یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
نئی لائیو پیج کوریج کے لیے یہاں کلک کریں
جمعرات کے دن تحریک انصاف کے صدر پرویز الہی کی حراست کو غیر قانونی قرار دینے کیلئے دائر درخواست کی سماعت کے دوران ان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کے سامنے دلائل پیش کیے جس کی سربراہی جسٹس سردار طارق مسعود کر رہے تھے۔
نئی لائیو پیج کوریج کے لیے یہاں کلک کریں
جمعرات کے دن تحریک انصاف کے صدر پرویز الہی کی حراست کو غیر قانونی قرار دینے کیلئے دائر درخواست کی سماعت کے دوران ان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کے سامنے دلائل پیش کیے جس کی سربراہی جسٹس سردار طارق مسعود کر رہے تھے۔
سردار لطیف کھوسہ نے پرویز الہی کی گرفتاریوں اور رہائی کی تفصیل عدالت کے سامنے رکھتے ہوئے موقف پیش کیا کہ ان کے موکل کو دو مقدمات میں ڈسچارج کیا گیا لیکن ان کو پھر بھی چھوڑا نہیں گیا۔
لطیف کھوسہ نے عدالت کو جب بتایا کہ لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بنچ نے گرفتاری پر گرفتاری کرنے سے پولیس کو روکا تھا تو جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ ’یہ تو ایک جنرل آبزرویشن نہیں تھی؟ اس سے پہلے پرویز الہی گرفتار تو نہیں تھے ناں؟‘
اس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’پرویز الہی اس سے پہلے بھی گرفتار ہو چکے تھے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ہمارے ساتھ وہ ہو رہا ہے جیسے کشمیر میں ہوتا ہے۔‘
جسٹس سردار طارق مسعود نے انھیں ٹوکتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ’کشمیر کی بات نہ کریں، کشمیر میں انڈین فوج قابض ہے۔‘ اس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’تو ہمارے ساتھ ویسا سلوک نہ کریں ناں۔‘
لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’لاہور ہائیکورٹ نے کہا تھا مقدمات کی تفصیل دینے تک کسی کیس میں گرفتار نہیں کرنا۔‘ اس پر جسٹس مسرت ہلالی نے سوال اٹھایا کہ ’ایسا بلینکٹ ریلیف کس قانون کے تحت دیا جا سکتا ہے؟‘
جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیے کہ ’جج صاحب نے کسی قانون کے تحت ہی یہ لکھا ہو گا وہ بتائیں۔ ہم کسی کو ایسا ریلیف دیں وہ جرم کرتا پھرے پولیس کچھ نہ کرے؟‘
جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیے کہ ’جرم کا ایسا لائسنس تو نہیں دیا جا سکتا۔‘ اس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’عدالتوں کا بھی ایسے مذاق نہیں بنایا جا سکتا۔‘ اس کے جواب میں جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیے کہ ’یہ مذاق پہلی بار نہیں ہوا، 75 سال میں پہلی بار آپ کو مذاق یاد آیا۔‘
سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’آپ نے عدلیہ کا تحفظ کرنا ہے تو ٹھیک ورنہ پاکستان کا اللہ حافظ۔‘ پرویز الہی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ ’کپڑوں کے بغیر آکر اغوا کر لیا جاتا ہے‘ تو اس پر جسٹس سردار طارق مسعود نے سوال ’کیا دن کو بغیر کپڑوں کے؟‘ لطیف کھوسہ نے جواب دیا ’میرا کہنے کا مطلب ہے یونیفارم کے بغیر۔‘
جسٹس منصور علی شاہ نے لطیف کھوسہ سے سوال کیا کہ ’کیا ہائیکورٹ نے ماضی میں آرٹیکل 199 کے تحت بلینکٹ ریلیف دیا؟‘ جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیے کہ ’اگر ایسا کوئی فیصلہ موجود ہے تو بتائیں۔ سمجھ میں نہیں آ رہا ہائیکورٹس بلینکٹ ریلیف کیسے دے رہی ہیں؟ ایک کیس میں ضمانت کے ساتھ کہا جاتا ہے اسے آگے بھی کسی کیس میں نہیں پکڑنا۔ پورے پاکستان کو پھر ایسا ہی حق دیں۔‘
جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیے کہ ’ہم دیکھتے ہیں بندہ پیش نہیں ہوتا پھر بھی ضمانت مل جاتی ہے۔‘ سردار لطیف کھوسہ نے عدالت کو ایسے فیصلے پیش کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ’سمجھ میں تو یہ بھی نہیں آ رہا پاکستان میں ہو کیا رہا ہے۔‘
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ’بات ایم پی او میں گرفتاری کی ہوتی تو میں آپ کیساتھ تھا، ایک الگ ایف آئی آر میں پکڑ لیا گیا تو ہائیکورٹ حبس بے جا کی درخواست پر کیا کرتی؟‘ سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’ہائیکورٹ یہی کر سکتی تھی جو آپ نے چئیرمین پی ٹی آئی کے کیس میں کیا۔‘ اس پر جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا ’وہ گھڑی والا؟ وہاں تو گھڑی پیچھے کی گئی یہاں کیسے کریں؟‘ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ’اس کیس کے حقائق الگ تھے۔‘
سردار لطیف کھوسہ نے بنچ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’آپ یہی کر رہے ہیں تو پھر پاکستان کا مقدر ہے۔‘ اس پر جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ ’پاکستان کا مقدر چند لوگوں سے نہیں جڑا۔‘ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ’کھوسہ صاحب قانونی بات کریں آپ جذباتی ہو جاتے ہیں۔‘
دوسری جانب جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیے کہ ’کچھ غلط ہوا ہے تو آپ مدعی بن کر پرچے کروائیں۔‘ اس پر لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ ’پرچہ تو میں اپنے گھر پر فائرنگ کا نہیں کٹوا سکا۔‘
جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیے کہ ’آپ کی ہائیکورٹ میں درخواست حبس بے جا کی حد تک تھی، جب کوئی ادارہ آ کر بتا دے فلاں کیس میں گرفتاری ہوئی ہے تو حبس بے جا کیس غیر موثر ہو جاتا ہے۔‘
سردار رزاق ایڈوکیٹ نے اس موقعے پر کہا کہ ’شیخ رشید کو بھی غائب کیا گیا ہے‘ تو جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیے کہ ’ہمارے سامنے شیخ رشید کا معاملہ نہیں، لاہور ہائیکورٹ کا آرڈر چیلنج ہوا ہے۔‘
لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’پورا ملک اس وقت مشکل سے گزر رہا ہے‘ تو جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں یہ تمام سنجیدہ مسائل قانون کے مطابق ہی دیکھیں۔‘ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ’کھوسہ صاحب، ہمیں بنیادی حقوق کا علم ہے فکر نہ کریں۔‘ عدالت نے اس درخواست کی سماعت ملتوی کر دی ہے۔
القادر ٹرسٹ کی نئے ٹرسٹ ایکٹ کے تحت رجسٹریشن میں تاخیر کے خلاف کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈائریکٹر انڈسٹریز اور لیبر ڈیپارٹمنٹ کو دو ہفتوں میں رجسٹریشن درخواست پر فیصلہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ پٹشنر کی رجسٹریشن کے لیے دائر درخواست پر دو ہفتوں میں فیصلہ کریں۔
جسٹس حسن اورنگزیب نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ ’آپ کا جو کام ہے وہ کرنے سے گھبرا کیوں رہے ہیں؟ اگر آپ نے رجسٹریشن نہیں کرنی تو بتا دیں۔‘
عدالت نے ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کی ہے۔
واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی القادر ٹرسٹ کے ٹرسٹیز میں شامل ہیں۔
سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی اپنے شوہر اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں سیکورٹی اور تحفظ کے لیے دائر درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے متعلقہ حکام کو نوٹسز جاری کیے ہیں۔
سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ’جو گنجائش ہے اور کچھ عدالت کر سکتی ہے تو اس پر میں آرڈر کردوں گا۔‘
درخواست گزار کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’عمران خان کو گھر کا کھانا فراہم کرنے کی اجازت دی جائے۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان کو جس سیل میں رکھا گیا ہے وہاں نماز بھی بمشکل ادا کی جاسکتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہماری یہ تاریخ رہی ہے کہ جو بھی صدر یا وزیراعظم بنا بعد میں اڈیالہ اور اٹک جیل کا مہمان بنتا ہے۔‘
عدالت نے وزارت داخلہ، ایف آئی اے اور اڈیالہ جیل حکام کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے درخواست کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نگران وزیر توانائی محمد علی کا کہنا ہے کہ ملک میں اس سال بھی گیس کی لوڈ شیڈنگ کی جائے گی اور گزشتہ سال کی طرز پر دن میں آٹھ گھنٹے گیس سپلائی کی جائے گی۔
اسلام آباد میں دیگر وزرا کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کے دوران نگران وزیرتوانائی محمد علی نے کہا ہے کہ گزشتہ کئی سالوں میں گیس کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے اور اس سال بھی سردیوں میں گیس کی لوڈ شیڈنگ کی جائے گی۔
نگران وزیرتوانائی کے مطابق ’ہمارے پاس اتنی گیس ہی نہیں جو 24 گھنٹے فراہم کی جا سکے۔‘
واضح رہے کہ موسم سرما شروع ہونے سے پہلے ہی ملک کے مختلف حصوں میں گزشتہ چند ماہ سے گیس کی لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے جس کا دورانیہ آٹھ گھنٹے تک بتایا جا رہا ہے۔
وزیر توانائی نے پریس کانفرنس میں بتایا ’رواں برس ملک میں گیس کے ذخائر میں 18 فیصد کمی ہوئی ہے ۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گیس کی کمی کے پیش نظر ایل این جی کے دو کارگو خریدے جا رہے ہیں جس سے دسمبر میں صنعتوں کو درپیش گیس کی کمی کا مسئلہ کافی حد تک حل ہو جائے گا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پی ٹی آئی نے عثمان ڈار کی والدہ کا ایک ویڈیو پیغام شیئر کیا ہے جس میں وہ کہتی ہیں کہ ’سیاست عثمان ڈار نے چھوڑی ہے، اس کی والدہ نے نہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ وہ خود سیالکوٹ میں سابق وزیر دفاع خواجہ آصف کا مقابلہ کریں گی۔ ’میرا چیلنج ہے کہ تم میدان میں آؤ اور دیکھو تمھارے شیر کا کیا حشر کرتی ہوں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں عمران خان کے ساتھ ڈٹی ہوئی ہوں اور ڈٹی رہوں گی۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ عثمان ڈار کا یوں اچانک منظر عام پر آ کر انٹرویو دینا ’نئی بوتل میں پرانی شراب‘ جیسا ہے اور یہ ان کے ’اغوا کاروں‘ کو بے نقاب کرتا ہے۔
ایک بیان میں پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ ’24 روز تک نامعلوم اغوا کاروں کی حراست میں گزارنے کے بعد عثمان ڈار کی ایک نجی ٹی وی چینل پر رونمائی بلاشبہ خود اغوا کاروں کو بے نقاب کرتی ہے۔‘
پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ عثمان ڈار کو ’10 ستمبر کو کراچی سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔‘
’پچھلے پانچ ماہ کے دوران عثمان ڈار کی رہائشگاہ پر پولیس کے چھاپوں، ان کی والدہ اور دیگر خواتین اہلِ خانہ سے بدسلوکی اور ان کی فیکٹری اور رہائشگاہ پر پڑنے والے تالے پوری قوم دیکھ چکی ہے۔ اس 24 روزہ جبری گمشدگی کے دوران جسمانی و ذہنی تشدد اور جبر کے آثار ان کی کانپتی آواز، متذبذب باڈی لینگویج اور بے ربط خیالات سے واضح ہیں۔‘
پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ عثمان ڈار کے اس انٹرویو کی ’عوام کی نگاہ میں کوئی اہمیت ہے نہ ہی اس کی کوئی قانونی حیثیت۔ خدشہ ہے کہ اسی قسم کے ہتھکنڈے ہمارے دیگر اغوا کنندگان بشمول صداقت عباسی، فرخ حبیب اور شیخ رشید پر بھی آزمائے جائیں گے اور ایسے ہی مزید ڈرامے نشر کئے جائیں گے۔‘
عمران خان کی جماعت نے مزید کہا ہے کہ ’ملک کو گھسے پٹے ڈراموں اور فلموں کی بھینٹ چڑھانے کی بجائے 9 مئی کے واقعات کی اعلیٰ سطحی عدالتی کمیشن کے ذریعے تحقیقات اور عوام کو ووٹ کا حق دینے کے لیے 90 روز کی دستوری مدت میں انتخاب کروائے جائیں۔‘
پاکستان میں غیرقانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو 31 اکتوبر تک ملک چھوڑنے کے حکم پر عملدرآمد کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔
ترجمان اسلام آباد کیپیٹل پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے خلاف آپریشنز کے دوران 1126 افراد کی جانچ کی گئی۔ 503 افراد کے پاس کسی قسم کے کوئی کاغذات نہیں تھے۔ ان کے خلاف 14 فارنر ایکٹ کے تحت کارروائی کر کے مجاز عدالتوں میں پیش کیا گیا، وہ جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں اور مقدمات کا سامنا کررہے ہیں۔‘
’623 افراد کو منظور شدہ شناختی دستاویزات پیش کرنے پر رہا کیا گیا۔ اس تمام عمل کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔‘
اسلام آباد پولیس نے کہا ہے کہ ’جرائم پیشہ عناصر کو غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے ساتھ منسلک کرنا درست نہیں ہے۔ اگر آپ کے آس پاس کوئی غیرقانونی مقیم ہو تو پولیس کو اطلاع دیں آپ کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔
’کسی غیر قانونی مقیم کو پناہ یا ملازمت دینا بھی جرم ہے جس پر قانونی کارروائی ہوسکتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عثمان ڈار نے سیاست اور پارٹی چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان ریاست مخالف بیانیے کی حمایت کرتے تھے اور نو مئی کو ہونے والے حملوں کا مقصد فوج پر دباؤڈال کر آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو ’ہٹانا‘ تھا۔
خیال رہے کہ عثمان ڈار کی والدہ نے ایک ویڈیو پیغام میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کے بیٹے کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ انھوں نے عثمان ڈار کو عدالت میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ عثمان ڈار کی بازیابی کے لیے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست بھی دائر کی گئی تھی۔
تاہم اب ’لاپتہ‘ ہونے کے کئی روز بعد عثمان ڈار اچانک منظرعام پر آگئے اور انھوں نے دنیا ٹی وی کے پروگرام ’آن دی فرنٹ‘ پر انٹرویو دیا جس میں وہ اینکر کی رہائش گاہ میں موجود تھے۔
اینکر کامران شاہد سے گفتگو کرتے ہوئے عثمان ڈار نے سابق وزیر اعظم عمران خان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’نو مئی کے واقعات کا منصوبہ چیئرمین پی ٹی آئی کی زیر صدارت زمان پارک میں بنایا گیا تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے فوج سے ٹکراؤ کی پالیسی کی قیادت کی، چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کی صورت میں حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی ہدایت دی گئی، حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی ہدایت خود عمران خان نے دی تھی۔
انھوں نے کہا کہ ’نو مئی ایک ایسا شرم ناک سانحہ ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے اور وہ ایک ایسا سیاہ دھبہ ہے، جس سے دھلنے میں وقت لگے گا۔‘
عثمان ڈار نے مزید کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے خود کو گرفتاری سے بچانے کے لیے کارکنوں کی ذہن سازی کی، کارکنوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا۔
عثمان ڈار کا کہنا تھا کہ نو مئی کا واقعہ ایک دن میں رونما نہیں ہوا، ہماری مرکزی حکومت ختم ہونے کے بعد پارٹی میں دو گروپ بن گئے تھے، ایک گروپ میں مراد سعید،اعظم سواتی،حماد اظہر،فرخ حبیب تھے، یہ گروپ ٹکراؤ کی سیاست پر یقین رکھتا تھا۔
جبکہ اسد عمر، عمر ایوب، علی محمد خان، شفقت محمود اور وہ خود فوج کے ساتھ مفاہمت کی بات کرتے تھے۔
ان کا کہنا تھا تحریک انصاف کا اکتوبر 2022 میں لانگ مارچ جنرل عاصم منیر کی بطور آرمی چیف تعیناتی رکوانے کے لیے کیا گیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ جس طرح اداروں پر حملے ہوئے اس کے بعد پی ٹی آئی کی بنیادیں ہل گئیں۔ عثمان ڈار نے کہا کہ اگر پارٹی آج اس حال کو پہنچی ہے تو یہ عمران خان کے فیصلوں سے ہوا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے آج سے 12 سال پہلے تحریک انصاف کا پلیٹ فارم ایسا لگا کہ جس میں صاف ستھری سیاست ہوسکتی تھی اور لاکھوں نوجوان عمران خان سے متاثر ہو کر پاکستان تحریک انصاف کا حصہ بن گئے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور سیاست دونوں کو خیرباد کہہ دوں، میں نے سیاست تحریک انصاف سے شروع کی تھی اور ختم بھی اسی سے کی ہے۔‘
پاکستان کی سیاسی، معاشی اور سیکورٹی صورتحال اور دیگر اہم خبروں سے متعلق بی بی سی کی لائیو پیج کوریج میں خوش آمدید۔
تین اکتوبرتک کی خبروں کو جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔