یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
عام انتخابات 2024: مخصوص نشتتوں سمیت 28 ہزار 626 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی جمع ہونے کے بعد آج سے ان کی جانچ پڑتال کا عمل شروع ہو رہا ہے جو 30 دسمبر تک جاری رہے گا جبکہ تین جنوری کو کاغذات کی منظوری اور مسترد ہونے پر اپیلیں دائر ہو سکیں گی۔
لائیو کوریج
آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر خان اور ڈپٹی کمشنرعرفان نواز میمن کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کا حکم

،تصویر کا ذریعہGOP
الیکشن کمیشن کے احکامات پر آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر خان اور ڈپٹی کمشنرعرفان نواز میمن کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے اور وزیر اعظم آفس کی جانب سے اس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے آئی جی اسلام آباد اور ڈی سی اسلام آباد کے خلاف سیاسی جماعتوں کی جانب سے شکایات پر دونوں کو اپنے عہدوں سے ہٹانے کا حکم دیا تھا۔
بریکنگ, عام انتخابات: مخصوص نشتتوں سمیت 28626 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں: الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے عام انتخابات میں حصہ لینے والوں کے اعداد و شمار کی فہرست جاری کی ہے جس کے مطابق آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے جنرل اور مخصوص نشستوں پرالیکشن میں حصہ لینے کے لیے 28 ہزار 626 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق قومی اسمبلی کی جنرل نشستوں کے لیے 7242 مرد امیدواروں جبکہ 471 خواتین امیدواروں نے کاغزات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔
صوبائی اسمبلیوں کے لیے 17 ہزار 744 مرد امیدواروں جبکہ 802 خواتین امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرثائے ہیں۔
قومی اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشتوں کے لیے 459 خواتین امیدواروں کے کاغذات نامزدگی وصول کیے گئے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے دیے گئے شیڈول کے مطابق آج سے 30 دسمبر تک کاغژات نامزدگی کی جانچ پڑتال کی جائے گی جبکہ امیدواروں کی حتمی فہرست کا اجرا 13 جنوری 2024 کو کیا جائے گا۔
الیکشن کمیشن کو پنجاب سے 13823 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی وصول ہوئے
ترجمان صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب کے مطابق صوبہ پنجاب میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کی جنرل و مخصوص نشستوں پر مجموعی طور پر 13823 کاغذات نامزدگی وصول ہوئے ہیں۔
ایک بیان میں ان کا کہنا ہے کہ پنجاب سے قومی اسمبلی کی جنرل نشستوں پر 3594 مرد اور 277 خواتین نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے۔ پنجاب اسمبلی کی جنرل نشستوں پر 8592 مرد اور 437 خواتین نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے۔
مخصوص نشستوں برائے خواتین قومی اسمبلی کے لیے 195 کاغذات نامزدگی وصول ہوئے جبکہ مخصوص نشستوں برائے خواتین صوبائی اسمبلی پنجاب کے لیے 601 خواتین نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے۔
مخصوص نشستوں برائے اقلیت صوبائی اسمبلی پنجاب کے لیے 118 مرد اور نو خواتین نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے۔
اسلام آباد میں قومی اسمبلی نشستوں پر 182 مرد اور 26 خواتین کے کاغذات نامزدگی وصول ہوئے۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ الیکشن شیڈول کے مطابق سکروٹنی کا عمل 30 دسمبر تک جاری رہے گا۔
تحریک انصاف کو کاغذات نامزدگی جمع کروانے میں ’مشکلات کا سامنا کرنا پڑا‘
پی ٹی آئی کے رہنما اور وکیل شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ پنجاب میں ان کی جماعت کو کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
نامہ نگار آسیہ انصر سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’امیدواروں کو آر او کے دفتر جانے نہیں دیا جا رہا تھا اور جنھوں نے جانے کی ہمت کی انھیں اٹھا لیا گیا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ہم نے 99 فیصد کاغذات نامزدگی وکلا سے ذریعے بھیجے۔ ایک، ایک امیدوار کے پیچھے چار، پانچ کوررنگ امیدوار بنائے تاکہ اگر ایک سے کاغذات چھینے جائیں یا مسترد ہو جائیں تو دوسرا اس کی جگہ لے۔‘
ان کے مطابق پی ٹی آئی نے تمام حلقوں میں کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔ تحریک انصاف کے مطابق اس نے مخصوص نشستوں کی فہرست الیکشن کمیشن میں جمع کروا دی ہے تاہم پارٹی کے امیدواروں کے خلاف کریک ڈاؤن کی وجہ سے اسے پبلک نہیں کیا گیا۔
شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ ’پارٹی مشکلات کا شکار ہے، اس لیے فہرست شائع نہیں کی جا رہی۔ تاہم الیکشن کمیشن کو فہرست دے دی ہے۔‘
پی ٹی آئی کے مطابق عمران خان کے کاغذات نامزدگی لاہور اور میانوالی سے جمع کروائے گئے ہیں۔
کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا عمل شروع، تحریک انصاف کی مخصوص نشستوں کی فہرست روک لی گئی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی جمع ہونے کے بعد آج سے ان کی جانچ پڑتال کا عمل شروع ہو رہا ہے جو 30 دسمبر تک جاری رہے گا جبکہ تین جنوری کو کاغذات کی منظوری اور مسترد ہونے پر اپیلیں دائر ہو سکیں گی۔
ایک بیان میں کمیشن کا کہنا ہے کہ اگر کوئی امیدوار گورنمنٹ کا نادہندہ ہے تو سرکاری محکمے ریٹرننگ آفیسر سے رجوع کریں تاکہ رقم کی وصولی یقینی بنائی جائے۔
تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ اس کے متعدد امیدواروں کو آٹھ فروری کے عام انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروانے سے روکا گیا ہے۔ اس کے باوجود تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں کی ایک بڑی تعداد کاغذات نامزدگی جمع کروانے میں کامیاب رہی۔
الیکشن کمیشن نے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے لیے تحریک انصاف کی فہرست روک لی ہے۔ خیال رہے کہ تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ میں الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو چیلنج کر رکھا ہے جس میں انٹرا الیکشن کالعدم قرار دے کر کمیشن نے پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس لے لیا تھا۔ تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ سے ریلیف نہ ملنے کی صورت میں سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔
اگرچہ کئی امیدواروں نے کاغذات نامزدگی میں پی ٹی سی سے وابستگی ظاہر کی ہے تاہم اس حوالے سے صورتحال غیر واضح ہے کہ آیا تحریک انصاف کے امیدوار آزاد حیثیت میں الیکشن میں حصہ لیں گے۔
پولیس اور انتخابی افسران کے خلاف پی ٹی آئی نے کئی شکایات بھی الیکشن کمیشن میں درج کروائی ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امیدواروں سے بدسلوکی کی گئی اور بعض واقعات میں کاغذات نامزدگی چھینے گئے۔
پنجاب میں نو مئی کے واقعات کے بعد زیرِ حراست پی ٹی آئی رہنماؤں یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، عالیہ حمزہ اور صنم جاوید نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔
قومی اسمبلی کے لیے مسلم لیگ ن کی خواتین کی مخصوص نشستوں کی ترجیحی فہرست میں 20 نام شامل ہیں جن میں طاہرہ اورنگزیب، شائشتہ پرویز اور مریم اورنگزیب کے نام سرِ فہرست ہیں۔ پیپلزپارٹی کی ترجیحی لسٹ میں حنا ربانی کھر کا پہلا اور ثمینہ خالد گھرکی کا دوسرا نمبر ہے۔
الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق اپیلوں پر فیصلہ کی آخری تاریخ 10 جنوری ہے۔ امیدواروں کی حتمی فہرست 11 جنوری کو جاری کی جائے گی جبکہ 13 جنوری کو تمام امیدواروں کو انتخابی نشان الاٹ ہو جائیں گے۔
سارہ شریف کے بہن بھائیوں کی تحویل کے معاملے پر پاکستانی اور برطانوی عدالتوں میں کشمکش جاری
’کو ورکنگ سپیس‘ کیا ہے اور پاکستان میں چھوٹے کاروبار ایسی جگہوں کا انتخاب کیوں کر رہے ہیں؟
محمد علی جناح کی جائے پیدائش: وزیر مینشن، علی منزل یا جھرک؟
ایس ایچ او تحریک انصاف کے امیدوار کے کاغذات نامزدگی لے کر فرار، عدالتی حکم پر ایک گھنٹے میں واپسی ہوئی: وکیل
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور وکیل ابوذر سلمان نیازی نے اپنے ایک ٹویٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ جب تحریک انصاف کے رہنما زبیر نیازی اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرانے گئے تو ایک بہت ہی مضحکہ خیز واقع پیش آیا۔
ان کے مطابق مقامی تھانے کے ایس ایچ او زبیر نیازی کے کاغذات نامزدگی لے کر بھاگ گئے اور پھر جب وہ یہ معاملہ لاہور ہائی کورٹ کے پاس لے گئے تو جج نے نے لاہور شہر کے پولیس سربراہ (سی سی پی او) اور الیکشن کمیشن کو اس معاملے کی چھان بین کا حکم دیا ہے۔
وکیل کے مطابق عدالتی حکم کے ایک گھنٹے کے بعد وہی ایس ایچ او عدالتی حکم پر ایک گھنٹے میں کاغذات سمیت واپس آ گئے اور یوں زبیر نیازی نے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اسلام آباد پولیس کا بلوچ یکجہتی مارچ سے گرفتار 290 افراد کی رہائی کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہ@MAHRANGBALOCH5
اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے نگراں وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی کی ہدایت پر تین روز میں 250 سے زائد افراد قانونی ضابطے سے رہا ہو گئے ہیں۔
ترجمان پولیس کے مطابق ’عدالتی حکم پر جیل جانے والے 163 افراد میں سے بیشتر اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ جا چکے ہیں۔‘
واضح رہے کہ بلوچ یکجہتی مارچ نے ابھی رہا ہونے والے افراد کی تصدیق نہیں کی ہے۔ ان افراد کے رشتہ داروں اور دوستوں نے بھی ابھی تک رہائی کی تصدیق نہیں کی ہے۔
تاہم پولیس کے ترجمان نے مزید کہا کہ ’وزیر اعظم پاکستان کی تشکیل کردہ کمیٹی کی ہدایات پر عمل جاری ہے۔‘ ترجمان کے مطابق ’وزیراعظم اور تشکیل کردہ کمیٹی کی ہدایات پر جوڈیشل کیے گئے تمام افراد عدالتی احکامات کے بعد جیل سے رہا ہو گئے۔ کل 290 مظاہرین پولیس کی تحویل اور جیل سے رہا ہوئے ہیں۔
پولیس کے ترجمان نے مزید یہ بھی کہا کہ ’عوام سے گذارش ہے کہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کا حصہ نہ بنیں، قانون سب کے لیے برابر ہے۔‘
چند مٹھی بھر عناصر بلوچوں کے نمائندہ نہیں ہیں بلکہ وہ ایک ایجنڈے کے تحت نکلے ہیں: نگراں وزیر اطلاعات جان محمد اچکزئی, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

بلوچستان کے نگراں وزیر اطلاعات جان محمد اچکزئی نے لانگ مارچ کے شرکا پر تشدد کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس لانگ مارچ کا مقصد انڈیا کے لیے واویلا مچانا ہے۔
کوئٹہ میں ایک پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے جان اچکزئی نے کہا کہ ناراض بلوچ کمانڈرز، گلزار امام شمبے اور میر سرفراز خان بنگلزئی کی قومی دھارے میں شمولیت سے انڈیا کو دھچکا لگا ہے اس لیے بعض لوگ ان کے بقول انڈیا کے لیے واویلا مچارہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے والد مبینہ طور پر دہشت گردی میں ملوث رہے ہیں اور لانگ مارچ کا مقصد یہ ہے کہ دہشت گردوں کو کھلی چھٹی ملے جو کہ پاکستانیوں کے لیے کسی طرح قابل قبول نہیں ہے۔
انھوں نےالزام عائد کیا کہ دہشت گردی میں ملوث تنظیمیں بلوچستان میں غیر بلوچوں کی نسل کشی میں ملوث ہیں-
انھوں نے یہ استفسار کیا کہ بلوچستان میں جن غیر بلوچوں کو مارا جارہا ہے ان کے بارے میں کمیشن کیوں نہیں بنایا جا رہا۔
وزیر اطلاعات نے الزام عائد کیا کہ لاپتہ افراد یا تو بی ایل اے کے لوگ ہیں یا وہ انڈیا کے ٹریننگ کیمپوں میں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچ اور بلوچستان کے لوگ دوسرے صوبوں کے لوگوں کی طرح محب وطن ہیں۔ چند مٹھی بھر عناصر بلوچوں کے نمائندہ نہیں ہیں بلکہ وہ ایک ایجنڈے کے تحت نکلے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سی ٹی ڈی ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اہم کردار ادا کررہا ہے، اسے غیر مسلح کرنے کا مطالبہ بلاجواز ہے کیونکہ ایسا کرنا ریاست کو غیر مسلح کرنے کے مترادف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد اور ان کے حامی اپنے ایجنڈے میں کامیاب نہیں ہوں گے بلکہ ریاستی ادارے بلوچستان کو امن کا گہوارہ بنا کر دم لیں گے۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ لانگ مارچ کرنے والے دہشت گردوں کے سہولت کار بن رہے ہیں اور ریاست پاکستان کو بدنام کرنا چاہتے ہیں لیکن کسی کو بھی پاکستان کو چارج شیٹ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انھوں نے دعویٰ کیا اسلام آباد میں خواتین کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔
الیکشن ہو رہے ہیں یا منہ پہ مارے جا رہے ہیں؟: وسعت اللہ خان کا کالم بات سے بات
کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا آج آخری روز، کل سے کاغذات کی جانچ پڑتال کا عمل شروع ہو گا: الیکشن کمیشن
پاکستان میں آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا آج آخری روز ہے۔
الیکشن کمیشن کے حکام کے مطابق امیدواروں کے لیے کاغذات جمع کروانے کا وقت اتوار کی شام ساڑھے چار بجے تک ہے جبکہ ساڑھے چار بجے کے بعد جو امیدوار ریٹرنگ افسر کے دفتر کے احاطے میں موجود ہوں گے وہ کاغذات جمع کروا سکیں گے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل الیکشن کمیشن نے کاغذات نامزدگی کی تاریخ 20 دسمبر سے 22 دسمبرتک مقرر کی تھی تاہم پھر اس میں دو روز کی توسیع کر دی گئی تھی۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری انتخابی شیڈول کے مطابق اب اگلے مرحلے میں 25 دسمبر سے 30 دسمبر تک ریٹرننگ افسران کاغذات کی جانچ پڑتال کا عمل کریں گے۔
’محبت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی‘: گورداسپور کے مقبول جو انڈین اور پاکستانی جوڑوں کو قریب لانے میں مدد کرتے ہیں
پیپلز پارٹی کا تاحال کسی سیاسی جماعت کے ساتھ اتحاد نہیں ہوا: بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ’الیکشن میں بھرپور حصہ لیں گے تاہم سیاسی جماعتوں کے ساتھ سیٹ ایڈجسمنٹ پر بات چیت نہیں چل رہی۔ پیپلز پارٹی کا کسی سیاسی جماعت کے ساتھ اتحاد نہیں ہوا۔‘
لاڑکانہ میں میڈیا سے گفتگو میں بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’پیپلز پارٹی سیاسی انتقام پر یقین نہیں رکھتی۔ میں کسی سیاستدان کے خلاف سیاسی انتقام کے حق میں نہیں۔‘
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ریلیف مل رہا ہے۔ سائفر کیس میں بڑا سکیورٹی بریچ ہوا ہے۔ جج صاحبان کو خود انکوائری کرنا چاہیے کہ سائفر باہر کیسے آیا۔‘
’سائفر کیس ایک سیریس مسئلہ ہے سائفر کی صرف چند کاپیاں بنائی جاتی ہیں۔ قومی سلامتی کے خطرے ہوتے ہیں کہ اگر ایسی دستاویز منظر عام پرآ جائیں۔‘
بلاول بھٹو کے مطابق ’نواز شریف کا نعرہ تھا مجھے کیوں نکالا اور اب الیکشن کے بعد نعرہ ہو گا مجھے کیوں بلایا۔ ‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’الیکشن اس لیے لڑ رہا ہوں کہ پاکستانی عوام اس وقت مشکل میں ہیں ۔ میں امید رکھتا ہوں کہ جیسے ماضی میں عوام نے قائد ایوان اور محترمہ بے نظیر کا ساتھ دیا اب بھی وہی روایت قائم رکھیں گے۔‘
بلوچ یکجہتی مارچ کے شرکا سے مذاکرات جاری: نگران حکومت
نگران حکومت کا کہنا ہے کہ بلوچ یکجہتی مارچ کے شرکا سے مذاکرات جاری ہیں مگر اس دوران ’کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘
سیکریٹری داخلہ آفتاب اکبر درانی نے کہا ہے کہ ’وزیر اعظم کی ہدایت پر یقینی بنایا گیا ہے کہ مظاہرین کو کسی بھی قسم کے تشدد یا ہراسانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مگر کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ دی جائے گی۔ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔‘
اسلام آباد میں جاری احتجاج کے حوالے سے بیان میں انھوں نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی کے مظاہرین سے مذاکرات جاری ہیں۔ ’پر امن احتجاج کا ہر پاکستانی شہری کو حق حاصل ہے۔‘
سنیچر کو گورنر بلوچستان عبدالولی کاکڑ کے ہمراہ نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ کی قائم کردہ کمیٹی کے ارکان وفاقی وزرا فواد حسن فواد اور مرتضیٰ سولنگی نے بلوچستان سے آئے ہوئے مظاہرین سے مذاکرات کیے۔
سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق ’دونوں اطراف سے بہت اچھے ماحول میں گفتگو ہوئی، دونوں اطراف نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ دونوں اطراف نے کل دوبارہ مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کیا۔‘
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
جڑانوالہ فسادات کے کئی ماہ بعد بھی مسیحی برادری خوفزدہ: ’گلی میں کسی کی چیخ کی آواز بھی آئے تو سب ڈر جاتے ہیں‘
مریم نواز کے قومی اسمبلی کے دو اور صوبائی اسمبلی کے تین حلقوں کے لیے کاغذات نامزدگی جمع
نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے لاہور میں قومی اسمبلی کی دو اور صوبائی اسمبلی کی تین نشستوں سے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیے: این اے 119، این اے 120، پی پی 159، 160 اور 165۔
ادھر مسلم لیگ ن کے مطابق بلال یاسین آج سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے این اے 130 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائیں گے۔
کاغذات نامزدگی جمع نہ کرنے کے خلاف درخواستوں پر لاہور ہائیکورٹ میں سماعت آج
کاغذات نامزدگی جمع نہ کرنے کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت آج لاہور ہائیکورٹ میں ہوگی۔
جسٹس علی باقر نجفی آج دوپہر ایک بجے درخواستوں پر سماعت کریں گے۔ عدالت نے درخواستوں پر فریقین سے جواب طلب کر رکھا ہے۔ حماد اظہر سمیت دیگر نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔
خیال رہے کہ عدالت نے ریٹرننگ افسران کو چوہدری پرویز الہیٰ، مونس الہی اور حماد اظہر کے کاغذات نامزدگی جمع کرنے کا حکم دیا تھا۔
گذشتہ سماعت کے دوران جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا تھا کہ ’آپ کو سپریم کورٹ کے آرڈر کا پتہ ہے؟‘ جس پر ڈپٹی ڈائریکٹر لیگل الیکشن کمیشن نے جواب دیا تھا کہ ’جی ہم نے چیف سیکریٹری، تمام ڈی سیز اور ڈی پی اوز کو خطوط لکھے۔‘
جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے تھے کہ ’تمام انتظامیہ الیکشن کمیشن کے انڈر ہے۔ الیکشن کمیشن اپنے اختیارات استعمال کرے۔‘
انھوں نے زور دیا تھا کہ الیکشن کمیشن صاف شفاف انتخابات کے لیے اقدامات کرے اور ’شکایات انتہائی سنجیدہ نوعیت کی ہیں۔‘
عدالت نے واضح کیا تھا کہ ’اگر عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں ہو رہا تو ڈی پی اوز اور آر اوز کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کریں۔‘
ادھر ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر لاہور نے صوبائی الیکشن کمشنر کے ساتھ محکمہ پولیس کی آر اوز کے کام میں ’کھلی مداخلت‘ کا ذکر کیا ہے۔ ان کے خط میں چیف سیکریٹری اور آئی جی پنجاب کے ساتھ فوری طور پر معاملہ اٹھانے کی سفارش کی گئی ہے۔
ضلعی الیکشن کمشنر لاہور عبدالودود خان نے کہا ہے کہ ’لاہور میں قانون نافذ کرنے والے اداروں خصوصاً پولیس کی جانب سے آر اوز کے کام میں کھلی مداخلت کی بہت سی شکایات موصول ہوئی ہیں۔
’تحریری شکایات اور ٹیلی فون پر متعدد رابطوں کی کوششوں کے باوجود کسی قسم کے ازالے کی تدبیر نہیں کی۔‘
