اسلام آباد ہائی کورٹ: توشہ خانہ ریفرنس فیصلے کے خلاف عمران خان کی اپیل واپس لینے کی درخواست مسترد

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی توشہ خانہ ریفرنس میں الیکشن کمیشن کے نااہلی کے فیصلے کے خلاف اپیل واپس لینے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ سپریم کورٹ نے فوجداری مقدمات میں ضمانت سے متعلق فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضابطہ فوجداری قانون کے تحت اگر ٹرائل دو سال تک مکمل نہ ہو تو ملزم ضمانت کا حقدار ہے۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے

    پاکستان سے تازہ ترین خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔

  2. اکیس مارچ 2019 کو سپریم کورٹ کی جانب سے کیا فیصلہ دیا گیا تھا؟

    bahria

    ،تصویر کا ذریعہBahria Town

    21 مارچ 2019 کو سپریم کورٹ نے کراچی میں نجی ہاوسنگ سوسائٹی بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ کی طرف سے ان پر مقدمات ختم کرنے کے لیے 460 ارب روپے کی پیشکش قبول کرلی تھی اور قومی احتساب بیورو کو ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے سے روک دیا تھا۔

    عدالتی حکم کے مطابق بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ اس سال (یعنی 2019 میں) 27 اگست تک 25 ارب روپے ڈاؤن پیمنٹ کے طور پر جمع کروائے گی جبکہ ستمبر میں تقریبًا ڈھائی ارب روپے ماہانہ کے حساب سے جمع کروانے ہوں گے۔

    ’پہلے چار سال تک ڈھائی ارب روپے جمع کروانے کے بعد باقی تین سالوں کے دوران باقی ماندہ رقم چار فیصد مارک اپ کے ساتھ جمع کروانا ہو گی۔‘

    عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا ہے کہ ’مسلسل دو اقساط کی عدام ادائیگی پر بحریہ ٹاؤن کراچی نادہندہ تصور کی جائے گی۔‘

    سپریم کورٹ نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ ’بحریہ ٹاؤن کراچی کی انتظامیہ ان کے ملکیتی پارکس، سنیما اور دیگر اثاثوں کو عدالت کے پاس گروی رکھوائے گی۔‘

    عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ ’مکمل ادائیگی کے بعد زمین بحریہ ٹاؤن کے نام منتقل کردی جائے گی۔‘

  3. بحریہ ٹاؤن جرمانہ کیس: سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں جمع ’30 ارب سندھ حکومت، بیرون ملک سے آئے 35 ارب وفاق کو دیے جائیں گے‘, بحریہ ٹاؤن کی جانب سے جرمانے کی قسطیں جمع نہ کروانے کی درخواست خارج، 21 مارچ 2019 کا فیصلہ برقرار

    bahria town

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے جرمانے کی قسطیں جمع نہ کروانے کی درخواست خارج کرتے ہوئے 21 مارچ 2019 کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جمع کروائے گئے کل 65 ارب میں سے بیرون ملک سے آئے 35 ارب روپے وفاقی حکومت اور بحریہ ٹاون کی جانب سے جمع 30 ارب روپے سندھ حکومت کو دیے جائیں گے جبکہ عمل نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی۔

    بحریہ ٹاون عمل درآمد کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ’اکیس مارچ 2019 کا سپریم کورٹ کا فیصلہ بحریہ ٹاون کی رضامندی پر تھا اور بحریہ ٹاؤن نے سات سال میں 460 ارب روپے ادا کرنا تھے۔

    ’وکیل بحریہ ٹاؤن کے مطابق زمین مکمل نہ ملنے پر ادائیگیاں روکی گئیں اور انھوں نے سروے آف پاکستان کی رپورٹ پر اعتراض اٹھا دیا۔‘

    ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ ’سروے کے دوران بحریہ ٹاؤن کی اپنی سروے ٹیم بھی ساتھ موجود تھی، سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا باہمی رضامندی سے معاہدہ جو عدالتی حکم بن چکا ہے اس پر کوئی فریق خود سے عمل روک سکتا ہے۔اس سوال کا جواب منفی میں ہی ہے۔‘

    عدالتی حکمنامے میں کہا گیا کہ ’کئی سال تک جلد سماعت کی درخواست دائر نہ کرنا فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے کے لیے کیا گیا، بظاہر بحریہ ٹاؤن زیادہ زمین پر قابض ہے، بحریہ ٹاؤن نے ادائیگیاں نہیں روکیں بلکہ مزید زمین پر بھی قبضہ کیا۔‘

    حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ ’ہماری رائے میں یہ متعلقہ افسران کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں تھا، ہمیں توقع ہے ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے جو قانونی ایکشن کی یقین دہانی کروائی اس پر عمل ہو گا۔

    ’لوگ زمین کا ایک ٹکڑا خریدنے کے لیے عمر بھر کی جمع پونجی لگاتے ہیں۔ سب خرچ کرنے کے بعد لوگ ڈویلپر کے رحم کرم پر ہوتے ہیں۔ توقع ہے تمام حکومتیں الاٹیز کو تحفط دینے کے لیے اقدامات کریں گی۔‘

    سپریم کورٹ نے اپنے حکم نامے میں یہ بھی کہا ہے کہ ’حکومتی سطح پر الاٹیز کا ریکارڈ نہ رکھے جانے پر لوگوں کو خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں ریکارڈ محفوظ کرنے کا انتظام کیا جا سکتا ہے۔

    ’جس سے لوگ الاٹمنٹ سے متعلق خود معلومات لے سکتے ہیں اور حکومتی سطح پر ریکارڈ محفوظ رکھنے سے غیر ضروری عدالتی کارروائی کا خاتمہ ہو گا۔ حکومتی سطح پر ریکارڈ رکھنے سے ایک ہی پلاٹ کئی لوگوں کو آلاٹ کرنے کی مشق ختم ہو گی۔‘

    حکم نامہ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ملک ریاض حسین کی جانب سے متفرق درخواستوں میں بتایا گیا ہے کہ نیب بھی معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے، اس عدالت کے لیے مناسب نہیں ہو گا کہ نیب میں زیر التوا معاملے پر آبزرویشن دے، ملک ریاض کی متفرق درخواست نمٹائی جاتی ہے۔‘

  4. ’جیسے کشمیر ہماری شہ رگ ہے ویسے ہی فلسطین بھی ہے، فلسطین کے بغیر مسلم دُنیا نا مکمل ہے‘ سابق صدر آصف زرداری

    سابق صدر آصف زرداری کا جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں کہنا تھا کہ ’پارلیمنٹ کو اختیارات دینا دوست کو سمجھ نہیں آیا، انھوں نے میری چھٹی کروا دی۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نے اداروں کو پہلے بھی مضبوط کیا ہے اور ہم اب بھی الیکشن کمشن کو مضبوط کر رہے ہیں۔‘

    فلسطین اور اسرائیل کے معاملے پر پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں سابق صدر کا کہنا تھا کہ ’فلسطین کے معاملے پر میں پہلا سیاستدان تھا جس نے اس چڑھائی کی مزمت کی اور اب بھی کرتا ہوں، جیسے کشمیر ہماری شہ رگ ہے ویسے ہی فلسطین بھی ہے، فلسطین کے بغیر مُسلم دُنیا نا مکمل ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا ’جنگیں اور قبضے کبھی بھی خطے میں امن نہیں لا سکتے، فلسطینی لوگ کبھی بھی اس سب کو تسلیم نہیں کریں گے اور جو اسرائیل اس سب کے بعد معاشی استحکام چاہتا ہے وہ ایسے کبھی بھی اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکے گا۔‘

    توشے خانہ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں سابق صدر کا کہنا تھا کہ ’میری جن دو بم پروف گاڑیوں سے متعلق بات ہوتی ہے، تو اُن کے بارے میں کہہ دیتا ہوں کے میں ایک گاڑی مجھے یو اے ای اور دوسری مجھے کرنا قدافی نے دی، اور ان دونوں گاڑیوں کو میں نے ڈھائی ڈھائی کروڑ کی اگائدی کر کے لی۔‘

    مقدمات کا سوال ہوا تو سابق صدر کا کہنا تھا کہ ’میرے پر ہونے والے کیسز ابھی ختم نہیں ہوئے جو کیسز ختم ہوئے وہ میرے 14 سال پرانے کیس تھے، عمران خان کی مہربانی والے کیس ختم نہیں ہوئے، مجھ پر نئے کیس نواز شریف نے نہیں عمران خان نے بنائے تھے۔‘

  5. ’مجھے یقین ہے کہ الیکشن 8 فروری کو ہی ہوں گے‘ سابق صدر آصف زرداری

    سابق صدر آصف زرداری کا کہنا تھا ’نوجوانوں کو دھرتی سے پیار ہے مگر یہاں روزگار میں مسائل ہیں، ہم کاروبار کے مواقع بڑھانے کی کوشش کریں گے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اقتدار ملا تو وزیر خزانہ پارٹی کے اندر سے آئے گا،‘ اپنی صاحبزادی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’آصفہ بھٹو جہاں سے الیکشن لڑنا چاہے لڑے، وہ بہت مضبوط اُمیدوار ہے، آصفہ اپنی ماں کی طرح غصے میں تیز ہے، اُن کے غصے سے ڈر نہیں لگتا پیار آتا ہے۔‘

    سابق صدر کا کہنا تھا کہ ’زمینداری میری کمزوری ہے اور کاروبار میرا کنسٹرکشن کا ہے۔‘

    سیاسی جماعتوں کے انتخابات کے حوالے سے پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں سابق صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنی پارٹی کے الیکشن پر بات کر سکتے ہیں، دوسری پارٹی کے الیکشن پر نہیں۔‘

    مُلک میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ’آئندہ الیکشن کے نتیجے میں مخلوط حکومت بنے گی، مجھے یقین ہے کہ الیکشن 8 فروری کو ہوں گے، اسی لیے ہماری انتخابی مہم شروع ہے۔‘

  6. ’عمران خان کو نہ نکالتے تو وہ ایک فوجی کے ذریعے آر او الیکشن کروا کے 2028 تک حکومت بنا لیتے‘ سابق صدر آصف زرداری

    سابق صدر آصف علی زرداری نے نے کہا کہ ’ہم پی ٹی آئی کے خلاف نہیں بلکہ ہم تو صرف ایک شخص کے خلاف ہیں۔‘

    سابق صدر کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کو نہ نکالتے تو وہ ایک فوجی کے ذریعے آر او الیکشن کروا کے 2028 تک حکومت بنالیتے، پھر ایک کلو دودھ کے لیے ٹرک بھر کر پیسے لے جانے پڑتے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ اگلے الیکشن 8 فروری کو ہوں گے، اسی لیے ان کی جماعت ایکشن میں ہے۔‘

  7. ’عمران حکومت مائنس زرداری پیپلز پارٹی چاہتی تھی‘ سابق صدر آصف زرداری

    سابق صدر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق صدر آصف علی زرداری نے جیو نیوز کے پروگرام ’کیپیٹل ٹیک‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہاں کہ ’میں نے کبھی انتقامی سیاست نہیں کی، میرے دور میں ایک بھی سیاسی قیدی نہیں تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’پیپلز پارٹی اس الیکشن میں اچھا خاصہ سر پرائز دے گی، میرے ورکرز مجھ پر بہت اعتماد کرتے ہیں۔‘

    انٹرویو کے دوران سابق صدر کا کہنا تھا کہ ’عمران حکومت مائنس زرداری پیپلز پارٹی چاہتی تھی، انھیں ملک سے باہر جانے کا کہا گیا اور کہا گیا کہ باقی پیپلز پارٹی 6 وزارتوں کے بدلے پی ٹی آئی سے مل کر الیکشن لڑے۔‘

    آصف زرداری نے کہا کہ ’عمران خان حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد درست فیصلہ تھا، عمران خان کی وجہ سے پاکستان دنیا میں تنہا ہو گیا تھا، عمران خان ملکی معیشت کے دشمن تھے۔‘

  8. ’انتخابات میں 90 دن سے اوپر ایک بھی دن کی تاخیر سنگین آئینی خلاف ورزی ہے‘ جسٹس اطہر من اللہ کا اضافی نوٹ جاری

    سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے 2 نومبر کو اپنے ایک حکمنامے میں الیکشن کمشن کو ہدایت کی تھی کہ صدرِ مملکت سے فوری ملاقات کر کے عدالت کو الیکشن کی تاریخ سے متعلق آگاہ کیا جائے۔

    تاہم آج (جمعرات) کے روز جسٹس اطہر من اللہ کا دو نومبر کی عدالتی کارروائی اور فیصلے پر 41 صفحات کا ایک اضافی نوٹ جاری کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ 2 نومبر 2023 کو مُلک میں 90 دن کے اندر انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران الیکشن کمشن کے وکیل سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تھے اور اُنھوں نے الیکشن کمشن کو یہ بتایا تھا کہ الیکشن کمشن مُلک میں 11 فروری 2024 کو عام انتخابات کروانے کے لیے تیار ہے۔

    اس کے بعد عدالت نے ایک حکمنامے میں الیکشن کمیشن کو ہدایت کی تھی کہ صدر مملکت سے فوری مشاورت کر کے عدالت میں الیکشن کی تاریخ سے متعلق آگاہ کیا جائے۔

    جس پر الیکشن کی تاریخ سے متعلق صدر عارف علوی اور الیکشن کمیشن کے درمیان اتفاق ہو گیا اور ملک میں عام انتخابات آٹھ فروری کو کروانے پر اتفاق ہوا۔

    بعد ازاں الیکشن کمیشن اور صدر کے دفتر کی جانب سے جاری اعلامیوں میں آٹھ فروری کی تاریخ پر اتفاق ہونے کی تصدیق کی گئی۔

    اب جسٹس اطہر من اللہ کے 41 صفحات پر مشتمعل اضافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستانی ووٹرز کو انتخابی عمل سے باہر رکھنا بنیادی حقوق کے منافی ہے، آئین و قانون کے بر خلاف نگران حکومتوں کے زریعے امور چلائے جا رہے ہیں۔‘ اضافی نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’مقررہ وقت میں انتخابات آئینی تقاضا ہے، انتخابات نہ کروا کر عوام کے حقوق کی خلاف ورزی ثابت ہو چکی ہے۔‘

    اضافی نوٹ میں جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’12 کروڑ 56 لاکھ 26 ہزار 390 رجسٹرڈ ووٹرز کو انکے حق رائے دہی سے محروم رکھا گیا، انتخابات میں تاخیر کو روکنے کیلئے مستقبل میں ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔‘

    اضافی نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد عام انتخابات 7 نومبر تک ہونا آئینی تقاضہ ہے، انتخابات کی تاریخ دینا آرٹیکل 48 شق پانچ کے تحت صدر مملکت کا ہی اختیار ہے، یہ یقینی بنانا صدر مملکت کی ذمہ داری تھی کہ پاکستان کی عوام اپنے ووٹ کے حق سے 90 دن سے زیادہ محروم نا رہیں۔‘

    اضافی نوٹ کے مطابق ’الیکشن کمیشن اور صدر مملکت نے 8 فروری کی تاریخ دے کر خود کو آئینی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھہرایا، نوے روز میں انتخابات نا کرنے کی آئینی اور عوامی حقوق کی خلاف ورزیاتنی سنگین ہے کہ اس کا کوئی علاج ممکن نہیں، اگر صدر مملکت یا گورنر انتخابات کی تاریخ دینے کی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کر رہے تو الیکشن کمیشن کو اپنا کردار ادا کرنا تھا۔‘

    اضافی نوٹ میں جسٹس اطہر من اللہ نے لکھا کہ ’انتخابات میں 90 دن سے اوپر ایک بھی دن کی تاخیر سنگین آئینی خلاف ورزی ہے۔‘

  9. الیکشن کمیشن کا انتخابات سے متعلق اہم اجلاس: ’الیکشن کمشن آئندہ عام انتخابات کے لیے تیار ہے‘

    آج الیکشن کمیشن آف پاکستان میں آئندہ عام انتخابات کی تیاریوں سے متعلق اہم اجلاس ہوا جس کی صدارت سکندر سلطان راجہ چیف الیکشن کمشنر نے کی۔

    اجلاس میں الیکشن کمیشن کے ممبران کے علاوہ سیکرٹری الیکشن کمیشن، صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب و دیگر افسران نے شرکت کی۔ صوبائی الیکشن کمشنر خیبر پختونخوا، سندھ و بلوچستان بھی ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔

    اجلاس میں الیکشن کمیشن کو بتایا گیا کہ ابتدائی حلقہ بندیوں پر تمام عذرداریوں پر الیکشن کمیشن نے سماعت مکمل کر لی ہے اور الیکشن کمیشن کے فیصلوں کی روشنی میں حتمیحلقہ بندیوں کی فہرست مورخہ 30 نومبر کو شائع کر دی جائے گی۔ مزید حتمی انتخابی فہرستوں کی پرنٹنگ نادرا میں جاری ہے اور انکی ترسیل الیکشن پروگرام تک یقینی بنائی جائےگی۔

    اسکے علاوہ قانون کے مطابق سیاسی جماعتوں کی مشاورت کے بعد ضابطہ اخلاق کی الیکشن کمیشن نے منظوری دے دی ہے۔ جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن آئندہ چند روزمیں کر دیا جائے گا۔

    الیکشن کمیشن کو اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران، ریٹرننگ افسران و پولنگ سٹاف کی ٹریننگ کا پلان تیار ہے اور مذکورہ بالا انتخابی آفیشلز کی بروقت ٹریننگ کو یقینی بنایا جائے گا۔

    اسی طرح بیلٹ پیپروں کی طباعت کے لئے ضروری انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں اور الیکشن میٹریل کی خریداری بھی مکمل کر لی گئی ہے۔

    اجلاس کے بعد جاری اعلمیہ میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن انتخابات کے انعقاد کے لئے تیار ہے۔ الیکشن کمیشن نے آئندہ عام انتخابات سے متعلق اب تک کے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور حکم دیا کہ انتخابی فہرستوں کی ریٹرننگ افسران تک ترسیل کا مکمل طریقہ کار وضح کیا جائے تاکہ ریٹرننگ افسران کو بروقت انتخابی فہرستوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

  10. پنجاب کی نگران حکومت کی جانب سے 6 ڈویژن میں تمام تعلیمی ادارے جمعے اور ہفتے کو بند رکھنے کا اعلان

    لاہور میں آج (جمعرات) صوبہ پنجاب میں سموگ کی صورتحال سے متعلق کابینہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس کے بعد نگران وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی نے صوبے میں اسموگ پر قابو پانے کی کوششوں کے سلسلے میں اہم اقدامات کا اعلان کیا۔

    6 ڈویژن میں تمام تعلیمی ادارے جمعے اور ہفتے کو بند رکھنے کا اعلان کردیا۔

    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کابینہ کمیٹی کے تمام تر فیصلے لاہور، گجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان، ساہیوال اور سرگودھا ڈویژن کے لیے ہیں کیونکہ ان چھ ڈویژن میں اسموگ کے بُرے اثرات سامنے آرہے ہیں، جن کو مدِ نظر رکھتے ہوئے:

    • 6 ڈویژن میں جمعے، ہفتے کو تمام تعلیمی ادارے بند رکھے جائیں گے
    • جمعے، اور سنیچر کو بازار، تجارتی مراکز، ریسٹورنٹس 3 بجے کھولنے اور اتوار کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے
    • حالات سازگار ہونے کی صورت میں 29 نومبر کو لاہور میں مصنوعی بارش کی کوشش بھی کی جائے گی
    • تاہم مال روڈ لاہور اتوار کو صبح سے لے کر شام تک صرف سائیکلوں کے لیے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے

    نگران وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی نے پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ طویل مدتی منصوبہ بندی میں ’10 ہزار طلبہ کو سبسڈی پر الیکٹرک بائیک دینے کے لئے خصوصی کمیٹی اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ اسی کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمین کو لیز پر ای موٹر بائیکس دینے کے حوالے سے بھی خصوصی اقدامات کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ ان حالیہ اقدامات سے قبل 19 نومبر کو نگران وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر محکمہ پرائمری و سیکنڈری ہیلتھ کیئر نے پنجاب کے 10 اضلاع میں ایک ہفتے کے لیے ماسک پہننا لازمی قرار دیا تھا۔

  11. بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر مجھے فارغ کر کے دنیا بھر میں انصاف کی نئی مثال قائم کی گئی: نواز شریف

    نواز شریف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا نام لیے بغیر کہا ہے کہ انھیں بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر فارغ کرنے اور مریم نواز کو جیل میں رکھنے کا واحد مقصداُس (عمران خان) کو جتوانا تھا اور اقتدار میں لانا تھا۔

    پنجاب کے ضلع مری میں پارٹی ورکرز سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم کا کہنا تھاسنہ 2017 میں کچھ پاکستان میں انصاف کے نام پر ہوا ایسا اگر کسی گھر میں بھی ہو تو وہ بھی نہیں چل سکتا، تو ایک ملک کیسے چل سکتا ہے؟

    انھوں نے کہا کہ ’یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا تھا جب ڈالر 104 روپے کا تھا، ملک میں بجلی، گیس موجود تھی، مہنگائی کم تھی اور لوگ اپنی تنخواہ میں گزارہ کر پاتے تھے۔ میں زیادہ دور کی بات نہیں کر رہا، یہ سب 2017 میں تھا۔‘

    انھوں نے کہا کہ اب صورتحال یہ ہے کہ لوگوں کے گھروں میں چولہے بند ہو گئے ہیں، آج 20، 25 ہزار کمانے والے شخص کا کوئی گزارہ ممکن نہیں ہے۔

    سابق وزیر اعظم نے سوال کیا کہ ’کس نے اس ملک کو اس حال تک پہنچایا، یہ سوچنے والی باتیں ہیں۔ کس نے پاکستان کے ساتھ یہ ظلم کیا۔ یہ اُن لوگوں کا یہ کردار تھا، جن کے بارے میں آج کل آپ سن رہے ہیں۔ یہ باتیں کر کے بہت دُکھ ہوتا ہے۔‘

    اپنی حکومتوں کی ماضی کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’ہم نے 11 ہزار میگا واٹ بجلی اپنے سسٹم میں ڈالی، بجلی کے نئے منصوبے بنائے، بجلی بنانے کے کارخانے ریکارڈ ڈیڑھ ڈیڑھ سال میں مکمل کیے۔ نیلم کا منصوبہ جو کئی سالوں سے لٹکا ہوا تھا وہ مکمل کیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ یہاں تک کہ ’ہم نے سندھ میں کوئلے سے بجلی بنانے پر کام کیا اور وہاں موجود کوئلے کا باقاعدہ استعمال کیا بجلی بنانے کے لیے۔ اور اس کوئلے کے لیے ڈالر خرچ نہیں کرنے پڑتے۔‘

    سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’میں سیاست کے لیے جھوٹ نہیں بولتا۔ عوام کو دھوکہ دے کر اور سبز باغ دکھا کر کچھ نہیں ملتا۔ حکومت میں آنے کے لیے جھوٹ نہیں بولنا چاہیے، دھوکہ نہیں دینا چاہیے۔‘

    قائد ن لیک نے کہا کہ ’ہمارے بعد جو دور آیا (تحریک انصاف) اس سے پاکستان کی ثقافت کو نقصان پہنچا اور جھوٹ اور دھوکہ دہی نے فروغ پایا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اگر ہمارے دور کی ترقی کی سپیڈ جاری رہتی تو آج یہ ملک کہیں اور ہوتا۔ میں کسی عہدے کے لالچ میں یہ باتیں نہیں کر رہا، کوئی مفاد نہیں ہے۔‘

    مری سے اپنے تعلق کے بارے میں بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ’میرا مری کے لوگوں کے ساتھ ایک خاص رشتہ ہے جو دن بدن مضبوط ہوا ہے۔ مری میرا دوسرا گھر ہے۔ بچپن سے ہی مجھے مری بہت پسند ہے اور ہم بچپن ہی سے مری آتے جاتے رہے ہیں۔ میری مری کے ساتھ بہت سہانی یادیں ہیں۔‘

    ’جب میں پہلی مرتبہ وزیراعلیٰ پنجاب بنا تو سب سے پہلے جو پاکستان میں خوبصورت ترین سڑک بنی تھی وہ اسلام آباد سے مری تک کی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب پرخطر راستوں پر مختلف ٹرانسپورٹ چلتی تھی، وہ نقشہ آج بھی میرے ذہن میں محفوظ ہے۔‘

    ’اُس وقت کا مال روڈ اور جھیکا گلی، سنی بینک ان سب جگہوں کی اپنی خوبصورتی تھی جسے ہم وقت کے ساتھ برقرار نہیں رکھ سکے، اس کو اب سنبھالنے کی ضرورت ہے۔ وہ دن حسین تھے، مری کا وہ حسن واپس آنا چاہیے مگر ساتھ ساتھ ڈویلپمنٹ ہونی چاہیے۔‘

  12. 20 روز میں انٹرا پارٹی انتخابات نہ کروانے کی صورت میں تحریک انصاف بلے کے انتخابی نشان کے لیے اہل نہیں رہے گی: الیکشن کمیشن, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی اردو

    الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کے انٹر اپارٹی الیکشن سے متعلق اپنا تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے۔ یہ تحریری فیصلہ الیکشن کمیشن کے رکن جسٹس ریٹائرڈ اکرام اللہ خان نے تحریر کیا۔

    الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’پی ٹی آئی کے پارٹی آئین 2017 کے مطابق تمام پارٹی عہدیداران چار سال کے لیے منتخب ہوئے اور پی ٹی آئی کے عہدیداران کی مدت 13 جون 2021 کو ختم ہو گئی تھی۔‘

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’الیکشن کمیشن نے پارٹی کو قانون کے مطابق نوٹس جاری کیا اور پی ٹی آئی کی جانب سے 2019 میں کورونا وباء کے باعث ایک سال کا وقت دیا اور جس کے بعد الیکشن کمیشن نے 24 مئی 2021 کو انٹرا پارٹی انتخابات کی یاددہانی کے لیے نوٹس بھیجا تھا، تاہم پاکستان تحریک انصاف صاف و شفاف انٹرا پارٹی انتخابات کرانے میں ناکام رہی جس کی وجہ سے انٹرا پارٹی انتخابات کے نتائج کسی صورت قبول نہیں کئے جا سکتے۔‘

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان تحریک انصاف مقررہ وقت میں ایک سال کی توسیع کے باوجود شفاف انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کر اسکی۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگر مزکورہ پارٹی بیس روز میں انٹرا پارٹی انتخابات نہ کراسکی تو اس کے خلاف الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 215 پانچ کے تحت کارروائی کی جائے گی اور اس کے علاوہ مقررہ وقت میں انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے پر تحریک انصاف بلے کے انتخابی نشان کےلئے اہل نہیں رہے گی۔‘

    فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’یہ بیس روز فیصلہ جاری ہونے یعنی (جمعرات) سے شروع ہوں گے۔‘

  13. بریکنگ, الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کالعدم قرار دے دیے، 20 دن میں نئے انتخابات کا حکم

    PTI

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کو انٹراپارٹی انتخابات کالعدم قرار دیتے ہوئے 20 روز میں نئے انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کا حکم دیا ہے۔

    خیال رہے کہ انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو نوٹس جاری کیا تھا اور اس مقدمے میں 13 ستمبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    الیکشن کمیشن کے سندھ سے ممبر نثار درانی کی سربراہی میں کمیشن نے فیصلہ سنایا۔

    پی ٹی آئی کے اندر انتخابات کے معاملے پر الیکشن کمیشن پانچ سماعتیں کرچکا ہے۔ الیکشن کمیشن نے 20 دن کے اندر الیکشن کروا کر رپورٹ الیکشن کمیشن میں جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

    اس وقت تحریک انصاف کے چیئرمین اڈیالہ جیل میں قید ہیں جبکہ جماعت کے سینیئر رہنماؤں کی اکثریت پارٹی یا سیاست چھوڑ چکی ہے یا وہ روپوش ہے۔

    مقدمے کا پس منظر

    الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ تحریک انصاف نے پارٹی آئین 2022 کے مطابق انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کرائے اگر شوکاز پر مناسب جواب نہ دیا گیا تو پارٹی سے بلے کا نشان واپس لے لیا جائے گا۔

    پی ٹی آئی نے اپنے جواب میں الیکشن کمیشن کے اعتراضات پر مؤقف اختیار کیا تھا کہ جون 2022 میں انٹراپارٹی الیکشن پارٹی آئین 2019 کے مطابق کرا کر تفصیلات جمع کرائیں۔

    پی ٹی آئی کی قیادت نے نیا پارٹی آئین ستمبر 2022 میں الیکشن کمیشن کو جمع کرایا، جسے کمیشن کے اعتراض کے بعد واپس لے لیا گیا اور اس حوالے سے الیکشن کمیشن میں پارٹی قیادت کی طرف سے بیان حلفی بھی جمع کرا دیا گیا تھا۔

    الیکشن کمیشن کا فیصلہ سن کر افسوس ہوا، بلے کانشان پی ٹی آئی کا ہے اور رہے گا: وکیل تحریک انصاف

    PTI

    ،تصویر کا ذریعہBarrister Gohar Khan

    پاکستان تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹرگوہر علی خان نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ سن کر افسوس ہوا۔ انھوں نے کہا کہ اس فیصلے میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ بیرسٹر گوہر خان تحریک انصاف کے چیف الیکشن کمشنر بھی ہیں۔ ان سے قبل جسٹس وجیہہ الدین اور جمال انصاری چیف الیکشن کمشنر کے عہدے پر تعینات ہوئے تھے۔۔

    وکیل کے مطابق ’ہمیں بھیجے گئے نوٹس میں الیکشن پراعتراض کا ذکرنہیں تھا۔ ہم نے پارٹی آئین کے تحت الیکشن کرائے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’کمیشن نے جان بوجھ کرفیصلہ تاخیرسے سنایا اور بلے کانشان پی ٹی آئی کا ہے اور رہے گا اور عمران خان ہی پارٹی کے چیئرمین رہیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ آج کے فیصلے سے بڑا دکھ ہوا اور کسی خاص مقصد کے لیے اس فیصلے میں تاخیر کی گئی۔ پی ٹی آئی کے وکیل کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے اس آرڈر کو ہم مناسب فورم پہ چیلنج کریں گے۔

  14. بحریہ ٹاؤن سپریم کورٹ کو بتائی گئی زمین سے تین ہزار ایکڑ سے زائد پر قابض ہے: سروے رپورٹ, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    Malik Riaz

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ میں کراچی کے کمشنر کی طرف سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن نے جو زمین بتائی تھی وہ اس سے تین ہزار ایکڑ زائد پر قابض ہے۔

    یہ رپورٹ 460 روپے کی وصولی کے معاہدے کے تناظر میں جمع کرائی گئی ہے۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت بحریہ ٹاؤن کراچی کا 16 ہزار 896 ایکڑ زمین کا معاہدہ ہوا تھا۔

    کمشنر کراچی کی سربراہی میں 10 رکنی سروے ٹیم نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس وقت بحریہ ٹاؤن 19 ہزار 931 ایکڑ زمین پر قابض ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’بحریہ ٹاؤن معاہدے سے تین ہزار 31 ایکڑ زائد زمین پر قابض ہے۔‘

    دس رکنی سروے ٹیم کی رپورٹ کے مطابق ڈسٹرکٹ ملیر میں 813 ایکڑ جبکہ جامشورو میں 2222 ایکڑ زائد زمین بحریہ ٹاؤن کے قبضے میں ہے۔

    ’بحریہ ٹاؤن جنگل کی زمین پر بھی قابض ہے‘

    BT

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کی جانب سے محفوظ کیے گئے جنگل کی زمین پر قبضہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ رپورٹ سپارکو، سروے آف پاکستان، فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔

    سپریم کورٹ نے گذشتہ سماعت پر بحریہ ٹاؤن کے زیر قبضہ زمین کا سروے کرانے کا حکم دیا تھا۔

  15. عمران خان کا جیل ٹرائل اب 29 اگست سے پہلے کی پوزیشن سے آگے بڑھے گا: خصوصی عدالت

    IK

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف قائم سائفر کیس میں خصوصی عدالت نے قرار دیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کا ٹرائل اب 29 اگست سے پہلے کی پوزیشن سے آگے بڑھے گا۔

    خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے سماعت کی۔ شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری اور خالد یوسف عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

    عدالت نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو منگل کو عدالت پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

  16. سپریم کورٹ کے ججز کے ریمارکس تحقیقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں: ملک ریاض

    ملک ریاض

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ میں نجی ہاوسنگ سوسائٹی بحریہ ٹاؤن کے ملک ریاض حسین نے درخواست دائر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت نیب ان کے خلاف 190 ملین پاونڈز معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے اور ایسے میں سپریم کورٹ کے ریمارکس یا آبزرویشنز نیب کی تحقیقات پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

    ملک ریاض نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ ججز کے ریمارکس اور آبزرویشنز سے نیب کی تحقیقات متاثر ہو سکتی ہیں۔

    بحریہ ٹاؤن نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ وہ اس حوالے سے حقائق کا جائزہ لے کر مناسب حکم جاری کرے۔

  17. تحریک انصاف بلے کے نشان پر انتخابات لڑ سکتی ہے یا نہیں؟ الیکشن کمیشن آج محفوظ فیصلہ سنائے گا

    IK

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    پاکستان تحریک انصاف بلے کے نشان پر انتخابات میں حصہ لے سکتی ہے یا نہیں۔۔ اس حوالے سے الیکشن کمیشن آج فیصلہ سنائے گا۔

    کمیشن کی طرف سے جاری کردہ کاز لسٹ کے مطابق الیکشن کمیشن اپنا 13 ستبمر کو محفوظ کردہ فیصلہ آج دن 12 بجے سنائے گا۔

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق پی ٹی آئی کو دو اگست کو نوٹس جاری کیا تھا کہ انٹرا پارٹی الیکشن نہ کرانے پر پی ٹی آئی کو بلے کے نشان کے لیے نااہل کیوں نہ کیا جائے۔

    ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں چار رکنی کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق تین سماعتیں کی تھیں جس میں پاکستان تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر گوہر علی خان پیش ہوئے تھے۔

    الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ تحریک انصاف نے پارٹی آئین 2022 کے مطابق انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کرائے اگر شوکاز پر مناسب جواب نہ دیا گیا تو پارٹی سے بلے کا نشان واپس لے لیا جائے گا۔

    پی ٹی آئی نے اپنے جواب میں الیکشن کمیشن کے اعتراضات پر مؤقف اختیار کیا تھا کہ جون 2022 میں انٹراپارٹی الیکشن پارٹی آئین 2019 کے مطابق کرا کر تفصیلات جمع کرائیں۔

    پی ٹی آئی کی قیادت نے نیا پارٹی آئین ستمبر 2022 میں الیکشن کمیشن کو جمع کرایا، جسے کمیشن کے اعتراض کے بعد واپس لے لیا گیا اور اس حوالے سے الیکشن کمیشن میں پارٹی قیادت کی طرف سے بیان حلفی بھی جمع کرا دیا گیا تھا۔

  18. افغان حکومت تضاد کا شکار ہوچکی ہے: نگراں وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی

    نگران وفاقی وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی نے کہا ہے کہ افغان حکومت تضاد کا کا شکار ہوچکی ہے۔

    بدھ کی رات گئے اپنے ٹویٹ میں نگران وفاقی وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی نے کہا کہ افغان طالبان کی حکومت ایک طرف پاکستان سے غیرقانونی طور پر مقیم افغانی شہریوں کو واپس نہ بھیجنے کا مطالبہ کر رہی ہے اور دوسری طرف قانونی طور پر افغانستان جانے کے لئے پاکستانی صحافی کو ویزا دینے کے لئے تیار نہیں۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  19. کلائمیٹ فنانس اور دیگر متعلقہ معاملات پر پاکستان کا مؤقف کوپ28 میں پیش کریں گے: نگراں وزیراعظم

    PM

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    نگراں وزیراعظم دبئی میں ہونے والی 28ویں کانفرنس آف پارٹیز کے یکم اور 2 دسمبر کو اعلیٰ سطح کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

    خیال رہے کہ کوپ28 سمٹ کا انعقاد دبئی میں 30 نومبر سے لے کر 12 دسمبر تک ہونے جا رہا ہے۔

    وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں اور محکموں کو ہدایت کی کہ کوپ 28 میں کلائمیٹ فنانس اور دیگر متعلقہ معاملات پر پاکستان کا مؤقف اچھے انداز سے پیش کرنے کے لیے ادارے بھر پور تیاری کریں۔

    سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق بدھ کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری پریس ریلیز کے مطابق نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت 28ویں اقوام متحدہ کانفرنس آف پارٹیز کوپ28 کے حوالے سے بین الوزارتی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔

    اجلاس کے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ گذشتہ برس موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں پاکستان کی ایک تہائی آبادی سیلاب سے متاثر ہوئی ہے۔

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان جیسے ممالک کے لیے قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کا عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی بڑھانے میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہونے کے باوجود پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔

    اجلاس میں نگران وفاقی وزرا برائے خزانہ، خارجہ، توانائی، موسمیاتی تبدیلی، منصوبہ بندی اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

    Dubai

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کوپ 28 کیا ہے؟

    کوپ 28 اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلیوں پر 28ویں سالانہ اجلاس ہے، جس میں دنیا بھر کے ممالک اس پر بحث کریں گے کہ وہ کیسے ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کر سکتے ہیں اور کس طرح مستقبل میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے لیے اپنے آپ کو تیار کر سکتے ہیں۔

    اس سمٹ کا انعقاد دبئی میں 30 نومبر سے لے کر 12 دسمبر تک ہونے جا رہا ہے۔ کوپ ’کانفرنس آف دی پارٹیز‘ کا مخفف ہے۔ پارٹیز سے مراد وہ ممالک ہیں جنھوں نے سنہ 1992 میں اقوام متحدہ کے ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق معاہدے پر دستخط کر رکھے ہیں۔

  20. گذشتہ روز کی خبروں کا خلاصہ

    Bilawal

    ،تصویر کا ذریعہPPP

    • ’پرانے سیاستدانوں کی 70 سالہ پرانی سیاست نے مُلک کو نقصان پہنچایا‘ بلاول بھٹو زرداری
    • سپریم کورٹ: مشرف کو سزائے موت دینے والی عدالت کی تشکیل کے معاملے پر لاہور ہائیکورٹ نے ’دائرہ اختیار سے بڑھ کر ریلیف دیا‘
    • عمران خان سمیت 29 افراد کو ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ڈالنے کی سفارش
    • اسلام آباد ہائی کورٹ: بلوچ طلبا کی عدم بازیابی پر 29 نومبر کو وزیر اعظم طلب، ’عوام کی اس سے زیادہ توہین کیا ہو گی کہ انھیں جبری طور پر گمشدہ کیا جائے‘