بشری بی بی اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے کی مبینہ اڈیو لیکس پر وزارت دفاع نے ہائی کورٹ میں جواب جمع کروا دیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی اور پاکستان کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم ثاقب کی مبینہ اڈیو لیکس منظر عام پر آنے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست پر وزارت دفاع نے اپنے جواب جمع کروا دیا ہے۔
وزارت دفاع کی طرف سے جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ مارکیٹ میں سمارٹ فونز سے آڈیو ریکارڈنگ کے متعدد سستے ٹولز دستیاب ہیں جنھیں کوئی بھی خرید سکتا ہے۔
اس جواب میں کہا گیا ہے کہ کچھ پلیٹ فارمز بھی معاوضے کے بدلے یہ سروسز دیتے ہیں اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹولز کے ذریعے کسی بھی آواز کے کنٹنٹ کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس بابر ستار نے اس معاملے میں فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ کو تحقیقات کرکے رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔
وزارت دفاع کی طرف سے جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ ریکارڈنگ کے سورس کی معلومات صرف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہی دے سکتا ہے اور پیکا ایکٹ سنہ 2016 کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے معلومات حاصل کرنے کے لیے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ مجاز اتھارٹی ہے۔
وزارت دفاع کے اس جواب میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے استدعا کی گئی ہےکہ اس معاملے پر مزید تحقیقات کے لیے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو ہدایت جاری کی جائیں۔
جواب میں اس خدشے کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ کالز کرنے والے خود بھی ریکارڈ کر کے بعد لیک کر سکتے ہیں یا فون ہیک ہو سکتا ہے۔





