پرویز الٰہی کو گرفتار کرنے پر آئی جی اسلام آباد کو توہین عدالت کا نوٹس جاری
لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کو دوبارہ گرفتار کرنے پر اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔ جسٹس امجد رفیق نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو حکم دیا ہے کہ وہ اٹک جیل سے پرویز الٰہی کو لے کر کل عدالت میں پیش ہوں۔
لائیو کوریج
عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں ضمانت کی درخواست پر سماعت پیر تک ملتوی
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی سائفر مقدمے میں درخواست ضمانت پر درخواست پیر تک 4 ستمبر تک ملتوی کر دی۔
آفیشل سیکرٹس ایکٹ کے تحت قائم عدالت کے جج ابوالحسنات نے ان کیمرہ سماعت کے دوران عمران خان کے وکلا سے کہا کہ اگر تحریک انصاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے درخواست واپس لیں تو ہی وہ اس مقدمے میں سماعت کر سکتے ہیں۔
تحریک انصاف کی قانونی ٹیم نے کہا کہ ٹھیک ہے ہم اسلام آباد ہائیکورٹ سے اپنی درخواست واپس لے لیتے ہیں۔
خیال رہے کہ تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کے جیل ٹرائل اور سائفر مقدمے میں عدالتی دائرہ اختیار کو چیلنج کر رکھا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کا ایمان مزاری کو کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کا حکم
انسداد دہشتگردی کی عدالت کی طرف سے وکیل اور سماجی رہنما ایمان مزاری کی رہائی کے حکم کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے کسی بھی مقدمے میں ایمان مزاری کو نہ گرفتار کرنے کا گذشتہ روز کی کارروائی کا تحریری حکمنامہ بھی جاری کر دیا۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے دو صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامے میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکریٹری داخلہ، انسپکٹر جنرل پولیس اور ڈی جی ایف آئی کو یہ ہدایت کی ہے کہ وہ ایمان مزاری کو گرفتار نہیں کریں گے۔
عدالت نے اپنے تحریری حکمنامے میں یہ بھی لکھا کہ سیکریٹری داخلہ ، پولیس اور ایف آئی اے کسی صوبے کی گرفتاری میں معاونت بھی نہیں کریں گے۔ عدالت نے تینوں حکام کو یہ بھی حکم دیا کہ وہ یقینی بنائیں ایمان مزاری کو اسلام آباد کی حدود سے باہر نا لے جایا جائے۔
عدالت نے کہا کہ سیکریٹری داخلہ ایمان مزاری کے خلاف مقدمات متعلق پیر تک صوبوں سے تفصیلات مانگ کر آگاہ کریں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ’ایس ایس پی آپریشنز کے مطابق اسلام آباد میں ایمان مزاری کے خلاف تین مقدمات درج ہیں۔
فیصلے کے مطابق اسلام آباد پولیس کے مطابق ایمان مزاری اسلام آباد کے دو مقدمات میں ضمانت پر ہیں۔
عدالت کے مطابق پٹشنر کی والدہ ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ تیسرے مقدمے میں ضمانت کی صورت میں پھر گرفتاری کا خدشہ ہے۔
ایمان مزاری کی رہائی کا حکم
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں انسداد دہشتگردی کی ایک عدالت نے دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے کے الزام پر مبنی کیس میں وکیل اور سماجی کارکن ایمان مزاری کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
اس مقدمے کی سماعت کرنے والے جج ابو الحسنات ذولقرنین نے ایمان مزاری کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے دس ہزار کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔
ایمان مزاری کے خلاف یہ مقدمہ تھانہ بہارہ کہو میں درج تھا۔
خیال رہے کہ ایمان مزاری کو 20 اگست کی رات ساڑھے تین بجے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے بعد انھیں جب عدالت سے رہائی ملی تو پھر انھیں 28 اگست کو اڈیالہ جیل کے باہر سے دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پرویز الٰہی کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے حکم پر 3 ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا ہے: اسلام آباد پولیس
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پرویز الٰہی کی گرفتاری کا معاملہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ کے درمیان ہے، نگراں وفاقی وزیر اطلاعات
،تصویر کا ذریعہAPP
نگراں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ پرویز الٰہی کی گرفتاری کا معاملہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ کے درمیان ہے، قانون نافذ کرنے والے ادارے ملکی قوانین کے تحت کام کرتے ہیں، اگر کہیں قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو ملک میں عدلیہ بھی آزاد ہے اور میڈیا بھی۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
انھوں نے کہا کہ ایک ذمہ دار نگراں حکومت ہونے کے ناطے ہمارا فرض ہے کہ ہم عدلیہ اور قانون کا احترام کریں۔
نگراں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ملک میں ہر ایک کو اظہار رائے اور تنقید کا حق ہے، ہم کسی سے ان کا یہ حق چھین نہیں سکتے لیکن ہمارا بھی حق ہے کہ جس چیز کو درست سمجھیں وہ بلا خوف و خطر سامنے رکھیں۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ بجلی کے بلوں میں ریلیف کے حوالے سے کوششیں جاری ہیں، اس بارے تفصیلات فیصلوں کی شکل میں سامنے آئیں گی۔
انھوں نے کہا کہ آئین، قانون اور ہماری محدود مدت ہمیں فیصلے کرنے کی اجازت دیتے ہیں، آئین اور قانون کی روشنی میں ملک کے بہتر مفاد میں فیصلے کریں گے اور ان پر ڈٹ کر کھڑے رہیں گے۔ انتخابات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حلقہ بندیوں کا عمل تیز کر دیا ہے، الیکشن کمیشن انتخابات کی جو تاریخ دے گا اس پر انتخابات کے انعقاد میں ہر ممکن تعاون کریں گے۔
لاہور ہائیکورٹ کے احکامات کے باوجود صدر پی ٹی آئی پرویز الٰہی کو پولیس نے دوبارہ حراست میں لے لیا, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام
،تصویر کا ذریعہARY/SCREEN GRAB
اسلام
آباد پولیس نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور صدر پاکستان تحریک انصاف پرویز الہیٰ کو تھری
ایم پی او (نقضِ امن) کے تحت صوبائی دارالحکومت لاہور کی کینال روڈ سے حراست میں
لے لیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد رفیق نے پرویز الہی
کی درخواست پر سماعت کے بعد قومی احتساب بیورو (نیب) کو آج ہی اُن کی رہائی کا حکم
دیا ہے۔
پرویز
الہی نے رہائی کے بعد صحافیوں کو بتایا تھا کہ ملک کا بیڑا غرق کر کے ن لیگ کی قیادت
لندن بھاگ گئی ہے۔ ’میں پُرعزم ہوں، عمران خان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہوں۔‘ جیل میں
ملاقاتوں سے متعلق ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ ’ملاقات اس سے کروائی جاتی ہے جو ’نرم‘
ہو جاتا ہے۔‘
اس
سے قبل پرویز الٰہی نے نیب کی جانب سے مبینہ بدعنوانی کے کیس میں اپنی گرفتاری کو
عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ جسٹس امجد رفیق نے پرویز الٰہی کو پیش نہ کرنے کی صورت میں
ڈی جی نیب کے وارنٹ جاری کرنے کے حوالے سے متنبہ کیا تھا۔
جمعہ
کے روز ہونے والی سماعت کے دوران جسٹس امجد رفیق نے پرویز الہی کی گرفتاری پر
انکوئری کا حکم دیتے ہوئے استغاثہ سے استفسار کیا تھا کہ ’جب دو رکنی بینچ کا فیصلہ
آ گیا تھا، پھر جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی گئی؟‘
پرویز
الہی کے وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ ’سر ہائیکورٹ کے باہر دوبارہ نفری تعینات
ہے۔ خدشہ ہے پولیس پرویز الہیٰ کو دوبارہ گرفتار کرلے گی۔‘ اس پر جسٹس امجد رفیق
نے ریمارکس دیے کہ ’ہم نے کہہ دیا ہے کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہیں کریں گے، باقی
میں آرڈر بھی کر رہا ہوں۔‘
یاد
رہے کہ پرویز الہی کو یکم جون کو بدعنوانی سے متعلق کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔
تاہم اس کیس میں ضمانت پر رہائی کے بعد انھیں ایک کے بعد ایک مقدمے میں گرفتار کیا
جاتا رہا۔ جولائی کے وسط میں انھیں امن و امان کی صورتحال کے تناظر میں تھری ایم پی
او کے تحت 30 روز کے لیے حراست میں لیا گیا۔ اس سے قبل منی لانڈرنگ سے متعلق کیس میں
انھیں لاہور میں کیمپ جیل میں رکھا گیا تھا۔
نیب ترامیم کے تحت پارک لین اور ایل این جی سمیت 22 ریفرنس نیب عدالتوں سے واپس ہوئے
قومی
احتساب بیورو کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی تفصیلات کے مطابق نیب
ترامیم کے تحت رواں برس 30 اگست تک 12 ریفرنسز نیب عدالتوں سے منتقل ہوئے جن میں
سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے کیسز بھی شامل ہیں۔
یاد
رہے کہ نیب ترامیم کے خلاف کیس سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے۔ ان ترامیم کے خلاف
درخواست چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے دائر کی تھی۔
سپریم
کورٹ میں جمع کروائی گئی تفصیلات کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف پارک
لین ریفرنس جبکہ شاہد خاقان عباسی کے خلاف ایل این جی ریفرنس نیب عدالتوں سے واپس
ہوئے۔
انھی
ترامیم کے تحت خورشید انور جمالی، منظور قادر کاکا، خواجہ انور مجید، جعلی اکاؤنٹس
کیس کے مرکزی ملزم حسین لوائی، اومنی گروپ کے عبدالغنی مجید اور دیگر افراد کے خلاف
مجموعی طور پر 22 مقدمات احتساب عدالتوں سے واپس ہو کر دیگر متعلقہ فورمز کو بھیجے
گئے۔
الیکشن کے جلد انعقاد کی غرض سے نئی حلقہ بندیوں کی حتمی اشاعت 30 نومبر کو کر دی جائے گی: الیکشن کمیشن
،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
الیکشن
کمیشن آف پاکستان نے کہا ہے کہ مردم شماری کے تحت نئی حلقہ بندیوں
کے دورانیے کو مزید کم کرتے ہوئے اب حلقہ بندیوں کی حتمی اشاعت 30 نومبر کو کی جائے
گی۔
الیکشن
کمیشن سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز کے مطابق یہ فیصلہ سیاستی جماعتوں کے
نمائندوں سے ہونے والی حالیہ مشاورت اور اس کے دوران ملنے والے فیڈ بیک کے تناظر میں
لیا گیا ہے جس کا مقصد آئندہ عام انتخابات کا جلد از جلد انعقاد ہے۔
یاد
رہے کہ رواں ہفتے کے دوران الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے مشاورت
کی تھی جس کے دوران لگ بھگ تمام بڑی جماعتوں نے ملک میں جلد از جلد عام انتخابات
کے انعقاد پر زور دیا تھا۔
الیکشن
کمیشن کا کہنا ہے کہ حلقہ بندیوں کی 30 نومبر کو حتمی اشاعت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے
الیکشن کے شیڈول کا اعلان بھی کر دیا جائے گا۔
بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر ہم ایک چھٹی پر بھی نوٹس لے سکتے ہیں: چیف جسٹس
نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر ہم ایک چھٹی پر بھی نوٹس لے سکتے ہیں۔
سماعت کے دوران جسٹس منصور شاہ نے وکیل خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ ’آپ نے پارلیمنٹ میں ہی ان باتوں پر لڑنا تھا جسے آپ چھوڑ کر چلے گئے‘
’آپ نے نشست سے استعفیٰ دینا تھا تو اسے کسی اور کے لیے خالی کرتے۔‘
خواجہ حارث نے دلائل میں کہا کہ عمران خان نے نشست سے استعفیٰ دیا تھا، وہ منظور نہیں کیا گیا۔ ’اثاثوں سے متعلق شق بھی نیب کی سیکشن 9 میں ہے، سیکشن 9 میں اس کی تعریف کرپشن کے طور پر کی گئی ہے۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ماضی میں کسی اثاثے کی مالیت کیا تھی یہ قیاس آرائی ہی ہو سکتی ہے۔ ’کوئی پراپرٹی ڈیلر ہی کہہ سکتا ہے کہ یہ جائیداد کچھ برس قبل کتنی مالیت کی تھی۔ نیب کچھ تو کنکریٹ شواہد لایا کرے، اثاثوں کی اصل مالیت سامنے نہیں آئی۔
’ماضی میں کسی اثاثے کی مالیت کیا تھی، یہ قیاس آرائی ہی ہو سکتی ہے۔ کوئی پراپرٹی ڈیلر ہی کہہ سکتا ہے کہ یہ جائیداد کچھ برس قبل کتنی مالیت کی تھی۔‘
اس دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے یہ ریمارکس بھی دیے کہ ’بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر ہم ایک چِھٹی پر بھی نوٹس لے سکتے ہیں۔‘
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ’دیکھنا یہ بھی ہوگا وہ چھٹی کس نے بھیجی۔‘
’پارلمینٹ کا فورم چھوڑ کر عدالت آنے سے نیک نیتی کا سوال تو آئے گا۔‘
خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ ’وہ ان کا سیاسی فیصلہ تھا، وہ مستعفی ہونے کا حق رکھتے ہیں۔‘
بریکنگ, لاہور ہائیکورٹ کا پرویز الہی کی رہائی کا حکم
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد رفیق نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہی کی درخواست پر سماعت کے دوران قومی احتساب بیورو (نیب) کو ان کی رہائی کا حکم دیا ہے۔
پرویز الہی نے رہائی کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ملک کا بیڑا غرق کر کے ن لیگ کی قیادت لندن بھاگ گئی۔ ’میں پُرعزم ہوں، عمران خان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہوں۔‘ جیل میں ملاقاتوں سے متعلق ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ ’ملاقات اس سے ہوتی ہے جو نرم ہوجاتا ہے۔‘
پرویز الٰہی نے نیب کی جانب سے مبینہ بدعنوانی کے کیس میں اپنی گرفتاری کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ جسٹس امجد رفیق نے پرویز الٰہی کو پیش نہ کرنے کی صورت میں ڈی جی نیب کے وارنٹ جاری کرنے کے حوالے سے متنبہ کیا تھا۔
جسٹس امجد رفیق نے پرویز الہی کی گرفتاری پر انکوئری کا حکم دیا ہے۔ انھوں نے استغاثہ سے استفسار کیا کہ ’جب دو رکنی بینچ کا فیصلہ آ گیا تھا، پھر جسمانی ریمانڈ میں توسیع کیوں ہوئی؟‘
پرویز الہی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ’سر ہائیکورٹ کے باہر دوبارہ نفری بہت لگی ہے۔ خدشہ ہے پولیس گرفتار کرلے گی۔‘ اس پر جسٹس امجد رفیق نے ریمارکس دیے کہ ’ہم نے کہہ دیا ہے کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہیں کریں گے، باقی میں آرڈر بھی کر رہا ہوں۔‘
پرویز الہی کو یکم جون کو بدعنوانی سے متعلق کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم اس کیس میں ضمانت پر رہائی کے بعد انھیں ایک کے بعد ایک مقدمے میں گرفتار کیا جاتا رہا۔ جولائی کے وسط میں انھیں امن و امان کی صورتحال کے تناظر میں تھری ایم پی او کے تحت 30 روز کے لیے حراست میں لیا گیا۔ اس سے قبل منی لانڈرنگ سے متعلق کیس میں انھیں لاہور میں کیمپ جیل میں رکھا گیا تھا۔
14 اگست کو نیب کی ٹیم نے انھیں رشوت لینے کے الزام میں اڈیالہ جیل سے حراست میں لیا تھا۔
برآمد، سمگلنگ یا سٹے بازی: چینی کی قیمت میں ریکارڈ اضافے کی وجہ کیا ہے؟
ایمان مزاری کو کل تک اسلام آباد کے تھانہ ویمن میں رکھنے کا حکم
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے سماجی کارکن ایمان مزاری کے خلاف دہشتگردوں کی مالی معاونت کے الزام پر مبنی کیس کی سماعت کے دوران ان کی درخواستِ ضمانت پر کل سماعت کی استدعا منظور کی ہے۔
عدالت نے پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کی اور ایمان مزاری کو کل تک اسلام آباد کے تھانہ ویمن میں رکھنے کا حکم دیا۔
سماعت کے دوران وکیل قیصر امام نے بتایا کہ ایمان مزاری کی طبی صورتحال ٹھیک نہیں۔
جج نے ریمارکس دیے کہ ’خاتون ہونے کی بنا پر کیس کی سماعت پیر سے کل کے لیے رکھ رہے ہیں۔‘
اس سے قبل تھانہ بارہ کہو میں درج مقدمے میں عدالت نے پراسیکیوٹر کی جانب سے ایمان مزاری کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کی اور 4 ستمبر تک فریقین سے جواب طلب کیا۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایمان مزاری کو کسی بھی مقدمے میں وفاقی دارالحکومت سے باہر لے جانے پر پابندی میں چار ستمبر تک توسیع کی تھی۔
مئی 2023 سے قبل نیب ریفرنسز کا واپس ہونا سنجیدہ معاملہ ہے: چیف جسٹس, شہزاد ملک/بی بی سی اردو، اسلام آباد
سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کی جانب سے قومی احتساب بیورو (نیب) کے قانون میں ترامیم کے خلاف سابق وزیر اعظم عمران خان کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے مئی 2023 سے قبل نیب ریفرنسز واپس لیے جانے کو ’سنجیدہ معاملہ‘ قرار دیا ہے۔
سماعت کے دوران وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ بیرون ممالک سے باہمی قانونی تعاون کے ذریعے شواہد لیے جاتے ہیں جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ ’بیرون ممالک سے حاصل کردہ شواہد کی کیا قانونی حیثیت ہے؟‘ وکیل نے جواب دیا کہ ’دفتر خارجہ کے ذریعے بیرون ملک سے شواہد لیے جاتے ہیں اور تصدیق کا ایک پورا عمل ہوتا ہے۔‘
چیف جسٹس نے استفسار کہ ’پاکستان کے قانون میں بیرون ملک سے قانون معاونت کی گنجائش کتنی ہے؟‘ وکیل نے جواب دیا کہ پاکستانی قانون میں بیرون ملک سے حاصل قانونی معاونت کی زیادہ اہمیت نہیں رکھی گئی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’مئی 2023 سے پہلے نیب ریفرنسز کا واپس ہونا سنجیدہ معاملہ ہے۔‘
’ہمارے پاس نیب ریفرنس واپس ہونے سے متعلق تفصیلات پر مبنی فہرست ہے۔ بات یہ ہے کہ ہم نے آج کیس ختم کرنا ہے۔ ہمارے پاس جمعے کی وجہ سے آج ساڑھے بارہ بجے تک کا وقت ہے۔‘
چیف جسٹس نے خواجہ حارث کو ساڑھے بارہ بجے تک دلائل مکمل کرنے کی ہدایت دی۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ پیر کو وہ کچھ وقت لیں گے۔
جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ پیر تک وقت نہیں تحریری طور پر معروضات دے دیں ہم دیکھ لیں گے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نیب کی زیرِ حراست ملزم کو دباؤ میں لا کر پلی بارگین کرنے کا تاثر موجود ہے۔ ’سندھ میں ایک کیس کی مثال موجود ہے، اس کیس میں پلی بارگین کر کے رقم طے کی گئی بعد میں تمام اثاثوں کا دوبارہ تخمینہ لگایا گیا۔‘
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ترامیم کے بعد پلی بارگین کے تحت اقساط میں وصول کی گئی رقم بھی واپس کرنا ہوگی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’آرٹیکل 10 اے کے تحت ملزم کے بھی بنیادی حقوق ہیں، کیا ملزم کے حقوق کا خیال رکھنا ضروری نہیں؟‘
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ فوجداری قانون میں تو ملزم عدالت کا فیورٹ چائلڈ ہوتا ہے، عوام ہمارے سامنے تو تب آئے گی جب ان کے حقوق متاثر ہوں گے۔
وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نیب کی ترامیم اس انداز سے کی گئیں کہ ملزم اب پراسیکیوٹ نہیں ہو سکے گا۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’آپ الزام لگا رہے ہیں کہ نیب ترامیم سے ریاست ملزم کے مفادات کا تحفظ کر رہی ہے؟‘
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ’کیا یہ نیب ریگولیٹری پر ترامیم کے ذریعے قبضہ ہے۔ ’کیا جو نیب کا ملزم ہے وہ قانون بنائے گا، کیا نیب کا ملزم قانون بنا کر بتائے گا کہ اس کے خلاف کارروائی کیسے ریگولیٹ ہو؟‘
انسداد دہشت گردی کی عدالت نے شاہ محمود قریشی کے خلاف دو مقدمات میں عبوری ضمانتیں خارج کر دی
اسلام
آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے شاہ محمود قریشی کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ
کھنہ میں درج دو مقدمات پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ان کی ان مقدمات میں عبوری
ضمانتیں خارج کر دی ہیں۔
جمعہ
کو انسداد دہشتگری عدالت کے جج ابو الحسنات ذولقرنین نے شاہ محمود قریشی کی عدم
موجودگی کے باعث ضمانتیں خارج کی۔
وکیل
علی بخاری کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ اور شاہ محمود قریشی کی طلبی کی درخواستیں
دائر کی گئیں تھیں۔ عدالت نے وکیل علی بخاری کی دونوں درخواستیں خارج کر دیں
اس
قبل ضمانت کی درخواست کی سماعت انسداد
دہشتگری عدالت کے جج ابو الحسنات ذولقرنین نے کی۔ شاہ محمود قریشی کے وکیل علی
بخاری عدالت کے روبرو پیش جبکہ پراسیکوٹر راجہ نوید بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
شاہ
محمود قریشی کے وکیل علی بخاری نے کہا کہ ان کے موکل اس وقت سائبر کیس میں جوڈیشل
ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں ہیں لہذا ان کی ضمانت میں توسیع کی جائے۔ جبکہ پراسیکوٹر
راجہ نوید کی جانب سے شاہ محمود قریشی کی ضمانت خارج کرنے کی استدعا کی گئی۔
جس
پر وکیل علی بخاری نے کہا کہ آپ شاہ محمود قریشی کی ضمانت میں توسیع کریں یا پھر
ابھی انھیں طلب کریں۔ وکیل علی بخاری نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کی حاضری یقینی ہے
تو پھر اڈیالہ جیل سے یہاں طلب کر لیں۔
جس
پر عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
کیا مصنوعی ذہانت والا نگرانی کا نظام پشاور کی سکیورٹی بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو گا؟
پیٹرول اور ڈیزل کی ریکارڈ قیمتوں پر اظہارِ برہمی: ’اس سے مہنگائی کا نیا طوفان برپا ہو گا‘
پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں محض نصف ماہ کے دوران 35 روپے کے بڑے اضافے نے مہنگائی سے ستائے لوگوں کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 15 اگست کو عالمی سطح پر برینٹ خام تیل کی قیمت 85.08 ڈالر تھی جو یکم ستمبر کو 87.01 ڈالر ہے۔ یعنی عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اتنا رد و بدل نہیں ہوا ہے اور پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس حالیہ اضافے کو آئی ایم ایف کی کڑی شرائط، روپے کی بے قدری اور حکومتی ٹیکسز سے جوڑا جا رہا ہے۔
گذشتہ شب کیے گئے حکومتی اعلان پر لوگوں کی جانب سے برہمی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
صحافی شہباز رانا کا کہنا ہے کہ نگران حکومت نے پیٹرول پر ٹیکس بڑھا کر 60 روپے فی لیٹر کر دیا ہے جبکہ اس پر 10 فیصد کسٹم ڈیوٹی بھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ صارفین ٹیکس کی مد میں پیٹرول پر 85 روپے فی لیٹر ادا کر رہے ہیں۔
تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر حماد اظہر نے ردعمل دیا کہ ’ڈالر بھی 305 اور پیٹرول بھی۔ مارچ 2022 سے اب تک کتنا کچھ بدل گیا۔
جس طرف معاملات جا رہے ہیں الیکشن 90 کی بجائے 60 دن میں کرانا چاہیے۔ نگران نمونے بھی پی ڈی ایم کی طرح کسی کام کے نہیں۔ ملک کو فوری بے یقینی اور عدم استحکام سے نکالنا ہوگا ورنہ معاشی اور سیاسی افراتفری کا خطرہ ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
شمہ جنیجو لکھتی ہیں کہ بجلی کے بلوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی اور اب پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے غریب کو مزید کچل دیں گے۔
تجریہ کار عاصمہ شیرازی نے پیشگوئی کی ہے کہ اس سے ’مہنگائی کا اور طوفان برپا ہو گا۔‘
جبکہ شہر بانو نامی صارف کی تجویز ہے کہ اگر عوام احتجاج کے لیے ’سڑک پر نہیں نکل سکتے تو یہ گاڑیاں، یہ موٹر سائیکل، یہ رکشے ایک دن کے لیے سڑکوں پر ہی کھڑے کر کے چلے جائیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
پیٹرول کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر، نئے اضافے کے بعد 305.36 فی لیٹر
،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا گیا ہے جس کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت ملکی تاریخ کی سب سے بلند سطح پر پہنچ چکی ہیں۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 14 روپے 91 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 18 روپے 44 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر ہو گا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل نگران حکومت نے اپنے قیام کے پہلے ہی ہفتے میں ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب ساڑھے 17 اور 20 روپے اضافے کا اعلان کیا تھا۔ یوں نصف ماہ میں پیٹرول کی قیمت میں قریب 35 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
فوج کو مفت بجلی نہیں ملتی، بلوں کے معاملے کو بڑھا چڑھا کر بھی پیش کیا جا رہا ہے، نگران وزیر اعظم
،تصویر کا ذریعہPM OFFICE PAKISTAN
نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے حکومت بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ کیے گئے معاہدوں سے انحراف کیے بغیر بجلی کے بلوں کے معاملے پر عوام کے لیے ریلیف اقدامات کا جلد اعلان کرے گی۔
جمعرات کو ایوان وزیراعظم میں سیینئر صحافیوں اور اینکر پرسنز سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ چند شرائط کے تحت معاہدے کیے ہیں جو ہمیں ہر قیمت پر پورا کرنے ہوں گے۔ مگر قرض دہندگان کے ساتھ عوام کے لیے امدادی اقدامات کے معاملے پر بات چیت ہو رہی ہے۔‘
بلوں پر عوامی احتجاج کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ ’یہ ایک مسئلہ ضرور ہے اور اسے بڑھا کر پیش بھی کیا جا رہا ہے، تمام سیاسی جماعتیں الیکشن موڈ میں ہیں اور جن لوگوں کا اس مسئلے میں کردار ہے وہی اس کو ایک معاشرتی مسئلہ بنا کر پیش کر رہے ہیں جو میں سمجھتا ہوں کیوں کہ انھوں نے الیکشن لڑنا ہے۔ لیکن یہ کوئی امن و امان کا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔‘
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ انھوں نے آفیشلی ملٹری سے پوچھا کہ انھیں کتنی بجلی مفت ملتی ہے۔
’پاکستان آرمی، ایئرفورس اور نیوی کسی کو بھی مفت بجلی نہیں ملتی اور وہ ہر استعمال ہونے والے یونٹ کی قیمت اپنے بجٹ سے ادا کرتے ہیں۔ جوڈیشری میں بھی یہی صورتحال ہے۔‘
’واپڈا کے ملازمین کو مفت بجلی ملتی ہے، واپڈا کو فری میں ملنی والی بجلی کا 66 فیصد ان ملازمین کو ملتا ہے جو گریڈ ایک سے گریڈ 16 تک میں ہیں۔ مگر گریڈ 17 سے گریڈ 22 تک کے وہ افسران بھی ہیں جو لامحدود بجلی کے یونٹس استعمال کر سکتے ہیں۔۔۔ ہم نہیں سوچ رہے کہ گریڈ ایک سے 16 تک کے ملازمین کو نہ چھیڑیں کیونکہ انھیں محدود یونٹس ملتے ہیں۔ اس پر ہم 48 گھنٹوں میں پالیسی کا اعلان کریں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ بجلی بحران کی بڑی وجہ مہنگے داموں بجلی کی خریداری، پیداوار، ترسیل اور بلوں کی وصولی کے نظام میں نقائص کی وجہ سے ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ قانون کے مطابق انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے اور نگراں حکومت منصفانہ اور شفاف انتخابات کے ذریعے پرامن انتقال اقتدار کے لیے پرعزم ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ ’ظالم حکمران آ گئے ہیں اور غریب عوام کا خون چوسیں گے، کسی کو یہ غلط فہمی ہے تو وہ دور کرے۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ ’سمگلنگ، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ جیسے مسائل سمیت مختلف پیداواری شعبوں میں سرمایہ کاری کم ہو رہی ہے، غیرپیداواری شعبوں میں منافع پر انحصار کیا جا رہا ہے، ہم بھی ان مسائل کو ٹال سکتے ہیں لیکن یہ معاملہ پھر سامنے آئے گا، ہمیں اس سوال کا جواب ڈھونڈنا پڑے گا، اس کی وجہ سے سماجی و معاشی مسائل پیدا ہو رہے ہیں، سوشل میڈیا پر ایسے تبصرے کیے جاتے ہیں جو ملک کیلئے نقصان دہ ہیں۔‘
بریکنگ, خیبرپختونخوا: جانی خیل میں آرمی کانوائے پر خودکش حملہ میں نو فوجی اہلکار ہلاک
،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency
پاکستان
کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ضلع بنوں اور شمالی وزیرستان سے متصل علاقے جانی خیل میں
سکیورٹی فورسز کے قافلے پر خودکش حملے کے نتیجے میں نو فوجی اہلکار ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہو گئے ہیں۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق موٹر سائیکل پر سوار ایک خودکش حملہ آور فوجی قافلے کے نزدیک پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ایک نائب صوبیدار سمیت نو فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔
نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکٹر نے اس واقعے کی مذمت کی ہے اور کہا اس ’بزدلانہ حملے‘ میں بہت سے اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔
مقامی پولیس کے مطابق موٹر سائیکل سوار خود کش بمبار نے جانی خیل کے علاقے مالی خیل چیک پوسٹ کے قریب اپنے آپ کو اس وقت دھماکے سے اڑایا جب یہاں سے سکیورٹی فورسز کا قافلہ گزر رہا تھا۔
زخمیوں
اور لاشوں کو ملٹری کمائنڈ ہسپتال بنوں منتقل کر دیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس حملے کے بعد فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر آپریشن شروع کر دیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہ@anwaar_kakar
ڈالر کی اڑان، سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی: کیا پاکستان کے معاشی بحران کو سیاسی استحکام کی ضرروت ہے؟