’میری دشمنی میں مُلک کو کیوں نشانہ بنایا، میرے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کے لیے نیب پر دباؤ ڈالا گیا‘: نواز شریف

پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف نے قوم سے خطاب کے دوران کہا کہ ’چھ سال بعد میری بے گُناہی کی تصدیق اور اس کھیل کے سارے چہرے بے نقاب ہو چُکے ہیں، لیکن دُکھ اس بات کا ہے کہ میری دشمنی میں مُلک کو کیوں نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب توشہ خانہ کیس میں احتساب عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. ’مُلکی ترقی میں خواتین کا کردار انتہائی اہم ہے اور اس کے بغیر ترقی مُمکن نہیں‘ بلاول بھٹو زرداری

    بلاول

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا پشاور میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’مُشکل وقت میں بھی پیپلز پارٹی کی خواتین صفِ اوّل میں شامل تھیں اور کام کر رہیں تھیں۔‘

    بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ’خواتین کی جدوجہد کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو بہت کامیابیاں ملیں، جب جنرل ضیا کی آمریت مسلط ہوئی تو اُس مُشکل وقت اور ایک آمر کے سامنے بھی دو خواتین ڈٹ کر کھڑی ہوئیں بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو، جس کے بعد بے نظر کو آپ سب کی مدد نے ہی مُسلم دُنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنایا گیا۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ’مرد و خواتین شانہ بشانہ کام کریں گے تو مُلک ترقی کر سکتا ہے۔‘

    مُلک میں آئندہ عام انتخابات سے متعلق بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم 2024 کا منشور بنا رہے ہیں، خواتین کے لیے سب سے زیادہ ترقی پسند منشور پیپلز پارٹی کا ہوگا۔‘

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’ملک کی معشیت تب تک مستحکم نہیں ہو سکتی جب تک اس میں خواتین کا کردار نہ ہو۔‘

    مستقبل سے متعلق بات کرتے ہوئے بلاول کا کہنا تھا کہ ’بچے کی پیدائش کے بعد 1000 دنوں یعنی تقریباً تین سال تک ماں اور بچے کے لیے مناسب اور ضروری ادویات اور خوراک کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے اور اس حوالے سے مُلک بھر میں خصوصی مراکز قائم کیے جائیں گے۔‘

    کنوشن کے اختتام پر بلاول کا کہنا تھا کہ ’ہم سب مل کر اس صوبے اور اس مُلک کی قسمت بدل دیں گی۔‘

  2. فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کا ٹرائل برقرار: ’یہ لوگ اپنے شہری ہیں، بس بھٹک گئے ہیں‘, شہزاد ملک/بی بی سی اردو

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کا 23 اکتوبر کا فیصلہ مشروط طور پر معطل کیا ہے۔

    عدالت عظمٰی کا کہنا ہے کہ فوجی عدالتیں ملزمان کا ٹرائل کر سکتی ہیں لیکن حتمی فیصلہ سپریم کورٹ کے احکامات سے مشروط ہوگا۔

    سپریم کورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت جنوری کے تیسری ہفتے تک ملتوی کردی ہے۔

    سپریم کورٹ نے پانچ رکنی لارجر بینچ کا فیصلہ چھ رکنی بنچ کے پانچ ججز نے معطل کیا۔ فیصلہ پانچ ایک کی اکثریت سے جاری کیا گیا۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا اور فریقین کو نوٹسز جاری کیے۔

    سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ نو مئی کے واقعات میں ملوث 103 افراد کا ٹرائل جاری رہے گا اور فوجی عدالتیں تمام گرفتار ملزمان کے خلاف حتمی فیصلہ جاری نہیں کریں گی۔

    عدالت کا مزید کہنا تھا کہ فوجی عدالتیں ملزمان کا ٹرائل کر سکتی ہیں لیکن حتمی فیصلہ سپریم کورٹ کے احکامات سے مشروط ہوگا۔

    سماعت کا احوال

    جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ آغاز ہی میں درخواست گزاروں کی جانب سے بینچ پر اعتراضات اٹھائے گئے۔

    عدالتی استفسار پر وکیل لطیف کھوسہ نے بتایا کہ سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے اعتراض کیا ہے جس پر جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ ’میں خود کو بینچ سے علیحدہ نہیں کرتا۔‘

    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’ہمارا بینچ پر اعتراض ہے اور آپ بیٹھ کر کیس سن رہے ہیں‘ جس پر جسٹس سردار طارق نے کہا کہ ’تو کیا کیس کو کھڑے ہو کر سنیں؟‘

    وکیل نے کہا کہ ’حکم امتناعی مانگا جا رہا ہے ، آپ کے کیس سننے سے ہمارے حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ آپ اپنا فیصلہ دے چکے ہیں۔‘ اس پر جسٹس سردار طارق نے کہا کہ ’میں نے کوئی فیصلہ نہیں دیا۔ کیا ہم حکم امتناعی دے رہے ہیں، نوٹس ہوا ہی نہیں اور آپ لوگوں نے بولنا شروع کر دیا ہے۔‘

    وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے بتایا ’صرف ان سویلینز کا ٹرائل فوجی عدالت میں ہوگا جو قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ فوج کی تحویل میں 104 افراد سات ماہ سے ہیں۔ ملزمان کے لیے مناسب ہوگا کہ ان کا ٹرائل مکمل ہو جائے۔ تفصیلی فیصلے کا انتظار کرنا ہے تو عدالتی حکم معطل کرنا ہوگا۔‘

    جسٹس سردار طارق نے کہا کہ ’دیکھنا ہوگا ان نکات پر فیصلے میں کیا رائے دی گئی ہے۔‘

    جسٹس سردار طارق نے کہا کہ ’یہ کیسے ممکن ہے قانون کالعدم ہے اور عدالت ٹرائل جاری رکھنے کا حکم دیدے؟‘

    اٹارنی جنرل نے قانون کالعدم ہونے کی حد تک فیصلہ معطل کرنے کی استدعا کی تو جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ’اتنی جلدی کیا ہے؟‘

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’جلدی یہ ہے کہ غیر ملکی دہشتگردوں کے ٹرائل بھی نہیں ہو پا رہے۔‘

    اس پر جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ’گرفتار لوگ دہشتگرد ہیں تو بری کیوں کر رہے ہیں؟‘

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’یہ لوگ تو اپنے شہری ہیں، بس بھٹک گئے ہیں۔‘

  3. ’ایسا لگ رہا ہے کہ ہم اپنے ملک میں نہیں کسی اور ملک میں ہیں‘ علیمہ خان

    سائفر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سائفر کیس کے پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ بدھ کو اڈیالہ جیل میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد ہوچکی ہے۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی ہمشرہ علیمہ خان نے فردِ جُرم عائد کیے جانے کے بعد اڈیالہ جیل کے باہر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جیل کے اندر قائم کمرہ عدالت میں ڈبے بنا دیئے گئے۔ انھوں نے کسی ادارے یا شخصیت کا نام لیے بغیر کہا کہ ’اندر خوف کس چیز کا ہے مجھے سمجھ نہیں آرہی۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ساری فیملی کمرہ عدالت کے اندر تھی اور باہر سے تالہ لگا دیا گیا تھا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’سائفر مقدمے کی سماعت کے دوران جو کچھ ہو رہا ہے ہمیں انصاف ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا۔‘

    علیمہ خان کا کہنا تھا کہ ’ایسا لگ رہا یے کہ ہم اپنے ملک میں نہیں کسی اور ملک میں بیٹھے ہوئے ہیں اور بہت تکلیف ہوتی ہے کہ یہ ہمارے ساتھ ہمارے ہی ملک میں کیا ہو رہا ہے۔‘ سابق وزیر اعظم کی ہمشریہ کا کہنا تھا کہ ’ہمیں گھر سے نکلنے کے بعد فالو کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دھمکیاں دی جاتی ہیں کہ انھیں جیلوں میں ڈال دیں گے،‘ جس کا علیمہ خان کے بقول ’ہمیں کوئی خوف نہیں ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’سائفر مقدمے کی سماعت کی کوریج کے لیے میڈیا کو اندر نہیں جانے دیا جارہااور اس اقدام کا بھی کوئی نہ کوئی مقصد ہی ہو گا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’میڈیا کے بغیر سائفر مقدمے کا فری ٹرائل نہیں ہو سکتا اور سب پر پریشر ڈالا جارہا ہے اور اس کیس میں خان صاحب کو سزائے موت ہو سکتی ہے۔‘ انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کوہائر کیا تھا اور ریکارڈ پر موجود ہے کہ اس کے عوض انھیں پیسے دیئے گئے تھے۔‘

    واضح رہے کہ سائفر کیس کی سماعت خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے روالپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قائم کمرہ عدالت میں کی جس کے بعد ان دونوں ملزمان کو اُن کے وکلا کی موجودگی میں فرد جرم پڑھ کر سنائی گئی جس پر دونوں ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا۔

  4. سائفر کیس: اڈیالہ جیل میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد، پراسیکیوٹر

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہTWITTER

    سائفر کیس کے پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ بدھ کو اڈیالہ جیل میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد ہوچکی ہے۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف اس مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے روالپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قائم کمرہ عدالت میں ان دونوں ملزمان کو فرد جرم پڑھ کر سنائی جس دوران ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا۔

    تاہم شاہ محمود قریشی کے وکیل تیمور ملک کا کہنا ہے کہ ان کے موکل اور عمران خان دونوں نے چارج شیٹ پر دستخط نہیں کیے اور سماعت کل تک کے لیے ملتوی ہوچکی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انھیں ان خبروں پر حیرت ہے کہ دونوں پر فرد جرم عائد ہوچکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وکلا کی جانب سے ایک بار پھر اس ٹرائل کو چیلنج کیا جائے گا۔

    ان دونوں ملزمان پر فرد جرم ان کے وکلا کی موجودگی میں پڑھ کر سنائی گئی جبکہ اس مقدمے کے دو پراسیکوٹرز بھی اڈیالہ جیل میں قائم کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

    عدالت نے پراسیکوٹرز کو حکم دیا ہے کہ وہ آئندہ سماعت پر تین گواہوں کے بیانات قلمبند کروائیں۔ اس مقدمے کی آئندہ سماعت 14 دسمبر کو ہوگی۔

    واضح رہے کہ اس سے پہلے خصوصی عدالت نے ان دونوں ملزمان پر 23 اکتوبر کو فرد جرم عائد کی تھی تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے جیل میں ہونے والی اس مقدمے کی سماعت کے خلاف عمران خان کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے اس مقدمے کے ٹرائل کو کالعدم قرار دیا تھا اور متعقلہ عدالت کو از سر نو اس مقدمے کی سماعت کرنے کا حکم دیا تھا۔

  5. بریکنگ, سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل روکنے کا فیصلہ معطل کر دیا

    فوجی عدالت

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ نے اکثریت رائے سے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے مقدمات روکنے کا فیصلہ معطل کر دیا۔ اس سے قبل عدالت نے 23 اکتوبر کو یہ ٹرائل روکنے کا حکم دیا تھا، جسے آج معطل کیا گیا ہے۔

    چھ رکنی بینچ میں صرف جسٹس مسرت ہلالی نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا ہے۔

    جسٹس سردار طارق مسعود اس چھ رکنی بینچ کی سربراہی کر رہے تھے جس میں اختلافی نوٹ لکھنے والی جسٹس مسرت ہلالی کے علاوہ جسٹس امین الدین خان، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس عرفان سعادت خان بھی شامل ہیں۔

    نو مئی کے واقعات میں ملوث 103 افراد کا ٹرائل جاری رہے گا تاہم عدالت نے قرار دیا ہے کہ فوجی عدالتیں تمام گرفتار ملزمان کے خلاف حتمی فیصلہ جاری نہیں کریں گی۔

    عدالت نے اس مقدمے کی سماعت جنوری کے تیسری ہفتے تک ملتوی کر دی ہے۔

  6. ’ایک فیصلے نے پاکستان کو 10 سال پیچھے دھکیل دیا، شہدا کو بتایا جائے کہ ان کے خون پر سودا کس نے کیا؟‘ بلاول بھٹو

    بلاول بھٹو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ شہدا کو بتایا جائے کہ ان کے خون پر سودا کیسے ہوا، کب ہوا، کیوں ہوا اور کس نے کیا؟

    پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملک میں دہشت گردی ایک بار پھر سر اٹھا رہی ہے، آپس میں لڑنے سے مزید مسائل پیدا ہوں گے، سیاسی اختلافات رکھے جاسکتے ہیں مگر جب ملک مشکل میں ہو تو ہمیں چاہیے کہ ہم اختلافات بھول کر ان مسائل کا مقابلہ کریں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ڈیرہ اسمٰعیل خان میں ہونے والی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں، دہشت گردی کامقابلہ کسی ایک سیاسی جماعت نے نہیں سب نے مل کرکرنا ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز ڈیرہ اسمٰعیل خان میں سیکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 27 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا جبکہ درابن میں چوکی پر خودکش حملے کے نتیجے میں عمارت تباہ ہو گئی اور 25 سکیورٹی جوان ہلاک ہوئے تھے۔

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ہم سب نے مل کے اس لیے اتنی قربانیاں دیں تھی تاکہ دہشت گردی کا خاتمہ ہو، خیبر پختونخوا کی عوام، وہاں کی پولیس، سیکیورٹی ادارے صف اول میں کھڑے ہوکر اس دہشتگردی کا مقابلہ کر رہے تھے اور پوری دنیا یہ اعتراف کر رہی تھی کہ پاکستان نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے، مگر ہم نے پتہ نہیں کیوں پارلیمان، عوام کو اعتماد میں لیے بغیر نہ صرف دہشتگردوں سے بات چیت کی بلکہ ان لوگوں کو بھی جیل سے نکال دیا جو دہشت گردی کے سنگین حملوں میں ملوث تھے۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ کل کا جو واقعہ تھا وہ اس کی تازہ مثال ہے کہ کس قسم کا امن ہم نے قائم کیا ہے، اس ایک فیصلے نے پاکستان کو 10 سال پیچھے دھکیل دیا ہے، اسی وجہ سے ہم نے پاکستان میں افغانستان کو اسٹریٹیجک گہرائی دلوادی ہے،اس کی وجہ سے ہماری پولیس، فوجی، عوام شہید ہو رہے ہیں۔

    بلاول بھٹو نے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جائیں، احتساب ہو، ملک،قوم، اے پی ایس کے شہدا سب کو بتایا جائے کہ ان کے خون پر سودا کیسے ہوا، کب ہوا، کیوں ہوا اور کس نے کیا؟

    ’میں ذوالفقار علی بھٹو کو انصاف دلوانا چاہتا ہوں‘

    ان کا کہنا تھا کہ کل میں سپریم کورٹ گیا،12 سال بعد شہید ذوالفقار علی بھٹو کے ریفرنس کے مقدمے کی سماعت ہوئی،میں جسٹس قاضی فائز عیسی سمیت تمام جج صاحبان کا شکرگزار ہوں کہ ہمیں یہ موقع دیا گیا،ہم اس موقع سے ملک،نظام اور جمہوریت کی بہتری چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کو ایسا انصاف ملے جس سے تاریخ درست ہو اور ان سب کو بے نقاب کیا جائے جو اس قتل میں ملوث تھے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ساتھ ساتھ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ جمہوری نظام اور عدلیہ کے لیے ایک موقع ہے کہ ہم پاکستان کو بحران سے باہر نکال سکیں۔

  7. سازش کے تحت جھوٹے مقدمات بنائے گئے، جو جو ذمہ دار ہے اس کا حساب لینا چاہیے: نواز شریف

    Nawaz Sharif

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق وزیراعظم نواز شریف کا پارلیمانی بورڈ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان پر جان بوجھ کر کھوکھلے مقدمات بنائے گئے جس سے وہ ذاتی طور پر ہی نہیں بلکہ ملک کا بھی نقصان ہوا ہے۔

    نواز شریف کے مطابق وہ ذاتی طور پر کسی کو معاف کرنے کا اختیار نہیں رکھتے اور جو جو ذمہ دار ہے اس سے اس سب کا حساب لینا چاہیے۔

    نواز شریف نے کہا کہ ’یہ نیب کا فیصلہ نہیں تھا، نیب کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ آپ نے یہ ایسا کرنا ہے۔ عدالت کو یہ کہاں گیا کہ آپ نے اس بات کی تسلی کر لینی ہے کہ نواز شریف کو سزا ہونی چاہیے۔‘

    یہ پاکستان کے خلاف اور پاکستان کے عوام کے خلاف یہ فیصلہ ہوا، یہ معاملہ بہت سنگین ہے، وہ کون لوگ تھے کہ جن کے کہنے پر یہ سب ہوا انھیں منظر عام پر لایا جانا چاہیے۔

    ان کے مطابق ’آٹھ فروری کو سب سے بڑی جے آئی ٹی اور سب سے بڑی عدالت بھی بنے گی، وہ سب سے بڑا فیصلہ دے گی۔‘

    سابق وزیراعظم کے مطابق ’ہم پر یہ مقدمات جان بوجھ کر بنائے گئے اور ان مقدمات کا کھوکلا پن سب کے سامنے آ گیا ہے۔‘

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ پانامہ میں کُچھ نہیں ملا تو اقامہ میں نکال لیا کیونکہ مقصد بس مُجھے سزا دینا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کے 25 کروڑ عوام کے نمائندے کو دھکے دے کر اقتدار سے نکالا گیا۔ سزا مجھے نہیں بلکہ عوام کو دی گئی۔‘

    نواز شریف نے کہا کہ ’میں نے جنرل باجوہ یا راحیل شریف کے خلاف کوئی سازش نہیں کی ہے نہ کسی پر کوئی الزام لگایا۔‘

    نواز شریف نے کہا کہ انھیں ایک سازش کے تحت ایسی سزا سُنائی گئی کے جس کی وجہ سے جگ ہسائی ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ ’مُجھے گاڈ فادر کہا گیا۔ کیا کبھی ایسے الفاظ کا استعمال عدالتیں کرتی ہیں کیا ججز کو ایسے ریمارکس زیب دیتے ہیں۔ پتہ نہیں کہاں کہاں سے اُٹھ کر آئے اور ہمارے پر الزام لگا دیے۔‘

    نواز شریف نے کہا کہ ’آج یہ سب کا سب جھوٹ ہوا میں اُڑ گیا مگر جو ہمیں دُکھ دیے گئے اُن کا کوئی مداوا نہیں ہو سکتا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم نے لندن سے درخواست کی کہ ہم عدالت میں پیش ہونے آ رہے ہیں، تو ہمارے آنے پر فیصلہ سُنائیں مگر نیب نے اس بات پر توجہ نہیں دی اور ہمیں سزائیں سُنا دیں۔

    پھر بھی ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم سزا سُننے کے باوجود پاکستان جائیں گے، عدالتوں کا سامنا کریں گے۔

    اس سب کی سزا ہم تو بھگتی مگر یہ سزا ہمارے ساتھ اس مُلک کی عوام نے مہنگائی کی صورت میں بھگتی۔

  8. بریکنگ, فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے کیس پر فیصلہ محفوظ، کچھ دیر میں سنایا جائے گا

    فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے مقدمات کالعدم قرار دینے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر فیصلہ محفوط کر لیا گیا ہے جسے عدالت اعظمی کچھ دیر میں سنائے گی۔

    اس سے قبل سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران سردار لطیف کھوسہ کی وزارت دفاع کے وکیل کی طرف سے حکم امتناع کی درخواست کی مخالفت کی گئی۔

    لطیف کھوسہ نے عدالت سے کہا کہ جن ججوں نے ملٹری کورٹس فیصلہ دیا وہ بھی اسی سپریم کورٹ کے جج ہیں۔ ان کا ٹرائل کالعدم قرار دینے والا تفصیلی فیصلہ آیا نہیں اور ٹرائل دوبارہ کیسے چلے گا۔

    جس پر جسٹس سردار طارق نے کہا کہ پھر یہ ایپلٹ عدالت کیوں بنی، سویلین والی دفعات تو کالعدم ہوگئیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ وہ دفعات کالعدم نہ کرتے ناں جو ہمارے بچوں کو شہید کررہے ہیں ان کا کس قانون سے ٹرائل کریں۔ جسٹس سردار طارق نے کہا کہ ‏سیکشن 2 ون ڈی کالعدم ہونے کے بعد دہشتگردوں کا ٹرائل کہاں ہو گا؟

    اس پر وکیل اکرم راجا نے کہا کہ عدالت موقع دے تو اس معاملے پر سیر حاصل دلائل دیں گے۔

    جسٹس سردار طارق نے کہا کہ ‏جنھوں نے کل پاکستانی فوج کے 23 جوان ہلاک کیے ان سویلینز کا ٹرائل اب کس قانون کے تحت ہو گا؟

    سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ہمیں جب سنا جائے گا تو ہم ان سوالوں پر تسلی بخش جواب دیں گے سیکشن 2 ون ڈی 1967 میں آیا تو اس کے بعد 1973 میں آئین آیا۔

    بنیادی حقوق کو آئین میں تحفظ دیا گیا۔ اس پر جسٹس سردار طارق نے کہا کہ ایک تو بنیادی حقوق پتہ نہیں ہمیں کہاں لے کر جائیں گے۔

    اس موقع پر اٹارنی جنرل نے ملٹری کورٹس میں ٹرائل چلانے کی مشروط اجازت دینے کی استدعا کر دی۔ جس پر جسٹس سردار طارق نے کہا کہ ایک قانون کالعدم ہوچکا اس میں سے کیسے چیزیں نکال نکال کر آپ کہہ رہے کہ ہم اجازت دیں۔

  9. بریکنگ, فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے مقدمات کا معاملہ: وکلا کا جسٹس طارق پر اعتراض، ’نہیں ہوتا بینچ سے الگ کیا کر لیں گے‘، جسٹس طارق

    فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے مقدمات کالعدم قرار دینے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔

    جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بینچ سماعت کر رہا ہے، بینچ میں جسٹس امین الدین خان، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس عرفان سعادت خان شامل ہیں۔

    کیس کی سماعت کے آغاز میں وکلا نے جسٹس سردار طارق مسعود پر اعتراض کر دیا، وکیل لطیف کھوسہ نے جسٹس سردار طارق سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے بینچ پر موجود ہونے پر اعتراض اٹھایا ہے۔

    جسٹس سردار مسعود نے فریقین کے وکلا سے استفسار کیا کہ آپ کو نوٹس کیا ہے کسی نے؟

    وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ نوٹس سے پہلے ججز پر اعتراض ہو تو اس پر دلائل ہوتے ہیں، وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ نوٹس ہونے کے بعد اعتراض اٹھانے پر کیس متاثر ہو گا۔

    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ جسٹس سردار طارق اپنے نوٹ میں فوجی عدالتوں کی درخواستوں پر رائے دے چکے ہیں۔

    جسٹس سردار طارق نے وکلا سے استفسار کیا کہ کس نے اعتراض کیا ہے؟ وکیل سلمان اکرم نے جواب دیا کہ اعتراض جواد ایس خواجہ نے کیا ہے۔

    جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیے کہ میں نہیں ہوتا بینچ سے الگ، کیا کر لیں گے؟

    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ بیٹھ کر ہمارے اعتراض کے باوجود کیس سن رہے ہیں، اس پر جسٹس سردار طارق مسعود نے استفسار کیا کہ تو کیا کھڑے ہو کر کیس کی سماعت کریں؟

    دورانِ سماعت اٹارنی جنرل نے غصے میں کہا کہ جب نوٹس نہیں تو اعتراض کیسے سنا جا سکتا ہے؟ جنھوں نے اعتراض کیا وہ خود تو عدالت میں نہیں ہیں، بہتر ہے پہلے بنچ اپیلوں پر سماعت کا آغاز کرے۔

    دریں اثنا عدالت نے اپیلوں پر سماعت کا آغاز کر دیا۔ شہدا فاونڈیشن کے وکیل شمائل بٹ نے اپیل پر دلائل کا آغاز کیا۔

    سماعت میں وکیل اعتراز احسن نے روسٹرم پر آتے ہوئے کہا کہ اعتراض پر فیصلہ پہلے ہونا چاہیے کہ آپ نے بینچ میں بیٹھنا ہے یا نہیں۔ جس پر جسٹس سردار طارق نے جواب دیا کہ ’میں نہیں کر رہا سماعت سے انکار آگے چلیں۔‘

    جسٹس سردار طارق کی اٹارنی جنرل کو دلائل شروع کرنے کی ہدایت کی جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں پہلے خواجہ حارث کو وقت دینا چاہتا ہوں۔ وکیل خواجہ حارث وزارت دفاع کی جانب سے روسٹرم پر آئے اور دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ آرمی ایکٹ کی شقیں کس آئین کی شق کے تحت غیر آئینی ہیں، فیصلہ اس بارے میں خاموش ہے۔ خواجہ حارث نے کہا کہ ایف بی علی کیس میں فوجی ایکٹ کی شقوں کو برقرار رکھا گیا سپریم کورٹ میں 17 رکنی فل کورٹ نے بھی اکیسیویں ترمیم کیس میں ایف بی علی کیس کو درست قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ ایک نو رکنی بینچ فیصلے میں کہہ چکی کہ جرم کا تعلق فوج سے ہو تو فوجی عدالت میں ٹرائل ہو سکتا ہے۔

    اس پر بینچ میں شامل جسٹس محمد علی مظہر نے سوال کیا کہ شفاف ٹرائل کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، آپ ملٹری کورٹس میں ہونے والے ٹرائل کو فئیر ٹرائل کیسے یقینی بنائیں گے۔

    جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ سویلین میں کلبھوشن یادیو جیسے لوگ بھی آتے ہیں، آرمی ایکٹ میں سویلین پر دائرہ اختیار پہلے ہی محدود تھا۔سویلین سے متعلق دفعات کو کالعدم نہیں کیا جا سکتا۔

    اس موقع پر جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیے کہ ابھی ہمارے سامنے تفصیلی فیصلہ نہیں آیا، کیا تفصیلی فیصلہ دیکھے بغیر ہم فیصلہ دے دیں۔

    جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ خواجہ حارث صاحب کیا تفصیلی فیصلے کا انتظار نہ کر لیں؟

    جس پر وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ پھر میری درخواست ہو گی کہ ملٹری تحویل میں جو لوگ ہیں ان کا ٹرائل چلنے دیں۔

    واضح رہے کہ رواں برس 23 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے فوجی ٹرائل کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

    جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے نو مئی کے پرتشدد مظاہروں میں ملوث ہونے پر گرفتار عام شہریوں کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف دائر درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنایا تھا۔

    عدالت عظمیٰ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے کیس کا چھ صفحات پر مشتمل مختصر فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ آرمی ایکٹ کے سیکشن ڈی 2 کی ذیلی شقیں ایک اور دو کالعدم قرار دی جاتی ہیں۔

  10. بریکنگ, سپریم کورٹ: فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے مقدمات کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیلوں پر سماعت جاری

    فوجی عدالت

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ‏فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے مقدمات کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیلوں پر سپریم کورٹ میں سماعت شروع ہو گئی ہے۔

    سپریم کورٹ کے جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بینچ سماعت کر رہا ہے۔

    جسٹس امین الدین، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس عرفان سعادت بھی لارجر بنچ کا حصہ ہوں گے۔ ان اپیلوں کی سماعت کرنے والے لارجر بینچ میں وہ جج صاحبان شامل نہیں ہیں جنھوں نے سویلین کے ٹرائیل فوجی عدالتوں میں چلانے کے حکومتی فیصلے کو کالعدم قرار دیا تھا۔

    وزارت دفاع اور وزارت داخلہ کی طرف سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلیں دائر کی گئی ہیں جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت نے فیصلہ سناتے وقت حقائق کو سامنے نہیں رکھا اور جلد بازی میں فیصلہ دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ جسٹس اعجاز الااحسن کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائیل کو آئین کے منافی قرار دیا تھا اور آرمی ایکٹ میں سویلین کے ٹرائیل فوجی عدالتوں میں چلانے سے متعلق قانون کو بھی کالعدم قرار دیا تھا۔

    سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے نو مئی کے واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف درج مقدمات کو فوجی عدالتوں میں چلانے کے حکومتی فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

    سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم ایک لارجر بینچ نے فوجی عدالتوں کو ان درخواستوں پر فیصلہ آنے تک کسی بھی مقدمے کا فیصلہ سنانے سے روک دیا تھا۔ وفاقی حکومت نے نو مئی کے واقعات جن میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا میں ملوث دو سو ایک افراد کے مقدمات کو فوجی عدالتوں میں چلانے کی منظوری دی تھی۔

    درخواست گزار جسٹس ریٹائرڈ جواد ایس خواجہ نے نظرثانی کی اپیلوں کی سماعت کرنے والے لارجر بینچ کے سربراہ جسٹس سردار طارق مسعود کی اس بینچ میں شمولیت پر اعتراض اٹھایا ہے اور کہا ہے کہ مزکورہ جج ان درخواستوں کی ابتدائی سماعت پر اپنا مائینڈٹ استعمال کرتے ہوئے بینچ سے الگ ہو گئے تھے اس لیے وہ ان درخواستوں پر اپنی رائے دے چکے ہیں جس کے سبب انھیں اس بینچ میں نہیں بیٹھنا چاہیے۔

    موجودہ چیف جسٹس، جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس سردار طارق مسعود اس بنیاد پر اس وقت کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم لارجر بینچ سے الگ ہو گئے تھے کہ پہلے بینچز کی تشکیل سے متعلق پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ کیا جائے۔

    دوسری جانب سول سوسائٹی کے ممبران نے حکومتی اپیل پر سماعت براہ راست نشر کرنے کے لئے سپریم کورٹ میں درخواست جمع کرا دی ہے۔

  11. افغان شہریوں کی بےدخلی کا کیس: ملک میں کوئی جاسوس آکر بیٹھ جائے اور دو سال بعد کہے گرفتار نہ کرو تو کیا ہوگا؟ جسٹس طارق

    Afghan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی وطن واپسی کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے لیے معاملہ لارجر بینچ کی تشکیل کے لیے کمیٹی کو بھجوا دیا ہے۔

    جسٹس سردار طارق مسعود نے استفسار کیا کہ کل اگر ایک جاسوس پاکستان میں گھس کر ایک سال تک بیٹھا رہے اور پکڑے جانے پر کہے کہ میرے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہو رہے ہیں، مجھے گرفتار نہ کرو تو آپ کیا کہیں گے؟

    بدھ کو پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر، جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد، چیئرمین این ڈی ایم محسن داوڑ اور انسانی حقوق کے لیے سرگرم سماجی کارکنوں سمیت دیگر فریقین کی جانب سے غیر ملکی شہریوں کی وطن واپسی روکنے کے لیے سپریم کورٹ میں دائر درخواست پر سماعت ہوئی جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔

    سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزاروں نے آرٹیکل 224 کے تحت نگراں حکومت کے اختیارات پر سوال اٹھایا ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت آئین کی تشریح کے لیے معاملات لارجر بینچ میں جانے چاہییں۔

    سپریم کورٹ نے مزید ریمارکس دیے کہ بےدخلی کیس میں آرٹیکل نو، 10، 24 سمیت بنیادی حقوق کی تشریح درکار ہے اور سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت آئینی تشریح کا معاملہ لارجر بینچ سن سکتا ہے لہٰذا کیس کو لارجر بینچ کی تشکیل کے لیے ججز کمیٹی کو بھیجا جاتا ہے۔

    دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت اور وزارت خارجہ نے اپنے جوابات جمع کرا دیے، درخواست گزاروں نے اپنی درخواستوں میں افغان باشندوں سے متعلق جو کہا حقیقت اس کے برعکس ہے۔

    جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیے کہ حکومت تو صرف ان لوگوں کو واپس بھیج رہی ہے جو غیرقانونی طور پر مقیم ہیں۔

    وکیل درخواست گزار سمیع الدین نے کہا کہ بےدخلی کے لیے قانونی دستاویزات نا بھی ہوں تب بھی بنیادی حقوق کو مدنظر رکھنا لازم ہے، جسٹس سردار طارق مسعود نے استفسار کیا کہ غیرملکیوں کے پاس قانونی دستاویزات نہیں ہیں تب بھی ان کو انسانی حقوق کے تحت ملک میں رہنے دیا جائے؟

    درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ غیر قانونی طور پر مقیم غیرملکیوں کے ساتھ قانون اور آئین پاکستان کے مطابق سلوک ہونا چاہیے، جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیے کہ پاکستان کے قانون کے مطابق تو غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کو پہلے جیل ہونی چاہیے۔

    جسٹس سردار طارق مسعود نے استفسار کیا کہ کیا یہ چاہتے ہیں کہ ان غیرملکیوں کو پہلے جیل ہو پھر بے دخل کیا جائے؟ حکومت کے مطابق 90 فیصد غیر قانونی مقیم غیر ملکی رضاکارانہ طور پر واپس جا رہے ہیں، کل اگر ایک جاسوس پاکستان میں گھس کر ایک سال تک بیٹھا رہے اور پکڑے جانے پر کہے کہ میرے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہو رہے ہیں مجھے گرفتار نہ کرو تو آپ کیا کہیں گے؟

    جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ یہ کیس آئینی تشریح کا ہے اور سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے بعد لارجر بنچ کو سننا چاہیے، درخواست گزاروں نے نگران حکومت اور اپیکس کمیٹی کے اختیار کو چیلنج کیا ہے۔

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ کیا حکومت بھی یہی سمجھتی ہے کہ یہ کیس لارجر بنچ کی تشکیل کے لیے واپس کمیٹی کو جانا چاہیے؟

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ حکومت سمجھتی ہے کہ اس کیس کو لارجر بنچ کی تشکیل کے لیے کمیٹی کو بھجوایا جائے۔

    درخواست گزار کے وکیل عمر گیلانی نے استدعا کی کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ افغان شہریوں کی واپسی ہو رہی ہے تو کیس کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔

    بعدازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت سردیوں کی چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ افغان مہاجرین اور سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لیے تگ و دو کرنے والے افراد کی بے دخلی کے خلاف رواں برس یکم نومبر کو کئی سیاست دانوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے نگران حکومت کے فیصلے کو چیلنج کردیا تھا۔

    خیال رہے کہ رواں برس اکتوبر میں نگران وفاقی حکومت نے ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے دوران پاکستان میں غیرقانونی طور پر مقیم 11 لاکھ غیرملکیوں کے انخلا کا فیصلہ کیا تھا جو دہشت گردوں کو فنڈز اور سہولیات سمیت دیگر غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

    اس حوالے سے کہا گیا تھا کہ پہلے مرحلے میں غیرقانونی طور پر مقیم افراد، دوسرے مرحلے میں افغانستان کی شہریت رکھنے والے اور تیسرے مرحلے میں جن کے پاس رہائشی کارڈ ہیں، انھیں بے دخل کر دیا جائے گا۔

  12. پاکستان مسلم لیگ ن کا اپنے انتخابی امیدواروں کو ٹکٹیں دینے کی حتمی تجاویز پر غور کا عمل جاری

    پاکستان مسلم لیگ ن کی انتخابی تیاریوں کا سلسلہ جاری ہے اور پارٹی اپنے انتخابی امیدواروں کو ٹکٹیں دینے کی حتمی تجاویز پر غور کا عمل جاری ہے۔

    مسلم لیگ ن کے مختلف اضلاع میں امیدواروں کے ناموں پر حتمی غور کے لیے پارلیمانی بورڈ کا آٹھواں اجلاس آج ہو گا

    امیدواروں کے ناموں کا فیصلہ کرنے کے لیے پارلیمانی بورڈ امیدواروں کے حتمی انٹرویو کرے گا۔ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف تمام لیگی امیدواروں سے ملاقاتیں کر کے ان کے انٹرویوز کریں گے۔

    پارلیمانی بورڈ کا آٹھواں اجلاس آج پارٹی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں منعقد کیا جائے گا۔ آج ہونے والے اجلاس میں صوبہ پنجاب کے ساہیوال ڈویژن کے امیدواروں کے انٹرویوز کئے جائیں گے

    آج ساہیوال ڈویژن کے تینوں اضلاع ساہیوال، اوکاڑہ اور پاکپتن کے امیدواروں کے انٹرویو ہوں گے۔ ساہیوال ڈویژن سے قومی اسمبلی کی مجموعی طور پر کل نو نشستیں ہیں جن میں ضلع ساہیوال کی تین، ضلع پاکپتن کی 2 ضلع اوکاڑہ کی چار نشستیں ہیں۔

    ساہیوال ڈویژن میں پنجاب اسمبلی کی مجموعی طور پر کل 20 نشستیں ہیں جن میں ضلع ساہیوال کی سات، ضلع پاکپتن کی پانچ اور ضلع اوکاڑہ کی آٹھ نشستیں ہیں۔

    آج ساہیوال ڈویژن سے مجموعی طور پر قومی اسمبلی کی نو جبکہ پنجاب اسمبلی کی 20 نشستوں پر امیدواروں کے ناموں پر حتمی غور کیا جائے گا۔

    اجلاس میں مریم نواز اور مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ سمیت دیگر سینئر رہنما شریک ہوں گے۔ چیئرمین الیکشن سیل سینیٹر اسحاق ڈار بھی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

    آج کے اجلاس میں ساہیوال میں استحکام پاکستان پارٹی کے ساتھ ممکنہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے تحت لیگی و اتحادی امیدواروں کا فیصلہ کیا جائے گا۔

    اجلاس میں ڈویژنل کوآرڈینیٹر، ڈویژنل صدر اور جنرل سیکرٹری سمیت تمام ضلعی صدور کی امیدواروں بارے سفارشات پر غور کیا جائے گا۔

    اس سے پہلے پارلیمانی بورڈ سرگودھا، راولپنڈی، ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان ڈویژنز کے علاوہ صوبہ بلوچستان اور صوبہ خیبر پختونخوا کے مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویژنز کے انتخابی امیدواروں کے ناموں پر غور کر چکا ہے۔

  13. سابق وزیراعظم نواز شریف العزیزیہ سٹیل ملز کیس میں بری، مگر یہ ریفرنس کیا تھا؟

    Nawaz

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں ملنے والی سزا کے خلاف نواز شریف کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے انھیں بری کرنے کا حکم دیا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے اس کیس پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد منگل کی دوپہر کو محفوظ کیے گئے فیصلے کو منگل کی شام سنا دیا گیا۔

    یاد رہے کہ ہائیکورٹ کے اسی دو رکنی بینچ نے نواز شریف کو گذشتہ ماہ 29 نومبر کو ایون فیلڈ ریفرنس میں بھی بری کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

    24 دسمبر 2018 کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں سات سال قید، دس سال کے لیے کسی بھی عوامی عہدے پر فائز ہونے پر پابندی، ان کے نام تمام جائیداد ضبط کرنے اور ساتھ ساتھ تقریباً ڈیڑھ ارب روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔

    احتساب عدالت کے اس فیصلے کے خلاف سابق وزیر اعظم نے رواں برس اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ جس پر چند سماعتوں کے بعد عدالت نے منگل کو ان کی بریت کا فیصلہ دیا ہے۔

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    العزیزیہ ریفرنس کیا تھا؟

    سنہ 2017 میں سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس کی روشنی میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف تین ریفرنس دائر کیے گئے جن میں سے ایک العزیزیہ ریفرنس بھی تھا۔ اگر اس مقدمے کی تفصیلات میں جائیں تو احتساب عدالت میں پیش کردہ دستاویزات کے مطابق العزیزیہ سٹیل ملز نواز شریف کے والد میاں محمد شریف نے 2001 میں سعودی عرب میں قائم کی تھی جس کے انتظامی امور نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز چلا رہے تھے۔ احتساب عدالت میں شریف خاندان کی جانب سے دیے گئے دلائل میں کہا گیا تھا کہ سٹیل مل لگانے کے لیے کچھ سرمایہ سعودی حکومت سے لیا گیا تھا۔

    البتہ نیب کے وکلا کا کہنا تھا کہ شریف خاندان کے اس ضمن میں کیے گئے دعوے کسی بھی دستاویزی ثبوت سے بغیر ہیں اور یہ علم نہیں کہ اس مل کو لگانے کے لیے رقم کہاں سے آئی۔ اس وقت نیب کا دعویٰ تھا کہ شریف خاندان نے پاکستان سے غیر قانونی طور پر رقم حاصل کر کے اس مل کے لیے سرمایا لگایا۔

    عدالت کو حسین نواز نے بتایا تھا کہ انھیں اپنے دادا سے پچاس لاکھ ڈالر سے اوپر کی رقم دی گئی تھی جس کی مدد سے انھوں نے العزیزیہ سٹیل ملز قائم کی تھی۔ اُن کے مطابق اس مل کے لیے زیادہ تر سرمایہ قطر کے شاہی خاندان کی جانب سے محمد شریف کی درخواست پر دیا گیا تھا۔

    اس ریفرنس کی تفتیش کرنے کے لیے قائم ہونے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے احتساب عدالت کے سامنے یہ دعویٰ کیا تھا کہ العزیزیہ سٹیل ملز کے اصل مالک نواز شریف خود ہیں۔

    نیب حکام کا نواز شریف کے خلاف دعوی تھا کہ انھوں نے حسین نواز کی کمپنیوں سے بڑا منافع حاصل کیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اصل مالک وہ ہیں، نہ کہ ان کے بیٹے۔

    واضح رہے کہ اس ریفرنس کی سماعتوں کے دوران نیب اس الزام کو ثابت کرنے کے لیے کوئی دستاویزی ثبوت فراہم کرنے سے قاصر رہی تھی تاہم احتساب عدالت نے نواز شریف کو اس کیس میں سزا سنا دی تھی۔

    اسلام آباد کی احتساب عدالت نے دسمبر 2018 میں العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سات سال قید کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں انھیں باعزت بری کردیا تھا تاہم 10 سال کے لیے کسی بھی عوامی عہدے کے لیے نااہل، تمام جائیدادیں ضبط کرنے اور جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔

    احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف نواز شریف نے 2018 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی اور بعد ازاں عدالت عالیہ نے العزیزیہ ریفرنس مشروط طور ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

    اسلام آباد کی احتساب عدالت نے جولائی 2018 میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو ایون فیلڈ ریفرنس میں 80 لاکھ پاؤنڈ اور مریم نواز کو 20 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ کیا تھا اور ایون فیلڈ اپارٹمنٹس ضبط کرنے کا بھی حکم دیا تھا تاہم مسلم لیگ (ن) کے قائد نے مذکورہ فیصلے کے خلاف بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ پہلے ہی ایون فیلڈ ریفنرس میں شریک ملزم مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو بری کرچکی ہے۔

    نواز شریف کو 2018 میں العزیزیہ ملز ریفرنس میں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں 7 برس کے لیے قید کردیا گیا تھا تاہم کچھ ہی عرصے بعد انہیں طبی بنیادوں پر لندن جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

    سابق وزیراعظم نواز شریف جیل میں صحت کی خرابی کے بعد نومبر 2019 میں علاج کی غرض سے لندن روانہ ہوگئے تھے۔

    نواز شریف گزشتہ ماہ 21 اکتوبر کو وطن واپسی کے بعد 23 اکتوبر کو سزا کے خلاف اپیلوں کی بحالی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی تھی۔ 26 اکتوبر کو سلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی درخواست پر ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیلیں بحال کردی تھیں۔

  14. بریکنگ, فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف اپیلوں پر سماعت آج سپریم کورٹ میں ہو گی, شہزاد ملک، بی بی سی نامہ نگار

    Military Court

    ۔فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف اپیلوں پر سماعت آج سپریم کورٹ میں ہو گی۔ جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بنچان اپیلوں کی سماعت کرے گا۔

    جسٹس امین الدین،جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس محمد علی مظہر جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس عرفان سعادت بھی لارجر بنچ کا حصہ ہوں گے۔ ان اپیلوں کی سماعت کرنے والے لارجر بینچ میں وہ جج صاحبان شامل نہیں ہیں جنھوں نے سویلین کے ٹرائیل فوجی عدالتوں میں چلانے کے حکومتی فیصلے کو کالعدم قرار دیا تھا۔

    وزارت دفاع اور وزارت داخلہ کی طرف سےسپریم کورٹ کے فیصلے کے خلافاپیلیں دائر کی گئی ہیں جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت نے فیصلہ سناتے وقت حقائق کو سامنے نہیں رکھا اور جلد بازی میں فیصلہ دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ جسٹس اعجاز الااحسن کی سربراہی میںسپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائیل کو آئین کے منافی قرار دیا تھا اور آرمی ایکٹ میں سویلین کے ٹرائیل فوجی عدالتوں میںچلانے سے متعلق قانون کو بھی کالعدم قرار دیا تھا۔

    سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے نو مئی کے واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف درج مقدمات کو فوجی عدالتوں میں چلانے کے حکومتی فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

    سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم ایک لارجر بینچ نے فوجی عدالتوں کو ان درخواستوں پر فیصلہ آنے تک کسی بھی مقدمے کا فیصلہ سنانے سے روک دیا تھا۔ وفاقی حکومت نے نو مئی کے واقعات جن میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا میں ملوث دو سو ایک افراد کے مقدمات کوفوجی عدالتوں میں چلانے کی منظوری دی تھی۔

    درخواست گزار جسٹس ریٹائرڈ جواد ایس خواجہ نے نظرثانی کی اپیلوں کی سماعت کرنے والے لارجر بینچ کے سربراہ جسٹس سردار طارق مسعود کی اس بینچ میں شمولیت پر اعتراض اٹھایا ہے اور کہا ہے کہ مزکورہ جج ان درخواستوں کی ابتدائی سماعت پر اپنا مائینڈاستعمال کرتے ہوئےبینچ سے الگ ہو گئے تھے اس لیے وہ ان درخواستوں پر اپنی رائے دے چکے ہیں جس کے سبب انھیں اس بینچ میں نہیں بیٹھنا چاہیے

    موجودہ چیف جسٹس جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس سردار طارق مسعود اس بنیاد پر اس وقت کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم لارجر بینچ سے الگ ہو گئے تھے کہ پہلے بینچز کی تشکیل سے متعلق پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ کیا جائے

    دوسری جانب سول سوسائٹیکے ممبران نے حکومتی اپیل پر سماعت براہ راست نشر کرنےکے لئے سپریم کورٹ میں درخواست جمع کرا دی ہے۔

  15. سٹیٹ بینک کا شرح سود 22 فیصد برقرار رکھنے کا فیصلہ

    سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں شرح سود 22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق شرح سود 22 فیصد پر رکھنے کا فیصلہ زریّ مانیٹری پالیسی کے اجلاس میں کیا گیا۔ موجودہ شرح کو برقرار رکھنے کی وجہ ملک میں گیس کی قیمتوں میں اضافہ بتایا گیا، جس کی وجہ سے نومبر کے مہینے میں مہنگائی کی شرح بڑھی جو زریّ کمیٹی کے گزشتہ اجلاس کی توقعات کے برعکس رہی۔

    مرکزی بینک کے مطابق گیس کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کی موجودہ صورتِ حال پر اثر پڑ سکتا ہے تاہم بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی اور زرعی پیداوار میں اضافے سے اس کے اثرات کو زائل کیا جا سکتا ہے۔

    سٹیٹ بینک نے توقع کا اظہار کیا کہ مہنگائی کی شرح میں کمی ہو گی اور آئندہ مالی سال میں اس کا پانچ سے سات فیصد شرح کا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔

  16. بریکنگ, چیف جسٹس کی زیر سربراہی کارروائی پر بالکل یقین نہیں، جسٹس مظاہر کا سپریم کورٹ کے ججوں کو کھلا خط

    جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی نے چیف جسٹس آف پاکستان اور سپریم کورٹ کے دیگر تمام ججوں کے نام ایک کھلے خط میں کہا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے مجھ سے روا رکھا گیا سلوک توہین آمیز ہے۔

    27 اکتوبر کو سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر علی نقوی کو ان کے خلاف درج 10 شکایات کے سلسلے میں شوکاز نوٹس جاری کیا تھا اور انھیں دو ہفتوں کے اندر جواب جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔

    چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس طارق مسعود، جسٹس اعجاز الاحسن، لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد امیر بھٹی اور بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نعیم اختر شامل ہیں۔

    10 نومبر کو جمع کرائے گئے ابتدائی جواب میں جسٹس مظاہر نقوی نے جانبدارانہ اور متعصب رویے کی شکایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس طارق مسعود اور چیف جسٹس نعیم اختر کو خود کو بینچ سے الگ کر کے معاملے کی سماعت نہیں کرنی چاہیے۔

    20 نومبر کو جسٹس مظاہر نقوی نے اپنے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور جوڈیشل کونسل کی جانب سے جاری کردہ شوکاز نوٹس کو بھی چیلنج کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ کارروائی کا آغاز غیرعدالتی اور کسی قانونی اختیار کے بغیر تھا۔

    اس کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر کو ایک نیا شوکاز نوٹس جاری کر کے پندرہ دن کے اندر جواب داخل اور اپنا دفاع کرنے کی ہدایت کی تھی۔

    چار دسمبر کو جسٹس مظاہر نے ایک بار پھر سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور پہلے سے دائر آئینی پٹیشن کی پیروی کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ نظرثانی شدہ شوکاز نوٹس کو رد کرنے کی کوشش کی تھی۔

    چھ دسمبر کو انہوں نے سپریم کورٹ کے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ، 2023 میں درج مقررہ وقت گزر جانے کے باوجود شوکاز نوٹس کے اجرا کو چیلنج کرنے والی اپنی درخواستوں پر خاموشی اختیار کرنے کی جانب تین سینئر ترین ججوں پر مشتمل سپریم کورٹ کی کمیٹی کی توجہ مبذول کرائی تھی۔

  17. بریکنگ, سائفر گمشدگی کیس کی سماعت آج اڈیالہ جیل میں ہو گی، عمران خان اور شاہ محمود پر فرد جرم عائد کی جائے گی

    سائفر

    ،تصویر کا ذریعہذریعہTWITTER

    پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر گمشدگی کیس کی سماعت آج اڈیالہ جیل میں ہو گی۔ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت آج کی سماعت میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔

    یاد رہے کہ سائفر گمشدگی کیس کی سماعت گذشتہ روز ہونا تھا تاہم اسے آج (بدھ) کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

    واضح رہے کہ سائفر کیس ایک سفارتی دستاویز سے متعلق ہے اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے 27 مارچ 2022 کو ایک بڑے جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے جیب سے ایک خط نکال کر لہراتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بیرونِ ملک سے ان کی حکومت گرانے کی سازش ہو رہی ہے اور انھیں ’لکھ کر دھمکی دی گئی ہے‘۔

    پی ٹی آئی کا طویل عرصے سے مؤقف ہے کہ اس دستاویز میں امریکہ کی جانب سے عمران کو وزیراعظم کے عہدے سے ہٹانے کی دھمکی دی گئی تھی۔

    منگل کے روز سماعت کے دوران ملزمان کی طرف سے اس مقدمے کے اندراج اور فرد جرم کی کارروائی کو روکنے سے متعلق چھے درخواستیں دائر کی گئی تھیں جن کی سماعت کے بعد عدالت نے ان درخواستوں کو مسترد کردیا تھا۔

    منگل کے روز بھی اس مقدمے کی سماعت کے دوران مخصوص صحافیوں کو جیل کے اندر قائم عدالت میں جانے کی اجازت دی گئی تھی اور ان صحافیوں کے مطابق کمرہ عدالت میں سکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کردیا گیا ہے اور صحافیوں کو کمرہ عدالت میں مزید پیچھے کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے ان صحافیوں کے بقول عدالتی کارروائی کو صرف دیکھا جاسکتا ہے اور سننے میں کافی دشواری کا سامنا ہے اور وہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو صرف دور سے دیکھ ہی سکتے ہیں۔

    ان سے بات چیت نہیں ہوسکتی جیل حکام کے مطابق کمرہ عدالت میں جو پارٹیشن کی گئی تھی اس کو شیشے لگا کر مضبوط کردیا گیا ہے تاکہ ایک حصے میں ہونے والی گفتگو دوسری سائیڈ پر بیٹھے ہوئے افراد نہ سن سکیں

    پی ٹی آئی بانی عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پر ابتدائی طور پر اس مقدمے میں 23 اکتوبر کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ دونوں نے جرم قبول نہیں کیا تھا۔ مقدمے کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہو رہی تھی اور چار گواہ پہلے ہی اپنے بیانات قلمبند کروا چکے تھے، پانچویں گواہ پر جرح ہو رہی تھی جب اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے جیل ٹرائل کے حکومتی نوٹیفکیشن کو ’غلط‘ قرار دیتے ہوئے پوری کارروائی کو ختم کر دیا۔

    فیصلے کے نتیجے میں خصوصی عدالت نے نئے مقدمے کی سماعت شروع کی۔ گزشتہ ماہ خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے فیصلہ دیا تھا کہ مقدمے کی کارروائی اڈیالہ جیل میں ہی مگر کھلی عدالت میں جاری رہے گی۔

  18. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    پاکستان کی سیاست، معیشت اور انتخابات کے حوالے سے تازہ ترین خبریں جانیے بی بی سی کے خصوصی لائیو پیج پر۔