یہ صفحہ اب مزید اب ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
یہ صفحہ اب مزید اب ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ تازہ ترین خبریں جاننے کے لیے اب یہاں کلک کریں
الیکشن کمیشن نے پاکستان میں آئندہ عام انتخابات کے لیے غیرملکی مبصرین کے پاکستان آنے کے انتظامات سے متعلق دفتر خارجہ سے رابطہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ صفحہ اب مزید اب ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ تازہ ترین خبریں جاننے کے لیے اب یہاں کلک کریں
نگراں وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے پاکستان میں موجود غیر قانونی غیر ملکیوں کو رضا کارانہ طور پر 31 اکتوبر تک ملک چھوڑنے کی مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ یکم نومبر تک واپس نہیں جاتے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے افراد کو ڈی پورٹ کریں گے۔
ان کے مطابق اب پاکستان میں کوئی بھی غیر ملکی بغیر ویزا اور پاسپورٹ کے داخل نہیں ہوسکے گا۔ ان کے مطابق 10 اکتوبر سے لے کر 31 اکتوبر تک افغان شہریوں کے لیے ای تذکرہ یا الیکٹرانک تذکرہ ہے، یہ کمپیوٹرازڈ ہو گا، کاغذی تذکرہ نہیں چلے گا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ ’ہم 10 سے 31 اکتوبر تک اس کی اجازت دے رہے ہیں اور اس کے بعد پاسپورٹ اور ویزا پالیسی لاگو ہو گی۔
منگل کو وزارت داخلہ میں وزیراعظم کی زیر صدارت ایپکس کمیٹی اجلاس کے بعد ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نگران وفاقی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہا کہ کسی بھی پاکستانی کی فلاح اور سکیورٹی ہمارے لیے سب سے زیادہ مقدم ہے اور کسی بھی ملک یا پالیسی سے زیادہ اہم پاکستانی قوم ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں غیرقانونی طور پر رہائش پذیر غیرملکی افراد کو ہم نے یکم نومبر تک کی ڈیڈ لائن دی ہے کہ وہ اس تاریخ تک رضاکارانہ طور پر اپنے اپنے ممالک میں واپس چلے جائیں اور اگر وہ یکم نومبر تک واپس نہیں جاتے تو ریاست کے جتنے بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے وہ اس بات کا نفاذ یقینی بناتے ہوئے ایسے افراد کو ڈی پورٹ کریں گے۔
وزیر داخلہ کے مطابق ’یکم نومبر ہی پاسپورٹ اور ویزا کی تجدید کی ڈیڈ لائن ہے، دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا کہ آپ کسی اور دستاویز پر کسی ملک میں سفر کریں، ہمارا ملک واحد ہے جہاں آپ بغیر پاسپورٹ یا ویزا کے اس ملک میں آتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ یکم نومبر کے بعد کوئی بھی شخص، کسی بھی ملک کا رہنے والا پاسپورٹ اور ویزا کے بغیر ہمارے ملک میں داخل نہیں ہو گا اور صرف پاسپورٹ چلے گا‘۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ یکم نومبر کے بعد ہمارا ایک آپریشن شروع ہو گا، جس میں وزارت داخلہ میں ایک ٹاسک فورس بنائی گئی ہے، جس کے تحت پاکستان میں غیرقانونی طریقے سے آ کر رہنے والے افراد کی جتنی بھی غیرقانونی املاک ہیں، انھوں نے جتنے بھی غیرقانونی کاروبار کیے ہیں، ہمارے ٹیکس نیٹ میں نہیں ہیں یا وہ کاروبار جو غیر قانونی شہریوں کے ہیں لیکن پاکستانی شہری ان کے ساتھ مل کر یہ کاروبار کررہے ہیں۔ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیاں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کو ڈھونڈیں گے اور ہم ان کاروبارواور جائیدادوں کو بحق سرکار ضبط کریں گے۔
وزیرداخلہ کے مطابق اس کے علاوہ جو بھی پاکستانی اس کام کی سہولت کاری میں ملوث ہو گا، اس کو پاکستان کے قانون کے مطابق سزائیں دلوائی جائیں گی۔
انھوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں جس طرح سے شناختی کارڈ کا اجرا ہوتا رہا ہے، اس میں بہت زیادہ بے ضابطگیاں تھیں اور غیرقانونی طریقے سے بہت سے جعلی شناختی کارڈ بنائے گئے ہیں اور ان شناختی کارڈ پر سفری دستاویزات اور پاسپورٹ بنائے گئے ہیں۔
لوگ ان پاسپورٹ پر باہر ممالک کا سفر کرتے ہیں اور کئی جگہوں پر ایسی مثالیں ہیں جہاں لوگ دہشت گردانہ سرگرمیوں میں پکڑے گئے ہیں اور جو پکڑے گئے ہیں وہ پاکستانی شہری نہ تھے لیکن ان کے پاس پاکستانی پاسپورٹ تھا جو انھیں نادرا سے ملا۔
ایک ماہر فوجی افسر کو چیئرمین نادرا تعینات کرنا ایک خوش آئند قدم
وزیر داخلہ کے مطابق ’ایسی صورتحال میں ایک ماہر فوجی افسر کو چیئرمین نادرا تعینات کرنا ایک خوش آئند قدم ہے‘۔
نگراں وزیر داخلہ نے کہا کہ ’غیر قانونی طور پر شناختی کارڈ کے اجرا میں ملوث افراد کو بھی جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ نادرا کا فیملی ٹری ہے، جس میں بہت حد تک یہ ممکن ہے کہ ہم میں سے کسی کے بھی فیملی ٹری میں کسی ایک کو گھسا لیا جاتا ہے اور وہ پاکستانی شہری بنا جاتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہمارے پاس ڈی این اے ٹیسٹ کی سہولت آ گئی ہے اور ہم ان لوگوں کے ڈی این اے ٹیسٹ بھی کرائیں گے جو پاکستانی شناختی کارڈ کے مالک ہیں لیکن پاکستانی نہیں ہیں، اس کے علاوہ ہم ایک ویب پورٹل بنا رہے ہیں اور ایک یو این اے نمبر دے رہے ہیں، ہم تمام پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں کہ وہ ویب پورٹل اور اس نمبر کے ذریعے ہم سے رابطہ کریں، ہمیں غیرقانونی شناختی کارڈ، غیرقانونی تارکین وطن کے حوالے سے معلومات دے گا اور غیرقانونی سرگرمیوں جیسے سمگلنگ، ذخیرہ اندوزی کے حوالے سے معلومات دے گا تو ان کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا اور ان کے لیے انعامی رقم بھی رکھی جائے گی۔
وزارت داخلہ اپنے تمام محکموں کو وہ معلومات دے گی اور وہ فوری کارروائی کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ ہنڈی حوالہ اور بجلی چوری کے حوالے سے ہمارے آپریشنز چل رہے ہیں اور ہم اس پر مزید سختی کریں گے۔ مزید ان لوگوں کو ڈھونڈیں گے جن کی وجہ سے پاکستانی معیشت مشکلات سے دوچار ہے۔
سرفراز بگٹی کے مطابق بجلی چوروں، ڈالر، چینی اور گندم کی سمگلنگ میں ملوث عناصر کو ٹیکنالوجی کی مدد سے پکڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے پاکستان میں آئندہ عام انتخابات کے لیے غیرملکی مبصرین کے پاکستان آنے کے انتظامات سے متعلق دفتر خارجہ سے رابطہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں منگل کو ہونے والے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ وزارت خارجہ کوفوری طور پر تحریر کیا جائے کہ وہ بین الاقومی مبصرین کو آئندہ عام انتخابات کی شفافیت کے مشاہدہ کے لئے مدعو کرنے کے سلسلے میں تمام ضروری اقدامات کرے۔
اجلا س میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ غیر ملکی مبصرین کی جن تنظیموں نے الیکشن کمیشن کو آئندہ عام انتخابات کے دوران انتخابی عمل کے مشاہدے کی درخواست کی ہے ان کے کیس کو فوری طور پر پراسس کیا جائے۔
عالمی مبصرین کے لیے ضابطہ اخلاق کی منظوری بھی دی ہے اور اسے فوری طور پر شائع کرنے کی اجازت دی ہے۔ الیکشن کمیشن نے آئندہ عام انتخابات کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا اور اس پر اطمینان کا اظہار کیا اور حکم دیا کہ الیکشن سے متعلق تمام امور شیڈول کے مطابق مکمل کئے جائیں۔
کمیشن نے سیکریٹری الیکشن کمیشن کی سربراہی میں 16 اکتوبر کو ایک اجلاس بلانے کی بھی ہدایت کر دی ہے۔
اس میں وزارت خارجہ، وزارت داخلہ اور دیگر اداروں کے سینیئر افسران شریک ہوں گے اور عالمی مبصرین کے حوالے سے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
اس اجلاس میں الیکشن کمیشن نے تمام سٹیک ہولڈرز بشمول وزارت خارجہ، وزرات داخلہ اور دیگر اداروں سے فوکل پرسنز کی تفصیل مانگ لی ہے۔ اس کے علاوہ کمیشن نے صوبائی سطح پر الیکشن کمیشن کی طرف سے جوائنٹ صوبائی الیکشن کمیشنر ایڈمن کو چاروں صوبوں میں فوکل پرسنز مقرر کیا ہے۔
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کے اختیارات سے متعلق پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے ہیں کہ ’جمہوریت اور اسلام میں ایک شخص کو تمام اختیارات دینے کی اجازت نہیں۔‘
منگل کے دن سپریم کورٹ میں اس معاملے پر فل کورٹ سماعت کے دوران تحریک انصاف کے وکیل کی جانب سے دلائل دیے گئے جس کے دوران یہ ریمارکس سامنے آئے۔
اس دوران چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ’پی ٹی آئی کو سیاسی جماعت کے طور پر ایکٹ سے فائدہ ہو رہا ہے یا نقصان؟‘ اس پر پی ٹی آئی کے وکیل نے جواب دیا کہ ہمیں کوئی فائدہ یا نقصان نہیں ہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ آئینی اداروں کو اپنے رولز بنانے کا حق حاصل ہے، عدلیہ پارلیمنٹ سے متعلق قانون سازی نہیں کر سکتی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’تمام ججز مجھے فل کورٹ اجلاس بلانے کا کہیں اور میں نہ بلاوں تو کوئی کچھ نہیں کر سکے گا۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’سپریم کورٹ کے چیف جسٹس خود سے کبھی یہ قانون نہ بناتے، چیف جسٹس کے غیر مناسب کنڈکٹ بارے کون کچھ کہہ سکتا ہے۔‘
چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ’جمہوریت اور اسلام میں ایک شخص کو تمام اختیارات دینے کی اجازت نہیں۔‘
جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیے کہ ’سپریم کورٹ کا مطلب چیف جسٹس اور تمام ججز ہیں، چیف جسٹس رولز کے تحت ججز کو انتظامی امور سونپتے ہیں۔‘
جسٹس مظاہر نقوی نے سوال اٹھایا کہ ’مجوزہ قانون کے تحت تین رکنی کمیٹی بن گئی تو کیا ججز کے درمیانی برابری کا اصول ختم نہیں ہو جائے گا؟‘
دوسری جانب جسٹس اطہر من اللہ نے سوال اٹھایا کہ ’ممکن ہے کل پی ٹی آئی اقتدار میں آئے تو پارلیمان کے ویژن کو کیوں چیلنج کر رہی ہے؟‘ اس پر تحریک انصاف کے وکیل نے موقف پیش کیا کہ ’پی ٹی آئی اقتدار میں آئی تو پریکٹس اینڈ پروسیجر سے اچھا قانون آئینی طریقے سے بنائے گی۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’بطور سیاسی جماعت اپ کو گھبراہٹ کیوں ہے، اپیل کا حق ملنے سے ہو سکتا ہے آپ کو فائدہ ہو۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’مجھے بطورِ چیف جسٹس کہا جائے کہ رولز بنانے کے لیے فل کورٹ میٹینگ بلا لیں میں انکار کر دوں تو کوئی کچھ بھی نہیں کر سکتا۔‘
چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ ’چیف جسٹس نا قابل احتساب کیسے ہو سکتا ہے، اگر میرا کنڈکٹ بہت زیادہ نا قابلِ قبول ہو جائے تو کیا ہو گا۔‘
جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ ’سپریم کورٹ میں ججز کی تعیناتی مستقل نہیں ہوتی بلکہ مدت ملازمت کی ریٹائرمنٹ بھی ہے۔‘ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ ’اگر کسی کا کنڈکٹ نا قابلِ قبول ہے تو وہ چلا جائے گا۔‘
پی ٹی آئی وکیل نے موقف اپنایا کہ ’اگر نا قابل قبول کنڈکٹ ہو تو اس کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل بھی ہے۔‘
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کے اختیارات سے متعلق پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے ہیں کہ ماضی میں از خود نوٹس کا غلط استعمال ہوا اور ’اب اگر پارلیمان نے محسوس کیا ہے کہ اس بارے میں اپیل کا حق دینا چاہیے اور اس بارے میں قانون سازی کی تو اس میں حرج کیا ہے۔‘
منگل کے دن سپریم کورٹ میں اس معاملے پر فل کورٹ سماعت کے دوران تحریک انصاف کے وکیل کی جانب سے دلائل دیے گئے جس کے دوران یہ ریمارکس سامنے آئے۔
اس دوران چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا ان کے پاس دنیا بھر میں ایسی کوئی مثال موجود ہے اگر عدالت نے کوئی فیصلہ دیا ہو اور اس فیصلے کے خلاف کوئی اپیل بھی نہ ہو۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ قانون سازی نہ کرتی تو کیا سپریم کورٹ کے پاس ازخود نوٹس پر دیے گئے فیصلوں کے خلاف اپیل کا اختیار ہے تو اس پر پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے پاس یہ اختیار نہیں ہے۔
چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تو پھر اس قانون پر اعتراض کیوں کر رہے ہیں؟ اگر اپیل کا حق دے دیا گیا ہے تو کیا قیامت آ گئی؟
چیف جسٹس نے کہا کہ اگر چیف جسٹس نے ایک فیصلہ کر لیا تو مطلب اب کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔
بینچ میں شامل جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے تمام فیصلے درست نہیں ہو سکتے لیکن ’اگر ہر کیس میں اپیل کا حق دے دیا جائے تو ہر بندہ اپیل لیکر آجائے گا۔‘
اس دوران وکیل کی جانب سے امریکی عدالت کی مثال دیے جانے پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’امریکہ میں تو غلامی بھی تھی، خواتین کو ووٹ کا حق برصغیر کے بعد ملا، تو ہم امریکہ سے زیادہ متاثر کیوں ہیں؟‘
جسٹس منسور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ امریکہ کی عدالت میں ازخود نوٹس کا بھی تصور نہیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ آئینی ترمیم کیلئے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے اور اس سے اپیل کا حق دیا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے مذید ریمارکس دیے کہ پارلیمنٹ اپیل کا حق دینے میں بااختیار ہے لیکن دینے کا طریقہ کار کیا ہو یہ اصل مسئلہ ہے۔
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کے اختیارات سے متعلق پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے ہیں کہ ’اس ملک کو فرد واحد نے تباہ کیا ہے، چاہے وہ مارشل لا ہو یا کوئی اور۔‘
منگل کے دن سپریم کورٹ میں اس معاملے پر فل کورٹ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے دلائل دیے گئے جس کے دوران یہ ریمارکس سامنے آئے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ ’دنیا بھر میں انصاف کی فراہمی میں پاکستان کی عدالتیں کہاں کھڑی ہیں، اس حوالے سے کوئی بات نہیں ہو رہی۔ صرف اس بارے میں درخواستیں دائر کی جارہی ہیں کہ کہیں چیف جسٹس کے اختیارات کم نہ ہو جائیں۔‘
سماعت کے دوران جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ آئین سے ہٹ کر کوئی قانون نہیں بنایا جاسکتا۔
دوسری جانب جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ مسابقتی کمیشن قانون سمیت بہت سے قوانین آئین کے اندر نہیں تو ان کا کیا ہوگا۔
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ آئین میں جو چیزیں نہیں کیا قانون سازی سے ان کو شامل نہیں کیا جاسکتا؟
درخواست گزار کے وکیل عزیز بھنڈاری نے موقف اختیار کیا کہ سپیشل ٹریبونل بنائے گئے ہوں تو ان کیخلاف اپیل دی جا سکتی ہے۔
اس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے سوال کیا کہ کیا یہ آئین میں لکھا ہوا ہے؟
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ’آئین میں کچھ موضوعات پر قانون سازی کا حق دیا گیا ہے، آرٹیکل 191 میں قانون سازی کا اختیار کہیں نہیں دیا گیا۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر ایسا ہے تو آرٹیکل 191 میں قانون کے تابع رولز بنانے کے الفاظ غیر موثر ہوجائیں گے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے سوال اٹھایا کہ آرٹیکل 184/3 میں اپیل کا حق ملنے سے تحریک انصاف کو کیا مسئلہ ہے؟ ’پی ٹی آئی نے اپنا موقف پارلیمان میں کیوں نہیں اٹھایا؟‘
اس پر وکیل عزیز بھنڈاری نے جواب دیا کہ کسی سیاسی فیصلے کا دفاع نہیں کروں گا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ سیاسی جماعت کے وکیل ہیں تو جواب بھی دینا ہوگا۔ وکیل عذیر بھنڈاری نے ریمارکس دیے کہ تحریک انصاف کے ہر اقدام کا ذمہ دار نہیں ہوں۔
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کے اختیارات سے متعلق پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کے فائدے اور نقصان کو چھوڑیں صرف یہ بتائیں کہ کیا اس قانون سے عام آدمی کو فائدہ ہوگا یا نقصان۔
انھوں نے کہا کہ محض مفروضوں پر بات نہ کریں بلکہ حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے دلائل دیں۔
چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ مطمئین ہیں کہ سپریم کورٹ جو بھی کرے تو وہ ٹھیک ہوگا تو درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ وہ مطمئین ہوں گے۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ماضی میں تو سپریم کورٹ نے ایک ڈکٹیٹر کو آئین کو روندنے کا اختیار دیا۔ انھوں نے کہا کہ ماضی میں سپریم کورٹ نے آئین کے برعکس فیصلے دیے۔
جسٹس عائشہ ملک نے سوال کیا کہ اس قانون کے تحت اپیل کا حق دیا گیا تو کیا اس سے انصاف کی فراہمی میں تاخیر ہو سکتی ہے؟
جبکہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے تحت آپ کی صحت پر کیا اثر پڑا ہے؟
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جب ملک میں مارشل لگتے رہے ہیں تو کمرہ عدالت میں لگی ہوئی تصاویر والے حضرات سب کچھ بھول جاتے ہیں۔
انھوں نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا وہ ملک میں نیا مارشل لا لگوانا چاہتے ہیں جبکہ سپریم کورٹ اس اقدام کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ جب بھی کوئی نیا چیف جسٹس آتا ہے تو سپریم کورٹ کی ڈائریکشن تبدیل ہو جاتی ہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ جس وقت آئین بنایا گیا تو اس وقت آئین کے آرٹیکل ایک سو چوراسی تین کے تحت اپیل کا حق نہیں دیا جبکہ اب ترمیم کرکے اپیل کا حق دیا گیا ہے۔
بینچ میں موجود جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا آئین کا آرٹیکل ایک سو اکانوے پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ سے متعلق قانون سازی سے روکتا ہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ اگر آئین میں کوئی قدغن نہ ہو تو سپریم کورٹ اپنے لیے نئے رولز بنا سکتی ہے۔
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کے اختیارات سے متعلق پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سے متعلق کیس کی سماعت کا وقفے کے بعد دوبارہ آغاز ہو گیا ہے۔
سماعت کے دوبارہ آغاز پر درخواست گزار کے وکیل حسن عرفان کا کہنا تھا کہ اس ایکٹ سے پٹیشنر کے حقوق متاثر ہوں گے کیونکہ اگر وہ ازخود نوٹس کے متعلق کوئی درخواست دیتا ہے تو پھر یہ معاملہ سپریم کورٹ کی تین ججزپر مشتمل کمیٹی کے پاس جائے گا جو کہ اس درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں فیصلہ کرے گی جس سے وقت کے ساتھ ساتھ انصاف میں تاخیر کا اہتمال ہے۔
بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ انصاف تک رسائی بنیادی حق ہے اور انصاف تک رسائی یہ ہے کہ سپریم کورٹ اور دیگر فورم آزاد ہوں۔
انھوں نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر عدلیہ کی آزادی سے متعلق کوئی قانون بن گیا تو کیا یہ انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ ہو گی؟

،تصویر کا ذریعہPTV
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کے اختیارات سے متعلق پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے۔
چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ کیس کی سماعت کر رہا ہے۔
سماعت کے دوران وکلا کے دلائل کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس قانون سازی کا اثر مستقبل میں آنے والے چیف جسٹس صاحبان پر ہو گا۔
درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ یہ قانون سازی نہ صرف عدلیہ کی آزادی کو متاثر کرے گی بلکہ پارلیمنٹ نے سپریم کورٹ کی ورکنگ کو بھی ریگولیٹ کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ نے ماورائے آئین یہ قانون سازی کی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل اکرم چوہدری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جب یہ ایکٹ منظور ہوا اس وقت کی پارلیمنٹ کی صورتحال دیکھنا بھی ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں کی گئی باتوں کو لائیو رپورٹ بھی کیا گیا۔
اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ اپنے دلائل اخباری خبروں کی بنیاد پر دیں گے؟
اکرم چوہدری کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس پارلیمنٹ کی کارروائی کا ریکارڈ نہیں ہے۔ تو چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے سپیکر کو تحریری طور پر کارروائی کے ریکارڈ کے لیے درخواست کی؟ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ اور عدلیہ الگ الگ آئینی ادارہ ہیں۔
اگر آپ نے اپنی معلومات تک رسائی کے حق کے تحت کارروائی کے لیے درخواست نہیں کی تو یہ دلیل مت دیں۔انھوں نے کہا کہ آپ نے خود سپیکر کو خط نہیں لکھا اور چاہتے ہیں کہ پورا سپریم کورٹ بیٹھ کر بے بنیاد دلیل سنے۔
وکیل اکرم چوہدری نے کہا کہ میں پوری قوم کی طرف سے بات کر رہا ہوں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ قانونی دلائل دیجیے، یہ دلیل دیں کہ پارلیمنٹ نے کیسے عدلیہ کے حق کو سلب کیا۔
اس پر بنچ میں موجود جسٹس سردار طارق مسعود نے سوال کیا کہ کیا پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار حاصل ہے جس پر درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار تو ہے لیکن اس طرح کی قانون سازی کا نہیں۔
عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ اس قانون سازی سے کون سے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں جس کے بارے میں درخواست گزار کے وکیل عدالت کو مطمئین نہ کر سکے۔
بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الااحسن نے ایک اور درخواست گزار کے وکیل محمد عرفان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بینچز کی تشکیل سپریم کورٹ کا انتظامی معاملہ ہے اور سپریم کورٹ جیسے چاہے اپنے اختیارات کو تقسیم کر سکتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل ایک سو اکانوے میں سپریم کورٹ کے اختیارات کے استعمال کا واضح ذکر ہے کہ سپریم کورٹ اپنے رولز خود بنا سکتی ہے تو پھر اس طرح کی قانون سازی کی کیا ضرورت تھی۔
اس پندرہ رکنی بینچ کے ایک اور رکن کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں یہ قانون سازی سپریم کورٹ کے اختیارات ریگولیٹ کرنے سے متعلق نہیں ہے۔
اس وقت سماعت میں وقفہ کر دیا گیا ہے۔
چیف جسٹس کے اختیارات سے متعلق سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکلا کا کہنا ہے کہ وہ اٹارنی جنرل کے دلائل کے بعد جواب الجواب دلائل دینے کا حق رکھتے ہیں
ایک درخواست گزار کے وکیل اکرام چوہدری کا کہنا تھا کہ اس قانون کے تحت عدلیہ کی آزادی پر قدغن لگانے کی کوشش کی گئی جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدلیہ کی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا تاہم انھوں نے درخواست گزار کے وکیل سے کہا کہ وہ عدالت کو بتائیں کہ یہ قانون آئین سے کیسے متصادم ہے۔
درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس قانون کے ذریعے آئین کی نفی کی گئی۔ جس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اگر یہ قانون آئینی ترمیم کے ذریعے بن جاتا تو تب بھی یہ آئین کی نفی ہوتا۔
درخواست گزار کے وکیل نے اس کا جواب تو نہیں دیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون ایک فرد واحد کے لیے بنایا گیا ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ اور عدلیہ الگ الگ ادارے ہیں۔ انھوں نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جس شخصیت کا آپ ذکر کر رہے ہیں ان کو آپ نے فریق ہی نہیں بنایا۔
چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نہ آپ عوامی نمائندے ہیں اور نہ ہی یہ ججز منتخب نمائندے ہیں لہٰذا سپریم کورٹ کے فورم کو سیاسی تقاریر کے لیے استعمال نہ کریں۔درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ وہ پوری قوم کی بات کر رہے ہیں۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ یہ دلائل اخباری خبریں پڑھ کر دے رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ یہ بتائیں کہ کیا یہ قانون سازی لوگوں کو انصاف کی فراہمی میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ قانون سازی چیف جسٹس کے اختیارات کی تقسیم سے متعلق ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPTV
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کے اختیارات سے متعلق پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سے متعلق دائر نو درخواستوں پر سماعت شروع ہو گئی ہے جس کی سرکاری ٹی وی کے ذریعے براہ راست کوریج کی جارہی ہے۔
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ درخواستوں پر سماعت کر رہا ہے۔
سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہماری کوشش ہو گی آج کیس کا اختتام کریں، ایک کیس کو ہی لےکر نہیں بیٹھ سکتے، سپریم کورٹ میں پہلے ہی بہت سے کیس زیر التوا ہیں۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ آج اس قانون کا اثر بالخصوص چیف جسٹس اور دو سینئر ججز پر ہو گا، اختیارات کو کم نہیں بانٹا جا رہا ہے، اس قانون کا اطلاق آئندہ کے چیف جسٹسز پر بھی ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کا اختیار اور پارلیمنٹ کا اختیار آمنے سامنے ہے، کچھ ججز سمجھتے ہیں پارلیمنٹ اور چیف جسٹس کا اختیار آمنے سامنے ہے، کچھ ایسا نہیں سمجھتے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ سب نے اپنے جوابات قلمبند کر دیے ہیں، ہمارے سامنے اٹارنی جنرل اور سینئروکلا ہیں، سب کو سنیں گے۔
سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سے متعلق درخواستوں کی سماعت سے قبل فریقین نے سپریم کورٹ میں تحریری جوابات جمع کرا دیے ہیں۔
اٹارنی جنرل، مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) نے ایکٹ کو برقرار رکھنے جب کہ درخواست گزاروں اور پاکستان تحریک انصاف نے اپنے اپنے تحریری جوابات میں ایکٹ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہPTV
سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کی سماعت آج (منگل) ہو رہی ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ اس اہم مقدمے کی سماعت کرے گا۔
اس ضمن میں مقدمے کی سماعت کو ٹی وی پر براہ راست نشر کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئیں ہیں۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل پی ٹی وی کے کیمرے سپریم کورٹ کے کمرہ نمبر ایک میں نصب کر دیے گئے ہیں۔
واضح رہے اس قانون کے خلاف سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں آٹھ رکنی بینچ نے حکم امتناع جاری کیا تھا۔ اس کے بارے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس وقت کے چیف جسٹس کو خط لکھا تھا کہ جب تک بینچ کی تشکیل سے متعلق اس قانون کے بارے میں فیصلہ نہیں ہو جاتا، اس وقت تک وہ کسی بینچ کا حصہ نہیں بنیں گے۔
پاکستان کی عدالتی تاریخ میں پہلی مرتبہ فل کورٹ کی عدالتی کارروائی کو پی ٹی وی پر دیکھایا گیا تھا اور اس فل کورٹ میں سپریم کورٹ میں موجود 15 جج صاحبان نے شرکت کی۔ ریاست کے زیر انتظام چلنے والے ٹی وی پر یہ عدالتی کارروائی چھ گھنٹے سے زیادہ دیر تک دکھائی گئی۔

،تصویر کا ذریعہPID
اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران نگران وفاقی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ’آرمی چیف نے کہا ہے کہ جو اہلکار سمگلنگ اور دیگر غیر قانونی کاروائیوں میں ملوث ہوں گے اُن کا کورٹ مارشل ہوگا۔‘
نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے اسلام آباد میں نگران وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی۔
نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہا کہ ’جو لوگ اسمگلنگ اور حوالہ ہنڈی میں ملوث ہیں، اُن کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔‘ اُن کا کہنا تھا کہ ’فوج اپنے احتساب کے نظام کو 9 مئی کے واقعات کے خلاف کاروائی میں ثابت کر چُکی ہے۔‘
سمگلنگ اور حوالہ ہنڈی سے متعلق بات کرتے ہوئے نگران وزیر داخلہ نے کہا کہ ’چینی اور گندم کی سمگلنگ کو روکنے کے لیے موثر انداز میں کام کر رہے ہیں۔ حوالہ ہنڈی کا کام کرونے والوں کے خلاف 168 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’حوالہ ہنڈی کے خلاف کچھ اقدامات سے ڈالر کی قیمتیں کنٹرول ہوئی ہیں۔‘
سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ’سمگلنگ اونٹوں پر نہیں ٹرکوں پر ہو رہی تھی، اور اس غیر قانونی کاروبار میں سیاستدانوں اور سرکاری افسران کے نام بھی شامل ہیں۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’سمگلنگ سے متعلق ہونے والی تحقیقات میں کچھ نکلا تو حقائق سامنے لائے جائیں گے۔‘
پریس کانفرنس کے اختتام پر پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف کی وطن واپسی سے متعلق ہونے والے ایک سوال کے جواب میں نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ’میاں صاحب اگر واپس آکر سیاست میں آنا چاہتے ہیں تو یہ ایک حوصلہ افزا بات ہے۔‘
تاہم پاکستان میں آئندہ عام انتخابات میں سیکورٹی خدشات سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ ’الیکشن میں پولنگ سٹیشنز کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔‘
پاکستان کی سیاسی، معاشی اور سیکورٹی صورتحال اور دیگر اہم خبروں سے متعلق بی بی سی کی لائیو پیج کوریج میں خوش آمدید۔
دواکتوبرتک کی خبروں کو جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔