آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے تین ارب ڈالر سٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدے کی منظوری دے دی

آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے تین ارب ڈالر سٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔ ادھر پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے بعد متحدہ عرب امارات نے بھی ایک ارب ڈالر سٹیٹ بینک کے اکاؤنٹ میں جمع کروائے ہیں جس کے بعد غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں تین ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔

لائیو کوریج

  1. دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ترقی کرنے سے نہیں روک سکتی: آرمی چیف

    عاصم منیر

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ ’ہم باصلاحیت قوم ہیں، ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم مل کر اس کی ترقی میں حصہ ڈالیں۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ’ہم پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے بحیثیت ادارہ مکمل جانفشانی اور قلب و روح کے ساتھ اس مرحلہ کی تکمیل کے لیے ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتے ہیں۔‘

    سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وہ پیر کو گرین پاکستان انیشیٹو پاکستان کے تحت غذائی تحفظ پر منعقدہ سمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعظم اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے جبکہ سیمینار میں وفاقی وزرا، سندھ اور پنجاب کے وزراء اعلی، چاروں صوبوں کے چیف سیکٹریز، زرعی ماہرین، اعلی عسکری افسران اور ملک بھر سے کسانوں کی بڑی تعداد کے علاوہ بین الاقوامی مہمان، برطانیہ، اٹلی، سپین، چین، بحرین، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے سفارتکار اور سرمایہ کاروں نے بھی سیمینار میں شرکت کی۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل سید عاصم منیر نے کہا کہ ’ہم سب یہاں پاکستان کو ایک بار پھر سر سبز کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں، پاکستان کو اللّٰہ نے بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے، ہم باصلاحیت قوم ہیں، ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم مل کر اسکی ترقی میں حصہ ڈالیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، اللہ کی رحمت سے صرف کافر مایوس ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کے لیے دو ہی حالتیں ہیں جب اس پر مصیبت آتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے جب خوشی ملتی ہے تو وہ شکر ادا کرتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ پاکستان نے ترقی کی منازل طے کرنی ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت اس کو ترقی کرنے سے نہیں روک سکتی۔ ’ہمارے پاس ہر طرح کی صلاحیت موجود ہے جو پاکستان کو عروج پر لے جاسکتا ہے، مسلمان کے لیے نا امیدی کفر ہے۔‘

  2. بریکنگ, انڈیا نے دریائے ستلج میں بھی پانی چھوڑ دیا، پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

    سیلاب

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ’انڈیا نے ہریکے کے مقام سے 70614 کیوسک پانی دریائے ستلج میں چھوڑا ہے۔ یہ پانی آج رات تک ضلع قصور گنڈا سنگھ کے مقام سے پاکستانی حدود میں داخل ہو گا۔‘

    پی ڈی ایم اے نے ڈپٹی کمشنر قصور، اوکاڑہ، وہاڑی ، پاکپتن اور وہاڑی کے ڈپٹی کمشنرز کو پیشگی انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت کر دی ہیں۔

    پی ڈی ایم اے نے ہدایت کی ہے کہ ’تمام اضلاع ریلیف کیمپس کا قیام عمل میں لائیں۔لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔‘

    ڈی جی پی ڈی ایم اے عمران قریشی کا کہا ہے کہ ’پیشگی انتظامات کے ذریعے لوگوں کے جان و مال کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ شہری دریاؤں اور نہروں کے قریب جانے سے گریز کریں۔

    دریائے چناب،راوی ستلج اور منسلک نالوں میں درمیانے درجے کا سیلاب متوقع

    پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے کے مطابق مختلف موسمیاتی ماڈلز کیمطابق دریائے چناب،راوی ستلج اور منسلک نالوں بھمبر، ایک ،دیگ ،بین پلکھو اور بسنتر میں درمیانے درجے کا سیلاب متوقع ہے۔

    تاہم این ڈی ایم کے مطابق پانی ندی نالوں تک محدود رہنے کا امکان ہے،جس کا ممکنہ اثر صرف دریا کنارے سے ملحق نشیبی علاقوں پر ہو سکتا ہے۔

    دوسری جانب مون سون کے دوران آج لاہور، سیالکوٹ، نارووال، راولپنڈی، ڈی جی خان ملتان وسرگودھا ڈویژن میں آندھی اور گرج چمک کیساتھ تیز بارش کا امکان ہے۔

    میونسپل علاقوں جیسا کہ لاہور، سیالکوٹ، نارووال، گوجرانوالہ میں اربن فلڈنگ جبکہ بلوچستان، کے پی، پنجاب، جی بی اور اے جے کے کےپہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈ کا خدشہ ہے۔

    کراچی، تھرپارکر، سکھر، لاڑکانہ، حیدرآباد، بدین اور بینظیر آباد میں گرج چمک کیساتھ درمیانے تا شدید بارش ہو سکتی ہے۔

    شمال مشرقی بلوچستان (سبّی، ژوب، کوہلو، قلعہ سیف اللہ، خضدار، بارکھان، لورالائی، قلات، نصیر آباد، ڈیرہ بگٹی اور لسبیلہ) میں گرج چمک کیساتھ درمیانی تا شدید بارش کا امکان ہے۔

    این ڈی ایم کا کہنا ہے کہ شہری و ضلعی انتظامیہ سیلاب کے خطرے سے دوچار علاقوں میں ایمرجنسی عملہ و مشینری بشمول ڈی واٹرنگ پمپس کی فراہمی یقینی بنائیں۔

    ادارے نے ہدایات کی ہیں کہ انتظامیہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کےلیے انڈر پاس اور نشیبی سڑکوں سے نکاسی آب آپریشن کے دوران متبادل ٹریفک پلان کو یقینی بنائے۔

    پی ڈی ایم اے کو ہدایت کی گئی ہے کہ پنجاب میں دریائے چناب، راوی، ستلج اور منسلک نالوں کے گرد نشیبی علاقوں کے مکینوں کو بروقت اطلاع دیتے ہوئے انخلا کو یقینی بنائے۔

    اس کے علاوہ ریسکیو سروسز افواج ،این جی اوز سے بھی کہا گیا ہے کہ خطرے سے دوچار علاقوں میں ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل کو یقینی بنانے کیلئے انتظامات مکمل رکھیں۔

    این ڈی ایم اے نہ ہدایات کی ہے کہ متعلقہ ادارے پانی کے زیادہ بہاؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے مروجہ ضابطے کے تحت ہنگامی پروٹوکول کو نافذ کریں تاکہ چینلنگ کے ذریعے پانی رابطہ نہروں میں جائے۔

  3. لاپتہ بلوچ طلبا اور شہریوں کی بازیابی کے لیے کوئٹہ میں مظاہرے, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچ

    بلوچستان کے ضلع قلات سے تعلق رکھنے والے شہری شاہان بلوچ کی مبینہ جبری گمشدگی کے خلاف پیرکوکوئٹہ کراچی ہائی وے کو بطوراحتجاج بند کیا گیا جبکہ سالم بلوچ سمیت دیگرطلبا کی بازیابی کے لیےکوئٹہ میں مظاہرہ کیا گیا۔

    شاہان بلوچ کے رشتہ داروں اوردیگر افراد نے کوئٹہ کراچی ہائی وے کو منگیچر کے مقام پر بند کیا۔

    شاہان بلوچ کے رشتہ داروں کے مطابق انھیں 24جنوری 2022 کوجبری طورپرلاپتہ کیا گیا تھا۔

    بلوچ

    احتجاج میں شریک افراد نے شاہان بلوچ کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔ دوپہر ایک بجے انتظامیہ سے مذاکرات کے بعد شاہراہ کو گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا۔

    دوسری جانب کوئٹہ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیراہتمام ضلع کیچ سے سالم بلوچ اوردیگربلوچ طلبا کی جبری گمشدگی کے خلاف مظاہرہ کیا گیا۔

    مظاہرے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے سالم بلوچ سمیت دیگرلاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگران پرکوئی الزام ہے تو ان کو عدالتوں میں پیش کیا جائے۔

  4. عالمی کریڈٹ ریٹنگ ادارے فچ نے پاکستان کی ریٹنگ بہتر کر دی, تنویر ملک ، صحافی

    ڈالر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عالمی کریڈٹ ریٹنگ ادارے فچ نے پاکستان کی طویل مدتی فارن کرنسی ریٹنگ کو CCC کر دیا۔

    اس سے پہلے پاکستان کی لانگ ٹرم فارن کرنسی ریٹنگ منفی CCC تھی۔

    فچ کے اعلامیے کے مطابق پاکستان کی ریٹنگ میں بہتری کی وجہ ملک میں بہتر بیرونی فنانسنگ کی صورتحال ہے جو آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے کی وجہ سے ہوئی۔

  5. ڈالر کی قیمت میں دو روپے کا اضافہ، سٹاک مارکیٹ میں ساڑھے تین سو پوائنٹس سے زائد کا ا اضافہ, تنویر ملک ، صحافی

    پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں 2.1 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    سوموار کے روز ڈالر کی قیمت 280 روپے کی سطح تک پہنچ گئی واضح رہے گذشتہ ہفتے آئی ایم ایف پروگرام کی منظوری کے بعد ڈالر کی قیمت میں نمایاں کمی واقع ہوئی تھی۔

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں سوموار کے روز تیزی کا رجحان دیکھا گیا اور انڈیکس میں 378 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق سٹاک مارکیٹ میں تیزی کی وجہ دو روز بعد آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں تین ارب ڈالر کے معاہدے کی منظوری کی توقع ہے۔

  6. عمران خان 11 جولائی کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں طلب

    اسلام آباد میں انسداد دہشتگردی کی عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو 11 جولائی کو دوبارہ طلب کر لیا ہے۔

    طلبی کا یہ حکم پیر کو اسلام آباد پولیس کی جانب سے پانچ مقدمات میں چالان جمع کروانے پر دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ صبح نو بجے عمران خان پیش ہوں۔

    جن مقدمات میں عمران خان کو عدالت میں طلب کیا گیا ہے وہ تھانہ گولڑہ، تھانہ سنگجانی اور تھانہ سی ٹی ڈی میں درج ہیں اور انسداد دہشتگردی عدالت کے سابق جج راجہ جواد عباس حسن نے چیئرمین پی ٹی آئی کی ان مقدمات میں ضمانت کنفرم کی تھی۔

    عمران خان کے علاوہ اسد عمر،عامر محمود کیانی اور جمشید محبوب کو بھی عدالت نے کل طلب کیا ہے۔ اس کے علاوہ تھانہ رمنا میں درج مقدمے میں علی نواز اعوان کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔

  7. ایف آئی اے منی لانڈرنگ کیس: سلمان شہباز سمیت تمام ملزمان بری کر دیے گئے

    پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی عدالت نے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں وزیراعظم شہباز شریف کے بعد ان کے بیٹے سلمان شہباز اور دیگر ملزمان کو بھی ناکافی شواہد کی بنا بر بری کر دیا ہے۔

    ایف آئی اے نے وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے بیٹوں حمزہ اور سلمان شہباز سمیت 16 افراد کے خلاف 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کیا تھا اور کچھ عرصہ قبل وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے بیٹے اور پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ حمزہ شہباز کو بری کر دیا تھا۔

    پیر کو ایف آئی اے کی سپیشل کورٹ سینٹرل میں سلمان شہباز سمیت دیگر ملزمان کی بریت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی تو ایف آئی اے نے عدالت کی جانب سے پوچھے گئے 27 سوالات کے جوابات جمع کروائے۔ اس موقع پر جج فخر بہزاد نے استغاثہ سے سوال کیا کہ منی لانڈرنگ کیس کی انکوائری کس نے کی تھی؟ ایف آئی اے کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی تحقیقات ایک جے آئی ٹی نے کیں جج نے سوال کیا کہ آیا پوری تفتیش میں کسی ایک گواہ کا بیان ریکارڈ کیا گیا تو ایف آئی اے کے تفتیشی افسر عدالت کے سوال پر خاموش ہو گئے۔

    جج فخر بہزاد نے یہ سوال بھی کیا کہ تحقیقات اور تفتیش کے دوران جو لوگ اپنا موقف تبدیل کرتے رہے ان کے خلاف کیا کارروائی کی گئی جس پر تفتیشی افسر علی مردان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے کوئی کارروائی نہیں کی۔‘ تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ سلمان شہباز براہ راست ملزم نہیں اور جو اکاؤنٹ کھولے گئے ان فارمز کی روشنی میں کارروائی کی گئی۔

    جج کی جانب سے اس سوال پر کہ یہ مقدمہ کس کے کہنے پر بنایا گیا ، علی مردان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت مقدمہ بنایا جبکہ شوگر ملز کے خلاف قائم کمیشن میں بھی چیزیں سامنے آئیں اس کے مطابق بھی کارروائی کی‘۔

    جج فخر بہزاد کا کہنا تھا کہ ’میں نے اسی لیے ایف آئی اے کو بلایا تھا کہ آ کر بتائیں اتنے سال کیا یہ ڈرامہ چلتا رہا ہے‘۔ انھوں نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ شہزاد اکبر جس ریکارڈ کی بنیاد پر پریس کانفرنس کرتے تھے انھیں وہ ریکارڈ کون دیتا تھا، اس پر تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ’مجھے یاد ہے شہزاد اکبر ایک بار لاہور آفس آئے تھے۔‘ اس پر جج نے ریمارکس دیے ’100 بار تو انھوں نے وہاں پریس کانفرنسیں کی تھیں‘۔

    سماعت کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے وزیراعظم کے بیٹے سلیمان شہباز سمیت دیگر تمام ملزمان کی جانب سے مقدمے میں بریت کی درخواستوں کو منظور کر لیا۔

    فیصلے کے بعد سپیشل سینٹرل عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے سلمان شہباز کا کہنا تھا کہ یہ ایک سیاسی مقدمہ تھا جو عدالت میں ثابت ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کیس 2018 سے شروع ہوا اور پانچ برس جھوٹ کا پلندہ تیار کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ ’پانچ سال کوئی کام نہیں کیا گیا، صرف جھوٹے کیس بنائے گئے‘۔

  8. عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کے مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد، 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا, ترہب اصغر، بی بی سی اردو

    لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس پر حملے کے مقدمے میں انسداد دہشتگری کی خصوصی عدالت نے پولیس کی جانب سے ‏پی ٹی آئی کے رہنماؤں عمر سرفراز چیمہ اور اعجاز چوہدری کے مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انھیں جیل بھیج دیا ہے۔

    پیر کو سماعت کے دوران پولیس نے دونوں ملزمان کو عدالت میں پیش کیا اور جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔

    عدالت نے یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے عمر سرفراز چیمہ اور اعجاز چوہدری کو چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

  9. آٹھ مقدمات میں حفاظتی ضمانت کے لیے عمران خان کا اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے ملک کے مختلف شہروں میں درج قدمات میں ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلا نے راولپنڈی ،گوجرانولہ ،میانوالی اور لاہور میں درج آٹھ مقدمات میں حفاظتی ضمانت کے لیے پیر کو درخواستیں دائر کی ہیں۔

    عمران خان کے وکلا کی جانب سے ان درخواستوں پر آج ہی سماعت کی استدعا کی گئی ہے اور عمران خان اس سلسلے میں خود ہائیکورٹ میں پیش ہوں گے۔

  10. آٹھ مقدمات میں عمران خان کی ضمانت منظور، جج کا شامل تفتیش نہ ہونے کی صورت میں اگلی سماعت پر فیصلہ سنانے کا اعلان, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس سپرا نے پیر کو چھ مقدمات میں تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کی ضمانت میں نو دن کی توسیع کرتے ہوئے انھیں متنبہ کیا ہے کہ اگر وہ شامل تفتیش نہ ہوئے تو آئندہ سماعت پر فیصلہ سنا دیا جائے گا۔

    ادھر ایڈیشنل سیشن جج فرخ فرید نے بھی دو مقدمات میں عمران خان کی عبوری ضمانت میں 19 جولائی تک کے لیے ہی توسیع کی ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی پیر کو پہلے تھانہ شہزاد ٹاؤن میں درج دو مقدمات کے سلسلے میں جج فرخ فرید کی عدالت میں ہیش ہوئے عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ ان کے موکل اتوار کو شامل تفتیش ہوئے ہیں اور اس معاملے پر اب دلائل کی ضرورت ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’چھ مقدمات اگر ختم ہوتے ہیں تو نو اور مزید شامل ہو جاتے ہیں۔‘ عمران خان کے وکلا کی ٹیم کے رکن شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ عمران خان کو پیر کو 19 مقدمات میں پیش ہونا ہے۔ مختصر سماعت کے بعد عدالت نے عمران خان کی ضمانت میں 19 جولائی تک کے لیے توسیع کر دی۔

    ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس سپرا کی عدالت میں چیئرمین پی ٹی آئی اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی کے ہمراہ آئے۔ بشری بی بی تھانہ کوہسار میں درج ایک مقدمے میں پیش ہوئیں جبکہ اس عدالت میں عمران خان کے خلاف درج چھ مختلف مقدمات کی سماعت بھی ہوئی۔

    سماعت کے آغاز پر عمران خان کے وکیل شیر افضل مروت نے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہونا ہے اس لیے سماعت بعد میں کر لیں۔ اس پر جج طاہر سپرا نے ان سے سوال کیا کہ آیا وہ آج حتمی دلائل دیں گے؟ اس پر شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ’جی دیں گے، ابھی اسلام آباد ہائیکورٹ جانے دیں‘۔

    ایڈیشنل سیشن جج نے سوال کیا کہ دیگر مقدمات میں کیا تاریخ ہوئی ہے جس پر شیر افضل مروت نے عدالت کو بتایا کہ ’19 جولائی کی تاریخ پراسیکیوشن کی رضامندی سے ہوئی‘۔ اس موقع پر وکیلِ استغاثہ نے عدالت سے درخواست کی کہ عمران خان کے خلاف چھ مقدمات ’الگ نوعیت کے ہیں اس لیے منگل یا بدھ کو سماعت مقرر کی جائے۔‘

    عمران خان کے وکلا کی ٹیم کے رکن سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ یہ عدالت جن مقدمات کی سماعت کر رہی ہے ان میں سے چند میں عمران خان کا شاملِ تفتیش ہونا باقی ہے۔ ’اےٹی سی کے مقدمات سب سے ہرانے ہیں، ان میں شاملِ تفتیش ہو چکے ہیں‘۔ اس پر جج طاہر سپرا نے کہا کہ انسانی قوت کے مطابق ایک دن میں تمام مقدمات میں شاملِ تفتیش ہونا ممکن نہیں۔ تاہم انھوں نے متنبہ کیا کہ اگر عمران یا اگلی سماعت تک شامل تفتیش نہ ہوئے تو آئندہ سماعت پر فیصلہ سنا دیا جائے گا۔

    بعدازاں جج نے 19 جولائی تک ہی عمران خان کی عبوری ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے سماعت اسی تاریخ تک کے لیے ملتوی کر دی۔

  11. ’استغاثہ ایسی تفتیش کرے کہ انصاف ہو‘: انسدادِ دہشت گردی کے تین مقدمات میں عمران خان کی ضمانت میں توسیع, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    اسلام آباد میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے تین مقدمات میں تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کی عبوری ضمانت میں 19 جولائی تک کے لیے توسیع کر دی ہے۔

    عمران خان پیر کی صبح انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوئے جہاں تھانہ کھنہ اور تھانہ بھارہ کہو میں درج تین مقدمات کی سماعت ہوئی اور انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے ان مقدمات کی سماعت کی۔

    سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف ٹائر جلانے پر مقدمات درج ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان سارے مقدمات میں مدعی، گواہ، تفتیشی پولیس ہی اور اس صورتحال میں انھیں صرف عدالت سے ہی انصاف کی امید ہے۔

    سلمان صفدر نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کے تحت تینوں مقدمات کی تفتیش کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ استغاثہ ایک ہی بات کرتا رہا کہ عمران خان شاملِ تفتیش نہیں ہو رہے مگر کیا انھیں آج تک شامل تفتیش ہونے کا کہا بھی گیا؟ سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ ’عدالت نے حکم دیا اور چیئرمین پی ٹی آئی شاملِ تفتیش ہو گئے‘۔

    جج ابوالحسنات نے ریمارکس دیے کہ تفتیش بروقت اور جامع ہونی چاہیے اور اگر ملزم بےگناہ ہے تو انصاف دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کسی فریق کا ساتھ نہیں دیتی اور استغاثہ ایسی تفتیش کرے کہ انصاف ہو اور وہ نہیں چاہتے کہ روایتی انداز میں کیس چلے۔

    بعدازاں عدالت نے وکیل صفائی کی درخواست منظور کرتے ہوئے عبوری ضمانت میں 19 جولائی تک کے لیے توسیع کر دی۔

  12. بریکنگ, ’عمران خان کا پراکسیوں کے ذریعے آرمی چیف کو قاتلانہ حملے کی دھمکیوں کا منصوبہ بے نقاب ہو گیا‘: شہباز شریف '

    Shehbaz Sharif

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے خلاف مذموم اوربدنیتی پر مبنی مہم میں مصروف ہیں، ان کا دوسروں کے ذریعے آرمی چیف جنرل کو قاتلانہ حملے کی دھمکیاں دینے کا منصوبہ بری طرح بے نقاب ہو چکا ہے۔

    ٹوئٹر پر جاری اپنے ایک بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’عمران خان آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کے خلاف ایک گھٹیا، مذموم اور بدنیتی پر مبنی مہم میں مصروف ہیں۔ آرمی چیف کو قاتلانہ حملے کی دھمکی دینے کے لیے پراکسیوں کا استعمال کرنے کی ان کی چال بری طرح بے نقاب ہو چکی ہے۔ ریاستی اداروں کے ذمہ داران پر اس کے طریقہ کار سے منصوبہ بند حملے کے ناکام ہونے کے بعد، وہ واضح طور پر بے چین ہے اور دوبارہ اقتدار میں آنے کے لیے کوشاں ہیں۔‘

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’انھیں علم نہیں کہ ان کی دھمکی، تشدد اور نفرت کی سیاست کا وقت ختم ہو گیا ہے، ایسی قابل مذمت حرکات کے ذریعے وہ صرف اپنے آپ کو بے نقاب کر رہے ہیں، مہم کا بنیادی مقصد ذاتی مفاد اوراقتدار پر قبضے کو ہر چیزپر ترجیح دینا ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستانی عوام اور سیاسی جماعتیں اپنے آرمی چیف اور مسلح افواج کے پیچھے چٹان کی طرح کھڑے ہیں، افواج کے وقار، عزت اور سالمیت کو مجروح کرنے کی کسی بھی کوشش اور سازش کو ناکام بنائیں گے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  13. دریائے چناب اور راوی سے منسلک نالہ جات میں آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران اونچے درجے کے سیلاب کا امکان

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے چند اضلاع میں وقفے وقفے اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    پی ڈی ایم اے آج لاہور ، راولپنڈی ، جہلم، اٹک، چکوال، نارووال، سیالکوٹ اور گوجرانوالہ میں تیز ہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے چناب اور راوی سے منسلک نالہ جات میں آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ہے۔ دریائے راوی میں جسر کے مقام پر درمیانے سے اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ آج سے 10جولائی کے دوران ڈی جی خان ڈویژن کے پہاڑی علاقوں سےمنسلک ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے ۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے عمران قریشی نے ہدایات کی ہیں کہ دریائے راوی اور چناب سے منسلک تمام اضلاع ریلیف کیمپس کا قیام بروقت یقینی بنائیں اور ممکنہ نشیبی علاقوں میں بسنے والے افراد اور مویشیوں کا انخلا بروقت یقینی بنایا جائے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ تمام ادارے ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیاریاں مکمل رکھیں۔ مشینری اور عملے کو ہائی الرٹ رکھا جائے۔

    انھوں نے کہا کہ بروقت اقدامات کرکے ہی نقصانات ست بچا جا سکتا ہے۔ شہری دریاؤں اور ندی نالوں کے قریب جانے سے گریز کریں۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے عمران قریشی نے سیالکوٹ کا بھی دورہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر عدنان محمود اعوان کے ہمراہ سیلاب کی صورت میں ریسکیو اینڈ ریلیف کے لیے تیاریوں کا جائزہ لیا۔

    انھوں نے نالہ بھیڈ اور اربن فلڈ ریلیف کیمپس کا معائنہ بھی کیا۔اس موقعے پر انھوں نے کہا کہ حکومت پنجاب اور ضلعی انتظامیہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

    انھوں بے بتایا کہ ہیڈ مرالہ سے 11 لاکھ کیوسک پانی گزرنے کے گنجائش ہے۔

    ان کا ممئد کہنا تھا کہ تمام اضلاع کو سیلاب میں استعمال ہونے والا ضروری مشینری / آلات اور خیمہ جات فراہم کر دیے گئے ہیں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال پر قابو پانے کے لیے تمام تر انتظامات مکمل ہیں۔

  14. انڈیا کی جانب سے اُجھ بیراج سے پانی کا ریلہ چھوڑے جانے کے بعد دریائے راوی پر ہائی الرٹ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پاکستان کمیشن انڈس واٹر کے مطابق، انڈیا کی جانب سے تقریباً 185,000 کیوسک پانی کا ریلہ جھ بیراج (دریائے راوی) سے چھوڑا جا چکا ہے۔

    این ڈی ایم اے کے بیان کے مطابق پچھلے سال انڈیا نے173ہزار کیوسک چھوڑا تھا جبکہ چھوڑے گئے پانی کا تقریباً ایک تہائی یعنی 60 ہزار کیوسک جسر تک پہنچا تھا جس کیوجہ سے (دریائے راوی پر گیجنگ پوائنٹ) پر پانی کا بہاؤ تیز ہو گیا تھا۔

    این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ’پچھلے ریکارڈ پر کو مدنظر رکھتے ہوئے، تقریباً 65,000 کیوسک اگلے 20-24 گھنٹوں کے اندر پہنچنے کا امکان ہے۔ جس کے باعث جسر کے مقام پر دریائے راوی میں کم نوعیت سیلابی کیفیت متوقع ہے۔‘

    این ڈی ایم اے کی ہدایت پر متعلقہ انتظامیہ 20 جولائی تک حسّاس علاقوں خاص طور پر دریائے چناب پر مرالہ ہیڈ ورکس اور دریائے راوی میں جسر کے مقام پر مانیٹرنگ جاری ہے۔

    عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ بارشوں کی پیشرفت اور تازہ ترین صورتحال سے مسلسل آگاہ رہیں۔

  15. توشہ خانہ کیس کو قابل سماعت قرار دینے کا فیصلہ ’تعصب اور بدنیتی‘ ظاہر کرتا ہے، عمران خان

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ توشہ خانہ کیس کو قابل سماعت قرار دینے کا فیصلہ تعصب اور بدنیتی ظاہر کرتا ہے۔

    سوشل میڈیا پر گزشتہ روز اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت کی جانب سے توشہ خانہ کیس کو قابل سماعت قرار دینے کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ’پہلے میرے وکلا کو ہائی کورٹ نے گمراہ کیا کہ ٹرائل کورٹ کے حکم کے خلاف ہماری اپیل منظور کر لی گئی ہے لیکن جب تحریری حکمنامہ آیا تو کیس اسی جج کو واپس بھجوا دیا گیا جس نے ہمارے خلاف اپنا ذہن واضح کر دیا تھا۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’ٹرائل کورٹ کو ہماری اپیل ہر فیصلے کے لیے سات دن کا وقت دیا گیا تھا لیکن اس سے پہلے ہی ہمارے وکلا کو موقع دیے بنا ہی فیصلہ سنا دیا گیا۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’ہمارے وکلا نے سوموار کے دن سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی کیوں کہ ریمانڈ آرڈر سپریم کورٹ کے سامنے پیشی کے لیے طے ہونے والا تھا۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’ٹرائل جج کے خلاف ہماری درخواست کو بھی نہیں سنا گیا جو کہ شفاف انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’میرے خلاف تعصب کی روایت ظاہر ہوتی ہے اور کوشش ہے کہ مجھے نااہل قرار دے کر سیاسی میدان سے باہر کر دیا جائے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  16. مون سون کی بارشیں: سیلاب کے امکانات کے حوالے سے حسّاس علاقوں میں انتظامیہ الرٹ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے کے مطابق ممکنہ موسمی صورتحال مختلف موسمیاتی ماڈلز کیمطابق شمالی/شمال مشرقی پنجاب بشمول لاہور، سیالکوٹ و نارووال میں شدید گرج چمک کیساتھ تیز بارش کا امکان ہے۔

    سندھ میں کراچی، تھرپارکر، سکھر، لاڑکانہ، حیدر آباد، بدین، بینظیر آباد میں گرج چمک کیساتھ تیز بارش کا امکان ہے۔

    ادارے کے مطابق بارش کے خطرے سے دوچار علاقوں کی انتظامیہ 20 جولائی تک سیلاب کے امکانات کے حوالے سے حسّاس علاقوں خاص طور پر دریائے چناب پر مرالہ ہیڈ ورکس اور دریائے راوی میں جسر کے مقام پر مانیٹرنگ جاری رکھے گی۔

    ادارے نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ’محتاط رہیں اور محفوظ رہیں۔‘

    سماجی رابطے لیح سائٹ ٹوئٹر پر این ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ ’عوام کو بارشوں کی پیشرفت اور تازہ ترین صورتحال سے مسلسل آگاہ رکھیں گے۔‘

    ادارے نے متعلقہ شہروں کی ریسکیو سروسز سے کہا ہے کہ وہ اپنے عملے کی موجودگی کو یقینی بنائیں اور مقامی انتظامیہ سے مسلسل رابطے میں رہیں۔

  17. عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس قابل سماعت قرار، 12 جولائی سے ٹرائل کا آغاز ہو گا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن کی درخواست کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے فوجداری کیس کے ٹرائل کے لیے گواہان کو طلب کر لیا ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کارروائی سے متعلق کیس میں ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے درخواست کو قابل سماعت قرار دے دیا۔

    عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز کے دلائل مکمل ہونے پر درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    عدالت نے توشہ خانہ فوجداری کیس کے ٹرائل کیلئے گواہان کو طلب کر لیا اور اب 12 جولائی سے توشہ خانہ ٹرائل کا آغاز ہو گا۔

    اس سے قبل سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کی آئینی زمہ داری ہےکہ کرپٹ پریکٹس کے خلاف کاروائی کرے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’جرم کی ایکسپائری نہیں ہوتی۔‘ انھوں نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم سمجھتی ہے کہ الیکشن کمیشن کرپٹ پریکٹس پر شکائت دائر نہ کرے جبکہ آئین پاکستان خود کہتا ہے کہ کرپٹ پریکٹس کے خلاف کارروائی کرنی ہے۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو سپیکر قومی اسمبلی نے ریفرنس بھیجا جس کے مطابق سابق وزیر اعظم نے توشہ خانہ سے تحائف لیے جن کو ظاہر نہیں کیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے ریفرنس پر نوٹس لیا اور اس پر قانونی کاروائی کرکے فیصلہ جاری کیا۔

    مقامی عدالت نے عمران خان کے وکیل کو دلائل دینے کا کہا تو عمران خان کے وکیل نے انھیں پیر تک اس مقدمے کی سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی جو عدالت نے مسترد کر دی۔

    جج ہمایوں دلاور نے عمران خان کے وکیل گوہر علی خان سے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے آپ کو اتنا بڑا ریلیف دیا ہے جس پر وکیل گوہر علی خان نے جواب دیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیرمین پی ٹی آئی کو کوئی ریلیف نہیں دیا۔

    گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ مرکزی وکیل خواجہ حارث مصروف ہیں۔ جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیے کہ ’توشہ خانہ کیس پر ہر پاکستانی کی نظر ہے، جب سے یہ کیس آیا ہے میری عدالت میں دیگر کیسز رک گئے ہیں۔‘

    جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیے کہ ’آج کے علاوہ آپ کو کوئی تاریخ نہیں دی جائے گی۔‘

  18. قومی ٹیم کی کرکٹ ورلڈ کپ میں شرکت کے معاملے پر ہائی پروفائل کمیٹی تشکیل دے دی گئی, شہزاد ملک/ بی بی سی اردو، اسلام آباد

    قومی ٹیم کی کرکٹ ورلڈ کپ میں شرکت کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف ہائی پروفائل کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

    وزارت اطلاعات و نشریات کے حکام کے مطابق ہائی پروفائل کمیٹی پاکستان کے ورلڈ کپ میں شرکت بارے فیصلہ کرے گی۔

    کمیٹی انڈیا میں ورلڈ کپ سے متعلق تمام امورپر سفارشارت مرتب کرے گی جن کی روشنی میں ورلڈ کپ میں شرکت کا فیصلہ کیا جائے گا۔ حتمی سفارشات منظوری کے لیے وزراعظم کو بھجوائی جائیں گی۔

    کمیٹی کے سربراہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری ہوں گے جبکہ دیگر ممبران میں رانا ثنا اللہ، اعظم نزیر تارڑ، احسان مزاری، مریم اورنگزیب، اسد محمود، امین الحق، قمر زمان کائرہ، طارق فاطمی شامل ہیں جبکہ قومی سلامتی کے اداروں کے سربراہان ،سیکرٹری خارجہ بھی ہائی پروفائل کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔

    واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی ٹیم کی ورلڈ کپ میں شرکت حکومتی اجازت سے مشروط کر دی ہے جبکہ کرکٹ ورلڈ کپ پانچ اکتوبر سے انڈیا میں شروع ہوگا جبکہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ٹاکرا 15 اکتوبر کو احمد آباد میں شیڈول ہے۔

  19. آئی ایم ایف معاہدے کی حمایت الیکشن تک کے لیے کر رہے ہیں، عمران خان

    عمران خان نے آئی ایم ایف وفد سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ کارکنوں اور لیڈر شپ کی گرفتاریوں کے باوجود ملک کی خاطر آئی ایم ایف اور حکومت کے معاہدے کی حمایت کر رہے ہیں کیوں کہ ’تین ارب ڈالر نہ ملنے کی صورت میں ملک کو ڈیفالٹ کا سامنا ہے۔‘

    عمران خان نے خطاب میں کہا کہ ’اگر تین ارب ڈالر کا قرضہ نہیں ملتا تو ملک کو ڈیفالٹ کا خدشہ ہے۔ اگر پاکستان ڈیفالٹ کر جاتا ہے تو مہنگائی اور زیادہ ہو جائے گی۔‘

    ’ہم نے آئی ایم ایف کو کہا کہ ہم اس وقت تک اس معاہدے کی حمایت کرتے ہیں جب تک الیکشن کے بعد نئی حکومت نہیں آ جاتی جو پھر سے آئی ایم ایف سے بات چیت کرے گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ایف اے ٹی ایف کے وقت ہماری مدد نہیں کی لیکن آج ’ہم حکومت کی مدد کر رہے ہیں کیوں کہ آئی ایم ایف کو تمام جماعتوں کا اتفاق رائے چاہیے۔‘

    ’ہم صرف ملک کی وجہ سے مدد کر رہے ہیں حالانکہ ہمارے دس ہزار کارکن جیل میں ہیں۔ ہماری لیڈر شپ پر کیس ہیں۔‘

    ’اس کے باوجود کیوں کہ ہمارے ملک کو نقصان نہ ہو، ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم آئی ایم ایف سے سٹینڈ بائی ایگریمنٹ کی حمایت کرتے ہیں تب تک جب تک الیکشن نہیں ہوتے۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’آئی ایم ایف کو بتایا کہ جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں آ جاتا، معاشی استحکام نہیں آ سکتا۔‘

  20. آئی ایم ایف وفد کی عمران خان سے ملاقات: ’حکومت اور آئی ایم ایف معاہدے کے مجموعی مقاصد کی حمایت کرتے ہیں‘

    تحریک انصاف نے آئی ایم ایف اور حکومت کے درمیان تین ارب ڈالر کی معاشی امداد کے قلیل مدتی معاہدے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’معاشی استحکام اور قانون کی حکمرانی ملک کے معاشی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔‘

    تحریک انصاف رہنما حماد اظہر نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا کہ آئی ایم ایف کا وفد چیئرمین عمران خان کی رہائش گاہ پر ان سے ملا جس میں آئی ایم ایف کے نیتھن پورٹر نے واشنگٹن سے ورچوئل شرکت کی جبکہ نمائندہ ایستھر پریز خود موجود تھیں۔

    تحریک انصاف کی جانب سے اس ملاقات میں شاہ محمود قریشی، حماد اظہر، شوکت ترین، عمر ایوب خان، ڈاکٹر ثانیہ نشتر، تیمور جھگڑام شبلی فراز اور مزمل اسلم شامل تھے۔ یہ ملاقات ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی۔

    ان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف اور حکومت کے درمیان نو ماہ کے لیے تین ارب ڈالر کے سٹینڈ بائی معاہدے پر بات چیت ہوئی اور ’اس تناظر میں ہم اس معاہدے کے مجموعی مقاصد اور اہم پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں۔‘

    حماد اظہر نے کہا کہ ’ہم اس سال الیکشن سے قبل اور نئی حکومت کے قیام سے پہلے اس معاہدے کے ذریعے میکرو اکنامک استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کو سراہتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا ’ہم مہنگائی سے متاثر نچلے طبقے کو تحفظ فراہم کرنے کی کوششوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’آئین کے تحت آزادانہ اور بروقت انتخابات کے انعقاد کے بعد عوام کے مینڈیٹ سے آنے والی نئی حکومت اصلاحات کا آغاز کرے گی اور طویل المدتی بنیادوں پر بین القوامی اداروں کے ساتھ معاشی ترقی کے لیے کام کرے گی۔‘

    اس سے قبل حماد اظہر نے بتایا تھا کہ ’پاکستان تحریک انصاف سے چند روز پہلے آئی ایم ایف کی ٹیم نے رابطہ کیا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ نو ماہ کا سٹینڈ بائی معاہدے کا مسودہ اگلے ہفتے آئی ایم ایف کے بورڈ کے سامنے واشگنٹن میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا اور اس سلسلے میں تحریک انصاف سے معاہدے کی حمایت کے لیے درخواست کی گئی ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام