توشہ خانہ کیس: سپریم کورٹ نے عمران خان کی نااہلی کے خلاف درخواست اعتراضات لگا کر واپس کر دی
سابق وزیر اعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان نے توشہ خانہ سزا معطلی اور نااہلی کے خلاف درخواست خارج کرنے کا چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے تاہم عدالت عظمیٰ کے رجسٹرار آفس نے اس درخواست پر اعتراضات عائد کیے ہیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ توشہ خانہ کیس میں سزا پہلے ہی معطل ہوچکی ہے اور ’ہائیکورٹ نے صرف سزا معطل کی ہے، پورا فیصلہ نہیں۔‘
عمران خان نے الیکشن لڑنے کے لیے فیصلہ معطل کرنے کی استدعا کی ہے اور کہا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا ’الیکشن کمیشن نے فائدہ اٹھایا۔‘
ادھر سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے عمران خان کی اپیل اعتراضات عائد کرتے ہوئے واپس کر دی ہے۔
یہ اعتراض عائد کیا گیا ہے کہ اپیل کے ساتھ لف کیے گئے دستاویزات نامکمل ہیں جبکہ تمام متعلقہ دستاویزات کے ہمراہ اپیل چھ جنوری تک دائر کی جا سکتی ہے۔
خیال رہے کہ رواں سال اگست کے دوران اسلام آباد کی ایک ٹرائل کورٹ نے سرکاری تحائف ٹیکس گوشواروں میں ظاہر نہ کرنے کے الزام پر عمران خان کو تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔ سزا اور فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی درخواست کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے خارج کر دیا تھا۔
عمران خان کی اپیل کی فائل وکلا کے کلرک سے ’چھیننے‘ کا معاملہ
دوسری طرف تحریک انصاف کے وکلا نے الزام لگایا ہے کہ عدالت عظمیٰ میں نامعلوم افراد نے عمران خان کی اپیل کی فائل وکلا کے کلرک سے چھیننے کی کوشش کی۔ اس حوالے سے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو درخواست لکھی گئی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ چیف جسٹس اس واقعے پر فوری سخت کارروائی کریں۔‘
اس میں کہا گیا ہے کہ ’سنیچر کو چار افراد نے منشی محمد عثمان سے موبائل فون، کیس فائل چھین لیں، چاروں افراد کو سامنے آنے پر پہچانا جا سکتا ہے۔‘
’سپریم کورٹ میں داخل ہونے والے ہر شخص کے انٹری ریکارڈ سے بھی ملزمان کی پہچان کی جانچ کی جاسکتی ہے۔‘










