سپریم کورٹ کے حکم پر انتخابات کا شیڈول جاری، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی

سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا ریٹرننگ افسران اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران سے متعلق فیصلہ معطل کردیا جس کے بعد الیکشن کمیشن نے 8 فروری کے لیے انتخابی شیڈول جاری کر دیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کی وزارت خزانہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 14 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 13 روپے 50 پیسے کی کمی کر دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. پی ٹی آئی کسی صورت انتخابات میں تاخیر نہیں چاہتی: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان

    بیرسٹر گوہر

    ،تصویر کا ذریعہPTI/ Screen Grab

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کسی صورت الیکشن میں تاخیر نہیں چاہتی۔ ہمارا موقف ہے کہ ریٹرننگ افسران عدلیہ سے لیے جائیں۔

    اڈیالہ جیل راولپنڈی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر خان نے دعویٰ کیا کہ ’ہم کسی صورت الیکشن میں تاخیر نہیں چاہتے۔ ہماری استدعا یہ ہے ریٹرنگ افسران انتظامیہ کے بجائے عدلیہ سے لگائے جائیں تاکہ انتخابات شفاف اور منصفانہ ہوں۔‘

    چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ’تحریک انصاف واحد جماعت ہے جو کوشش کر رہی ہے کہ جمہوریت ڈی ریل نہ ہو اور ہر پارٹی کا حق ہے کہ وہ عدالت کے سامنے اپنے تحفظات رکھے۔‘

    ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی پر سختیاں ضرور کی جا رہی ہیں لیکن اس کو کسی صورت دیوار سے نہیں لگایا جا سکتا ہ ہمیں یقین ہے کہ سپریم کورٹ جمہوریت کو ڈی ریل ہونے سے بچائے گی۔‘

  2. پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان

    پاکستان کی وزارت خزانہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 14 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 13 روپے 50 پیسے کی کمی کر دی ہے۔

    وزارت خزانہ کی جانب سے نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا گیا ہے جس کے بعد ان کا اطلاق 16 دسمبر سے ہو گا۔

    واضح رہے کہ وزارت خزانہ اوگرا کی سفارش پر ہر پندرہ دن بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. سپریم کورٹ کے حکم پر الیکشن کمیشن نے انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ کے حکم پر انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا ہے جس کے تحت امیدوار 20 سے 22 دسمبر تک اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرا سکتے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والے شیڈول کے مطابق امیدواروں کی فہرست 23 دسمبر کو جاری کی جائے گی جس کے بعد 24 سے 30 دسمبر تک کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال ہو گی۔

    ریٹرننگ افسران کی جانب سے کاغزات کو رد کیے جانے کی صورت میں اپیل دائر کرنے کے لیے تین جنوری تک کا وقت دیا جائے گا جبکہ ان اپیلوں پر 10 جنوری تک حتمی فیصلہ کر دیا جائے گا اور 11 جنوری کو حتمی فہرست شائع کر دی جائے گی۔

    13 جنوری کو انتخابی نشان الاٹ کر دیے جائیں گے اور اس کے بعد آٹھ فروری کو انتخابات کا انعقاد ہو گا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  4. بریکنگ, دورانِ الیکشن عملے کی تعیناتی کا معاملہ: سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    عدالت

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا اور الیکشن کمیشن کو آج رات ہی الیکشن شیڈول جاری کرنے کا حکم دیا ہے جس کے بعد الیکشن کمشن نے آج ہی شیڈیول جاری کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس باقر نجفی نے سابق حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے اگلے سال فروری میں ہونے والے انتخابات میں بیوروکریسی سے ریٹرنگ افسران کو تعینات کرنے کے خلاف درخواست پر حکم امتناعی جاری رکھا ہے جس کی وجہ سے ریٹرنگ افسران کی تعیناتی کا عمل روک دیا گیا تھا۔

    سپریم کورٹ نے اپنے حکم نامے میں کہا ہے کہ ’لاہور ہائی کورٹ نے 1011 ڈی آر اوز، آر اوز اور اے آر اوز کو کام سے روکا، ہائی کورٹ نے اپنے علاقائی حدود سے بڑھ کر حکم جاری کیا، عمیر نیازی اسی پارٹی سے ہیں جس نے انتخابات کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، بظاہر عمیر نیازی نے جمہوری عمل میں رکاوٹ ڈالی‘۔ سپریم کورٹ نے عمیر نیازی کو نوٹس جاری کر دیا۔

    سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کو آر اوز ڈی آر اوز سے متعلق درخواست پر کارروائی سے بھی روک دیا ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ ’ہائیکورٹ اپنی ہی عدالت کی خلاف رٹ کیسے جاری کر سکتی ہے؟ پی ٹی آئی کی درخواست پر ہی سپریم کورٹ نے انتخابات کا فیصلہ دیا تھا۔عمیر نیازی کی ایک درخواست پر پورے ملک میں انتخابات روک دیں؟ عمیر نیازی کی درخواست تو سپریم کورٹ کے حکم کی توہین ہے۔‘

    چیف جسٹس نے مزید کہا ’سپریم کورٹ میں تو تحریک انصاف درخواست گزار تھی، کیا عمیر نیازی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کریں؟ درخواست آئی لگ بھی گئی، حکم امتناع دینے والا جج ہی لارجر بنچ کا سربراہ بن گیا، سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا تھا کوئی بھی جمہوری عمل میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا‘۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کا کہنا تھا ’درخواست گزار کا موقف ہے یہی ڈپٹی کمشنرز نظربندی کے احکامات جاری کرتے ہیں، درخواست گزار کا موقف ہے انہیں انتظامی افسران پر اعتماد نہیں ہے۔‘

    اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’کل وہ کہیں گے عدلیہ پر بھی اعتماد نہیں ہے‘۔

    اس موقعے پر جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا ’کون لوگ ہیں جو الیکشن نہیں چاہتے؟ ہائی کورٹ نے ٹریننگ دینے سے نہیں روکا تھا۔‘

    چیف جسٹس نے کہا ’عمیر نیازی کو کوئی مسئلہ تھا تو سپریم کورٹ آتے، ہائی کورٹ نے پورے ملک کے ڈی آر اوز کیسے معطل کر دیے؟ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کہتے ہیں جوڈیشل افسران نہیں دے سکتے، کیا جج نے اپنے ہی چیف جسٹس کیخلاف رٹ جاری کی ہے؟ کیا توہین عدالت کے مرتکب شخص کو ریلیف دے سکتے ہیں؟‘

    انھوں نےکہا ’کیا عمیر نیازی وکیل بھی ہے یا نہیں؟ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا عمیر نیازی ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل رہے ہیں۔

    جسٹس سردار طارق نے کہا ’اگر آر اوز انتظامیہ سے لینے کا قانون کالعدم ہوجائے تو کبھی الیکشن ہو ہی نہیں سکے گا۔‘

    الیکشن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چیف جسٹس نے استفسار کیا ’کیا الیکشن کمیشن کو کوئی درخواست دی گئی ہے؟‘

    الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی نے بتایا کہ ’الیکشن کمیشن کو کوئی درخواست نہیں دی گئی۔‘

    جسٹس سردار طارق نے استفقار کیا کہ کیا ریٹرننگ افسر جانبدار ہو تو الیکشن کمیشن سے رجوع کیا جا سکتا ہے؟ الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’ایک ہزار سے زائد افسر اکیلے عمیر نیازی کیخلاف جانبدار کیسے ہوسکتے ہیں؟ ‘

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ملک کو گروی رکھنے والے عمیر نیازی کو ریلیف کیوں دیں؟ عمیر نیازی نے درخواست ذاتی حثیت میں کی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عمیر نیازی پی ٹی آئی سے وکیل ہیں اور انہی کی جانب سے درخواست بھی کی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’ابھی تک الیکشن شیڈیول کیوں نہیں دیا گیا؟ الیکشن شیڈیول اور ٹریننگ الگ چیزیں ہیں، شیڈیول پیش کریں تیار تو کیا ہی ہوگا، کیا الیکشن شیڈیول آج جاری کرینگے؟‘

    سیکرٹری الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ تھا کہ ٹریننگ کے بعد شیڈیول جاری کرینگے،

    چیف جسٹس نے کہا انتخابی پروگرام 54 دن کا ہونے کے لیے آج شیڈیول جاری ہونا لازمی ہے۔ انتخابی شیڈول آج ہی جاری کریں۔‘

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا ’ٹریننگ ہوتی رہے گی شیڈول آج جاری ہونا ضروری ہے۔ ‘

    لاہور ہائی کورٹ کے 13 دسمبر کے حکم کی خلاف اپیل دائر کی گئی تھی۔

    پی ٹی آئی کی وکیل مشعل یوسفزئی عدالت میں پیش ہوئی تاہم چیف جسٹس نے انھیں خاموش کروا دیا۔ اٹارنی جنرل نے کہا مشعل یوسفزئی سپریم کورٹ وکیل نہیں ان کا بولنا نہین بنتا۔

    چیف جسٹس نے ان سے کہا دوبارہ مداخلت کی تو توہین عدالت کا نوٹس دینگے۔

  5. دورانِ الیکشن عملے کی تعیناتی کا معاملہ: الیکشن کمیشن نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چینلنج کر دیا, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے لاہور ہائی کورٹ کے حکم امتناع کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی ہے اور درخواست کی سماعت کے لیے تین رکنی بینچ تشکیل دے دیا گیا جس نے سماعت شروع کردی ہے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے سیکریٹری الیکشن کمیشن نے انتظامیہ سے آر او اور ڈسٹرکٹ آر او کی تعیناتی کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ چیلنج کردیا۔ درخواست میں الیکشن کمیشن نے استدعا کی کہ سپریم کورٹ آٹھ فروری کو الیکشن کے فیصلے پر عمل کا حکم دے۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس باقر نجفی نے سابق حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے اگلے سال فروری میں ہونے والے انتخابات میں بیوروکریسی سے ریٹرنگ افسران کو تعینات کرنے کے خلاف درخواست پر حکم امتناعی جاری رکھا ہے جس کی وجہ سے ریٹرنگ افسران کی تعیناتی کا عمل روک دیا گیا تھا۔

    سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید اور الیکشن کمیشن کی لیگل ٹیم اس وقت سپریم کورٹ میں موجود ہے۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کے حکام اور الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی سے استفسار کیا کہ انھیں کیا جلدی تھی کہ اتنی رات گئے اپیل دائر کردی جس پرعدالت کو بتایا گیا کہ آٹھ فروری کو انتخابات کروانے کے لیے اپیل دائر کرنا ناگزیر تھا۔

    الیکشن کمیشن کے حکام نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کرنے کی استدعا کردی کیونکہ اس کے لیے تیاری کرنا ضروری تھا۔

    بینچ میں موجود جسٹس منصور علی شاہ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ لاہور ہائی کورٹ میں جو درخواست دائر کی گئی ہے اس میں تو صرف یہی کہا گیا ہے کہ ’انتخابات شفاف اور منصفانہ ہونے چاہیں اس میں بری بات کونسی ہے؟‘

    جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’لاہور ہائی کورٹ نے اس وقت اس درخواست پر حکم امتناع جاری کیا جب الیکشن شیڈول کا اعلان ہونے کے قریب تھا اور اس کی وجہ سے جن افسران کی الیکشن میں ڈیوٹی لگائی جانی تھی اور جنہیں اس ضمن میں تربیت دی جارہی تھی، وہ عمل رک گیا۔ ‘

    اس سے قبل چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے چیف جسٹس جسٹس قاضی فائز عیسی اور دو سنئیر جج صاحبان جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس اعجاز الااحسن سے ملاقات کی تھی۔

    جسٹس باقر نجفی نے حکم امتناعی جاری کرکے اس درخواست کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دینے سے متعلق معاملہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو بھیج دیا تھا اور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے جسٹس باقر نجفی کی سربراہی میں ایک پانچ رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا ہے جس نے 18 دسمبر کو اس درخواست کی سماعت کرنا تھی۔

  6. پی ٹی آئی کے ترجمان شعیب شاہین کو کوئٹہ ایئر پورٹ سے واپس لوٹا دیا گیا, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی ترجمان شعیب شاہین کو پولیس نے کوئٹہ ایئرپورٹ سے باہر نہیں آنے دیا۔

    تحریک انصاف کے مقامی رہنما آصف ترین نے بتایا کہ شعیب شاہین جب اسلام آباد سے کوئٹہ ایئرپورٹ پہنچے تو بلوچستان پولیس نے ان کو ایئرپورٹ سے باہر نہیں آنے دیا اور وہیں سے لاہور بھجوا دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے شعیب شاہین کو دو آپشن دیے جن میں سے ایک یہ تھا کہ وہ واپس جائے اور نہ جانے کی صورت میں ان کو بتایا گیا کہ ان کو تھری یم پی او کے تحت گرفتار کیا جائے گا۔

    سیّد اقبال شاہ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ شعیب شاہین بلوچستان میں پارٹی کے ورکرز کنوینشنز میں شرکت کے لیے آئے تھے۔

    انھوں نے بتایا کہ شعیب شاہین کو پشین ، ہرنائی اور ژوب میں ورکرز کنوینشنز میں شرکت کرنی تھی۔

  7. پی ٹی آئی کی خاتون رہنما خدیجہ شاہ کی ریمانڈ میں مزید سات دن کی توسیع

    خدیجہ شاہ

    پاکستان تحریکِ انصاف کی خاتون رہنما خدیجہ شاہ کی ریمانڈ میں مزید سات دن کی توسیع کی گئی ہے۔

    تین روزہ ریمانڈ مکمل ہونے پر ان کو دوبارہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کوئٹہ ون میں پیش کیا گیا۔

    خدیجہ شاہ کے وکیل اقبال شاہ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ عدالت نے خدیجہ شاہ پر لگائے جانے والے الزامات کے حوالے سے پولیس سے ثبوت طلب کیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’عدالت کے جج نے پولیس کو بتایا کہ اگر پولیس ان کے خلاف ثبوت پیش نہیں کرے گی تو خدیجہ شاہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا جائے گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے ثبوت پیش کرنے کے لیے مہلت کی درخواست کی عدالت نے خدیجہ شاہ کی پولیس ریمانڈ میں مزید 7روزکی توسیع کر دی ہے۔

    خدیجہ شاہ کوکوئٹہ پولیس نے لاہور سے گرفتار کرکے کوئٹہ منتقل کیا تھا۔

    اقبال شاہ ایڈوولکیٹ نے بتایا کہ خدیجہ شاہ نو مئی کے واقعات کے حوالے سے بجلی گھر پولیس سٹیشن میں درج ایک مقدمے میں نامزد ہیں۔

    ان پر نو مئی کے حوالے سے لوگوں کو اکسانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

  8. عام انتخابات کےلیے بیورورکریسی کی خدمات کے خلاف درخواست پر لارجر بینچ تشکیل

    عام انتخابات کےلیے بیورورکریسی کی خدمات کے خلاف درخواست پر لارجر بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے۔

    جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ 18 دسمبر کو سماعت کرے گا۔

    بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس شہرام سرور چوہدری جسٹس سردار سرفراز ڈوگر شامل جسٹس سلطان تنویر اور جسٹس جواد حسن بھی شامل ہیں۔

    یاد رہے کہ سنگل بینچ نے انتخابات کےلیے بیورورکریسی کی خدمات لینے کا الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن معطل کردیا تھا۔

    سنگل بینچ نے درخواست پر لارجر بینچ تشکیل دینے کی سفارش کی تھی۔

  9. سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکنے سے متعلق درخواست پر سماعت آٹھ جنوری تک ملتوی

    سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایات اور سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکنے سے متعلق درخواست کی سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کی۔

    سپریم کورٹ کے جج نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی اور انھیں کونسل کی طرف سے ملنے والے شوکاز نوٹسز چیلنج کر رکھے ہیں۔

    جسٹس مظاہر نقوی کے وکیل نے بنچ کی تشکیل پہ اعتراض اٹھا دیا جس پر بینچ میں موجود جسٹس جمال مندوخیل نے درحواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ کی یہ دلیل ہے کہ تین رکنی بنچ کمیٹی نے نہیں بنایا جس پر مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ بالکل ایسا ہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر کمیٹی اجلاس کے منٹس موجود ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ان کی درخواست کی سماعت کرنے کے لیے بنچ تشکیل ہی نہیں دیا گیا۔

    بینچ میں موجود جسٹس مسرت ہلالی نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا انھیں کسی جج پر بھی اعتراض ہے جس پر مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ قانون میں کمیٹی کی جانب سے بنچ تشکیل دینے کا ذکر ہے۔

    انھوں نے کہا کہ بینچ کی تشکیل کے لیے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت قائم کی گئی تین رکنی کمیٹی کے ایک رکن جسٹس اعجاز الاحسن نے خط بھی لکھا پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے پر الگ درخواست دائر کریں۔

    سپریم کورٹ نے جسٹس مظاہر نقوی کی درخواستوں پر سماعت آٹھ جنوری تک ملتوی کر دی۔

    جسٹس امین الدین خان نے کہا ہے کہ سردیوں کی چھٹیاں آ رہی ہیں اس دوران ہم میں سے کوئی دستیاب نہیں ہوگا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ’ہمیں بتایا گیا کہ کمیٹی نے بنچ تشکیل دیا ہے، ہم اپنی مرضی یا خوشی سے تو کیس سننے نہیں آئے۔‘

    وکیل انور منصور نے کہا کہ ’ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی جاری ہے۔‘

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ’آپ اس بنچ سے حکم امتناع مانگ رہے ہیں جو آپ کے مطابق تشکیل ہی نہیں پایا۔‘

    جسٹس مظاہر نقوی کی سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی فوری روکنے کی استدعا مسترد کر دی گئی ہے۔

  10. شوکت عزیز صدیقی برطرفی کیس کیا ہے؟

    shaukat siddique

    ،تصویر کا ذریعہIslamabad High Court

    سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے برطرف کیے جانے والے جج شوکت عزیز صدیقی کے مقدمے کی سماعت کے دوران آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید سمیت دیگر افراد کو نوٹس بھیج کر ان سے الزامات کا جواب طلب کر لیا ہے۔

    تاہم یہ کیس اب دوبارہ منظرِ عام پر کیسے آیا ہے؟ دراصل اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج نے سپریم جوڈیشل کونسل کے ایک مؤقف اور 11 اکتوبر 2018 کے نوٹیفیکیشن کے خلاف اپیل دائر کی تھی جس کے تحت انھیں ڈسٹرکٹ بار اسوسی ایشن راولپنڈی میں جولائی 2018 میں ایک تقریر کرنے کے باعث برطرف کر دیا گیا تھا۔

    جسٹس صدیقی نے ریاست کے ایگزیکٹو حصے کے افسران خاص طور پر آئی ایس آئی سے تعلق رکھنے والے اہلکاروں کی عدلیہ کے معاملات میں مداخلت کے حوالے سے ریمارکس دیے تھے اور کہا تھا کہ ایسا ’ہائی کورٹ میں بینچز بنانے کے مراحل پر اثر انداز ‘ ہونے کے لیے کیا جاتا ہے۔

    شوکت عزیز صدیقی جون 2021 میں ہائی کورٹ سے ریٹائر ہوئے تھے اور انھوں نے اپنی ایک صفحے کی درخواست میں کہا تھا کہ ’درخواست گزار کے متعدد قانونی، بنیادی اور آئینی حقوق اس کیس کے نتیجے میں سلب کیے گئے ہیں۔‘

  11. بریکنگ, شوکت عزیز صدیقی کیس: سپریم کورٹ نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل فیض حمید کو نوٹس جاری کر دیا

    SC

    ،تصویر کا ذریعہSC

    سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے برطرف کیے جانے والے جج شوکت عزیز صدیقی کے مقدمے کی سماعت کے دوران آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو نوٹس بھیج کر ان سے الزامات کا جواب طلب کر لیا ہے۔

    شوکت عزیز صدیقی کے وکیل نے جو سات نام دیے تھے ان میں سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا نام بھی شامل تھا مگر عدالت نے قرار دیا کہ ان کا اس مقدمے میں کوئی براہ راست کردار سامنے نہیں آیا ہے۔

    شوکت عزیز کے وکیل حامد خان نے آئی ایس آئی کے بریگیڈیئر عرفان رامے اور بریگیڈیئر فیصل مروت کو بھی فریق بنانے کی استدعا کی۔ سابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ انور خان کاسی اور سپریم کورٹ کے سابق رجسٹرار ارباب محمد عارف کو بھی نوٹس بھیج دیا ہے۔

  12. سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے خلاف کیس کی سماعت کا احوال, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    SC

    ،تصویر کا ذریعہSC

    سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے خلاف کیس کی سماعت شروع کر دی ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عسییٰ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ کی سماعت کر رہا ہے۔ اس مقدمے کی سماعت براہ راست نشر کی جا رہی ہے۔

    چیف جسٹس کے علاوہ اس بینچ میں جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس عرفان سعادت لارجر بینچ کا حصہ ہیں۔

    شوکت عزیز صدیقی نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے بطور جج اپنی برطرفی کو چیلنج کر رکھا ہے۔

    چیف جسٹس فائز عیسی نے درخواست گزار شوکت صدیقی کے وکیل حامد خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا کوئی جنرل وزیر اعظم بننا چارہا تھا یا وہ کسی کے لیے سہولت کاری کر رہے تھے، جس پر حامد خان کا کہنا تھا کہ وہ ابھی اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ان کے الزامات سے ایک شخص کو نقصان پہنچایا گیا اور کسی کو فائدہ دیا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ درخواست گزار عدالت میں آئین کے آرٹیکل ایک سو چوراسی تین کے تحت آئے ہوئے ہیں تو پھر ہمارا اختیار شروع ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ اگر آپ کے الزامات درست ہیں تو پھر آپ نے آئین کے خلاف جنگ شروع کردی ہے اور اس جال میں وہ لوگ پھنس جائیں گے جنھوں نے اس سے فائدہ اٹھایا یا سہولت کاری کی۔

    بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے کہ اس کو چھیڑ لیں یا اس کو تنگ کردیں کیونکہ سارے سینیئر لوگ ہیں اور اگر ایسا ہے تو پھر یہ آئین جمہوریت اور عدلیہ پر حملہ ہے۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ جن لوگوں نے درخواست گزار کے خلاف کارروائی میں سہولت کاری کی تو ان کے پسندیدہ افراد کون تھے تو درخواست گزار کے وکیل نے پہلے تو ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا اور پھر کہا کہ ان سہولت کاروں کا پسندیدہ افراد کا سنہ 2018 کے انتخابات میں جیپ کا نشان دیا گیا۔

    عدالت نے کہا کہ پھر ان افراد کے نام کیوں سامنے نہیں آئے اور پہلے ان کے بارے میں کیوں نہیں کہا گیا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس مقدمے میں ہم کسی بھی فریق کے لیے سسٹم کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، وہ سوچ لیں کہ اس درخواست کے نتائج بھی ہوں گے۔

    چیف جسٹس نے سوال دیا کہ کیا ہمارے کندھے استعمال کرنا چاہ رہے ہیں؟ چیف جسٹس نے کہا کہ ’نوٹس جاری کر کے بلاوجہ لوگوں کو تنگ بھی نہیں کرنا چاہیے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کس سیاسی جماعت کو نکالنے کے لیے یہ سب ہوا؟

    سندھ ہائی کورٹ بار کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین نے جواب دیا کہ ’پاکستان جوڈیشل سسٹم پر دباؤ ڈال کر نواز شریف کو نکالا گیا۔

    چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ’اس سے فائدہ کس کا ہوا، کیا پاکستان، سندھ بار یا اسلام آباد بار کو فائدہ دینے کے لیے یہ سب ہوا؟

    بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ ’پاکستان ہم نے انکوائری کی درخواست کی تا کہ حقائق سامنے آئیں۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’ہمیں نہ بتائیں کہ انکوائری کریں یا یہ کریں۔ آپ معاونت کریں جو کرنا ہے ہم کریں گے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ’مسئلہ یہ کہ عدالتی نظام کو استعمال کرنے کا الزام ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ’ہمارے بندے کو استعمال کر کے کیوں کہا گیا کہ نواز شریف انتخابات سے پہلے باہر نہ آئے؟ وکیل صلاح الدین نے کہا کہ ’یہ الزام فیض حمید پر ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’ابھی تک آپ نے جنرل فیض حمید کا نام ہی ’اسٹیبلش‘ کیا ہے۔ اب جنرل باجوہ کا اس میں کیا کردار بنتا ہے، انھیں ہم کیوں نوٹس جاری کریں؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ جنرل باجوہ کا آپ نے فریقین میں پہلا نام لکھا مگر جنرل باجوہ سے تو الزامات کی کوئی کڑی جُڑ ہی نہیں رہی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ جنرل فیض کی حد تک تو ٹھیک ہے، جنرل باجوہ کا کہاں ڈائریکٹ نام آتا ہے؟ بریگیڈیئر عرفان رامے کا بھی غیر متعلقہ ہے۔

  13. وکیل شیر افضل مروت کو فوری رہا کیا جائے: اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن

    اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے سینیئر وکیل شیر افضل خان مروت کی رہائی کا مطالبہ کر دیا۔ بار نے اپنے اعلامیے میں اس گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر وکیل شیر افضل کو رہا نہ کیا گیا تو سب وکیل اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

  14. سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس، جسٹس مظاہر نقوی سے شوکاز نوٹس پر یکم جنوری تک جواب طلب

    SUPREME COURT

    ،تصویر کا ذریعہSUPREME COURT

    سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی سے یکم جنوری تک جواب طلب کر لیا۔ کونسل کی طرف سے انھیں یہ کہا گیا ہے کہ ’جواب کے ہمراہ گواہان کی فہرست بھی پیش کریں۔‘

    خواجہ حارث نے اعتراض اٹھایا کہ ’سپریم جوڈیشل کونسل پراسیکیوٹر نہیں ہوسکتی اور گواہ کونسل نے نہیں اٹارنی جنرل نے بطور پراسیکیوٹر بلانے ہیں۔

    جسٹس مظاہر نقوی کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ’شکایت کنندگان کا سپریم جوڈیشل کونسل رولز میں کوئی تصور نہیں۔‘

    خواجہ حارث کے مطابق کونسل کو صرف معلومات فراہم کی جا سکتی ہیں۔

    کونسل کی کارروائی کا احوال

    سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف اوپن کورٹ میں سماعت شروع ہوئی۔ جسٹس مظاہر نقوی نے وکیل خواجہ حارث کے ذریعے کارروائی اوپن کرنے کی درخواست کی۔ چئیرمین سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے مطابق رولز کے مطابق جج کے تحفظ کے لیے کارروائی ان کیمرہ ہوتی ہے مگر جسٹس مظاہر نے خود کارروائی اوپن کرنے کی درخواست کی جس کو منظور کیا گیا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے روسٹرم پر موجود جسٹس مظاہر نقوی کے وکیل خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ کیا شوکاز کا جواب اب جمع کرا رہے ہیں؟

    جج کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ’متعدد بار درخواستوں کے ذریعے سپریم جوڈیشل کونسل کا مکمل ریکارڈ مانگا لیکن فراہم نہیں کیا گیا۔‘

    وکیل جسٹس مظاہر نقوی خواجہ حارث نے مزید کہا کہ ’سپریم جوڈیشل کونسل جواب دینے پر مجبور نہیں کر سکتی۔‘

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ کونسل کو جواب دینے کے لیے شرائط عائد نہیں کی جا سکتیں۔

    خواجہ حارث نے کہا کہ ’جواب دینے کے لیے معلومات درکار ہیں۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے کسی خط کا جواب نہیں دیا۔

    چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ ’سپریم جوڈیشل کونسل الگ آئینی ادارہ ہے، آپ نے کہا اوپن کارروائی ہو ہم نے کر دی۔‘

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اب نا بتائیں کہ آپ نے متعدد درخواستیں دائر کیں، بتائیں کیا چاہیے ہم ابھی دیتے ہیں۔

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے لکھے خطوط سپریم جوڈیشل کونسل کے ریکارڈ کا حصہ نہیں تو کیسے دیکھیں؟

    خواجہ حارث نے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان مجھے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی نوٹنگ اور پھر اس پر جسٹس سردار طارق کی رائے نہیں دی گئی۔

    چیف جسٹس نے سیکریٹری کونسل کو ریکارڈ فائل خواجہ حارث کو دینے کی ہدایت کر دی۔

    خواجہ حارث نے سابق چیف جسٹس عمر عطابندیال کا لکھا نوٹ پڑھا اور کہا کہ اس نوٹ میں تو صرف شکایت پر رائے دینے کا کہا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ تو میں وہ پڑھ رہا ہوں جو مجھے پڑھایا جا رہا ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’ایسی بات نا کریں کہ پڑھایا جا رہا ہے، دیکھیں ہم شفافیت پر یقین رکھتے ہیں۔ آپ کو سب اوپن چاہیے تھا ہم نے کر دیا، اب سب اوپنلی پڑھیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’یہ لفظ ٹھیک نہیں کہ ہم آپ کو پڑھا رہے ہیں۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس ایک ہی فائل ہے جو آپ کو دے دی اب جو چاہے پڑھ لیں۔

    وکیل جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ سردار طارق نے میرے بارے قانونی رائے دی جبکہ وہ خود شکایات کا سامنا کر رہے تھے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’آپ اپنی شکایت پر رہیں۔‘

    خواجہ حارث نے کہا کہ ’مجھے ریکارڈ کی کاپی چاہیے تا کہ شوکاز کا جواب دے سکوں، زبانی تو پڑھ کر سب بھول جاتا ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ اس پر فیصلہ کریں گے کہ آپ کو ریکارڈ کاپی دینی ہے یا نہیں، آپ نے کہا کہ ہمارے پاس ریکارڈ نہیں آپ کو ہم نے کاغذ دکھا دیے۔ آپ ہماری بات ذرا غور سے سن لیں یہ نہ ہو کہ آپ کو پھر ہم نہ سنیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’آپ کا خط ہم تک پہنچنے سے پہلے سوشل میڈیا پر آ جاتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر ہر ایک چیز سوشل میڈیا پر چلے گی۔ آپ نے ہمارے سیکریٹری پر الزام لگایا یہ وہاں سے خط لیک ہوتا ہے۔

    ہم نے سیکریٹری سے جب پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ میں اس میڈیا کے نمائندے کو جانتا تک نہیں۔

    خواجہ حارث نے کہا کہ ’کونسل کے سیکریٹری پر الزام عائد کرنے پر معذرت کر چکے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ’ہم محتاط ہوگئے کہ باقی ریکارڈ بھی جسٹس نقوی کو دیا تو سوشل میڈیا پر نہ آ جائے، ایسا بھی ممکن ہے آپ کو دلائل سے روک دیں یا ایک اور نوٹس جاری کر دیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل مس کنڈکٹ کی انکوائری کرتا ہے اس میں وکالت کی گنجائش نہیں ہوتی۔

    خواجہ حارث نے کہا کہ ’پہلی سماعت پر بھی ہمیں بلایا گیا لیکن معلوم نہیں الزامات کیا ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ’پہلی سماعت میں جسٹس نقوی کو بلایا نہیں تھا صرف بیٹھنے کی اجازت دی تھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ’میں نہیں چاہتا تھا کہ جسٹس نقوی کی پیٹھ پیچھے کوئی کارروائی ہو۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’میرے خلاف ریفرنس آیا تو کونسل نے مجھے ایک بار بھی نہیں بلایا، جو میرے ساتھ ہوا نہیں چاہتا کسی اور کے ساتھ بھی ہو، میں نے سپریم جوڈیشل کونسل کی شکل بھی نہیں دیکھی تھی۔‘

    جب جسٹس مظاہر نقوی نے روسٹرم پر آ کر بات کرنا چاہی تو ان کے وکیل خواجہ حارث نے انھیں بات کرنے سے روک دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر آپ دونوں بھی بات کرتے ہیں تو ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

    سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی میں پانچ منٹ کے وقفے کے بعد جسٹس مظاہر نقوی کو یہ ہدایت کی گئی کہ وہ یکم جنوری تک کونسل کی طرف سے جاری کیے گئے شوکاز نوٹس پر جواب جمع کرائیں۔

  15. ’میری دشمنی میں مُلک کو کیوں نشانہ بنایا، میرے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کے لیے نیب پر دباؤ ڈالا گیا‘: نواز شریف

    Nawaz Sharif

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف نے جمعرات کو قوم سے خطاب کے دوران کہا کہ ’چھ سال بعد میری بے گُناہی کی تصدیق ہو چُکی ہے۔‘

    اپنے خطاب کے دوران اُن کا کہنا تھا کہ ’اس شرمناک کھیل کے سارے چہرے بے نقاب ہو چُکے ہیں، لیکن دُکھ اس بات کا ہے کہ نا میں وقت کو پیچھے لے کر جا سکتا ہوں اور نا بچھڑ جانے والوں کو واپس لا سکتا ہوں۔‘

    سابق وزیر اعظم عمران خان کا نام لیے بغیر نواز شریف نے انھیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’ ’کسی لاڈلے کو لانے کے لیے پاکستان کو سزا کیوں دی گئی؟ میری قوم اور مُلک کو کیوں سزا دی گئی؟ میں مسلسل چھ سال یہ سوچتا رہا ہوں کے مُجھ سے دشمنی کرنے والوں نے مُلک کو کیوں نشانہ بنایا۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اپنے خلاف ہونے والی منظم سازش بیان کروں تو بہت وقت لگے گا، بس یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ میرے خلاف سازش کا آغاز 2014 کے دھرنوں سے ہوا تھا، جس کے بعد نیب کو تین ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا گیا۔‘

    میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’آپ کو تو مُجھ سے بھی زیادہ سنگین اور سخت سزا دی گئی، آپ سب کو تو کھانے پینے کی چیزوں، ادویات اور حتیٰ کے اس مُلک کے نوجوانوں سے تو روزگار تک چھین لیا گیا۔‘

    اُن کا مزید کہنا تپا کہ’ہم نے اس مُلک اور قوم کو آئی ایم ایف سے چھٹکارا دلوایا مگر میرے جانے کے بعد ملک کو دوبارہ اس میں دھکیل دیا گیا، ملک کو کیوں معاشی تباہی میں دھکیل دیا گیا، جو ہمارے دور میں 6.1 فیصد شرح ترقی کر رہا تھا۔‘

    نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’اللہ نے مجھے سرخ روح کیا ہے اور مُجھ پر ہونے والے سارے مقدمے جھوٹے نکلے ہیں، ن لیگ کا ہر کارکن مبارکباد کا حق دار ہے، عوام کا شکریہ کہ انھوں نے مجھے دعاؤں میں یاد رکھا، عوام کی دعاؤں نے مجھے ہمیشہ حوصلہ دیا۔‘

  16. ’موجودہ صورتحال کا ذمہ دار الیکشن کمیشن کو نہیں ٹھہرایا جاسکتا‘

    voting

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اس نے 8 فروری کو الیکشن کروانے کے تمام انتظامات مکمل کر لیے تھے مگر اب ’موجودہ صورتحال کا ذمہ دار‘ اسے ’نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔‘

    ایک بیان میں الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ’چیئرمین پی ٹی آئی کے الزامات عوام کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش ہے۔ ڈی آر اوز اور آر اوز کا تقرر کر دیا گیا تھا، ملک بھر میں ڈی آر اوز اور آر وز کی ٹریننگ بھی شروع کر دی تھی۔ ڈی آر اوز اور آر اوز کی ٹریننگ الیکشن شیڈول سے پہلے ضروری ہے، ٹریننگ ضروری ہے تاکہ شیڈول کا اعلان ہوتے ہی کاغذات نامزدگی کا اجرا اور وصولی کر سکیں۔‘

    تاہم اس کے مطابق تحریک انصاف نے ان کے ’تقرر کو چیلنج کیا۔۔۔ جلد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔‘

    خیال رہے کہ تحریک انصاف کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ نے بیورو کریسی کے افسران کی مدد سے الیکشن کروانے کا نوٹیفکیشن معطل کیا ہے۔

  17. بی بی سی اردو کے لائیو پیج پر خوش آمدید

    گذشتہ روز کی خبریں جاننے کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔