ہماری لڑائی بلوچ لواحقین سے نہیں بلکہ ہمیں مسئلہ ان سے ہے جو خواہ مخواہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں: انوار الحق کاکڑ

پاکستان کے نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے مبینہ جبری گمشدگیوں کے خلاف اسلام آباد میں آئے احتجاجیوں کے حوالے سے کیے گئے ایک سوال پر جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ میرا ان لواحقین سے جھگڑا نہیں ہے میرا پورا پاکستان سے گلہ ہے جنھیں بات ہی ابھی تک سمجھ نہیں آئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. فوج اور سکیورٹی فورسز کے خلاف منفی پروپیگینڈا کرنے والوں کو سخت سزا دینے سے متعلق قرارداد سینیٹ میں منظور

    پاکستان میں آج سینیٹ اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر بہرمند خان تنگی کی جانب سے فوج اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف منفی، بدنیتی پر مبنی پروپیگینڈا کرنے والوں کو سخت سزا دینے سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی ہے۔

    سینیٹ میں پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ’فوج اور سکیورٹی فورسز کی دہشتگردی کے خلاف جنگ، سرحدوں کی حفاظت کے لیے دی گئی قربانیوں کا ادراک کرتے ہیں اور دشمن ہمسایوں کے ہوتے ہوئے مضبوط فوج اور سکیورٹی ایجنسی ناگزیر ہے۔‘

    قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ ’حکومت پروپیگینڈے میں ملوث افراد کو سخت سزا دینے کے اقدامات کرے، فوج کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے والے کو سخت سزا دی جائے۔

    ’سینیٹر بہرمند خان تنگی کی قرارداد کی تحریک انصاف کے ارکان نے بھی حمایت کی۔‘

  2. بریکنگ, چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کل لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کے خلاف کیس کی سماعت کرے گا

    سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کے خلاف کیس کل سماعت کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے جس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کرے گا۔

    بینچ میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہوں گے۔

    خیال رہے کہ سینیئر وکیل اعتزاز احسن سمیت متعدد درخواست گزاروں نے جبری گمشدگیوں کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیں۔

  3. جمشید دستی کی رہائش گاہ پر کوئی چھاپہ نہیں مارا گیا: پولیس

    مظفر گڑھ پولیس کے ایس ایچ او سٹی خرم ریاض نے کہا ہے کہ جمشید دستی کی رہائش گاہ پر کسی قسم کا چھاپہ نہیں مارا گیا اور نہ ہی اُن کی فیملی کو ہراساں کیا گیا ہے۔

    ’جمشید دستی کی اہلیہ نے دو دن پہلے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے ہیں۔ اس موقع پر انھوں نے کوئی شکایت درج نہیں کروائی۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جمشید دستی پر 40 سے زائد مقدمات درج ہیں۔ اور ماضی میں بھی جمشید دستی منفی پروپگینڈا پر مبنی ویڈیو بناتے رہے ہیں۔ اگر انھیں کسی حوالے سے کوئی مسئلہ ہے تو متعلقہ فورم سے رجوع کریں تو قانونی کارروائی ہوگی۔‘

    یاد رہے کہ جمشد دستی نے ایک نامعلوم مقام سے ایک ویڈیو جاری کی جس میں انھوں نے دعوی کیا کہ ان کی اہلیہ اور بچوں کو گھر پر دھاوا بولنے کے بعد زدو کوب کیا اور ہراساں کیا گیا ہے۔

    انھوں نے اس ویڈیو میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو مخاطب کر کے کہا کہ ’الیکشن تباہ ہو چکا ہے۔ آپ ہمیں گولی مار دیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ چار دفعہ قومی اسمبلی کا الیکشن جیتے والے کے ساتھ بھی یہ سب ہوگا۔‘

  4. بریکنگ, ہماری لڑائی بلوچ لواحقین سے نہیں بلکہ ہمیں مسئلہ ان سے ہے جو خواہ مخواہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں: انوار الحق کاکڑ

    anwar

    ،تصویر کا ذریعہScreengrab/24news

    پاکستان کے نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے مبینہ جبری گمشدگیوں کے خلاف اسلام آباد میں آئے احتجاجیوں کے حوالے سے کیے گئے ایک سوال پر جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ میرا ان لواحقین سے جھگڑا نہیں ہے میرا پورا پاکستان سے گلہ ہے جنھیں بات ہی ابھی تک سمجھ نہیں آئی ہے۔

    انوار الحق کاکڑ نے ایک پریس کانفرنس میں پولیس کی جانب سے بلوچ مظاہرین کو پسپا کرنے کی کوشش کے حوالے سے پوچھا گئے سوال پر انتہائی غیر معمولی انداز میں ردِ عمل دیتے ہوئے بلوچوں کی حمایت کرنے والوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ہے۔

    خیال رہے کہ وفاقی دارالحکومت میں پچھلے کئی دنوں سے بلوچ مظاہرین نیشنل پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ لگائے بیٹھے ہیں۔

    یہ خاندان بلوچستان کے مختلف علاقوں سے آئے ہیں، جن میں زیادہ تر تعداد لڑکیوں، ضعیف خواتین اور بچوں کی ہے۔

    نگران وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ’بدقسمتی یہ ہے کہ کچھ لوگ اسے غزہ اور فلسطین کی صورتحال سے بھی جوڑ رہے تھے اور اس بیہودگی کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے۔ کیا آپ پاکستان کی ریاست کو اسرائیل سے ملا رہے ہیں۔

    ’ہمارا جھگڑا لواحقین سے نہیں ہے، وہ پہلے بھی آتے رہے ہیں، ابھی بھی کر رہے ہیں اور اس کے بعد بھی کریں گے۔ میرے علم میں آ چکا تھا کہ پولیس اور احتجاج کرنے والوں کے درمیان الجھاؤ سامنے آیا ہے لیکن اسے بھی بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’بہت سے ایسے لوگ جو یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ حقوق کی مہم کے حوالے سے ہیرو بن جائیں گے، تو ایسے ہیرو نہیں بن سکتے۔

    ’بلوچستان میں مسلح تنظیمیں ہیں جیسے بی ایل ایف، بی ایل اے، بی آر اے۔ یہ مسلح تنظیمیں پاکستان کو توڑنے کے لیے مسلح جدوجہد پر یقین رکھتی ہیں۔ اگر آپ یہ سوال جو مجھ سے پوچھ رہے ہیں اس کے بعد وہاں گئے تو آپ کو بھی گولی مار دیں گے۔ وہ اس بات کا عملی طور پر اظہار کرتے آ رہے ہیں اور تین سے پانچ ہزار بندوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔‘

    missing

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ بندے ہلاک تو ہوئے ہیں ناں، ان کا قاتل کون ہے۔ ان دہشتگردوں کے ساتھ جب سکیورٹی فورسز کی جھڑپیں ہوتی ہیں تو ظاہر ہے ان کے بھی لواحقین ہوتے ہیں ہم ان کے احتجاج کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن لواحقین سے جڑے لوگوں کی دہشتگردی کرنے کے حق کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ دونوں مختلف چیزیں ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جو جو لوگ ان کے حمایتی ہیں ان سے میری درخواست ہے کہ وہ آئیں اور بی ایل اے اور بی ایل ایف کا حصہ بن جائیں تاکہ ہم بھی واضح ہو جائیں کہ آپ کہاں کھڑے ہیں۔

    ’ہماری لواحقین سے ہرگز لڑائی نہیں ہے لیکن یہ جو خواہ مخواہ ان کے ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں ان سے ہمیں مسئلہ ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’نہ یہ 1971 ہے نہ ہی یہ بنگلہ دیش بننے جا رہا ہے۔ میرا جھگڑا ذات کا نہیں ریاست کا ہے مسلح نتظیموں سے ہے بلوچوں سے نہیں ہے۔

    ’نہیں پتہ ان لوگوں کہ یہ دہشت گرد ہیں؟ کہتے ہیں کہ ان کو عدالتوں میں پیش کریں، 90 ہزار آدمی یہاں قتل ہو گئے ہیں ابھی تک نو مجرموں کو سزا نہیں ہوئی ہے۔ کور کمانڈر کانفرنس میں اس عدالتی نظام کو ٹھیک کرنا تھا، یا واپڈا نے کرنا تھا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’قوانین اس لیے ہوتے ہیں کہ ان (دہشتگردوں) کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے، اس لیے نہیں ہوتے کہ انھیں وہاں سے چھوڑ دیا جائے۔

    ’اگر کسی کو جبری گمشدگیوں کا مسئلہ ہے تو جائیں ان عدالتوں میں ہم نے روکا ہے؟ ہمیں بھی اعتماد ہے ان عدالتوں پر ان کو بھی ہے تو جائیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’عدالتی نظام ٹھیک نہیں ہے، 80، 90 قتل یہ لوگ کرتے ہیں، انڈیا سے پیسے لے کر کرتے ہیں، را کی فنڈنگ کے ساتھ کرتے ہیں۔

    ’میرا ان لواحقین سے جھگڑا نہیں ہے میرا پورا پاکستان سے گلہ ہے جنھیں بات ہی ابھی تک سمجھ نہیں آئی ہے، میرا جعلی ہمدردوں سے مسئلہ ہے۔‘

  5. دسمبر 2023 میں مہنگائی کی شرح 29.7 فیصد رہی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں سال 2023 کے آخری مہینے دسمبر میں مہنگائی کی شرح 29.7 فیصد ریکارڈ کی گئی جو اس سے ایک مہینے پہلے نومبر 2023 میں 29.2 فیصد کی سطح پر موجود تھی۔

    پاکستان کے وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق زیرِ جائزہ مہینے کے دوران کھانے پینے کی اشیا اور مشروبات کی قیمتوں کے انڈیکس میں 27.50 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور بجلی، گیس اور ایندھن کے انڈیکس میں 37 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔

    وفاقی ادارے کے مطابق بیس کلو گندم کے آٹے کی قیمت میں دسمبر 2022 کے مقابلے میں دسمبر 2023 میں 81 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور چاول کی قیمت میں یہ اضافہ ساٹھ فیصد تھا۔

    دودھ کی قیمت میں 25 فیصد ریکارڈ کیا گیا اور انڈوں کی قیمت میں 32 فیصد اضافہ ہوا۔

  6. نئے سال کے پہلے روز سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، انڈیکس میں 2200 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں نئے سال کے پہلے دن زبردست تیزی کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور انڈیکس میں ایک دن میں 2210 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    سوموار کے دن انڈیکس نے 63000 اور 64000 پوائنٹس کی دو سطحوں کو عبور کیا اور مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام پر انڈیکس 64661 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

    گذشتہ سال کے آخری کاروبار روز یعنی جمعے کو مارکیٹ کا انڈیکس 22461 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا تھا۔ مارکیٹ میں گذشتہ جمعے کو بھی تیزی کا رجحان رہا۔

    سٹاک مارکیٹ میں تیزی کے رجحان کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تیزی کی بڑی وجہ تیل و گیس کے شعبوں میں ہونے والی زیادہ خریداری تھی جس کی وجہ حکومت کی جانب سے اس شعبے میں گردشی قرضوں کو ختم کرنے کے اقدامات کا اعلان ہے۔

    اس کے علاوہ ملک کے معاشی اشاریوں میں ہونے والی بہتری نے بھی اس سلسلے میں مارکیٹ کو مدد فراہم کی جس میں ملکی زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے اختتام پر 85 کروڑ ڈالر کا اضافہ تھا تو اس کے ساتھ ملکی ٹیکس وصولی میں ہونے والا اضافہ بھی تھا جو آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط کے تحت ہوا جس کے باعث مارکیٹ میں خریداری کے رجحان نے جنم لیا۔

  7. سپریم کورٹ میں تاحیات نااہلی کیس کل سماعت کے لیے مقرر

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا سات رکنی لارجر بینچ منگل کو تاحیات نااہلی کیس کی سماعت کرے گا۔

    بینچ میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔

    خیال رہے کہ پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت نے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کی تھی جس کے بعد آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کو پانچ سال کر دیا تھا۔ ماضی میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف اور استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ جہانگیر ترین سمیت دیگر تاحیات نااہل قرار دیے گئے تھے۔

    گذشتہ ماہ سپریم کورٹ نے میر بادشاہ قیصرانی کی تاحیات نااہلی کے کیس میں تاحیات نااہلی کے معاملے پر عدالتی فیصلے اور الیکشن ایکٹ کی ترمیم میں ’تضاد‘ پر اٹارنی جنرل اور تمام صوبائی ایڈوکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کردیے تھے۔

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس قاضی فائز عیسی کا کہنا تھا کہ موجودہ کیس کو انتخابات میں تاخیر کے آلہ کار کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا۔ عدالت نے عدالتی حکمنامے کی نقل الیکشن کمیشن کو بھی ارسال کرنے کا حکم دیا۔ ساتھ یہ بھی کہا کہ اگر کوئی سیاسی جماعت اس کیس میں فریق بننا چاہے تو بن سکتی ہے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ تاحیات نااہلی اور آرٹیکل 62 ون ایف سے متعلق کیا کوئی نیا قانون بھی آچکا ہے؟ جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ حال ہی میں الیکشن ایکٹ میں ترمیم کر کے نااہلی کی زیادہ سے زیادہ مدت پانچ سال کر دی گئی ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ الیکشن ایکٹ میں سیکشن 232 شامل کر کے سپریم کورٹ کا آرٹیکل 62 ون ایف کا فیصلہ غیر موثر ہو چکا ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کسی نے چیلنج نہیں کی اور جب الیکشن ایکٹ میں ترمیم چیلنج نہیں ہوئیں تو دوسرا فریق اس پر انحصار کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ ’الیکشن ایکٹ میں آرٹیکل 232 شامل کرنے سے تو تاحیات نااہلی کا تصور ختم ہو گیا ہے۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’انتخابات سر پر ہیں اور ریٹرننگ افسر، الیکشن ٹریبونل اور عدالتیں اس مخمصے میں رہیں گی کہ الیکشن ایکٹ پر انحصار کریں یا سپریم کورٹ کے فیصلے پر۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’تاحیات نااہلی بارے سپریم کورٹ کا فیصلہ اور الیکشن ایکٹ دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے اور الیکشن ایکٹ میں ترمیم اور سپریم کورٹ کے فیصلے میں سے کسی ایک کو برقرار رکھنا ہوگا۔‘

    چیف جسٹس پاکستان نے سوال کیا کہ ’سنگین غداری جیسے جرم پر نااہلی پانچ سال ہے تو نماز نہ پڑھنے والے یا جھوٹ بولنے والے کی تاحیات نااہلی کیوں؟‘

  8. الیکشن 2024 کے لیے جمع ہونے والے تقریباً 26 ہزار کاغذاتِ نامزدگی میں سے 22 ہزار 711 منظور

    الیکشن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں 8 فروری 2024 کو ہونے والے عام انتخابات میں جمع کروائے جانے والے کاغذاتِ نامزدگی سے متعلق الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے تفصیل جاری کی گئی ہے۔

    الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق مُلک میں مجموعی طور پر قومی اور صوبائی اسمبلی کے لیے کُل 25 ہزار 951 اُمیدواروں کی جانب سے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے گئے۔ جن میں 24 ہزار 698 مرد اُمیدوار اور ایک ہزار 253 خواتین شامل ہیں۔

    26 ہزار کی قریب ان اُمیدواروں (مرد و خواتین) میں سے سات ہزار 473 نے قومی اسمبلی اور 18 ہزار 478 نے صوبائی اسمبلیوں کے لیے اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق موصول ہونے والے کاغذاتِ نامزدگی میں سے کُل تین ہزار 15 مرد اُمیدواروں اور دو سو 25 خواتین اُمیدواروں کے کُل تین ہزار 240 کاغذاتِ نامزدگی مسترد کر دیے گئے۔

    تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے 8 فروری 2024 کو مُلک میں ہونے والے عام انتخابات میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے لیے منظور کیے جانے والے کاغذاتِ نامزگی کی کُل تعداد 22 ہزار 711 ہے۔ جن میں 21 ہزار 684 مرد اُمیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی منظور ہوئے اور ایک ہزار 27 خواتین کے کاغذات پر الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا۔

    آئندہ عام انتخابات کے لیے قومی اسمبلی کے لیے چھ ہزار 94 مرد اور تین سو 55 خواتین کے کاغذاتِ نامزدگی منظور ہوئے ہیں۔ جبکہ صوبائی اسمبلی کے لیے 15 ہزار 590 مرد اور چھ سو 72 خواتین کے کاغذاتِ نامزدگی منظور ہوئے ہیں۔

  9. الیکشن کے سال میں انڈیا کا حافظ سعید کی حوالگی کا مطالبہ اور پاکستان کا انکار کسی نئے تنازعے کا پیش خیمہ ہے؟

  10. ’لوگوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے‘ شیخ رشید کا مطالبہ

    سابق وفاقی وزیر شیخ رشید نے آئندہ عام انتخابات کے لیے اپنے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں وہ کہتے ہیں کہ ’یہ سازش ہے، عوام کی طرف سے پارٹی کو شکست نہیں دے سکے اس لیے یہ اب انھیں نااہل قرار دینا چاہتے ہیں۔‘

    انھوں نے مطالبہ کیا کہ لوگوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ انھیں مری میں کسی گیسٹ ہاؤس کا نادہندہ قرار دیا گیا تاہم وہ کبھی ان تاریخوں میں وہاں رہے ہی نہیں۔

    وہ کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کے علاوہ ’مجھے بھی صادق اور امین قرار دیا تھا۔‘

    ’میں نے چالیس دن کا چھلہ کاٹا، میں نے قوم کا مطالبہ رکھا سب کو معاف کر دیا جائے۔‘

  11. اتنا ظالم ہے کہ مظلوم نظر آتا ہے: وسعت اللہ خان کا کالم بات سے بات

  12. الیکشن سے متعلق معاملات سے نگران حکومت کا کوئی تعلق نہیں: نگران وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی

    پاکستان کے نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ الیکشن سے متعلق معاملات سے نگران حکومت کا کوئی تعلق نہیں۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد یا منظور ہونا آئینی عمل کا حصہ ہے۔ اور الیکشن سے متعلق معاملات میں صرف الیکشن کمیشن کا عمل دخل ہو سکتا ہے۔‘

    انھوں نے نجی ٹیلی وژن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کہ ’پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، سڑکیں بند کرنا، ریڈ زون میں داخل ہونا، پولیس پر حملے اور پتھراؤ کرنا پرامن احتجاج کے دائرہ سے باہر ہے جس کی کسی کو اجازت نہیں۔‘

    نگراں وزیر اطلاعات نے کہا کہ ’ہمارا کام الیکشن کمیشن کی مدد اور اسے مالی و انتظامی سہولت فراہم کرنا ہے۔ الیکشن کمیشن کی مالی و انتظامی ضرورت پوری کر رہے ہیں، الیکشن کمیشن کو پہلے 10 ارب روپے جاری کیے گئے، اس کے بعد 17 ارب 40 کروڑ روپے دیے گئے۔‘

  13. عمران خان سمیت تحریک انصاف کے متعدد رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی مسترد: ’اب مائنس ون انتخابات کی راہ ہموار کی جا رہی ہے‘

  14. انتخابات 2024: کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد ہونے کےخلاف اپیلیں تین جنوری تک دائر کی جاسکتی ہیں

    الیکشن کمیشن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں عام انتخابات 2024 کے لیے کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد ہونے کیخلاف اپیلیں آئندہ ماہ کی تین تاریخ تک دائر کی جاسکتی ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے شیڈیول کے مطابق ان اپیلوں کا فیصلہ آئندہ ماہ کی دس تاریخ تک کیا جائے گا۔

    امیدواروں کی ابتدائی فہرست اگلے ماہ کی گیارہ تاریخ کو شائع کی جائے گی اور امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی بارہ جنوری تک واپس لے سکتے ہیں۔

    انتخابی نشانات اگلے ماہ کی تیرہ تاریخ کو الاٹ کیے جائیں گے جبکہ عام انتخابات کے لیے پولنگ آٹھ فروری کو ہوگی۔

  15. بلوچستان میں بھی تحریکِ انصاف کے متعدد رہنماؤں کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد: ’وہ سمجھتے ہیں کہ اگر تحریک انصاف کے امیدوار میدان میں رہے تو لاڈلوں کی کامیابی ممکن نہیں ہو گی‘, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ

    بلوچستان سے تحریک انصاف کے رہنما اور سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری سمیت پارٹی کے درجنوں امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے ہیں۔

    قاسم خان سوری کوئٹہ سے قومی اسمبلی کی نشست پر امیدوار تھے۔ تحریک انصاف بلوچستان کے ایڈیشنل جنرل سیکریٹری عالم خان کاکڑ نے فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے قاسم خان سوری کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کی تصدیق کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’میرے سمیت پارٹی کے بلوچستان سے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر 80 فیصد سے زائد امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے ہیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ کوئٹہ سے جن دیگر رہنمائوں اور عہدیداروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے ہیں ان میں سالار خان کاکڑ، حاجی سیف اللہ، صفیہ کاکڑ، نور خان خلجی اور عنایت کاکڑ شامل ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ضلع کوئٹہ کی جس نشست سے میں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے وہاں سے نہ صرف میرے بلکہ پارٹی کے پانچ دیگر امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کو بھی مسترد کیا گیا۔‘

    ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بات ہر ایک کو معلوم ہے کہ تحریک انصاف کے رہنمائوں اور کارکنوں کے کاغذات نامزدگی کیوں مسترد کیے گئے ہیں۔

    ’وہ سمجھتے ہیں کہ اگر تحریک انصاف کے امیدوار میدان میں رہے تو لاڈلوں کی کامیابی ممکن نہیں ہو گی اس لیے پارٹی کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے-‘

    عالم خان کاکڑ نے کہا کہ ’ہم ریٹرننگ افسروں کے فیصلوں کے خلاف ٹریبونلز میں جائیں گے اور ہم لاڈلوں کا مقابلہ کرنے کی ہرممکن کوشش کریں گے۔‘

  16. عمران خان سمیت ملک بھر میں پی ٹی آئی کے متعدد امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد

    pti

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے کاغذاتِ نامزدگی لاہور کے بعد میانوالی سے بھی مسترد ہونے کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں اور سابق رکنِ پارلیمان کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کیے جانے کے حوالے سے پیغامات شیئر کیے جا رہے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے تاحال اس حوالے سے تفصیلی فہرست تو جاری نہیں کی گئی ہے لیکن انفرادی طور پر ریٹرننگ افسران کی جانب سے مختلف حلقوں میں امیدوار کو آگاہ کیا گیا ہے۔

    پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ کی جانب سے شائع کی گئی ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے اہم رہنماؤں میں سے تقریباً 90 فیصد کاغذاتِ نامزدگی مسترد کر دیے گئے ہیں۔ اس دعوے کی حوالے سے الیکشن کمیشن سے رابطہ کیا گیا ہے تاہم کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

    پی ٹی آئی خیبر پختونخوا ساؤتھ کے ریجنل صدر اور سابق رکنِ پارلیمان شاہد خٹک کے مطابق ان کے کاغذاتِ نامزدگی ان پر موجود مقدمات کے باعث مسترد کیے گئے ہیں اور وہ اس کے خلاف اپیل کریں گے۔

    این اے 166 سے پی ٹی آئی کی امیدوار کنول شوذب کے مطابق ان کے کاغذاتِ نامزدگی اس لیے مسترد کیے گئے کیونکہ ان کے تائید کنندہ اور تجویز کنندہ کو حراست میں لیا گیا اور حراساں کیا گیا۔

    پی ٹی آئی کی وکلا ٹیم کے رکن نعیم پنجوتھا کے مطابق ان کے کاغذاتِ نامزدگی پی پی 80، پی پی 71 اور این اے 82 سے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے تاہم یہ مسترد کر دیے گئے۔

    این اے 83 اسامہ میلہ کی جانب سے بھی ٹویٹ کیا گیا ہے ان کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کر دیے گئے ہیں۔

    پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی اور یاسمین راشد کے کاغذاتِ نامزدگی بھی مسترد کر دیے گئے۔ اس کے علاوہ سابق وزیر اور رہنما پی ٹی آئی علی محمد خان کے کاغذاتِ نامزدگی این اے 23 سے مسترد کیے گئے جبکہ سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے کاغذاتِ نامزدگی بھی مسترد کر دیے گئے ہیں۔ انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’عوام سے کہتا ہوں ہم ڈرے نہیں ہیں آپ لوگوں نے ظلم کا بدلہ ووٹ سے لینا ہے۔‘

    اس کے علاوہ پی ٹی آئی کے آفیشل اکاؤنٹ کی جانب سے متعدد ایسی ویڈیوز بھی جاری کی گئی ہیں جن میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ مختلف حلقوں سے امیدواروں کے تجویز اور تائید کنندگان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

    پی ٹی آئی کے مطابق صنم جاوید کے کاغذاتِ نامزدگی بھی مسترد کروا دیے گئے ہیں جبکہ تیمور سلیم جھگڑا کی جانب سے جاری ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ ان کے کاغذاتِ نامزدگی قومی اور صوبائی اسمبلی سے مسترد کر دیے گئے ہیں۔

    اس حوالے سے پی ٹی آئی کے ترجمان رؤف حسن کی جانب سے جاری بیان میں کاغذاتِ نامزدگی مسترد کرنے کے اس سلسلے کی مذمت کی گئی ہے اور الیکشن ٹریبیونلز میں اسے چیلنج کرنے کا اعادہ کیا گیا ہے۔

  17. اختر مینگل کے کاغذاتِ نامزدگی ’اقامہ ہولڈر‘ ہونے کے باعث مسترد: ’لگتا ہے ہماری باتیں اور ہماری پارٹی مؤقف اسٹیبلشمنٹ کو پسند نہیں آیا‘, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ

    akhtar mengal

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اخترمینگل کے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی تمام چار نشستوں پر متحدہ عرب امارات کا اقامہ ہولڈر ہونے کی بنیاد پرکاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے ہیں۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سردار اخترمینگل نے کہا کہ نہ صرف ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے بلکہ ان کی پارٹی کے بھی متعدد امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے ہیں۔

    سردار اخترمینگل نے قومی اسمبلی کی تین اور بلوچستان اسمبلی کی ایک نشست پر کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو اقامہ کی بنیاد پر نہ صرف سزا ہوئی بلکہ ان کو نااہل بھی قرار دیا گیا تھا لیکن ان کے کاغذات نامزدگی کو منظور کیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ اسی طرح سابق وزیر اعلیٰ جام کمال خان اور بعض دیگر امیدواروں کے خلاف بھی اقامہ ہولڈر ہونے کی بنیاد پر اعتراضات جمع کیے گئے تھے لیکن ان کے کاغذات نامزدگی کو مسترد نہیں کیا گیا۔‘

    انھوں نے بتایا کہ کوئٹہ سے ان کی پارٹی کے دو امیدواروں حاجی نصیر احمد شاہوانی اوراحمد نواز بنگلزئی کے علاوہ دیگرعلاقوں میں مضبوط امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے ہیں۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’جس جس علاقے میں خلائی مخلوق کے مقابلے میں ہمارے مظبوط امیدوار تھے- ان کے کاغذات نامزدگی کو مسترد کیا گیا۔ حتیٰ کہ شفیق مینگل کے خلاف متعدد مقدمات درج ہیں، ان کے کاغذات نامزدگی منظور کیے گئے-‘

    ان کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ ہماری باتیں اور ہماری پارٹی کا مؤقف اسٹیبلشمنٹ کو پسند نہیں آیا اس لیے میرے اور پارٹی کے متعدد دیگر امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے۔

  18. امیدواروں، ان کے تجویز و حمایت کنندگان کو ہراساں اور تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جو انتخابی عمل میں مداخلت کی بدترین مثال ہیں: بیرسٹر گوہر

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر خان کی پی ٹی آئی امیدواروں اور ان کے تجویز و حمایت کنندگان کو مبینہ طور پر ہراساں اور تشدد کا نشانہ بنانے اور آر او آفس میں داخلے کی اجازت نہ دینے کی مذمت کی ہے۔

    ترجمان پی ٹی آئی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ کہ ’آج عام انتخابات کی جانب پہلا قدم جنرل نشستوں کے لیے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ ملک بھر میں پی ٹی آئی امیدواروں کے خلاف ریاستی مشینری کا بے دریغ استعمال زوروں پر ہے۔‘

    بیان کے مطابق ’تحریک انصاف کے امیدواروں کے تجویز و حمایت کنندگان یا خود ان امیدواروں کو کھلے عام ہراساں اور تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ تمام ہتھکنڈے اختیارات کے ناجائز استعمال اور انتخابی عمل میں مداخلت کی بدترین مثال ہیں اور الیکشن کمیشن کی اپنے آئینی فرائض کی انجام دہی میں واضح ناکامی کا ثبوت ہیں۔‘

  19. الیکشن کمیشن کی پی ٹی آئی کے انتخابی نشان سے متعلق حکم امتناع پر نظرثانی کی درخواست دائر

    پی ٹی آئی انتخابی نشان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کے انتخابی نشان سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے حکم امتناع کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کر دی ہے۔

    پشاور ہائی کورٹ میں نظرثانی کی درخواست الیکشن کمیشن کے وکیل کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ معاملے پر خصوصی دو رکنی بینچ بنا کر جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔

    درخواست میں پشاور ہائی کورٹ سے حکم امتناع ختم کرنے اور کیس کے لیے ڈویژنل بنچ تشکیل دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔

    یاد رہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے 26 دسمبر کو الیکشن کمیشن کے پی ٹی آئی انٹر پارٹی انتخابات کالعدم اور انتخابی نشان بلے کو واپس لینے کے فیصلے کو معطل کیا تھا۔

    عدالت نے الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی کا سرٹیفکیٹ ویب سائٹ پر جاری کرنے کے احکامات بھی دے تھے۔

    اس سے قبل 22 دسمبر کو الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دیتے ہوئے بلے کا انتخابی نشان واپس لے لیا تھا۔