یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے
پاکستان سے تازہ ترین خبروں سے متعلق اس لنک پر کلک کریں۔
پنجاب کی نگراں حکومت نے سموگ کے تدارک لاہور ڈویژن سمیت صوبے کے فضائی آلودگی سے متاثرہ چند شہروں میں جمعرات (نو نومبر) سے اتوار (12 نومبر) تک کے لیے سمارٹ لاک ڈاؤن کی طرز پر اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم نے آٹھ فروری کے عام انتخابات مل کر لڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو مسائل سے نکالنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے گی اور ایک چھ رکنی کمیٹی دونوں جماعتوں کے اشتراک کے حوالے سے حتمی تجاویز قیادت کو 10 روز میں پیش کرے گی۔
پاکستان سے تازہ ترین خبروں سے متعلق اس لنک پر کلک کریں۔
پنجاب کی نگراں حکومت نے سموگ کے تدارک لاہور ڈویژن سمیت صوبے کے فضائی آلودگی سے متاثرہ چند شہروں میں جمعرات (نو نومبر) سے اتوار (12 نومبر) تک کے لیے سمارٹ لاک ڈاؤن کی طرز پر اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
اس ضمن میں جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق لاہور ڈویژن (بشمول ڈسٹرکٹ لاہور، ننکانہ صاحب، شیخوپورہ اور قصور)، ڈسٹرکٹ گجرانوالہ، ڈسٹرکٹ حافظ آباد اور ڈسٹرکٹ ناروال میں اس دورانیے میں تمام نجی و سرکاری تعلیمی ادارے اور دفاتر، مارکیٹیں، شاپنگ مالز، ریسٹورنٹ، سینیما اور جم بند رہیں گے۔ اس دوران اگرچہ پبلک ٹرانسپورٹ کھلی رہے گی تاہم عوامی آمد و رفت کو محدود کیا جائے گا۔
اس شہروں میں واقع میڈیکل سٹورز، فارمیسیز، پیٹرول پمپ، تندور، بیکریاں، ڈیری شاپس وغیرہ کو اس پابندی سے استثنیٰ ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد کی ضلعی عدالت نے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کے جسمانی ریمانڈ میں ایک دن کی توسیع کردی ہے۔
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں فواد چوہدری کے خلاف فراڈ کیس کی سماعت ہوئی جہاں پولیس نے ان کے سرپر کپڑا ڈال کرعدالت میں پیش کیا۔
واضح رہے کہ تین روز قبل فواد چوہدری کے بھائی فیصل چوہدری نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ فواد چوہدری کو کچھ سادہ اور کچھ باوردی افراد نے گھر سے اس وقت اٹھایا لیا جب وہ ناشتہ کر رہے تھے۔
گزشتہ سماعت پر پولیس نے فواد چوہدری سے پستول اور نقدی ریکور کرنے کے لیے پانچ روزہ ریمانڈ کی استدعا کی تھی تاہم اس وقت عدالت نے دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔
دوران سماعت فواد چوہدری نے اپنے بھائی وکیل فیصل چوہدری سے مکالمہ کیا کہ ’توہین عدالت کی درخواست دائر کریں مجھے سر پرکپڑا ڈال کرعدالت لایا گیا ہے۔‘
اس پر وکیل صفائی فیصل چوہدری نے عدالت میں کہا کہ میں توہین عدالت کی درخواست دائرکرنا چاہتا ہوں کیونکہ گزشتہ سماعت پر بھی عدالت نے سر پر کپڑا ڈالنے سے منع کیا گیا تھا۔
وکیل صفائی فیصل چوہدری نے موقف اختیار کیا کہ فواد چوہدری سابق وفاقی وزیر، سپریم کورٹ کے وکیل ہیں۔
دوران سماعت پراسیکیوٹر عدنان علی نے ملزم فواد چوہدری کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ فواد چوہدری سے پیسوں کی وصولی اور پستول برآمد کروانی ہے ان کی شناخت پریڈ بھی کروانی ہے کیونکہ فواد چوہدری پولیس کے ساتھ تعاون نہیں کررہے۔
وکیل صفائی علی بخاری نے کہا کہ فواد چوہدری پر ایک صرف الزام کی بنیاد پر بلائنڈ مقدمہ درج کرلیا گیا۔ عدالتی احکامات عدالت نے نافذ کروانے ہیں اور اس کے لیے مجھے توہین عدالت کی درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ فواد چوہدری کا طبی معائنہ کروانے کے احکامات بھی عدالت نے نافذ کروانے ہیں۔
اس دوران وکیل صفائی علی بخاری کی جانب سے جسمانی ریمانڈ سے متعلق اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کا حوالہ دیا گیا۔ پرایسکیوٹر عدنان علی وکیل صفائی اگر گزشتہ 2 روزہ جسمانی ریمانڈ سے مخالفت کرنی تھی تو مجسٹریٹ کا فیصلہ چیلنج کرنا چاہیے تھا۔
فیصل چوہدری نے فواد چوہدری کی ہتھکڑی کمرہ عدالت میں کھولنے کی استدعا کردی۔ فواد چوہدری کے وکیل نے ان کے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی جس پرعدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا جو کچھ دیر بعد سناتے ہوئے ان کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سموگ کی صورتحال پر ہونے والے ایک اجلاس کے بعد پنجاب کی نگراں حکومت نے صوبے بھر میں 10 نومبر (جمعہ) کو صوبے بھر میں چھٹی کا اعلان کیا ہے۔ یاد رہے کہ نو نومبر (جمعرات) کو یوم اقبال کی مناسبت سے پہلے ہی عام تعطیل کا اعلان کیا جا چکا ہے۔
نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ چھٹی کے دنوں میں گھر پر رہیں اور باہر نکلتے ہوئے ماسک کا ضروری استعمال کریں۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ 11 نومبر (ہفتے) کو صوبے بھر میں مارکیٹیں اور پارک بند رہیں گی تاہم پبلک ٹرانسپورٹ چلتی رہے گی۔ تاہم جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو صوبے بھر میں شادی ہال کھلے رہیں گے۔
انھوں نے کہا کہ سموگ سے متاثرہ علاقوں میں بچوں میں آنکھوں اور سانس کی شکایات رپورٹ ہو رہی ہیں جن کے تدارک کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت لاہور دنیا کا سب سے آلودہ شہر بن چکا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کا مقصد سموگ کی موجودہ صورتحال پر کچھ حد تک قابو پانا ہے۔

،تصویر کا ذریعہScreengrab
پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ہم نے عمران خان کو اس لیے نہیں ہٹایا کہ ہمیں اقتدار کی ضرورت تھی بلکہ عوام کے حقوق اور ان کے مسائل کے حل کے لیے کام کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔
انھوں نے گھوٹکی میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے صدارتی اختیارات کم کر کے پارلیمان کو طاقتور کیا، اس کے پیچھے بھی ایک سوچ تھی۔
’اگر میں ایسا نہ کرتا تو کوئی بھی آ کر ان اختیارات کو ختم کر کے آمریت کا نظام رائج کر سکتا تھا۔ اب ایسا کرنے کے لیے اس مارشل لا لگانا پڑے گا جو آج کی صدی میں آسان نہیں ہے۔‘
آصف زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ’اب بھی جب ہم حکومت تھے تو ہم نے بہت کوشش کی لیکن دوستوں نے ہماری باتیں نہیں مانیں جس سے ہمیں پانچ سے 10 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔‘
آصف زرداری نے کہا کہ ’ہم مخالفین کو ویلکم کرتے ہیں جو ہمارے خلاف الیکشن لڑنا چاہتے ہیں، جمہوریت میں جب مقابلہ ہو گا تب ہی بہتر ہو گا۔‘
انھوں نے کہا کہ میں ملک سے باہر اس لیے نہیں جاتا کیونکہ مجھے مسئلہ یہ ہے کہ میں دوسروں کو کیا منھ دکھاؤں گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارے افغان بھائی یہاں آئے، اب ہم چاہتے ہیں کہ وہ واپس جائیں لیکن جائیں کس پہ، وہاں ہے کیا جو وہ واپس جائیں۔
’کیونکہ بات ہماری جانب سے آتی ہے اس لیے ان کو لگتا ہے کہ شاید اس میں ہمارا فائدہ ہے، لیکن ایسا نہیں ہے ہم ملک کا سوچتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہPublic News
پاکستان مسلم لیگ ن اور متحدہ قومی مومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) نے آٹھ فروری کے عام انتخابات مل کر لڑنے کا اعلان کیا ہے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما سعد رفیق اور ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال نے آپس میں ملاقات کے بعد اس حوالے سے اعلان کیا ہے۔
اس دوران مصطفیٰ کمال نے کہا یہ اتحاد وزارتوں کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کے مسائل حل کرنے کے لیے ہو گا۔
سعد رفیق نے اس دوران یہ بھی اعلان کیا کہ پاکستان مسلم ن کے بانی نواز شریف اور صدر شہباز شریف نے بشیر میمن کو پاکستان مسلم لیگ ن سندھ کا صدر نامزد کیا ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے وفد نے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں جس میں ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفی کمال شامل تھے، نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نوازشریف اور صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔
دونوں جماعتوں کی جماعتوں کی جانب جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق ’دونوں جماعتوں نے اتفاق کیا کہ پاکستان کے عوام کو موجودہ مسائل سے نکالنے اور پاکستان کو دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں گی۔‘
اعلامیے کے مطابق ’دونوں جماعتوں نے چھ رکنی کمیٹی قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا جو صوبہ سندھ بالخصوص اس کے شہری علاقوں کے مسائل کے حل کے لیے جامع چارٹر تیار کریں گی۔
’کمیٹی دونوں جماعتوں کے درمیان اشتراک کے لیے حتمی تجاویز قیادت کو 10 روز میں پیش کریں گی۔‘
اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار کو کسی اور مقدمہ میں گرفتاری سے روکنے کے حکم میں 21 نومبر تک توسیع کر دی ہے۔
منگل کے دن اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس بابر ستار نے شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار کی ایم پی او آرڈر کے خلاف کیس کی سماعت کی تو ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال نے ایم پی او آرڈر سے متعلق ڈی سی کے اختیارات پر دلائل دیے۔
دلائل کے دوران جسٹس بابر ستار نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ آپ صرف اسلام آباد کی حد تک ڈی سی کے اختیارات سے متعلق دلائل دیں۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ1967 میں دارالحکومت اسلام آباد منتقل ہوا جبکہ انڈیا کا وفاقی دارالحکومت 1911 میں کولکتہ سے دہلی منتقل کیا گیا اور دلی میں بھی چیف کمشنر کے پاس سابق وفاقی دارالحکومت کے اختیارات تھے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس وقت گورنر کے احکامات پر پر چیف کمشنر کی تعیناتی کی جاتی تھی، اب گورنر کی بجائے یہ اختیار صدر کے پاس ہے۔
جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ اس وقت منتخب حکومتیں نہیں تھیں، نوآبادیاتی نظام تھا۔ کیا 1973 کے آئین میں بھی صدر کے اختیارات کو پرانے نوآبادیاتی اختیارات کے مطابق دیکھا جائے؟
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ دلی 1992 تک اسی طرح ریگولیٹ ہوتا رہا اور پھر آئینی ترمیم کی گئی۔ اس پر جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ انڈیا کو اب چھوڑ دیں، واپس آئیں اور آگے اپنے دلائل دیں۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ مغربی پاکستان میں جتنے قوانین نافذ تھے ان کا نفاذ اسلام آباد پر بھی کر دیا گیا۔ جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ آپ کہتے ہیں کہ جو قوانین مغربی پاکستان پر نافذ تھے سارے اسلام آباد میں بھی نافذ ہو گئے؟
ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد اسٹیٹ کونسل آئندہ سماعت پر دلائل دینگے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر موجودہ ڈپٹی کمشنر کو اختیارات تفویض کیے جانے سے متعلق دلائل دیں۔
عدالت نے بعد ازاں مقدمے کی سماعت 21 نومبر تک ملتوی کر دی۔
ایم کیو ایم کا ایک وفد پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت سے ملاقات کے لیے لاہور پہنچ چکا ہے جو ماڈل ٹاؤن میں نواز شریف، شہباز شریف سے ملے گا۔
اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے شہباز شریف اور ایم کیو ایم سربراہ خالد مقبول صدیقی کے درمیان ٹیلی فون رابطہ بھی ہوا جس کے بعد ایم کیو ایم کا وفد لاہور پہنچا ہے۔
لاہور ایئر پورٹ پر ن لیگ رہنماوں نے خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال کا استقبال کیا۔
اس ملاقات کا ایجنڈا واضح نہیں تاہم یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب الیکشن کمیشن کی جانب سے عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا جا چکا ہے۔
دوسری جانب ن لیگ کی جانب سے پارٹی کے منشور کے لیے ایک کمیٹی کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز بھی تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے اور انڈیکس 386 پوائنٹس اضافے کے بعد 54000 پوائنٹس کی سطح عبور کر کے اس وقت 54246 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
سٹاک مارکیٹ کے انڈیکس نے پہلی بار 54000 پوائنٹس کی سطح عبور کی۔
یاد رہے کہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں گزشتہ کئی روز سے تیزی کا رجحان جاری ہے اور گزشتہ ہفتے انڈیکس نے پہلی بار 53000 پوائنٹس کی سطح عبور کی تھی۔
ماہرین کے مطابق پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کی وجہ پاکستان اور آئی ایم ایف مذاکرات، کمپنیوں کے بہتر مالیاتی نتائج اور اگلے انتخابات کے لیے تاریخ کا اعلان ہیں۔
بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سے متعلق تمام تازہ ترین خبریں آپ کو یہاں ملیں گی۔