عثمان ڈار کا سیاست چھوڑنے کا اعلان: ’حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی ہدایت خود عمران خان نے دی تھی‘

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار نے سیاست اور پارٹی چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے ’چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے فوج سے ٹکراؤ کی پالیسی کی قیادت کی اور گرفتاری کی صورت میں حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی خود ہدایت دی تھی۔‘

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا

  2. پاکستان حکومت افغان پناہ گزینوں کو ملک بدر نہ کرے: ایمنسٹی انٹرنیشنل

    Afghans

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان کی حکومت کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو ملک چھوڑنے کا حکم دینے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان حکومت افغان پناہ گزینوں کو ملک سے نہ نکالے۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل کی عبوری علاقائی ڈپٹی ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیا نادیہ رحمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’افغان باشندے طالبان کے ظلم و ستم سے بھاگ کر پاکستان آئے ہیں۔ وہ ناقابل یقین حد تک خطرناک زندگی گزار رہے ہیں جہاں انھیں پاکستان میں پناہ گزینوں کے طور پر رجسٹر ہونے کے لیے یا تو مشکل عمل سے گزرنا پڑتا ہے یا کسی دوسرے ملک میں منتقلی حاصل کرنے کے طویل انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ افغانستان میں ان کی زبردستی واپسی انھیں شدید خطرے میں ڈال سکتی ہے۔‘

    ان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں موجود افغان شہریوں کو فوری طور پر مدد کی ضرورت ہے کیونکہ انھیں پناہ گزینوں کے طور پر رجسٹر کرنے یا تیسرے ملک کی نقل مکانی میں درپیش رکاوٹوں اور تاخیر نے انھیں پیچیدہ قانونی صورتحال میں ڈال دیا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایمنسٹی انٹرنیشنل حکومت پاکستان پر زور دیتی ہے کہ وہ افغان پناہ گزینوں کے لیے اپنی تاریخی حمایت جاری رکھے تاکہ وہ عزت کے ساتھ زندگی گزار سکیں اور وہ افغانستان بھیجے جانے کے خوف سے آزاد ہوں جہاں انھیں طالبان کے ظلم و ستم کا سامنا ہے۔‘

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) سے پاکستان میں بین الاقوامی تحفظ کے خواہاں افغان شہریوں کی درخواستوں کی رجسٹریشن اور ان کے جائزے میں تیزی لانے کا بھی اعادہ کیا ہے۔

    حکومت پاکستان کو افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن اور گرفتاریوں اور ہراساں کرنے سے روکنے کا کہا ہے۔

    یاد رہے کہ منگل کو نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی شہریوں کو رضا کارانہ طور پر یکم نومبر تک ملک چھوڑنے کی مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر دیے گئے وقت میں ایسے افراد واپس نہیں جاتے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے انھیں ڈی پورٹ کریں گے۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو افغانستان میں ظلم و ستم سے بھاگنے والوں کو تحفظ فراہم کرنے کے اپنے ابتدائی وعدوں کو برقرار رکھنے کے لیے فوری طور پر عمل کرنا چاہیے۔

  3. بریکنگ, پی ٹی آئی کے رہنما عثمان ڈار کا سیاست چھوڑنے کا اعلان: ’نو مئی کے واقعات کا مقصد آرمی چیف کو عہدے سے ہٹانا تھا‘

    عثمان ڈار

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عثمان ڈار نے سیاست اور پارٹی چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان ریاست مخالف بیانیے کی حمایت کرتے تھے اور نو مئی کو ہونے والے حملوں کا مقصد فوج پر دباؤڈال کر آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو ’ہٹانا‘ تھا۔

    پاکستان کے نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے پروگرام ’آن دا فرنٹ ود کامران شاہد‘ میں گفتگو کرتے ہوئے عثمان ڈار نے سابق وزیر اعظم عمران خان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’نو مئی کے واقعات کا منصوبہ چیئرمین پی ٹی آئی کی زیر صدارت زمان پارک میں بنایا گیا تھا۔‘

    انھوں نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے فوج سے ٹکراؤ کی پالیسی کی قیادت کی، چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کی صورت میں حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی ہدایت دی گئی، حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی ہدایت خود عمران خان نے دی تھی۔

    انھوں نے کہا کہ ’نو مئی ایک ایسا شرم ناک سانحہ ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے اور وہ ایک ایسا سیاہ دھبہ ہے، جس سے دھلنے میں وقت لگے گا۔‘

    عثمان ڈار نے مزید کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے خود کو گرفتاری سے بچانے کے لیے کارکنوں کی ذہن سازی کی، کارکنوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا۔

    عثمان ڈار کا کہنا تھا کہ نو مئی کا واقعہ ایک دن میں رونما نہیں ہوا، ہماری مرکزی حکومت ختم ہونے کے بعد پارٹی میں دو گروپ بن گئے تھے، ایک گروپ میں مراد سعید،اعظم سواتی،حماد اظہر،فرخ حبیب تھے، یہ گروپ ٹکراؤ کی سیاست پر یقین رکھتا تھا۔

    جبکہ اسد عمر، عمر ایوب، علی محمد خان، شفقت محمود اور وہ خود فوج کے ساتھ مفاہمت کی بات کرتے تھے۔

    ان کا کہنا تھا تحریک انصاف کا اکتوبر 2022 میں لانگ مارچ جنرل عاصم منیر کی بطور آرمی چیف تعیناتی رکوانے کے لیے کیا گیا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ جس طرح اداروں پر حملے ہوئے اس کے بعد پی ٹی آئی کی بنیادیں ہل گئیں۔ عثمان ڈار نے کہا کہ اگر پارٹی آج اس حال کو پہنچی ہے تو یہ عمران خان کے فیصلوں سے ہوا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے آج سے 12 سال پہلے تحریک انصاف کا پلیٹ فارم ایسا لگا کہ جس میں صاف ستھری سیاست ہوسکتی تھی اور لاکھوں نوجوان عمران خان سے متاثر ہو کر پاکستان تحریک انصاف کا حصہ بن گئے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور سیاست دونوں کو خیرباد کہہ دوں، میں نے سیاست تحریک انصاف سے شروع کی تھی اور ختم بھی اسی سے کی ہے۔‘

  4. چمن باب دوستی پر افغان سیکورٹی اہلکار کی فائرنگ سے دو پاکستانی شہری ہلاک

    باب دوستی

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں افغان سرحد سے ملحقہ باب دوستی پر مبینہ طور پر افغان سکیورٹی اہلکار کی فائرنگ سے دو پاکستانی شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر چمن کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق یہ واقعہ بدھ کی شام چار بجے پیش آیا۔

    افغان سیکورٹی اہلکار کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں میں ایک 12سالہ بچہ اور ایک 70سالہ عمر رسیدہ شخص شامل تھے جن کی لاشوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال چمن منتقل کیا گیا۔

    اس واقعے کے باعث باب دوستی پر گیٹ کو بند نہیں کیا گیا البتہ پیدل چلنے والوں کی آمدورفت کچھ دیر کے لیے روک دی گئی۔

    اس واقعے پر پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاک افغان سرحد پر باب دوستی پر تعینات افغان سیکورٹی اہلکار نے پاکستان سے افغانستان جانے والوں پر فائرنگ کی۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ افغان اہلکار نے بلااشتعال فائرنگ پیدل جانے والوں پر کی جس کے نتیجے میں 12 سال کے بچے سمیت دو پاکستان شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ فائرنگ سے ایک اور پاکستانی بچہ بھی زخمی ہوا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی فوجیوں نے مسافروں کی موجودگی کی وجہ سے تحمل کا مظاہرہ کیا اور کسی بڑے نقصان سے بچنے کے لیے کوئی فائرنگ نہیں کی۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال چمن منتقل کردیا گیا جبکہ زخمی بچہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں زیر علاج ہے۔

    آئی ایس پی آر نے بتایا کہ افغان حکام سے مجرم کو پکڑ کر پاکستانی حکام کے حوالے کرنے اور ایسے غیرذمہ دارانہ اقدام کی وجہ جانے کے لیے رابطہ کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق توقع ہے افغان عبوری حکومت اپنے سکیورٹی اہلکاروں کو کنٹرول کرے گی اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچنے کے اقدام کرے گی، پاکستان مثبت اور تعمیری دوطرفہ تعلقات میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ اس طرح کے ناخوشگوار واقعات سے سنجیدہ کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

  5. پاکستان: امیروں سے ٹیکس کیسے لیا جائے؟

  6. ایپکس کمیٹی نے غیرقانونی طور پر مقیم تارکین وطن کے حوالے سے جو فیصلہ کیا، اس پر عملدرآمد کرائیں گے: جان محمد اچکزئی

    بلوچستان کے نگران وزیر اطلاعات جان محمد اچکزئی نے کہا ہے کہ وفاقی ایپکس کمیٹی نے ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطن سمیت دیگر امور کے حوالے سے جو فیصلے کیے ہیں بلوچستان حکومت ان پرمکمل عملدرآمد کرائے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایپکس کمیٹی کے فیصلوں کی روشنی میں غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطن کے پاس ملک چھوڑنے کے لیے صرف 27 دن ہیں جس کے بعد ان کو زبردستی نکال دیا جائے گا۔

    کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطن جن کا تعلق کسی بھی نسل یا ملک سے ہو، ان کو پاکستان چھوڑنا پڑے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغانستان کے لیے بے شمارقربانیاں دی ہیں لیکن یہ امر افسوسناک ہے کہ افغان باشندے یہاں مبینہ طور پر دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہیں۔

    ’ان واقعات کے بعد اب پاکستانی قوم اس بات پر مجبورہو گئی ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطن کو نکال دیا جائے۔ اس سے نہ صرف ملکی معیشت پر بوجھ میں کمی آئے گی بلکہ امن و امان کی صورتحال میں بھی بہتری آئے گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ رواں سال جنوری سے اب تک ملک میں 24 خودکش حملے ہوئے، جن میں 14 افغان باشندے ملوث تھے۔

  7. ’آپ کباڑ کا کام کر کے بھی اچھے پیسے کما سکتے ہیں‘

  8. سائفر مقدمہ: عمران خان کی ضمانت کی درخواست پر اوپن کورٹ میں سماعت ہو گی، اسلام آباد ہائیکورٹ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس کی ان کیمرہ سماعت کرنے کے معاملے پر ایف آئی اے کی درخواست نمٹاتے ہوئے فیصلہ دیا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی ضمانت کی درخواست پر اوپن کورٹ میں سماعت ہو گی۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے گزشتہ سماعت پر سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت اور ایف آئی اے کی جانب سے ان کیمرہ سماعت کی درخواست کو یکجا کر دیا تھا۔

    گزشتہ سماعت کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جب ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کیس کی اوپن کورٹ میں سماعت سے حساس معلومات پبلک ہونے کے اندیشے کا اظہار کیا تھا اور موقف اپنایا تھا کہ اوپن کورٹ میں لانے سے دوسرے ممالک سے تعلقات خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

    تاہم بدھ کے دن اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست ضمانت پر اوپن کورٹ میں سماعت ہوگی تاہم مخصوص دستاویزات کو ان کیمرہ رکھنے کا فیصلہ وکلا کی مشاورت سے کیا جائے گا۔

    عدالتی فیصلے کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت کی درخواست پر 9 اکتوبر کو دن دو بجے سماعت ہو گی۔

  9. ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی کا رجحان جاری: انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں 285 روپے کی سطح سے نیچے آ گیا, تنویر ملک، صحافی

    ڈالر

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قدر میں اضافے کا رجحان تقریباً ایک مہینے سے جاری ہے اور بدھ کی صبح انٹر بینک میں ایک ڈالر کی قیمت ایک روپے سے زائد کمی کے بعد 284.70 روپے پر آ گئی ہے۔

    اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قیمت تسلسل سے کم ہو رہی ہے اور ایک ڈالر کی قیمت میں بدھکے روز 1.50 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد اس کی قیمت 284.50 روپے کی سطح تک گر گئی۔

    پاکستان میں ڈالر کی قیمت چار ستمبر 2023 کو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچی تھی جب انٹر بینک میں ایک ڈالر کی قیمت 307 روپے کی حد سے اوپر بند ہوئی تھی تو دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں اس کی قیمت 333 روپے کی سطح تک چلی گئی تھی۔

    ملک کی ڈالر کی قیمت میں بے تحاشا اضافے کی وجہ اس کی سمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کو قرار دیا گیا جس کے بعد وفاقی حکومت نے ڈالر کی سمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن شروع کیا اور اس کے ساتھ ایکسچینج کمپنیوں کے قواعد و ضوابط میں بھی سختی کی۔ ان اقدامات کے بعد ڈالر کی قیمت میں کمی کا رجحان دیکھا گیا اور ایک مہینے میں انٹر بینک میں ایک ڈالر کی قیمت میں 22.40 روپے کی کمی ریکارڈ کی جا چکی ہے۔

    اسی طرح اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت ایک مہینے میں 48 روپے کم ہو چکی ہے۔

    گذشتہ ایک ہفتے کے دوران ڈالر کی انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ قیمت میں لگ بھگ ساڑھے چار روپے سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

  10. سابق آرمی چیف قمر باجوہ کا ٹیکس ریکارڈ لیک ہونے کا معاملہ: صحافی شاہد اسلم اور ایف بی آر ملازمین پر فرد جرم نو نومبر کو عائد ہو گی, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    شاہد اسلم

    ،تصویر کا ذریعہ@Faizankhaan91

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ایک عدالت نے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا ٹیکس ریکارڈ لیک ہونے سے متعلق مقدمے میں صحافی شاہد اسلم اور فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کے ملازمین پر فردِ جرم عائد کرنے کے لیے نو نومبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔

    سپیشل جج سینٹرل اسلام آباد شاہ رخ ارجمند نے بدھ کے روز اس کیس کی سماعت کی۔ یاد رہے کہ صحافی احمد نورانی نے 20 نومبر 2022 کو ’فیکٹ فوکس‘ نامی ویب سائیٹ پر جنرل باجوہ اور ان کے اہلخانہ کے ٹیکس ریٹرنز اور ان کی دولت میں مبینہ طور پر کئی گنا اضافے سے متعلق خبر شائع کی تھی۔ اس خبر کی اشاعت کے بعد آئی ایس پی آر نے فیکٹ فوکس میں شائع ہونے والے اعداد وشمار کی تردید کی تھی۔

    صحافی شاہد اسلم پر الزام ہے کہ انھوں نے ایف بی آر سے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کے اہلخانہ سے متعلق ٹیکس معلومات حاصل کر کے اسے تحقیقاتی جریدے ’فیکٹ فوکس‘ سے منسلک صحافی احمد نورانی کو بھیجا تھا جبکہ اس کام میں ان کی مدد چند ایف بی آر ملازمین نے کی تھی۔

    تاہم فیکٹ فوکس ویب سائٹ کے مدیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس الزام کی تردید کی تھی کہ شاہد اسلم اس ویب سائٹ پر جنرل باجوہ اور ان کے اہلخانہ کے اثاثوں سے متعلق شائع ہونے والی خبر سے کسی بھی طرح سے منسلک تھے۔

    رواں برس جنوری کے مہینے میں صحافی شاہد اسلم سمیت ایف بی آر کے چند ملازمین کو ایف آئی اے نے گرفتار کیا تھا جس کے بعد یہ افراد ضمانت پر رہا کر دیے گئے۔ جبکہ اس کیس میں نامزد ایک اور ملزم یعنی صحافی احمد نورانی کو یہ عدالت پہلے ہی اشتہاری قرار دے چکی ہے۔

  11. کور کمانڈر ہاؤس جلاؤ گھیراؤ کیس: سابق وزیراعظم کی بہنوں علیمہ خان اور عظمیٰ خان کی عبوری ضمانت میں توسیع

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    صوبائی دارالحکومت لاہور کی ایک انسدادِ دہشت گردی عدالت نے کور کمانڈر ہاؤس جلاؤ گھیراؤ کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہنوں علیمہ خان اور عظمیٰ خان کی عبوری ضمانت میں 16 اکتوبر تک توسیع کر دی ہے۔

    دوران سماعت اس کیس کے تفتیشی افسر نے عدالت سے علیمہ خان اور عظمیٰ خان کی گرفتاری کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ نو مئی واقعات کی تفتیش کرنے والی جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم (جے آئی ٹی) نے انھیں ’گنہگار‘ قرار دیا ہے۔

    تفتیشی افسر کا مزید کہنا تھا کہ اب مزید تفتیش کے لیے علیمہ خان اور عظمیٰ خان کی گرفتاری مطلوب ہے۔

    ‏ دوران سماعت علیمہ خان روسٹرم پر آئیں اور استدعا کی کہ انھیں انصاف فراہم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بہن کے ہمراہ آئے روز پیشی پر آتی ہیں اور اگر انھیں جیل میں بھیجنے سے ہی انصاف ہوتا ہے تو انھیں جیل بھیج دیا جائے۔

    تاہم اس موقع پر علیمہ خان کے وکیل برہان معظم نے انھیں مزید گفتگو سے منع کیا جس پر علیمہ خان کا کہنا تھا کہ ’ہم کیا مانگ رہے ہیں، انصاف ہی مانگ رہے ہیں۔‘

  12. سابق وزیراعظم عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر گمشدگی کیس کی سماعت نو اکتوبر تک ملتوی, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    آفیشل سیکرٹس ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت نے بدھ کے روز سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر گمشدگی کیس کی سماعت نو اکتوبر تک ملتوی کر دی ہے۔

    بدھ کے روز ہونے والی سماعت سے قبل وکلا کی طرف سے اس امید کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ ملزمان کو عدالت میں پیش کیے گئے مقدمے کے چالان کی نقول فراہم کر دی جائیں گی تاہم ایسا نہ ہو سکا۔

    سکیورٹی وجوہات کی بنا پر خصوصی عدالت نے دونوں ملزمان کے خلاف سماعت اڈیالہ جیل میں کی ہے۔

    اس مقدمے کی سماعت کرنے والے خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے رواں ہفتے کے آغاز پر وزارت قانون کو سابق وزیراعظم عمران خان کی سکیورٹی کے بارے میں لکھتے ہوئے اس کیس کی سماعت اڈیالہ جیل کے اندر کرنے کے حوالے سے اجازت طلب کی تھی۔ وزارت قانون نے اُن کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے سائفر گمشدگی مقدمے کی سماعت اڈیالہ جیل میں کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

    اس مقدمے میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے علاوہ ملزمان میں سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور سابق وزیر اسد عمر شامل ہیں۔

    عمران خان کی قانونی ٹیم میں شامل شعیب شاہین ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ چونکہ اس مقدمے کا چالان عدالت میں جمع کروایا گیا ہے اس لیے عدالت ملزمان کو چالان کی نقول فراہم کرے گی اور آئندہ سماعت پر ملزمان کے خلاف فرد جرم عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

    انھوں نے کہا کہ وزارت قانون کے نوٹیفکیشن سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ عمران خان کے خلاف اس مقدمے میں تمام تر عدالتی کارروائی اڈیالہ جیل میں ہی ہو گی۔

  13. عمران خان کی زندگی کو ممکنہ ’خطرات‘ سے متعلق درخواست پر سماعت پانچ اکتوبر کو ہو گی: نعیم پنجوتھہ

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے وکیل نعیم حیدر پنجوتھہ نے دعویٰ کیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل کے لوئر کلاس سیل میں منتقل کیا گیا ہے جہاں ان کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں عمران خان کے وکیل نے الزام عائد کیا کہ انھیں اطلاع ملی ہے کہ عمران خان کو لوئر کلاس سیل میں منتقل کیا گیا ہے جبکہ سیل کے باہر سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ توشہ خانہ کیس میں عدالت کی طرف سے تین سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو 5 اگست 2023 کو اٹک جیل منتقل کیا گیا تھا تاہم 26 ستمبر کو پی ٹی آئی کی طرف سے دائر درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کو ڈسٹرکٹ جیل اٹک سے سینٹرل جیل اڈیالہ منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

    پی ٹی آئی کے وکیل نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ جیل میں عمران خان کی حالات سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی ہے جس پر پانچ اکتوبر کو سماعت ہوگی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    عمران خان کے وکیل کے مطابق عدالت کی طرف سے یہ اعتراضات اٹھائے گئے کہ اس پر پہلے ہی فیصلہ سنایا گیا ہے لیکن عمران خان کی صحت سے متعلق کوئی احکامات جاری نہیں کیے گئے جو کہ آئین میں دیا گیا بنیادی حق ہے۔

    نعیم پنجوتھہ نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں، ان کو فوڈ پوائزن دیا جا سکتا ہے، انھیں ذہنی طور پر ٹارچر کیا جا رہا ہے اور ان کی نقل و حرکت پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

  14. پاکستان میں غیرقانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو 31 اکتوبر تک ملک چھوڑنے کا حکم

    نگران وزیر داخلہ

    ،تصویر کا ذریعہPID

    نگراں وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے پاکستان میں موجود غیر قانونی غیر ملکیوں کو رضا کارانہ طور پر 31 اکتوبر تک ملک چھوڑنے کی مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ یکم نومبر تک واپس نہیں جاتے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے افراد کو ڈی پورٹ کریں گے۔

    ان کے مطابق اب پاکستان میں کوئی بھی غیر ملکی بغیر ویزا اور پاسپورٹ کے داخل نہیں ہوسکے گا۔ ان کے مطابق 10 اکتوبر سے لے کر 31 اکتوبر تک افغان شہریوں کے لیے ای تذکرہ یا الیکٹرانک تذکرہ ہے، یہ کمپیوٹرازڈ ہو گا، کاغذی تذکرہ نہیں چلے گا۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ ’ہم 10 سے 31 اکتوبر تک اس کی اجازت دے رہے ہیں اور اس کے بعد پاسپورٹ اور ویزا پالیسی لاگو ہو گی۔

    منگل کو وزارت داخلہ میں وزیراعظم کی زیر صدارت ایپکس کمیٹی اجلاس کے بعد ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نگران وفاقی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہا کہ کسی بھی پاکستانی کی فلاح اور سکیورٹی ہمارے لیے سب سے زیادہ مقدم ہے اور کسی بھی ملک یا پالیسی سے زیادہ اہم پاکستانی قوم ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں غیرقانونی طور پر رہائش پذیر غیرملکی افراد کو ہم نے یکم نومبر تک کی ڈیڈ لائن دی ہے کہ وہ اس تاریخ تک رضاکارانہ طور پر اپنے اپنے ممالک میں واپس چلے جائیں اور اگر وہ یکم نومبر تک واپس نہیں جاتے تو ریاست کے جتنے بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے وہ اس بات کا نفاذ یقینی بناتے ہوئے ایسے افراد کو ڈی پورٹ کریں گے۔

    وزیر داخلہ کے مطابق ’یکم نومبر ہی پاسپورٹ اور ویزا کی تجدید کی ڈیڈ لائن ہے، دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا کہ آپ کسی اور دستاویز پر کسی ملک میں سفر کریں، ہمارا ملک واحد ہے جہاں آپ بغیر پاسپورٹ یا ویزا کے اس ملک میں آتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ یکم نومبر کے بعد کوئی بھی شخص، کسی بھی ملک کا رہنے والا پاسپورٹ اور ویزا کے بغیر ہمارے ملک میں داخل نہیں ہو گا اور صرف پاسپورٹ چلے گا‘۔

    سرفراز بگٹی نے کہا کہ یکم نومبر کے بعد ہمارا ایک آپریشن شروع ہو گا، جس میں وزارت داخلہ میں ایک ٹاسک فورس بنائی گئی ہے، جس کے تحت پاکستان میں غیرقانونی طریقے سے آ کر رہنے والے افراد کی جتنی بھی غیرقانونی املاک ہیں، انھوں نے جتنے بھی غیرقانونی کاروبار کیے ہیں، ہمارے ٹیکس نیٹ میں نہیں ہیں یا وہ کاروبار جو غیر قانونی شہریوں کے ہیں لیکن پاکستانی شہری ان کے ساتھ مل کر یہ کاروبار کررہے ہیں۔ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیاں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کو ڈھونڈیں گے اور ہم ان کاروبارواور جائیدادوں کو بحق سرکار ضبط کریں گے۔

    وزیرداخلہ کے مطابق اس کے علاوہ جو بھی پاکستانی اس کام کی سہولت کاری میں ملوث ہو گا، اس کو پاکستان کے قانون کے مطابق سزائیں دلوائی جائیں گی۔

    انھوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں جس طرح سے شناختی کارڈ کا اجرا ہوتا رہا ہے، اس میں بہت زیادہ بے ضابطگیاں تھیں اور غیرقانونی طریقے سے بہت سے جعلی شناختی کارڈ بنائے گئے ہیں اور ان شناختی کارڈ پر سفری دستاویزات اور پاسپورٹ بنائے گئے ہیں۔

    لوگ ان پاسپورٹ پر باہر ممالک کا سفر کرتے ہیں اور کئی جگہوں پر ایسی مثالیں ہیں جہاں لوگ دہشت گردانہ سرگرمیوں میں پکڑے گئے ہیں اور جو پکڑے گئے ہیں وہ پاکستانی شہری نہ تھے لیکن ان کے پاس پاکستانی پاسپورٹ تھا جو انھیں نادرا سے ملا۔

    ایک ماہر فوجی افسر کو چیئرمین نادرا تعینات کرنا ایک خوش آئند قدم

    وزیر داخلہ کے مطابق ’ایسی صورتحال میں ایک ماہر فوجی افسر کو چیئرمین نادرا تعینات کرنا ایک خوش آئند قدم ہے‘۔

    نگراں وزیر داخلہ نے کہا کہ ’غیر قانونی طور پر شناختی کارڈ کے اجرا میں ملوث افراد کو بھی جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ نادرا کا فیملی ٹری ہے، جس میں بہت حد تک یہ ممکن ہے کہ ہم میں سے کسی کے بھی فیملی ٹری میں کسی ایک کو گھسا لیا جاتا ہے اور وہ پاکستانی شہری بنا جاتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہمارے پاس ڈی این اے ٹیسٹ کی سہولت آ گئی ہے اور ہم ان لوگوں کے ڈی این اے ٹیسٹ بھی کرائیں گے جو پاکستانی شناختی کارڈ کے مالک ہیں لیکن پاکستانی نہیں ہیں، اس کے علاوہ ہم ایک ویب پورٹل بنا رہے ہیں اور ایک یو این اے نمبر دے رہے ہیں، ہم تمام پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں کہ وہ ویب پورٹل اور اس نمبر کے ذریعے ہم سے رابطہ کریں، ہمیں غیرقانونی شناختی کارڈ، غیرقانونی تارکین وطن کے حوالے سے معلومات دے گا اور غیرقانونی سرگرمیوں جیسے سمگلنگ، ذخیرہ اندوزی کے حوالے سے معلومات دے گا تو ان کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا اور ان کے لیے انعامی رقم بھی رکھی جائے گی۔

    وزارت داخلہ اپنے تمام محکموں کو وہ معلومات دے گی اور وہ فوری کارروائی کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ہنڈی حوالہ اور بجلی چوری کے حوالے سے ہمارے آپریشنز چل رہے ہیں اور ہم اس پر مزید سختی کریں گے۔ مزید ان لوگوں کو ڈھونڈیں گے جن کی وجہ سے پاکستانی معیشت مشکلات سے دوچار ہے۔

    سرفراز بگٹی کے مطابق بجلی چوروں، ڈالر، چینی اور گندم کی سمگلنگ میں ملوث عناصر کو ٹیکنالوجی کی مدد سے پکڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔

  15. بی بی سی اردو کے لائیو پیج پر خوش آمدید!

    پاکستان کی سیاسی، معاشی اور سیکورٹی صورتحال اور دیگر اہم خبروں سے متعلق بی بی سی کی لائیو پیج کوریج میں خوش آمدید۔

    تین اکتوبرتک کی خبروں کو جاننے کے لیے یہاں کلک کریں