عام انتخابات 2024: مخصوص نشتتوں سمیت 28 ہزار 626 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی جمع ہونے کے بعد آج سے ان کی جانچ پڑتال کا عمل شروع ہو رہا ہے جو 30 دسمبر تک جاری رہے گا جبکہ تین جنوری کو کاغذات کی منظوری اور مسترد ہونے پر اپیلیں دائر ہو سکیں گی۔

لائیو کوریج

  1. توشہ خانہ کیس: سپریم کورٹ نے عمران خان کی نااہلی کے خلاف درخواست اعتراضات لگا کر واپس کر دی

    سابق وزیر اعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان نے توشہ خانہ سزا معطلی اور نااہلی کے خلاف درخواست خارج کرنے کا چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے تاہم عدالت عظمیٰ کے رجسٹرار آفس نے اس درخواست پر اعتراضات عائد کیے ہیں۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ توشہ خانہ کیس میں سزا پہلے ہی معطل ہوچکی ہے اور ’ہائیکورٹ نے صرف سزا معطل کی ہے، پورا فیصلہ نہیں۔‘

    عمران خان نے الیکشن لڑنے کے لیے فیصلہ معطل کرنے کی استدعا کی ہے اور کہا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا ’الیکشن کمیشن نے فائدہ اٹھایا۔‘

    ادھر سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے عمران خان کی اپیل اعتراضات عائد کرتے ہوئے واپس کر دی ہے۔

    یہ اعتراض عائد کیا گیا ہے کہ اپیل کے ساتھ لف کیے گئے دستاویزات نامکمل ہیں جبکہ تمام متعلقہ دستاویزات کے ہمراہ اپیل چھ جنوری تک دائر کی جا سکتی ہے۔

    خیال رہے کہ رواں سال اگست کے دوران اسلام آباد کی ایک ٹرائل کورٹ نے سرکاری تحائف ٹیکس گوشواروں میں ظاہر نہ کرنے کے الزام پر عمران خان کو تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔ سزا اور فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی درخواست کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے خارج کر دیا تھا۔

    عمران خان کی اپیل کی فائل وکلا کے کلرک سے ’چھیننے‘ کا معاملہ

    دوسری طرف تحریک انصاف کے وکلا نے الزام لگایا ہے کہ عدالت عظمیٰ میں نامعلوم افراد نے عمران خان کی اپیل کی فائل وکلا کے کلرک سے چھیننے کی کوشش کی۔ اس حوالے سے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو درخواست لکھی گئی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ چیف جسٹس اس واقعے پر فوری سخت کارروائی کریں۔‘

    اس میں کہا گیا ہے کہ ’سنیچر کو چار افراد نے منشی محمد عثمان سے موبائل فون، کیس فائل چھین لیں، چاروں افراد کو سامنے آنے پر پہچانا جا سکتا ہے۔‘

    ’سپریم کورٹ میں داخل ہونے والے ہر شخص کے انٹری ریکارڈ سے بھی ملزمان کی پہچان کی جانچ کی جاسکتی ہے۔‘

  2. سابق رکن قومی اسمبلی نور عالم خان نے جے یو آئی میں شمولیت اختیار کر لی, عزیزاللہ خان بی بی سی، پشاور

    NOOR ALAM KHAN

    ،تصویر کا ذریعہNational Assembly

    سابق رکن قومی اسمبلی نور عالم خان نے جمعیت علما اسلام میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے۔ آج ایک کانفرنس میں مولانا فضل الرحمان کے بھائی مولانا عطا الرحمان کی موجودگی میں یہ اعلان کیا ہے۔

    نور عالم خان اس سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی اور پھر پاکستان تحریک انصاف میں شامل رہے ہیں۔

    پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے دوران نور عالم خان اپنی ہی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے دوران اپوزیشن کی جماعتوں کے ساتھ مل گئے تھے۔ لیکن انھوں نے عدم اعتماد کی تحریک میں پی ٹی آئی کے خلاف ووٹ نہیں دیا تھا۔

    عدم اعتماد کی تحریک کے دوران سوشل میڈیا پر نور عالم اور دیگر اراکین اسمبلی کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جب ان کو اسلام آباد میں سندھ ہاؤس میں ٹھہرایا گیا تھا۔

  3. کوئٹہ کراچی کے درمیان شاہراہ احتجاج کے باعث 24 گھنٹوں میں بھی نہ کھل سکی, حمیرہ کنول، نامہ نگار بی بی سی اردو ڈاٹ کام

    بلوچستان سے کراچی جانے والی سڑک احتجاج کی وجہ سے بلاک ہونے کے باعث کئی مسافر 24 گھنٹوں سے راستہ کھلنے کے منتظر ہیں۔

    مسافروں کا کہنا ہے انتظامیہ اور پولیس معاملے کا حل نکالنے میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

    خیال رہے کہ بلوچ یک جہتی مارچ کے شرکا کی اسلام آباد میں گرفتاریوں اور حکومت کی جانب سے مبینہ بے دخلی کی کوشش کے بعد بلوچستان کے مختلف علاقوں کے علاوہ کراچی میں بھی احتجاج ہوا۔

    خصدار میں پھنسے ایک مسافر نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ جمعے کی شام سات بجے وہ کوئٹہ سے کراچی کے لیے روانہ ہوئے اور اب 24 گھنٹے گزرنے کے باوجود کراچی نہیں پہنچ پائے۔

    ’یہاں درجنوں بسوں میں کئی مسافر ہیں جن میں بچے اور خواتین شامل ہیں اور وہ راستہ کھلنے کے منتظر ہیں ۔ تاہم انتظامیہ اس مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’کوئٹہ سے نکلنے کے بعد چار گھنٹوں کا سفر طے کر کے ہم سہراب کے علاقے میں رکے تو ہمیں پتہ چلا کہ خضدار سے کراچی کا راستہ بند ہے جس کی وجہ بلوچ مظاہرین کے ساتھ اسلام آباد میں ہونے والا سلوک بتایا جا رہا ہے۔‘

    ان کے مطابق ان سمیت تمام مسافروں نے شدید سردی میں پوری رات اسی انتظار میں گزاری کہ روڈ کھلے لیکن ایسا اب تک نہیں ہوا۔

    ’یہاں بچے اور خواتین اور مریضوں نے پانی اور کھانے کی کوئی چیز خریدنے کے لیے لمبی قطارو ں میں انتظار کیا جبکہ یہ اشیا مہنگے داموں فروخت کی جا رہی ہیں۔‘

    مسافر نے بتایا کہ انتظامیہ اور پولیس کا کوئی اہلکار دکھائی نہیں دے رہا اور بظاہر یہ لگتا ہے کہ اب بھی مزید کئی گھنٹے لگ جائیں گے۔

    ’اس وقت صورتحال یہ ہے کہ نہ یہاں قریب رکنے کے لیے کوئی سہولت ہے اور نہ مسافر کوئٹہ واپس لوٹ سکتے ہیں۔‘

  4. بلوچ یکجہتی مارچ میں آٹھ ماہ کی بچی اور 85 سالہ بزرگ بھی موجود: ’وزیراعظم سے امید لگانا بے وقوفی ہو گی‘

  5. عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف اڈیالہ جیل میں سائفر کیس میں دس گھنٹے سے زائد کی سماعت

    راولپنڈی کے اڈیالہ جیل میں سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر مقدمے کی سنیچر کو تقریباً دس گھنٹے کی سماعت ہوئی ہے۔

    ایف آئی اے کے سینیئر سپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی اور شاہ خاور نے اڈیالہ جیل سے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سنیچر کو صبح سماعت شروع ہوئی جو شام پانچ بجے تک جاری رہی۔

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو میرٹ پر اس مقدمے کو آگے بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ کہا ہے کہ اس وقت تک دستیاب ریکارڈ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عمران خان یا شاہ محمود قریشی نے کسی مجرمانہ ارادے یا بیرون فائدے کے لیے معلومات عام کی ہیں۔

    ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر شاہ خاور نے سائفر کی اصل دستاویزات سے متعلق جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تکنیکی نوعیت کا سوال ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ایف آئی اے کی طرف سے 25 گواہان اور پیش کیے جانے والے شواہد پر ملزمان کا حق دفاع اور جرح کرنے کا حق محفوظ ہے۔

  6. آڈیو لیکس کیس میں ڈی جی آئی بی اور ڈی جی ایف آئی اے طلب، آئی ایس آئی نے رپورٹ جمع کرا دی

    Phone Tapping

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے آڈیو لیکس کیس میں ڈی جی آئی بی اور ڈی جی ایف آئی اے کو 19 فروری کو طلب کر لیا۔

    جسٹس بابر ستار نے سات صفحات کا تحریری حکمنامے میں کہا ہے کہ دونوں ڈی جیز آڈیو لیکس کیس میں 19 فروری 2024 کو ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔

    فیصلے کے مطابق اٹارنی جنرل نے بتایا وفاقی حکومت نے کسی انٹیلیجنس ایجنسی کو ٹیلی فون کالز ریکارڈ کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ اٹارنی جنرل نے کہا تمام شہریوں کی پرائیویسی اور حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔

    حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ آڈیو لیکس سوشل میڈیا پر کس نے ریلیز کیں؟ ایف آئی اے نے جواب کے لیے مہلت طلب کی تھی اور اب ایف آئی اے آڈیو لیکس شیئر کرنے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفصیل کے ساتھ رپورٹ پیش کرے۔

    ڈی جی ایف آئی اے پیش ہو کر بتائیں فون کالز کی سرویلئنس اور ریکارڈنگ کیسے ہو سکتی ہے؟

    ’آئی ایس آئی کے پاس سوشل میڈیا پر شیئر معلومات کے سورس کا تعین کرنے کی ٹیکنالوجی نہیں‘

    اسلام آباد ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی نے وزارت دفاع کے ذریعے آڈیو لیکس پر اپنی رپورٹ جمع کرائی، جس کے مطابق آئی ایس آئی کے پاس سوشل میڈیا پر شیئر معلومات کے سورس کا تعین کرنے کی ٹیکنالوجی نہیں۔

    انٹیلی جنس بیورو انکوائری کر کے رپورٹ پیش کرے آڈیو لیکس کن اکاؤنٹس سے شیئر ہوئیں۔ حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ غیر قانونی ریکارڈ کی گئی کالز کی آڈیو شیئر کرنے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفصیل جمع کرائی جائیں۔

    ڈی جی آئی بی بتائیں پاکستان کے شہریوں کی سرویلئنس کون کر سکتا ہے؟

    یہ بھی بتائیں کیا ریاست کے پاس غیرقانونی سرویلئنس سے محفوظ رہنے کی صلاحیت ہے؟

    عدالت نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی اے آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر عدالت کو بریف کریں کہ موبائل فون صارفین کی کالز اور ڈیٹا محفوظ بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں؟

    چیئرمین پی ٹی اے اور ممبرز پی ٹی اے رپورٹ کے ساتھ اس کے درست ہونے کا بیان حلفی جمع کرائیں۔

    حکمنامے میں لکھا ہے کہ عدالت ضروری سمجھتی ہے کہ تمام موبائل فون آپریٹرز کو بھی فریق بنا کر جواب طلب کیا جائے، ٹیلی کام آپریٹرز لائسنس میں ٹیلی فون کالز سننے یا ریکارڈ کرنے کے لیے قانونی طور پر مداخلت پر رپورٹ پیش کریں۔

    پی ٹی اے عدالت کو انٹیلیجنس ایجنسی یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ اس سے متعلق خط و کتابت سے آگاہ کرے اور بتائے کہ کسی بھی ریاستی اتھارٹی سے اپنے صارفین کا ڈیٹا شیئر کرنے کا کیا طریقے کار ہے۔

  7. الیکشن کمیشن کے فیصلے کو منگل کی صبح عدالت میں چیلنج کریں گے: بیرسٹر گوہر

    PTI

    ،تصویر کا ذریعہGohar Ali Khan

    عمران خان سے ملاقات کے بعد رہنما تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کو منگل کی صبح عدالت میں چیلنج کریں گے۔

    بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بلے کا نشان واپس لینے کے لیے عدالت سے رجوع کریں گے اور امید ہے سپریم کورٹ مداخلت کرے گی ہمارا نشان بحال ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ اس فیصلے کو ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے پر غور ہو رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ابھی تک الیکشن کمیشن کے مصدقہ آرڈر کی کاپی موصول نہیں ہوئی اور یہ آرڈر ملتے ہیں اسے چیلنج کر دیا جائے گا۔

    بیرسٹر گوہر کے مطابق ’ہم کاغذات نامزدگی میں تحریک انصاف لکھیں گے کہ ہمارا تعلق اس جماعت سے ہے۔‘

    بیرسٹر گوہر کے مطابق ان کی یہ کوشش رہی ہے کہ ہم سے انتخابی نشان واپس لے لیں۔ انھوں نے کہا کہ مختلف حیلے بہانوں سے ہم سے انتخابی نشان واپس لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق الیکشن کمیشن کے فیصلے میں تضادات ہیں۔

    بیرسٹر گوہر کے مطابق انتخابی نشان واپس لینے کا مطلب ہمیں 227 مخصوص نشستوں سے محروم کرنا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ فیصلے کے باوجود تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت کے طور پر الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہے اور اس کے عہدیدار بھی موجود ہیں۔

  8. کیا ماضی میں بھی کسی سیاسی جماعت کے انٹرا پارٹی الیکشن کو کالعدم ٹھہرایا گیا یا اسے انتخابی نشان سے محروم کیا گیا؟

  9. بلوچ مظاہرین پھر سے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے: مظاہرین نے زبردستی اگے جانے کی کوشش کی تو قانون کے مطابق کارروائی ہو گی، پولیس, آسیہ انصر، نامہ نگار بی بی سی اردو

    Islamabad

    بلوچ یکجہتی مارچ کے شرکا کے اسلام آباد پریس کلب کے باہر دھرنے اور احتجاج کے موقعے پر اسلام آباد پولیس کی بھاری نفری بھی وہاں موجود ہے۔

    انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ ’اگر اس احتجاج میں شامل خواتین اور مظاہرین نے پریس کلب سے آگے جانے کی کوشش کی تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

    اطلاعات کے مطابق اسلام آباد پولیس کی جانب سے ’پیس واک‘ سے روکنے کے بعد مظاہرین دوبارہ پریس کلب کے سامنے آ بیٹھے ہیں۔

    Police

    اس موقع پر خواتین پولیس اہلکاروں کی بھاری نفری بھی موجود ہے۔

    اس موقع پر ترجمان اسلام آباد پولیسں کے مطابق ’نیشنل پریس کلب کے باہر گراؤنڈ میں 200 افراد موجود ہیں۔ نیشنل پریس کلب کے باہر قواعد و ضوابط کے مطابق پر امن احتجاج کی اجازت ہے۔‘

    ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ ’ہائی سیکیورٹی زون کی طرف ریلی یا اجتماع کی اجازت نہیں ہے۔ حفاظتی اقدامات اور خطرات کے پیش نظر نیشنل پریس کلب کے باہر مظاہرین کی حفاظت کے لیے اسلام آباد پولیس موجود ہے۔‘

  10. بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام کوئٹہ میں مختلف مقامات پر احتجاج, محمد کاظم، نامہ نگار بی بی سی، کوئٹہ

    کوئٹہ

    ،تصویر کا ذریعہZahid Hussain

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام لانگ مارچ کی خواتین شرکاء سینیچر کی صبح اسلام آباد پریس کلب پہنچ گئے اور وہاں دھرنا دیا جبکہ اسلام آباد میں لانگ مارچ کے شرکاء کی گرفتاری اور ان پر مبینہ تشدد کے خلاف بلوچستان کے مختلف علاقوں میں احتجاج کا سلسلہ تیسرے روز بھی جاری رہا۔

    ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ وہ اسلام آباد پریس کلب کے باہر بطور احتجاج دھرنا دیں گے۔

    بی بی سی سے فون پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے بتایا کہ ’پر امن ہونے کے باوجود ان سمیت دیگر خواتین اور لانگ مارچ کے شرکاء کو تشدد کانشانہ بنایا گیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’اسلام آباد پہنچنے کے بعد ان کو چونگی نمبر26 کے علاقے میں روکا گیا جس پر انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ وہاں دھرنا دیں گے لیکن پہلے پریس کلب کے باہر لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور اس کے بعد چونگی نمبر 26پر لانگ مارچ کے شرکاء کو تشدد کا نشانے بنانے کے علاوہ ان کو بھی گرفتار کیا گیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’مارچ کے شرکاء کو مارا اور گھسیٹا گیا اور اس کی ویڈیوز سب کے سامنے ہیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’پہلے مارچ میں شریک خواتین کو مختلف تھانوں میں رکھا گیا لیکن بعد میں ان کو ایک تھانے میں لایا گیا۔‘

    کوئٹہ

    ،تصویر کا ذریعہZahid Hussain

    ڈاکٹر ماہ رنگ نے بتایا کہ ’جب جمعرات کی شب خواتین اور بچوں کو گاڑیوں میں بھٹا کر ان کو بلوچستان بھیجنے کی کوشش کی گئی تو میں نے ان کو روکنے کی کوشش کی جس پر مجھے گھسیٹ کر ایک گاڑی میں پھینکا گیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ایک کمرے میں لے جاکر پولیس اہلکاروں نے ان پر تشدد کیا۔‘

    ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے دعویٰ کیا کہ ’گرفتار کیے جانے والے 52خواتین اور بچوں کو چھوڑ دیا گیا تاہم 200سے زائد افراد تاحال گرفتار ہیں جبکہ 14طالب علم لاپتہ ہیں۔‘

    دوسری جانب اسلام آباد پولیس نے لانگ مارچ کے شرکاء پر تشدد کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔

    لانگ مارچ کے شرکاء کی گرفتاری اور تشدد کے خلاف بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دوسرے روز بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔

    تربت جہاں سے اس لانگ مارچ کا آغاز ہوا تھا میں دوسرے روز بھی بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی جبکہ خضدار اور دیگر علاقوں میں قومی شاہراہ پر دھرنوں کے باعث کوئٹہ کراچی ہائی وے پر ٹریفک دوسرے روز بھی معطل رہی۔

  11. نگران وزیر اعظم کی خواب گاہ سے براہ راست

  12. بلوچ یکجہتی مارچ کے گرفتار 163 مظاہرین کو ضمانت پر رہا کرنے کے احکامات جاری

    پاکستان کے نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ اور وزارتی کمیشن کی ہدایات پر 162 گرفتار مظاہرین کی درخواست ضمانت دائر کی گئی تھی، جس پر مجاز عدالت نے انھیں رہا کرنے کے احکامات جاری کر دئیے۔

    واضح رہے کہ ایپکس لاء ایسوسی ایٹس نے وزیراعظم کی 5 رکنی کمیٹی کی ہدایات کی روشنی میں رضاکارانہ طور پر بلوچ یکجہتی مارچ کے گرفتار شرکا کو قانونی معاونت فراہم کی تھی۔

  13. آئی ایس آئی فیصل آباد دفتر پر حملے سمیت 50 افراد کا قاتل ساتھی سمیت ہلاک‘ سی ٹی ڈی

    سی ٹی ڈی حکام کے مطابق انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں آئی ایس آئی فیصل آباد دفتر پر حملے سمیت 50 افراد کا قاتل غضنفر ندیم ساتھی دیشت گرد سمیت مارا گیا۔

    پولیس کے مطابق یہ مقابلہ چنیوٹ میں ہوا جہاں دونوں دہشت گردوں پولیس پر جدید اسلحے کی مدد سے حملہ کیا مگر موثر کارروائی کے نتیجے میں دونوں مارے گئے۔

    تاہم حکام کے مطابق غضنفر ندیم کے ساتھ مارے جانے والے دہشت گرد کی شناخت کی کوشش جاری ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ غضنفر کے سر کی قیمت پچیس لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی۔ غضنفر ندیم 2011 سے مفرور تھا اور مختلف ادارے اس کی تلاش جاری رکھے ہوئے تھے۔

    غضنفر ندیم سے متعلق سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ وہ مذہبی منافرت پر مبنی دہشت گردی کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ حکام کے مطابق کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانے سے گولہ بارود اور جدید اسلحہ بھی قبضہ میں لیا گیا۔

  14. نیب میں عمران خان کے خلاف توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل کیس، پانچ رکنی پراسیکیوشن ٹیم تشکیل

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے خلاف نیب نے توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل کیس میں دائر حالیہ دو ریفرنسز کی پیروی کیلئے پانچ رکنی پراسیکیوشن ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    نیب کی جانب سے تشکیل دی جانے والی اس پانچ رکنی پراسیکیوشن ٹیم کی سربراہی سردار مظفر عباسی کرینگے۔

    نیب کی اس پانچ رُکنی پراسیکیوشن ٹیم میں سپیشل پراسیکیوٹر نیب عرفان احمد بولا، سہیل عارف، بیرسٹر اویس ارشد اور امجد پرویز بھی شامل ہیں۔

    توشہ خانہ کیس اور 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل میں نیب نے حال ہی میں دو ریفرنسز دائر کئے ہیں، تاہم اب باقائدہ طور پر دونوں ریفرنسز کی پیروی کیلئے اس پانچ رکنی ٹیم نے کام شروع کر دیا ہے۔

    واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت آج اڈیالہ جیل میں ہوگی، عمران خان اس مقدمے میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں۔

  15. الیکشن کمیشن میں کاغذاتِ نامزدگی آج بھی جمع کروائے جا سکتے ہیں

    گزشتہ روز الیکشن کمیشن کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی مدت میں دو دن کا اضافہ کیا تھا، آج الیکشن کمشن کی جانب سے ملنے والے اضافی دنوں میں سے پہلا دن ہے۔

    گزشتہ روز الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے میں یہ کہا گیا تھا کہ یہ دو اضافی دن سیاسی جماعتوں کے مطالبے اور اُمیدواروں کی سہولت کو مدِنظر رکھتے ہوئے دیے گئے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نظرثانی شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال پیر25 دسمبر سے شروع ہوگی جو 30 دسمبر تک جاری رہے گی۔

    کاغذات نامزدگی کی منظوری یا مسترد ہونے کے خلاف اپیلیں 3 جنوری تک دائر کی جا سکتی ہیں جن کا فیصلہ 10 جنوری تک کیا جائے گا۔

    تاہم وزیرِ اعظم پاکستان انوارالحق کاکڑ نے 8 فروری کو ہونے والے انتخابات سے متعلق شکوک و شبہات کو رد کرتے ہوئے ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں کہا کہ ’انتخابات میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اُمیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے ساتھ ہی انتخابی عمل شروع ہو چکا ہے اور سیاسی جماعتیں ووٹرز کو راغب کرنے کے لیے بیانیہ تیار کرنے میں مصروف ہیں۔‘

    ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کے سیاسی رہنماؤں اور ووٹرز کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔‘

    انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ نگران حکومت انتخابات کے انعقاد کے دوران اپنی ذمہ داری پوری کرے گی۔

  16. غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی پاکستان سے بے دخلی کا سلسلہ جاری جعمے تک چار لاکھ سے زائد افراد اپنے وطن لوٹا دیے گئے

    افغان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پاکستان سے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔ ان غیر مُلکیوں میں بڑی تعداد افغان پناہ گزینوں کی بھی ہے۔ تاہم جمعے کے روز ایک ہزار چار سو تراسی غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو وطن واپس بھیجوا دیا گیا۔

    سرکاری طور پر سامنے آنے والے اعدادو شمار کے مطابق اب تک پاکستان سے واپس بھیجے جانے والے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی تعداد 4 لاکھ 43 ہزار 376 بتائی جا رہی ہے۔

  17. الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کریں گے، انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کریں گے: بیرسٹر گوہر

    پی ٹی آئی

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر نجی ٹی وی چینل جیو نیوز پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ تحریک انصاف الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرے گی۔

    خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف میں ہونے والے انٹرا پارٹی انتخابات کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے ان انتخابات کو کالعدم قرار دیا اور اس جماعت سے انتخابی بلے کا نشان واپس لے لیا ہے۔

    اس فیصلے کے بعد اب بیرسٹر گوہر تحریک انصاف کے چیئرمین نہیں رہے اور بلا تحریک انصاف کا انتخابی نشان بھی نہیں رہا ہے۔ بیرسٹر گوہر کو انٹرا پارٹی انتخابات کے تحت پی ٹی آئی کے چیئرمین منتخب ہوئے تھے۔

    بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ذاتیات پر مبنی ہے اور الیکشن کمیشن نے کسی قانون کا حوالہ نہیں دیا کہ آخر کس قانون یا ضابطے کے تحت یہ انٹرا پارٹی انتخابات درست نہیں تھے۔ ان کے مطابق اس وقت الیکشن کمیشن میں 175 سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں مگر صرف تحریک انصاف کے ہی انٹرا پارٹی الیکشن پر فیصلہ سنایا گیا ہے۔

    بیرسٹر گوہر نے کہا بلے کا نشان واپس لینے سے اب ووٹر کو اب تحریک انصاف کے امیدوار کو ووٹ دینے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    ان کے مطابق انتخابی نشان کو گھر گھر تک پہنچانا آزاد امیدوار کے لیے بڑا چیلنج ہوتا ہے اور اگر انتخابی نشان نہ ہو تو پھر قومی اور صوبائی اسمبلی کے لیے 227 مخصوص نشستوں کے لیے بھی اہل نہیں سمجھا جاتا یوں سینیٹ جیسے انتخابات میں بھی ایک جماعت کا رول ختم ہوجاتا ہے۔

    بیرسٹر گوہر کے مطابق الیکشن کمیشن تحریک انصاف کے خلاف فیصلے پر فیصلے سنا رہا ہے جبکہ عدالتیں تنکیکی معاملات دیکھنا شروع کر دیتی ہیں۔

  18. الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی سے بلے کا انتخابی نشان واپس لے لیا

    الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف سے بلے کا انتخابی نشان واپس لے لیا ہے۔

    الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف میں ہونے والے انٹرا پارٹی انتخابات کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے ان انتخابات کو کالعدم قرار دیا اور اس جماعت سے انتخابی بلے کا نشان واپس لے لیا ہے۔

    یاد رہے کہ الیکشن کمیشن کے پانچ رکنی بینچ نے ان درخواستوں پر دو روز پہلے فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج سنایا گیا۔

    قانونی ماہرین کے مطابق پاکستان تحریک انصاف الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کر سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ انتخابی شیڈول کے مطابق الیکشن کمیشن 10 جنوری تک سیاسی جماعتوں کو انتخابی نشان الاٹ کرے گا۔

  19. اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کی روشنی میں 50 بلوچ خواتین رہا، ’کسی پر کسی بھی قسم کا تشدد نہیں کیا گیا‘ ترجمان اسلام آباد پولیس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    پاکستان کے وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کی روشنی میں 50 بلوچ خواتین کو رہا کر دیا ہے جن میں بلوچوں کے تحفظ کی سرگرم رکن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بھی شامل ہیں۔

    اس سے پہلے جمعرات کے روز اسلام آباد پولیس کے سربراہ اکبر ناصر نے عدالت کو بتایا تھا کہ ان کے پاس کوئی بھی خاتون قید میں نہیں اور سب کو رہا کر دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ جمعرات کی شب اسلام آباد پولیس کی جانب سے دو بڑی گاڑیاں وویمن پولیس سٹیشن بھجوائی گئی تھیں جہاں پر قید خواتین اور بچوں کو زبردستی اس میں بیٹھا کر واپس بلوچستان بھیجنے کی کوشش کی گئی لیکن ان مظاہرین نے بسوں میں بیٹھنے سے انکار کر دیا تھا۔

    بلوچ سماجی کارکن سائرہ بلوچ بھی ان خواتین میں شامل تھیں، جنھیں وویمن پولیس سٹیشن میں بند کیا گیا تھا۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تھانے کے اندر بھی انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور تشدد کا نشانہ بنانے والوں میں مرد پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس حکام انھیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے ساتھ یہ بھی کہتے تھے کہ اگر آپ لوگ واپس نہ گئے تو آپ کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے۔

    ان الزامات کے حوالے سے اسلام آباد پولیس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کسی پر کسی بھی قسم کا تشدد نہیں کیا گیا اور بعض افراد منفی پراپیگنڈہ اور سستی شہرت کے لیے جھوٹی خبریں پھیلا رہے ہیں۔

    اسلام آباد پولیس کے ترجمان کے بیان کے مطابق مظاہرین کو پولیس نے اپنی حفاظت میں ان کی مرضی کے مقام پر روانہ کیا۔

    دوسری جانب سائرہ بلوچ نے کہا کہ خواتین کو رہا کرنے کے بعد وہ خواتین ابھی بھی اسلام آباد میں ہی ہیں اور سنیچر کے روز وہ دوبارہ نیشنل پریس کلب کے سامنے اپنا احتجاجی کمیپ بھی لگائیں گے۔

  20. ہائیکورٹ نے غیرمناسب فیصلہ دیا، سائفر مقدمے میں عمران خان کے خلاف ابھی تک کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں: سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ

    سپریم کورٹ نے تحریک انصاف سائفر مقدمے میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواست منظور کرنے کے تحریری فیصلے میں لکھا ہے کہ ’ہائی کورٹ نے حقائق کا جائزہ لینے کے باوجود ایک غیرمنصفانہ فیصلہ دیا ہے‘

    سائفر مقدمے میں ریکارڈ کا جائزہ لیا ہے اور ہمیں عمران خان کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد نہیں ملے ہیں کہ انھوں نے یہ اطلاعات مجرمانہ ارادے یا بیرون کسی فائدے کے لیے عام کیں۔‘

    تاہم سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ ضمانت کا مقدمہ ہے اور اس میں ابھی تفتیش ہونا باقی ہے اس لیے صرف اس حد یہ سپریم کورٹ اس نتیجے تک پہنچی ہے کہ ابھی تک دستیاب ریکارڈ ر ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جن کی بنیاد پر عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد کی جا سکے۔

    یہ فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا ہے اور جسٹس اطہر من اللہ نے اضافی نوٹ بھی لکھا ہے۔

    جسٹس اطہر من اللہ کا اضافی نوٹ

    سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ میں شامل جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے اضافی نوٹ میں لکھا ہے کہ ’عمران خان اور شاہ محمود قریشی 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے خواہشمند امیدواران ہیں۔‘

    انھوں نے سوال کیا کہ ’عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو انتخابات سے قبل گرفتار رکھنا ضروری ہے یا نہیں؟‘

    جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ’انتخابات کی گذشتہ سات دہائیوں سے تاریخ دیکھنا ضروری ہے۔‘

    انھوں نے لکھا کہ ’عمران خان ایک بڑی سیاسی جماعت کے بانی اور شاہ محمود قریشی اعلیٰ عہدے پر ہیں، ملک میں حقیقی انتخابات کے لیے تمام امیدواروں کو یکساں مواقع دینا آئینی ضرورت ہے۔‘