پاکستان کی سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے مقدمات چلانے سے متعلق مختصر تحریری حکمنامہ جاری کر دیا ہے۔
عدالت کے پانچ رکنی بینچ نے یہ متفقہ فیصلہ پیر کی سہ پہر کو سنایا ہے۔ جسٹس اعجاز الحسن کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے چھ صفحات پر مشتمل مختصر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ عام شہریوں کے مقدمات فوجی عدالت میں نہ چلانے سے متعلق فیصلہ متفقہ ہے۔
سپریم کورٹ نے عام شہریوں کے ٹرائل کی اجازت دینے والی آرمی ایکٹ میں موجود شق ٹو ون ڈی ہی کالعدم قرار دے دی ہے۔
تحریری فیصلے کے مطابق جسٹس یحیٰی آفریدی نے صرف اس شق کی ایک دفعہ پر اپنا فیصلہ محفوظ کیا ہے مگرانھوں نے عام شہریوں کے فوجی عدالت میں مقدمات کالعدم قرار دینے کے دیگر چار ججوں کے فیصلے سے اتفاق کیا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل کی طرف سے نو اور دس مئی کے واقعات میں ملوث تمام 103 گرفتار افراد کی فہرست یا اس کے علاوہ بھی اگر کوئی عام شہری ان واقعات میں کسی بھی طرح ملوث ہیں تو ان کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا ہے۔
عدالت نے قرار دیا ہے کہ ایسے تمام افراد کے خلاف مقدمات عام فوجداری عدالتوں کے سامنے چلائے جائیں گے۔
فیصلے کے مطابق ملک کے قانون کے تحت یہ عدالتیں خصوصی طور پر بھی قائم کی جا سکتی ہیں یا پہلے سے قائم عام عدالتیں بھی ان مقدمات پر سماعت کر سکتی ہیں۔
درخواست گزار کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کے مطابق کالعدم قرار دی گئی شق میں عام شہریوں کے خلاف بھی فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ان کے مطابق سیکشن 59 کا تعلق عام فوجداری قانون سے ہے اور فوجی عدالتوں میں فوجداری جرائم کی بھی سزا لاگو کی جاتی تھی۔
انعام الرحیم کے مطابق عدالتی فیصلے سے ایک بات واضح ہو گئی ہے کہ اب ملک میں کسی بھی عام شہری پر کتنے ہی سنگین الزامات کیوں نہ ہوں مگر اس کے خلاف مقدمہ فوجی عدالت میں نہیں جا سکتا۔
ان کے مطابق تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے تمام کارکنان کو کالعدم قرار دی گئی ٹو ون ڈی شق کے تحت گرفتار کیا گیا تھا، جسے عدالت نے اب سرے سے کالعدم قرار دیا ہے۔