نواز شریف العزیزیہ سٹیل ملز کیس میں بھی بری: ’الیکشن لڑنے میں حائل تمام رکاوٹیں دور‘

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل ملز کیس میں بری کر دیا ہے۔ آج سنائے گئے فیصلے کے مطابق نواز شریف کی اس ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیل منظور کر لی گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کا آغاز

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی طرف سے العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کا آغاز۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاورق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب پر مشتمل دو رکنی بینچ اس اپیل کی سماعت کر رہا ہے۔

    سماعت کے آغاز پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا نواز شریف کے ان بچوں کے بارے میں کوئی ثبوت ہے جو نواز شریف کے زیر کفالت تھے جس پر نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے عدالت کو بتایا کہ نیب کی ٹیم اس معاملے میں ایک بھی ثبوت سامنے نہیں لا سکی۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آپ کے دلائل تو مکمل ہو گئے ہیں، امجد پرویز کا کہنا تھا کہ میں صرف ایک نکتے زیر کفالت کے معاملے پر بات کرنا چاہتا ہوں، کیا نیب نے نواز شریف کے زیر کفالت سے متعلق کچھ ثابت کیا ہے؟

    اس پر نواز شریف کے وکیل امجد پرویز کا کہنا تھا کہ ’استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء نے اعتراف کیا تھا کہ زیر کفالت سے متعلق کوئی شواہد موجود نہیں ہیں۔

    سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی طرف سے العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت جاری ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ سماعت کے دوران میاں نواز شریف کے وکیل امجد پرویز کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کا فیصلہ محض سورس دستاویزات پر پوا تھا اور جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا نے تسلیم کیا تھا کہ اس مقدمے میں جو دستاویزات لگائی گئیں وہ سورس ڈکومنٹس ہیں تاہم اس کی تصدیق کسی آزاد ذرائع نے عدالت میں آکر نہیں کی۔

  2. یہ ریفرنس عدلیہ کے لیے امتحان اور خون کے دھبے صاف کرنے کا ایک موقع بھی ہے: بلاول بھٹو

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس پر سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ریفرنس عدلیہ کے لیے امتحان اور اس ادارے کے ہاتھوں پر خون کے دھبے صاف کرنے کا ایک موقع بھی ہے۔‘

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ’ہم چیف جسٹس اور تمام ججز کے شکر گزار ہیں کہ اس ریفرنس کو سنا جا رہا ہے۔ ہم شکر گزار ہیں کہ ہمیں اس مقدمے میں سننے کا موقع دیا جا رہا ہے۔‘

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ججز انھیں ’قائد عوام، شہید بینیظیر بھٹو، شہید میر مرتضیٰ بھٹو اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شہید کارکنان کو تو واپس نہیں دے سکتے مگر یہ فیصلہ تو دیں کہ بھٹو مظلوم تھے۔‘

    ان کے مطابق ایسا فیصلہ ہونا چاہیے کہ ہمیشہ کے لیے وہ دروازہ بند کیا جائے تا کہ آئندہ جا کر کوئی عدلیہ اس طرح کا کام نہ کر سکے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ اس کیس کو نظیر کے طور پر پیش نہیں کیا جاتا۔ تاہم ان کے مطابق جس طرح سے یہ فیصلہ کروایا گیا تھا وہ نظیر چلی آ رہی ہے۔ انھوں نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے درخواست کی کہ وہ اس نظیر کو بھی ختم کریں تاکہ آئندہ چل کر ایسا فیصلہ ججز نہ کریں۔

    بلاول بھٹو نے کہا سابق امریکی وزیرخارجہ ہنری کسنجر نے ذوالفقار علی بھٹو کو یہ دھمکی دی تھی کہ ہم مثال بنا دیں گے۔

    چیف جسٹس نے خود کہا تھا کہ 8 فروری انتخابات پتھرپر لکھی ہوئی تاریخ ہے۔ انھوں نے کہا کہ آصف زرداری نے اپنے انٹرویو میں وقت پر انتخابات سے متعلق ہی بات کی ہے۔ تاہم جب الیکشن سے متعلق زور دیا گیا تو پھر انھوں نے یہ جواب دیا تھا۔

    ان کے مطابق ابھی تک اس تاریخ میں کوئی تبدیلی نظر ہوتی نظر نہیں آ رہی ہے اور اگر ایسا لگا تو وہ پہلے شخص ہوں گے جو اس کے خلاف کھڑے ہوں گے۔

  3. بھٹو پھانسی ریفرنس پر سماعت جنوری تک ملتوی، ’آئندہ روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہو گی‘

    سپریم کورٹ نے ذوالفقار علی بھٹو پھانسی پر صدارتی ریفرنس پر سماعت جنوری کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ روزانہ کی بنیاد پر اس ریفرنس پر سماعت ہو گی۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مختصر تحریری حکمانہ لکھواتے ہوئے یہ کہا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے ورثا میں سے کوئی بھی فریق بننے کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔

    عدالت نے اس مقدمے میں مزید معاونین بھی مقرر کیے ہیں جنھیں ان کی رضامندی حاصل کرنے سے متعلق نوٹس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس منظور ملک کو بھی عدالت نے اس ریفرنس میں معاون بننے کی درخواست کی ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ یہ اس وقت سپریم کورٹ کے سامنے سب سے پرانا صدارتی ریفرنس ہے، جس پر فیصلہ ہونا ضروری ہے۔

    چیف جسٹس کے مطابق یہ صدارتی ریفرنس آخری بار 2012 میں سنا گیا اور پھر بدقسمتی سے یہ ریفرنس اس کے بعد سنا نہیں گیا۔

    پاکستان پیپلز پارٹی نے معاونین میں سے دو وکیل فیصل صدیقی اور سلمان صفدر کے ناموں پر اعتراضات اٹھائے ہیں جبکہ بھٹو پھانسی مقدمے میں مدعی احمد رضا قصوری نے بطور عدالتی معاون رضا ربانی کی نامزدگی پر اعتراض کیا ہے۔

    خواجہ حارث، خالد جاوید خان، صلاح الدین، زاہد ابراہیم، آکسفورڈ یونیورسٹی کے یاسر قریشی کو بھی عدالتی معاون بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    سپریم کورٹ نے بھٹو کی پھانسی سے متعلق سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ اور جسٹس دراب پٹیل کے انٹرویوز کے مکمل سکرپٹ بھی طلب کر لیے ہیں۔

  4. بھٹو ریفرنس عام انتخابات کے بعد سنا جائے، کچھ لوگ اسے انتخابی مہم میں استعمال کر سکتے ہیں: احمد رضا قصوری

    پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم کی پھانسی سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت کے دوران قتل کے مقدمے میں مدعی احمد رضا قصوری نے تجویز دی کہ بھٹو ریفرنس پر سماعت عام انتخابات کے بعد کی جائے کیونکہ یہ لوگ اسے انتخابی مہم میں استعمال کر سکتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے ہی کافی دیر ہو چکی ہے اور اب ہم اس مقدمے کو اتنا نہیں لٹکا سکتے۔

    دوران سماعت چیف جسٹس نے یہ بھی استفسار کیا کہ ’یہ کیس اتنا عرصہ سماعت کے لیے مقرر کیوں نہ کیا گیا؟‘اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اس سوال کا جواب آپ ہی دے سکتے ہیں۔

  5. ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف قتل کیس میں مدعی احمد رضا قصوری بھی کارروائی میں شریک

    Qasuri

    سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف قتل کیس میں اس مقدمے کے مدعی احمد رضا قصوری بھی عدالتی کارروائی میں شریک ہیں۔

    فاروق ایچ نائیک کے بعد وہ دوران سماعت احمد رضا قصوری روسٹرم پر بھی آئے اور انھوں نے نسیم حسن شاہ کے ایک اخبار میں انٹرویو کا حوالہ دے دیا۔

    خیال رہے کہ پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو احمد رضا قصوی کے والد نواب محمد احمد خان قصوری کے قتل کے مقدمے میں نامزد کیا گیا تھا اور پھر اسی مقدمے میں سپریم کورٹ نے انھیں پھانسی کی سزا سنائی تھی۔

    جب سنہ 2011 میں آصف علی زرداری نے بطور صدر یہ ریفرنس دائر کیا تھا تو اس وقت سپریم کورٹ میں بابر اعوان بطور وکیل پیش ہوتے تھے۔ مگر پھر ان کا لائسنس عدالت نے واپس لے لیا اور وہ اس مقدمے میں پیش نہ ہو سکے۔ آج دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا بابر اعوان کمرہ عدالت میں موجود ہیں اور کیا وہ اب بھی اس مقدمے میں وکیل ہیں۔

    واضح رہے کہ یوسف رضا گیلانی کے توہین عدالت کے مقدمے میں بطور گواہ سپریم کورٹ میں پیش ہونے سے انکار کے بعد بابر اعوان پارٹی میں بھی غیرفعال ہو گئے تھے۔ بعد میں انھوں پیپلز پارٹی کو خیرآباد کہہ کر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی اور یوں اب وہ اس مقدمے کا بھی حصہ نہیں رہے۔

  6. سپریم کورٹ کی جانب سے پہلے بھٹو ریفرنس مقرر نہ کیے جانے پر افسوس ہے: چیف جسٹس

    قاضی فائز عیسیٰ

    ،تصویر کا ذریعہSUPREME COURT OF PAKISTAN

    سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹو پھانسی پر صدارتی ریفرنس پر سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کی جانب سے پہلے ریفرنس مقرر نہ کیے جانے پر افسوس کا اظہار کرتا ہوں۔‘

    اٹارنی جنرل نے عدالت کے سامنے صدارتی ریفرنس پڑھا اور ریفرنس میں اٹھائے گئے سوالات عدالت کے سامنے رکھے۔

    چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ’کون سے صدر نے یہ ریفرنس بھیجا تھا۔‘ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’یہ ریفرنس صدر زرداری نے بھیجا تھا۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’اس کے بعد کتنے صدر آئے۔‘ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’ان کے بعد دو صدور آ چکے ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ کسی صدر نے ’یہ ریفرنس واپس نہیں لیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کی جانب سے پہلے ریفرنس مقرر نہ کئے جانے پر افسوس کا اظہار کرتا ہوں۔‘

    وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ’سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں تسلیم کیا کہ ان پر دباؤ تھا۔‘

    ان کے مطابق ’دوسرے انٹرویو میں جسٹس نسیم شاہ نے کہا مارشل لا والوں کی بات ماننی پڑتی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’سنہ 2018 میں بھی ریفرنس پر سماعت کے لیے درخواست دائر کی۔‘

    انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ’یہ انٹرویو جیو پر پروگرام جوابدہ میں افتخار احمد کو دیا گیا تھا۔

  7. بریکنگ, سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹو پھانسی پر صدارتی ریفرنس پر سماعت شروع

    SC

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    سپریم کورٹ نے تقریباً 12 برس بعد سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی پر صدارتی ریفرنس پر سماعت کر رہا ہے۔ کمرہ عدالت نمبر ایک میں سابق صدر آصف زرداری اور اور بلاول بھٹو زرداری بھی موجود ہیں۔ پیپلز پارٹی کے دیگر سینئیر رہنما بھی عدالت میں موجود ہیں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں نو رکنی لارجر بنچ سماعت کر رہا ہے۔ لارجر بینچ میں جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحیٰی آفریدی، جسٹس امین الدین شامل ہیں۔

    جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی بھی بنچ کا حصہ ہیں۔

  8. ’سپریم کورٹ کے ہاتھ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے خون سے رنگے ہوئے ہیں‘: آصفہ بھٹو زرداری

    سابق وزیراعظم بینیظر بھٹو اور سابق صدر آصف زرداری کی بیٹی آصفہ بھٹو زرداری نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے ہاتھ شہید ذوالفقارعلی بھٹو کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ اب سپریم کورٹ ماضی میں ایک فوجی آمر کے دباؤ میں کیے جانے والے فیصلے کو ختم کر سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں امید رکھنی چاہیے اور دعا کرنی چاہیے کہ معزز ججز صاحبان اس شرمناک فیصلے کو آج ختم کر دیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ایسا کرنا نہ صرف ان کے خاندان کے لیے بلکہ پاکستان کے لیے بھی ضروری ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  9. ذوالفقار علی بھٹو پھانسی پر صدارتی ریفرنس پر سماعت آج: کارروائی سپریم کورٹ سے براہ راست نشر کی جائے گی

    سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹو پھانسی پر صدارتی ریفرنس پر تقریباً 12 برس کے بعد سماعت آج ہو گی اور اس کیس کی کارروائی سپریم کورٹ کی ویب سائٹس سے براہ راست نشر کی جائے گی۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے اس ریفرنس کی عدالتی کارروائی کی لائیو نشریات کا مطالبہ کیا تھا۔

    خیال رہے کہ پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے سنہ 2011 میں سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی پر ایک صدارتی ریفرنس دائر کیا تھا جس میں عدالت سے پانچ اہم سوالات کے جوابات طلب کیے گئے تھے۔

  10. پاکستان تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت آج الیکشن کمیشن میں ہوگی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    GOHAR ALI KHAN

    ،تصویر کا ذریعہGOHAR ALI KHAN

    پاکستان تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت آج الیکشن کمیشن میں ہوگی۔

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ ان درخواستوں کی سماعت کرے گا۔

    گذشتہ سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے پانچ رکنی بینچ نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے نومنتخب چئیرمین برسٹر گوہر علی خان اور پی ٹی آئی کے انٹرا پاراتی انتخابات کے لیے چیف الیکشن کمشنر نیاز اللہ نیازی کو نوٹس جاری کر رکھے ہیں۔

    الیکشن کمیشن میں دائر 14 سے زائد درخواستوں میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن کی ہدایت پر پاکستان تحریک انصاف نے جو انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے ہیں وہ قواعد سے ہٹ کر ہوئے ہیں اور ان انتخابات کی کوئی قانونی حثیت نہیں ہے۔

    درخواست گزاروں میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی رکن اکبر ایس بابر بھی شامل ہیں۔ واضح رہے کہ اکبر ایس بابر تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس میں بھی درخواست گزار تھے اور ان کی درخواست پر ہی کمیشن نے تحریک انصاف کے خلاف فیصلہ سنایا تھا۔

    درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ پی ٹی آئی میں انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے ہی نہیں ہیں اور یہ محض ایک دکھاوا ہے جو الیکشن کمیشن کے حکم کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

    ان درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو انٹرا پارٹی انتخابات کروانے کا ایک اور موقع دیا جائے اور اس مرتبہ ایکشن کمیشن واضح حکم دے کہ یہ انتخابات آزاد مبصرین کی نگرانی میں منعقد کروائے جائے اور یہ طریقہ کار تمام سیاسی جماعتوں پر لاگو کیا جائے۔

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے 23 نومبر کو پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو حکم دیا تھا کہ وہ اگلے 20 روز میں انٹرا پارٹی انتخابات کروائیں اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں پاکستان تحریک انصاف بلے کے انتخابی نشان کے لیے اہل نہیں رہے گی۔

    پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے انٹرا پارٹی الیکشن کرواکر بیرسٹر گوہر علی خان کو پارٹی کا سربراہ منتخب کیا تھا۔ بیرسٹر گوہر کے خلاف کسی بھی امیدوار نے اپنے کاغذات جمع نہیں کروائے تھے۔

  11. بھٹو ریفرنس میں سپریم کورٹ نے کون سے پانچ سوالات کا جواب دینا ہے؟

    پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس میں اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے سپریم کورٹ کی پانچ سوالات پر رائے طلب کی تھی۔

    صدارتی ریفرنس کا پہلا سوال: ذولفقار بھٹو کے قتل کا ٹرائل آئین میں درج بنیادی انسانی حقوق مطابق تھا؟

    دوسرا سوال: کیا ذولفقار بھٹو کو پھانسی کی سزا دینے کا سپریم کورٹ کا فیصلہ عدالتی نظیر کے طور پر سپریم کورٹ اور تمام ہائیکورٹس پر آرٹیکل 189 کے تحت لاگو ہو گا؟اگر نہیں تو اس فیصلے کے نتائج کیا ہوں گے؟

    تیسرا سوال : کیا ذولفقار علی بھٹو کو سزائے موت سنانا منصفانہ فیصلہ تھا؟ کیا ذولفقار علی بھٹو کو سزائے موت سنانے کا فیصلہ جانبدار نہیں تھا؟

    چوتھا سوال: کیا ذولفقار علی بھٹو کو سنائی جانے والی سزائے موت قرآنی احکامات کی روشنی میں درست ہے؟

    پانچواں سوال: کیا ذولفقار علی بھٹو کے خلاف دیے گئے ثبوت اور گواہان کے بیانات ان کو سزا سنانے کے لیے کافی تھے؟سابق صدر آصف علی زرداری نے نجی ٹی وی چینل آج پر عاصمہ شیرازی کو دیے گئے انٹرویو اس ریفرنس سے متعلق بتایا کہ ’میں چیف جسٹس (قاضی فائز عیسیٰ) کو مبارکباد دیتا ہوں، ہم آپ کی جمہوری سوچ کی تعریف کرتے ہیں اور ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔‘

  12. سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی پر سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس پر سماعت آج ہو گی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    Bhutto

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سزائے موت کیس پر صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کا نو رکنی لارجر بینچ آج دن ساڑھے گیارہ بجے سماعت کرے گا۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری عدالت میں پیش ہوں گے۔

    اس ریفرنس پر سماعت کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں نو رکنی بینچ تشکیل دیا گیا ہے۔

    سابق وزیر اعظم کے مبینہ عدالتی قتلکا صدارتی ریفرنس گذشتہ 12 سال سے سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔

    سابق صدر آصف علی زرداری نے اپریل 2011 میں صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا۔

    صدارتی ریفرنس پر پہلی سماعت دو جنوری 2012 اور آخری سماعت 12 نومبر 2012 کو ہوئی تھی۔

    صدارتی ریفرنس پر پہلی پانچ سماعتیں سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 11 رکنی لارجر بینچ نے کی تھیں۔

    صدارتی ریفرنس پر آخری سماعت 12 نومبر 2012 کو 9 رکنی لارجر بینچ نے کی تھی۔صدارتی ریفرنس وکیل تبدیلی کی بنیاد پر ملتوی کیا گیا تھا۔

    پاکستان پیپلز پارٹیکے سابق رہنما بابر اعوان کے وکالت کے لائسنس کی منسوخی کی وجہ سے عدالت نے وکیل تبدیل کرنے کا حکم دیا تھا۔

    اس صدارتی ریفرنس پر آخری سماعت کے بعد پاکستان کے آٹھ چیف جسٹس صاحبان اپنی مدت ملازمت پوری کرکے ریٹائر ہو چکے ہیں لیکن ان میں سے کسی چیف جسٹس نے اس ریفرنس کو سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا۔

    چیئرمین پاکستانپیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے متعدد مرتبہ عوامی جلسوں اور پریس کانفرنسز میں اس کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا کی تھی۔

    اس کے علاوہ انہوں نے اس صدارتی ریفرنس پر عدالتی سماعت براہ راست دکھانے کی بھی استدعا کی اور اس ضمن میں پیپلز پاراتی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے سپریم کورٹ میں درخواست بھی دائر کر رکھی ہے۔

    واضح رہے کہ 5 اکتوبر 2023 کو پریس ایسوسی ایشن کے رپورٹرز سے ملاقات میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریفرنس کو جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

    ’میں نے آج اپنے والد کا بدلہ لے لیا ہے‘

    Zia

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق صدر آصف علی زرداری نے نجی ٹی وی چینل آج پر عاصمہ شیرازی کو دیے گئے انٹرویو اس ریفرنس سے متعلق بتایا کہ ’میں چیف جسٹس (قاضی فائز عیسیٰ) کو مبارکباد دیتا ہوں، ہم آپ کی جمہوری سوچ کی تعریف کرتے ہیں اور ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔‘

    سابق صدر کے مطابق یہ ریفرنس پہلے، دوسرے اور تیسرے چیف جسٹس نے نہیں سنا اور اب چوتھے چیف جسٹس نے اس ریفرنس پر سماعت کا فیصلہ کیا ہے۔

    ریفرنس دائر ہونے کے 12 برس کے عرصے سے متعلق سوال پر ان کا جواب تھا کہ ’جمہوریت بڑا کھٹن اور صبر آزما کام ہے۔‘

    آصف زاردری نے کہا کہ ’بے نظیر بھٹو نے پہلی بار حلف لینے کے بعد اترتے ہوئے مجھے کہا تھا کہ میں نے اپنے والد صاحب کا بدلہ لے لیا ہے، جمہوریت کے ذریعے اور جمہوریت بہترین انتقام ہے۔‘

    ان کے مطابق ’یہ ریفرنس (سابق صدر) فاروق لغاری بھی دائر کر سکتے تھے مگر انھیں یہ توفیق نہیں ہوئی اور پھر میں نے یہ ریفرنس دائر کیا۔‘

    بھٹو کو پھانسی دینے والے کرداروں سے متعلق سوال پر آصف زرداری نے کہا کہ (سابق فوجی صدر) ضیاالحق سمیت سب اس دنیا میں نہیں رہے۔ علامتی سزا سے متعلق پوچھے گئے سوال پر انھوں نے جواب دیا کہ ’میں ججز کی قلم اور زبان نہیں بن سکتا، وہ جو فیصلہ کریں قبول ہو گا۔‘

  13. عدالت کٹہرے میں: عاصمہ شیرازی کا کالم

  14. عمران خان کے خلاف سائفر مقدمے کی سماعت آج اڈیالہ جیل میں ہو گی, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہTWITTER

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر مقدمے کی سماعت آج اڈیالہ جیل میں ہوگی۔

    اس مقدمے کی سماعت کے لیے قائم کی گئی خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین اس مقدمے کی سماعت کرنے اڈیالہ جیل جائیں گے۔

    آج کی عدالتی کارروائی میں ان دونوں ملزمان پر فرد جرم عائد کیے جانے کا امکان ہے کیونکہ گذشتہ سماعت کے دوران عدالت نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو اس مقدمے کی تفتیش کی نقول فراہم کی تھیں اور بارہ دسمبر کو ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔

    آج سماعت کے دوران پراسیکیوشن کی طرف سے گواہان کی نئی فہرست عدالت میں پیش کیے جانے کا امکان ہے اور اس مقدمے کی پراسیکیوشن ٹیم کے مطابق ان گواہان میں سابق سیکریٹری خارجہ سہیل محمود کے علاوہ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر اسد مجید بھی شامل ہیں۔

    پراسیکیوشن کے مطابق اس مقدمے میں زیادہ تر گواہان کا تعلق وزارت خارجہ سے ہے۔ گذشتہ سماعت کے دوران اس مقدمے کے مرکزی ملزم عمران خان نے عدالت کو بتایا تھا کہ وہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور پاکستان میں امریکی سفارت خانے کے نمائندے کو اس مقدمے میں بطور گواہ طلب کرنا چاہیں گے۔

    عمران خان کی وکلا ٹیم کا کہنا ہے کہ وہ اس ضمن میں عمران خان سے مشاورت کے بعد متعلقہ عدالت میں درخواست دائر کریں گے۔

    واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی سائفر مقدمے میں گرفتاری اس وقت ڈالی گئی جب وہ توشہ خانہ کے مقدمے میں اٹک جیل میں قید تھے جبکہ دوسرے ملزم شاہ محمود قریشی کو کچھ روز کے بعد گرفتار کیا گیا۔

    خصوصی عدالت نے 23 اکتوبر کو ملزمان پر اڈیالہ جیل میں ہی سماعت کے دوران فرد جرم عائد کی تھی تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس عدالتی کارروائی کے خلاف سابق وزیر اعظم عمران خان کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے اس مقدمے میں ہونے والی تمام کارروائی کو کالعدم قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس مقدمے کی عدالتی کارروائی 29 اگست کے سٹیٹس سے دوبارہ شروع کی جائے۔

    خصوصی عدالت نے اس مقدمے کی عدالتی کارروائی اڈیالہ جیل میں کرنے کا حکم دیا تھا اور اپنے حکم میں اس عدالتی کارروائی کو ’اوپن ٹرائل‘ قرار دیا تھا یعنی جو اس عدالتی کارروائی کو دیکھنا چاہے تو اسے یہ عدالتی کارروائی دیکھنے کی آزادی ہوگی۔

    اس مقدمے کی اب تک دو سماعتیں اڈیالہ جیل میں ہوچکی ہیں جن میں چند ’مخصوص صحافیوں‘ کو اندر بلایا گیا جبکہ ایسے افراد کو ’پبلک‘ قرار دے کر کمرہ عدالت میں بٹھایا گیا جنھیں جیل کے گیٹ کے باہر موجود ملکی اور بین الاقوامی صحافیوں نے گیٹ کے اندر جاتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔

    اس مقدمے کی سماعت کرنے والے جج کا کہنا ہے کہ وہ ہائی کورٹ کے اس حکم کے پابند ہیں، جس میں عدالت عالیہ کا کہنا ہے کہ ایک ماہ میں اس مقدمے کا فیصلہ کریں۔

  15. بالاچ بلوچ کی ہلاکت: بلوچستان ہائیکورٹ کا سی ٹی ڈی کے چار اہلکاروں کی معطلی کا حکم

    WAHID BALOCH

    ،تصویر کا ذریعہWAHID BALOCH

    بلوچستان ہائیکورٹ نے تربت میں بالاچ بلوچ کے مبینہ حراستی قتل سے متعلق ایک درخواست کو نمٹاتے ہوئے سی ٹی ڈی مکران کے چار اہلکاروں کو معطل کرنے کا حکم دیا۔

    ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس نذیر احمد لانگو پر مشتمل بینچ نے اس سلسلے میں درخواست پر محفوظ فیصلہ سنا دیا۔

    یہ درخواست حکومت کی جانب سے سیشن کورٹ تربت کی جانب سے سی ٹی ڈی کے اہلکاروں پر مقدمے کے اندراج کے حکم کے خلاف دائر کی گئی تھی۔

    ہائیکورٹ کے فاضل بینچ نے کہا کہ فیصلہ سُنائے جانے سے پہلے عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ سیشن کورٹ کے حکم کے مطابق سی ٹی ڈی کے چار اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ سٹی پولیس سٹیشن تربت کے انسپیکٹر نور بخش بلوچ کو انویسٹیگیشن آفیسر مقرر کیا گیا ہے۔

    ہائیکورٹ نے کہا کہ بالاچ بلوچ کی گرفتاری، ہلاکت سے متعلق سی ٹی ڈی اور ان کے والد کی مدعیت میں سی ٹی ڈی کے اہلکاروں کے خلاف درج تینوں ایف آئی آر کرائمز برانچ پولیس کے حوالے کی جائیں۔

    عدالت نے ڈی آئی جی کرائمز برانچ پولیس کو حکم دیا کہ وہ قانون کے مطابق ان ایف آئی آرز کی تحقیقات کے لیے سینیئر آفیسروں کی ٹیم تشکیل دیں۔

    ہائیکورٹ نے حکومت کی جانب سے درخواست کو نمٹاتے ہوئے فیصلے کی نقول آئی جی پولیس بلوچستان اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ کو اس ہدایت کے ساتھ بھیجنے کا حکم دیا کہ منصافانہ تحقیقات کے لیے ریجنل آفیسر سی ٹی ڈی مکران عادل عامر، آئی او سی ٹی ڈی تربت عبداللہ، ایس ایچ او سی ٹی ڈی تربت عبدالاحد اور سی ٹی ڈی کے لاک اپ انچارج کو فوری طور پر معطل کیا جائے۔

  16. بریکنگ, اگر انتخابات آٹھ، دس روز آگے جاتے ہیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا، فاٹا میں موسم کی خرابی اور جنگ وجہ بن سکتے ہیں: آصف زرداری

    Zardari

    ،تصویر کا ذریعہAAJ TV/Screengrab

    پاکستان کے سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا کہ الیکشن میں کچھ تاخیر ہو سکتی ہے لیکن انتخابات آج ہوں، کل ہوں یا پرسوں الیکشن ضرور ہوں گے۔

    انھوں نے یہ بات نجی ٹی وی چینل آج نیوز کے پروگرام ’فیصلہ آپ کا‘ میں میزبان عاصمہ شیرازی سے بات کرتے ہوئے کہی ہے۔

    جب ان سے میزبان عاصمہ شیرازی نے پوچھا کہ آٹھ فروری کی تاریخ تو آ چکی ہے تو آپ کے خیال میں کیا آگے پیچھے ہو سکتی ہے تاریخ؟

    اس پر آصف زرادری کا کہنا تھا کہ ’ہر چیز الیکشن کمیشن کے اختیار میں ہے، میرے اختیار میں نہیں ہے آپ کے اختیار میں نہیں ہے اور وہ آئین کے مطابق کر سکتا ہے اگر کرنا چاہے۔

    ’اگر الیکشن آگے جاتے بھی ہیں آٹھ دس دن تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’الیکشن ہونا تو ہے ناں، آٹھ نہ ہو 18 ہو جائے، یا ایک دن پہلے ہو جائے ہونا تو ہے ناں۔ الیکشن تھوڑی دیر سے ہوں یا پہلے ہوں۔ الیکشن کے بارے میں باتیں آ رہی ہیں، آج ہوں، کل ہوں پرسوں ہوں مگر الیکشن ضرور ہونا ہے۔‘

    انھوں نے اس بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’اس میں موسم بھی وجہ ہو سکتی ہے، پہلے فاٹا میں انتخابات نہیں ہوتے تھے، اب اس علاقے میں موسم بھی خراب ہو گا اور جنگ بھی ہے۔‘

    خیال رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے حتمی حلقہ بندیاں جاری کر دی گئی ہیں جبکہ الیکشن کی تاریخ کا اعلان صدر عارف علوی اور الیکشن کمیشن کی مشاورت کے بعد سپریم کورٹ کی نگرانی میں کیا گیا تھا اور آٹھ فروری کی تاریخ طے پائی تھی۔

  17. ملک میں موجودہ مالی سال کے پہلے پانچ مہینوں میں گاڑیوں کی فروخت میں پچاس فیصد سے زائد کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان

    پاکستان میں موجودہ مالی سال کے پہلے پانچ مہینوں میں گاڑیوں کی فروخت میں 53 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    پاکستان آٹو مینو فیکچررز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق زیرِ جائزہ مہینوں میں ملک میں ساڑھے 25 ہزار گاڑیوں کی فروخت ہوئیں جب کہ گزشتہ مالی سال کے ان مہینوں میں فروخت ہونے والی گاڑیوں کی تعداد 55 ہزار تھی۔

    موجودہ مالی سال کے نومبر کے مہینے میں گاڑیوں کی فروخت گزشتہ سال نومبر کے مہینے کے مقابلے میں 68 فیصد کم رہی جب کہ اکتوبر 2023 کے مقابلے میں نومبر کے مہینے میں گاڑیوں کی فروخت میں ایک فیصد کا اضافہ ہوا۔

    اعداد و شمار کے مطابق موجودہ سال کے پہلے پانچ مہینوں میں 1300 سی سی اور اس کے اوپر کی گاڑیوں کی فروخت میں 59 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ 1000 سی سی انجن کی طاقت رکھنے والی گاڑیوں کی فروخت میں 57 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ 1000 سی سی کم کی گاڑیوں کی فروخت میں 46 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    ان مہینوں کے دوران ملک میں گاڑیاں بنانے والی تمام کمپنیوں کی فروخت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

  18. ’ملٹری کورٹس کیس کا بینچ کمیٹی میں طے نہیں ہوا‘: جسٹس اعجاز الاحسن کا بینچز کی تشکیل کے حوالے سے اعتراض

    سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن نے بینچوں کی تشکیل پر سوالات اٹھائے ہیں۔

    بینچوں کی تشکیل کے لیے قائم کمیٹی کے سیکریٹری کے نام خط، جس کی رجسٹرار آفس نے تصدیق کی ہے، میں جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ طے پایا تھا کہ سینیارٹی کے لحاظ سے ججز بینچ میں شامل ہوں گے تاہم خصوصی بینچز کی تشکیل کمیٹی کے ذریعے نہیں ہوئی۔

    انھوں نے کہا کہ ’میں نے اجلاس میں واضح طور پر کہا تھا کہ پِک اینڈ چوز کے تاثر کو زائل کرنے کے لیے سپریم کورٹ کے سینیئر ججز پر مشتمل بینچ تشکیل دیا جائے۔‘

    جسٹس اعجاز نے لکھا ہے کہ ’ملٹری کورٹس اور مظاہر نقوی کیس کے لیے بینچ کمیٹی میں تشکیل نہیں ہوئے۔ کمیٹی کی چوتھی اور پانچویں میٹنگ کے منٹس مجھے نہیں بھیجے گئے۔۔۔ میرے دستخط کے بغیرمیٹنگ منٹس ویب سائٹ پر جاری کر دیے گئے۔‘‘

    ان کے مطابق ’چیف جسٹس نے سینیئر ججز پر مشتمل بینچ بنانے سے اتفاق کیا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا تھا ہو ججز سے پوچھیں گے کسی کو اعتراض تو نہیں۔ طے پایا تھا ایک سینیئر جج کے انکار پر ترتیب میں دوسرا سینیئر جج بینچ کا حصہ ہو گا۔‘

    تاہم وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے تمام جج صاحبان کا احترام ہے۔ ریکارڈ کی درستگی کے لیے خط لکھ رہا ہوں۔‘

    ’جمعہ کا پورا دن میٹنگ منٹس کا انتظار کیا، سیکریٹری کمیٹی کو تین بار فون کال بھی کی۔ آخری کال شام ساڑھے چھ بجے کی۔ آخری کال پر پتا چلا سیکریٹری چھٹی کر کے جا چکے ہیں۔‘

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فُل کورٹ نے بینچوں کی تشکیل کے لیے سینیئر ججز پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی تھی۔

  19. بلوچستان ہائیکورٹ کی جانب سے سٹیشن کمانڈر کوئٹہ کینٹ کو نوٹس جاری, محمد کاظم، نامہ نگار بی بی سی، کوئٹہ

    بلوچستان ہائیکورٹ نے عدالت کے بیلف کو کوئٹہ کینٹونمنٹ بورڈ کے علاقے میں داخلے کی اجازت نہ دینے کا نوٹس لیتے ہوئے سٹیشن کمانڈر کوئٹہ کینٹ کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔

    ہائیکورٹ کے جسٹس کامران ملاخیل اور جسٹس شوکت رخشانی پر مشتمل بینچ نے یہ حکم وفاقی سیکریٹری منسٹری آف ہائوسنگ اینڈ ورکس کے خلاف ایک درخواست کی سماعت کے دوران دیا۔

    درخواست کی دوبارہ سماعت کے دوران بیلف نے ہائیکورٹ کے فاضل بینچ کو بتایا کہ کینٹونمنٹ بورڈ کا انٹری پاس نہ ہونے کے باعث کینٹ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔

    درخواست کی دوبارہ سماعت کے دوران بیلف یا نوٹس لے کر جانے والے عدالتی اہلکار نے ہائیکورٹ کے فاضل بینچ کو بتایا کہ وہ نوٹسز اس لیے تعمیل نہیں کراسکے کہ انھیں کینٹونمنٹ بورڈ کا انٹری پاس نہ ہونے کے باعث کینٹ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔

    ہائیکورٹ کے فاضل بینچ نے کہا کہ ’یہ بات حیران کن ہے کہ ایک ادارہ بیلف کو داخلے کی اجازت سے انکار کر رہا ہے جس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ کوئی اپنی نجی جاگیر بنانے کی غلط فہمی میں مبتلا ہے۔‘

    عدالت نے کہا کہ ’آئین کے مطابق کسی جائز جواز کے بغیر کسی بھی شہری کے نقل و حمل پر پابندی عائد نہیں کی جاسکتی اور عدالت کے بیلف کو نوٹسز کی تعمیل کرانے سے روکنا انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے۔‘

    عدالت نے کہا کہ ’کسی کو بھی خواہ عہدے میں کتنا بڑا کیوں نہ ہو، یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ عدالت کے بیلف کو کینٹ میں داخل ہونے سے کسی جائز جواز کے بغیرروکے۔ قومی شناختی کارڈ اور دفتری کارڈ کے باوجود ایسے رحجان کی کسی جائز جواز کے بغیر اجازت نہیں دی جاسکتی۔‘

    عدالت نے اس معاملے پر سٹیشن کمانڈر کوئٹہ کینٹونمنٹ بورڈ کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے انھیں ہدایت کی وہ بورڈ کے ایک ایسے آفیسر کو عدالت کی معاونت کے لیے متعین کرے جو یہ وضاحت کرے کہ بیلف کو کس اتھارٹی کے تحت کینٹ میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔

  20. توشہ خانہ کیس: عمران خان کی سزا معطل کرنے کی استدعا پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں متعقلہ عدالت کی طرف سے فوجداری کیس میں سزا کے فیصلے کو معطل کرنے کے حوالے سے سابق وزیر اعظم عمران خان کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاورق کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی انٹراکورٹ اپیل پر سماعت کی۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نےسماعت شروع ہونے سے پہلے ہی سابق وزیر اعظم عمران خان کی بطور رکن اسمبلی نااہلی کا آٹھ اگست کا نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کر دیا۔

    انھوں نے کہا کہ 8 اگست کو اپیل اور سزا معطلی درخواست دائر ہوئی اور 28 اگست کو عمران خان کو سزا معطلی کا فیصلہ آیا۔ انھوں نے کہا کہ فیصلے کے ایک ماہ آٹھ دن بعد پانچ اکتوبر کو فیصلہ معطلی کی متفرق درخواست دائر ہوئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ فیصلہ معطل ہو سکتا ہے یا نہیں اس سے متعلق ایک ہی فیصلہ ہے جہاں اس ایشو پر بات کی گئی ہے اور اس کے علاوہ درخواست گزار کی طرف سے جن فیصلوں کے حوالے دیے ان پر میں الگ سے بات کروں گا۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ضابطہ فوجداری کے سیکشن 426 میں فیصلہ معطلی کا ذکر نہیں؟ جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ ضابطہ فوجداری میں فیصلہ سے متعلق الگ سے باب ہے۔ چیف جسٹس عامر فاورق نے استفسار کیا کہ قانون میں سزا معطلی کا جو لکھا گیا ہے اس کا کیا مطلب ہے؟

    اس پر امجد پرویز کا کہنا تھا کہ ان کا خیال ہے سزا معطلی سے فیصلہ معطلی نہیں سکتا۔ الیکشن کمیشن کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عمران خان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ میں جیل سماعت کے لئے گیا تھا لیکن مجھے داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔

    انھوں نے کہا کہ میرا حق ہے کہ میں اپنے کلائنٹ کی طرف سے پیش ہوں۔ سردار لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ مجھے آدھا گھنٹہ جیل کے باہر انتظار کرنا پڑا ہر دفعہ یہی ہوتا ہے۔

    بینچ کے سربراہ نے عمران خان کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے متعلقہ کورٹ کے جج کو بتایا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ مجھے اور میرے سٹاف کو روکا گیا میری تضحیک کی گئی۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے لاہور ہائیکورٹ میں اسی ریلیف کیلئے درخواست دائر ہونے کا اعتراض اٹھا دیا۔

    انھوں نے کہا کہ معلوم ہوا ہے کہ الیکشن کمیشن کے نااہلی نوٹیفیکیشن کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی جا چکی ہے اور لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بنچ نے سماعت کر کے معاملہ پانچ رکنی بینچ کو بھجوا دیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اس پیشرفت کی وجہ سے اِس عدالت میں یہ درخواست قابلِ سماعت نہیں ہے۔ عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ انھیں تو حیرت ہے کہ الیکشن کمیشن اس حد تک جا سکتا ہے۔ انھوں نے کسی ادارے یا شخصیت کا نام لیے بغیر کہا کہ ان کی انا کی تسکین ہو گی بانی چیئرمین پی ٹی آئی پارٹی ہیڈ نہیں رہے۔

    سردار لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ انھیں یاد ہےکہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی بھی خواہش تھی نواز شریف، بے نظیر بھٹو پارٹی ہیڈ نہیں ہوں گے اور نواز شریف نے جاوید ہاشمی کو صدر پی پی پی نے مخدوم امین فہیم کو صدر بنایا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ انھوں نے ہائی کورٹ میں اپنے دلائل میں واضح طور پر کہا تھا کہ سزا کے فیصلے کو بھی معطل کریں۔

    عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ بات تحریری طور پر درج کرنے سے رہ گئی ہو۔ انھوں نے کہا کہ جاوید ہاشمی کے کیس میں سزا اور فیصلہ معطلی کی بات کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ تین سپریم کورٹ کے ججز جنہوں نے فیصلہ دیا تھا، ان تینوں نے چیف جسٹس بننا ہے اور ان ججز نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ سزا کے ساتھ فیصلہ معطلی بھی ہوتی ہے۔

    انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ میں ریکارڈ پر کہا تھا کہ سزا کے ساتھ فیصلہ بھی معطل کریں۔

    عدالت نے عمران خان کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔