یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہںی کیا جا رہا۔
سیاسی وابستگیاں بدلنے پر پیش آنے والے واقعات باعثِ تشویش ہیں: صدر علوی کا نگراں وزیرِ اعظم کو خط
صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے نگران وزیر اعظم کو خط لکھا ہے جس میں انھوں نے انوار الحق کاکڑ کو پی ٹی آئی کے خدشات کے حوالے سے بتایا ہے۔ ادھر نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت آنے کے بعد سے پاکستان میں شدت پسندی کے واقعات میں 60 فیصد جبکہ خودکش حملوں میں 500 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔
لائیو کوریج
بریکنگ, سیاسی وابستگیاں اور وفاداریاں بدل جانے پر پیش آنے والے واقعات باعثِ تشویش ہیں: صدر علوی کا نگراں وزیرِ اعظم کو خط

صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے نگران وزیر اعظم کو خط لکھا ہے جس میں انھوں نے انوار الحق کاکڑ کو پی ٹی آئی کے خدشات کے حوالے سے بتایا ہے۔
ایوان صدر سے بدھ کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق صدرِ مملکت نے پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب خان کی جانب سے صدر کو لکھا گیا خط بھی نگران وزیر اعظم کو ارسال کیا ہے۔
ایکس پر پوسٹ کیے گئے اعلامیے کے مطابق صدر پاکستان نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ’نگران حکومت کا غیرجانبداری کا تقاضہ یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ہموار میدان فراہم کیا جائے۔‘
ڈاکٹر عارف علوی نے نگران وزیر اعظم سے کہا ہے کہ ’آئندہ انتخابات میں تمام رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کو مساوی حقوق اور مواقع فراہم کرنے کی نگران حکومت کی پالیسی پر آپ کے حالیہ بیانات باعث اطمینان ہیں۔‘
انہوں نے آئین کے آرٹیکل 41 کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ اس آرٹیکل کے تحت صدر مملکت، وزیر اعظم اور تمام ادارے شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنے کے پابند ہیں۔‘
’یہی وجہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے الزامات پر مشتمل خط آپ کو ارسال کر رہا ہوں۔‘
صدر پاکستان نے اپنے خط میں مزید لکھا ہے کہ ’سیاسی وابستگیاں رکھنے والے افراد کی جبریوں گمشدگیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات پر میڈیا میں بھی بحث ہوئی۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ لوگوں کی سیاسی وابستگیاں اور وفاداریاں بدل جانے پر ایسے واقعات باعث تشویش بنتے ہیں، خواتین سیاسی ورکرز کی طویل نظر بندی، عدالت کے ریلیف کے بعد دوبارہ گرفتاریاں معاملات مزید حساس بنا دیتی ہیں۔
تمام سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کو الیکشن میں حصہ لینے اور عوام کو انھیں منتخب کرنے کا حق ہے۔
صدر عارف علوی کا مزید کہنا ہے کہ ’پختہ یقین ہے کہ جمہوریت ہی پاکستان کے عوام اور ریاست کے لیے آگے بڑھنے کا مناسب راستہ ہے۔‘
فواد چوہدری کے مزید جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا مسترد، جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم
اسلام آباد کی مقامی عدالت میں نے تھانہ آبپارہ میں درج فراڈ کیس میں گرفتار سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کا مزید جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔
بدھ کے روز جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر فواد چوہدری کو جوڈیشل مجسٹریٹ یاسر محمود کے روبرو پیش کیا گیا تو ان کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کے مؤکل کی ہتھکڑی کھلوائی جائے جس پر عدالت نے پولیس کو ملزم کے ایک ہاتھ کی ہتھکڑی کھولنے کا حکم دیا۔
ملزم فواد چوہدری نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں جس پر عدالت نے انھیں بولنے کی اجازت دے دی۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’وہ کیس پڑھ رہے تھے اور آج ان کی تیسری پیشی ہے لیکن ابھی تک اس مقدمے کا مدعی سامنے نہیں آیا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’مدعی مقدمہ کو اگر ڈرایا گیا تو وہ پولیس گارڈز ہوں گے، میرا اس سے تعلق نہیں ہو گا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اگر پولیس نے ریکوری کرنی ہے تو پانچ سات ہزار روپے لے لیں۔‘
انھوں نے جج کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کا آرڈر دیکھا، اچھا تھا اور سب کچھ عدالت کے سامنے ہے آپ خود فیصلہ کر لیں۔‘
عدالت نے استفسار کیا کہ اور کچھ کہنا ہے جس پر فواد چوہدری بولے اور مزید کچھ نہیں کہنا۔
اس مقدمے کے تفتشی نے ملزم کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جبکہ فواد چوہدری کے وکیل نے اس کی مخالفت کی بعدازاں عدالت نے مزید جسمانی ریمانڈ کی پولیس کی استدعا مسترد کر دی اور ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا۔
کمرہ عدالت میں غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اس طرح کے الیکشن میں نواز شریف جیت بھی گئے تو کون مانے گا۔
انھوں نے کہا کہ ’50 سالہ سیاست کے بعد بھی نواز شریف اس انداز سے وزیراعظم بن بھی گئے تو کیسے وزیر اعظم ہوں گے۔‘
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’سیاسی جماعتوں کے درمیان ڈائیلاگ کی ضرورت ہے اور نواز شریف سیاسی درجہ حرارت کم کرنے میں کردار ادا کریں۔‘
طالبان حکام افغانستان میں غیرقانونی طور پر مقیم پاکستانیوں کو ملک بدر کرے: نگراں وزیراعظم

،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت آنے کے بعد سے پاکستان میں شدت پسندی کے واقعات میں 60 فیصد جبکہ خودکش حملوں میں 500 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان میں مقیم غیرقانونی شہریوں کی اپنے اپنے ملک واپسی کے معاملے پر بدھ کی دوپہر اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی شدت پسندی کی کارروائیوں میں تحریک طالبان پاکستان کے شدت پسند ملوث ہیں جو افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں عبوری حکومت آنے کے بعد پاکستان کو قوی امید تھی کہ وہاں دیرپا امن قائم ہو گا اور پاکستان مخالف گروہوں خاص طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور انھیں افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انوارالحق کاکڑ نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ 2 برسوں میں 2 ہزار سے زیادہ پاکستانی شدت پسندی کی کارروائیوں کے نتیجے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
نگراں وزیراعظم نے کہا کہ گذشتہ دو برسوں کے دوران پاکستان میں ہونے والے خودکش حملوں میں 15 افغان شہری بھی شامل تھے جبکہ اس کے علاوہ 64 افغان شہری انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ لڑتے ہوئے ہلاک ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام حقائق افغان حکام کے علم میں لائی گئی ہیں اور پاکستان کی جانب سے تواتر کے ساتھ ہر 15 دن بعد احتجاجی مراسلوں کی صورت میں افغانستان سے منسلک دہشت گردوں کے حملوں سے متعلق تفصیلات فراہم کی جا رہی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ میں بھی افغانستان میں موجود تحریک طالبان پاکستان کے مراکز اور اس کے پاکستان مخالف سرگرمیوں میں اضافے کا واضح ذکر کیا گیا ہے۔
نگران وزیراعظم نے کہا کہ ان تمام حقائق کے باوجود پاکستان نے دنیا بھر میں افغانستان اور افغان عوام کی بھرپور حمایت اور وکالت جاری رکھی، افغانستان کو تجارت اور درآمدات کے لیے غیر معمولی مراعات دیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان کی فراخدلی کی قدر نہیں کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد پاکستان نے اپنے داخلی معاملات کو اپنی مدد آپ کے تحت درست کرنے کا فیصلہ کیا، پاکستان میں بےامنی پھیلانے میں بڑا کردار غیر قانونی تارکین وطن کا ہے اور اس لیے ریاست نے ان غیر قانونی شہریوں کو یکم نومبر سے اپنے ممالک میں بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔
نگراں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھی دہشت گردی میں ملوث وہاں غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانیوں کو ہمارے حوالے کرے اور پاکستان ایسے تمام لوگوں کو وصول کرنے کے لیے تیار ہے۔
آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے ملزمان کو پی سی او کی سہولت میسر نہیں: جیل سپرنٹینڈنٹ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد
سابق وزیر اعظم عمران خان کی فون پر بیٹوں کے ساتھ بات نہ کروانے پر توہین عدالت کیس میں کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔
راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے سپرنٹینڈنٹ نے چئیرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے بات کروانے سے معذرت کر لی۔
سپرانٹینڈنٹ اڈیالہ جیل نے اس ضمن میں خصوصی عدالت میں جواب جمع کروا دیا ہے جس میں سپریڈنٹ اڈیالہ جیل نے چئیرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے بات کروانے سے معذرت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 18 اکتوبر کو خصوصی اقدامات کر کے ملزم عمران خان کی ان کے بچوں سے بات کروائی گئی تھی تاہم واٹس ایپ پر بیرون ملک مستقل بات کرنے کی سہولت موجود نہیں ہے۔
اس جواب میں کہا گیا ہے کہ اگر عدالت چاہے تو وہ اس سلسلے میں محکمہ داخلہ پنجاب کو رولز میں ترمیم کی ہدایت کر سکتی ہے۔
جیل سپرانٹینڈنٹ نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ جیل میں قائم پی سی او کے ذریعے فیملی اور وکلا سے قیدیوں کی بات کی سہولت دی جاتی ہے۔
انھوں نے اپنے جواب میں آئی جی جیل خانہ جات کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آفیشل سیکرٹ کے ملزمان متعلق جاری لیٹر کہا گیا تھا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے ملزمان کو پی سی او کی سہولت میسر نہیں۔
اڈیالہ جیل کے سپرانٹینڈنٹ کا کہنا تھا کہ ’وہ عدالت کی حکم عدولی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔‘
انھوں نے اپنے جواب میں استدعا کی ہے کہ ان خلاف توہین عدالت کی درخواست خارج کی جائے۔ اس درخواست پر سماعت تیرہ نومبر تک ملتوی کر دی گئی۔
عمران خان کے خلاف سائفر مقدمے میں ٹرائل کورٹ کی فردِ جرم کی کارروائی سپریم کورٹ میں چیلنج, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد
سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف سائفر مقدمے میں ٹرائل کورٹ کی فردِ جرم کی کارروائی سپریم کورٹ میں چیلنج کر دی گئی۔
اس ضمن میں عمران خان نے ایک درخواست اپنے وکیل حامد خان کے توسط سے سپریم کورٹ میں دائر کی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت سپیشل کورٹ کا فردِ جرم کا 23 اکتوبر کا حکمنامہ آئین و قانون کے خلاف قرار دے اور اس کے ساتھ ساتھ عدالت اسلام آباد ہائی کورٹ کا 26 اکتوبر کا حکم نامہ بھی معطل کرے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر مقدمے میں عمران خان کی ضمانت کی درخواست مسترد کرنے کے ساتھ ساتھ اس مقدمے کے اخراج سے متعلق عمران خان کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔
درخواست میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست گزار (عمران خان) کی درخواست نمٹا کر درخواست گزار کے ساتھ تعصب کا مظاہرہ کیا۔
انھوں نے کہا کہ ایک سابق وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ کے خلاف سائفر کا پیچیدہ کیس بنایا گیا ہے۔ سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخواست گزار (عمران خان) کے معاملے پر ایف آئی اے میں انصاف پسندی کی کمی نظر آتی ہے اور فارن فنڈنگ کیس میں ضمانت کے بعد ایف آئی اے کا سارا فوکس سائفر کیس پر مرکوز ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ مقدمہ چلانے کے لیے ایف آئی اے کی کوششوں سے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے عمران خان کی ضمانت کی درخواست مسترد کیے جانے کے فیصلے کو بھی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔
سائفر کیس: سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر سماعت

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں ضمانت کی درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کررہے ہیں۔
شاہ محمود قریشی کے وکیل سید علی بخاری نے عدالت کے سامنے اس مقدمے کی ایف آئی آر پڑھ کر سنائی۔
عدالت نے شاہ محمود قریشی کے وکیل سے استفسار کیا کہ اس کیس میں آپ کے مؤکل کا کیا رول ہے؟
علی بخاری ایڈوکیٹ نے کہا کہ آفیشل سیکریٹ انفارمیشن، سائفر کو غیر قانونی رکھنا اور اس کا استعمال کرنے جیسے الزامات ہیں مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہاو۔
ان کے مطابق اس ایف آئی آر میں ’میرا تو نام بس آخر میں لکھا گیا ہے۔‘
ان کے مطابق اس درخواست میں چیرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت خارج جبکہ اسد عمر کی ضمانت کنفرم کر دی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس مقدمے میں چالان کی کاپی درخواست گزار کو احتجاج کرنے پر فراہم کی گئی۔ ان کے مطابق 3 اکتوبر کو ہی جیل ٹرائل کا بھی نوٹیفکیشن جاری ہوا۔
وکیل کے مطابق درخواست گزار کے خلاف غیر قانونی کیس بنایا گیا۔
وکیل کے مطابق شاہ محمود قریشی سائفر کیس میں ابھی تک ٹرائل کورٹ نے ہمیں ریکارڈ کی کاپیاں فراہم نہیں کیں۔
شاہ محمود قریشی اور عمران خان کے سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان مجسٹریٹ کے سامنے اپنا بیان قلمبند کروا چکے ہیں۔
وکیل کے مطابق اعظم خان کا مجسٹریٹ کے سامنے دیا گیا بیان چالان کا حصہ بنایا گیا۔ علی بخاری ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ مقدمے میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کا کردار مختلف ہے۔ انھوں نے شاہ محمود قریشی کی تقریر کا متن عدالت میں پڑھ کر سنایا اور کہا کہ شاہ محمود قریشی نے تقریر میں سائفر کے متن سے متعلق ایک لفظ بھی نہیں کہا۔
اس درخواست پر ابھی سماعت جاری ہے۔
سموگ کی صورتحال: پنجاب حکومت کا 10 نومبر (جمعہ) کو صوبے بھر میں چھٹی کا اعلان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سموگ کی صورتحال پر ہونے والے ایک اجلاس کے بعد پنجاب کی نگراں حکومت نے صوبے بھر میں 10 نومبر (جمعہ) کو صوبے بھر میں چھٹی کا اعلان کیا ہے۔ یاد رہے کہ نو نومبر (جمعرات) کو یوم اقبال کی مناسبت سے پہلے ہی عام تعطیل کا اعلان کیا جا چکا ہے۔
نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ چھٹی کے دنوں میں گھر پر رہیں اور باہر نکلتے ہوئے ماسک کا ضروری استعمال کریں۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ 11 نومبر (ہفتے) کو صوبے بھر میں مارکیٹیں اور پارک بند رہیں گی تاہم پبلک ٹرانسپورٹ چلتی رہے گی۔ تاہم جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو صوبے بھر میں شادی ہال کھلے رہیں گے۔
انھوں نے کہا کہ سموگ سے متاثرہ علاقوں میں بچوں میں آنکھوں اور سانس کی شکایات رپورٹ ہو رہی ہیں جن کے تدارک کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت لاہور دنیا کا سب سے آلودہ شہر بن چکا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کا مقصد سموگ کی موجودہ صورتحال پر کچھ حد تک قابو پانا ہے۔
سموگ کے تدارک کے لیے پنجاب کے متعدد شہروں میں سمارٹ لاک ڈاؤن: تعلیمی ادارے، دفاتر جمعرات سے اتوار تک بند رہیں گے
پنجاب کی نگراں حکومت نے سموگ کے تدارک لاہور ڈویژن سمیت صوبے کے فضائی آلودگی سے متاثرہ چند شہروں میں جمعرات (نو نومبر) سے اتوار (12 نومبر) تک کے لیے سمارٹ لاک ڈاؤن کی طرز پر اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
اس ضمن میں جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق لاہور ڈویژن (بشمول ڈسٹرکٹ لاہور، ننکانہ صاحب، شیخوپورہ اور قصور)، ڈسٹرکٹ گجرانوالہ، ڈسٹرکٹ حافظ آباد اور ڈسٹرکٹ ناروال میں اس دورانیے میں تمام نجی و سرکاری تعلیمی ادارے اور دفاتر، مارکیٹیں، شاپنگ مالز، ریسٹورنٹ، سینیما اور جم بند رہیں گے۔ اس دوران اگرچہ پبلک ٹرانسپورٹ کھلی رہے گی تاہم عوامی آمد و رفت کو محدود کیا جائے گا۔
اس شہروں میں واقع میڈیکل سٹورز، فارمیسیز، پیٹرول پمپ، تندور، بیکریاں، ڈیری شاپس وغیرہ کو اس پابندی سے استثنیٰ ہو گا۔
سپریم کورٹ میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے خلاف درخواست پر سماعت, شہزاد ملک بی بی سی اردو

،تصویر کا ذریعہGovt of Pakistan
سپریم کورٹ میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے خلاف زمینوں پر مبینہ قبضے سے متعلق درخواست پر سماعت جاری ہے۔
عدالت نے درخواست گزار معید احمد خان کے وکیل کو تیاری کے لیے وقت دیتے ہوئے سماعت میں کچھ دیر کا وقفہ کیا ہے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ اس مقدمے کی سماعت کر رہا ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست گزار سے کہا کہ ’آپ نے درخواست میں سنگین الزامات عائد کیے ہیں، اب اس کیس میں خود پیش ہوں گے یا کسی وکیل کی خدمات لیں گے۔‘
درخواست گزار نے کہا کہ ’کل ہی وکیل کیا ہے، سماعت کو مختصر عرصے کے لیے ملتوی کر دیں۔‘ چیف جسٹس نے وکیل سے کہا کہ التوا نہیں دیں گے ابھی ہی تیاری کر لیں۔ درخواست گزار کنور معیز احمد خان نجی ہاوسنگ سوسائٹی ٹاپ سٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں۔
خیال رہے کہ درخواست گزار کے مطابق 12 مئی 2017 کو جنرل فیض حمید کے حکم پر ان کے گھر اور آفس پر ریڈ کیا گیا۔ ان کے مطابق اس غیر قانونی ریڈ میں گھر کا قیمتی سامان اور سوسائٹی کا ریکارڈ چوری کر لیا گیا۔ درخواست گزار کے مطابق ’میرے خلاف غیر قانونی کارروائی کا مقصد ٹاپ سٹی ون کا کنٹرول حاصل کرنا تھا اور اس ریڈ کے بعد مجھے اور میرے پانچ ساتھیوں کو گرفتار کر کے حبس بے جا میں رکھا گیا۔‘
درخواست گزار نے استدعا کی کہ وفاقی حکومت جنرل ریٹائرڈ فیض حمید، ان کے بھائی نجف حمید پٹواری اور دیگر ساتھیوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائے۔
درخواست گزار نے عدالت سے فیض حمید کے خلاف شواہد پیش کرنے کی بھی اجازت طلب کی ہے۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بارہ مئی 2017 کو معیز خان اور انکے اہلخانہ کو اغواء کیا گیا۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اس حوالے سے عدالت کیا کر سکتی ہے اور کیا ماضی میں سپریم کورٹ نے اس معاملے پر کوئی نوٹس لیا تھا؟
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ’سپریم کورٹ نے براہ راست تو کوئی کاررروائی نہیں کی تھی۔ ان کے مطابق اس معاملے میں وزارت دفاع انکوائری کرنے کی مجاز ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ زاہدہ نامی کسی خاتون کی درخواست بھی زیر التوا ہے۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ زاہدہ نامی خاتون فوت ہو چکی ہیں۔ چیف جسٹس نے سماعت میں آدھے گھنٹے کا وقفہ کرتے ہوئے بتایا کہ التوا نہیں ملے گا، مقدمے کا جائزہ لے کر دوبارہ دلائل دیں۔
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔۔۔
بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سے متعلق تمام تازہ ترین خبریں آپ کو یہاں ملیں گی۔
