’میری دشمنی میں مُلک کو کیوں نشانہ بنایا، میرے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کے لیے نیب پر دباؤ ڈالا گیا‘: نواز شریف
پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف نے قوم سے خطاب کے دوران کہا کہ ’چھ سال بعد میری بے گُناہی کی تصدیق اور اس کھیل کے سارے چہرے بے نقاب ہو چُکے ہیں، لیکن دُکھ اس بات کا ہے کہ میری دشمنی میں مُلک کو کیوں نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب توشہ خانہ کیس میں احتساب عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔
لائیو کوریج
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے
پاکستان سے تازہ ترین خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔
سپریم کورٹ کے حکم پر انتخابات کا شیڈول جاری، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی
’موجودہ صورتحال کا ذمہ دار الیکشن کمیشن کو نہیں ٹھہرایا جاسکتا‘
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اس نے 8 فروری کو الیکشن کروانے کے تمام انتظامات مکمل کر لیے تھے مگر اب ’موجودہ صورتحال کا ذمہ دار‘ اسے ’نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔‘
ایک بیان میں الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ’چیئرمین پی ٹی آئی کے الزامات عوام کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش ہے۔ ڈی آر اوز اور آر اوز کا تقرر کر دیا گیا تھا، ملک بھر میں ڈی آر اوز اور آر وز کی ٹریننگ بھی شروع کر دی تھی۔ ڈی آر اوز اور آر اوز کی ٹریننگ الیکشن شیڈول سے پہلے ضروری ہے، ٹریننگ ضروری ہے تاکہ شیڈول کا اعلان ہوتے ہی کاغذات نامزدگی کا اجرا اور وصولی کر سکیں۔‘
تاہم اس کے مطابق تحریک انصاف نے ان کے ’تقرر کو چیلنج کیا۔۔۔ جلد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔‘
خیال رہے کہ تحریک انصاف کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ نے بیورو کریسی کے افسران کی مدد سے الیکشن کروانے کا نوٹیفکیشن معطل کیا ہے۔
پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ ترنول میں مقدمہ کا معاملہ

پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین کو سات روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد جمعرات کو خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت میں اس کیس کی سماعت کرنے والے جج ابولحسنات ذوالقرنین نے پراسیکوٹر کی جانب سے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر پوچھا کہ سوشل میڈیا پاسورڈ اور موبائل ریکور کرنے ہیں، اتنا وقت دینے کے باوجود آپ لوگوں کی یہ پراگریس ہے؟
عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پراسیکیوٹر سے کہا کہ اتنے دن آپ نے بغیر وجہ کے ضائع کیے ہیں۔
اس کے بعد عدالت نے منظور پشتین کو دونوں کیسز میں جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا۔
یاد رہے کہ رواں ماہ 4 دسمبر کو ڈپٹی کمشنر چمن راجا اطہر عباس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ منظور پشتین کو اُن کی گاڑی سے پولیس پر فائرنگ کیے جانے پر گرفتار کریا گیا۔
یہ تب ہوا جب منظور پشتین جب وہ چمن سے تربت جا رہے تھے، جہاں مبینہ طور پر ماورائے عدالت قتل کے خلاف احتجاج کیا جارہا تھا۔
انسدادِ دہشتگردی عدالت اسلام آباد نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے سربراہ منظور پشتین کو 7 دسمبر کو 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا۔
تھانہ ترنول میں درج مقدمہ میں پولیس نے منظور پشتین کو اے ٹی سی جج ابوالحسنات ذوالقرنین کی عدالت میں پیش کیا۔
’میری دشمنی میں مُلک کو کیوں نشانہ بنایا، میرے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کے لیے نیب پر دباؤ ڈالا گیا‘: نواز شریف

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف نے جمعرات کو قوم سے خطاب کے دوران کہا کہ ’چھ سال بعد میری بے گُناہی کی تصدیق ہو چُکی ہے۔‘
اپنے خطاب کے دوران اُن کا کہنا تھا کہ ’اس شرمناک کھیل کے سارے چہرے بے نقاب ہو چُکے ہیں، لیکن دُکھ اس بات کا ہے کہ نا میں وقت کو پیچھے لے کر جا سکتا ہوں اور نا بچھڑ جانے والوں کو واپس لا سکتا ہوں۔‘
سابق وزیر اعظم عمران خان کا نام لیے بغیر نواز شریف نے انھیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’ ’کسی لاڈلے کو لانے کے لیے پاکستان کو سزا کیوں دی گئی؟ میری قوم اور مُلک کو کیوں سزا دی گئی؟ میں مسلسل چھ سال یہ سوچتا رہا ہوں کے مُجھ سے دشمنی کرنے والوں نے مُلک کو کیوں نشانہ بنایا۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اپنے خلاف ہونے والی منظم سازش بیان کروں تو بہت وقت لگے گا، بس یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ میرے خلاف سازش کا آغاز 2014 کے دھرنوں سے ہوا تھا، جس کے بعد نیب کو تین ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا گیا۔‘
میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’آپ کو تو مُجھ سے بھی زیادہ سنگین اور سخت سزا دی گئی، آپ سب کو تو کھانے پینے کی چیزوں، ادویات اور حتیٰ کے اس مُلک کے نوجوانوں سے تو روزگار تک چھین لیا گیا۔‘
اُن کا مزید کہنا تپا کہ’ہم نے اس مُلک اور قوم کو آئی ایم ایف سے چھٹکارا دلوایا مگر میرے جانے کے بعد ملک کو دوبارہ اس میں دھکیل دیا گیا، ملک کو کیوں معاشی تباہی میں دھکیل دیا گیا، جو ہمارے دور میں 6.1 فیصد شرح ترقی کر رہا تھا۔‘
نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’اللہ نے مجھے سرخ روح کیا ہے اور مُجھ پر ہونے والے سارے مقدمے جھوٹے نکلے ہیں، ن لیگ کا ہر کارکن مبارکباد کا حق دار ہے، عوام کا شکریہ کہ انھوں نے مجھے دعاؤں میں یاد رکھا، عوام کی دعاؤں نے مجھے ہمیشہ حوصلہ دیا۔‘
بریکنگ, توشہ خانہ کیس میں عمران خان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
توشہ خانہ کیس میں بانی پاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی)عمران خان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔
توشہ خانہ کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی جس میں نیب نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے سات روز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔
ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی اور تفتیشی ٹیم عدالت پیش ہوئے۔ سماعت میں عمران خان کے وکیل شہباز کھوسہ عدالت میں پیش ہوئے تھے، فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔
واضح رہے کہ عدالت نے کل توشہ خانہ کیس میں بانی پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت قبل ازگرفتاری خارج کی تھی اورگرفتاری ڈال دی تھی۔
بلاول بھٹو وزیراعظم کے امیدوار ہیں، مسلم لیگ ن کی سیاست ڈرائنگ روم کی سیاست ہے: فیصل کنڈی

،تصویر کا ذریعہ@Radio Pakistan
پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکریٹری اطلاعات فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری پیپلز پارٹی کے وزیراعظم کے امیدوار ہیں، خواہش ہوگی کہ آصف زرداری کو صدر بنائیں۔
انھوں نے مسلم لیگ(ن) پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سیاست ڈرائنگ روم کی سیاست ہے، خود کو ملک کی بڑی جماعت کہلوانے والی پارٹی الیکشن سے کیوں بھاگ رہی ہے؟
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے لاہور جلسے اور چیئرمین پیپلز پارٹی کے مٹھی میں جلسے کا موازنہ کریں تو آپ کو پتا چلے گا کہ عوام پیپلز پارٹی کے ساتھ ہے، ہم 8 فروری کو الیکشن کے حوالے سے بھرپور تیار ہیں۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے واقعات روزانہ کی بنیاد پر شروع ہوگئے ہیں، ان دہشت گردوں کو ملک میں دوبارہ کس نے آباد کیا اور ان کو کون لایا ہے؟
فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کی پرزور مذمت کرتی ہے، پیپلز پارٹی نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کرنے کی بات کرتی رہی ہے اور کر بھی رہی ہے۔
انھوں نے سوال کیا کہ دہشت گردوں کو کس کے کہنے پر کھلے عام چھوڑ دیا گیا؟ دہشت گردی کے واقعات روزانہ کی بنیاد پر شروع ہوگئے ہیں۔
رہنما پیپلز پارٹی نے بتایا کہ جنگوں میں بھی الیکشن ہوتے ہیں، ہر الیکشن میں حالات اچھے نہیں رہے لیکن تب بھی الیکشن ہوئے، انتخابات کو 8 فروری سے آگے نہیں جانا چاہیے۔
انھوں نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لاڈلے نے ملک میں تباہی کردی ہے، لاڈلہ بننے اور سلیکشن سے بہتر ہے کہ ہم اپوزیشن میں بیٹھیں، اگر کوئی پارٹی اتنی بڑی ہے تو پھر الیکشن میں دو ماہ کی تاخیر کی بات کیوں کرتی ہے؟
سارہ انعام قتل کیس کے مرکزی ملزم شاہنواز امیر کو سزائے موت، والدہ عدم ثبوت پر بری
ادارے برے نہیں ہوتے، لوگ برے ہوتے ہیں: چیف جسٹس کے ریمارکس, شہزاد ملک بی بی سی اردو
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے برطرف کیے جانے والے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے مقدمے پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ’ادارے برے نہیں ہوتے، لوگ برے ہوتے ہیں۔‘
شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان نے شوکت صدیقی کی راولپنڈی بار کے سامنے کی جانے والی تقریر کا سکرپٹ پڑھ کر سنایا، جس میں آئی ایس آئی پر کچھ الزامات عائد کیے گئے تھے۔ شوکت صدیقی کی طرف سے شوکاز نوٹس آئی ایس آئی کے سابق سربراہ فیض حمید کا بھی نام لیا گیا تھا کہ انھوں نے انھیں من پسند فیصلہ کرنے کا کہا تھا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ شوکت صدیقی نے جن افسران پر الزام لگائے ہیں انھیں بغیر سنے ان کے خلاف کارروائی آگے نہیں بڑھا سکتے۔ آپ ان افراد کو پارٹی بنائیں یا نہ بنائیں مگر بغیر کسی کو نوٹس دیے ہم نہیں سکتے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اگر آپ انھیں پارٹی نہیں بنانا چاہتے ہیں تو پھر سپریم جوڈیشل کونسل کا بظاہر درست تھا۔ انھوں نے کہا کہ ’فیشن چل گیا ہے، اداروں کو بدنام کرنے کا۔‘
حامد خان نے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ ان افراد کو سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش کیا جائے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اب وہ وقت گزر گیا ہے اور اب بتائیں کہ اب پارٹی بناتے ہیں یا نہیں؟ حامد خان نے کہا جیسے آپ کہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آپ کا کیس نہیں لڑ سکتے یہ فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔ حامد خان نے کہا کہ اگر وہ افراد سامنے آنا چاہتے تو وہ خوش آمدید کہیں گے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کچھ ججز پر اعتراض ہو سکتا ہے مگر ساری عدلیہ کو برا نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس طرح تو پھر سارے ججز لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ’ہم شخصیات کو برا بھلا نہیں کہتے، ادارے کو برا بھلا کہہ جاتے ہیں۔‘
چیف جسٹس نے کہا کہ ’جرمنی میں فاشزم کے زمانے میں بھی سیکرٹ پولیس ہوتی تھی۔ ادارے فاشزم میں بھی کام کرتے ہیں اور عام حالات میں بھی۔‘
شوکت صدیقی کا فوج کے افسران کو پارٹی بنانے کی استدعا، سماعت کل ہو گی
اسلام آباد ہائی کورٹ کے برطرف کیے جانے والے جج شوکت عزیز صدیقی نے فوج کے افسران کو پارٹی بنانے کی استدعا کر دی ہے۔
اس سے قبل چیف جسٹس نے یہ ریمارکس دیے تھے سپریم کورٹ ایسے کسی شخص کے خلاف کوئی بات نہیں نہیں سکتے جو اس مقدمے میں پارٹی نہیں ہے۔
چیف جسٹس نے حامد خان سے کہا کہ یا آپ ایسے تمام افراد کے نام اپنی درخواستوں اور جوابات سے نکال دیں اور کیس کو صرف قانونی نکات پر لڑیں یا پھر سب کو پارٹی بنائیں۔
شوکت صدیقی کے دیگر مقدمات میں وکیل بیرسٹر صلاح الدین احمد نے بھی فوج کے افسران کو پارٹی بنانے کی درخواست کی ہے۔
سپریم کورٹ نے اس کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔
شوکت صدیقی کا کیس آخری بار کب اور کن ججز نے سنا؟ چیف جسٹس کا سوال

،تصویر کا ذریعہSC
سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے برطرف کیے جانے والے جج شوکت صدیقی کے مقدمے کی سماعت شروع کر دی ہے۔
جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس حسن اظہر رضوی،جسٹس عرفان سعادت بینچ میں شامل ہیں۔
چیف جسٹس نے پہلا سوال شوکت صدیقی کے وکیل حامد خان سے پوچھا کہ آخری دفعہ یہ کیس کب سنا گیا اور کن ججز نے سنا؟
چیف جسٹس نے کہا وہ ایک بار پھر آغاز سے اس مقدمے کو سننا چاہیں گے، جس پر حامد خان نے اس مقدمے کی تاریخ پڑھ کر بتانا شروع کر دی۔
سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس نے چند خبروں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کی روشنی میں یہ بینچ تشکیل دیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس پانچ ججز کے بینچ سے جسٹس طارق مسعود اور جسٹس اعجازالحسن نے خود اس بینچ سے علیحدگی اختیار کی ہے۔ چیف جسٹس نے حامد خان سے یہ بھی پوچھا کہ انھیں موجودہ بینچ کے کسی جج پر اعتراض تو نہیں ہے، جس پر حامد خان نے کہا کہ انھیں کسی جج پر اعتراض نہیں ہے۔
سپریم کورٹ میں جمہوریت آ چکی ہے: چیف جسٹس
چیف جسٹس نے کہا کہ اب سپریم کورٹ میں جمہوریت آ چکی ہے اور بینچز قانون کے مطابق جمہوری انداز میں بنتے ہیں۔ ’اب سپریم کورٹ میں جمہوریت آ چکی ہے۔‘
حامد خان نے اس پر کہا کہ یہ اچھا ہو گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مگر اس وقت ملک میں جمہوریت مشکل میں ہے۔ چیف جسٹس کے ریمارکس پر انھوں نے کہا ہم اس کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
سابق جج شوکت صدیقی کی برطرفی کے خلاف مقدمے پر سماعت آج، کارروائی براہ راست نشر ہو گی

،تصویر کا ذریعہIHC
سپریم کورٹ آج اسلام آباد ہائی کورٹ کے برطرف کیے جانے والے جج شوکت صدیقی کے کیس کی سماعت کرے گی۔
سپریم کورٹ سے شوکت صدیقی کی برطرفی کے خلاف کیس کی لائیو سٹریمنگ بھی ہو گی۔ اس مقدمے کی براہ راست نشریات سپریم کورٹ کے یوٹیوب چینل اور ویب سائٹ پر دیکھی جا سکے گی۔
خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج نے سپریم جوڈیشل کونسل کے ایک مؤقف اور اکتوبر 11، 2018 کے نوٹیفیکیشن کے خلاف اپیل دائر کی ہے جس کے تحت انھیں ڈسٹرکٹ بار اسوسی ایشن راولپنڈی میں جولائی 2018 میں ایک تقریر کرنے کے باعث برطرف کر دیا گیا تھا۔
جسٹس صدیقی نے ریاست کے ایگزیکٹو حصے کے افسران خاص طور پر آئی ایس آئی سے تعلق رکھنے والے اہلکاروں کی عدلیہ کے معاملات میں مداخلت کے حوالے سے ریمارکس دیے تھے اور کہا تھا کہ ایسا ’ہائی کورٹ میں بینچز بنانے کے مراحل پر اثر انداز ‘ ہونے کے لیے کیا جاتا ہے۔
شوکت عزیز صدیقی جون 2021 میں ہائی کورٹ سے ریٹائر ہوئے تھے اور انھوں نے اپنی ایک صفحے کی درخواست میں کہا تھا کہ ’درخواست گزار کے متعدد قانونی، بنیادی اور آئینی حقوق اس کیس کے نتیجے میں سلب کیے گئے ہیں۔‘
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس میں جیل ٹرائل فوری روکنے کی استدعا مسترد کر دی, شہزاد ملک بی بی سی اردو
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے سائفر کیس کی کارروائی روکنے کے لیے قانونی پراسیس پورا نہ ہونے کے خلاف درخواست پر سماعت کی، جس میں ٹرائل کورٹ کے جیل ٹرائل سے متعلق چار دسمبر کے حکمنامے کو چیلنج کیا گیا۔
عمران خان کے کے وکیل سکندر ذوالقرنین نے بتایا کہ عدالت نے جیل میں عمران خان کا شفاف اور اوپن ٹرائل کرنے کا حکم دے رکھا تھا تاہم ابھی تک حکومت کی طرف سے ایسا کوئی نوٹیفکیشن سامنے نہیں آیا ہے۔
وکیل نے کہا کہ جب تک حکومت عدالتی حکم پر عمل نہیں کرتی جب تک عمران خان کا جیل ٹرائل روک دیا جائے۔ عدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا جج کے پاس بھی کوئی نوٹیفکیشن نہیں آیا، جس پر وکیل نے لاعلمی کا اظہار کیا۔
عدالت نے جیل ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے حکومت سے بدھ تک عدالتی حکم پر عملدرآمد سے متعلق جواب مانگ لیا ہے۔
دوران سماعت عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ یہ حکومت کا کام ہے، جج کا نہیں کہ وہ کورٹ کے لیے جگہ کا انتخاب کرے، جس پر ج میاں گل حسن اورنگ زیب نے ریمارکس دیے کہ یہ جج کا ہی اختیار ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ جج ٹرائل کے لیے جیل کا انتخاب کر سکتا ہے مگر وہ اوپن کورٹ ہونی چاہیے۔
عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ جج کے پاس جیل ٹرائل کی منظوری کا نوٹیفکیشن ہی نہیں تھا۔ جب چار دسمبر کو آرڈر پاس ہوا تو متعلقہ جج نے آرڈر میں لکھا کہ نوٹیفکیشن جمع کرا دیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ جب جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن ہی عدالت کے سامنے نہیں تھا تو وہ سماعت کر کے آرڈر کیسے پاس کر سکتے تھے؟
عمران خان کے وکیل نے استدعا کی کہ ’عدالت آئندہ سماعت تک ٹرائل روک دے۔‘ عدالت کا کہنا تھا کہ رپورٹ آ جائے پھر دیکھتے ہیں۔
اس مقدمے کے پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی کا کہنا تھا کہ آج سائفر مقدمے میں تین سرکاری گواہوں کو پیش کیا جائے گا، جو کہ وزارت خارجہ میں ملازم ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان افراد کے بیانات پہلے بھی ریکارڈ ہو چکے تھے۔
تاہم سائفر کا ٹرائل کالعدم ہونے کی وجہ سے ان کے بیانات دوبارہ ریکارڈ کیے جائیں گے۔ عدالت نے اس کیس کی مزید سماعت 20 دسمبر تک ملتوی کر دی۔
تحریک انصاف کو لیول پلیئنگ فیلڈ میسر نہیں، لارجر بینچ بنایا جائے: جسٹس باقر نجفی
لاہور ہائیکورٹ نے 8 فروری کے عام انتخابات بیورو کریسی سے کروانے کے لیے الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن معطل کردیا ہے۔
تحریک انصاف کی درخواست پر جسٹس علی باقر نجفی نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے انتخابات ایگزیکٹو سے کروانے کے خلاف درخواستوں پر لارجر بینچ تشکیل دینے کی سفارش کی ہے۔
جسٹس علی باقر نجفی نے لارجر بینچ کی تشکیل کی تجویز دیتے ہوئے مقدمہ چیف جسٹس کو بھیج دیا۔
عام انتخابات کے دوران پنجاب کی بیوروکریسی سے ریٹرننگ افسران لینے کے خلاف عمیر نیازی کی درخواست پر عدالت نے فیصلے میں کہا کہ الیکشن کے انعقاد میں قوم کے اربوں روپے استعمال ہوتے ہیں، بڑی سیاسی جماعتوں نے انتخابی نتائج ماننے سے انکار کردیا تو سارا پیسہ ضائع ہو جائے گا۔
ایک رکنی بینچ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ زمینی حقائق کے مطابق درخواست گزار کی جماعت کو لیول پلیئنگ فیلڈ میسر نہیں، لیول پلیئنگ فیلڈ کی عدم دستیابی پر آزادانہ رائے رکھنے والے متعدد گروپس نے سنجیدہ نوٹس لیا ہے، معاملے کی اہمیت اور قانونی نکات کی تشریح کیلئے لارجر بینچ بنانے کی سفارش کی جاتی ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ دنوں الیکشن کمیشن نے انتخابات کے لیے ڈپٹی کمشنرز کے بطور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران، ریٹرننگ افسران اور اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔
پاکستانی خواتین کے پہلے ڈرائیونگ ٹیسٹ میں فیل ہونے کی زیادہ شرح: ’خواتین بُری ڈرائیور نہیں، بس وہ گھبرا جاتی ہیں‘
آسٹریلیا کی نئی 10 سالہ امیگریشن پالیسی کیا ہے اور آسٹریلیا جانے کے خواہاں پاکستانیوں کے لیے اس میں خاص کیا ہے؟
پاکستان نے افغان شہریوں کے قیام کی مدت میں توسیع اور جرمانہ آدھا کر دیا

وفاقی کابینہ نے پاکستان میں مقیم ایسے افغان باشندوں جن کا پاکستان کے علاوہ کسی تیسرے ملک میں انخلا ہونا ہے اور جن کے پاس نہ تو داخلے کا کوئی قانونی ثبوت ہے اور نہ ہی پروسسنگ فیس، ان کی سہولت کے لیے قواعد و ضوابط میں تبدیلی کی منظوری دی ہے۔
نئے قواعد و ضوابط کے مطابق ایسے افغان باشندوں کے پاکستان میں معینہ مدت سے زیادہ قیام کے نتیجے میں 800 ڈالر کے ہرجانے کو کم کر کے 400 ڈالر کردیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ ایسے افغان باشندوں کے پاکستان میں قیام کی مدت کی حد کو 31 دسمبر 2023 سے بڑھا کر 29 فروری 2024 کر دیا گیا ہے۔
مقررہ تاریخ کے بعد ہر ماہ 100 ڈالر کے حساب سے ہرجانے کا اطلاق ہوگا جس کی زیادہ سے زیادہ حد 800 ڈالر مقرر کی گئی ہے۔
نگراں وزیراطلاعات کے مرتضیٰ سولنگی نے وفاقی کابینہ کے فیصلے کے بارے میں بتایا کہ ان اقدامات کا مقصد غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کو قانونی دستاویزات کے حصول یا کسی تیسرے ملک میں جلد سے جلد انخلا کے معاہدوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی طرف راغب کرنا ہے۔
ایک سوال پر مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ غیر قانونی مقیم افراد کی اپنے وطن واپسی سے متعلق اعداد و شمار وزارت داخلہ جاری کر رہی ہے۔ ان کے مطابق تقریباً ساڑھے چار لاکھ افراد اپنے وطن واپس جا چکے ہیں، ان میں سے اکثریت رضاکارانہ طور پر واپس جانے والوں کی ہے۔ مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ کچھ ایسے لوگ یہاں مقیم ہیں جن کی منزل کوئی تیسرا ملک ہے، ان سے مذاکرات چل رہے ہیں۔
الیکشن کمیشن کی دی گئی انتخابات کی تاریخ میں کسی قسم کی توسیع، ترمیم یا تبدیلی ایجنڈے پر نہیں: نگراں حکومت

،تصویر کا ذریعہAPP
نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کی دی گئی انتخابات کی تاریخ میں کسی قسم کی توسیع، ترمیم یا تبدیلی ایجنڈے پر نہیں ہے۔
مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا جو الیکشن کے التواکا باعث بنے۔
’دہشت گرد یہ جنگ ہار چُکے ہیں اور ہم یہ جنگ جیت چُکے ہیں‘ نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ

،تصویر کا ذریعہ@ANWAAR_KAKAR
نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ ’ڈیرہ اسماعیل خان میں حملہ کرنے والے دہشت گرد جنگ ہار چکے ہیں، ریاست جنگ جیت چکی، دہشت گردوں کی شکست کا صرف اعلان باقی ہے۔‘
دہشت گردی کے اس واقع میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کے بعد نگران وزیرِ اعظم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک حملہ کریں گے ہم دس قدم آگے بڑھائیں گے، یہ لوگ کس سے لڑ رہے ہیں، ہمیں موت سے ڈرانا چاہتے ہیں؟ کوئی خوفزدہ نہیں ہوگا، جتنی دیر تک یہ لڑنا چاہتے ہیں یہ لڑ کر دیکھ لیں اپنی ہر خواہش پوری کر لیں۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارے کئی ہزار لوگوں نے اس جنگ میں اپنی جانیں دیں ہیں اور اس کے باوجود کئی ہزار اب اور تیار ہیں ان کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے، ریاست ان کا مقابلہ پوری طاقت سے کرے گی۔‘
زلفی بخاری: ’عمران خان کے لیے کوئی ملک آواز اٹھانے کو تیار نہیں‘
