آئی ایم ایف کا وفد آج پی ٹی آئی سمیت ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے ملاقات کرے گا
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کا وفد آج ملک کی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے ملاقات کرے گا۔
نمائندہ آئی ایم ایف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ آئی ایم ایف کا وفد پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے ملاقات کرے گا جس میں مسلم لیگ (ن)، پی پی اور پی ٹی آئی کے نمائندوں سے ملاقات ہو گی۔
نمائندہ آئی ایم ایف کا کہنا ہےکہ ان ملاقاتوں کا مقصد انتخابات سے پہلے آئی ایم ایف کے نئے سپورٹ پروگرام کے لیے ان کی حمایت کی یقین دہانی حاصل کرنا ہے۔
دوسری جانب سے پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما حماد اظہر نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف سے چند روز پہلے آئی ایم ایف کی ٹیم نے رابطہ کیا۔
انھوں نے کہا کہ ’آئی ایم ایف کے ساتھ نو ماہ کا سٹینڈ بائی معاہدے کا مسودہ اگلے ہفتے آئی ایم کے بوڑد کے سامنے واشنگنٹن میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
’اس سلسلے میں تحریک انصاف سے معاہدے کی حمایت کے لیے درخواست کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں آج آئی ایم ایف کی ٹیم زمان پارک میں پارٹی چیئرمین عمران خان اور ان کی معاشی ٹیم سے ملاقات کرے گی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ملاقات میں آئی ایم ایف کے پاکستان میں موجود حکام شرکت کریں گے اور بیرون ملک میں مقیم حکام ورچوئلی شرکت کریں گے۔‘
اس بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ماہرِ معیشت اور صحافی شہباز رانا کا کہنا ہے کہ ’جب کسی ملک میں سیاسی عدم استحکام ہوتا ہے تو آئی ایم ایف سیاسی جماعتوں سے مشاورت کرتا ہے۔
’یہ ضروری نہیں ہوتا، اس مشاورت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔‘






