بینچ میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بھی شامل ہیں۔
دوران سماعت چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’آپ نے اپنی درخواست میںکوئی بھی ایک مخصوص الزام نہیں لگایا، آپ لکھ رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن پابند ہے صاف و شفاف الیکشن کا، ہم کہتے ہیں ہاں، آپ نے 2013 کے الیکشن میں بھی الزامات لگاے، عدالت نے تب بھی وقت ضائع کیا، کوئی ٹھوس الزام نا نکلا۔‘
چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ’مسئلہ یہ ہے کہ کوئی بھی اپنی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں، ہمارا 22 دسمبر سے سخت کوئی اور آرڈر نہیں ہوسکتا، آپ نے اسکے بعد الیکشن کمیشن کو کوئی شکایت کی ہو تو بتا دیں۔‘
عدالت نے آئی جی پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب، ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔
سپریم کورٹ نے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔
دورانِ سماعت جسٹس میاں محمد علی مظہر کا الیکشن کمیشن حکام سے استفسار ’کیا آپ انھیں لیول پلینگ فلیڈ دے رہے ہیں؟‘
جس پر ڈی جی لاء نے جواب دیا کہ ’ان کی ہر شکایات کو ہم نے متعلقہ اتھارٹی کو بھیجا جہاں قانون کے مطابق اس پر فیصلے ہوئے۔‘
اس پر پی ٹی آئی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’تاریخ کی بدترین پری پول دھاندلی ہو رہی ہے آر اوز دفتر کے باہر سے لوگوں کو اُٹھا لیا جاتا ہے اس معاملے پر آنکھیں بند نہیں کی جا سکتی، میرے اپنے بیٹے کو گرفتار کیا گیا۔‘
عدالت نے کیس کی سماعت 8 جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا
شمالی وزیرستان میں چئیرمین این ڈی ایم محسن داوڑ کے قافلے پر حملہ

شمالی وزیرستان میں چئیرمین نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ محسن داوڑ کے قافلے پر میرانشاہ تپی کے علاقے میں حملہ ہوا ہے۔
پولیس کے مطابق ’الیکشن مہم کے دوران میرانشاہ تپی کے علاقے میں محسن داوڑکے قافلے پر فائرنگ ہوئی جس میں وہ محفوظ رہے۔‘
پولیس کے مطابق ’واقع کی اطلاع ملتے ہیں کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے اور ملزمان کی تلاش کا عمل جاری ہے۔‘
پولیس کے مطابق ’چئیرمین این ڈی ایم کی گاڑی پر دو اطراف سے حملہ کیا گیا جس کی وجہ سے اُن کی گاڑی کے فرنٹ اور سائیڈ کے شیشوں پر متعدد گولیاں لگیں، تاہم محسن داوڑ بلٹ پروف گاڑی ہونے کی وجہ سے دہشت گردوں کے اس حملے میں محفوظ رہے۔‘
بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان سے بات کرتے ہوئے این ڈی ایم کے رہنما ندیم عسکر اور اسی علاقے سے منتخب سابق رکن صوبائی اسمبلی میر کلام خان نے بات کرتے ہوئے اس واقعے کی تصدیق بھی کی اور بتایا کہ محسن داوڑ اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں علاقے میں تھے جب ان پر اچانک حملہ ہوا ہے۔‘
’مجھے یہ لگتا ہے کہ پاکستان میں الیکشن ہونے نہیں دیے جا رہے‘ چیف جسٹس

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انتخابات میں لیول پلیئنگ فیلڈ کے معاملے پر پی ٹی آئی کی الیکشن کمیشن کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس نے وکیل پی ٹی آئی لطیف کھوسہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ انفرادی طور پر لوگوں کے خلاف کاروائی چاہتے ہیں تو الگ درخواست دائر کریں، کسی کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے ہیں تو اپیل دائر کریں۔‘
اس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’الیکشن کمیشن نے ہماری شکایت پر صرف صوبوں کو ایک خط لکھ دیا، کیا الیکشن کمیشن صرف ایک خط لکھ کر ذمہ داریوں سے مبر اہو گیا۔‘
جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’آپ توہین عدالت کے سکوپ تک رہیں، یہ بتائیں ہمارے 22 دسمبر کے حکمنامہ پر کہاں عملدرآمد نہیں ہوا، الیکشن کمیشن نے تو 26 دسمبر کو عملدرامد رپورٹ ہمیں بھیج دی، مُجھے تو لگتا ہے کہ پاکستان میں الیکشن ہونے نہیں دیے جا رہے۔‘
اسی دوران پی ٹی آئی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ کی جانب سے سماعت کل تک ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی۔
جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’ہم روز آپ کیلئے نہیں بیٹھ سکتے، آپ کو عملدرآمد رپورٹ مل گئی اس پر جواب دے دیں۔‘
اسی دوران چیف جسٹس اور لطیف کھوسہ کے درمیان مکالہ ہوا جس میں لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ’کے میں زیادہ وقت آپ کا ضائع نہیں کروں گا،‘ جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’آپ وقت ضائع کریں ہم رات تک بیٹھیں ہیں، الیکشن کمیشن نے 26 دسمبر کو آپ کے تحفظات دور کرنے کا آڈر جاری کیا 26 دسمبر کے بعد کہاں کیا ہوا وہ بتائیں۔‘
مکالمے کے دوران لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’میڈیا میں سب کچھ آچکا ہے دنیا نے سب کچھ دیکھا۔‘ تو اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’میں تو میڈیا دیکھتا ہی نہیں۔‘
اس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’صرف کاسمیٹک عملدرآمد نہیں آپ بنیادی حقوق کے محافظ ہیں آپ نے شفاف الیکشن یقینی بنانے ہیں۔‘
’ہمیں آئینی اور قانونی بات بتائیں، ہر کوئی یہاں آ کر سیاسی بیان دینا شروع کر دیتا ہے‘ عدالت
انتخابات میں لیول پلیئنگ فیلڈ کے معاملے پر پی ٹی آئی کی الیکشن کمیشن کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کے دوران بینچ میں شامل جسٹس محمد علی مظہر نے پی ٹی آئی کی جانب سے عدالت میں پیش ہونے والے وکیل لطیف کھوسہ کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ ’کیا آپ نے سپریم کورٹ کے حکم پر الیکشن کمیشن سے رجوع کیا؟ آپ کی اب درخواست کیا ہے؟‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ توہین عدالت کی درخواست ہے کوئی نیا کیس نہیں، مرکزی کیس 22 دسمبر کو نمٹایا جا چکا، آپ نے درخواست میں بہت سارے توہین عدالت کرنے والوں کے نام شامل کر لیے، ہمیں بتایا تو جائے کہ الیکشن کمیشن نے کیا توہین عدالت کی؟ کیا الیکشن کمیشن نے آپ کے بارے کوئی فیصلہ دیا یا صوبائی الیکشن کمیشن کو احکامات دیے؟‘
اس پر لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ’ہمیں الیکشن کمیشن نے کچھ آرڈر نہیں دیا۔‘
جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ’آپ نے اتنے لوگوں کو توہین عدالت کیس میں فریق بنایا، آپ بتائیں کس نے کیا توہین کی ہے۔‘
اسی دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’آپ ہمیں بتائیں آپ ہم سے چاہتے کیا ہیں، اب آپ تقریر نہ شروع کر دیجیے گا، آئینی اور قانونی بات بتائیں ہر کوئی یہاں آ کر سیاسی بیان شروع کر دیتا ہے، آئی جی اور چیف سیکریٹریز کا الیکشن کمیشن سے کیا تعلق ہے۔‘
اس پر لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ’ہمارے امیدواروں کی راہ میں رکاوٹ ڈالی گئی۔‘
جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ثبوت کیا ہیں ہمیں کچھ دکھائیں، توہین عدالت کیس میں آپ صرف الیکشن کمیشن کو فریق بنا سکتے تھے، آئی جی اور چیف سیکریٹریز کو نوٹس بھیجا وہ کہیں گے ہمارا تعلق نہیں۔‘
