پشاور ہائی کورٹ کا ’بلے کے حق میں‘ فیصلہ الیکشن کمیشن کے اختیارات پر حملہ ہے: شہباز شریف

کراچی میں صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف نے گفتگو کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر کڑی تنقید کی جس میں تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. قطری عدالت کا فیصلہ: سزائے موت کے منتظر انڈین بحریہ کے آٹھ افسران کو ’مختلف دورانیے کی قید کی سزائیں ہوئیں‘

  2. چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ آج لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کے خلاف کیس کی سماعت کرے گا

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کے خلاف کیس آج سماعت کے لیے مقرر ہے جس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کرے گا۔

    بینچ میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہوں گے۔

    خیال رہے کہ سینیئر وکیل اعتزاز احسن سمیت متعدد درخواست گزاروں نے جبری گمشدگیوں کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیں۔

  3. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!

    بی بی سی کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔

    29 دسمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  4. کوئٹہ میں پیپلز پارٹی کی ناراض کارکنان کا مخصوص نشستوں کی فہرست پر دھرنا

    بلوچستان سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے لیے پیپلز پارٹی کی جانب سے الیکشن کمیشن کو دی جانے والی خواتین کی فہرست کے خلاف پیپلز پارٹی کی ناراض خواتین کارکنوں نے پارٹی کے دفتر کے سامنے بطور احتجاج دھرنا دیا ہے۔

    یہ دھرنا رات گئے تک جاری رہا۔ دھرنے میں شریک ثنا درانی نے بتایا کہ پیپلزپارٹی میں جو خواتین طویل عرصے سے جدوجہد کررہی ہیں انھیں قومی اور بلوچستان اسمبلی کی مخصوص نشستوں کے لیے نظر انداز کیا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس فہرست میں پارٹی کے بعض عہدیداروں کے رشتہ دار خواتین کے ناموں کو شامل کرنے کے علاوہ ایسے خواتین کے ناموں کو شامل کیا گیا ہے جو کہ چند ہفتے قبل پارٹی میں شامل ہوئی تھیں۔

    ثنا درانی نے کہا کہ پارٹی میں شامل بڑے لوگ اپنی خواتین رشتہ داروں کو تو ویسے گھروں میں بٹھاتے ہیں لیکن جب اسمبلیوں کی ٹکٹوں کا معاملہ ہوتا ہے تو وہ ان کے لیے اپنی رشتہ دار خواتین کو ترجیج دیتے ہیں۔

    احتجاج پر بیٹھی خواتین کا پارٹی کی مرکزی قیادت سے مطالبہ ہے کہ خواتین اور اقلیتوں کی نشستوں پر الیکشن کمیشن کو دی جانے والی خواتین کی ناموں کی فہرست پر نظرثانی کرکے ان خواتین کو ترجیح دی جائے جو طویل عرصے سے پارٹی کے لیے قربانی دے رہی ہیں۔

  5. خدیجہ شاہ کوئٹہ میں درج مقدمے سے ڈسچارج، رہائی ملنے پر فیملی کے ساتھ روانہ, محمد کاظم/ بی بی سی اردو، کوئٹہ

    معروف فیشن ڈیزائنر اور تحریک انصاف کی حامی کارکن خدیجہ شاہ کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں قائم مقدمے سے ڈسچارج کر دیا گیا۔

    تحریک انصاف بلوچستان کے ایڈیشنل جنرل سیکریٹری عالم کاکڑ نے بتایا کہ مقدمے سے ڈسچارج کیے جانے کے بعد خدیجہ شاہ تھانے سے اپنے فیملی کے ساتھ چلی گئیں۔

    خدیجہ شاہ کے خلاف نو مئی کے واقعات کے حوالے سے کوئٹہ میں بجلی گھر پولیس سٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ان پر نو مئی کے واقعات کے حوالے سے لوگوں کو اکسانے کا الزام تھا۔ اس مقدمے میں خدیجہ شاہ کو کوئٹہ پولیس نے لاہور سے گرفتار کر کے کوئٹہ منتقل کیا تھا۔ انھیں انسداد دہشت گردی کی عدالت کوئٹہ ون نے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا۔

    ریمانڈ کی مدت ختم ہونے پر ان کو آج دوبارہ عدالت میں پیش کیا جانا تھا لیکن ان کے وکیل اقبال شاہ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ساڑھے چار بجے تک ان کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ بجلی گھر پولیس سٹیشن کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ خدیجہ شاہ کو مقدمے سے ڈسچارج کر دیا گیا۔

    پولیس اہلکار کے مطابق مقدمے سے ڈسچارج کیے جانے کے بعد انھیں وومن پولیس سٹیشن سے چھوڑ دیا گیا۔

    فون پر رابطہ کرنے پر تحریک انصاف بلوچستان کے ایڈیشنل جنرل سیکریٹری عالم خان کاکڑ نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ خدیجہ شاہ کو پولیس تھانے سے چھوڑ دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تھانے سے رہائی کے بعد وہ اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ چلی گئی تھیں۔

  6. سٹیٹ بینک کے زرِمبادلہ ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران 85 کروڑ ڈالر کا بڑا اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران 85 کروڑ بیس لاکھ ڈالر کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد اس کے ذخائر سات ارب 75 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے۔

    پاکستان کے مرکزی بینک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق سٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافے کی وجہ بیرون ملک سے حکومت کو ملنے والی رقوم ہیں ملک کے تجارتی بینکوں کے پاس پانچ ارب ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر موجود ہیں اور ملک کے پاس مجموعی طور پر بارہ ارب 85 کروڑ پچاس لاکھ ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر موجود ہیں۔

  7. پشاور ہائی کورٹ کا ’بلے کے حق میں‘ فیصلہ الیکشن کمیشن کے اختیارات پر حملہ ہے: شہباز شریف

    SS

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کراچی میں صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف نے گفتگو کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر کڑی تنقید کی جس میں تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا ہے۔

    خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیا تھا، جس کے تحت تحریک انصاف سے بلے کا انتخابی نشان واپس لے لیا گیا تھا۔

    اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ ’پہلی بات تو یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن میں بے ضابطگیوں اور دھاندلیوں کے خلاف ایک ’فیکٹ بیس‘ فیصلہ دیا تھا اور اب پشاور ہائی کورٹ کا جو فیصلہ آیا ہے وہ الیکشن کمیشن کے اختیار پر حملے کے مترادف ہے۔‘

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ ’پشاور ہائی کورٹ کے پی کے ایک صوبے کی ہائی کورٹ ہے۔ وہ کس طریقے سے پاکستان بھر کے معاملے پر فیصلہ دے سکتی ہے۔‘

    شہباز شریف نے کہا کہ ’یہ بات ہمارِے ذہن میں رہنی چاہیے کہ وہاں کے پی میں ایسے امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں کہ جن کی کسی نہ کسی طرح سے محترم جج صاحب کے ساتھ رشتہ داری ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ یہ بہتر ہوتا کہ ’جج صاحب اپنی عزیزداری کی وجہ سے اس بینچ سے علیحدہ ہوتے اور ایسے جج کو بینچ میں شامل کیا جاتا، جن کی کسی سے تعلق داری اور رشتہ داری نہ ہوتی۔‘

    شہباز شریف نے کہا کہ ’یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے۔ ایک صوبے کی ہائی کورٹ پاکستان سے متعلق فیصلہ کیسے دے سکتی ہے یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ پوری قوم عدلیہ سے انصاف پر مبنی فیصلوں کی توقع کرتی ہے۔ ایسے فیصلوں سے طرفداری کی بو آتی ہے۔ ترازو کو ایک لاڈلے کی طرف جھکایا جا رہا ہے۔

  8. ’یہاں سپیکر پر بات کرنے کی اجازت نہیں۔۔۔‘ جب بلوچ خواتین نے اسلام آباد پولیس سے اپنا ساؤنڈ سسٹم واپس لیا

  9. لاہور سے الیکشن میں حصہ لے رہا ہوں تا کہ لاہور کو متبادل قیادت مل سکے: بلاول بھٹو

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ’میں لاہور سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں تا کہ لاہور کے پاس کوئی متبادل آپشن بھی ہونا چاہیے۔‘ انھوں نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ لاہور سے ان کے کاغذات نامزدگی منظور کیے جائیں گے۔‘

    بلاول بھٹو کے مطابق لاہور پر کوئی چوتھی بار یا کوئی ایسا کھلاڑی نہ مسلط ہو جائے جو پھر کوئی عثمان بزدار لے کر آ جائے۔ انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی انتخابات میں جیت کر دکھائے گئی۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ مسلم لیگ ن تحریک انصاف کو بیچنا نہیں بلکہ خریدنا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کے امیدواران سے ’کاغذات نامزدگی چھیننے پر متعلقہ لوگ جواب دیں۔ سندھ میں کسی سے کاغذات نہیں چھینے گئے۔‘

    انھوں نے شاہ محمود قریشی کی گرفتاری سے متعلق پوچھے گئے سوال پر کہا کہ ’ہم انتقامی سیاست پر یقین نہیں رکھتے، اس کی مذمت کل بھی کرتے تھے اور آج بھی کرتے ہیں۔‘

    تاہم انھوں نے کہا کہ فریال تالپور کو جب چاند رات کو گھسیٹ کر گرفتار کیا گیا تو یہی شاہ محمود قریشی تھے جنھوں نے کہا تھا کہ ادارے آزاد ہیں۔

  10. فوج آئندہ عام انتخابات میں الیکشن کمیشن کو مطلوبہ اور ضروری تعاون فراہم کرے گی: کور کمانڈرز کانفرنس کا اعلامیہ

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق دو روزہ کور کمانڈر اجلاس میں یہ فیصلہ ہوا ہے کہ ’فوج آئندہ عام انتخابات میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کو مطلوبہ اور ضروری تعاون فراہم کرے گی۔‘

    واضح رہے کہ ملک میں عام انتخابات کا انعقاد 8 فروری کو ہو گا، جس کے الیکشن کمیشن اس وقت انتخابی عمل میں مصروف ہے۔

  11. پاکستانی فوج کا ٹی ٹی پی کے افغانستان میں ٹھکانوں اور جدید ہتیھاروں کی فراہمی پر اظہار تشویش

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی زیر صدارت دو روزہ کور کمانڈرز اجلاس میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر ’دہشتگرد‘ گروپوں کی پڑوسی ملک (افغانستان) میں محفوظ پناہ گاہوں، وہاں سے آزادی کے ساتھ کارروائیوں اور جدید ترین ہتھیاروں کی دستیابی کو پاکستان کی سکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق کانفرنس کے شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ’پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے دشمن قوتوں کے اشارے پر کام کرنے والے تمام دہشتگردوں، ان کے سہولت کاروں اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے والے عناصر کے خلاف ریاست مکمل طاقت کے ساتھ نمٹے گی۔‘

    آئی ایس پی آر کے مطابق فورم کو خطے کی صورتحال، قومی سلامتی کو درپیش چیلنجز اور بڑھتے ہوئے خطرات کے جواب میں اپنی حکمت عملی کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔

    پریس ریلیز کے مطابق فورم نے سمگلنگ، منی لانڈرنگ، بجلی چوری اور دیگر غیر قانونی معاشی سرگرمیوں کے علاوہ ذخیرہ اندوزی کے خلاف جاری کارروائیوں کا بھی جامع جائزہ لیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فوج ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے متعلقہ سرکاری اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہر طرح کی مدد فراہم کرتی رہے گی۔

    فورم نے سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ دینے اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے جاری کوششوں کے لیے اپنی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔

    آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انڈین فوج کی مسلسل جبر اور انسانی حقوق کی قابل مذمت خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔

    شرکا نے انڈین فوج کی شہریوں کے اغوا، تشدد اور قتل کی حالیہ کارروائیوں کی واضح الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ ’یہ کارروائیاں انسانیت کے خلاف سنگین جرائم ہیں جو بہادر کشمیریوں کے جائز حق خوداردیت کے جذبے کو پست نہیں کرسکتیں۔‘

  12. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مسلسل دوسرے روز تیزی، انڈیکس میں 1200 پوائنٹس کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    سٹاک مارکیٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے روز بھی تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا اور 100 انڈیکس میں 1188 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد انڈیکس 62000 پوائنٹس کی سطح عبور کر کے 62052 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

    واضح رہے کہ سٹاک مارکیٹ میں گذشتہ روز بھی تیزی کا رجحان غالب رہا تھا اور انڈیکس میں 1192 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ سٹاک مارکیٹ میں گذشتہ دو دونوں کے دوران مجموعی طور پر 2881 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    دو روز قبل سٹاک مارکیٹ میں ملکی تاریخ کی سب سے بڑی کمی ریکارڈ کی گئی تھی جب انڈیکس میں 2500 پوائنٹس کی کمی ہوئی تھی۔

    سٹاک مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق مارکیٹ میں تیزی کی وجہ تمام شعبوں میں ہونے والی خریداری تھی جس کی وجہ حصص کی کم قیمتیں تھیں جو دو روز قبل مندی کی وجہ سے بہت نیچے آ گئی تھیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق مارکیٹ میں دسمبر کے ادھار کے سودوں کی سیٹلمنٹ بھی ہو چکی ہے اور مارکیٹ نئے مہینے میں داخل ہونے والی ہے اس لیے حصص کی کم قیمتوں کی وجہ سے سرمایہ کاروں کی جانب سے خریداری کی دلچسپی کا اظہار کیا گیا۔

  13. انتخابات کے بعد کابل کا دورہ کروں گا، طالبان رہنماؤں سے ملاقات کروں گا: مولانا فضل الرحمان

    FAZAL REHMAN

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انتخابات کے بعد افغانستان کا دورہ کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ’امارات اسلامی افغانستان (طالبان حکومت) نے مجھے مذاکرات کے لیے دعوت دی ہے، وہ دو طرفہ امور پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔‘

    ان کے مطابق ’انتخابی امور کے بعد پہلی ترجیح افغانستان کا دورہ ہو گا۔‘

    مولانا فضل الرحمان کے مطابق ان کی اس دورے کے دوران طالبان حکومت کے رہنماؤں سے ملاقات ہوگی۔ ان کے مطابق ’دونوں ممالک میں استحکام پیدا کرنا ترجیح ہوگی۔ یہ استحکام دونوں ممالک کی ضرورت ہے۔‘

    واضح رہے کہ پاکستان متعدد بار تحریک طالبان پاکستان کی کارروائیوں سے متعلق احتجاج کر چکا ہے اور اس گروپ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر چکا ہے۔

    مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس میں تحریک طالبان پاکستان اور طالبان کے ساتھ ان کے تعلقات پر کوئی بات نہیں کی۔ تاہم انھوں نے کہا کہ انتخابات اس وقت ان کی ترجیح ہیں اور اس کے بعد وہ افغانستان کا رخ کریں گے۔

    مولانا فضل الرحمان کے مطابق اپنے دورہ کابل میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا کوئی میکنزم بنانے کی کوشش کریں گے۔

  14. سپریم کورٹ کے دو ججز نے چیف الیکشن کمشنر کو بلا کر انتخابات کروانے پر مجبور کیا: مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت پاکستان کے دو صوبوں میں امن و امان کی صورتحال دگرگوں ہے۔ یہ دونوں صوبے اس وقت بدامنی کی زد میں ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم مسلسل یہ کہتے چلے آ رہے ہیں کہ جہاں ہمیں الیکشن دیا جائے وہاں انتخابی ماحول بھی ضروری ہے۔ تا کہ عوام پرامن طریقے سے اپنے ووٹ کے حق کا استعمال کر سکیں اور تمام امیدوارعوام کے پاس جانے کے لیے پرامن ماحول حاصل کر سکیں۔‘

    مولانا فضل الرحمان کے مطابق ’چیف الیکشن کمشنر نے خود تسلیم کہا ہے کہ دونوں صوبوں میں حالات اچھے نہیں ہیں اور میں دعاگو ہوں۔‘

    ان کے مطابق سپریم کورٹ کے دو ججز نے چیف الیکشن کمشنر کو بلا کر ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا کہا۔ ان کے مطابق ہم کیسے مان جائیں کے الیکشن کمیشن ایک آزاد اور خود مختار ادارہ ہے جب فیصلے ججز کر رہے ہیں۔

    مولانا فضل الرحمان کے مطابق عشا کے بعد عدالت لگ گئی اور انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کو حکم دیا کہ وہ ہر صورت انتخابات کروائیں۔ ان کے مطابق اگر اس انتخابی مہم میں ان کا کوئی کارکن بھی زخمی ہوا تو اس کا ذمہ دار چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس آف پاکستان ہوں گے۔

    ان کے مطابق سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے خلاف کیس سنا ہی نہیں ہے اور فیصلہ سنا دیا ہے اور اب ایسے میں ہمارا عدالت جانا بے سود ہے۔

    تحریک انصاف کے امیدوارن سے متعلق ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اصولی طور پر کسی سے بھی کاغذات نامزدگی چھیننا درست نہیں ہے۔

    ’فاٹا کے انضمام کا تجربہ بظاہر ناکام نظر آ رہا ہے‘

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بظاہر فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام کا تجربہ ناکام رہا ہے۔ ان کے مطابق ابھی تک فاٹا کے عوام کے ساتھ کیے گئے وعدوں پر دس فیصد بھی عمل نہیں ہو رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے مطابق ’فاٹا کا عام آدمی ابھی پریشان ہے کہ ہم فاٹا ہیں یا خیبرپختونخوا کا۔

    انھوں نے کہا کہ اس وقت فاٹا کو وعدے کے مطابق سالانہ سو ارب روپے دیے جا رہے ہیں نہ ہی وہاں ہمہ وقت عدالتیں بیٹھ رہی ہیں۔ ان کے مطابق نہ فاٹا کا لینڈ ریکارڈ بنایا جا سکا ہے اور نہ زمینوں کی تقسیم کا کوئی میکنزم موجود ہے۔

    ان کے مطابق وہاں لوگوں کی زندگی میں کوئی بہتری نظر نہیں آ رہی ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ ’فاٹا کے عوام کو یہ حق دیا جائے کہ وہ اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کریں۔‘

  15. سائفر کیس کے ٹرائل پر حکم امتناع جاری: اسلام آباد ہائیکورٹ نے خصوصی عدالت کو 11 جنوری تک سماعت کرنے سے روک دیا, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف اڈیالہ جیل میں جاری سائفر کیس کے ٹرائل پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے خصوصی عدالت کو اس کیس کی سماعت گیارہ جنوری تک کرنے سے روک دیا ہے۔

    عدالت نے اس کیس کی اڈیالہ جیل میں اِن کیمرہ ہونے والے سماعتوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ جس طرح اس کیس کی سماعت آگے بڑھ رہی ہے اس پر عدالت کو تشویش ہے۔

    سائفر کیس کی ان کیمرہ کارروائی کے خلاف درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی۔ سماعت کے آغاز پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے بند دروازوں کے پیچھے ہونے والے ٹرائل سے متعلق اٹھنے والے سوالات کا جائزہ لینا ہو گا کیونکہ ایک، دو لوگوں یا خاندان کے افراد کی موجودگی میں ہونے والا ٹرائل اوپن نہیں بلکہ کلوزڈ ٹرائل ہی سمجھا جائے گا۔

    دوران سماعت اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پراسکیوشن کی جانب سے اب تک 25 گواہان کا بیان ریکارڈ کیا جا چکا ہے جس میں سے 12 گواہان کے بیانات میڈیا کی موجودگی میں ریکارڈ کیے گئے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت کا موقف ہے کہ 3 ایسے گواہ تھے جن کا بیان نشر نہیں کیا جانا چاہیے تھا چنانچہ ایسے گواہان کے بیانات 15 دسمبر کو ریکارڈ کیے گئے۔ اس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ’12 دیگر گواہان کے بیانات بھی تو کلوزڈ ڈور ٹرائل میں ہوئے ہیں۔ آپ سمجھتے کیوں نہیں ہیں، ہم نے آپ کو سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اوپن ٹرائل کیا ہوتا ہے۔ ان کیمرہ کرنے کی جج کی وجوہات دیکھ لیں اس میں 3 لائینیں لکھی ہوئی ہیں۔‘

    اٹارنی جنرل نے بتایا کہ جن 3 گواہان پر جرح ہوئی وہ سائفر کی کوڈنگ، ڈی کوڈنگ سے متعلق تھے جبکہ سیکریٹری خارجہ کا بیان بھی ان کیمرہ ہو گا۔

    عدالت نے کہا کہ پراسیکیوشن کو کہنا چاہیے تھا کہ جج صاحب 3 گواہان کے لیے ان کیمرہ ٹرائل کا حکم دیں تا کہ ٹرائل پر سوالات نہ اٹھیں۔

    اس موقع پر پراسیکیوٹر راجا رضوان عباسی نے عدالت میں کہا کہ سائفر کیس کے ان کیمرہ ٹرائل کے خلاف درخواست قابل سماعت نہیں ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ’آپ اٹارنی جنرل کی اس پیشکش پر کیا کہیں گے کہ گواہان کے بیانات دوبارہ ریکارڈ کر لیے جائیں؟‘

    اس پر تحریک انصاف کے وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ’ہماری استدعا ہے کہ عدالت پہلے ٹرائل کورٹ کی ان کیمرہ سماعتوں کے آرڈرز کو دیکھے۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ’میں یہ دستاویزات دیکھنا چاہتا ہوں۔ آپ یہ مجھے فوری طور پر فراہم کریں۔ میرا مائنڈ آج آپ نے بہت کلئیر کر دیا۔‘

    بعد ازاں عدالت نے سائفر کیس کاٹرائل 11 جنوری تک روکنے کا حکم جاری کر دیا۔

  16. بریکنگ, جی ایچ کیو حملہ کیس: جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد، شاہ محمود قریشی کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیجنے کا حکم

    Shah Mehmood

    راولپنڈی کی ایک مقامی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا جی ایچ کیو حملہ کیس میں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انھیں اڈیالہ جیل بھیجنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

    جمعرات کی صبح پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو ڈیوٹی مجسٹریٹ راولپنڈی کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں استغاثہ نے ان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔ تاہم عدالت نے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انھیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

    یاد رہے کہ شاہ محمود قریشی کو گذشتہ روز راولپنڈی میں جی ایچ کیو کے باہر ہونے والی ہنگامہ آرائی کیس میں گرفتار کیا تھا۔ دوبارہ گرفتار کیے جانے کے بعد آج سخت سکیورٹی میں انھیں ڈیوٹی مجسٹریٹ راولپنڈی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

    اُن کو بکتر بند گاڑی میں جوڈیشل کمپلیکس لایا گیا اور ہتھکڑیاں لگا کر ڈیوٹی مجسٹریٹ سید جہانگیر علی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

    کمرۂ عدالت میں شاہ محمود قریشی نے ڈیوٹی مجسٹریٹ سے استدعا کی کہ وہ بیان ریکارڈ کروانا چاہتے ہیں۔

    انھوں نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ’میری تقریر کا حوالہ دیا گیا ہے مکمل بات نہیں کر رہے۔ میں نے کہا تھا کہ قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا۔ عدالت ویڈیو منگوا لے میں نے کہا تھا کہ پر امن احتجاج عوام کا حق ہے۔‘

    شاہ محمود نے عدالت کو کہا کہ ’ایک بہت ذمہ دار شخص نے کہا کہ میں 9 مئ میں صاف ہوں۔ جج صاحب اگر چاہیں تو علیحدگی میں نام بتا سکتا ہوں۔‘

    انھوں نے کہا ’یہ سب کچھ میرے خلاف گھڑا جا رہا ہے۔ سائفر کے مقدمے میں ضمانت ہوئی تو یہاں موجود ہوں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’مجھے سپریم کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس سمیت تین جسٹس صاحبان نے سائفر کیس میں ضمانت دی، مچلکہ جمع کرا کر مجھے ضمانت کا حکم دیا گیا، میری رہائی کی روبکار جاری ہوتے ہی تھری ایم پی او جاری کیا گیا۔‘

    اس دوران شاہ محمود قریشی کمرہ عدالت میں گفتگو کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئی اور جج کی ہدایت پر شاہ محمود قریشی کی ہتھکڑیاں کھول دی گئیں۔

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’میں نے پاکستان کا عالمی سطح پر مقدمہ لڑا میں پاکستان اور اداروں کی عالمی دنیا میں صفائیاں دیتا رہا ہوں، کیا یہ انصاف ہے؟‘

    شاہ محمود نے استفسار کیا کہ ’میں کیسے عوام کے لیے خطرہ ہوں؟ میں کئی ماہ سے اڈیالہ جیل میں قید ہوں، مجھے ایک رات آکر کہا گیا کہ تھری ایم پی او واپس لیتے ہیں، 26 تاریخ کو تھری ایم پی او کا آرڈر دیا گیا ،پھر واپس لے لیا گیا، ہاتھ سے 26 تاریخ کاٹ کر 27 کر دی گئی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’مجھے غیر قانونی طور پر رکھا گیا، میں جیل کی حدود میں تھا وہاں پنجاب پولیس گرفتار کرنے پہنچی، میں پانچ بار رکن پارلیمنٹ رہ چکا ہوں، ایک ایس ایچ او نے مجھے مکے لاتیں ماریں، دوسرے ایس ایچ او نے مجھے گالیاں دیں، میری چھاتی میں درد ہو رہا تھا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’کئی دفعہ ایس پی کو کہا کے ڈاکٹر کے پاس لے جائیں، پوچھا گیا کہ آپ کو کس ہسپتال میں لے کر جائیں؟ مجھے کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں لے کر گئے۔‘

    شاہ محمود نے کہا کہ ’ایک ٹیم آئی کے نو مئی کے لیے بیان ریکارڈ کرنا ہے، یہ لوگ مجھے نو مئی کے مقدمات میں ملوث کرنا چاہتے ہیں، میں نو مئی کو کراچی میں تھا میری اہلیہ کی سرجری ہوئی تھی۔‘

    انھوں نے کہا ’میں موقع پر موجود نہیں تھا، مجھ سے بیان لینے پہنچ گئے، مجھے کل رات ایک ٹھنڈے کمرے میں رکھا گیا، مجھے رات بھر سونے نہیں دیا گیا، مجھے لائٹیں جلا کر بار بار جگایا گیا شور مچایا گیا، مجھے ذہنی اور جسمانی طور پر تنگ کیا گیا۔‘

    دوران سماعت شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری نے مقدمہ سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کرتے ہوئے دلائل دیے کہ ’مجھے قوانین کا مکمل طور پر ادراک ہے، میرے مؤکل کو آپ کے ہوتے ہوئے ہتھکڑی نہیں لگائی جا سکتی، میرے مؤکل کے خلاف پراسیکیوشن کے خلاف صرف ایک ٹویٹ ہے۔‘

    علی بخاری نے شاہ محمود قریشی کی ٹویٹ عدالت میں پڑھ کر سناتے ہوئے بتایا کہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ ’چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ نکلیں یکجہتی کے لیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کو 24 گھنٹے تک غیر قانونی تحویل میں رکھا گیا، شاہ محمود قریشی کو مقدمہ سے ڈسچارج کیا جائے، جج کو ریمانڈ دینے کی وجوہات دینی ہوں گی۔

    انھوں نے مزید کہا کہ میرے مؤکل سے کچھ برآمد تو کرنا نہیں ہے، جو شاہ محمود قریشی نے ابھی بیان دیا،اس بیان کو عدالت لکھنے کی پابند ہے، جسمانی ریمانڈ کا مقصد اذیت دینا ہے۔

    علی بخاری نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کا مقدمہ میں نام نہیں سپلیمنٹری کیس میں سزا نہیں ہوتی ڈسچارج کیا جاتا ہے، چالان پیش ہو گیا تو جسمانی ریمانڈ کیسے دیا جائے، پولیس کے چالان میں شاہ محمود کا نام نہیں۔

    انھوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی 10 اور 11 مئی کو اسلام آباد پہنچے، 11 مئی کو میرے مؤکل کو جی بی ہاوس سے تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا، اس ایم پی او حکم کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ختم کر دیا، انھیں سائفر کیس میں گرفتار کیا گیا تھا جس میں سپریم کورٹ نے انھیں ضمانت دے دی۔

    اس موقع پر وکیل استغاثہ نے شاہ محمود قریشی کے ریمانڈ کے لیے دلائل دیتے ہوئے اُن کو مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی مخالفت کر دی۔

    انھوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے مقدمے میں 90 روز تک ریمانڈ ہوسکتا ہے، ہم نے ایف آئی اے، پیمرا اور ایف آئی سے رپورٹ لی، اس سب میں شاہ محمود کے خلاف شواہد ملے، سوشل میڈیا پر بھی شواہد سامنے آئے، تمام تر ثبوتوں کو عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔

    عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو کچھ ہی دیر بعد سناتے ہوئے شاہ محمود کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجنے کا حکم دیا گیا۔

  17. عدالت نے منظور پشتین کا مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے منظور پشتین کا مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔

    منظور پشتین کے خلاف تھانہ ترنول میں درج مقدمے میں آج انھیں جوڈیشل مجسٹریٹ احمد شہزاد گوندل کی عدالت میں پیش کیا گیا اور تفتیشی افسر کی جانب سے منظور پشتین کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔

  18. شاہ محمود قریشی کو ڈیوٹی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کر دیا گیا

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کو راولپنڈی میں ڈیوٹی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔

    شاہ محمود قریشی کو بکتر بند گاڑی میں جوڈیشل کمپلیکس لایا گیا اور پولیس اہلکاروں نے انھیں ہتھکڑیاں لگا کر ڈیوٹی مجسٹریٹ سید جہانگیر علی کی عدالت میں پیش کیا۔

    واضح رہے کہ بدھ کو سائفر کیس میں رہائی کے بعد اڈیالہ جیل سے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو دوبارہ گرفتار کیا گیا تھا۔

    نامہ نگار شہزاد ملک کا کہنا ہے کہ راولپنڈی پولیس کے مطابق شاہ محمود قریشی تھانہ آر اے بازار میں درج نو مئی کو جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے میں نامزد ہیں اور انھیں اسی کیس میں گرفتار کیا گیا۔

  19. عمران خان کی سائفر مقدمے میں حکم امتناع جاری کرنے کی استدعا مسترد, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی خصوصی عدالت میں سائفر مقدمے کی سماعت روکنے سے متعلق حکم امتناع جاری کرنے کی استدعا مسترد کر دی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے ہیں کہ پہلے درخواست گزار کی طرف سے اس درخواست میں اٹھائے گئے نکات پر نوٹس جاری ہوں گے اور دوسرے فریق کو سنے بغیر حکم امتناع جاری نہیں کیا جا سکتا۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے سائفر مقدمے کی سماعت روکنے سے متعلق درخواست کی سماعت کی تو درخواست گزار کے وکیل عثمان ریاض نے خصوصی عدالت کا بارہ دسمبر کا عدالتی آرڈر پڑھا اور کہا کہ سیکشن 13 کی سب سیکشن 3 کے تقاضے کے مطابق عدالتی کارروائی نہیں ہو رہی۔

    انھوں نے کہا کہ قانون میں لفظ ’کمپلینٹ‘ کا ذکر کیا گیا اور ایف آئی آر کا ذکرنہیں۔

    عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کا پوائنٹ کیا ہے؟ کون سا تقاضہ پورا نہیں کیا گیا؟

    جس پر عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ کمپلینٹ کی بجائے ایف آئی آر کے تحت یہ کارروائی آگے بڑھ رہی ہے جو قانونی طور پر درست نہیں جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ پہلے ایک درخواست میں بھی سامنے آیا تھا اور پراسکیوشن کے مطابق کابینہ کی منظوری کے بعد کیس فائل کیا گیا۔

    عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہمارا کیس یہ ہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ ایک سپیشل قانون ہے، جس کی وجہ سے اس کے تحت ہونے والی کارروائی کے لیے بھی خصوصی طریقہ اپنایا جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ایف آئی آر ہمیشہ سکیشن 154 کے تحت ہوتی ہے اور ہمارا کیس یہ ہے کہ حکومت کی منظوری سے ایک کمپلینٹ مجسٹریٹ کے روبرو درج کی جانی چاہیے تھے جبکہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف کیس میں ایف آئی آر درج کی گئی اور شکایت مجسٹریٹ کو نہیں بھجوائی گئی۔

    انھوں نے کہا کہ قانونی طور پر حکومت کے مجاز افسر نے ڈائریکٹ عدالت میں ’کمپلینٹ‘ دائر کرنی تھی لیکن لیکن یہاں کمپلینٹ فائل ہی نہیں ہوئی بلکہ ایف آئی آر درج ہوئی۔

    انھوں نے کہا کہ یہ نوٹیفکیشن تو سیکشن 13 (6) کے تقاضے پورے نہیں کرتا لیکن عدالت اس معاملے کو سمجھ نہیں سکی۔

    درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ 25 گواہوں کے بیانات ہو چکے ہیں، تین پر جرح ہو چکی اور میری استدعا ہے کہ عدالت ٹرائل کورٹ کی کارروائی روک دے جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کا کہنا تھا کہ نوٹس جاری کریں گے، اس کے بعد عدالت اس کو دیکھے گی۔

    عدالت نے ایف آئی اے کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا ہے۔

  20. بریکنگ, ’پاکستان کا موجودہ معاشی ماڈل کام نہیں کر رہا:‘ ورلڈ بینک

    عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر ناجی بینہسین نے کہا ہے کہ پاکستان کا موجودہ معاشی ماڈل کام نہیں کر رہا ہے۔ اور وہ اپنے ساتھی ممالک کے معاشی ماڈل سے پیچھے رہ گیا ہے۔ملک میں غربت بڑھنا شروع ہو گئی ہے اور ترقی کے ثمرات ایک محدود طبقے تک پہنچ رہے ہیں۔

    ناجی بینہسین نے یو این ڈی پی کی پاکستان کے حوالے تازہ سہ ماہی رپورٹ شائع ہونے والےپالیسی ویژن آرٹیکل میں کہا کہ اس بات پر ایک وسیع اتفاق رائے ہے کہ ملک کی ناکام معاشی پالیسیوں کو تبدیل کرنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے جن سے ترقی کی رفتار متاثر ہوئی، صرف چند ایک کو فائدہ ہوا اور ملکی معیشت بہت زیادہ غیر مستحکم رہی۔

    انھوں نے کہا اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے بہت زیادہ متاثر ہے، موسمیاتی تبدیلی کے دھچکوں اور قدرتی آفات کے ممکنہ تباہ کن اثرات پہلے ہی ظاہر ہو چکے ہیں۔

    مضمون

    ،تصویر کا ذریعہhttps://www.undp.org/

    ناجی بینہسین نے اس بات پر زور دیا کہ زرعی خوراک اور توانائی کے اہم شعبے میں پالیسی کی ناکامیوں اور بگاڑ کو دور کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ زراعت میں سبسڈی اور قیمتوں کی پابندیوں کو ختم کرنے کے لیے اصلاحات کی ضرورت ہے جو چھوٹے کسانوں کو کم قیمت والے کاشتکاری نظام میں محدود کر دیتی ہیں اور وسائل سے بھرپور اور ماحول کو نقصان پہنچانے والے پیداواری طریقوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

    عالمی بینک کے عہدیدار نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات سے معاشی استحکام کی جانب پیش رفت کو مستحکم ہونا چاہیے، تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے نجی شراکت داری میں اضافہ اور قابل تجدید پیداوار کے ذریعے بجلی کی پیداوار کے زیادہ اخراجات کا مسئلہ حل کرنا چاہیے۔