پرویز الٰہی کو گرفتار کرنے پر آئی جی اسلام آباد کو توہین عدالت کا نوٹس جاری

لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کو دوبارہ گرفتار کرنے پر اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔ جسٹس امجد رفیق نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو حکم دیا ہے کہ وہ اٹک جیل سے پرویز الٰہی کو لے کر کل عدالت میں پیش ہوں۔

لائیو کوریج

  1. خصوصی عدالت نے عمران خان کو اپنے بیٹوں سے بذریعہ فون بات کرنے کی اجازت دے دی, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف سائفر مقدمے کی سماعت کرنے والے جج نے اٹک کی جیل انتظامیہ کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی اپنے بیٹوں سے واٹس ایپ کے ذریعے بات چیت کروانے کے انتظامات کرے۔

    خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان کی جانب سے اس ضمن میں دائر کی گئی درخواست منظور کرتے ہوئے یہ احکامات جاری کیے ہیں۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے برطانیہ میں مقیم اپنے بیٹوں قاسم اور سلیمان سے ٹیلیفون پر بات کرنے سے متعلق درخواست اپنے وکلا عمیر نیازی اور شیرازاحمد کے ذریعے دائر کی تھی۔

    اس درخواست میں سابق وزیر اعظم کی طرف سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ وہ اپنے بیٹوں قاسم اور سلیمان سے ٹیلیفون یا وٹس ایپ پر بات کرنا چاہتے ہیں۔

    اس درخواست پر حکم جاری کرتے ہوئے متعلقہ عدالت کے جج نے اٹک جیل کی انتظامیہ سے کہا ہے کہ چونکہ ایس او پیز کو دیکھتے ہوئے ملزم (عمران خان) اپنے بچوں سے ٹیلی فون پر بات کرنے کا استحقاق رکھتے ہیں، اس لیے جیل کے حکام ملزم کی اپنے بیٹوں کے ساتھ ٹیلیفون پر ملاقات (بات چیت) کرنے کے انتظامات کریں۔

  2. سوات میں تین ایم پی او کے تحت گرفتار ہونے والے صحافی رہا

    سوات صحافی

    ،تصویر کا ذریعہAdnan Bacha

    سوات کے صحافی فیاض ظفر کو ایک دن حراست میں رکھنے کے بعد آج رہا کر دیا گیا ہے انھیں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے حکم پر تین ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔

    صحافیوں کی جانب سے سخت رد عمل اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اور علاقے کے معتبرین کی درخواست پر ڈپٹی کمشنر سوات نے فیاض ظفر کی حراست کا فیصلہ آج واپس لے لیا ہے اور اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ اور فیاض ظفر کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں ہے تو انھیں رہا کر دیا جائے ۔

    انھیں گزشتہ روز گرفتار کیا گیا تھا اور مقامی صحافیوں کو سوشل میڈیا پر ان کی پوسٹ سے گرفتاری کا علم ہوا تھا ۔

    فیاض ظفر کے فیس بک اکاؤنٹ پوسٹ ڈالی گئی تھیں ’مجھے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، مجھے سوات جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔‘

    صحافی مراد علی نے بتایا کہ روزنامہ مشرق اور وائس آف امریکہ کے لیے کام کرنے والے صحافی فیاض طفر کو گزشتہ روز اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اپنے دفتر سے گھر کی طرف جا رہے تھے۔

    فیاض طفر کے بھائی نواز ظفر نے بتایا کہ فیاض ظفر بیمار ہیں انھوں نے چند روز پہلے معدے کا ایک آپریشن بھی کرایا ہے جبکہ آٹھ سال پہلے انھیں فالج کا اٹیک ہوا تھا اس لیے وہ صحیح طرح سے چل بھی نہیں سکتے۔

    نگران وزیراطلاعات مرتضی سولنگی نے سوات کے سینئر صحافی فیاض ظفر پرمبینہ تشدد اور حراست کا نوٹس لیا ہے اور اس بارے میں رپورٹ طلب کی ہے۔ انھوں نے متعلقہ حکام سے بات کی ہے اور کہا ہے کہ نگران حکومت آئین کے مطابق میڈیا اور اظہار رائے کی آزادی پر مکمل یقین رکھتے ہیں اس واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیق یقینی بنائی جائے گی عہدے کی طاقت صحافیوں کی آواز دبانے کے لئے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

    ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ عرفان اللہ خان کی طرف سے گزشتہ روز جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ انھیں ضلعی پولیس افسر کی جانب سے تحریری طور پر لیٹر موصول ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صحافی فیاض طفر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ریاست اور اداروں کے خلاف نفرت آمیز مواد پوسٹ کر رہے ہے جس سے امن او امان کی صورتحال کا خدشہ ہے ۔ انھوں نے اس خط کی بنیاد پر سینیئر صحافی فیاض ظفر کو ایک ماہ کے لیے 3 ایم پی او مینٹیننس آف پبلک آرڈر کے تحت گرفتاری کا حکم دیا تھا۔

    سینیئر صحافی مشتاق یوسفزئی کا کہنا تھا کہ فیاض ظفر کی پوسٹس میں بظاہر پولیس یا انتظامیہ کی کارکردگی پر تنقید ہوتی تھی لیکن دیگر اداروں کے خلاف ان کی کوئی ایسی بات انھیں نظر نہیں آئیتاہم انھوں نے واضح کیا کہ الفاظ کے استعمال میں احتیاط ضروری ہوتی ہے اور اس کا ہر صحافی کو خیال رکھنا چاہیے۔

  3. عمران خان کے خلاف سائفر کمشدگی کیس میں ہونے والی دو سماعتوں کا فیصلہ جاری, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف 16 اور 30 اگست کو سائفر گمشدگی کیس میں ہونے والی سماعتوں کے تحریری فیصلے جاری کر دیے گئے ہیں۔

    اس سلسلے میں قائم کی گئی خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے دو، دو صفحات پر مشتمل اپنے تفصیلی فیصلوں میں کہا ہے کہ عمران خان کے خلاف سائفر کیس کی 16 اگست کی سماعت اسلام آباد میں واقع جوڈیشل کمپلیکس میں ہوئی اور سماعت کے دوراناس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ایف آئی اے کی ٹیم نے تفتیش کی غرض سے ملزم کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔

    اس سماعت کے بارے میں پی ٹی آئی کے وکلا کا کہنا تھا کہ انھیں اس سماعت کا علم ہی نہیں تھا اور نہ ہی انھیں اس ضمنمیں کوئی نوٹس جاری کیا گیا۔

    اس حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی پہلے سے ہی توشہ خانہ کیس میں بطور مجرم اٹک جیل میں قید تھے اورآفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے تحت عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ ملزم کا جسمانی یا جوڈیشل ریمانڈ دے یا ضمانت منظور کرے۔

    ججنے اپنے حکم نامے میں کہا ہے کہ ’زندگیزیادہ اہم ہے، معلوم نہیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل سے باہر لانے پر کوئی حادثہ پیش آ جائے اور غیر معمولی صورتحال کو مدنظررکھتے ہوئے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور نہیں کیا جا سکتا۔‘

    اپنے حکم نامے میں متعقلہ عدالت کے جج کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمپلیکس پیش نہ کرنے کی وجہ چیئرمین پی ٹی آئی کی جان کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

    آرڈر آف دی ڈےیعنی اس حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ سائفر کیس عام نوعیت کا نہیں، سائفر جیسے حساس کیسز میں ریاست کی خودمختاری بھی شامل ہوتی ہے۔

    ان بنیادوں پر، خصوصی عدالت کے جج کا کہنا تھا، پہلی سماعت کے بعد سپرٹنڈنٹ اٹک جیل کو ملزم عمران خان کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اپنی تحویل میں لینے کا حکم دیا گیا۔

    اس حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ تیس اگست کوعدالت کو وزارت قانون سے ملزم عمران خان کا ٹرائل اٹک جیل میں کرنے کا نوٹیفکیشن موصول ہوا اور اس روز عدالت نے گذشتہ سماعت پر ملزم کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا اور اس روز سماعت کے دوران عدالت نے سپرٹنڈنٹ جیل کو اٹک جیل میں سیکرٹ ایکٹ عدالت میں چیرئمین پی ٹی آئی کو پیش کرنےکا حکم دیا تھا۔

    سماعت کے دوران عدالت نے ملزم سے جیل میں حالات، مسائل اور ٹریٹمنٹ کے حوالے سے پوچھا اور عدالت نے جیل حکام کو چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل قانون کے مطابق تمام سہولیات مہیا کرنے کی ہدایت کی۔ حکم نامے کے مطابق عدالت نے جیل کی انتظامیہ کو حکم دیا کہ چونکہ ملزم کی صحت بہت اہم ہے اس لیے تمام تر ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔

    اس حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ملزم کے وکیل نے وزارت قانون کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دینے اورسائفرکیس کو اوپن کورٹ میں کرنے کی درخواست دائر کی ہے۔

  4. ہائیکورٹ نے آئی جی اسلام آباد پر 25 ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا

    سابق وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کا نام ای سی ایل سے نام نکلوانے کے درخواست پر تحریری فیصلے میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئی جی اسلام آباد پر 25 ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے تین صفحات پر مشتمل تحریری آرڈر میں بتایا کہ عدالت کی جانب سے بار بار حکم کے باوجود جواب جمع نہ کرائے جانے پر جرمانہ عائد کیا گیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت سے قبل آئی جی 25 ہزار روپے درخواست گزار شیریں مزاری کو دیں۔ ہائیکورٹ نے آئی جی اسلام آباد کو دو اگست کو ایک ہفتے میں جواب جمع کرانے کا حکم دیا مگر 10 اگست تک جواب جمع نہیں کرایا گیا۔

    اس موقع پر عدالت نے ایک ہفتے کی مہلت کی استدعا منظور کی تھی۔ پھر 29 اگست کو دوبارہ آئی جی اسلام آباد نے جواب جمع نہیں کرایا جس پر ہائیکورٹ نے 25 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا۔

    عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ آئی جی جواب جمع نہ کرائے جانے پر انکوائری کرائیں، انکوائری کر کے ایکشن لے کر دو ہفتے میں جواب جمع کرائیں۔

  5. ایمان مزاری کو کسی بھی مقدمے میں اسلام آباد سے باہر لے جانے پر چار ستمبر تک پابندی

    IHC

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سماجی کارکن ایمان مزاری کو کسی بھی مقدمے میں وفاقی دارالحکومت سے باہر لے جانے پر پابندی میں چار ستمبر تک توسیع کی ہے۔

    ایمان مزاری کے خلاف مقدمات کی تفصیلات کی فراہمی اور حفاظتی ضمانت کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی جس دوران وزارت داخلہ کے حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ ’کیا آپ نے ایمان مزاری کے خلاف صوبوں میں درج مقدمات کی تفصیلات منگوائیں ہیں؟‘

    وزارت داخلہ حکام نے حکام نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد میں ایمان مزاری کے خلاف ایک مقدمہ درج ہے، وفاقی حکومت ایسے معاملات میں صوبوں کو حکم نہیں دے سکتی۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ ’کیسی بات کر رہے ہیں؟ ہم نے صرف معلومات حاصل کرنے کے لیے کہا ہے۔‘

    اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’آرڈر دیر سے ملا ہے، کچھ وقت دے دیا جائے۔‘

    وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ’ہمیں خدشہ ہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر سے دوبارہ گرفتار کر لیا جائے گا۔‘

    عدالت نے سیکریٹری داخلہ، اسلام آباد پولیس کے سربراہ اور ڈی جی ایف آئی اے کو یہ احکامات جاری کیے ہیں کہ ایمان مزاری کو اسلام آباد سے کسی بھی مقدمے میں باہر لے جانے پر پابندی چار ستمبر تک رہے گی۔

  6. سائفر کیس کی سماعت اٹک جیل میں کرنے کے خلاف درخواست، ہائیکورٹ نے نوٹسز جاری کر دیے

    سائفر کیس کی سماعت اٹک جیل میں کرنے کے خلاف سابق وزیر اعظم عمران خان کی درخواست پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے نوٹسز جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کی ہے۔

    اعتراضات کے ساتھ سماعت کے دوران وکیل چیئرمین تحریک وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ ’ہماری درخواست پر دو اعتراضات عائد کیے گئے ہیں۔ اعتراض ہے کہ ہم نے ایک ہی درخواست میں ایک سے زیادہ استدعا کیں۔‘

    چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ’اِس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ میں اعتراضات دور کر دیتا ہوں، آپ میرٹ پر دلائل دیں۔

    ’کیا عدالت کا وینیو تبدیل کیا گیا ہے؟‘

    وکیل نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے عدالت جیل منتقل کرنے کا کوئی اجازت نامہ موجود نہیں اور وزارت قانون نے عدالت منتقل کرنے کا ایک این او سی جاری کیا۔ وکیل شیر افضل نے کہا کہ خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات نے عمران خان کے جوڈیشل ریمانڈ کا آرڈر کیا، آرڈر پر تاریخ ہی موجود نہیں۔ انھوں نے بتایا کہ عمران خان کو 30 اگست کو عدالت پیش کرنے کا حکم دیا گیا، اُس عدالت کے حکم کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے تھا۔

    انھوں نے دلائل دیے کہ یہ آرڈر ملزم کی عدم موجودگی میں خفیہ طور پر کیا گیا، یہ جوڈیشل آرڈر تھا جس سے ہمیں آگاہ کیا جانا چاہیے تھا۔ ’وزارت قانون نے بتایا ہی نہیں کہ کس قانون کے تحت عدالت منتقلی کا این او سی دیا، وزارت قانون نے سپریم کورٹ کے اختیارات استعمال کیے۔‘

    وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کو آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت مقدمات کا اختیار دینا غلط ہے، استدعا ہے کہ نوٹس جاری کر کے اس پر بھی جواب طلب کر لیا جائے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ’میں آپ کی درخواست پر نوٹس جاری کر دیتا ہوں۔‘

    جلدی سماعت کی استدعا پر انھوں نے کہا ’کیس کی آئندہ سماعت اگلے ہفتے ہی کر لیں گے۔‘

  7. بریکنگ, سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کی نظرثانی اپیل خارج: ’آئین کسی کی جاگیر نہیں ہے‘, شہزاد ملک/ بی بی سی اردو، اسلام آباد

    پنجاب میں عام انتخابات کے انعقاد کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی نظرثانی درخواست خارج کردی گئی۔

    چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے کیس کی سماعت کی،دیگر دو ارکان میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل ہیں۔

    سماعت کا آغاز ہوا تو الیکشن کمیشن نے تیاری کے لیے عدالت سے مزید ایک ہفتے کی مہلت طلب کرلی، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’آپ اپنا مؤقف بتائیں ہم بھی کیس کا جائزہ لیں گے۔‘

    وکیل الیکشن کمیشن سجیل سواتی نے کہا کہ ’میں نے کیس میں اضافی گراؤنڈز تیار کیے ہیں، سب سے اہم سوال الیکشن کی تاریخ دینے کے اختیار کا تھا، الیکشن ایکٹ کے سیکشن 57 اور 58 میں ترمیم ہوچکی ہے جس کے بعد اب الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ دے سکتا ہے۔‘

    جسٹس منیب اختر نے جواب دیا کہ ’وکیل صاحب ذہن میں رکھیں یہ نظرثانی کیس ہے، مرکزی کیس الگ تھا۔‘ سجیل سواتی کا کہنا تھا کہ دو ہفتے پہلے سپریم کورٹ کا پنجاب انتخابات سے متعلق تفصیلی فیصلہ ملا جس کی روشنی میں کچھ اضافی دستاویزات جمع کرانا چاہتے ہیں۔

    عدالت نے کہا کہ جو فیصلہ آیا وہ کیس ختم ہوچکا، جواب ہمارے ساتھ عدالت میں ہی پڑھیں۔عدالت نے کہا کہ الیکشن کی تاریخ کا نظرثانی کیس سے کوئی تعلق نہیں، انتخابات کی تاریخ دینے کا مقدمہ پہلے ہی ختم ہوچکا ہے، نظرثانی کیس میں جونکات اٹھانا چاہتے ہیں وہ بتائیں، مگر اس میں آپ دوبارہ دلائل نہیں دے سکتے، لہٰذا یہ بتائیں کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کہاں ہے۔

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آئین الیکشن کیشن کو اختیار نہیں ذمہ داری دیتا ہے، صدر کی تاریخ تبدیل کرنے کا معاملہ بڑا اہم قانونی نقطہ ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آئینی اختیارات کو کمیشن نے آئینی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے استعمال کرنا ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیا دلائل دے رہے ہیں، کبھی ادھر کبھی ادھرجا رہے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ تیسری مرتبہ آپ کہہ رہے ہیں الیکشن کمیشن کا اختیار نہیں، الیکشن کمیشن نے ذمہ داری کی روشنی میں اختیارات کا استعمال کرنا ہے، کمیشن کی ذمہ داری صاف و شفاف انتخابات کرانا ہے۔

    سپریم کورٹ کے بینچ نے ریمارکس دیے کہ آئین کہتا ہے 90 دن میں انتخابات ہوں گے مگر الیکشن کمیشن کہتا ہے تاریخ تبدیل کرنےکا اختیار ہے، البتہ عدالت الیکشن کمیشن کی دلیل سے اتفاق نہیں کرتی اور نظرثانی میں دوبارہ دلائل کی اجازت نہیں۔

    عدالت نے کہا کہ آئین الیکشن کمیشن کو انتخابات کی تاریخ آگے بڑھانے کا اختیار نہیں دیتا، سپریم کورٹ فیصلہ دے چکی کہ الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ آگے نہیں بڑھا سکتا۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ انتخابات 90 دن میں کرانے کی حد پرکچھ وجوہات میں چھوٹ بھی دی گئی ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے میں الیکشن کمیشن کی معروضات کے بارے کچھ غلطیاں ہیں۔ عدالت نے کہا کہ آرٹیکل 218 شق تین کےمطابق الیکشن کمیشن کوانتخابات ”آرگنائز اورکنڈکٹ“ کرانے ہیں، الیکشن کمیشن کو انتخابات آرگنائزر اور کنڈکٹ 90 روز کی آئینی مدت میں کرانے ہیں، الیکشن کمیشن نے یہ چھوٹ خود کو کیسے دی کہ وہ انتخابات میں تاخیر کر سکیں۔

    عدالت عظمیٰ نے استفسار کیا کہ کمیشن پانچ سال تک یقینی نہیں بناتا کہ انتخابات شفاف ہو سکیں گے تو کیا انتخابات نہیں ہوں گے؟

    وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ ’یہ میری دلیل نہیں ہے۔‘ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ جب بھی کہیں آئین کی خلاف ورزی ہوگی تو عدلیہ مداخلت کرے گی کیونکہ آئین کسی کی جاگیر نہیں، کوئی بھی ادارہ آئین سے تجاوز نہیں کرسکتا اور آٸین کے تحت الیکشن کمیشن تین ماہ میں انتخابات کروانے کا پابند ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے الیکشن کمیشن وکیل کے دلائل سننے کے بعد پنجاب انتخابات کے انعقاد کے فیصلے کیخلاف درخواست خارج کردی۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 4 اپریل کو حکم دیا تھا کہ پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کرائے جائیں جس کے بعد الیکشن کمیشن نے عدالتی فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دائرکی تھی۔

    گذشتہ دنوں سپریم کورٹ نے پنجاب میں 14 مٸی کو انتخابات کرانے کے کیس کے تفصیلی فیصلے میں کہا تھا کہ الیکشن کمیشن اس حوالے سے ذمہ داری پوری نہیں کر سکا، عدالت کا شارٹ آرڈر برقرار ہے، الیکشن کمیشن کا اہم کام انتخابات کروانا ہے۔

  8. الیکشن کمیشن کے پاس انتخابات کرانے کا محض اختیار نہیں، یہ آئینی ذمہ داری ہے: چیف جسٹس

    supreme

    سپریم کورٹ میں صوبہ پنجاب میں انتخابات 14 مئی کو کروانے کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی نظرثانی درخواست پر سماعت جاری ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ اس کیس کی سماعت کر رہا ہے جس میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بینچ میں شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن نے عدالتی فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کی تھی۔

    سماعت کے اغاز پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت سے تیاری کے لیے مزید ایک ہفتے کی مہلت طلب کی تھی۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’آپ اپنا مؤقف بتائیں۔ آپ کے ساتھ ہم بھی کیس کا جائزہ لیں گے۔‘

    وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ ’میں نے کیس میں اضافی گراؤنڈز تیار کیے ہیں۔‘

    ’سب سے اہم سوال الیکشن کی تاریخ دینے کے اختیار کا تھا۔ سیکشن 57,58 میں ترامیم کے بعد الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار الیکشن کمیشن کا ہے۔‘

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ ’وکیل صاحب ذہن میں رکھیں یہ نظر ثانی ہے۔‘

    ’جو نکات اصل کیس میں نہیں اٹھائے وہ نکات نظرثانی کیس میں نہ اٹھائیں۔‘

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ’میں ورکرز پارٹی کیس ہائی لائٹ کرنا چاہتا ہوں۔‘

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ ’ان چیزون پر دلائل کے بعد عدالت نقطہ نظر دے چکی ہے۔‘

    ’ہمیں ریکارڈ سے بتائیں کہ فیصلے میں کون سی غلطیاں ہیں جن پر نظرثانی ہو۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’آپ کے پاس الیکشن کرانے کا محض اختیار نہیں، یہ آپ کی آئینی ذمہ داری ہے۔‘

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ’الیکشن کروانے کی ڈیوٹی ہمیں مؤثر انداز میں ادا کرنی ہے۔‘