جسٹس فائز کے خلاف ریفرنس سے میرا تعلق نہیں، عمران خان کی مقبولیت میں اضافے کا کریڈٹ نگران حکومت کو جاتا ہے: صدر علوی

وفاقی وزارت داخلہ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانی زلفی بخاری کے انٹرپول کے ذریعے ریڈ وارنٹ کے اجرا کے عمل کی منظوری دے دی ہے۔ دوسری جانب صدر عارف علوی نے کہا ہے کہ عمران خان آج بھی ان کے لیڈر ہیں اور ان کی مقبولیت میں اضافے کا کریڈٹ نگراں حکومت کو جاتا ہے۔

لائیو کوریج

  1. نواز شریف آج اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے سرینڈر کریں گے, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    نواز شریف

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سابق وزیراعظم نواز شریف آج اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے سرینڈر کریں گے جہاں منگل کے دن تک ن لیگ کے سربراہ کی حفاظتی ضمانت منظور کی گئی تھی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب کی جانب سے نواز شریف کو حفاظتی ضمانت دینے پر اعتراض نہ کیے جانے کے بعد حکم دیا تھا کہ 24 اکتوبر تک نواز شریف کو گرفتار نہ کیا جائے۔

    نواز شریف کی نیب ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیلیں بحال کرنے کی درخواستوں پر بھی آج سماعت ہو گی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب درخواستوں پر سماعت کریں گے۔

  2. بلاول بھٹو کا تمام سیاسی جماعتوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ دینے کا مطالبہ

    bilawal

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے تمام جماعتوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    سپریم کورٹ بار کی تقریب سے خطاب میں بلاول بھٹو نے الیکشن کمیشن سے فوری الیکشن کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن جلد الیکشن کی تاریخ اور شیڈول کا اعلان کرے۔

  3. فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل پر سپریم کورٹ کے مختصر حکمنامے میں کیا کہا گیا ہے؟

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے مقدمات چلانے سے متعلق مختصر تحریری حکمنامہ جاری کر دیا ہے۔

    عدالت کے پانچ رکنی بینچ نے یہ متفقہ فیصلہ پیر کی سہ پہر کو سنایا ہے۔ جسٹس اعجاز الحسن کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے چھ صفحات پر مشتمل مختصر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ عام شہریوں کے مقدمات فوجی عدالت میں نہ چلانے سے متعلق فیصلہ متفقہ ہے۔

    سپریم کورٹ نے عام شہریوں کے ٹرائل کی اجازت دینے والی آرمی ایکٹ میں موجود شق ٹو ون ڈی ہی کالعدم قرار دے دی ہے۔ تحریری فیصلے کے مطابق جسٹس یحیٰی آفریدی نے صرف اس شق کی ایک دفعہ پر اپنا فیصلہ محفوظ کیا ہے مگرانھوں نے عام شہریوں کے فوجی عدالت میں مقدمات کالعدم قرار دینے کے دیگر چار ججوں کے فیصلے سے اتفاق کیا ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل کی طرف سے نو اور دس مئی کے واقعات میں ملوث تمام 103 گرفتار افراد کی فہرست یا اس کے علاوہ بھی اگر کوئی عام شہری ان واقعات میں کسی بھی طرح ملوث ہیں تو ان کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا ہے۔

    عدالت نے قرار دیا ہے کہ ایسے تمام افراد کے خلاف مقدمات عام فوجداری عدالتوں کے سامنے چلائے جائیں گے۔ فیصلے کے مطابق ملک کے قانون کے تحت یہ عدالتیں خصوصی طور پر بھی قائم کی جا سکتی ہیں یا پہلے سے قائم عام عدالتیں بھی ان مقدمات پر سماعت کر سکتی ہیں۔

    درخواست گزار کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کے مطابق کالعدم قرار دی گئی شق میں عام شہریوں کے خلاف بھی فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانے کی اجازت دی گئی تھی۔ ان کے مطابق سیکشن 59 کا تعلق عام فوجداری قانون سے ہے اور فوجی عدالتوں میں فوجداری جرائم کی بھی سزا لاگو کی جاتی تھی۔

    انعام الرحیم کے مطابق عدالتی فیصلے سے ایک بات واضح ہو گئی ہے کہ اب ملک میں کسی بھی عام شہری پر کتنے ہی سنگین الزامات کیوں نہ ہوں مگر اس کے خلاف مقدمہ فوجی عدالت میں نہیں جا سکتا۔

    ان کے مطابق تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے تمام کارکنان کو کالعدم قرار دی گئی ٹو ون ڈی شق کے تحت گرفتار کیا گیا تھا، جسے عدالت نے اب سرے سے کالعدم قرار دیا ہے۔

  4. فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ ’مایوس کن‘ ہے: صوبائی وزیر اطلاعات

    نگران صوبائی وزیر اطلاعات بلوچستان جان اچکزئی نے کہا ہے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے خلاف مقدمات پر دائر درخواستوں پر سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں لیکن یہ فیصلہ ’مایوس کُن‘ ہے۔

    اس حوالے سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے ماضی کے فیصلوں میں فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کو ویلیڈیٹ کیا تھا اور پارلیمان نے اس ضمن میں باقاعدہ منظوری بھی دی گئی تھی۔

    نگران صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے ماضی میں دیے گئے چار فیصلوں کے یکسر متصادم ہے۔ پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت ہزاروں عام شہریوں کے مقدمات نمٹائے جا چکے ہیں جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان اِن قوانین کی روشنی میں متعدد فیصلے بھی دے چکی ہے۔

    صوبائی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ ہزاروں سویلین فوج کے اداروں اور تنصیبات پر کام کرتے ہیں اور حالیہ فیصلے کے بعد اُن افراد میں سے کوئی جتنا بھی سنگین جرم کرئے تو انھیں فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں کیا جا سکے گا۔

    نگران صوبائی وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ اعتزاز احسن نے یہ پٹیشن صرف اور صرف سیاسی ریلیف فراہم کرنے کے لیے دائر کی تھی تاکہ سنگین واقعات میں ملوث افراد کو چھڑوایا جا سکے۔

    نگران صوبائی وزیر اطلاعات بلوچستان جان اچکزئی نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات کو سیاسی نکتہ نظر سے نہیں بلکہ نیشنل سکیورٹی کے نکتہ نظر سے دیکھنا چاہیے تھا۔

  5. بی بی سی اردو کے لائیو پیج پر خوش آمدید

    24 اکتوبر سے پہلے کی خبریں پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کیجئے۔

  6. جب قبائلی جنگجوؤں نے کشمیر پر دھاوا بولا