نواز شریف العزیزیہ سٹیل ملز کیس میں بھی بری: ’الیکشن لڑنے میں حائل تمام رکاوٹیں دور‘

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل ملز کیس میں بری کر دیا ہے۔ آج سنائے گئے فیصلے کے مطابق نواز شریف کی اس ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیل منظور کر لی گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. خدیجہ شاہ کیس میں آئی جی پنجاب کو تحریری جواب جمع کرانے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ میں خدیجہ شاہ کیس کی سماعت کے دوران ‏عدالت نے آئی جی پنجاب کو تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

    ‏آئی جی پنجاب عدالت میں پیش ‏ہوئے تو جسٹس علی باقر نجفی نے پوچھا ’خدیجہ شاہ کدھر ہیں؟‘ اس پر آئی جی نے بتایا کہ ’‏خدیجہ شاہ کو پولیس بلوچستان لے کر روانہ ہوگئی ہے۔‘ انھوں نے انسداد دہشتگردی عدالت کا تحریری حکم جمع کروایا۔ اس موقع پر ڈی آئی جی آپریشنز اور ڈی آئی جی انوسٹی گیشن بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

    جسٹس علی باقر نجفی نے آئی جی پنجاب کو ہدایت دی کہ اگر خدیجہ شاہ پنجاب کی حدود میں ہیں تو ان کو ہائیکورٹ پیش کیا جائے۔

    جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا کہ ‏’آپ لکھ کر دیں خدیجہ شاہ کو کب اور کتنے بجے کوئٹہ پولیس کے حوالے کیا گیا۔‘

    اس کے بعد ‏عدالت نے آئی جی پنجاب کو تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت دی۔

    اس سے قبل لاہور ہائیکورٹ نے خدیجہ شاہ کو آج دوپہر ڈھائی بجے عدالت پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر خدیجہ شاہ کو پیش نہ کیا گیا تو آئی جی پنجاب عدالت کے روبرو حاضر ہو کر وجوہات بیان کریں۔ پی ٹی آئی کارکن خدیجہ شاہ کو نو مئی کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا۔

  2. ’سنگین غداری کے مقدمے میں نااہلی پانچ سال تو نماز نہ پڑھنے اور جھوٹ بولنے پر تاحیات سزا کیوں؟‘ جسٹس فائز عیسیٰ, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی

    سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کے معاملہ پر عدالتی فیصلے اور الیکشن ایکٹ کی ترمیم میں تضاد پر نوٹس لے لیا ہے۔ سپریم کورٹ نے نوٹس میر بادشاہ قیصرانی کی تاحیات نااہلی کے کیس میں لیا۔

    سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اورتمام صوبائی ایڈوکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔

    سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کی مدت کے تعین کے معاملے کو لارجز بنچ کے سامنے مقرر کرنے کیلئے ججز کمیٹی کو بھجوا دیا گیا ہے اور کمیٹی طے کرے گی لارجر بنچ پانچ رکنی ہوگا یا سات رکنی۔ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے بعد آئینی معاملات کی سماعت کم از کم پانچ رکنی لارجر بینچ کرے گا۔

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس قاضی فائز عیسی کا کہنا تھا کہ موجودہ کیس کو انتخابات میں تاخیر کے آلہ کار کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا۔ عدالت نے عدالتی حکمنامے کی نقل الیکشن کمیشن کو بھی ارسال کرنے کا حکم دیا ہے اور ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ اگر کوئی سیاسی جماعت اس کیس میں فریق بننا چاہے تو بن سکتی ہے۔

    بینچ میں شامل جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’انتخابات کے حوالے سے کوئی غیر یقینی صورتحال نہیں اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو یہ سپریم کورٹ کی توہین ہوگی۔‘ انھوں نے کہا کہ ’موجودہ کیس 2018 کے انتخابات سے متعلق ہے۔‘

    جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ اب نئے انتخابات سر پر ہیں تو یہ قابل سماعت معاملہ کیسے ہے؟ جس پر درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ موجودہ کیس کا اثر آئندہ انتخابات پر بھی ہوگا۔

    بینچ کے سربراہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے سوال کیا کہ میر بادشاہ قیصرانی کو نااہل کیوں کیا گیا؟ جس پر درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کو جعلی ڈگری کی بنیاد پر 2007 میں نااہل کیا گیا اورہائیکورٹ نے 2018 کے انتخابات میں میر بادشاہ کو لڑنے کی اجازت دے دی۔ انھوں نے کہا کہ میر بادشاہ قیصرانی کو آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل کیا گیا تھا۔ بینچ کے سربراہ نے استفسار کیا کہ اگر کسی کی سزا ختم ہو جائے تو تاحیات نااہلی کیسے برقرار رہ سکتی ہے؟

    درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح پر پانامہ کیس میں فیصلہ دے دیا تھا جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی تاحیات نااہلی کے معاملے پر دو آرا ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نیب کیسز میں اگر تاحیات نااہلی کی سخت سزا ہے تو قتل کی صورت میں کتنی نااہلی ہوگی؟ جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ قتل کے جرم میں سیاستدان کی نااہلی پانچ سال کی ہوگی۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ تاحیات نااہلی اور آرٹیکل 62 ون ایف سے متعلق کیا کوئی نیا قانون بھی آچکا ہے؟ جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ حال ہی میں الیکشن ایکٹ میں ترمیم کر کے نااہلی کی زیادہ سے زیادہ مدت پانچ سال کر دی گئی ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ الیکشن ایکٹ میں سیکشن 232 شامل کر کے سپریم کورٹ کا آرٹیکل 62 ون ایف کا فیصلہ غیر موثر ہو چکا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کسی نے چیلنج نہیں کیں اور جب الیکشن ایکٹ میں ترمیم چیلنج نہیں ہوئیں تو دوسرا فریق اس پر انحصار کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ ’الیکشن ایکٹ میں آرٹیکل 232 شامل کرنے سے تو تاحیات نااہلی کا تصور ختم ہو گیا ہے۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’انتخابات سر پر ہیں اور ریٹرننگ افسر، الیکشن ٹریبونل اور عدالتیں اس مخمصے میں رہیں گی کہ الیکشن ایکٹ پر انحصار کریں یا سپریم کورٹ کے فیصلے پر۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’تاحیات نااہلی بارے سپریم کورٹ کا فیصلہ اور الیکشن ایکٹ دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے اور الیکشن ایکٹ میں ترمیم اور سپریم کورٹ کے فیصلے میں سے کسی ایک کو برقرار رکھنا ہوگا۔‘ چیف جسٹس پاکستان نے سوال کیا کہ سنگین غداری جیسے جرم پر نااہلی پانچ سال ہے تو نماز نہ پڑھنے والے یا جھوٹ بولنے والے کی تاحیات نااہلی کیوں؟

  3. بلاول بھٹو نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ریفرنس کو براہ راست نشر کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    ‏چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ریفرنس کو براہ راست نشر کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔

    یاد رہے کہ ذوالفقار بھٹو کے عدالتی قتل سے متعلق صدارتی ریفرنس 12 دسمبر(منگل) کو سماعت کے لیے مقرر ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری نے پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما فاروق ایچ نائیک کے توسط سے سپریم کورٹ میں متفرق درخواست دائر کی ہے۔

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ’ذوالفقار بھٹو کو ایک قتل کی سازش کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی، انھیں پھانسی دے دی گئی لیکن ان کا نظریہ آج بھی زندہ ہے۔‘

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ’ذوالفقار علی بھٹو قائد عوام تھے اور عوام ان کے ریفرنس کو براہ راست دیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ کیس کی سماعت کی کارروائی براہِ راست نشر کرنے کی اجازت دی جائے۔‘

    یاد رہے کہ اس ریفرنس کے درخواست گزار سابق صدرآصف علی زرداری ہیں۔

  4. لاہور ہائی کورٹ : پی ٹی آئی کارکن خدیجہ شاہ کو آج دوپہر ڈھائی بجے پیش کرنے کا حکم

    خدیجہ شاہ

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    پاکستان تحریک انصاف کی کارکن ‏خدیجہ شاہ کی نظر بندی کیس میں ‏پنجاب حکومت نے ان کی نظر بندی کا حکم واپس لے لیا ہے۔

    خدیجہ شاہ کی نظر بندی کا تحریری آرڈر کچھ دیر بعد سرکاری وکیل کی جانب سے عدالت میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ ‏خدیجہ شاہ کے شوہر جہانزیب امین نے ان کی نظر بندی کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔

    دوسری جانب خدیجہ شاہ کو آج صبح لاہور جیل سے کوئٹہ پولیس نے گرفتار کیا اور انھیں کوئٹہ منتقل کرنے کے لیے عدالت سے دو روزہ راہداری ریمانڈ کی استدعا کی۔

    لاہور ہائیکورٹ نے خدیجہ شاہ کو آج دوپہر ڈھائی بجے عدالت پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر خدیجہ شاہ کو پیش نہ کیا گیا تو آئی جی پنجاب عدالت کے روبرو حاضر ہو کر وجوہات بیان کریں۔

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی کارکن خدیجہ شاہ کو نو مئی کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا۔

  5. دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر سی ٹی ڈی پنجاب کے مختلف شہروں میں آپریشن کے دوران نو دہشت گرد گرفتار

    پاکستان میں دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر سی ٹی ڈی(کاونٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ) پنجاب کے مختلف شہروں میں آپریشن کے دوران نو دہشت گرد گرفتار کر لیے گئے ہیں۔

    ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر 70 آئی بی اوز (انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن) کے دوران ٹی ٹی پی کو مالی معاونت کرنے والے دو اہم کارکنوں سمیت نو دہشت گردوں کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔

    ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق یہ کارروائیاں لاہور، فصیل اباد۔، گوجرانوالہ، بہاولپور، بہاولنگر، سیالکوٹ اور حافظ اباد میں کی گئی ہیں۔

    ترجمان کے مطابق دہشت گردوں سے بارودی مواد، ہینڈ گرینڈ، ای ڈی بم ، موبائل فونز اور نقدی برآمد کی گئی ہے۔

    حکام کے مطابق دہشت گرد مختلف شہروں میں حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ حکام کے مطابق رواں ہفتے 314 کومبنگ آپریشنز کے دوران 47 مشتبہ افراد گرفتار کیے ہیں۔

  6. انسانی حقوق کا عالمی دن: کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے مظاہرے اور ریلیاں, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    لا پتہ افراد کی بازیابی کا مظاہرہ

    ،تصویر کا ذریعہZahid Hussain

    انسانی حقوق کے عالمی دن کی مناسبت سے کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اتوار کو مختلف تقاریب کا انعقاد کیا گیا۔

    اس سلسلے میں ایک بڑی ریلی ایران سے متصل بلوچستان کے ضلع کیچ کے ہیڈ کوارٹر تربت میں نکالی گئی- ریلی میں خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد شریک تھی۔

    حق دو تحریک کے زیر اہتمام ریلی کے شرکاء نے لوگوں کی جبری گمشدگی سمیت انسانی حقوق کی پامالی کے واقعات کو روکنے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا-

    ریلی کے مقررین نے گزشتہ ماہ بالاچ بلوچ کے ماورائے عدالت قتل کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اس میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کا مطالبہ کیا۔

    ریلی کے شرکاء سے مولانا ہدایت الرحمان ، حسین واڈیلہ سمیت دیگر مقررین نے بلوچستان میں لوگوں کی مبینہ جبری گمشدگی ، ماورائے عدالت و قانون قتل کے واقعات کی مذمت کی۔

    کوئٹہ میں مظاہرے

    ،تصویر کا ذریعہZahid hussain

    کوئٹہ میں بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم ،وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیر اہتمام حقوق انسانی کے عالمی دن کی مناسبت سے ایک سیمنار کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی-

    سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کے خلاف کوئی الزام ہے تو ان کو عدالتوں میں پیش کیا جائے۔

    کوئٹہ میں مظاہرے

    ،تصویر کا ذریعہZahid Hussain

    دوسری جانب بالاچ بلوچ کے قتل کے واقعے کے خلاف اور اس حوالے سے مطالبات کے حق میں تربت سے شروع ہونے والے لانگ مارچ کے شرکاء خضدار پہنچ گئے۔ یہ لانگ کوئٹہ کی جانب کیا جارہا ہے-

  7. لاہور میں ’افیون‘ بنانے کی سرکاری فیکٹری کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

  8. سپریم کورٹ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس کی سماعت براہ راست نشر کی جائے: فیصل کریم کُنڈی

    ذوالفقار علی بھٹو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان فیصل کریم کُنڈی نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس کا ٹرائل لائیو دکھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    فیصل کریم کنڈی نے اپنے ایک اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ’ پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کو اُس وقت کے ڈکٹیٹر نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت 4 اپریل 1979 کو پھانسی دلوائی تھی۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’آصف علی زرداری جب پاکستان کے صدر تھے تو انھوں نے 4 اپریل 2010 کو صدارتی ریفرنس بھیجا کہ ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہوا ہے اس کا ٹرائل ہونا چاہیے، سالوں کی جدوجہد کے بعد اب سپریم کورٹ نے کیس لگایا ہے اور منگل کو ذوالفقار علی بھٹو کا کیس پاکستان کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سنا جائے گا۔‘

    انھوں نے کہا ’پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی درخواست دی ہے کہ انھیں بھی اس کیس میں فریق بنایا جائے، مزید یہ کہ منگل کو پیپلزپارٹی اپنے وکلا کے ساتھ سپریم کورٹ میں پیش ہوں گے تا کہ دنیا کو بتایا جائے ذوالفقار علی بھٹو کا قتل کیسے ہوا۔‘

    فیصل کریم کُنڈی نے اپنے بیان میں سپریم کورٹ سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس کا ٹرائل لائیو دکھایا جائے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ’اس سے پہلے بھی ایک کیس لائیو دکھایا گیا تھا تو ہمارا مطالبہ ہے ذوالفقار علی بھٹو کے کیس کو بھی لائیو نشر کیا جائے۔‘

    بیان میں فیصل کریم کُنڈی کا کہنا تھا کہ ’پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی سابق وزیرِ اعظم جنھوں نے پاکستان کو آئین دیا پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا، مسلم سربراہی کانفرنس کی، اور ذولفقار علی بھٹو نے پاکستان کی ترقی میں جو کردار ادا کیا وہ دنیا میں کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔‘

  9. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    پاکستان میں اتوار کے روز کی اہم خبروں کا خلاصہ آپ کے لیے پیش خدمت ہے۔

    • پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آرمی چیف جنرل عاصم منیر دورہ امریکہ پر روانہ ہو گئے ہیں جہاں وہ اعلیٰ سیاسی اور عسکری حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔‘
    • صوبہ بلوچستان کے ضلع خضدار میں بم دھماکے کے نتیجے میں ایس ایچ او سی ٹی ڈی ہلاک ہو گئے ہیں۔ دھماکے کی نوعیت کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
    • الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا الیکشن شیڈول جعلی ہے۔ الیکشن کمیشن نے الیکشن کا کوئی بھی شیڈول ابھی تک جاری نہیں کیا ہے۔ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا پر وقتاً فوقتاً الیکشن کے حوالے سے جھوٹے بیانات جاری ہو رہے ہیں۔‘
  10. عمران ریاض کا بازیابی کے بعد پہلا انٹرویو: ’افسوس، اگر میں نے کبھی سوچا کہ کسی کا غائب ہونا ریاست کے مفاد میں ہو سکتا ہے‘

  11. بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید

    بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ یہاں آپ کے لیے پاکستان کے حوالے سے تمام تازہ ترین اپ ڈیٹس شامل کی جائیں گی۔

    اگر آپ گذشتہ روز کی خبروں کو پڑھنا چاہیں تو یہاں کلک کریں

  12. 49 برس قبل ہونے والے اُس قتل کی رُوداد جو ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی وجہ بنا