بغیر ویزا پاکستان آنے والے غیر ملکیوں سے واپسی کے بدلے فی کس 830 ڈالر کا مطالبہ

پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ وہ ملک میں غیرقانونی طور پر مقیم ان شہریوں سے 830 ڈالر فیس کے طور پر وصول کر رہا ہے، جو دیگر ممالک کے ویزے لے کر جانا چاہتے ہیں۔ ملک چھوڑنے کی یہ فیس ان افراد کے لیے ادا کرنا ضروری ہے جو ویزے کے بغیر آئے تھے یا پاکستان میں قانونی مدت سے زیادہ قیام کیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. پاکستان میں کم عمر ڈرائیوروں کے ہاتھوں ہلاکتیں، ذمہ دار کون؟

  2. کوئٹہ میں فلسطینی طلبا کی تشویش: ’یہاں پاکستانی بھائی مدد کر رہے ہیں لیکن وہاں ہمارے پیاروں کے سروں پر ہر وقت موت کا سایہ ہے‘

  3. ’جنید بھائی، ساحل پر جا کر لوگوں کو گھورا نہ کریں‘

  4. عمران خان کے جسمانی ریمانڈ میں چار روزہ توسیع کا تحریری حکم نامہ جاری, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    IK

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج نے 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل میں سابق وزیر اعظم اورچیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے جسمانی ریمانڈ میں چار روزہ توسیع کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے۔

    احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی عدالت سے جاری پانچ صفحات پر مشتمل حکمنامہ میں عدالت کا کہنا ہے کہ ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل نیب سردارمظفر عباسی نے مزید دس روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست دی ہے۔

    نیب نے بتایا کہ علی ظفر ایڈووکیٹ نیب کی طلبی پر23 نومبر کو نیب دفتر پیش ہوئے۔

    علی ظفر نے متعلقہ ریکارڈ نیب کو فراہم کیا اس حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ علی ظفر نے 24 مارچ 2021 کے معاہدے کا ریکارڈ بھی نیب کو فراہم کیا۔

    نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ قومی خزانے کو منتقل ہونے والی رقم سے متعلق تفتیش کرنا ہے۔ تفتیش کو مکمل کرکے کیس کو حتمی نتیجے تک پہنچانے کے لیے مزید ریمانڈ درکار ہے۔

    اس حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ دوران سماعت وکلا صفائی نے مزید ریمانڈ کی مخالفت کی اور دو خطوط پیش کیے۔

    ایک خط چھ نومبر2019 کا مشرق بنک سے متعلق ہے۔

    وکلا نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کا رقم منتقلی سے کوئی سروکار نہیں اور اس کے ساتھ ساتھ چیئرمین پی ٹی آئی کا 240 کنال اراضی منتقلی سے بھی کوئی سروکار نہیں ہے۔

    اس حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ نیب کے پراسیکیوٹر کے مطابق ملزم نے دو کینسر ہسپتال بنوائے، تیسراکراچی میں بن رہا ہے۔

    نیب حکام نے کہا کہ علی ظفر کی جانب سے فراہم کیے گئے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے لیے ریمانڈ ضروری ہے۔

    تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت دس کی بجائے چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتی ہے اور ملزم کو27 نومبر کو دوبارہ عدالت پیش کیا جائے۔

  5. عمران خان کی الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیل واپس لینے کی درخواست, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق وزیراعظم عمران خان نے توشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپنی دائر کردہ اپیل اسلام آباد ہائیکورٹ سے واپس لینے کی درخواست کر دی ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی اس اپیل کو اب لاہور ہائیکورٹ میں لے جانا چاہتے ہیں۔

    خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف 21 اکتوبر 2022 کو الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ ریفرنس میں نااہلی کا فیصلہ سنایا تھا۔

    عمران خان کی اپیل واپس لینے کی درخواست پر جلد فیصلے کی متفرق درخواست پر دوران سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل سے کہا کہ ’یاد دہانی کے لیے بہت شکریہ گوہر صاحب۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’کافی سارے معاملات ایک ساتھ چل رہے ہیں، آئندہ ہفتے آپ کی درخواست پر فیصلہ کردیں گے۔‘

    عمران خان کی طرف سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی متفرق درخواست میں کہا گیا ہے کہ 13 ستمبر کو عدالت نے فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کیا۔ اس درخواست میں کہا گیا تھا کہ دو ماہ دس دن ہو گئے مگر فیصلہ نہیں آیا، عدالت جلد فیصلہ سنائے۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق نے اس درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے ساتھ سماعت کی۔

  6. وزیرستان میں امن کی کوشش ایک خاندان کی چھ زندگیاں لے گئی: ’حکومت قربانیوں کے بعد صرف ایوارڈ دیتی ہے، تحفظ نہیں‘

  7. پاکستان غیرقانونی طور پر مقیم شہریوں سے واپسی پر فی کس 830 ڈالر وصول کر رہا ہے, کیرولین ڈیویز نامہ نگار، بی بی سی نیوز

    Visa

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ وہ ملک میں غیرقانونی طور پر مقیم ان شہریوں سے 830 ڈالر فیس کے طور پر وصول کر رہا ہے، جو دیگر ممالک کے ویزے لے کر جانا چاہتے ہیں۔ ملک چھوڑنے کی یہ فیس ان افراد کے لیے ادا کرنا ضروری ہے جو ویزے کے بغیر آئے تھے یا پاکستان میں قانونی مدت سے زیادہ قیام کیا ہے۔

    پاکستانی حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ افغانستان واپس جانے والوں پر اس پالیسی کا اطلاق نہیں کیا جا رہا ہے مگر جو دیگر ممالک جا رہے ہیں ان پر اس پالیسی کا اطلاق ہر صورت ہو گا۔

    واضح رہے کہ پاکستان نے گذشتہ ماہ یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ملک میں مقیم ایسے 17 لاکھ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو ملک سے بے دخل کر دے گا جو یکم نومبر تک خود واپس نہ گئے۔

    سنہ 2021 میں کابل پر طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد ہزاروں افغان ملک چھوڑ گئے۔

    جن شہریوں کے پاس زائدالمعیاد ویزے ہیں ان شہریوں کو زائدالمدت قیام کے حساب سے فیس ادا کرنا ہوگی۔

    واضح رہے کہ افغانستان واپس جانے والوں پر اس فیس کا اطلاق نہیں ہوگا یعنی وہ بغیر کسی جرمانے کے اپنے ملک واپس جا سکتے ہیں۔

    ایمنسٹی انٹرنینشل جیسی تنظیموں کا کہنا ہے کہ کابل میں طالبان حکومت سے بچ کر پاکستان آنے والے افغان شہریوں کو دستاویزات کے حصول میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔

    چونکہ پاکستان نے پناہ گزینوں سے متعلق کنونشن پر دستخط نہیں کیے ہیں اس وجہ سے وہ ملک میں رہنے والے افغانوں کو پناہ گزینوں کا درجہ حاصل نہیں دے رہا ہے۔

    ایک سفارتکار نے بی بی سی کو بتایا کہ انسانی بنیادوں پر غیرممالک جانے والے افغانوں کے لیے یہ فیس پریشانی کا سبب ہے۔

    ان کے مطابق کئی ممالک میں جب آپ ویزے سے زائد مدت قیام کرتے ہیں تو آپ کو جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے یا پھر آپ کو ملک بدر کر دیا جاتا ہے۔

    اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے یو این ایچ سی آر نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ پاکستانی حکام کے ساتھ مل کر اس معاملے کا حل نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق یہ جرمانے پاکستان کے قانون کے عین مطابق ہیں۔ دفتر خارجہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ برطانیہ سمیت دیگر ممالک بھی زائدالمعیاد مدت کے لیے جرمانے عائد کرتے ہیں۔

  8. ملکی زرمبادلہ ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران 23 کروڑ ڈالر سے زائد کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    Dollar

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران 21 کروڑ ستر لاکھ ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اس کے پاس اس وقت سات ارب اٹھارہ کروڑ ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر موجود ہیں۔

    سٹیٹ بینک کے مطابق ذخائر میں کمی کی وجہ غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی تھی، جو ایک ہفتے کے دوران کی گئی ملک کے کمرشل بینکوں کے پاس پانچ ارب بارہ کروڑ ڈالر کے ذخائر موجود ہیں، جس میں ایک ایک ہفتے کے دوران سترہ کروڑ ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ ملک کے پاس مجموعی طور پر اس وقت بارہ ارب تیس کروڑ ڈالر کے ذخائر موجود ہیں۔

  9. پاکستان سٹاک ایکسچینج 500 پوائنٹس اضافے کے بعد پہلی بار 59000 پوائنٹس کی سطح عبور کر گئی, تنویر ملک، صحافی

    Stock Exchange

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعے کے روز کاروبار کے آغاز پر تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے اور کے ایس ای 100 انڈیکس میں اب تک 500 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔

    سٹاک مارکیٹ کا انڈیکس اس اضافے کے بعد ملکی تاریخ میں پہلی بار 59000 پوائنٹس کی سطح سے اوپر ٹریڈ ہو رہا ہے۔

    پاکستان سٹاک ایکسچنج میں تیزی کا رجحان گذشتہ پانچ ہفتوں سے جاری ہے اور سٹاک مارکیٹ کا انڈیکس جو اکتوبر کے وسط میں 50000 پوائنٹس کی سطح پر موجود تھا اس میں اب تک 9000 پوائنٹس کا اضافہ ہو چکا ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق سٹاک مارکیٹ میں تیزی کی بہت ساری وجوہات ہیں، جس میں پہلے آئی ایم ایف سے پاکستان کا اگلی قسط کے لیے معاہدہ تھا تو اب سٹاک مارکیٹ آنے والے دنوں میں شرح سود میں کمی کی توقع کر رہی ہے۔

    ان کے مطابق ملکی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی نے بھی مارکیٹ میں مثبت رجحانات کو فروغ دیا۔

  10. لیڈر شپ اور کارکنان جیل میں ہیں انٹرا پارٹی الیکشن کرانا مشکل ہے: حامد خان

    حامد خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حامد خان نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کا کوئی جواز نہیں ہے، عین ممکن ہے کہ اس فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کریں۔

    الیکشن کمیشن کے فیصلے پر نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کو دیے گئے اپنے ردعمل میں حامد خان نے کہا کہ اس وقت پارٹی لیڈر شپ اور کارکن جیل میں ہیں یا روپوش ہیں، ان حالات میں انٹرا پارٹی الیکشن کرانا مشکل ہے۔

    انھوں نے کہا کہ توشہ خانہ کیس میں فیصلہ اور سزا دونوں معطل ہیں اور ایسے میں چیئرمین پی ٹی آئی کو پارٹی الیکشن لڑانے پر غور کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’صورتِ حال دیکھتے ہوئے پارٹی ٹکٹ جاری کرنے کے لیے مخصوص کمیٹی بھی بنا سکتے ہیں۔‘

  11. فارمیشن کمانڈرز کانفرنس: ’گذشتہ چند مہینوں میں پاکستان میں امید، اعتماد اور استحکام میں اضافہ نظر آیا ہے‘

    COAS

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    آرمی چیف عاصم منیر کے زیر صدارت جی ایچ کیو میں 82 ویں فارمیشن کمانڈرز کانفرنس ہوئی جس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ ’ملک کو درپیش چیلنجز کے باوجود گذشتہ کچھ مہینوں میں پاکستان میں اضطراب اور غیر یقینی صورتحال میں کمی جبکہ امید، اعتماد اور استحکام میں اضافہ نظر آیا ہے۔‘

    شرکا نے مسئلہ فلسطین پر پاکستان کے اصولی موقف کا اعادہ کیا کہ پاکستان فلسطین کے مسئلے پر دو ریاستی حل، جس کی بنیاد 1967 سے قبل کی سرحدوں پر ہے اورجس کا دارالحکومت القدس شریف ہے کی مکمل حمایت کرتا ہے، پاکستان فلسطینی عوام کی مکمل سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کرتا ہے۔

    آئی ایس پی آر سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق فورم کے شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے دشمن قوتوں کے اشارے پر کام کرنے والے تمام دہشت گردوں اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے والے عناصر کے خلاف ریاست مکمل طاقت کے ساتھ نمٹے گی۔

    اس موقع پر معیشت کی پائیدار بحالی، سمگلنگ، ذخیرہ اندوزی، بجلی چوری، وَن ڈاکیومنٹ رجیم کا نفاذ، غیر قانونی غیر ملکیوں کی باوقار وطن واپسی اور قومی ڈیٹا بیس کی حفاظت سمیت غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے مختلف شعبوں میں حکومتی اقدامات کی مکمل حمایت کی گئی۔

  12. آصف علی زرداری کی شاید اپنے بارے میں رائے ہو گی کہ وہ 172 سیٹیں نہیں لے سکتے: مسلم لیگ

    پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری کی شاید اپنے بارے میں رائے ہوگی کہ وہ 172 سیٹیں نہیں لے سکتے، ہم اکثریتی سیٹوں پر کامیابی حاصل کریں گے۔

    انھوں نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کو بتایا کہ ملک کی تینوں بڑی جماعتوں میں اگر کسی کے پاس ’ڈیلیور‘ کرنے کی صلاحیت ہے تو وہ مسلم لیگ ن ہے، اس لیے ہمیں اُمید ہے کہ ہم 172 کی لائن کو کراس کرکے اکثریت حاصل کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ آج ہمیں ایک تجربہ کار اور آزمودہ قیادت کی جتنی ضرورت ہے اتنی پہلے کبھی نہیں تھی۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل جیو نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ ملک میں آئندہ الیکشن کے نتیجے میں مخلوط حکومت بنے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم ن لیگ کے ساتھ نہ چل سکے اور ن لیگ ہمارے ساتھ نہ چل سکے، یہ بات وقت سے پہلے ہے۔

  13. اکیس مارچ 2019 کو سپریم کورٹ کی جانب سے کیا فیصلہ دیا گیا تھا؟

    Bahria Town

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    21 مارچ 2019 کو سپریم کورٹ نے کراچی میں نجی ہاوسنگ سوسائٹی بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ کی طرف سے ان پر مقدمات ختم کرنے کے لیے 460 ارب روپے کی پیشکش قبول کرلی تھی اور قومی احتساب بیورو کو ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے سے روک دیا تھا۔

    عدالتی حکم کے مطابق بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ اس سال (یعنی 2019 میں) 27 اگست تک 25 ارب روپے ڈاؤن پیمنٹ کے طور پر جمع کروائے گی جبکہ ستمبر میں تقریبًا ڈھائی ارب روپے ماہانہ کے حساب سے جمع کروانے ہوں گے۔

    ’پہلے چار سال تک ڈھائی ارب روپے جمع کروانے کے بعد باقی تین سالوں کے دوران باقی ماندہ رقم چار فیصد مارک اپ کے ساتھ جمع کروانا ہو گی۔‘

    عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا ہے کہ ’مسلسل دو اقساط کی عدام ادائیگی پر بحریہ ٹاؤن کراچی نادہندہ تصور کی جائے گی۔‘

    سپریم کورٹ نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ ’بحریہ ٹاؤن کراچی کی انتظامیہ ان کے ملکیتی پارکس، سنیما اور دیگر اثاثوں کو عدالت کے پاس گروی رکھوائے گی۔‘

    عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ ’مکمل ادائیگی کے بعد زمین بحریہ ٹاؤن کے نام منتقل کردی جائے گی۔‘

  14. بحریہ ٹاؤن جرمانہ کیس: سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں جمع ’30 ارب سندھ حکومت، بیرون ملک سے آئے 35 ارب وفاق کو دیے جائیں گے‘, بحریہ ٹاؤن کی جانب سے جرمانے کی قسطیں جمع نہ کروانے کی درخواست خارج، 21 مارچ 2019 کا فیصلہ برقرار

    Malik Riaz

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے جرمانے کی قسطیں جمع نہ کروانے کی درخواست خارج کرتے ہوئے 21 مارچ 2019 کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جمع کروائے گئے کل 65 ارب میں سے بیرون ملک سے آئے 35 ارب روپے وفاقی حکومت اور بحریہ ٹاون کی جانب سے جمع 30 ارب روپے سندھ حکومت کو دیے جائیں گے جبکہ عمل نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی۔

    بحریہ ٹاون عمل درآمد کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ’اکیس مارچ 2019 کا سپریم کورٹ کا فیصلہ بحریہ ٹاون کی رضامندی پر تھا اور بحریہ ٹاؤن نے سات سال میں 460 ارب روپے ادا کرنا تھے۔

    ’وکیل بحریہ ٹاؤن کے مطابق زمین مکمل نہ ملنے پر ادائیگیاں روکی گئیں اور انھوں نے سروے آف پاکستان کی رپورٹ پر اعتراض اٹھا دیا۔‘

    ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ ’سروے کے دوران بحریہ ٹاؤن کی اپنی سروے ٹیم بھی ساتھ موجود تھی، سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا باہمی رضامندی سے معاہدہ جو عدالتی حکم بن چکا ہے اس پر کوئی فریق خود سے عمل روک سکتا ہے۔اس سوال کا جواب منفی میں ہی ہے۔‘

    عدالتی حکمنامے میں کہا گیا کہ ’کئی سال تک جلد سماعت کی درخواست دائر نہ کرنا فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے کے لیے کیا گیا، بظاہر بحریہ ٹاؤن زیادہ زمین پر قابض ہے، بحریہ ٹاؤن نے ادائیگیاں نہیں روکیں بلکہ مزید زمین پر بھی قبضہ کیا۔‘

    حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ ’ہماری رائے میں یہ متعلقہ افسران کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں تھا، ہمیں توقع ہے ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے جو قانونی ایکشن کی یقین دہانی کروائی اس پر عمل ہو گا۔

    ’لوگ زمین کا ایک ٹکڑا خریدنے کے لیے عمر بھر کی جمع پونجی لگاتے ہیں۔ سب خرچ کرنے کے بعد لوگ ڈویلپر کے رحم کرم پر ہوتے ہیں۔ توقع ہے تمام حکومتیں الاٹیز کو تحفط دینے کے لیے اقدامات کریں گی۔‘

    سپریم کورٹ نے اپنے حکم نامے میں یہ بھی کہا ہے کہ ’حکومتی سطح پر الاٹیز کا ریکارڈ نہ رکھے جانے پر لوگوں کو خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں ریکارڈ محفوظ کرنے کا انتظام کیا جا سکتا ہے۔

    ’جس سے لوگ الاٹمنٹ سے متعلق خود معلومات لے سکتے ہیں اور حکومتی سطح پر ریکارڈ محفوظ رکھنے سے غیر ضروری عدالتی کارروائی کا خاتمہ ہو گا۔ حکومتی سطح پر ریکارڈ رکھنے سے ایک ہی پلاٹ کئی لوگوں کو آلاٹ کرنے کی مشق ختم ہو گی۔‘

    حکم نامہ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ملک ریاض حسین کی جانب سے متفرق درخواستوں میں بتایا گیا ہے کہ نیب بھی معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے، اس عدالت کے لیے مناسب نہیں ہو گا کہ نیب میں زیر التوا معاملے پر آبزرویشن دے، ملک ریاض کی متفرق درخواست نمٹائی جاتی ہے۔‘

  15. بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید

    بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ یہاں آپ کے لیے پاکستان کی تازہ صورت حال سے متعلق تمام خبریں شامل کی جاتی ہیں۔ اگر آپ 23 نومبر یا اس سے پہلے کی خبریں پڑھنا چاہیں تواس لنک پر کلک کریں۔