سابق وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی رہائی کے بعد پھر گرفتار
لاہور کے ماسٹر پلان میں بے ضابطگیوں کے مقدمے میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو رہائی ملنے کے بعد دوبارہ انسداد دہشتگردی کے ایک مقدمے میں گرفتار کر لیا ہے۔
لائیو کوریج
انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 300 روپے کی سطح سے نیچے آ گئی, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستانی
کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں کمی کا سلسلہ منگل کے روز بھی جاری رہا جب
انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 300 روپے کی سطح سے نیچے آ گئی ہے۔
منگل
کے روز انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت میں 1.28 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد
اس کی قیمت کاروباری دن کے اختتام پر 299.88 روپے کی سطح پر بند ہوئی۔ یاد رہے کہ
گذشتہ ایک ہفتے کے دوران، یعنی جب سے ڈالر کی سمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف
کریک ڈاؤن کا آغاز ہوا ہے، ڈالر کی انٹر بینک قیمت میں مجموعی طور پر 7.22 روپے کی
کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔
اوپن
مارکیٹ میں منگل کے روز 1.50 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد اب اس کی قیمت
299.50 روپے ہے۔ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں 33.50
روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
سپریم کورٹ نے عامر لیاقت کے پوسٹ مارٹم کی درخواست خارج کر دی, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام
،تصویر کا ذریعہSocial Media
سپریم
کورٹ آف پاکستان نے معروف ٹی وی شخصیت اور سیاستدان عامر لیاقت کے پوسٹ مارٹم کروانے
کی درخواست خارج کر دی ہے۔
یہ
درخواست عامر لیاقت کی بیوہ دانیہ عامر کی جانب سے دائر کی۔ منگل کے روز سپریم
کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے اس کیس کی سماعت کی۔
سماعت
کے آغاز پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ اب تو یہ درخواست غیر مؤثر ہو چکی
ہے۔ دانیہ عامر کے وکیل کا کہنا تھا کہ عدالت مہلت دے تو وہ کچھ دستاویزات جمع
کروانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک اہم معاملہ ہے اور ان کی مؤکلہ چاہتی
ہیں کہ پوسٹ مارٹم ہو اور موت کی وجوہات سامنے آ سکیں۔
اس
پر جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ اب تک تو باڈی ڈی کمپوز ہو چکی ہو گی۔
عدالت
کے ریمارکس کے بعد دانیہ عامر کے وکیل نے کہا کہ اگر عدالت اجازت دے تو ان کی
مؤکلہ اپنی درخواست واپس لینا چاہتی ہیں۔ عدالت نے کیس واپس لینے کی استدعا مسترد
کرتے ہوئے کیس خارج کر دیا۔
عامر لیاقت نو جون 2022 کو اپنے گھر میں مردہ پائے گئے تھے۔
وفات سے قبل وہ گذشتہ کچھ عرصے سے وہ اپنی تیسری شادی کے حوالے سے پیدا ہونے والے
تنازعات کی زد میں تھے، جس کے بعد انھوں نے ملک چھوڑنے کا اعلان بھی کیا تھا۔ ان
کی وفات کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا تھا۔
چینی کی قیمتوں سے متعلق ہائیکورٹ 30 روز میں فیصلہ کرے: سپریم کورٹ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی سپریم کورٹ نے چینی کی قیمتوں سے متعلق کیس میں
اسلام آباد ہائیکورٹ کو 30 روز میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
منگل کے روز سپریم کورٹ میں جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں
تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ روزانہ کی بنیاد پر کیس
سن کر 30 روز میں فیصلہ کرے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ
کے عبوری حکم کے خلاف کیس ہے ابھی حتمی فیصلہ نہیں آیا۔
شوگر ملز کے وکیل نے کہا کہ ہائیکورٹ میں کیس 20 ستمبر کو
مقرر ہے۔
سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ سپریم
کورٹ نے شوگر ملزم کو قیمتوں کے فرق کو عدالت میں جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے قیمتوں کے تعین کو چیلنج کیا گیا تھا۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہائیکورٹ نے صوبائی حکومت کے
مقررہ نرخ کو بھی معطل کر دیا ہے۔ 98 روپے فی کلو قیمت تھی اب شوگر ملیں 200 روپے
فروخت کر رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عدالت قیمت کے فرق کو تو رجسٹرار آفس میں
جمع کروانے کا حکم دے۔
اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیس میں جلدی کس بات کی
ہے ہائیکورٹ سن کر فیصلہ کر دے گی۔ اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ وقت گزرنے کے بعد
ریکوری مشکل ہو جائے گی۔ جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا ملز
مالکان ملیں اٹھا کر بھاگ جائیں گے۔
بریکنگ, بشری بی بی کی 190 ملین پاؤنڈ اور توشہ خانہ مقدمات میں 26 ستمبر تک عبوری ضمانت منظور
،تصویر کا ذریعہCourtesy HUM TV
اسلام آباد کی احتساب
عدالت نے بشریٰ بی بی کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں 26 ستمبر تک عبوری ضمانت منظور
کرلی ہے۔ جبکہ توشہ خانہ کیس میں بھی عبوری ضمانت میں 26 ستمبر تک توسیع کر دی ہے۔
اسلام
آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے منگل کو بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ اور
190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت کے معاملے پر سماعت کی۔
بشریٰ
بی بی اپنے وکیل لطیف کھوسہ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئیں۔ لطیف کھوسہ نے موقف
اپنایا کہ بشریٰ بی بی کی آج دو بجے چیئرمین پی ٹی آئی کی اٹک جیل میں ملاقات ہے۔
نیب
نے بھی بشریٰ بی بی کو آج دو بجے کے لیے طلبی کا نوٹس بھیج رکھا ہے۔ بشریٰ بی بی کی
اگر گرفتاری مطلوب ہو تو پہلے آگاہ کیا جائے۔
نیب
پراسیکیوٹر نے موقف اپنایا کہ نیب طلبی کا معاملہ عدالت کا نہیں، تاریخ تبدیل کرنی
تو نیب کو درخواست دیں۔ نیب کی جانب سے طلبی کا پہلے بتانا ضروری نہیں۔ بشریٰ بی بی
کی توشہ خانہ کیس میں فی الحال گرفتاری درکار نہیں۔
وکیل
لطیف کھوسہ نے موقف اپنایا کہ احتساب عدالت حکم دے کہ اگر نیب کو گرفتاری درکار ہو
تو پہلے عدالت سے اجازت لی جائے۔
پراسیکیوٹر
نے کہا بشریٰ بی بی کی درخواست پر ہی نیب دفتر نے آج کی تاریخ دی تھی۔ وکیل لطیف
کھوسہ نے کہا معلوم نہیں تھا، بھول گئے، آج چیئرمین پی ٹی آئی سے بھی بشریٰ بی بی
کی ملاقات ہے۔
اس
موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا نیب کے طلبی نوٹس پر سپریم کورٹ کا بھی فیصلہ ہے،
وقت تبدیل نہیں ہوسکتا۔ دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر نے موقف اپنایا کہ 190 ملین
پاؤنڈ سکینڈل کیس میں بشریٰ بی بی کی گرفتاری کا ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے۔
پراسیکیوٹر
کے بیان کے بعد بشریٰ بی بی کی 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل کیس میں درخواستِ ضمانت دائر
کر دی گئی۔
عدالت
نے بشریٰ بی بی کی 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل کیس میں ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض
26 ستمبر تک عبوری ضمانت منظور کرلی۔ عدالت نے بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ کیس میں
بھی 26 ستمبر تک عبوری ضمانت میں توسیع کردی گئی۔
عاصمہ شیرازی کا کالم: سیاست میں الجھی عدالت
سائفر کیس: ’یہ طے ہونا چاہیے کہ عدالت کا مقام تبدیل کرنے کا اختیار کس کا ہے‘، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ
اسلام
آباد ہائی کورٹ میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف سائفر مقدمے کی سماعت اٹک جیل
منتقل کرنے سے متعلق وزارت قانون کے نوٹیفکیشن کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران مقدمے
کے پراسیکوٹر ذوالفقار نقوی نے عدالت کو بتایا کہ سائفر کیس کا ابھی ٹرائل نہیں ہو
رہا اور وزارت قانون نے قانون کے مطابق عدالت منتقلی کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔
اسلام
آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ طے ہونا ہے کہ نوٹیفکیشن
کس اختیار کے تحت کر سکتے ہیں؟ایڈیشنل
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کو سائفر عدالت کا
اختیار دینا قانون کے مطابق ہے انھوں نے کہا کہ فرسٹ کلاس مجسٹریٹ یا اس سے اوپر
کے کسی بھی جج کو اختیار دیا جا سکتا ہے۔ اس مقدمے کے پراسکیوٹر کا کہنا تھا کہ
عدالت کا مقام تبدیل کرنے کی درخواست غیرموثر ہو چکی ہے۔
جس
پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر کل دوبارہ وہی نوٹیفکیشن کر دیا جائے تو یہی
سوال متعلقہ ہو جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ طے ہونا چاہیے کہ عدالت کا مقام تبدیل
کرنے کا اختیار کس کا ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وہ درخواست گزار کی درخواست غیر
موثر ہونے والی بات سے اتفاق نہیں کرتے۔
عمران
خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ یہ نوٹیفکیشن بدنیتی کی بنیاد پر جاری کیا گیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ درخواست غیر موثر نہیں ہوئی، عدالت نے طے کرنا ہے کہ نوٹیفکیشن
درست تھا یا نہیں۔
شیر
افضل کا کہنا تھا کہ کیا کسی کے پاس جواب ہے کہ سزا معطل ہونے کے بعد چیئرمین پی ٹی
آئی اٹک جیل میں کیوں قید ہیں اور ٹرائل کورٹ کے جج این او سی پر اٹک جیل کیوں چلے
گئے۔
عمران
خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ فاضل جج نے اپنا دماغ استعمال ہی نہیں کیا اور چلے
گئے۔ انھوں نے کہا کہ کل لانڈھی جیل کا این او سی آجائے تو جج صاحب لانڈھی چلے جائیں
گے۔
شیر
افضل مروت کا کہنا تھا کہ ہماری درخواست کے جواب میں یہ کہہ دینا کہ نوٹیفکیشن غیر
موثر ہو گیا ہے کافی نہیں ہے بلکہ عدالت کے سامنے سوال یہ ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی
کو کس قانون کے تحت اٹک جیل میں رکھا گیا ہے؟
بریکنگ, سائفر کیس کی سماعت اٹک جیل منتقل کرنے کے خلاف عمران خان کی درخواست پر فیصلہ محفوظ, شہزاد ملک، بی بی سی نامہ نگار
،تصویر کا ذریعہPTI
اسلام
آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف سائفر مقدمے کی سماعت اٹک جیل
منتقل کرنے سے متعلق وزارت قانون کے نوٹیفکیشن کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا
ہے۔
منگل
کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے اس درخواست کی سماعت کی۔ اس
موقع پر درخواست گزار کے وکیل افضل مروت نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہوزارت قاون نے کس قانون کے اختیار کے تحت سائفر
کیس کی سماعت اٹک جیل منتقل کی۔
یہ درخواست ملزم پی ٹی آئی چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔
انھوں
نے کہا کہ اسلام آباد سے ٹرائل کیسے پنجاب میں منتقل ہو سکتا ہے۔ عمران خان کے وکیل
کا کہنا تھا کہ ٹرائل دوسرے صوبے منتقلی قانونی طور صرف سپریم کورٹ کر سکتی ہے چیف
کمشنر یا سیکرٹری داخلہ کا اختیار نہیں کہ وہ ٹرائل دوسرے صوبے منتقل کریں۔
انھوں
نے کہا کہ اگر ٹرائل تبدیلی کرنی تھی تو ان کو ٹرائل جج سے پوچھنا تھا لیکن نہیں
پوچھا گیا۔ درخواست گزار کے وکیل شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی
اس وقت جوڈیشل حراست میں ہیں۔
انھوں
نے کہا کہ کسی بھی عدالت کی سماعت کا مقام تبدیل کرنے کا طریقہ کار قانون میں واضح
ہے اور سماعت کا مقام تبدیل کرنے کے لیے متعلقہ عدالت کے جج کی رضا مندی بھی ضروری
ہوتی ہے۔
درخواست
گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ نوٹیفکیشن کس قانون
کے تحت جاری کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ آفیشل سیکرٹ کے تحت سویلین کا ٹرائل سپیشل
کورٹ میں ہوتا ہے۔
اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور دگل نے عدالت کو بتایا کہ جیل ٹرائل سے متعلق نوٹیفکیشن ایک مرتبہ کے لیے تھا۔ انھوں نے کہا کہ نوٹیفکیشن جب ایک دفعہ کے لیے تھا تو ان کی پٹیشن غیر موثر ہو چکی۔ انھوں نے کہا کہ رولز آف بزنس میں وزارت قانون کے پاس نوٹیفکیشن جاری کرنے کا اختیار ہے۔
واضح رہے کہ عدالت نے وزارت قانون کے نوٹیفکیشن کی وضاحت طلب کر رکھی تھی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ صرف 30 اگست کے لیے سائفر کیس کی سماعت کے لیے عدالت اٹک جیل منتقل کی گئی تھی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جیل ٹرائل کوئی ایسی چیز نہیں جو نہ ہوتی ہو لیکن جیل ٹرائل کا طریقہ کار کیا ہو گا اس حوالے سے بتائیں۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔ عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہماری ایک اور درخواست پر فیصلہ محفوظ ہے اور ہماری استدعا ہے کہ محفوظ فیصلہ سنایا جائے۔ انھوں نے کہا کہ فیصلوں میں تاخیر کی وجہ سے ہم مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں۔
بریکنگ, بشری بی بی کی آڈیو لیک کا معاملہ: ’میں ایسا آرڈر پاس کروں گا جس پر عملدرآمد کروا سکوں‘، جسٹس بابر ستار
،تصویر کا ذریعہPTI
اسلام
آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم کی اہلیہ بشری
بی بی کی آڈیو ٹیپنگ اور اداروں کی جانب سے ہراساں کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت
کرتے ہوئے ان کی درخواست کو سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی فون
ٹیپنگ کے خلاف پہلے سے زیر سماعت درخواست کے ساتھ یکجا کر دیا
منگل
کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس بابر ستار کا کہنا
تھا کہ آپ کی درخواست پر نوٹس کر رہے ہیں اسی نوعیت کے دوسرے کیس کے ساتھ سنیں گے۔
جسٹس
بابر ستار بشری بی بی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ سے استفسار کیا کہ کھوسہ صاحب آپ
نے کیا درخواست دائر کی ہے؟
جس
پر ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ہمارے فون مسلسل بَگ کیے جا رہے ہیں۔ اس پر جسٹس
بابر ستار نے کہا کہ وہ تو سب کے ہی ہو رہے ہیں اس میں کونسی بڑی بات ہے۔
آپکی
درخواست پر اعتراض ہے کہ آپ نے کوئی آرڈر چیلنج ہی نہیں کیا۔
اس
پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ پولیس اور ایف آئی اے بشری بی بی کو مسلسل ہراساں کر رہے ہیں۔
اس
موقع پر جسٹس بابر ستار نے لطیف کھوسہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو دو پہلوؤں
پر عدالت کی معاونت کرنی ہو گی، فون ٹیپنگ کی قانونی حیثیت پر عدالت کی معاونت کریں۔
انھوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے معلومات کا ذریعہ نہیں پوچھا جا
سکتا۔
اس
لیے قانونِ شہادت سے اِس پہلو پر بھی آئندہ سماعت پر عدالتی معاونت کریں۔
اس
پر وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ایف آئی اے
کو آئندہ سماعت تک ہراساں کرنے سے روک دیا جائے۔ اس پر جسٹس بابر ستار نے کہا کہ میں
ایسا آرڈر پاس کروں گا جس پر عملدرآمد کروا سکوں۔ ہراسگی ایک وسیع ٹرم ہے کہ کل آپ
توہین عدالت کی درخواست لے کر آ جائیں گے۔
عدالت
نے کیس کی سماعت 18 ستمبر تک ملتوی کر دی۔
سابق فوجی صدر پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی درخواست خارج
منگل
کو سپریم کورٹ میں جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس درخواست
کی سماعت کرتے ہوئے نظر ثانی درخواست سابق فوجی صدر کی وفات کی وجہ سے غیر موثر ہونے
پر خارج کی۔
بینچ
کے سربراہ جسٹس اعجاز الاحسن نے درخواست گزار کے وکیل سے مکالمے کرتے ہوئے کہا کہ مقدمہ
تو غیر موثر ہو گیا ہے۔ جس پر وکیل توفیق آصف نے کہا کہ مقدمہ چھ سال بعد لگے گا
تو غیر موثر ہی ہو گا۔ وکیل کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز تو فل کورٹ ریفرنس میں بھی
مقدمات سماعت مقرر نہ ہونے پر بات ہوئی۔
اس
پر جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آپ کی تشویش متعلقہ کوارٹر تک پہنچا دینگے۔
بینظیر بھٹو کی حکومت گرانے کی سازش میں ملوث فوجی افسران کی سزائیں برقرار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپریم
کورٹ کے جسٹس منیب اختر نے سپریم کورٹ کا محفوظ فیصلہ پڑھ کر سناتے ہوئے کرنل ریٹائرڈ
آزاد منہاس اور کرنل ریٹائرڈ عنایت اللہ کی سزاؤں کے خلاف اپیلیں خارج کر دیں۔
فیلڈ
کورٹ مارشل نے آزاد منہاس کو دو، عنایت اللہ کو چار سال قید بامشقت اور برطرفی کی
سزا سنائی تھی
دونوں
سابق فوجی افسران کے خلاف 1995 میں بینظیر بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے
الزام میں کارروائی کی گئی تھی۔
لاہور
ہائی کورٹ سے سزاؤں کے خلاف درخواستیں مسترد ہونے کے بعد درخواست گزاروں نے 2016 میں
سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ جبکہ سپریم کورٹ نے 15 فروری کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
پرویز الہٰی کی گرفتاری پر توہین عدالت کیس: لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی اسلام آباد کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے
لاہور ہائیکورٹ نے رہائی کے حکم کے
باوجود تحریک انصاف کے صدر پرویز الٰہی کی گرفتاری کے کیس
میں انسپکٹر جنرل آف پولیس اسلام آباد (آئی جی اسلام آباد) کے قابل ضمانت وارنٹ
گرفتای جاری کر دیے ہیں۔
عدالت نے یہ احکامات پرویز الٰہی کی اہلیہ قیصرہ الٰہی کی
جانب سے دائر کردہ درخواست پر جاری کیے ہیں۔ اس درخواست میں قیصرہ الٰہی نے استدعا
کی تھی کہ ان کے شوہر کو لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد عدالت سے بحفاظت گھر
پہنچایا جانا تھا مگر ایسا نہیں ہو سکا اور عدالتی احکامات کی صریحاً خلاف ورزی
کرتے ہوئے اسلام آباد پولیس نے انھیں نقض امن کے خدشے کے تحت لاہور سے گرفتار کر
لیا۔
عدالت نے توہین عدالت کی اس درخواست پر سماعت کے لیے آئی جی
اسلام آباد کو آج طلب کر رکھا تھا مگر وہ آج کی سماعت کے دوران پیش نہ ہوئے۔
اس کیس میں آج ہونے والی سماعت جسٹس مرزا وقاص رؤف کی عدالت
میں ہوئی۔
عدالت نے آئی جی اسلام آباد کے 50
ہزار مچلکوں کے عوض قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے انھیں 18ستمبر کو پیش
کرنے کاحکم دیا ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے لاہور
ہائیکورٹ نے پرویز الٰہی کو رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے حکام کو انھیں کسی اور
مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے لاہور پولیس حکام کو حکم دیا
تھا کہ وہ بحفاظت انھیں گھر تک چھوڑ کر آئیں۔ تاہم گھر کے سفر کے دوران ہی اسلام
آباد پولیس نے انھیں نقض امن کے خطرے کے تحت گرفتار کر لیا، بعدازاں اسلام آباد
ہائیکورٹ نے انھیں ضمانت پر رہائی دی مگر اسی دن انھیں تھانہ سی ٹی ڈی میں درج
مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔
’بلدیہ فیکٹری کو آگ لگانے کا فیصلہ ایم کیو ایم کی قیادت کی منظوری کے بغیر ممکن نہیں تھا‘, ریاض سہیل، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، کراچی
،تصویر کا ذریعہAFP
سندھ ہائی کورٹ نے بلدیہ فیکٹری کیس کے تفتیشی عمل میں ناقص انوسٹیگیشن کی نشاندہی کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اصل مجرموں کو ایک گمراہ کن ایف آئی آر کے ذریعے تحفظ فراہم کیا گیا، گواہ خوف کی وجہ سے سچ بتانے کے لیے سامنے نہیں آ سکے جبکہ پولیس بھی شہادتیں ریکارڈ کرنے کے لیے تیار نہیں تھی۔
یاد رہے کہ کراچی کے علاقے بلدیہ میں 11 ستمبر 2012 کو گارمنٹس فیکٹری میں آگ بھڑک اٹھی تھی جس میں 264 افراد جھلس کر اور دم گھنٹے کی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے۔ 29 لاشیں اتنی جھلسی ہوئی تھیں کہ اُن کی شناخت ڈی این اے سے بھی نہیں ہو سکی تھی۔
اس واقعے کے 11 سال بعد پیر کے روز سندھ ہائی کورٹ نے بلدیہ فیکٹری کیس میں سزاؤں کے خلاف ملزمان کی اپیلوں پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان رحمان بھولا اور زبیر چریا کی سزائے موت کے خلاف اپیلیں مسترد کر دیں جبکہ ایم کیو ایم کے رہنماؤں رؤف صدیقی، عبدالستار، اقبال ادیب خانم اور عمر حسن کی بریت کے خلاف سرکار کی اپیلیں مسترد کر دیں۔
ہائیکورٹ نے اس کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے ملزمان شاہ رخ، فضل، ارشد محمود، علی محمد کی عمر قید کی سزاؤں کو بھی کالعدم قرار دیا ہے۔
ہائیکورٹ نے تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ اس کیس میں اتنی تاخیر سے شہادتیں ریکارڈ کرنے کی وجہ واقعہ میں ملوث فریق تھا، جو الطاف حسین کی سربراہی والی ایم کیو ایم تھی۔
عدالت کے مطابق پارٹی ہائی کمان کے حکم پر تشدد اور فنڈز اکٹھا کرنے کا ایک طریقہ بھتہ خوری تھی، جس سے انکار کرنے والوں کے لیے سنگین نتائج نکل سکتے تھے۔ ٹارگٹ کلنگ بھی پارٹی کے ایجنڈے سے باہر نہیں تھی جیسا کہ صولت مرزا کے معاملے میں سامنے آیا جس میں ایم کیو ایم کی ٹارگٹ کلنگ ٹیم نے اس وقت کے کے ای ایس سی کے سربراہ کو قتل کیا تھا۔
اسی طرح ڈاکٹر عمران فاروق کے لندن میں قتل سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے عسکریت پسند عناصر کی رسائی کی داستان طویل ہے اور مذکورہ دونوں کیسز دستاویزی ثبوت ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ کراچی کے علاقے صدر میں ایم کیو ایم کے حامیوں کی جانب سے پھیلائی گئی بدامنی کے بارے میں مزید بحث یا تفصیل کی ضرورت نہیں ہے جب الطاف حسین نے اشتعال انگیز تقریر کی تھی۔
عدالت نے تحریری فیصلے میں لکھا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ ایک ہزار سے زائد مزدوروں کی فیکٹری کو جلانے کا اتنا سنگین فیصلہ پارٹی کی اعلیٰ ترین قیادت کی منظوری کے بغیر نہیں کیا جا سکتا تھا۔
ہائیکورٹ نے لکھا ہے کہ بنیادی طور پر ایم کیو ایم کے بعض عناصر کی طرف سے انتقامی کارروائیوں کے خوف کی وجہ سے گواہ ابتدائی طور پر سامنے آنے اور سچ بتانے سے گریزاں رہے اور اس وقت تک جب تک جے آئی ٹی رپورٹ میں جو انکشافات سندھ ہائی کورٹ کے سامنے نہیں لایا گیا، ان میں سے متعدد بیانات عینی شاہدین کے تھے جو براہ راست کچھ ملزمان کو ملوث کر رہے تھے، اس سے قبل ایف آئی آر میں واحد الزام فیکٹری مالکان اور دیگر محکموں پر عائد کیا گیا تھا نہ کہ اصل مجرموں پر۔
عدالت نے لکھا ہے کہ یہ بات لاتعداد مواقع پر ثابت ہو چکی ہے کہ رحمان بھولا ایم کیو ایم کے بلدیہ سیکٹر کے سیکٹر انچارج تھے جو فیکٹری میں آگ لگنے کے وقت موجود تھے اور اپیل کنندہ زبیر ایم کیو ایم کا سرگرم رکن تھا جواس وقت فیکٹری کے فنشنگ ڈیپارٹمنٹ میں موجود تھا۔
عدالت نے تحریر کیا ہے کہ تحقیقاتی کمیشن نے بھی آگ لگنے کی وجہ معلوم کرنے کے لیے ماہرین سے کیمیکل تجزیہ کروانے سے گریز کیا، بڑی تعداد میں انسانوں کی ہلاکت کا سوگ تو منایا گیا مگر آئندہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے اقدامات نہیں کیے گئے، عدالت نے حکم جاری کیا کہ کراچی کے تمام فیکٹری مالکان کو آگ سے بچاؤ سے متعلق ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جانا چاہیے اور سندھ حکومت 6 ہفتوں میں تمام فیکٹریوں میں حفاظتی اقدامات سے متعلق معائنہ کرکے رپورٹ تیار کرکے پیش کرے۔
ہائی کورٹ نے نشاندہی کی کہ حماد صدیقی اب بھی ایک اشتہاری مجرم کے طور پر پاکستان سے باہر موجود ہیں اور 10 سال گزر جانے کے باوجود انھیں انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا لہذا اس فیصلے کی ایک نقل آئی جی سندھ، سیکریٹری داخلہ سندھ اور حکومت پاکستان کو بھیجی جائے جو تمام ذاتی طور پر پیش ہو کر وضاحت کریں کہ حماد صدیق کو لانے کی کوششوں کی سے آگاہ کریں۔
اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت مزید چار روپے کم ہو گئی, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستانی کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں کمی کا رجحان نئے ہفتے کے پہلے کاروباری روز بھی جاری رہا جب اوپن مارکیٹ مین ڈالر کی قیمت میں چار روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
پیر کے روز کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قیمت اوپن مارکیٹ میں 301 روپے کی سطح تک پہنچ کر بند ہوئی۔
واضح رہے حکومت کی جانب سے ڈالر کی سمگلنگ کے خلاف گذشتہ ہفتے جاری کیے گئے کریک ڈاؤن اور مرکزی بینک کی جانب سے ایکسچینج کمپنیوں کے ضوابط میں ترمیم کے بعد ڈالر کی قیمت گذشتہ ہفتے کے آغاز میں گِرنا شروع ہوئی تھی اور اب تک اوپن مارکیٹ میں اس کی قیمت میں 32 روپے کی کمی واقع ہو چکی ہے۔
سوموار کے روز انٹر بینک میں بھی ڈالر کی قیمت میں 1.79 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت 301.16 روپے ہو گئی ہے۔
آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت کی چیئرمین تحریک انصاف کو درخواست ضمانت میں ترمیم کی ہدایت, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام
آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں چیئرمین تحریک
انصاف عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر استغاثہ
کی جانب سے عائد کردہ اعتراض جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کے وکلا
کو درخواست میں ترمیم کی ہدایت کر دی ہے۔
سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت کے جج ابولحسنات
ذوالقرنین نےپیر کو ضمانت کی درخواستوں
پر ان کیمرہ سماعت کی۔ سپیشل پراسیکیوٹرز ذوالفقار عباس نقوی اور رضوان عباسی اور پی
ٹی آئی وکلا عدالت پیش ہوئے۔ دوران سماعت استغاثہ کی جانب سے چیئرمین پی ٹی آئی
عمران خان کی درخواست ضمانت پرتکنیکی اعتراض عائد اٹھاتے ہوئے درخواست دی گئی کہ
شریک ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں کی تفصیل کا سرٹیفکیٹ درخواست کے ساتھ منسلک نہیں،
اس لیے یہ درخواست قابل سماعت نہیں۔
استغاثہ کی جانب سے استدعا کی گئی کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی
درخواست کو نہ سُنا جائے کیونکہ درخواست کے ساتھ سرٹیفکیٹ منسلک کرنا ضروری تھا۔
پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں سرٹیفکیٹ
منسلک کرنا لازمی قرار دے چکی ہے۔
اس اعتراض پر دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ
کر لیا اور بعد ازاں ایف آئی اے کی درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے چیئرمین پی
ٹی آئیعمران خان کے وکلا کو آئندہ سماعت
تک تکنیکی اعتراض دور کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے اس درخواست پر سماعت 14 ستمبر تک کے
لیے ملتوی کر دی۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ اسد عمر کی درخواست ضمانت الگ سے سنی
جائے گی۔ پیر کو ہونے والی سماعت کے دوران عمران خان کی بہنیں کمرہ عدالت میں
موجود رہیں۔
پشاور کی ورسک روڈ پر گاڑی میں دھماکہ، 11 افراد زخمی
،تصویر کا ذریعہRescue 1122
پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے شہر پشاور کی ورسک روڈ پر پرائم ہسپتال کے قریب ایف سی کی ایک گاڑی پر دھماکہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں 11 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ریسکیو 1122 کے مطابق زخمیوں میں سات ایف سی اہلکار جبکہ تین سویلین شامل ہیں، جنھیں سی ایم ایچ منتقل کیا جا رہا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق زخمیوں میں سے ایک اہلکار ہلاک بھی ہوا ہے۔
چیف جسٹس عطا بندیال: ’فائز عیسیٰ اچھے انسان ہیں، میرا اور انکا کام کا طریقہ الگ ہے‘
،تصویر کا ذریعہSupreme Court
پاکستان کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ ’فائز عیسیٰ بہت اچھے انسان ہیں، میرا اور انکا کام کرنے کا طریقہ الگ ہے۔‘
نئے عدالتی سال کی تقریب سے خطاب میں چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے فائز عیسیٰ کے لیے نیک تمناوں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام ساتھی ججوں کا میرے ساتھ برتاؤ بہت اچھا رہا۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ’جہاں آزاد دماغ موجود ہوں تو وہاں اختلاف ہوتا ہے۔‘
چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ ’صحافی معاشرے کی کان اور آنکھ ہوتے ہیں۔ صحافیوں سے توقع ہوتی ہے کہ وہ درست رپورٹنگ کریں گے۔ جہاں پر کوئی غلطی ہوئی اسے ہم نے اگنور کیا۔‘
آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ:عمران خان کی بیٹوں سے بات کروائی جائے، عدالت کا حکم
آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی 15 ستمبر تک بیٹوں سے فون پر بات کروانے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی احکامات پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے 15 تک ستمبر تک رپورٹ طلب کی ہے۔
عمران خان کی درخواست پر جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے آج سماعت کی۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ عدالتی احکامات کے باوجود چیئرمین پی ٹی آئی کی ان کے بچوں سے ٹیلی فون پر بات نہیں کرائی گئی۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے عمران خان سے ٹیلیفون فون پر ان کی بچوں سے بات کا حکم دیا تھا لیکن سپرٹینڈنٹ اٹک جیل نے کہا کہ ملزم آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت گرفتار ہے، اس لیے ٹیلی فون یا واٹس ایپ پر بات نہیں کروائی جا سکتی۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت فون پر بات کروانے میں کوئی قدغن نہیں۔ ’سپریٹنڈٹ اٹک جیل کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا جائے اور ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کیا جائے۔‘
علی وزیر کی 20 ہزار کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور
اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے تھانہ بارہ کہو میں پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما علی وزیر کے خلاف درج مقدمے میں ضمانت کی درخواست منظور کر لی ہے۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے فیصلہ سنایا اور 20 ہزار کے ضمانتی مچلکوں کے عوض علی وزیر کی ضمانت منظور کر لی۔
چیف جسٹس پاکستان: آئینی ایشوز میں الجھا کر عدالت کا امتحان لیا گیا، جو واقعات پیش آئے، دہرانا نہیں چاہتا
،تصویر کا ذریعہSupreme Court of Pakistan
چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کا کہنا ہے کہ آئینی ایشوز میں الجھا کر عدالت کا امتحان لیا گیا لیکن جو واقعات پیش آئے وہ دہرانا نہیں چاہتا۔
نئے عدالتی سال کی تقریب سے خطاب میں چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا کہ فروری 2023 میں سپریم کورٹ کے سامنے کئی آئینی مقدمات آئے۔
’عدالت کئی بار سخت امتحان اور ماحول کا شکار بنی اور اس سے عدالتی کارروائی بھی متاثر ہوئی۔‘
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ تمام واقعات آڈیو لیکس کیس میں اپنے فیصلے کا حصہ بنائے ہیں۔
چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ ان کی تعیناتی کے ایک سال میں سپریم کورٹ نے ریکارڈ 23 ہزار مقدمات نمٹائے جبکہ اس سے پہلے ایک سال میں نمٹائے گئے مقدمات کی زیادہ سے زیادہ تعداد 18 ہزار تھی۔
بی بی سی اردو کی خصوصی لائیو کوریج میں خوش آمدید
پاکستان کی سیاسی اور معاشی صورتحال پر بی بی سی اردو کے خصوصی لائیو پیج پر خوش آمدید۔