یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
نئی لائیو پیج کوریج کے لیےیہاں کلککریں
پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں جمعے کے روز بھی کمی ریکارڈ کی گئی اور ایک ڈالر کی قیمت میں کاروبار کے آغاز پر 87 پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد ایک ڈالر کی قیمت 282.75 روپے کی سطح تک گر گئی۔ دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کے خلاف سائفر کیس سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سابق وزیر اعظم کو تاحال اڈیالہ جیل میں بی کلاس نہیں دی گئی۔
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
نئی لائیو پیج کوریج کے لیےیہاں کلککریں
بلوچستان کے وزیر اطلاعات جان محمد اچکزئی نے افغان عبوری حکومت کے وزیر دفاع ملا یعقوب کے پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطن کے حوالے سے بیان کو پاکستان کے اندورنی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں بلوچستان کے وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان ایک خودمختار ملک کی حیثیت سے افغان سمیت کسی بھی فرد کو نکال سکتا ہے۔ ’مذہبی اور سیاسی جماعتوں کی مدد طلب کر کے افغان وزیر دفاع نے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی ہے۔‘
جان محمد اچکزئی نے کہا کہ ’ہم کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے بلکہ مقررہ تاریخ کے بعد بلوچستان حکومت وفاقی حکومت کے فیصلے کے مطابق غیر ملکی شہریوں کو نکالنے کے لیے اقدامات کرے گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکیوں کو باوقار طریقے سے واپس بھیجا جائے گا اور ان کے انسانی حقوق کا خیال رکھا جائے گا۔ انھوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ عبوری افغان حکام پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں گے۔
دوسری جانب پاکستانی حکام کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو ملک سے نکل جانے کے لیے دی جانے والی ڈیڈ لائن کے بعد کوئٹہ سمیت بلوچستان میں مقیم افغان باشندے تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں۔
اپنے تشویش کے اظہار کے لیے کوئٹہ میں مقیم افغان مہاجر، گلوکاروں اورفن کاروں نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین یو این ایچ سی آر کے دفتر کے سامنے گذشتہ روز مظاہرہ کیا اور یو این ایچ سی آر کے حکام کو اپنی تشویشن سے آگاہ کیا۔
انھوں نے کوئٹہ میں یو این ایچ سی آر کے دفتر کے باہرعلامتی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے میں شریک بعض افراد کے ہاتھوں میں موسیقی کے آلات جبکہ بعض کے ہاتھوں میں پلے کارڈز تھے جن پران کی تشویش سے متعلق تحریر درج تھے۔
ایک پلے کارڈ پر پشتو زبان میں یہ درج تھا کہ ’ہم پُرامن افراد ہیں۔ ہمیں تحفظ دیا جائے۔ گلوکار امن کے سفیر ہیں۔‘
جب اس احتجاج کے حوالے سے کوئٹہ میں یو این ایچ سی آر کے ترجمان حمیراکریم سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا یہ لوگ یو این ایچ سی آر کے دفتر آئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان افراد کو بعض معاملات کے حوالے سے تشویش تھا جن سے انھوں نے یو این ایچ سی آر کے متعلقہ اہلکاروں کو آگاہ کیا۔ ترجمان نے بتایا کہ مہاجر کی حیثیت سے ان لوگوں کے جو حقوق ہیں، یو این ایچ سی آر کے اہلکاروں نے ان سے متعلق ان کی کونسلنگ کی جس کے بعد وہ چلے گئے۔

،تصویر کا ذریعہ@Sadaqat_Ali
پاکستان کے نجی ٹی وی چینل ’ڈان‘ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ چینل کے سٹوڈیو میں پاکستان تحریک انصاف کے روپوش رہنما صداقت علی عباسی کا انٹرویو کس طرح ریکارڈ کیا گیا اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس ضمن میں انتظامیہ جائزے کے بعد اپنا مؤقف جاری کرے گی۔
یاد رہے کہ جمعرات کی شب سے پاکستان کے سوشل میڈیا پر یہ چہ میگوئیاں جاری تھیں کہ گذشتہ کئی عرصے سے روپوش صداقت علی عباسی کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ پر واقع آفس میں لایا گیا جہاں ان کا انٹرویو ریکارڈ کیا گیا ہے جو جمعرات کی شب نشر ہو گا۔
تاہم بوجوہ جمعرات کی شب یہ انٹرویو نشر نہیں ہوا۔خیال رہے کہ صداقت عباسی سے متعلق تحریک انصاف کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ زیرحراست ہیں اور اب انھیں تحریک انصاف چھوڑنے سے متعلق اعترافی بیان دینے پر مجبور کیا جائے گا۔
بی بی سی نے ڈان کے پروگرام میزبان عادل شاہ زیب سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر ان کے رابطہ نمبرز بند ہونے کی وجہ سے ان سے بات نہیں ہو سکی۔ چینل کی انتظامیہ کے ایک سینیئر رکن نے اس انٹرویو کے ریکارڈ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ چینل انتظامیہ ابھی اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آخر یہ انٹرویو کس طرح ریکارڈ کیا گیا ہے۔
تاہم انھوں نے مزید تفصیلات دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے چینل انتظامیہ کی تحریری وضاحت کا انتظار کیا جائے۔
پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں جمعے کے روز بھی کمی ریکارڈ کی گئی اور ایک ڈالر کی قیمت میں کاروبار کے آغاز پر 87 پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد ایک ڈالر کی قیمت 282.75 روپے کی سطح تک گر گئی۔
پاکستان میں مقامی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں مسلسل ایک مہینے سے کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے جس کی وجہ ملک میں ڈالر سمگلنگ، ڈالر کی گرے مارکیٹ کے خلاف کارروائی اور ایکسچینج کمپنیوں کے ضوابط میں مزید بہتری ہے۔
ان اقدامات کے بعد ایک ڈالر کی قیمت میں ایک مہینے میں اب تک 24.35 روپے کی کمی ریکارڈ کی جا چکی ہے جب ایک مہینے قبل انٹر بینک میں ایک ڈالر کی قیمت 307 روپے کی حد عبور کر گئی تھی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کے خلاف سائفر کیس سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سابق وزیر اعظم کو تاحال اڈیالہ جیل میں ’بی کلاس (کی سہولیات) نہیں دی گئی۔‘
جمعے کو درخواست پر سماعت چیف جسٹس عامر فاروق نے کی جس دوران ایڈوکیٹ شیر افضل نے دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ عدالت میں معاملہ ہونے کے باوجود سپیشل کورٹ نے جیل میں سائفر ٹرائل شروع کر دیا ہے۔
جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ’ہم نے جیل منتقلی کی آپ کی درخواست منظور کر لی تھی، آپ کو اس پر اعتراضات ہیں؟‘
شیر افضل مروت نے کہا کہ ’ہمیں اڈیالہ میں بی کلاس نہیں دی گئی، وہاں واک کے لیے بھی جگہ نہیں ہے۔‘
جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ’آپ کی درخواست پر دو تین دنوں میں آرڈر کر دیں گے۔‘
یہ قابل ذکر ہے کہ جیل قوانین کے مطابق جن قیدیوں کو بی کلاس دی جاتی ہے ان کو ایک الگ سے کمرہ اور ایک مشقتی دیا جاتا ہے۔ جیل قوانین اور قیدیوں کی کیٹگری سے متعلق آپ یہاں مزید پڑھ سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی کے وکلا نے وزارت قانون کی جانب سے سائفر کیس کی سماعت اٹک جیل منتقل کرنے کا نوٹیفیکیشن اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ یہ نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے اور اسے کالعدم قرار دیا جائے۔
درخواست میں انسداد دہشتگری عدالت نمبر ون کے جج کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمات کا اختیارِ سماعت بھی چیلنج کیا گیا تھا اور کیس میں سیکریٹری قانون، سیکریٹری داخلہ، چیف کمشنر، آئی جی، ڈی جی ایف آئی اے، سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل اور سپرٹنڈنٹ اٹک جیل کو فریقین بنایا گیا تھا۔
چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ انسداد دہشتگری عدالت ون کے جج اس معاملے میں مطلوبہ اہلیت کے بنیادی معیار پر بھی پورا نہیں اترتے۔

،تصویر کا ذریعہPTI
سائفر کیس کی سماعت کے دوران جج ابوالحسنات ذوالقرنین اور پی ٹی آئی وکیل شیراز رانجھا کے درمیان مکالمہ ہوا جس میں عمران خان کی اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی زیرِ بحث آئی۔
جمعرات کو پی ٹی آئی وکیل شیراز رانجھا نے عمران خان کی اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست پر غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو ’بتائے بغیر‘اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا ہے جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔
جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیے کہ اڈیالہ جیل کے حالات سازگار نہیں، ماحول اٹک جیل سے بہت مختلف ہے۔ ’اڈیالہ جیل میں 22 سو ملزمان کی گنجائش ہے لیکن سات ہزار قیدی رکھے ہوئے ہیں۔ درجن مرغیوں کے ڈربے میں بتیس مرغیاں ہوں گی تو کیا حالات ہوں گے؟‘
’اٹک جیل میں چیئرمین پی ٹی آئی سے آمنے سامنے بات ہوتی تھی، اڈیالہ میں تو حالات ہی مختلف ہیں۔‘
جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے وکیل سے استفسار کیا کہ اڈیالہ جیل میں بہت رش ہے، اٹک جیل میں سکون تھا جس پر شیرازرانجھا ایڈووکیٹ نے کہا کہ عمران خان پر غیر ضروری سختی ہو رہی ہے، عدالت بہتر کلاس کا فیصلہ کرتی ہے لیکن فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔
انھوں نے پوچھا کہ ’عمران خان کو ٹی وی، بہتر بستر کیوں نہیں دیتے؟ اٹک جیل میں سکون تھا۔‘
جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ ’میں نے اٹک جیل میں لائبریری، ورزش، اخبار کی سہولیات عمران خان کو دی تھیں۔ جیل منتقلی کا خوامخواہ تماشا بنایا گیا۔ اڈیالہ جیل میں کوئی کہانی ہی نہیں۔‘
وکیل نے کہا کہ ’جیل منتقلی کی درخواست دائر کرنے سے قبل شیر افضل مروت کو قانونی ٹیم سے مشاورت کرنی چاہیے تھی۔ شیرافضل مروت نے حتمی مشاورت کیے بغیر ہائیکورٹ اور آپ کی عدالت میں درخواست دائر کر دی۔ اٹک جیل میں وکلا کی ملاقات بہت آسانی سے تھی۔ اڈیالہ جیل میں تو بہت مسائل ہیں۔‘
جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ ’میں کل ڈپٹی سپرٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے دفتر بیٹھا تھا۔ میرے سامنے سے 70 ملزمان گزرے۔ میری تو پیٹرول کی پوری ٹینکی لگتی تھی لیکن اٹک جیل میں سماعت آسانی سے ہوتی تھی۔‘ شیراز رانجھا ایڈووکیٹ نے کہا کہ ’آپ نے مائنڈ نہیں کرنا۔ سائفر کیس کی سماعت 10 اکتوبر کو تھی، نقول کے لیے کیوں جلد سماعت رکھی؟‘
جج ابوالاحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیے کہ ’اگر سائفر کیس کا ٹرائل چلانا ہے تو بتائیں، نہیں چلانا تب بھی بتا دیں۔ ٹرائل کے لیے وافر وقت دے رہا ہوں۔ آپ کی قانونی ٹیم کو سمجھ ہی نہیں آ رہی، میں سائفرکیس کا ٹرائل بہت مؤثر انداز میں چلانا چاہ رہا ہوں۔‘
’نہیں تو کوئی اور سائفرکیس کا ٹرائل کر لے گا۔ سائفر کیس میں چالان کے نقول کبھی نہ کبھی تو فراہم کرنے ہیں نا۔ جوڈیشل ریمانڈ کی اہمیت کو سمجھیں۔ چالان آجائے تو جوڈیشل ریمانڈ غیر مؤثر ہوجاتا ہے۔ جوڈیشل ریمانڈ کا مقصد چیئرمین پی ٹی آئی کی چودہ روز کے بعد خیر و عافیت معلوم کرنا ہے۔‘
وکیل نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کے ججز نے کہا جج ہمایوں دلاور کو توشہ خانہ کیس میں کیا جلدی ہے۔ توشہ خانہ، سائفرکیس میں ملزم کو ٹرائل کی جلدی ہونی چاہیے۔ یہاں مدعی جلدی کر رہا ہے۔ دیگر کیسز معمول کے مطابق چلائے جا رہے ہیں۔ عمران خان کے خلاف کیسز کا جلدی ٹرائل کیا جا رہا ہے۔‘
جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیے کہ ’سائفر کیس عام نوعیت کا نہیں، ہائی پروفائل حساس کیس ہے، اہمیت کو سمجھیں۔‘ وکیل نے کہا کہ ’سائفر کیس کوئی حساس کیس نہیں ہے۔ سائفر کیس کو حساس بنایا جا رہا ہے۔‘
جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیے کہ ’سائفر کیس کے چالان کے نقول فراہم کرنے تھے۔ پی ٹی آئی قانونی ٹیم نے عدالت کی نہیں سنی۔ اگر کوئی اور بہتر جج لگتا ہے تو لے آئیں۔ میں سیدھا اور صاف بات کرنے والا جج ہوں۔ مجھے کوئی شوق نہیں، میں اپنا پیشہ ورانہ کام کر رہا ہوں۔‘
شیراز رانجھا ایڈووکیٹ نے کہا کہ ’ہماری کون مانتا ہے؟ جج ہمایوں دلاور کے خلاف درخواستیں دیں، کچھ نہیں ہوا۔ ہم چاہتے ہیں سائفرکیس کا ٹرائل ہی نہ ہو۔‘ جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ ’میں پریس کانفرنس نہیں کر سکتا، جرم کیا ہے تو سزا ہوگی۔ نہیں کیا تو بریت ملے گی۔ سائفرکیس کی سماعت کے لیے لمبی تاریخ دے دیتا ہوں۔ چیئرمین پی ٹی آئی جتنے دن قید ہیں اس کا کیا ہوگا؟ آپ مجھے جج ہمایوں دلاور سمجھتے ہیں، جج ہمایوں دلاور بھی انسان تھے۔ ہمایوں دلاور نے اپنے انداز سے توشہ خانہ کیس چلایا، ابوالحسنات سائفرکیس اپنے طریقے سے چلائے گا۔ اگر سائفرکیس کا ٹرائل ہوگا تو چیئرمین پی ٹی آئی باہر آئیں گے نا۔ مجھے بتائیں اب تک سائفر کیس کی سماعت کیا مؤثر انداز میں نہیں ہوئی؟‘ شیراز رانجھا ایڈووکیٹ نے کہا کہ ’اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آپ پی ٹی آئی وکلا کی باتوں کو سمجھتے ہیں۔‘
جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ ’اللہ نے اگر سائفر کیس کا فیصلہ ابوالحسنات کے ہاتھوں سے کروانا ہے، تو ابوالحسنات ہی کرے گا۔‘
خیال رہے کہ گذشتہ ماہ عمران خان کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کے تحت اٹک جیل سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا تھا۔ عدالت نے اپنی تحریری فیصلے میں کہا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل میں وہ تمام سہولیات مہیا کی جائیں جس کے وہ حقدار ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAPP
وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی سے چین کے شہر تبت میں افغان قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے ملاقات کی ہے۔
جمعرات کو دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات میں وزیر خارجہ نے افغانستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی امن اور استحکام کو درپیش چیلنجوں سے اجتماعی حکمت عملی کے ذریعے باہمی تعاون کے جذبے سے نمٹا جائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تحریک انصاف کے صدر پرویز الہی کی حراست کو غیر قانونی قرار دینے کیلئے دائر درخواست کی سماعت کے دوران ان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کے سامنے دلائل پیش کیے جس کی سربراہی جسٹس سردار طارق مسعود کر رہے تھے۔
جمعرات کو سردار لطیف کھوسہ نے پرویز الہی کی گرفتاریوں اور رہائی کی تفصیل عدالت کے سامنے رکھتے ہوئے موقف پیش کیا کہ ان کے موکل کو دو مقدمات میں ڈسچارج کیا گیا لیکن ان کو پھر بھی چھوڑا نہیں گیا۔
لطیف کھوسہ نے عدالت کو جب بتایا کہ لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بنچ نے گرفتاری پر گرفتاری کرنے سے پولیس کو روکا تھا تو جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ ’یہ تو ایک جنرل آبزرویشن نہیں تھی؟ اس سے پہلے پرویز الہی گرفتار تو نہیں تھے ناں؟‘
اس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’پرویز الہی اس سے پہلے بھی گرفتار ہو چکے تھے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ہمارے ساتھ وہ ہو رہا ہے جیسے کشمیر میں ہوتا ہے۔‘
جسٹس سردار طارق مسعود نے انھیں ٹوکتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ’کشمیر کی بات نہ کریں، کشمیر میں انڈین فوج قابض ہے۔‘ اس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’تو ہمارے ساتھ ویسا سلوک نہ کریں ناں۔‘
لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’لاہور ہائیکورٹ نے کہا تھا مقدمات کی تفصیل دینے تک کسی کیس میں گرفتار نہیں کرنا۔‘ اس پر جسٹس مسرت ہلالی نے سوال اٹھایا کہ ’ایسا بلینکٹ ریلیف کس قانون کے تحت دیا جا سکتا ہے؟‘
جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیے کہ ’جج صاحب نے کسی قانون کے تحت ہی یہ لکھا ہو گا وہ بتائیں۔ ہم کسی کو ایسا ریلیف دیں وہ جرم کرتا پھرے پولیس کچھ نہ کرے؟‘
جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیے کہ ’جرم کا ایسا لائسنس تو نہیں دیا جا سکتا۔‘ اس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’عدالتوں کا بھی ایسے مذاق نہیں بنایا جا سکتا۔‘ اس کے جواب میں جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیے کہ ’یہ مذاق پہلی بار نہیں ہوا، 75 سال میں پہلی بار آپ کو مذاق یاد آیا۔‘
سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’آپ نے عدلیہ کا تحفظ کرنا ہے تو ٹھیک ورنہ پاکستان کا اللہ حافظ۔‘ پرویز الہی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ ’کپڑوں کے بغیر آکر اغوا کر لیا جاتا ہے‘ تو اس پر جسٹس سردار طارق مسعود نے سوال ’کیا دن کو بغیر کپڑوں کے؟‘ لطیف کھوسہ نے جواب دیا ’میرا کہنے کا مطلب ہے یونیفارم کے بغیر۔‘
جسٹس منصور علی شاہ نے لطیف کھوسہ سے سوال کیا کہ ’کیا ہائیکورٹ نے ماضی میں آرٹیکل 199 کے تحت بلینکٹ ریلیف دیا؟‘ جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیے کہ ’اگر ایسا کوئی فیصلہ موجود ہے تو بتائیں۔ سمجھ میں نہیں آ رہا ہائیکورٹس بلینکٹ ریلیف کیسے دے رہی ہیں؟ ایک کیس میں ضمانت کے ساتھ کہا جاتا ہے اسے آگے بھی کسی کیس میں نہیں پکڑنا۔ پورے پاکستان کو پھر ایسا ہی حق دیں۔‘
جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیے کہ ’ہم دیکھتے ہیں بندہ پیش نہیں ہوتا پھر بھی ضمانت مل جاتی ہے۔‘ سردار لطیف کھوسہ نے عدالت کو ایسے فیصلے پیش کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ’سمجھ میں تو یہ بھی نہیں آ رہا پاکستان میں ہو کیا رہا ہے۔‘
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ’بات ایم پی او میں گرفتاری کی ہوتی تو میں آپ کیساتھ تھا، ایک الگ ایف آئی آر میں پکڑ لیا گیا تو ہائیکورٹ حبس بے جا کی درخواست پر کیا کرتی؟‘ سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’ہائیکورٹ یہی کر سکتی تھی جو آپ نے چئیرمین پی ٹی آئی کے کیس میں کیا۔‘ اس پر جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا ’وہ گھڑی والا؟ وہاں تو گھڑی پیچھے کی گئی یہاں کیسے کریں؟‘ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ’اس کیس کے حقائق الگ تھے۔‘
سردار لطیف کھوسہ نے بنچ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’آپ یہی کر رہے ہیں تو پھر پاکستان کا مقدر ہے۔‘ اس پر جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ ’پاکستان کا مقدر چند لوگوں سے نہیں جڑا۔‘ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ’کھوسہ صاحب قانونی بات کریں آپ جذباتی ہو جاتے ہیں۔‘
دوسری جانب جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیے کہ ’کچھ غلط ہوا ہے تو آپ مدعی بن کر پرچے کروائیں۔‘ اس پر لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ ’پرچہ تو میں اپنے گھر پر فائرنگ کا نہیں کٹوا سکا۔‘
جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیے کہ ’آپ کی ہائیکورٹ میں درخواست حبس بے جا کی حد تک تھی، جب کوئی ادارہ آ کر بتا دے فلاں کیس میں گرفتاری ہوئی ہے تو حبس بے جا کیس غیر موثر ہو جاتا ہے۔‘
سردار رزاق ایڈوکیٹ نے اس موقعے پر کہا کہ ’شیخ رشید کو بھی غائب کیا گیا ہے‘ تو جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیے کہ ’ہمارے سامنے شیخ رشید کا معاملہ نہیں، لاہور ہائیکورٹ کا آرڈر چیلنج ہوا ہے۔‘
لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’پورا ملک اس وقت مشکل سے گزر رہا ہے‘ تو جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں یہ تمام سنجیدہ مسائل قانون کے مطابق ہی دیکھیں۔‘ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ’کھوسہ صاحب، ہمیں بنیادی حقوق کا علم ہے فکر نہ کریں۔‘ عدالت نے اس درخواست کی سماعت ملتوی کر دی ہے۔
گذشتہ روز کی خبروں کے لیے یہاں کلک کریں