خیبرپختونخوا کے نئے نگراں وزیراعلیٰ جسٹس ریٹائرڈ ارشد حسین کون ہیں؟
خیبرپختونخوا کے نگران وزیراعلیٰ جسٹس (ر) سید ارشد حسین شاہ نے اپنے عہدے کاحلف اٹھا لیا ہے۔ گذشتہ روز صوبے کے نگراں وزیر اعلیٰ محمد اعظم خان وفات پا گئے تھے، جن کے بعد ارشد حسین کو اس عہدے کے لیے چنا گیا ہے۔
لائیو کوریج
اس صفحے کو مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا
اس صفحے کو مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ تازہ ترین خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔
جسٹس ریٹائرڈ ارشد حسین نئے نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بن گئے

گورنرہاؤس پشاور میں نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی تقریب حلف برداری ہوئی۔ خیبرپختونخوا کے نامزد نگران وزیراعلیٰ جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ نے اپنے عہدے کاحلف اٹھا لیا ہے۔
گورنرخیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے ان سے حلف لیا۔
جسٹس ریٹائرڈ ارشد حسین شاہ کون ہیں؟
صوبہ خیبر پختونخوا کے نئے نگران وزیر اعلیٰ جسٹس ریٹائرڈ ارشد حسین کا تعلق ایبٹ آباد سے ہے۔ ارشد حسین نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز وکالت سے کیا۔
اس کے بعد وہ صوبائی حکومت کے اسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل اور ڈپٹی ایڈووکیٹ جنرل رہ چکے ہیں۔ ارشد حسین کو سنہ 2019 میں گلگت بلتستان کی اپیلٹ کورٹ کا چیف جسٹس نامزد کیا گیا تھا۔
وہاں پر انھوں نے سنہ 2022 تک خدمات انجام دیں، جس کے بعد انھیں نگران کابینہ میں شامل کرلیا گیا تھا۔ ارشد حسین کے خاندان کے زیادہ تر لوگ جس میں ان کے بھائی اور بہنیں شامل ہیں وہ پولیس اور سول انتظامیہ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔
ارشد حسین کے والد محکمہ جنگلات خیبر پختونخوا سے ریٹائرڈ ہوئے تھے۔
شی بائیڈن ملاقات: دو عالمی طاقتوں کے سربراہان کی ملاقات سے کیا امید لگائی جا سکتی ہے؟
وسعت اللہ خان کا کالم بات سے بات : اونے پونے افغان ہمارے کس کام کے
کیا روس نے واقعی پاکستان سے ہیلی کاپٹروں کے انجن واپس مانگے ہیں؟
پاکستان کی پلس سائز انفلوئنسرز: ’شوہر دبلے پتلے دیکھ کر لوگوں نے پاکیزہ رشتے کو ماں بیٹے کا رشتہ بنا دیا‘
اپیل ہر مجرم کا حق، پرویز مشرف کی اپیل منظور کی جاتی ہے: سپریم کورٹ, شہزاد ملک بی بی سی اردو

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپریم کورٹ سابق صدر مرحوم پرویز مشرف کی سزا کیخلاف اپیل کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ اپیل ہر مجرم کا حق ہے۔
تین سال آٹھ ماہ گزرنے کے بعد اپیل کا سماعت کے لیے مقرر ہونا بدقسمتی ہے۔ عدالت کے بروقت اقدام نہ کرنے کا نقصان کسی بھی سائل کو نہیں ہونا چاہیے۔
سپریم کورٹ نے اپنے تحریری حکم نامہ میں لکھا کہ چیمبر احکامات کے باوجود اعتراضات کیخلاف اپیل مقرر نہ ہوئی اور درخواست گزار فوت ہو گئے۔
عدالت میں موجود کسی ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور سینیئر وکلا نے اپیل مقرر کرنے پر اعتراض نہیں کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ رجسٹرار اعتراضات کے خلاف پرویز مشرف کی اپیل منظور کی جاتی ہے۔
پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر کے مطابق وہ ان کی بیوہ اور بچوں سے رابطے میں ہیں، وکیل کے بقول وہ سابق صدر کے اہلخانہ سے اپیل مقرر ہونے پر ہدایات لیں گے۔
سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی سزائے موت کے خلاف اپیل پر سماعت 21 نومبر کو ہوگی۔
سپریم کورٹ نے لاہور لائی کورٹ سے پرویز مشرف کا سنگین غداری کیس کا ریکارڈ طلب کر لیا, شہزاد ملک بی بی سی اردو
سپریم کورٹ میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس میں لاہور ہائی کورٹ سے مقدمہ کی کارروائی کا تمام ریکارڈ طلب کر لیا۔ عدالت نے خصوصی بینچ کی تشکیل اور سماعت کے لیے مقرر کرنے کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا۔
سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا سپریم کورٹ نے گذشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔
تحریری فیصلہ میں عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف تمام اپیلوں کو نمبر الاٹ کرنے کا حکم دیتے ہوئے پرویز مشرف کے علاوہ تمام فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔
حکم نامہ میں کہا گیا کہ پرویز مشرف کو نوٹس ان کی وفات ہونے کی وجہ سے جاری نہیں کیا جا رہا۔
سابق صدر کے اہلخانہ چاہیں تو مقدمہ کا حصہ بن سکتے ہیں۔
درخواست گزاروں کے مطابق خصوصی عدالت کی تمام کارروائی اسلام آباد میں ہوئی، لہٰذا اسلام آباد کی عدالت لاہور ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی۔ درخواست گزاروں کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت سے متعلق سپریم کے احکامات نظرانداز کیے۔
سپریم کورٹ پہلے خصوصی عدالت کو متعدد ہدایات دے چکی تھی۔ درخواست گزاروں کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں درخواست ناقابل سماعت تھی، اٹھائے گئے قانونی نکات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
اب اس مقدمے کی مزید سماعت 21 نومبر کو ہو گی۔
اسد عمر کا تحریک انصاف اور سیاست چھوڑنے کا اعلان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریک انصاف کے سابق سیکریٹری جنرل اسد عمر نے سیاست چھورنے کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اپنی جماعت کی بنیادی رکنیت سے بھی دستبردار ہو رہے ہیں۔
اپنے ایک ٹویٹ میں اسد عمر نے کہا کہ ’ایک دہائی سے زیادہ عوامی زندگی کے بعد، میں نے سیاست کو مکمل طور پر چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جیسا کہ میں پہلے بھی عوامی سطح پر کہہ چکا ہوں کہ میں ریاستی اداروں کے ساتھ تصادم کی پالیسی سے متفق نہیں ہوں اور ایسی پالیسی ریاستی اداروں کے ساتھ شدید ٹکراؤ کا باعث بنی ہے جو کہ ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔‘
اسد عمر نے لکھا کہ ’پی ٹی آئی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔ میں ان تمام لوگوں کا شکرگزار ہوں جنھوں نے عوامی زندگی میں میرا ساتھ دیا۔ خاص طور پر میں این اے 54 کی ٹیم اور ووٹرز کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنھوں نے مجھے دو بار منتخب کیا۔‘
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد اعظم خان وفات پا گئے

،تصویر کا ذریعہAPP
پاکستان کے صوبہ خیرپختونخوا کے نگراں وزیر اعلیٰ محمد اعظم خان وفات پا گئے ہیں۔ گذشتہ روز نگران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اعظم خان کو طبیعت خراب ہونے کے باعث نجی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔
وزیراعلیٰ ہاؤس نے ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ روز سے ہی ان کی طبیعت ناساز تھی جس کی وجہ سے کابینہ اجلاس بھی منسوخ کیا گیا جبکہ انھوں نے صرف ایک میٹنگ یو این ایچ سی آر کے نمائندہ وفد سے کی تھی جس کے بعد ان کو ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ آج (سنیچر) صبح جان کی بازی ہار گئے۔
اعظم خان کا جنازہ آج سہ پہر ساڑھے تین بجے ان کے آبائی علاقے پڑانگ چارسدہ میں ادا کیا جائے گا۔
محمد اعظم خان خیبرپختونخوا کے شہر چارسدہ کے ایک گاؤں پڑانگ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے پشاور یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی ہے۔ اس کے علاوہ محمد اعظم خان نے لنکنز ان کالج لندن سے بار ایٹ لاء پاس کیا ہے۔ انھوں نے سول سروس کا امتحان پاس کرنے کے بعد ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ میں شمولیت اختیار کی اور بعدازاں چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔
وہ اس سے قبل 24 اکتوبر 2007 سے یکم اپریل 2008 تک صوبائی وزیر خزانہ بھی رہے۔ وہ اسلام آباد میں وزارت پیٹرولیم اور قدرتی وسائل کے سیکریٹری اور ستمبر 1990 سے جولائی 1993 تک خیبرپختونخوا کے چیف سیکریٹری بھی رہے۔
’خوش قسمتی‘ کی علامت کروڑوں روپے مالیت والی ’سوا‘ مچھلی، جس نے کراچی کے ماہی گیروں کو لکھ پتی بنا دیا
پنجاب حکومت کا سموگ کے پیش نظر نافذ لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان
پنجاب حکومت نے سموگ کی صورتحال کے پیش نظر نافذ لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی نے ایکس پر لکھا کہ حالیہ بارش کے بعد ہوا کے میعار میں بہتری اور ماہرین سے مشاورت کے بعد لاک ڈاؤن ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انھوں نے مزید لکھا کہ سموگ کے پیش نظر عائد پابندیاں کل (سنیچر) ہٹا دی جائیں گی۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
کنگ پارٹی کا اس دفعہ بھی وہی حال کریں گے جو 2008 میں کیا تھا: بلاول بھٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیر خارجہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ’ہر الیکشن میں کسی نہ کسی صورت میں کنگز پارٹی سامنے آتی ہے، لیکن اس مرتبہ ہم کنگز پارٹی کا وہی حال کریں گے جو سنہ 2008 میں کیا تھا۔‘
جمعے کو کراچی میں میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے انھوں نے شہباز شریف سے متعلق کہا کہ ’ہم نے ان کو وزیراعظم بنانے کے لیے بہت محنت کی۔ ملک کے مفاد کے لیے یہ وقت کی ضرورت تھی۔‘
ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ ’نون لیگ اور ایم کیو ایم کے اتحاد سے ہمیں نقصان سے زیادہ فائدہ ہوگا۔ جہاں تک مولانا فضل الرحمان کی بات ہے تو ان کے ساتھ بھی الیکشن لڑ سکتے ہیں اور ان کے خلاف بھی لڑ سکتے ہیں۔‘
پی ٹی آئی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے حوالے سے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’جنرل باجوہ کا پیغام آیا تھا کہ ہم نیوٹرل ہیں اور اسی نیوٹرل صورتحال میں ہم کامیاب ہوئے۔‘
سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ ’عدم اعتماد سے ایک دو روز پہلے جنرل باجوہ نے ہمیں بلایا تھا اور کہا تھا کہ آپ عدم اعتماد کی تحریک واپس لیں اور ہم الیکشن کروا دیتے ہیں۔ اگر مداخلت کرنا ہوتی تو وہ درخواست نہ کرتے۔‘
نواز شریف کی ضبط شدہ جائیداد اور اثاثے واپس کرنے کا حکم
اسلام آباد میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے جج محمد بشیر نے توشہ خانہ ریفرنس میں نواز شریف کی ضبط شدہ جائیداد اور اثاثے واپس کرنے کا حکم دیا ہے۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف کی جائیداد واپسی کے احکامات جاری کیے۔
واضح رہے کہ یہ جج محمد بشیر ہی تھے جنھوں نے نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو سنہ 2018 کے عام انتخابات سے کچھ ہفتے قبل ایون فیلڈ ریفرنس میں جیل کی سزائیں سنائی تھیں۔
اب جج محمد بشیر نے سنہ 2024 کے عام انتخابات سے چند ہفتے قبل نواز شریف کی جائیداد ضبطگی کے احکامات واپس لے لیے ہیں۔ یاد رہے کہ اشتہاری قرار دینے کے بعد جائیداد ضبطگی احکامات اکتوبر 2020 میں دیے گئے تھے۔
نواز شریف کی لاہور میں 1650 کنال سے زائد زرعی اراضی، مرسیڈیز، لینڈ کروزر اور گاڑیاں ضبط ہوئیں تھیں۔ عدالت نے اپنے حکم میں نواز شریف کی پراپرٹیز، گاڑیاں، بینک اکاؤنٹس واپس کرنے کا حکم دیا ہے۔
اعجاز چوہدری کے سینیٹ کے غزہ صورتحال پر اجلاس میں شرکت سے متعلق فیصلہ محفوظ
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اخترکیانی کی عدالت نےغزہ کی صورتحال پر بلائے گئے سینٹ اجلاس میں شرکت کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے لیے پی ٹی آئی کے سینیٹر اعجاز چوہدری کی درخواست کے قابل سماعت ہونے پرفیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔
جمعے کو سماعت کے دوران سینیٹر اعجاز چوہدری کی جانب سے وکلا عمیر نیازی اور خالد یوسف چوہدری عدالت پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ ہم نے پروڈکشن آرڈر کے لیے درخواست دی ہے لیکن عمل درآمد نہیں ہوا۔
سینیٹ کا اجلاس 27 کو ہونا ہے جس کے لیے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جائیں۔
جسٹس محسن اخترکیانی نے کہا کہ یہ تو سینیٹ کی صوابدید ہے کہ جس بھی ممبر کو بلائیں، یہ سینیٹ کا اندرونی معاملہ ہے۔ یہ عدالت ایسی کوئی ہدایات نہیں دے سکتی، اگر عدالت آج کسی کو بلانے کے لیے ہدایت دے دو تو کل کسی بھی ممبر کو نہ بلانے کی ہدایت بھی دینی ہو گی۔
وکیل نے کہا کہ سینیٹر اعجاز چوہدری پنجاب کی نمائندگی کرتے ہیں شرکت کی اجازت ہونی چاہیے، پہلے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کے لیے سپیکر نے پروڈکشن جاری کیے تھے، لیکن اب سینیٹ اجلاس میں میں شرکت کے لیے پروڈکشن آرڈر ہی جاری نہیں کیے جا رہے۔
چیئرمین سینیٹ کو ہدایات دی جائیں کہ وہ پروڈکشن آرڈر جاری کریں۔
عدالت نے استفسار کیا کہ کیا عدالت چیئرمین سینٹ کو ہدایات دے سکتی ہے؟ درخواست گزار سینیٹ کا ممبر ہے سینیٹ نے بلانا ہے کورٹ نے نہیں۔ وکیل درخواست گزارنے مختلف قوانین اور عدالتی فیصلوں کے حوالے دیے۔
عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
آصف زرداری اور فریال تالپور کے خلاف مقدمات قائم کرنے والا اب ن لیگ کا صدر ہے: بلاول بھٹو
سابق وزیرخارجہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ عمران خان کے دور میں سابق صدر آصف زرادری اور ان کی بہن فریال تالپور پر مقدمات قائم ہوئے اور انھیں جیل بھیج دیا گیا مگر مقدمات بنانے والا آج ملسم لیگ نون کا صدر ہے۔
خیال رہے کہ تحریک انصاف کے دورمیں ڈی جی ایف آئی اے رہنے والے بشیر میمن نے حال ہی میں مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کی ہے۔ مسلم لیگ نون نے بشیر میمن کو سندھ میں پارٹی کا صدر منتخب کیا ہے۔
جسٹس مظاہر نقوی کا قاضی فائز عیسیٰ سمیت جوڈیشل کونسل کے تین ججز پر اعتراض, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

،تصویر کا ذریعہSUPREME COURT OF PAKISTAN
سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر نقوی نے اپنے خلاف دائر ریفرنسز سننے والی جوڈیشل کونسل پر اعتراض اٹھا دیا۔
جسٹس مظاہر نقوی کی جانب سے چیف جسٹس فائز عیسیٰ سمیت دو ججز کی شمولیت پر اعتراض اٹھایا گیا ہے۔
جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کے شوکاز نوٹس کے جواب میں 18 صفحات پر مشتمل تفصیلی جواب جمع کروایا ہے۔ انھوں نے لکھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں سپریم کورٹ نے شفاف ٹرائل جج کا حق قرار دیا ہے۔
انھوں نے لکھا کہ جوڈیشل کونسل کا مجھے جاری کردہ شوکاز نوٹس بنیادی حقوق کے منافی ہے۔
جسٹس مظاہر نقوی کے مطابق جوڈیشل کونسل کی کارروائی کی پریس ریلیز میری رائے کے بغیر جاری کرنے سے میرے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں۔
سپریم کورٹ کے جج نے کہا کہ جوڈیشل کونسل کسی جج کے خلاف اس وقت کارروائی کر سکتی ہے جب متفقہ فیصلہ ہو اور یہ کونسل اکثریتی فیصلے کے ذریعے کسی جج کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں رکھتی۔
انھوں نے لکھا کہ جسٹس مظاہر نقوی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود کونسل کے رولز کو غیر آئینی قرار دینے کی رائے دے چکے ہیں۔
جسٹس مظاہر نقوی نے مؤقف اختیار کیا کہ الزامات کی تصدیق کیے بغیر مجھے شوکاز نوٹس بھیجا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’کونسل اجلاس میں میرے خلاف شواہد کا جائزہ نہیں لیا گیا ہے۔‘
جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ سپریم کورٹ تعیناتی کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف سے متعلق فیصلے کے سبب جوڈیشل کمیشن میں میری تعیناتی کی مخالفت کی تھی۔
تین اپریل 2023 کو جسٹس قاضی فائز اور جسٹس سردار طارق نے سابق چیف جسٹس کو خط لکھ کر میرے خلاف کارروائی چلانے کی بات کی۔
جسٹس مظاہر نقوی کے جواب کے مزید نکات
شکایات میں مجھ پر مبینہ آڈیو کا بھی حوالہ دیا گیا لیکن مبینہ آڈیو کی کبھی تصدیق نہیں کرائی گئی۔
مبینہ آڈیوز کے لیے کمشین تشکیل دیا گیا۔ کمیشن میں چیف جسٹس قاضی فائز اور جسٹس نعیم افغان شامل تھے۔ دونوں معزز جج صاحبان کو میرے خلاف شکایت نہیں سننی چاہیے۔
جسٹس سردار طارق مسعود نے میرے خلاف شکایات پر رائے دینے میں جان بوجھ کر تاخیر کی۔
جسٹس قاضی فائز کے خلاف ریفرنس میں سماعت کے دوران جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس اعجاز الاحسن پر اعتراض کیا گیا۔
اعتراض پر دونوں جج صاحبان عدالتی بینچ سے الگ ہو گئے تھے۔
میرے خلاف لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔ مجھے شکایات اور دیگر مواد تک رسائی نہ ہونے کے سبب میں مفلوج ہوں، مجھے مکمل ریکارڈ فراہم کیا جائے۔
میرے خلاف جوڈیشل کونسل میں بھیجی گئی شکایات سیاسی مقاصد کے تحت ہیں۔
میرے خلاف شکایات میں شفافیت کا فقدان ہے اور غیر قانونی ہے۔ جوڈیشل کونسل میں شامل ممبران میرے بارے میں جانب دار ہیں۔
سپریم جوڈیشل کے جاری اظہار وجوہ کا نوٹس بھی جانب دار ہے، جس کا جواب نہیں دیا جا سکتا۔
جوڈیشل کونسل نے 27 اکتوبر کی پریس ریلیز میری رضا مندی کے بغیر جاری کی۔ سپریم جوڈیشل کونسل کی پریس ریلیز میرے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ پریس ریلیز کا مقصد میرا میڈیا ٹرائل اور عوام کی نظر میں تضحیک کرنا تھی۔
میرے خلاف کارروائی امتیازی سلوک اور آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے میری تقرری سمیت میرے متعدد فیصلوں کی مخالفت کی۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود نے میرے خلاف کارروائی کے لیے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو خط لکھا تھا۔
موجودہ جوڈیشل کونسل کے تمام فیصلے جانبدار ہونے کی وجہ سے غیر قانونی تصور ہوں گے۔ جسٹس سردار طارق کے خلاف شکایت پر ان کو شوکاز نوٹس جاری کیے بغیر شکایت کنندہ آمنہ ملک کو نوٹس کیا گیا، جسٹس مظاہر نقوی کونسل کے رکن جسٹس سردار طارق مسعود کے خِلاف بھی شکایات 27 اکتوبر کے اجلاس میں زیر غور تھی۔
وزیراعظم نے ڈی جی آئی ایس آئی کی توسیع کی تصدیق نہیں کی: وزیراطلاعات
پاکستان کے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی مدت ملازمت میں توسیع دیے جانے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ توسیع پالیسی میں ’تسلسل‘ کے لیے کی گئی ہے۔
سعودی میڈیا عرب نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیراعظم نے کہا کہ ’(پالیسی کے) تسلسل کے نکتے کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ کوئی بھی نظام تسلسل کو ترجیح دیتا ہے اور اس کی حمایت کرتا ہے۔‘
وزیر اعظم نے توسیع کی تصدیق نہیں کی ہے: وزیر اطلاعات
وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے اس انٹرویو پر تبصرہ کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے توسیع کے بارے میں کوئی تصدیق نہیں کی ہے بلکہ ان کے انٹرویو سے ایسا تاثر لیا گیا ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ڈی جی آئی ایس آئی کو توسیع دی جائی گی تو انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے جواب متعلقہ وزارت دفاع یا آئی ایس پی آر دے سکتی ہے۔
پاکستان کے خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلیجنس کے نئے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم نے بطور ڈی جی آئی ایس آئی نومبر 2021 میں اپنے عہدے کا چارج سنبھالا تھا۔
وہ اس عہدے پر تعیناتی سے قبل کراچی کے کور کمانڈر کی حیثیت سے ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے۔
آئی ایس آئی کے سربراہ کون ہیں؟
لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم، لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی جگہ ڈی جی آئی ایس آئی بنے تھے، جو تقریبا ڈھائی سال سے زیادہ عرصہ تک اس عہدے پر فائز رہے۔
پاکستان فوج کی جانب سے لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کو آئی ایس آئی کا نیا سربراہ مقرر کرنے کا اعلان چھ اکتوبر کو سامنے آیا تھا تاہم وزیر اعظم ہاوس کی جانب سے اس تقرری کا نوٹیفیکشن تین ہفتے بعد سامنے آیا۔
نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق 28 پنجاب رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے لیفٹینٹ جنرل ندیم انجم فوج میں ایک سخت گیر اور خاموش طبع افسر کے طور پر مشہور رہے ہیں۔
ان کا تعلق 77ویں لانگ کورس سے ہے۔ انھوں نے بطور بریگیڈیئر فوجی آپریشنز کے دوران قبائلی علاقوں میں بریگیڈ کمانڈ کی جبکہ وہ کراچی کور میں چیف آف سٹاف بھی تعینات رہ چکے ہیں۔
وہ رائل کالج آف ڈیفینس سٹڈیز سے تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ خیال رہے کہ جنرل پرویز مشرف اور جنرل راحیل شریف بھی اسی کالج کے فارغ التحصیل تھے۔
اس کورس کے بعد وہ بطور میجر جنرل انسپکٹر جنرل ایف سی بلوچستان نارتھ مقرر ہوئے اور وہیں لیفٹننٹ جنرل کے طور پر کچھ عرصہ کمانڈنٹ سٹاف کالج بھی رہے۔
کراچی میں فوج کے ہاتھوں آئی جی سندھ کے مبینہ اغوا کے واقعے کے بعد انھیں لیفٹیننٹ جنرل ہمایوں عزیز کی جگہ کراچی کا کور کمانڈر مقرر کیا گیا تھا۔
کسی کو بھی عدالت کے کنڈکٹ کا خمیازہ نہیں بھگتا چاہیے: سپریم کورٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی سپریم کورٹ میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو سنگین غداری مقدمے میں خصوصی عدالت کی طرف سے ملنے والی سزائے موت کے خلاف اپیل مقرر کرنے کی متفرق درخواست منظور کرلی ہے۔
عدالتی حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ اپیل کنندہ یا اس کے وکیل کو اپیل مقرر نہ ہونے پر ذمہ دار نہیں کہا جا سکتا، کسی کو بھی عدالت کے کنڈکٹ کا خمیازہ نہیں بھگتا چاہیے۔¬
عدالی کا کہنا تھا ’اپیل کسی کی بھی سزا یافتہ شخص کا حق ہے، پرویز مشرف کی اپیل کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کی متفرق درخواستیں منظور کی جاتی ہیں۔‘
عداکت نے رجسٹرار آفس کو مشرف کی سزا کے خلاف اپیل کو نمبر لگا کر مقرر کرنے کی ہدایت کی۔
سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نےخصوصی عدالت میں ٹرائل کی آئینی حیثیت سے متعلق سماعت شروع کردی گئی ہے۔
