جسٹس فائز کے خلاف ریفرنس سے میرا تعلق نہیں، عمران خان کی مقبولیت میں اضافے کا کریڈٹ نگران حکومت کو جاتا ہے: صدر علوی
وفاقی وزارت داخلہ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانی زلفی بخاری کے انٹرپول کے ذریعے ریڈ وارنٹ کے اجرا کے عمل کی منظوری دے دی ہے۔ دوسری جانب صدر عارف علوی نے کہا ہے کہ عمران خان آج بھی ان کے لیڈر ہیں اور ان کی مقبولیت میں اضافے کا کریڈٹ نگراں حکومت کو جاتا ہے۔
لائیو کوریج
عمران خان کی مقبولیت میں اضافے کا کریڈٹ نگران حکومت کو جاتا ہے: صدر عارف علوی
،تصویر کا ذریعہScreen Grab
صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ عمران خان آج بھی میرے لیڈر ہیں۔ ان کی مقبولیت میں اضافے کا کریڈٹ نگران حکومت کو جاتا ہے۔
جیو نیوز کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں اینکر حامد میر کے سوالات کے جواب کے دوران صدر عارف علوی نے کہا کہ اگر ایوان صدر کے بجائے عمران خان کی کابینہ میں وزیر ہوتا تو آج جیل میں ہوتا۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کے خط کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔
کوئٹہ میں میڈیا پرقدغن لگانے کی کوششوں کے خلاف صحافیوں کا مظاہرہ, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں میڈیا پرقدغن لگانے کی مبینہ کوششوں کے خلاف صحافیوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
مظاہرہ بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے زیراہتمام کوئٹہ پریس کلب کے باہرکیا گیا۔
مظاہرے کے شرکاء نے ڈپٹی کمشنرکوئٹہ کی جانب سے میڈیا کوایک سیاسی جماعت کے احتجاجی جلسے کو کوریج سے روکنے کے اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدرعرفان سعید نے الزام عائد کیا کہ ڈپٹی کمشنرکوئٹہ میڈیا کو ریموٹ کنٹرول کے زریعے چلانا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میڈیا پرایسی قدغنیں لگانے کی کوششیں آمرانہ دورمیں بھی نہیں کی گئیں۔ میڈیا پرکسی بھی پابندی کے اقدام کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
یہ تاثر غلط ہے کہ صرف افغان شہریوں کو نکال رہے ہیں: سرفراز احمد بگٹی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہAFP
نگران وفاقی وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی نے کہا ہے کہ غیر ملکیوں کے انخلا سے متعلق الٹی میٹم تمام غیر ملکیوں کے لئے ہیں، یہ تاثر غلط ہے کہ صرف افغان شہریوں کو نکال رہے ہیں۔ یکم نومبر کے بعد صرف پاسپورٹ اور ویزہ ہی پاکستان داخلہ ہوسکے گا
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی نے کہا کہ ’ہم نے غیر قانونی مقیم افراد سے متعلق بات کی تھی لیکن ایسا پیغام گیا کہ شاید صرف افغان شہریوں کو نکال رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ کسی کے پاس ریفیوجی کارڈ ہے یا ویزا ہے تو وہ ہمارا مہمان ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’تاثر دیا جا رہا ہےکہ یہ نسلی معاملہ ہے لیکن یہ نسلی معاملہ نہیں ہے، ہم تمام غیرقانونی طورپر مقیم افراد کو نکالنے کی بات کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ملک میں غیرقانونی طور پر مقیم بہاریوں کا معاملہ میرے علم میں نہیں تھا تاہم اس معاملے کو دیکھیں گے۔‘
نگران وزیر داخلہ نے ناکشاف کیا کہ ایران سے غیر قانونی طور پر بلوچ پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں لیکن تمام غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو پاکستان سے نکالنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
نگران وزیر داخلہ نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یکم نومبر کی تاریخ میں فی الوقت کسی توسیع کی تجویز پیش نہیں کی گئی۔‘
زلفی بخاری کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کر کے پاکستان لانے کا فیصلہ
،تصویر کا ذریعہGOP
وزارت داخلہ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانی زلفی بخاری کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی منظوری دے دی۔
وزارت داخلہ نے ایف آئی اے کو زلفی بخاری کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کے لیے انٹرپول سیکریٹریٹ فرانس کو درخواست بھیجنے کی ہدایت کی ہے۔
پی ٹی آئی رہنما کے خلاف 18 مارچ کو تھانہ گولڑہ میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہوا تھا جس کے بعد سے وہ بیرون ملک میں مقیم ہیں۔
ایف آئی اے انٹرپول کے ذریعے زلفی بخاری کی گرفتاری کی قانونی کارروائی شروع کرے گا۔
دو ماہ کی کشیدگی کے بعد وڈھ میں معمولاتِ زندگی بحال: ’لڑائی اتنی شدید تھی کہ ہمیں نقل مکانی کرنی پڑی‘
کناہن گینگ: ایک ارب یورو بٹورنے والا آئرلینڈ کا ’سب سے دولتمند، طاقتور اور بے رحم‘ جرائم پیشہ گروہ
العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا کس قانون کے تحت معطل کی گئی اور کیا پنجاب کی نگران حکومت کے پاس یہ اختیار تھا؟
فلپائن کا زنگ آلود اور ڈوبتا بحری جہاز متنازع پانیوں میں چین کے خلاف کیسے ڈٹا ہوا ہے؟
نوازشریف کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس کیس کی سماعت کا تحریری فیصلہ جاری: ’10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم‘, شہزاد ملک/ بی بی سی اردوڈاٹ کام، اسلام آباد
نوازشریف کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس کیس کی منگل کے روز ہونے والی سماعت کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے۔
چار صفحے پر مشتمل تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نوازشریف کی جانب سے ضم شدہ پراپرٹی بحال کرنے کی درخواست دائر کی گئی جس کے تحت نیب کو نوازشریف کی ضم شدہ پراپرٹی بحال کرنے سے متعلق درخواست پر آئندہ سماعت کے لیے نوٹس جاری کیا جاتا ہے۔‘
فیصلے کے مطابق ’نوازشریف کی حاضری کے لیے وارنٹ جاری کیے گئے تھے جس پر وہ عدالت میں پیش ہوئے۔‘
تحریری فیصلے میں بتایا گیا کہ ’نیب کے مطابق نوازشریف کی گرفتاری درکار نہیں، وارنٹ کا مقصد عدالت حاضری تھا جو مکمل ہو گیا۔ نیب کے بیان اور دلائل کی روشنی میں نوازشریف کے وارنٹ گرفتاری معطل کیے جاتے ہیں۔‘
فیصلے کے مطابق ’نوازشریف ضمانتی مچلکے جمع کروانے کے لیے تیار ہیں۔ نوازشریف کو 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا جاتا ہے۔‘
فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ حاضری سے استثنا کےلیے نوازشریف کے پلیڈر مقرر کرنے کی درخواست بھی دائر کی گئی ہے۔ وکیل صفائی کے مطابق نوازشریف بیمار ہیں، ہر سماعت پر عدالت پیش نہیں ہوسکتے جس کے باعث عدالتی کارروائی تاخیر کا شکار ہونے کا خدشہ ہے۔‘
نواز شریف کی جانب سے رانا محمد عرفان کو ان کا پلیڈر مقررکیا گیا ہے۔
فیصلے میں بتایا گیا کہ نیب پروسیکیوٹر کے مطابق پلیڈر کی درخواست پر کوئی اعتراض نہیں اور نوازشریف کی جانب سے رانا محمد عرفان ہر عدالتی پیشی پر حاضر ہو سکتے ہیں۔
نوازشریف کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت 20 نومبر تک ملتوی کی گئی ہے۔
عندلیب عباس سمیت پی ٹی آئی کی تین سابق رہنما خواتین استحکام پاکستان پارٹی میں شامل
،تصویر کا ذریعہScreen Grab
تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والی تین خواتین رہنماؤں نے جہانگیر ترین کی جماعت استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے۔
تحریک انصاف چھوڑ کر استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہونے والوں میں تحریک انصاف کی سابق ایم این اے عندلیب عباس، سعدیہ سہیل اور سمیرا بخاری شامل ہیں۔
استحکام پاکستان میں شمولیت کا اعلان انھوں نے پارٹی کے بانی جہانگیر ترین کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بعد کیا۔
پریس کانفرنس کے دوران عندلیب عباس کا کہنا تھا کہ کوئی فرد پارٹی سے بڑا نہیں ہوتا، ہم نے اب آگے دیکھنا ہے اور پاکستانی قوم کو مسائل سے نکالنا مقصد ہے۔
نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں دو دن کی توسیع, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام
،تصویر کا ذریعہPML-N@
اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ
ریفرنس اور ایون فیلڈ ریفرنس میں اپیلیں بحال کرنے سے متعلق درخواستوں پر سماعت کے
دوران مسلم لیگ ن کے قائد کی حفاظتی ضمانت میں مزید دو دن کی توسیع کر دی ہے۔
ضمانت میں توسیع دینے سے قبل عدالت نے نیب کے نمائندے سے
استفسار کیا کہ نیب کو ضمانت میں توسیع پر کوئی اعتراض ہے؟ جس کا جواب نیب کے
پراسیکیوٹر نے نفی میں دیا۔
اس موقع پر جسٹس گل حسن اورنگزیب نے نیب کے پراسیکیوٹر جنرل
سے دوبارہ استفسار کیا کہ ’شریعت کے تقاضے پورے کرتے ہوئے دوبارہ پوچھتے ہیں کیا
آپ (نواز شریف کو) گرفتار کرنا چاہتے ہیں؟ ’کیا نیب یہ کہہ رہا ہے کہ نواز شریف پر کرپشن اور کرپٹ پریکٹیسز کا الزام
برقرار ہے لیکن نواز شریف کو چھوڑ دیں؟‘
اس پر نیب پراسیکیوٹر نے دوبارہ کہا کہ نیب نواز شریف کو
گرفتار نہیں کرنا چاہتی۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے دوبارہ استفسار کیا کہ کیا چیئرمین
نیب پاکستان میں ہیں؟ اس پر نیب پراسیکیوٹر نے آگاہ کیا کہ چیئرمین نیب پاکستان میں
ہی ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کے سامنے دو اپیلیں زیر سماعت ہیں،
جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ وہ ان کیسز میں عدالت کی مکمل معاونت کریں گے جبکہ
نیب کلئیر ہے کہ فی الحال عدالت کے سامنے
حفاظتی ضمانت کا معاملہ ہے۔
عدالت نے نیب کے اس بیان کے بعد نواز شریف کی حفاظتی ضمانت
میں 26 اکتوبر تک توسیع کر دی ہے۔ ان درخواستوں پر آئندہ سماعت 26 اکتوبر کو ہو گی۔
ضمانت میں توسیع پر اعتراض نہیں مگر نواز شریف کو توجیح پیش کرنا ہو گی کہ وہ کیوں اشتہاری ہوئے: اسلام آباد ہائیکورٹ, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام
اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس اور ایون فیلڈ ریفرنس میں اپیلیں بحال کرنے سے متعلق درخواستوں پر سماعت کا آغاز ہو گیا ہے۔
چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا دو رکنی بینچ ان کیسز کی سماعت کر رہا ہے۔
سماعت کی ابتدا میں نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ روسٹرم پر آئے اور عدالت کو آگاہ کیا کہ ان کی جانب سے دائر کردہ دو درخواستیں اپیلیں بحال کرنے سے متعلق ہیں۔
اس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ اپیلوں کی بحالی روٹین (معمول) کا معاملہ نہیں اور عدالت کو مطمئن کرنا ہو گا کہ آپ کے موکل اتنا عرصہ عدالت سے غیر حاضر کیوں رہے؟
اس موقع پر بینچ کے رکن جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ ’ہم نے آپ کی درخواستیں پڑھی ہیں، جب ڈیکلریشن اس قسم کا دیا جائے تو کیا وہ (موکل) کہہ سکتا ہے کہ اپیلیں بحال کریں؟‘
اس موقع پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ ’نواز شریف نے جیسٹیفائی (جواز پیش) کرنا ہے کہ وہ کیوں اشتہاری ہوئے؟‘
چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ انھیں یہ وضاحت پیش کرنا ہو گی کہ وہ عدالت کیوں پیش نہیں ہوتے رہے۔
اس موقع پر نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ نواز شریف جان بوجھ کر غیر حاضر نہیں رہے بلکہ وہ عدالت کی اجازت سے بیرون ملک علاج کی غرض سے گئے تھے اور اس ضمن میں میڈیکل رپورٹس باقاعدگی سے عدالت میں جمع کروائی جاتی رہی ہیں
اس موقع پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا تھا مگر آپ لوگ دوسری عدالت چلے گئے، نواز شریف کی حراست اس عدالت کے تحت تھی مگر آپ دوسری عدالت کیوں گئے؟
اس پر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ دوسری عدالت سے ریلیف سے متعلق ہم نے اس عدالت کو آگاہ کیا تھا۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ عدالت دوسرے فریق کو نوٹس کرکے سننا چاہتی ہے اس لیے عدالت ستغاثہ کو نوٹس کرے گی۔
نواز شریف کے وکیل نے دلیل دی کہ ’ہم فوجداری کیس میں کھڑے ہیں، اس میں حقوق کی بات اہم ہے۔‘
اس کے بعد اعظم نذیر تارڑ نے نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں توسیع کی استدعا کر دی۔ عدالت میں موجود پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ اگر حفاظتی ضمانت میں توسیع کر دی جائے تو نیب کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔
نیب کے نمائندے کے اس جواب پر جسٹس میاں گل حسن نے کہا کہ وہ ان کیسز میں پانچ سال بعد سماعت کر رہے ہیں اور اب پانچ سال بعد وہ یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا یہ وہی نیب ہے جو پہلے ان مقدمات میں پیش ہوتی رہی ہے؟
کیس کی سماعت فی الحال جاری ہے۔
نیب ریفرنسز میں سزا کے خلاف اپیل کا حق بحال کرنے کا کیس: نواز شریف اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف
نیب ریفرنسز میں سزا کے خلاف اپیل کا حق بحال کرنے کی درخواستوں پر سماعت میں پیش
ہونے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے ہیں۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کی آج (منگل)
تک کی حفاظتی ضمانت منظور کر رکھی ہے۔ چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں اسلام
آباد ہائیکورٹ کا دو رکنی بینچ ان درخواستوں پر سماعت کرے گا۔ بینچ کے دوسرے رکن جسٹس
میاں گل حسن اورنگزیب ہیں۔
اس سے قبل نواز شریف کے وکیل نے عدالت میں تین مختلف
درخواستیں دائر کی تھیں جس میں توشہ خانہ
ریفرنس میں نواز شریف کی ضم شدہ پراپرٹی کو ریلیز کرنے کی درخواست اور عدالت میں
ضمانتی مچلکے جمع کروانے کی مہلت دینے سے متعلق درخواستیں بھی شامل ہیں۔
عدالتی روسٹرم کے مطابق ان کیسز کی سماعت آج دن ساڑھے تین
بجے ہونی تھی تاہم مسلم لیگ ن سے منسلک وکلا اور رہنماؤں کے کمرہ عدالت میں بڑی
تعداد میں موجودگی کے باعث یہ سماعت اب تاخیر کا شکار ہے۔
عدالتی عملے کی جانب سے کمرہ عدالت نمبر ا خالی کروانے کی متعدد
اپیلیں کی گئی ہیں۔ عدالتی عملے نے کہا ہے کہ جب تک کورٹ روم خالی نہیں ہو گا تب
تک بم ڈسپوزل سکواڈ سکیورٹی کلیئرنس نہیں کرے گا۔
عدالتی عملے کی جانب سے نواز شریف کیس میں مخصوص وکلا کے
علاوہ کورٹ رپورٹرز کو کورٹ روم نمبر 1 میں داخلے کی اجازت ہے تاہم وکلا اور ن لیگی
رہنما کمرہ عدالت خالی کرنے پر تاحال رضامند نہیں ہو رہے ہیں۔
ازالہ، مداوا یا سمجھوتا: عاصمہ شیرازی کا کالم
توشہ خانہ ریفرنس: نواز شریف حاضری لگانے کے بعد احتساب عدالت سے روانہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سابق وزیر اعظم اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت میں توشہ خانہ ریفرنس میں حاضری لگانے کے بعد روانہ ہو گئے ہیں۔
منگل کے دن نواز شریف کیخلاف جج محمد بشیر نے احتساب عدالت میں توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت کی تو انھوں نے نواز شریف کو روٹرم پر بلایا۔
نوازشریف کو روسٹرم پر بلا کر ان کی حاضری لگائی گئی جس کے بعد جج محمد بشیر نے انھیں عدالت سے جانے کی اجازت دی۔
توشہ خانہ کیس: نواز شریف احتساب عدالت پہنچ گئے, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سابق وزیر اعظم نواز شریف توشہ خانہ کیس میں حاضری لگوانے کے لیے اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت پہنچے ہیں۔
اس موقعے پر اعظم نذیر تاڑر، مریم نواز اور شہباز شریف سمیت دیگر قیادت بھی ان کے ہمراہ موجود تھی۔
نواز شریف کی حاضری کے موقع پر ن لیگ کارکنان بڑی تعداد میں جوڈیشل کمپلیکس کے اندر اور باہر موجود تھے جہاں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
بریکنگ, پنجاب حکومت نے العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا معطل کر دی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پنجاب
کی نگران حکومت نے العزیزیہ ریفرنس کیس میں مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی سزا
معطل کر دی ہے۔
نگران
پنجاب کابینہ نے سرکولیشن کے ذریعے سزا معطلی کی منظوری دی ہے۔ میاں محمد نواز شریف
نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پنجاب حکومت کو درخواست دی تھی۔
پنجاب
کی نگران کابینہ نے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے سزا معطل کی، کرمنل پروسیجرل
کوڈ کے سیکشن 401 کے تحت نواز شریف کی سزا معطل کی گئی ہے۔
یاد
رہے کہ 24 دسمبر 2018 کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف
کو العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں سات سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی جس کے
بعد قومی احتساب بیورو نے انھیں گرفتار کر کے اڈیالہ جیل بھیج دیا تھا۔
توہین آمیز ریمارکس کا معاملہ: عمران خان کو پیش نہیں کیا جا سکتا، الیکشن کمیشن اڈیالہ جیل میں ٹرائل کرے، وزارت داخلہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کیخلاف توہین آمیز ریمارکس کے مقدمے میں وزارت داخلہ اور پولیس نے الیکشن کمیشن کو تجویز دی ہے کہ سابق وزیر اعظم کیخلاف مقدمہ کی سماعت اڈیالہ جیل میں کر لی جائے۔
منگل کے دن چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے خلاف توہین آمیز ریمارکس کے معاملے کی سماعت ہوئی تو چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو الیکشن کمیشن پیش نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے 24 اکتوبر کے لیے پروڈکشن آرڈر جاری کر رکھے تھے تاہم منگل کے دن ایڈیشنل آئی جی پنجاب اور وزارت داخلہ نے عمران خان کا اڈیالہ جیل میں ٹرائل کرنے کا مطالبہ کر دیا۔
الیکشن کمیشن ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں چار رکنی کمیشن کے سامنے پیش ہونے والے پی ٹی آئی چیئرمین کے وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ عمران خان کو پیش نہ کرنے سے الیکشن کمیشن کی توہین ہوئی ہے۔
ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ پہلے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو بلاتے رہے وہ نہیں آئے، آج چیئرمین پی ٹی آئی کیوں نہیں آئے؟
ایڈیشنل آئی جی آپریشنز پنجاب ڈاکٹر اسد خان نے کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں، اگر ان کو کچھ ہوا تو انارکی پھیل سکتی ہے۔
ڈاکٹر اسد خان نے کہا کہ اڈیالہ جیل سے یہاں لانے تک راستے میں کچھ بھی ہو سکتا ہے، راستے میں ایسے علاقے اور اونچی بلڈنگز ہیں۔
ایڈیشنل آئی جی پنجاب نے کہا کہ الیکشن کمیشن چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا ٹرائل اڈیالہ جیل میں کرے۔
ممبر الیکشن کمیشن نے سوال کیا کہ دو ماہ بعد الیکشن ہو رہے ہیں، آپ ایک آدمی کو سکیورٹی نہیں دے سکتے، پورے ملک میں الیکشن کے دوران کیسے سکیورٹی ممکن بنائیں گے؟
دوسری جانب سیکرٹری الیکشن کمیشن کی جانب سے بتایا گیا کہ پولیس اور وزارت داخلہ رپورٹ کے مطابق تھریٹ الرٹ ہیں اور اڈیالہ جیل کے حوالے سے بھی تھریٹ الرٹ ہے۔
سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ وزارت داخلہ کہہ رہی ہے کہ الیکشن کمیشن اڈیالہ جیل جا کر سماعت کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن ملزم کی پیشی کیلئے وزارت داخلہ کو پیرا ملٹری فورسز کی فراہمی کا حکم دے سکتا ہے۔
اس پر عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ایک بندے کو بلانے کے لیے بھی فوج اور رینجرز کو بلانا پڑے گا۔
الیکشن کمیشن نے آئندہ سماعت پر سیکرٹری الیکشن کمیشن کو طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ’پی ٹی آئی چیئرمین سے آپ لکھوا کر لے آئیں کہ میں معزرت کرتا ہوں‘ جس کے بعد توہین الیکشن کمیشن کی سماعت 13 نومبر تک ملتوی کر دی گئی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد عام شہریوں پر فوجی عدالتوں کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہو گئے؟
توشہ خانہ کیس: نواز شریف کی ضم شدہ پراپرٹی ریلیز کرنے کی درخواست, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سابق وزیر اعظم نواز شریف کے وکلا نے توشہ خانہ ریفرنس میں ن لیگ کے سربراہ کی ضم شدہ پراپرٹی ریلیز کرنے سمیت تین درخواستیں احتساب عدالت میں دائر کی ہیں۔
نواز شریف کے وکیل کی جانب سے دائر ایک درخواست میں توشہ خانہ کیس میں پلیڈر مقرر کرنے جبکہ تیسری درخواست عدالت میں ضمانتی مچلکے جمع کروانے کے لیے دائر کی گئی ہے۔
دوسری جانب سابق صدر آصف زرداری کی جانب سے فاروق ایچ نائیک نے حاضری سے استثنا کی درخواست دی۔
سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی توشہ خانہ کیس میں حاضری لگوانے عدالت پہنچے جس کے بعد وہ عدالت سے روانہ ہو گئے۔