سابق وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی رہائی کے بعد پھر گرفتار
لاہور کے ماسٹر پلان میں بے ضابطگیوں کے مقدمے میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو رہائی ملنے کے بعد دوبارہ انسداد دہشتگردی کے ایک مقدمے میں گرفتار کر لیا ہے۔
لائیو کوریج
بریکنگ, سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کو کالعدم قرار دے دیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی سپریم کورٹ نے نیب آرڈیننس میں ترامیم کے خلاف سابق وزیر اعظم عمران خان کی درخواست کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے نیب ترامیم کو کالعدم قرار دے دیا ہے، جس کے تحت عوامی عہدے رکھنے والوں کے خلاف نیب کے مقدمات کی واپسی اور نیب کے پاس پچاس کروڑ روپے سے کم کے مقدمات کی تفتیش نہ کرنے سے متعلق شقیں شامل ہیں۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے یہ فیصلہ دو ایک کی اکثریت سے سنایا جبکہ اس بینچ میں شامل جسٹس منصور علی شاہ نے اس فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے اختلافی نوٹ بھی لکھا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ نیب سمیت تمام عدالتیں اگلے سات روز میں مقدمات کو متعقلہ عدالتوں میں بھیجنے سے متعلق فیصلہ کریں۔
اس فیصلے میں پلی بارگین سے متعلق ہونے والی ترمیم کو بھی کالعدم قرار دیا گیا۔ فیصلے میں مختلف معاملات میں کی جانے والی انکوائری اور تفتیش کو بھی بحال کردیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ یہ ترامیم آئین میں مفاد عامہ سے متعلق بنائے گئے قوانین کے خلاف ہیں۔
بریکنگ, ’ڈی جی آئی ایس آئی کی مدت ملازمت میں توسیع قومی سلامتی کا معاملہ ہے اور اس پر اپنے اختیارات استعمال کروں گا‘: انوار الحق کاکڑ
،تصویر کا ذریعہPMO.GOV.PK
پاکستان کے نگران
وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ وہ آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی
آئی ایس آئی) کی مدت ملازمت میں توسیع کے قومی سلامتی کے معاملے پر اپنے آئینی اختیارات
استعمال کریں گے۔
نجی
ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’خبر‘ میں انٹرویو کے دوران نگراں وزیر اعظم
انوار الحق کاکڑ نے ڈی جی آئی ایس آئی کی مدت ملازمت میں توسیع کے فیصلے کے بارے میں
تصدیق یا تردید نہیں کی اور کہا کہ ’ڈی جی آئی ایس آئی کی توسیع کوئی عام معاملہ
نہیں جس پر عوامی سطح پر بات کی جائے۔‘
ان
کا کہنا تھا کہ ’ڈی جی آئی ایس آئی کی توسیع قومی سلامتی کا معاملہ ہے اور میں اس
کے لیے اپنے (آئینی) اختیارات استعمال کروں گا۔‘
وزیر
اعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ نگران حکومت تمام کام قانون کے مطابق کرے گی۔
انھوں نے مختصر مدت میں انتخابات کا عندیہ دیا تاہم انھوں نے عام انتخابات کب ہوں
گے اس بارے میں کوئی مخصوص تاریخ بتانے سے انکار کیا۔
الیکشن
کے انعقاد سے متعلق صدر پاکستان کی جانب سے الیکشن کمیشن کو خط سے متعلق سوال کے
جواب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں انھوں نے اس متعلق تجویز دی ہے
فیصلہ نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ آئینی طور پر ملکی سربراہ ہیں اور اس معاملے
پر انھوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ اور اس بارے میں وہ ہی جواب دے سکتے ہیں۔
الیکشن
کب ہوں گے کے سوال پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’میرے پاس الیکشن کی تاریخ پر کوئی
قانونی او حتمی جواب نہیں ہے۔ تاہم میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ نگران حکومت کوئی
غیر قانونی کام نہیں کرے گی چاہے وہ ایک دن جاری رہے یا ایک ماہ۔ ملکی قوانین
نگراں حکومت کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ الیکشن کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے
نگراں حکومت کی نہیں۔‘
یاد
رہے کہ بدھ کو نگراں وزیراعظم نے ایک اور ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ عام
انتخابات جنوری کے وسط میں یا جنوری کے آخر تک ہو سکتے ہیں تاہم الیکشن کی تاریخ
کا اعلان کرنا ای سی پی کا اختیار ہے۔
بطور
وزیر اعظم نامزدگی اور ان کے بارے میں اسٹیبلشمنٹ کے قریبی سمجھے جانے والے شخص سے
متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کا تاثر ملکی سیاست میں ذوالفقار
بھٹو سے میاں نواز شریف تک کے لیے استعمال کیا گیا اور ان کے متعلق بھی یہ تاثر
دیا جانا ان کے لیے کوئی اچنبے کی بات نہیں ہے۔ ’تاہم یہ سوال ان سے نہیں بلکہ
مقتدر حلقوں سے پوچھا جانا چاہیے۔‘
نگراں
وزیر اعظم کاکڑ نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے
نگراں حکومت سے متعلق بیانات اور تحفظات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ نگران حکومت تمام
آئینی اور قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے بعد قائم کی گئی۔ ’ہمارا بلاول کے ساتھ
بڑا اچھا تعلق ہے اور وہ جو تحفظات اٹھا رہے ہیں وہ ان کا سیاسی حق ہے۔ ہماری
حکومت ایک دن غیر قانونی و آئینی طور پر اس دفتر میں نہیں رہی گی۔‘
انھوں
نے مزید کہا کہ نئی حلقہ بندیوں کا فیصلہ مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے
اجلاس میں ہوا اور وہ اس کے لیے جوابدہ نہیں تھے کیونکہ اس وقت یہ تمام لوگ مشترکہ
مفادات کونسل میں شامل تھے۔‘
مسلم
لیگ ن کے قائد نواز شریف کی وطن واپسی کیا کسی ڈیل کا نتیجہ ہے کہ جواب میں ان کا
کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں جانتے کیونکہ وہ کسی سے ڈیل کرنے کا اختیار
نہیں رکھتے۔
پی ٹی آئی پر سیاسی پابندی لگنے سے متعلق سوال کر ان کا کہنا تھا کہ اس
معاملے پر قانون کے مطابق جائزہ لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ یقینی بناؤں گا
کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو جیل میں بطور سابق وزیر اعظم تمام سہولیات ملیں
یہ ان کا حق ہے۔
بریکنگ, جوڈیشل کمپلیکس میں توڑ پھوڑ کا مقدمہ: سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پر ویز الٰہی کی ضمانت منظور
اسلام
آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور پی ٹی آئی کے صدر
چوہدری پرویز الٰہی کی جوڈیشل کمپلکس میں توڑ پھوڑ کے مقدمے میں ضمانت منظور کرلی
ہے۔
عدالت
نے ملزم کے وکیل کو 20 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم بھی دیا ہے۔
جمعہ
کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ چوہدری پرویز
الٰہی اس مقدمے میں نامزد ملزم نہیں ہیں۔
اس
سے پہلے سماعت کے دوران چوہدری پرویز الٰہی کے وکیل بابر اعوان نے ضمانت کی
درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چوہدری پرویز الٰہی نامزد ملزم نہیں ہیں،
اور چوہدری پرویز الٰہی کا کوئی کردار نہیں بنتا ہے۔
بابر
اعوان کا کہنا تھا کہ چوہدری پرویز الٰہی نامعلوم آدمی نہیں ہیں، انھوں نے کہا کہ
پولیس نے اس کیس میں کوئی تفتیش نہیں کی،
بابر
اعوان کا کہنا تھا کہ کہ پولیس 17 دن کے اندر عبوری چالان جمع کروا سکتی ہے، بابر
اعوان کا کہنا تھا کہ پرویز الٰہی کی جائے وقوعہ پر کوئی موجودگی ثابت نہیں ہوئی ہے۔
انھوں
نے کہا کہ پرویز الٰہی کا احتجاج میں حصہ لینا بھی ثابت نہیں، ملزم کے وکیل کا
کہنا تھا کہ اس ایف آئی آر میں نامزد تمام ملزمان ضمانت پر ہیں اور جن ملزمان کی
ضمانت اس عدالت نے مسترد کی انھیں ہائی کورٹ سے ضمانت مل گئی۔
سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی 90 روز میں عام انتخابات کرانے کی درخواست اعتراضات کے ساتھ واپس کر دی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ میں 90 دن میں انتخابات کروانے کے لیے دائر درخواست اعتراضات کے ساتھ واپس کر دی گئی ہے۔
سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری جواب میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے سپریم کورٹ آنے سے قبل کسی متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا اور نہ ہی اس کی وجوہات بیان کی ہیں۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف نے سپریم کورٹ سے مشترکہ مفادات کونسل کی جانب سے مردم شماری کے نتائج کو منظور کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے ساتھ ساتھ 90 دن میں الیکشن کروانے کی درخواست کی تھی۔
سپریم کورٹ کی جانب سے اس درخواست پر یہ اعتراض بھی کیا گیا ہے کہ درخواست میں نہیں بتایا گیا کہ درخواست گزار کا کونسا بنیادی حق متاثر ہوا۔
اس درخواست پر ایک اعتراض یہ بھی کیا گیا ہے کہ صدر پاکستان کو آئین کے آرٹیکل 248 کے مطابق پارٹی نہیں بنایا جا سکتا۔
بریکنگ, مستونگ میں دھماکہ، جے یو آئی ایف کے مرکزی رہنما حافظ حمد اللہ سمیت 11 افراد زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہJUI-F
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ کے اسسٹنٹ کمشنر کے مطابق ایک دھماکے کے نتیجے میں پی ڈی ایم کے ترجمان اور جمیعت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی رہنما حافظ حمد اللہ سمیت 11 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
اسسٹنٹ کمشنر عطا المنیر نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ افراد کوئٹہ سے قلات جا رہے تھے جب ضلع مستونگ کی حدود میں ایک دھماکے کے نتجے میں زخمی ہو گئے۔
انھوں نے بتایا کہ اس وقت دھماکے کی نوعیت کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں بتایا جا سکتا۔
جے یو آئی کی مقامی قیادت کے مطابق حافظ حمد اللہ کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
ادھر نگران وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی نے حافظ حمداللہ پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ملک میں ترقی اور امن و امان کے دشمنوں سے کسی صورت نرمی نہیں برتی جائے گی۔‘
واضح رہے کہ رواں برس جولائی میں صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع باجوڑ میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ورکرز کنونشن میں ہونے والے خودکش حملے کے نتیجے میں کم از کم 45 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے تھے۔
اس سے قبل مئی میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کے قافلے پر بھی اس وقت حملہ ہوا تھا جب وہ بلوچستان میں ژوب ضلع میں ایک جلسے سے خطاب کرنے کے لیے جا رہے تھے۔
سائفر کیس: خصوصی عدالت نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد کر دی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سائفر کیس میں خصوصی عدالت برائے سیکرٹ ایکٹ کے جج ابولحسنات ذولقرنین نے تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان اور سینیئر رہنما شاہ محمود قریشی کی جانب سے دائر کی گئی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔
جمعرات کو عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی درخواستوں پر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا گیا تھا۔
اس سے قبل عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد اچانک عدالت نے سماعت کو ان کیمرہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے غیرمتعلقہ افراد کو باہر نکال دیا تھا جس کے بعد پراسیکیوٹر کی جانب سے ان کیمرہ دلائل دیے گئے۔
بریکنگ, سائفر کیس: عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
سائفر کیس میں خصوصی عدالت نے تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان اور سینیئر رہنما شاہ محمود قریشی کی جانب سے دائر کی گئی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
جمعرات کو معاملے کی سماعت کے دوران ابتدا میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد اچانک عدالت نے سماعت کو ان کیمرہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے غیرمتعلقہ افراد کو باہر نکال دیا۔
سماعت کے بعد ان درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا جو ممکنہ طور پر آج ہی سنایا جائے گا۔
’سائفر کیس فرد واحد کا نہیں بنتا اور اس میں تو ساری کابینہ پر مقدمہ کرنا پڑے گا‘, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہTwitter
سائفر کے معاملے میں درج مقدمے میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی ضمانت کی درخواست پر دلائل دیتے ہوئے ان کے وکیل سلمان صفدر نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم کے خلاف مقدمہ سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا ہے اور ان کے خلاف آفیشل سیکرٹس ایکٹ کے تحت کارروائی نہیں بنتی۔
ان کا کہنا تھا کہ کوئی ایسا کام نہیں ہوا جس سے نیشنل سکیورٹی کو نقصان ہوا ہو۔ انھوں نے کہا کہ استغاثہ نے ثابت کرنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے قومی سلامتی کو کیسے نقصان پہنچایا؟
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ سیاسی بنیادوں پر بنایا ہوا مقدمہ ہے اور پراسیکیوشن کو ثابت کرنا ہے کہ سائفر کیس سے بیرون ملک طاقتیں مضبوط ہوئیں۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کا ذکر مقدمے میں ہے مگر کیا وہ عدالت میں ہیں اور کیا ان کی ضمانت منظور ہوئی؟
انھوں نے جج کو مخاطب کر کے کہا کہ اعظم خان پہلے باہر ہیں جبکہ اسد عمر کی ضمانت منظور ہو گئی اور ’ابھی جو کڑکی میں ہیں وہ اب آپ کے سامنے ہیں‘۔
عمران خان کے وکیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس مقدمے میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ ’دور دور تک نہیں لگتا‘ اور ان کے موکل نے ’پبلک میں جو کہا وہ صرف یہ تھا کہ پاکستان خودمختار ملک ہے اور کوئی ملک مداخلت نہیں کر سکتا۔‘
انھوں نے سوال کیا کہ ’کیا یہ کہنا کہ سیاست میں پاکستان کی خودمختاری میں کوئی مداخلت نہ کرے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا معاملہ ہے؟
سلمان صفدر نے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا مطلب ہے آپ نے معلومات دشمن ملک سے شئیر نہیں کرنی۔ ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کوئی جاسوس نہیں ملک کے سابق وزیراعظم ہیں اور سائفر کے معاملے میں ملک دشمن عناصر سے کچھ بھی شئیر نہیں کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ استغاثہ بتائے کہ بیرون ملک کس کو چیئرمین پی ٹی آئی کے سائفرپر بیان سے فائدہ ہوا اور مقدمے کے دوران واضح ہو جائے گا کہ سائفر پر عمران خان کے بیان سے ملک کو بچایاگیا یا ملک دشمن قوتوں کی سہولت کاری کی گئی۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان کی لیگل ٹیم کو اس معاملے میں ایف آئی اے سے انصاف کی امید نہیں ہے۔ سلمان صفدر نے اپنے دلائل میں کہا کہ سائفر کیس فرد واحد کا نہیں بنتا اور اس میں تو ساری کابینہ پر مقدمہ کرنا پڑے گا۔
پیپلز پارٹی کا لطیف کھوسہ کو شوکاز نوٹس: ’آپ پارٹی کی اجازت کے بغیر کسی اور جماعت کے سربراہ کا دفاع کر رہے ہیں‘
پاکستان پیپلز پارٹی نے لطیف کھوسہ کو شوکاز نوٹس جاری کیا ہے۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’آپ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن ہونے کے باوجود پارٹی کی اجازت کے بغیر کسی اور جماعت کے سربراہ کا دفاع کر رہے ہیں۔‘
نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لطیف کھوسہ نے ’وکلا کے فنکشن میں سائفر معاملے پر ریاستی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔‘
لطیف کھوسہ کو سات روز میں شوکاز نوٹس کا جواب دینے کی ہدایت کی گئی ہے اور جواب نہ دینے کی صورت میں ان کی پارٹی رکنیٹ ختم کی جا سکتی ہے۔
بریکنگ, سائفر کیس: آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت نے اسد عمر کی ضمانت منظور کر لی
آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت نے سائفر کیس میں اسد عمر کی ضمانت منظور کر لی ہے۔
جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے ایف آئی اے پراسکیوٹر کے بیان کی روشنی میں اسد عمر کی ضمانت منظور کی۔
جج ابوالحسنات نے کہا کہ پراسیکیوشن کے مطابق اسد عمر کے خلاف تاحال ثبوت نہیں۔
انھوں نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’ایف آئی اے کی تفتیش کے مطابق اسد عمر کی گرفتاری مطلوب نہیں۔ اگر اسد عمر کی گرفتاری مطلوب ہوئی تو ایف آئی اے قانون کے مطابق چلے گی۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ گرفتاری مطلوب ہوئی تو ایف ائی اے اسد عمر کو پہلے آگاہ کرے گی۔
اگر معاملات بلارکاوٹ چلتے رہے تو جنوری کے وسط یا اختتام پر کوئی بھی دن الیکشن کے لیے متعین کیا جا سکتا ہے: نگراں وزیراعظم
،تصویر کا ذریعہ@ANWAAR_KAKAR
نگراں وزیر اعظم انوار الحق
کاکٹر نے کہا کہ اگرچہ صدر پاکستان نے قومی اسمبلی کے انتخابات کے لیے ایک تاریخ
تجویز کر دی ہے مگر ملک میں انتخابات کے انعقاد کی تاریخ دینے کا بنیادی اختیار
الیکشن کمیشن کا ہے۔
نجی ٹی وی چینل سما کو دیے گئے
ایک انٹرویو میں نگراں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حلقہ بندیاں آئین کا حصہ ہیں اور
الیکشن کمیشن انتخابات کے تاریخ کے معاملے پر اپنی ضروری مشاورت اور کارروائی کے
بعد جلد آگاہ کر دے گا کہ صاف و شفاف الیکشن کے لیے کون سا وقت مناسب رہے گا۔
الیکشن کی ممکنہ تاریخ سے متعلق
پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں نگراں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’اگر تمام معاملات دیے
گئے پلان کے مطابق چلتے ہیں، تو میرا اپنا اندازہ بھی یہی ہے کہ جنوری کے وسط یا
اختتام پر کوئی بھی دن الیکشن کے لیے متعین کیا جا سکتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ان کی حکومت
ملک میں عام انتخابات میں معاونت کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
فوج کی پاکستان کے معاشی
معاملات کو سلجھانے میں مدد دینے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انھوں نے
کہا کہ ’پاکستان میں فوج کی ایک ادارہ جاتی سٹرینتھ اور اسے جب بھی کسی بھی معاملے
میں استعمال کیا تو اس کے بہتر نتائج نکلے، مگر یہ مسائل کا طویل المدتی حل نہیں
ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ درحقیقت ہمارے
سویلین اداروں کو اس ضمن میں کام کرنا تھا
مگر انھیں ایک بُری صورتحال کا سامنا ہے، وہ اپنے تیئں کام نہیں کر پا رہے، تو کیا
یہ حل ہے کہ ملٹری کی صورت میں ملک میں جو مضبوط ادارے ہیں کیا انھیں بھی اس کام
میں لگا کر کمزور کر دیا جائے؟ حل یہ نہیں ہے، حل یہ ہے کہ سویلین اداروں کو مضبوط
کیا جائے اور جب تک یہ کام نہیں ہوتا تب تک ملڑی یا مضبوط اداروں سے یہ اضافی کام
لیا جائے۔‘
انھوں نے کہا کہ موجودہ آرمی
چیف اس معاملے میں بہت احسن طریقے سے کام کر رہے ہیں۔
قومی اسمبلی کے الیکشن 6 نومبر کو ہونے چاہییں، ملک بھر میں ایک ہی روز انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن اعلیٰ عدلیہ سے رہنمائی لے: صدر علوی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے چیف الیکشن کمشنر کو تجویز دی ہے کہ الیکشن کمیشن
صوبائی حکومتوں اور سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد عدالت عظمیٰ سے ملک بھر میں
ایک ہی روز قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں انتخابات کے انعقاد کے لیے رہنمائی حاصل
کرے۔
ملک میں عام انتخابات کے حوالے سے صدر مملکت نے
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کو لکھے گئے ایک خط میں ایک مرتبہ پھر یہ اصرار
کیا ہے کہ آئین کے تحت قومی اسمبلی کے لیے عام انتخابات کا انعقاد اسمبلی کی تحلیل
کے 90 روز کے اندر ہو جانا چاہیے، جو کہ 6 نومبر 2023 ہے۔
صدرِ مملکت کا مزید کہنا تھا کہ 9 اگست کو انھوں
نے سابق وزیراعظم شہباز شریف کے مشورے پر قومی اسمبلی کو تحلیل کیا۔ اُن کا مزید
کہنا تھا کہ ’ صدر کے پاس یہ اختیار ہے کہ عام انتخابات کے لیے 90 دن کے اندر کی کوئی
تاریخ مقرر کرے۔ اور اسی آئینی ذمہ داری پوری کرنے کی خاطر چیف الیکشن کمشنر کو
ملاقات کے لیے (ایوان صدر میں) مدعو کیا گیا تاکہ آئین کے تحت اس ضمن میں طریقہ
وضع کیا جا سکے۔‘
اس خط میں کہا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر نے (ملاقات
کے بجائے) بذریعہ خط آگاہ کیا کہ آئین اور انتخابی قوانین کے تحت الیکشن کمیشن ہی انتخابات کی تاریخ کا
اعلان کر سکتا ہے جبکہ وفاقی وزارت قانون بھی اس ضمن میں اسی رائے کی حامل ہے جو
کہ الیکشن کمیشن کی ہے۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ چاروں صوبائی حکومتیں
بھی اس رائے کی حامل ہیں کہ الیکشن کی تاریخ دینے کا مجاز ادارہ الیکشن کمیشن ہی
ہے، تاہم اس بارے میں اتفاق رائے ہے کہ وفاق کو مضبوط کرنے کی غرض سے اور اخراجات
کو کم کرنے کے لیے ملک بھر میں ایک ہی دن انتخابات کا اعلان کیا جائے۔
ان تمام تر تفصیلات کے بعد صدر مملکت کی جانب سے
الیکشن کمشن کو لکھنے جانے والے خط میں یہ تجویز دی گئی ہے کہ ’ان تمام نکات کو
مدنظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن آئین کی متعلقہ دفعات کے تحت صوبائی حکومتوں اور سیاسی
جماعتوں کے ساتھ مشاورت اور اس بات کے پیش نظر کہ کچھ معاملات پہلے ہی عدالتوں میں
زیر سماعت ہیں، قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں ایک ہی دن انتخابات کرانے کے لیے اعلیٰ
عدلیہ سے رہنمائی حاصل کرے۔‘
لاہور ہائیکورٹ میں صحافی عمران ریاض کی بازیابی سے متعلق دائر درخواست پر سماعت 20 ستمبر تک ملتوی
،تصویر کا ذریعہ@IMRANRIAZKHAN1
لاہور ہائیکورٹ
میں صحافی اور اینکر پرسن عمران ریاض کی بازیابی سے متعلق دائر درخواست پر بدھ کے
روز ہونے والی سماعت 20 ستمبر تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔
بدھ کے روز
ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد امیر بھٹی نے آئی جی
پنجاب ڈاکٹر عثمان انور سے استفسار کیا کہ اب تک اس کیس میں کیا پیش رفت ہوئی ہے؟
جس پر آئی جی پنجاب نے جواب دیا کہ ’عدالت کے حکم پر عمران ریاض کے والد سے ملاقات
ہوئی ہے جس میں انھیں اور عمرانن ریاض کے وکلا کو اب تک کیس میں ہونے والی پیش رفت
سے متعلق آگاہ کیا گیا ہے۔‘
آئی جی
پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ ’ہماری تحقیقات درست سمت میں جا رہی ہیں۔‘
عمران ریاض
اور اُن کے والد کی جانب سے عدالت میں نمائندگی کرنے والے اُن کے وکیل علی اشفاق
نے عدالت کو بتایا کہ ’پولیس کی جانب سے جاری تفتیش درست سمت میں جا رہی ہے اور کیس
میں کسی بھی وقت اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔‘
واضح رہے کہ
9 مئی کو مُلک بھر میں ہونے والے پُرتشدد واقعات کے بعد 11 مئی کو عمران ریاض کو
سیالکوٹ کے ہوائی اڈے سے حراست میں لیا گیا تھا، جبکہ اُن کے اہلخانہ کی جانب سے بعد
ازاں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اُن کو حراست میں لینے سے ایک دن قبل پنجاب پولیس کی
جانب سے اُن کے گھر پر بھیح چھاپہ مارا گیا تھا۔
جس کے بعد عمران ریاض کے والد
محمد ریاض کی جانب سے اُن کی بازیابی کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی
تھی جس کی سماعت جاری ہے۔
اس واقعے کے کچھ دن بعد یعنی 16
مئی کو آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’عمران ریاض کو
کچھ دن قبل گرفتار کر کے جیل میں ڈالا گیا جہاں انھوں نے تحریری بیان میں اچھے
رویے کی یقین دہانی کروائی جو عدالت میں بھی پیش کر دی گئی ہے۔‘
آئی جی کا کہنا
تھا کہ اس یقین دہانی کے بعد ’ایم پی او واپس لے لیا گیا اور وہ آزاد ہو گئے تھے تاہم اس کے بعد وہ لاپتہ ہو گئے۔‘
’ایک سیاسی جماعت تاریخیں دے رہی ہے مگر چیف الیکشن کمشنر سمیت کسی کو معلوم نہیں کہ عام انتخابات کب ہوں گے‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
چیئرمین پاکستان
پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر سمیت کسی کو کوئی نہیں پتا کہ پاکستان میں آئندہ عام انتخابات کب ہوں گے۔
بدھ کے روز پنجاب کے شہر مظفر گڑھ میں ایک تقریب سے خطاب کے بعد صحافیوں
کی جانب سے مُلک میں آئندہ عام انتخابات سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ابھی تو کسی کو نہیں پتا کہ پاکستان میں آئندہ عام انتخابات کب ہوں گے، حتی کہ چیف الیکشن کمشنر بھی نہیں جانتے کے الیکشن کب ہوں گے۔‘
انتخابات سے
متعلق بلاول بھٹو نے پاکستان مسلم لیگ ن کا نام لیے بغیر کہا کہ ’ایک جماعت تنہا
ہی یہ فیصلہ کر رہی ہے کہ مُلک میں انتخابات کب ہوں گے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’مجھے
نہیں پتہ کہ الیکشن کب ہوں گے، آپ کو نہیں پتہ کہ الیکشن کب ہوں گے مگر ایک سیاسی
جماعت کو پہلے سے پتا ہے کہ الیکشن کب ہوں گے اور اُن کے جانب سے خود ساختہ طور پر الیکشن
کی تاریخ کا اعلان بھی کیا جاتا ہے، جو مناسب نہیں ہے۔‘
بلاول بھٹو
نے کہا کہ ’اگر 90 دن میں الیکشن نہیں ہونے تو
کتنے دن میں الیکشن ہوں گے، الیکشن کمیشن تاریخ تو دے۔‘
پاکستان
تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کی گرفتاری اور 9 مئی کو مُلک بھر میں پیش آنے
والے واقعات سے متعلق بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’نو مئی کے واقعات کی ذمہ
دار سیاسی جماعت کو کبھی بھی الیکشن میں کمیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔‘
مُلک کو
مسائل سے نکالنے اور حالات کو معمول پر لانے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں بلاول
بھٹو نے کہا کہ ’پاکستان کو مسائل سے نکالنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ
بیٹھنا ہو گا، کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے تنہا یہ مُمکن نہیں ہے کہ وہ پاکستان کو
درپیش حالیہ مسائل کا حل تلاش کر سکے، اور ایسے میں یہ بہت ضروری ہے کہ تمام
فریقین کور اعتماد میں لیا جائے۔
میثاقِ
جمہوریت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’ہم نے تو چاہا
تھا کہ میثاق جمہوریت ٹو بھی ہو، ہم نے نئے میثاق جمہوریت کی کوشش کی مگر
وہ نہیں ہو سکا۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’ہماری کوشش اور دیگر سیاسی جماعتیوں کے ساتھ
رابطوں کے باوجود پی ڈی ایم میثاق جمہوریت کے حق میں نہیں تھی۔‘
کیا نواز شریف کی ’زیرو رسک‘ واپسی کے لیے میدان تیار ہے؟
بریکنگ, اٹک جیل میں سائفر کیس کی سماعت: عمران خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 دن کی توسیع
،تصویر کا ذریعہGetty Images
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف اٹک
جیل میں سائفر کیس کی سماعت کرتے ہوئے خصوصی عدالت نے ان کے ریمانڈ میں 14 دن کی
توسیع کر دی ہے۔
بدھ کو اٹک جیل میں سائفر کیس سے متعلق
سماعت کرتے ہوئے خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے چیئرمین پی ٹی آئی کے
جوڈیشل ریمانڈ میں 26 ستمبر تک توسیع کر دی ہے۔
واضح رہے کہ سائفر کیس میں چیئرمین پی
ٹی آئی عمران خان کو پہلے بھی 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اٹک جیل میں قید رکھا گیا
تھا۔ آج ان کا 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر آج دوبارہ اس مقدمے کی سماعت کی
گئی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی سکیورٹی
وجوہات کی بنا پر سائفر کیس کی سماعت اٹک جیل میں ہوئی تھی۔ جبکہ عمران خان نے
گذشتہ سماعت کا اٹک جیل عدالت منتقلی کا نوٹیفکیشن ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے منگل کو دلائل سننے کے بعد اس درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
اس سے قبل اٹک جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے پی ٹی
آئی چیئرمین کے وکیل سلمان صفدر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تمام درخواستیں
زیر التوا ہیں سب سے اہم درخواست ضمانت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جوڈیشل ریمانڈ
ختم ہونے کے بعد آج دیکھتے ہیں کے سرکار کیا کہتی ہے۔ سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ پراسیکیوشن
ضمانت کی درخواست پر عدالت کی معاونت نہیں کر رہی۔
انھوں نے کہا کہ چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کو اٹک جیل میں
رکھنے کی کوئی مناسب وجہ نہیں ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف سائفر کیس کی سماعت آج اٹک جیل میں ہوگی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہPunjab Prison
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف سائفر کیس کی سماعت آج (بدھ) اٹک جیل میں ہو گی۔ اس مقدمے کی سماعت سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اٹک جیل میں کی جائے گی۔
وزارت قانون و انصاف نے منظوری دیتے ہوئے اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اٹک جیل میں قید ہیں۔ 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر بدھ کو دوبارہ اس مقدمے کی سماعت ہو رہی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی سکیورٹی وجوہات کی بنا پر سائفر کیس کی سماعت اٹک جیل میں ہوئی تھی۔
عمران خان نے گذشتہ سماعت کا اٹک جیل عدالت منتقلی کا نوٹیفکیشن ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے منگل کو دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین کیس کی سماعت کرنے آج اٹک جیل جائیں گے۔
صدر مملکت کو اختیار نہیں کہ وہ الیکشن کی تاریخ دیں: مولانا فضل الرحمان
جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے نجی ٹی وی جیو نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ ملک میں عام انتخابات سے متعلق کسی تاریخ کا اعلان کریں۔
انھوں نے کہا کہ صدر مملکت اب آئینی امور میں چھیڑ چھاڑ نہ کریں اور معمول کے معاملات دیکھیں۔
ان کے مطابق یہ اب الیکشن کمیشن پر ہے کہ وہ کب ملک میں عام انتخابات کروا سکتا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی پی ڈی ایم حکومت میں دوسری بڑی سیاسی جماعت تھی جس نے یہ فیصلہ کیا کہ نئی مردم شماری کے تحت آئندہ عام انتخابات منعقد کیے جائیں۔
نواز شریف 21 اکتوبر وطن واپس آئیں گے: شہباز شریف
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ کے قائد نواز شریف 21 اکتوبر کو پاکستان واپس آ جائیں گے۔
لندن میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 21 اکتوبر کو پورا پاکستان لاہور میں نواز شریف کا استقبال کرے گا۔
سابق وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ اگر سنہ 2018 کے متنازع الیکشن کے نتیجے میں ترقی کا تسلسل نہ ٹوٹتا تو پاکستان بہت آگے ہوتا۔
ایک سوال کے جواب میں شہباز شریف نے کہا کہ وہ نواز شریف سے پہلے پاکستان آ جائیں گے اور اپنے قائد کا استقبال کریں گے۔
شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف کی واپسی سے دوبارہ معیشت اور ملک اسی طرح ترقی کرے گا جیسا 2017 میں کر رہا تھا۔ انھوں نے کہا کہ نواز شریف کو ایک جھوٹے مقدمے کی ذریعے اقتدار سے محروم کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ سابق وزیراعظم علاج کی غرض سے سنہ 2019 میں برطانیہ چلے گئے تھے اور پانامہ ریفرنسز میں عدالت کی طرف سے دی گئی چار ہفتے کی مدت میں وہ واپس نہیں آئے، جس کے بعد ان کے ناقابل ضمانت گرفتاری وارنٹ جاری کر دیے گئے تھے۔
سابق وزیراعظم شہباز شریف نے حال ہی میں ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ نواز شریف وطن واپسی پر اپنے خلاف درج مقدمات کا سامنا کریں گے کیونکہ ان کی جماعت قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتی ہے۔
تاہم یہ دیکھنا ضروری ہے کہ نواز شریف کے خلاف کون کون سے مقدمات قائم ہیں جن کا انھیں سامنا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا آئینی فریضہ ہے۔ ان کے مطابق اب نئی مردم شماری کے تحت الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے جو انھیں امید ہے کہ کمیشن یہ فریضہ انجام دے گا۔
،تصویر کا ذریعہ@Marriyum_A
واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو علاج کی غرض سے لندن بھیجے جانے کے عدالتی فیصلے میں شہباز شریف کی جانب سے ایک بیان حلفی جمع کرایا گیا تھا جس میں انھوں نے اپنے بھائی کی پاکستان واپس آنے سے متعلق ضمانت دی تھی۔
شہباز شریف نے لاہور ہائی کورٹ میں میاں نواز شریف کو بیرون ملک بھیجے جانے پر ان کی واپسی سے متعلق جو بیان حلفی دیا تھا اس میں کہا گیا تھا کہ ان کے بڑے بھائی میاں نواز شریف چار ہفتوں کے لیے علاج کی غرض سے بیرون ملک جا رہے ہیں اور یہ کہ اگر اس عرصے کے دوران نواز شریف کی صحت بحال ہو گئی اور ڈاکٹروں نے انھیں پاکستان جانے کی اجازت دے دی تو وہ وطن واپس آ جائیں گے۔
اس وقت میاں شہباز شریف کے علاوہ میاں نواز شریف کا بیان حلفی بھی عدالت میں جمع کروایا گیا تھا جس میں انھوں نے یہ کہا تھا کہ وہ اپنے بھائی کی طرف سے دیے گئے بیان حلفی کی پاسداری کرنے کے پابند ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے اکتوبر 2019 میں العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی طبی بنیادوں پر آٹھ ہفتوں کے لیے ضمانت منظور کی تھی اور اس حوالے سے انھیں بیس بیس لاکھ روپے کے دو ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔
عدالت نے ضمانت کی مدت میں توسیع کا اختیار پنجاب حکومت کو دیا تھا تاہم صوبائی حکومت نے اس مدت میں توسیع نہیں کی تھی۔ العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں ملنے والی سزا کے خلاف اپیل میں بھی سابق وزیر اعظم عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے انھیں دو دسمبر سنہ 2020 کو اشتہاری قرار دے دیا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس معاملے میں میاں نواز شریف کے ضامنوں کو نوٹس جاری کر رکھے ہیں کہ کیوں نہ ان کے زرضمانت بحق سرکار ضبط کر لی جائے۔
پانامہ پیپرز کے جاری ہونے کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف تین ریفرنسز قائم کیے گئے تھے۔ نیب کی احتساب عدالت نے ان میں سے ایون فیلڈ ریفرنس میں پہلے نواز شریف کو سنہ 2018 کے عام انتخابات سے چند ہفتے قبل جیل کی سزا سنائی۔ اس ریفرنس میں نواز شریف کی ضمانت اسلام آباد ہائی کورٹ نے منظور کی تھی۔
نواز شریف کو فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس سے احتساب عدالت نے بری کر دیا تھا جبکہ العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں انھیں سزا سنائی گئی تھی۔ ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کے علاوہ ان کی بیٹی مریم نواز شریف اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر اعوان کو بھی جیل کی سزا سنائی گئی تھی۔ بعد میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو اس ریفرنس سے بری کر دیا گیا مگر ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے نواز شریف کے مقدمے کو علیحدہ کر لیا گیا تھا۔
قانونی ماہرین کے مطابق اب جب نواز شریف وطن واپس آئیں گے تو پھر وہ اس مقدمے میں بھی درخواست دائر کر کے بریت کی درخواست دائر کر سکتے ہیں۔
ملک میں ہر کسی کے لیے لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ہے اور یہی میرا اعتراض ہے: بلاول بھٹو
سابق وزیرخارجہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ملک میں ہر کسی کے لیے لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ہے۔
پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر سکھر میں قاتلانہ حملے میں قتل ہونے والے صحافی جان محمد مہر کے اہل خانہ سے تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک صحافی کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ ’ملک میں اس وقت ہر کسی کے لیے لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ہے اور یہی میرا اعتراض ہے۔‘
خیال رہے کہ اس سے بلاول بھٹو الیکشن کمیشن سے 90 روز کی آئینی مدت کے اندر عام انتخابات کرانے کا مطالبہ بھی کر چکے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ کچھ ان کے ساتھی الیکشن سے فرار چاہتے ہیں۔