آرمی چیف کی واضح ہدایات ہیں، سمگلنگ میں ملوث اہلکاروں کا کورٹ مارشل ہو گا، نگران وزیر داخلہ

نگران وفاقی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ’آرمی چیف نے کہا ہے کہ جو اہلکار سمگلنگ اور دیگر غیر قانونی کاروائیوں میں ملوث ہوں گے اُن کا کورٹ مارشل ہوگا۔‘ ادھر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو چار اکتوبر کو پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا

    پاکستان کی سیاسی، معاشی اور سیکورٹی صورتحال اور دیگر اہم خبروں سے متعلق بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔

    تین اکتوبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  2. ’ہم کھیلنے گئے تھے، اس میں کچھ غلط نہیں تھا‘: سوات میں لڑکیوں کا کرکٹ میچ کیوں روک دیا گیا؟

  3. آرمی چیف نے سمگلنگ میں ملوث اہلکاروں کے کورٹ مارشل کا کہا ہے، نگران وزیر داخلہ

    پریس کانفرنس

    ،تصویر کا ذریعہPID

    اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران نگران وفاقی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ’آرمی چیف نے کہا ہے کہ جو اہلکار سمگلنگ اور دیگر غیر قانونی کاروائیوں میں ملوث ہوں گے اُن کا کورٹ مارشل ہوگا۔‘

    نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے اسلام آباد میں نگران وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

    نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہا کہ ’جو لوگ اسمگلنگ اور حوالہ ہنڈی میں ملوث ہیں، اُن کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔‘ اُن کا کہنا تھا کہ ’فوج اپنے احتساب کے نظام کو 9 مئی کے واقعات کے خلاف کاروائی میں ثابت کر چُکی ہے۔‘

    سمگلنگ اور حوالہ ہنڈی سے متعلق بات کرتے ہوئے نگران وزیر داخلہ نے کہا کہ ’چینی اور گندم کی سمگلنگ کو روکنے کے لیے موثر انداز میں کام کر رہے ہیں۔ حوالہ ہنڈی کا کام کرونے والوں کے خلاف 168 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’حوالہ ہنڈی کے خلاف کچھ اقدامات سے ڈالر کی قیمتیں کنٹرول ہوئی ہیں۔‘

    سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ’سمگلنگ اونٹوں پر نہیں ٹرکوں پر ہو رہی تھی، اور اس غیر قانونی کاروبار میں سیاستدانوں اور سرکاری افسران کے نام بھی شامل ہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’سمگلنگ سے متعلق ہونے والی تحقیقات میں کچھ نکلا تو حقائق سامنے لائے جائیں گے۔‘

    پریس کانفرنس کے اختتام پر پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف کی وطن واپسی سے متعلق ہونے والے ایک سوال کے جواب میں نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ’میاں صاحب اگر واپس آکر سیاست میں آنا چاہتے ہیں تو یہ ایک حوصلہ افزا بات ہے۔‘

    تاہم پاکستان میں آئندہ عام انتخابات میں سیکورٹی خدشات سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ ’الیکشن میں پولنگ سٹیشنز کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔‘

  4. چمن فالٹ لائن میں لرزش کے دعوے: کوئٹہ انتظامیہ کے حفاظتی اقدامات، مزدوروں کے کانوں میں داخل ہونے پر پابندی

  5. پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے: تحریک انصاف, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف مقدمے میں تحریک انصاف نے اضافی دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہیں۔ پی ٹی آئی نے استدعا کی ہے کہ ’اضافی دستاویزات کو کیس ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے‘۔

    تحریک انصاف کے مطابق پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے۔

    تحریک انصاف کی درخواست کے مطابق آئین میں پارلیمنٹ اور ایگزیکٹو کے اختیارات واضح ہیں۔

    پی ٹی آئی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ’پی ڈی ایم حکومت نے سپریم کورٹ کے متوازی نظام قائم کرنے کی کوشش کی ہے، آئین میں سپریم کورٹ اور چیف جسٹس پاکستان کے اختیارات بالکل واضح ہیں۔

  6. فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس کا عدالتی حکم نامہ جاری: ’فریقین کو حقائق پیش کرنے کا ایک اور موقع دے رہے ہیں‘

    SC

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس کی 28 ستمبر کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کیس کا فیصلہ تحریر کیا جو چار صفحات پر مشتمل ہے۔

    عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ تمام فریقین کو فیض آباد دھرنے سے متعلق حقائق پیش کرنے کا ایک اور موقع دے رہے ہیں، فریقین کیس سے متعلق حقائق بیان حلفی کے ذریعے جمع کروا سکتے ہیں۔

    عدالتی حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ کیس میں تحریری جوابات 27 اکتوبر تک جمع کرائے جائیں اور کیس کی سماعت یکم نومبر کو ہو گی۔

    عدالتی حکم نامے کے مطابق اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزارت دفاع اپنی نظرثانی درخواست پر مزید کارروائی نہیں چاہتی، آئی بی، پیمرا اور پی ٹی آئی نے بھی متفرق درخواست کے ذریعے نظرثانی درخواستیں واپس لینے کی استدعا کی جبکہ درخواست گزار شیخ رشید نے نیا وکیل کرنے کے لیے مزید مہلت کی استدعا کی۔

    درخواست گزار اعجاز الحق نے فیصلے کے پیراگراف نمبر چار پر اعتراض اٹھایا اور دوران سماعت کیس سے متعلق چار سوالات اٹھائے گئے۔

    حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ کچھ درخواست گزاروں کی عدم حاضری پر انھیں ایک اور موقع دیا جاتا ہے، عدالت نے مشاہدہ کیا کچھ لوگوں نے عوامی سطح پر کہا کہ انھیں معلوم ہے کہ کیا ہوا، ان لوگوں کا کہنا تھا کہ فیض آباد دھرناکیس میں عدالت نے ان کے نکتہ نظر کو مدنظر نہیں رکھا، فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے کے پیراگراف 17 کے تحت یہ مؤقف عدالت کے لیےحیران کن ہے۔

    حکم نامے کے مطابق عدالت نے فیض آباددھرناکیس فیصلے میں کہا تھا کہ کوئی بھی متاثرہ فریق آگے بڑھ کر تحریری طور پر اپنا مؤقف پیش کر سکتا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ فیض آباد دھرنا ایک محدود وقت کے لیے تھا اور اس کے دائرہ اختیار کو وسیع نہیں کیا جانا چاہیے۔

  7. ’پری پیریڈ کومک بُک‘: ’ہم ماہواری کو ایسے لیتے ہیں جیسے بچی نے گناہ کر دیا‘

  8. دہلی میں افغانستان کا سفارتخانہ 21 سال بعد دوبارہ بند کیوں ہوا؟

  9. سائفر کیس: خصوصی عدالت کا عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو چار اکتوبر کو پیش کرنے کا حکم

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہNATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت نے سائفر کے مقدمے میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو چار اکتوبر کو پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

    سوموار کو خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس کا چالان جمع ہونے کے بعد نوٹس جاری کر دیے۔

    ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ گواہان کے بیانات ملزمان کو نوٹس جاری کرنے کے لیے کافی ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی اڈیالہ جیل میں قید ہیں، اس لیے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی عدالت پیشی کے حوالے سے سپرٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری کیا جاتا ہے۔

    ابوالحسنات ذوالقرنین کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ سپرٹنڈنٹ اڈیالہ جیل چار اکتوبر کو چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو عدالت میں پیش کرے۔

  10. بریکنگ, سائفر کیس: ایف آئی اے کی عمران خان کی درخواست ضمانت پر ان کیمرا سماعت کی استدعا پر فیصلہ محفوظ

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    سائفر کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کی جانب سے سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست ضمانت کی ان کیمرا سماعت کرنے کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواستِ ضمانت پر اِن کیمرا سماعت کے لیے ایف آئی اے کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی۔

    سماعت کے موقع پر سپیشل پراسکییوٹر شاہ خاور اور وکیل چیئرمین پی ٹی آئی سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے۔

    ایف آئی اے کے سپیشل پراسیکیوٹر شاہ خاور نے ان کیمرا سماعت کرنے کی درخواست پر دلائل کا آغاز کیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل سلمان صفدر سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے ایف آئی اے کی اِن کیمرا سماعت کی درخواست دیکھ لی ہے؟

    سلمان صفدر نے جواب دیا کہ میں عدالت کے سامنے کچھ گزارشات رکھنا چاہتا ہوں۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ پراسیکیوشن نے درخواست دی ہے پہلے انھیں دلائل دینے دیں، ٹرائل کا معاملہ الگ ہے، کیا ضمانت کی سماعت بھی اِن کیمرا ہو سکتی ہے؟ مجھے اس حوالے سے تو نہیں معلوم، آپ بھی دیکھ لیجئے گا۔

    شاہ خاور ایڈووکیٹ نے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ٹرائل کو پبلک نہیں کیا جاسکتا، آج ہم ایک درخواست ٹرائل کورٹ میں دائر کر رہے ہیں، درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران کچھ اہم دستاویزات اور بیانات عدالت کے روبرو رکھنے ہیں، کچھ ملکوں کے بیانات بھی ریکارڈ پر لانے ہیں، یہ کارروائی پبلک ہوگی تو کچھ ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ درخواست ضمانت پر سماعت بھی اِن کیمرا کی جا سکتی ہے، کچھ بیانات اور کچھ مواد ایسا ہے جسے عوامی سطح پر بیان نہیں کیا جا سکتا اس سے دوسرے ممالک سے تعلقات خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ عدالت درخواست ضمانت پر فیصلہ لکھے گی تو وہ تو پبلک ہو گا، جب فیصلہ پبلک ہو گا تو پھر سماعت اِن کیمرا کیوں کی جائے، ٹرائل کورٹ میں بیان بونا ہے وہ ٹرائل کورٹ کا اختیار ہے کہ اِن کیمرا کرتی ہے یا نہیں۔

    شاہ خاور ایڈووکیٹ نے کہا کہ سائفر ایک خفیہ دستاویز ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سائفر سے متعلق کوئی کوڈ آف کنڈکٹ یا ایس او پی ہے تو بتا دیں، میں نے آج تک ان کیمرا کی درخواست منظور نہیں کی لیکن آپ دلائل دیں، سائفر کا کوڈ آف کنڈکٹ بتا دیں، معمول کے مطابق ہم بھی باہر بھجواتے ہوں گے، جو یہاں سفارتکار ہیں وہ بھی سائفر بھجواتے ہوں گے، اس دستاویز کو ڈی کوڈ کون کرے گا؟

    جس کے بعد ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل عدالت میں پیش ہوئے اور سائفر کے کوڈ آف کنڈکٹ سے متعلق عدالت کو آگاہ کیا۔ شاہ خاور ایڈووکیٹ نے کہا کہ بیرون ممالک پاکستان کے سفارت خانوں سے کوڈ میں سائفر بھیجے جاتے ہیں، دفتر خارجہ میں سائفر کو ڈی کوڈ کیا جاتا ہے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا یہ تمام کوڈز یونیورسل ہوتے ہیں؟ شاہ خاور ایڈووکیٹ نے جواب دیا کہ صدر، وزیراعظم، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو سائفر کاپی بھیجی جاتی ہے، سائفر نے تمام جگہوں سے ہو کر واپس دفتر خارجہ آنا ہوتا ہے، دفتر خارجہ میں پہنچنے پر ڈی کوڈ کئے گئے سائفر کو ختم کر دیا جاتا ہے، صرف اصل سائفر دفتر خارجہ میں موجود رہتا ہے۔

    عمران خان کے وکیل نے اِن کیمرا سماعت کی مخالفت

    اس موقع پر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل نے اِن کیمرا سماعت کی مخالفت کی۔

    وکیل چیئرمین پی ٹی آئی سلمان صفدر نے اِن کیمرا سماعت کی درخواست پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سماعت پر کہا گیا کہ ہم ایک درخواست دینا چاہتے ہیں، ہم نے کہا تھا جس کو کمرہ عدالت سے باہر نکالنا ضروری ہے نکال دیں۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ میں نے نو برس میں ان کیمرا کبھی سماعت کی نہیں ہے، ایک آدھ بار مسنگ پرسن کیس میں کی ہو گی۔

    سلمان صفدر ایڈووکیٹ نے کہا کہ میں اپنے دلائل سائفر کے کوڈ میں جاؤں گا ہی نہیں، ہم نے ٹرائل کورٹ میں دلائل دیے ایف آئی اے نے درخواست نہیں دی، اب یہ اس مرحلے پر درخواست دے رہے ہیں، عوام کو علم ہے کہ یہ کیا کیس ہے۔

    انھوں نے کہا کہ یہ درخواست ضمانت بعد ازگرفتاری کی درخواست ہے، ٹرائل کورٹ کے پاس چالان آگیا ہے، ٹرائل کورٹ نے نقول تقسیم کردی ہیں، اب ٹرائل کورٹ اس درخواست کے لیے بہترین فورم ہے، چیئرمین پی ٹی آئی پر سائفر کو پبلک کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا، پراسیکیوشن کی سماعت اِن کیمرا کرنے کی درخواست ہی اُس سے متضاد ہے۔

    سلمان صفدر ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ آج سرکاری وکلا نے مجھے بہت زبردست گراؤنڈ دیا ہے، سرکاری وکلا کہہ رہے ہیں کہ پبلک کو کچھ پتہ نہ چلے، ایف آئی اے کی درخواست ہے کہ سماعت اِن کیمرا کریں کیونکہ کچھ پبلک نہ ہو، اگر سائفر پہلے پبلک ہو چکا تو پراسیکیوشن اب کس چیز کو پبلک نہیں ہونے دینا چاہتی۔

    انھوں نے کہا کہ ضمانت کی درخواست پر سماعت اِن کیمرا نہیں کی جا سکتی، ٹرائل کورٹ میں سماعت اِن کیمرا کرنے کی درخواست دائر کی جا سکتی ہے، اگر کوئی حساس بات ہو تو صرف وہ سماعت اِن چیمبر کی جا سکتی ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ پراسیکیوشن درخواست ضمانت پر اِن کیمرا سماعت کی استدعا کر رہی ہے، ہم تو آج تیار ہو کر آئے تھے کہ سماعت کی لائیو اسٹریمنگ ہو گی۔

    اس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدالتی کارروائی براہ راست دکھانے کا عندیہ دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ لائیو سٹریمنگ ہو گی، ضرور ہو گی، ہم نے یہ معاملہ فُل کورٹ کے سامنے رکھا ہے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ یہ فیصلہ کرنا ہے کہ سماعت اِن کیمرا ہو گی یا اوپن کورٹ میں، کیس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کرنے کی تاریخ دیں گے۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کی اِن کیمرا سماعت کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

  11. اگر شیخ رشید کو جلد بازیاب نہ کروایا گیا تو پولیس افسران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں گے: لاہور ہائیکورٹ, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لاہور ہائیکورٹ نے راولپنڈی پولیس نے مزید ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کو جلد بازیاب نہ کروایا گیا تو پولیس افسران کے خلاف مقدمے درج کرنے کی احکامات جاری کیے جائیں گے۔

    لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس صداقت علی خان نے پیر کے صبح سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد اور ان کے دو ملازمین کی بازیابی کے لیے شیخ عامر شفیق کی جانب سے دائر کردہ رٹ پیٹشن پر سماعت کی۔

    سماعت کے آغاز پر شیخ رشید کے وکیل سردار عبدالرازاق نے عدالت کو آگاہ کیا کہ شیخ رشید کے ساتھ ’اغوا‘ ہونے والے دو مغویان شیخ شاکر اور شیخ عمران واپس آ گئے ہیں۔ اس پر جسٹس صداقت نے استفسار کیا کہ مغویان نے کیا بیان دیا ہے؟ جس پر سردار عبدالرازاق نے آگاہ کیا کہ ان کی دونوں افراد سے ملاقات نہیں ہو سکی ہے۔

    عدالت نے آر پی او راولپنڈی سے استفسار کیا کہ بتائیں شیخ رشید کہاں ہیں؟ اس پر آر پی اور نے استدعا کی انھیں دو ہفتے کا وقت دیا جائے تاکہ وہ شیخ رشید کو ٹریس کر سکیں۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ وہ اتنا وقت نہیں دے سکتے کیونکہ یہ معاملا سیریس ہے۔

    جسٹس صداقت علی خان نے کہا کہ اگر شیخ رشید کو بازیاب نہ کیا گیا تو عدالت ایس ایس پی آپریشنز راولپنڈی سمیت دیگر پولیس افسران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے گی۔

    عدالت نے شیخ رشید کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ’آپ کے پاس کوئی ویڈیو یا فوٹیج ہے تو عدالت میں جمع کروائیں۔‘

    اس پر وکیل نے دعویٰ کیا کہ اُن کے پاس پولیس افسران کی سی ڈی آر موجود ہے جس کے مطابق پولیس افسران شیخ رشید کو بحریہ ٹاون سے اغوا کر کے براستہ صدر گولڑہ موڑ کے پاس ایک انٹیلیجنس ایجنسی کے دفتر تک لے گئے ہیں۔

    عدالت نے راولپنڈی پولیس کو شیخ رشید کو بازیاب کروانے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔

  12. بریکنگ, 90 روز میں الیکشن نہ کروانے کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

    Elections

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ملک بھر میں 90 روز میں عام انتخابات نہ کروانے کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔

    سوموار کو جوڈیشل ایکٹوازم کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں صدر پاکستان، الیکشن کمیشن، وفاقی حکومت سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ ‏آئین پاکستان کے مطابق 90 روز میں الیکشن کروانا لازم ہے، ‏الیکشن کمیشن کی جانب سے تاحال 90 روز میں الیکشن کروانے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ ‏صدر پاکستان، الیکشن کمیشن کو بھی 90 روز میں الیکشن کروانے کے لیے خطوط لکھے لیکن ‏صدر پاکستان اور الیکشن کمیشن نے90 روز میں الیکشن کروانے کے لیے تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔

    دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ‏اسمبلیوں کے تحلیل کے بعد اب 90 روز میں الیکشن کروانے کے لیے وقت بہت کم رہ گیا ہے۔ لہذا ‏عدالت 90 روز میں الیکشن کروانے کے احکامات جاری کرے۔ اور ‏عدالت صدر پاکستان کو الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرنے کا حکم دے۔

  13. بریکنگ, شیخ رشید کہاں ہیں؟ لاہور ہائیکورٹ میں آج عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کی ’گرفتاری‘ سے متعلق سماعت ہو گی

    Sheikh Rasheed

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ میں آج عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد سے متعلق ایک مقدمے پر دوبارہ سماعت ہو گی۔

    خیال رہے کہ شیخ رشید کے بھتیجے اور ان وکیل کے مطابق سابق وفاقی وزیر کو راولپنڈی پولیس نے 17 ستمبر کو راولپنڈی میں واقع ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا تھا۔ تاہم پولیس نے اس کی تردید کی ہے۔

    گذشتہ دو ہفتوں سے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کے بارے میں اب کچھ معلوم نہیں ہے کہ وہ کہاں پر ہیں۔

    لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ نے گذشتہ سماعت پر پولیس سے کہا ہے کہ وہ شیخ رشید کے بارے میں پتا چلائیں کہ وہ کہاں پر ہیں۔ عدالت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان کو بازیاب کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    شیخ رشید کے خلاف کب کیا ایکشن لیا گیا؟

    30 جون کو متروکہ وقف املاک بورڈ نے شیخ رشید کی لال حویلی کو یہ کہہ کر سیل کر دیا کہ اس کے آٹھ میں سے ایک یونٹ کے کاغذات جعلی تھے

    اسی دن لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے بورڈ کو فوری طور پر حویلی کو فوری طور پر ڈی سیل کرنے کے احکامات دیے ہیں۔

    اسلام آباد پولیس نے 31 جنوی کو شیخ رشید کو سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف متنازع بیان دینے پر شامل تفتیش ہونے سے متعلق وارننگ دی کہ یہ ان کے پاس آخری موقع ہے۔

    شیخ رشید نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ آصف زرداری نے عمران خان کو قتل کرنے کے لیے دہشتگردوں کی خدمات حاصل کر لی ہیں۔

    دو فروری کو اسلام آباد کی پولیس نے شیخ رشید کو گرفتار کر لیا۔ وفاقی دارالحکومت کی ایک عدالت نے انھیں دو دن کے لیے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا۔ یہ گرفتاری آصف زرداری کے خلاف بیان دینے پر عمل میں لائی گئی تھی۔

    چھ فروری کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے شیخ رشید کے خلاف متعدد ایف آئی آرز کے اندراج پر حکم امتناع جاری کیا تھا۔ عدالت نے شیخ رشید کو آصف زرداری کے خلاف بیان کے معاملے پر سندھ پولیس کے حوالے کرنے سے بھی روک دیا۔

    لاہور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے 25 فروری کو شیخ رشید کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمے میں تحقیقات کا آغاز کر دیا۔

    27 مئی کو حکومت نے شیخ رشید کا ڈپلومیٹک پاسپورٹ منسوخ کر دیا۔

    30 مئی کو شیخ رشید نے القادر ٹرسٹ کیس میں نیب کے نوٹس کا جواب دیا۔ 31 مئی کو مبینہ طور پر پولیس نے شیخ رشید کی گرفتاری کے لیے ان کے گھر پر چھاپہ مارا مگر وہ گھر پر موجود نہیں تھے۔ 4 جون کو بھی شیخ رشید نے یہ الزام عائد کیا کہ اسلام آباد پولیس نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور ان کے ملازمین کو زدوکوب کیا۔

    شیخ رشید کے بھتیجے اور ان کے وکیل کے مطابق شیخ رشید کو 17 ستمبر کو راولپنڈی میں واقع ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا تھا۔ 18 ستمبر کو لاہور ہائی کورٹ نے شیخ رشید کے پروڈکشن آرڈ جاری کیے۔

    21 ستمبر کو حکام نے شیخ رشید کی لال حویلی کو سیل کر دیا۔

    22 ستمبر کو راولپنڈی پولیس نے شیخ رشید کی گرفتاری کی تردید کر دی۔ پولیس نے 26 ستمبر کو عدالت کو یہ بتایا کہ شیخ رشید ان کی حراست میں نہیں ہیں۔

  14. اسلام آباد ہائیکورٹ عمران خان کی ضمانت کی نو درخواستوں پر آج فیصلہ سنائے گی

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے محفوظ فیصلہ سنانے کی کاز لسٹ جاری کر دی ہے۔ چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری فیصلہ سنائیں گے۔ سیشن کورٹ اور انسداد دہشت گردی عدالت نے عدم پیروی پر عمران خان کی ضمانتیں خارج کیں تھیں۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے ان مقدمات میں متعلقہ عدالتوں کے حتمی فیصلے تک گرفتاری سے روکنے کی درخواست دائر کی تھی۔

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ نو ضمانت کی درخواستیں متعلقہ عدالتوں میں زیر التوا سمجھی جائیں، ان نو مقدمات میں متعلقہ عدالتوں کے حتمی فیصلے تک گرفتاری سے روکا جائے، متعلقہ عدالتوں کو ان مقدمات کے فیصلے میرٹ پر کرنے کی ہدایت کی جائے۔

    ان میں نو مئی کے واقعات سے متعلق تین مقدمات اور اسلام آباد میں احتجاج کے تین مقدمات شامل ہیں جبکہ توشہ خانہ جعلی سازی، دفعہ 144 کی خلاف ورزی اور اقدام قتل کا مقدمہ بھی شامل ہے۔

  15. جن کا نواز شریف کو نکالنے میں کردار تھا وہ کہیں دکھائی نہیں دے رہے: مریم نواز

    Maryam

    ،تصویر کا ذریعہPMLN

    پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے شاہدرہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب بھی نواز شریف کو نکالا گیا تو وہ واپس اس سے بھی زیادہ طاقتور ہو کر آئے۔

    مریم نواز نے شاہدرہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ 21 اکتوبر کو نواز شریف کی واپسی سے پہلے مختلف جگہوں پر جلسے کر کے لوگوں کو مینارِ پاکستان آنے کی دعوت دینا چاہتی ہیں۔

    خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد نواز شریف سنہ 2019 میں علاج کی غرض سے پاکستان سے برطانیہ روانہ ہو گئے تھے اور اب وہ آئندہ برس کے اوائل میں ہونے والے انتخابات سے قبل ملک واپس آ رہے ہیں۔

    مریم نواز نے خطاب کے دوران یہ بھی کہا کہ جن افراد کا نواز شریف کو نکالنے میں کردار تھا وہ آج کہیں دکھائی نہیں دے رہے اور تاریخ کے کوڑے دان میں پڑے ہیں کیونکہ نواز شریف نے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا تھا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ 21 اکتوبر کو دراصل پاکستان سستے بجلی، گیس اور پیٹرول کی بھی واپسی ہو گی۔ نواز شریف دراصل ملک کی خاطر واپس آ رہا ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’نواز شریف سے سب کچھ چھیننے والے عبرت کا نشان بنے ہوئے ہیں۔‘

    انھوں پی ٹی آئی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کے لیڈر پر مشکل آئی نہیں اور ان کی جماعت کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔‘

  16. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    پاکستان کی سیاسی، معاشی اور سیکورٹی صورتحال اور دیگر اہم خبروں سے متعلق بی بی سی کی لائیو پیج کوریج میں خوش آمدید۔

    یکم اکتوبر تک کی خبروں کو جاننے کے لیے یہاں کلک کریں