فوج اور آئی ایس آئی کے دفاتر میں توڑ پھوڑ کے تین مقدمات میں سابق وزیراعظم عمران خان بھی نامزد

راولپنڈی پولیس نے نو مئی کو جی ایچ کیو کا گیٹ اور شیشے توڑنے اور حمزہ کیمپ میں آرمی املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات کے تحت پہلے سے درج دو مختلف مقدمات میں سابق وزیراعظم عمران خان کو نامزد کر دیا ہے۔ دوسری جانب گوجرانوالہ کے کینٹ تھانہ میں چیئرمین عمران خان کو چھاؤنی کے مرکزی دروازے پر توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے مقدمہ میں ملزم نامزد کر دیا گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. کیا حاملہ ماں کو دیکھ کر بتایا جا سکتا ہے کہ لڑکی ہو گی یا لڑکا؟

  2. پشاور: افغان بچوں کی مدد کرنے والا سکول

  3. ’یونان کشتی حادثہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے، سادہ لوح غریب شہریوں کو بیرون ملک ملازمت کا جھانسہ دیا جاتا ہے‘، چیف جسٹس عمر عطا بندیال

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بچوں کی انسانی سمگلنگ سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ یونان میں ہونے والا کشتی حادثہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’سادہ لوح غریب شہریوں کو بیرون ملک ملازمت کا جھانسہ دیا جاتا ہے۔ شہری انسانی سمگلروں کے دھوکے میں آ کر لاکھوں روپے ادا کرتے ہیں۔

    ’ملک میں خواتین اور بچوں کی بھی انسانی سمگلنگ ہو رہی ہے۔ کیا حکومت کے پاس بچوں کی سمگلنگ کے اعداد و شمار ہیں؟ ڈی جی وزارت انسانی حقوق نے جواب دیا کہ ’بدقسمتی سے درست اعداد و شمار موجود نہیں۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’انسانی سمگلنگ کے حوالے سے بنائے گئے 2018 کے قانون میں ابہام ہے۔ بنیادی مسئلہ قوانین پر عملدرآمد کے لیے سپیشلسٹ فورس نہ ہونا بھی ہے۔ انسانی سمگلنگ روکنے کا کام بھی پولیس کے ذمہ تھا۔

    ’سپریم کورٹ نے صوبائی حکومتوں کو بھی انسانی سمگلنگ روکنے کیلئے کردار ادا کرنے کا کہا تھا۔‘

  4. ایف آئی اے اور پولیس کے پاس بابر اعوان کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں: اسلام آباد ہائی کورٹ میں رپورٹ جمع

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کے رہنما بابر اعوان کی مقدمات کی تفصیلات فراہمی کے لیے درخواست پر سماعت کے دوران پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی اے اور پولیس کے پاس بابر اعوان کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ’بابر اعوان کے خلاف ایف آئی اے سمیت کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے میں کوئی مقدمہ درج نہیں۔

    ’بابر اعوان کے خلاف کوئی انکوائری بھی زیر التوا نہیں ہے۔‘

    درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے استدعا کی گئی ہے کہ بابر اعوان کے خلاف کسی نئی کارروائی کا آغاز ہو توعدالت کو آگاہ کیا جائے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق کے ریمارکس عدالت نے سرکاری وکیل کو تمام تفصیلات درخواست گزار کے وکیل کو بھی فراہم کرنے کا حکم دے دیا اور تفصیلات فراہم کیے جانے پر عدالت نے بابر اعوان کی درخواست نمٹا دی۔

  5. فوجی عدالتوں میں شہریوں کا ٹرائل: ’بینچ میں شامل کرنے سے پہلے مجھ سے مشاورت نہیں کی گئی تھی‘، جسٹس سردار طارق مسعود

    judges

    ،تصویر کا ذریعہSupreme Court

    سپریم کورٹ نےسویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے معاملے پر پہلی سماعت کے حوالے سے مکمل حکمنامہ جاری کر دیا ہے جس میں جسٹس سردار طارق مسعود کا نوٹ بھی موجود ہے۔

    جسٹس سردار طارق مسعود نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے بینچ سے علیحدگی اختیار کی تھی۔ انھوں نے اپنے نوٹ میں کہا کہ بینچ میں شامل کرنے سے پہلے مجھ سے مشاورت نہیں کی گئی تھی۔

    جسٹس فائز عیسی کے موقف سے متفق ہوں اور تحفظات کے باوجود جیلوں میں پڑے شہریوں کی اپیلیں سن رہا ہوں۔ پانامہ کیس اس وجہ سے سنا کہ پانچ رکنی بینچ اسے قابل سماعت قرار دے چکا تھا۔

    جسٹس سردار طارق نے اپنے نوٹ میں یہ بھی کہا کہ ’درخواستوں کے مقرر ہونے سے پہلے درخواست گزار اور ان کے وکیل نے چیف جسٹس سے چیمبر میں ملاقات کی اور ملاقات کے اگلے روز درخواستوں کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا گیا۔

    ’اس طریقہ کار کی اجازت دی جائے تو کیا سالوں سے زیر التوا مقدمات میں درخواست گزاروں کو چیف جسٹس سے ملنے کی اجازت ہو گی؟‘

    ’اگر کسی جج پر اعتراض کی معقول وجہ ہو تو بینچ سے الگ ہو جانا چاہیے‘، جسٹس منصور علی شاہ کا نوٹ

    جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے نوٹ میں کہا ہے کہ ’اعتراض کی صورت میں جج کے ساتھ ساتھ ادارے کی ساکھ کا بھی معاملہ ہوتا ہے۔

    ’انصاف کی فراہمی کی غیر جانبداری مصنوعی نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں ہونی چاہیے۔‘

    ان کا اپنے نوٹ میں مزید کہنا تھا کہ ’ظاہری اور حقیقی غیر جانبدارانہ انصاف عوامی اعتماد اور قانون کی حکمرانی کے لیے ضروری ہے۔

    ’عدالتی غیر جانبداری سے عوامی اعتماد، شفاف ٹرائل، قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کی بقا برقرار رہتی ہے۔ عدالتی نظام میں غیر جانبداری اخلاقی نہیں بلکہ عملی ہونی چاہیے۔‘

    جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ ’عدالتی نظام میں حقیقی غیر جانبدارانہ سے جمہوری روایات اور شہریوں کی بنیادی حقوق کی حفاظت ہوتی ہے۔

    ’اگر کسی جج پر اعتراض کی معقول وجہ ہو تو عوامی اعتماد برقرار رکھنے کے لیے بینچ سے الگ ہو جانا چاہیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں تسلیم کرتا ہوں کہ جواد ایس خواجہ میرے عزیز ہیں۔ ایک عام شہری کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ درخواست گزار نے درخواست عوامی مفاد میں دائر کی یا ذاتی مفاد میں۔

    ’میں اعتراض کو ترجیح دیتے ہوئے خود کو بینچ سے علیحدہ کر رہا ہوں۔‘

  6. جعلی ڈگری کیس: چیف کورٹ گلگت بلتستان نے وزیراعلی خالد خورشید کو نااہل قرار دے دیا

    جعلی ڈگری کیس میں چیف کورٹ گلگت بلتستان نے وزیر اعلی خالد خورشید کو نا اہل قرار دے دیا ہے۔

    خالد خورشید سابق حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے دور میں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان بنے تھے۔

    جعلی ڈگری کے معاملے میں تین رکنی بینچ نے خالد خورشید کو نااہل قرار دیا۔

  7. کیا ڈالر کی قدر میں بڑی کمی حقیقی ہے اور مستقبل میں یہ رجحان برقرار رہ پائے گا؟

  8. بریکنگ, عمران خان کی وکیل کے قتل کے مقدمے میں 14 روزہ حفاظتی ضمانت منظور

    IK

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی وکیل کے قتل کے مقدمے میں 14 روز کی حفاظتی ضمانت منظور کر لی ہے۔

    عدالت نے چودہ روز میں متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کوئٹہ کا موسم کیسا ہے؟

    عدالت نے استفسار کیا کہ کیا یہ کیس سپریم کورٹ میں بھی زیر التواء ہے۔ جس پر عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں اخراج مقدمہ کی درخواست ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی عدالت میں پیشی کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین سے پوچھا گیا کہ ’خانصاحب پیشیاں بھگت بھگت کر تھک تو نہیں گئے؟ جس پر انھوں نے جواب دیا کہ ابھی تو میرا سٹیمنا شروع ہوا ہے۔

    اسٹبلشمنٹ سے کوئی رابطے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ فی الحال کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے ،نہ ہی رابطہ ہوا ہے۔

    وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کو نااہل کرنے سے متعلق سوال پر عمران خان کا کہنا تھا کہ ’سمجھ جاؤ، اس کے پیچھے کون ہے۔ میرے وزرائے اعلیٰ میں سب سے بہترین خالد خورشید تھا۔‘

  9. عمران خان کے خلاف متفرق چھ مقدمات میں 10 جولائی تک عبوری ضمانت میں توسیع

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف متفرق چھ مقدمات میں اسلام آباد کی مقامی عدالت نے 10 جولائی تک عبوری ضمانت میں توسیع دے دی ہے۔

    منگل کو جوڈیشل کمپلیکس میں مقدمات کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس سپرا نے کی۔ وکیل شیر افضل مروت عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

    وکیل شیر افضل مروت نے عدالت پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان مقدمات میں عدالت اپنا مائنڈ ڈسکلوز کر چکی ہے۔ ان کیسز میں شریک دو ملزمان کی حد تک عدالت فیصلہ سنا چکی ہے۔

    عدالت نے وکیل کے اعتراض پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب شریک ملزمان کی طرف سے آپ پیش ہوئے تو آپ نے کبھی اعتراض نہیں کیا۔ آپ کو پہلے بتانا چاہیے تھا کہ فیصلہ ایک ساتھ سنایا جائے۔

    مقامی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ کیس میں ملزم کا رول بھی دیکھنا ہوتا ہے۔

    جس پر وکیل شیر افضل نے کہا کہ اسد قیصر ، اسد عمر اور شاہ محمود قریشی اور عمران خان کی ضمانتوں کا اکٹھے فیصلہ ہونا چاہیے تھا۔ اگر عدالت کا فیصلہ نہ آیا ہوتا اعتراض نہ اٹھاتے۔

    اس پر جج نے ریمارکس دیے کہ ’اگر آپ کے کوئی خدشات ہیں تو وہ آپ کے ہیں میں خدا کے سامنے جوابدہ ہوں۔‘

    سماعت کے دوران عمران خان روسٹرم پر آئے اور عدالت سے کہا کہ ’نیچے عدالتوں میں مزید کیسز بھی ہیں اگر حاضری لگا لیں تو مجھے اجازت دے دیں۔‘

    عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی چھ مقدمات میں 10 جولائی تک عبوری ضمانت میں توسیع کر دی۔

  10. بریکنگ, پی ٹی آئی دورِ حکومت میں 29 افراد کو فوجی عدالتوں سے سنائی گئی سزائیں سپریم کورٹ میں چیلنج

    Army Courts

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پی ٹی آئی دور حکومت میں 29 افراد کو فوجی عدالتوں سے سنائی گئی سزاؤں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا

    اس سزاؤں کو چیلنج کرنے کی درخواست کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کی جانب سے آرٹیکل 184(3) کے تحت دائر کی گئی ہے۔

    درخواست میں وفاق پاکستان، سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو فریق بنایا گیا ہے۔

    سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید، جیگ برانچ اور چاروں صوبوں کی ہائیکورٹس کے رجسٹرار کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں 29 شہریوں کو فوجی عدالتوں سے سنائی گئی سزائیں ختم کی جائیں۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت قرار دے کہ عمران خان، جنرل باجوہ اور جنرل فیض نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے خلاف قانون شہریوں کو اغوا کیے رکھا۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ 29 شہریوں کو غیر قانونی طور پر سزائیں سنانے پر سابق وزیراعظم، سابق آرمی چیف اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف کارروائی کی جائے اور جیگ برانچ سے 29 شہریوں کو دی جانے والی سزاؤں کا ریکارڈ طلب کیا جائے۔

    درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ چاروں صوبوں کی ہائیکورٹس کے رجسٹراروں کو بھی متعلقہ ریکارڈ عدالت میں پیش کرنے کا حکم جاری کیا جائے۔ اور پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت سزائیں پانے والوں اور زیر التوا مقدمات کا ریکارڈ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔

    درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ ایک شہری کو 2020 میں سزائے موت، جبکہ ایک کو 20 سال قید کی سزا سنائی گئی۔دیگر ملزمان کو فوجی عدالتوں نے پانچ سے دس سال کی سزائیں سنائیں۔

  11. بریکنگ, توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں 13 جولائی تک توسیع

    توشہ خانہ کیس اور القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی 13جولائی تک عبوری ضمانت میں توسیع کر دی گئی ہے۔

    اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے نو مقدمات میں عمران خان کی عبوری ضمانت میں دس جولائی تک توسیع کر دی ہے اور عدالت نے عمران خان کو ان مقدمات میں شامل تفتیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

  12. القادر ٹرسٹ کیس: نیب کی احتساب عدالت سے عمران خان کی ضمانت خارج کرنے کی استدعا

    judicial complex

    نیب کی جانب سے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر سے چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان کی ضمانت خارج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

    نیب پراسکیوٹر سردار مظفر عباسی کی جانب سے استدعا کی گئی ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عدالتی حکم پر ابھی تک پیش نہیں ہوئے اس لیے ان کی ضمانت خارج کی جائے۔

    نیب پراسکیوٹر کا کہنا تھا کہ ’چیئرمین پی ٹی آئی کو اب تک عدالت میں ہونا چاہیے تھا، وہ نیب میں شامل تفتیش بھی نہیں ہو رہے اور نہ ہی کورٹ میں آ رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’عمران خان کو پانچ نوٹس کیے مگر وہ صرف دو بار شامل تفتیش ہوئے۔ عدالت عدم حاضری پر چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت خارج کرے۔ ‘

    عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے دلائل کے لیے مزید وقت دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’آج ہم نے دیگر عدالتوں میں بھی پیش ہونا ہے۔ ضمانتوں کی درخواست پر دلائل آئندہ تاریخ پر دوں گا۔

    انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتوں میں توسیع کی جائے۔

  13. وکیل قتل کیس: عمران خان کے وکیل نے تین رکنی بینچ تشکیل دینے سے متعلق سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی

    سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے وکیل قتل کیس میں تین رکنی بینچ تشکیل دینے سے متعلق سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے کیس میں حکم امتناع جاری کرنے پر بے بسی کا اظہار کیا ہے۔ دو رکنی بینچ نے تجویز دی کہ تین رکنی بینچ کے لیے چیف جسٹس کو درخواست دی جائے۔‘

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’معاملہ حساس اور فوری سماعت کا متقاضی ہے اور ان کے مؤکل یعنی عمران خان کے خلاف سخت اقدامات اور گرفتاری کا خدشہ ہے۔‘

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’فریقین اپنے مقاصد میں کامیاب ہوئے تو موکل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا لہٰذا معاملے کو دیکھتے ہوئے فوری تین رکنی بینچ تشکیل دے کر آج ہی سماعت کی جائے۔‘

  14. نیپرا نے بجلی کی قیمت میں 1 روپے 25 پیسے اضافے کی منظوری دے دی, تنویر ملک، صحافی

    electricity

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نیپرا نے بجلی کی قیمت میں ایک روپے 25 پیسے اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ نیپرا کے مطابق فیصلہ ڈسکوز کے مالی سال 23-2022 کی تیسری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا فیصلے کا اطلاق جولائی، اگست اور ستمبر 20‬23 کے بلوں پر ہو گا۔

    نیپرا اتھارٹی نے ڈسکوز کی درخواست پر 24 مئی کو عوامی سماعت کی تھی۔ اس سے قبل جون تک صارفین سے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس کی مد میں 47 پیسے چارج کیا جا رہے تھے۔

    فیصلے کا اطلاق ڈسکوز کے تمام صارفین ماسوائے لائف لائن صارفین پر ہوگا۔ فیصلے کا اطلاق کےالیکٹرک صارفین پر بھی نہیں ہو گا۔

  15. وکیل قتل کیس: ’دو رکنی بینچ کے پاس عبوری ریلیف دینے کا اختیار نہیں، لارجر بینچ کے لیے چیف جسٹس سے استدعا کریں‘، جسٹس اعجاز الحسن, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

    چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے کوئٹہ میں وکیل کے قتل میں نامزدگی کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الحسن اور جسٹس عائشہ ملک پر مبنی دو رکنی بینچ نے عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے پاس ’عبوری ریلیف دینے کا اختیار نہیں ہے، لارجر بینچ بنوانے کے لیے چیف جسٹس سے رجوع کر لیں۔‘

    عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے اپنے دلائل میں کہا کہ کوئٹہ میں عبد الرزاق نامی وکیل کو قتل کیا گیا اور ابھی کوئی قانونی کارروائی ہی نہیں ہوئی تھی کہ تمام ٹی وی چینلز پر بتایا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی قاتل ہے۔

    اس پر بینچ میں شامل جسٹس عائشہ ملک آپ ٹی وی نیٹ ورک کو چھوڑیں بتائیں ایف آئی آر میں کیا لکھا ہے۔ جس پر لطیف کھوسہ نے ایف آئی آر پڑھ کر سنائی۔

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ عمران خان ایک سال سے لاہور میں ہیں اور ان کی سکیورٹی ادارے کڑی نگرانی کر رہے ہیں۔ مقدمے میں ایسے کوئی شواہد بھی نہیں اور عمران خان کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    انھوں نے عدالت کو بتایا کہ مذکورہ سماعت سے ایک روز قبل وکیل کو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے صبح 9:20 پر آتشی اسلحے سے اندھا دھند فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا اور ان کے بیٹے کے مطابق ان کے والد کو چیئرمین تحریک انصاف کی ایما پر قتل کیا گیا۔

    جسٹس عائشہ ملک نے سوال کیا کہ مقدمہ میں دہشتگردی کی دفعات لگتی ہیں یا نہیں فیصلہ کون کرتا ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ’دہشتگردی کے دفعات لگانے کا ابتدائی طور پر فیصلہ تو ایس ایچ او کرتا ہے۔ مقدمہ میں غلط دفعات لگائی جائیں تو قانونی فورم موجود ہے۔

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ غلط دفعات لگانے پر اے ٹی اے کورٹ میں درخواست دی جاتی۔ مقدمہ میں جے آئی ٹی بھی بنا دی گئی ہے۔ صرف مقدمہ درج ہونے پر ہی گرفتاری نہیں کی جا سکتی۔

    جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ’ابھی تحقیقات چل رہی ہیں، آپ کے دلائل اپنے خلاف ہی جا رہے ہیں۔

    جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ دو رکنی بینچ کے پاس عبوری ریلیف دینے کا اختیار نہیں ہے۔

    عدالت نے وکیل کو لارجر بنچ کے قیام کی درخواست چیف جسٹس کو پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے عمران خان کے وکیل کی کیس روکنے کی استدعا مسترد کر دی ہے۔

  16. بریکنگ, روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں دس روپے کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    dollar

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں 10 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    عید کی تعطیلات اور بینک تعطیل کے بعد منگل کے روز پہلے کاروباری روز مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر ڈالر کی قیمت میں کمی ریکارڈ کی گئی اور کاروبار کے پہلے چند منٹوں میں ڈالر کی قیمت میں 10 روپے کی کمی ہوئی۔

    انٹر بینک میں اس وقت ڈالر 275.50 پر ٹریڈ ہو رہا ہے جو عید کی تعطیلات سے قبل آخری کاروباری روز 285.50 کی سطح پر بند ہوا تھا۔

    پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے سٹینڈ بائی پروگرام کی منظوری کے بعد ڈالر کی قیمت میں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا اور منگل کے روز کاروبار کے آغاز پر یہ کمی واقع ہوئی۔ ڈیلرز کے مطابق انٹر بینک میں کاروبار کے آغاز پر 10 روپے کی کمی ہوئی اور آگے چل کر اس میں مزید کمی کا امکان ہے۔

  17. بریکنگ, توشہ خانہ کیس: چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست مسترد کرنے کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے توشہ خانہ سے متعلق عمران خان کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے توشہ خانہ فوجداری کیس میں ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے معاملہ واپس ٹرائل کورٹ کو بھجوا دیا ہے۔

    عدالت کی جانب سے ٹرائل کورٹ کو چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل کے دلائل پر دوبارہ فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے اور ٹرائل کورٹ کو سات دن میں عمران خان کی درخواست پر فیصلہ کرنے کا کہا ہے۔

    ایڈشنل سیشن جج نے عمران خان کے خلاف اس مقدمے میں فرد جرم عائد کر رکھی تھی، الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ سے متعلق فوجداری کارروائی کا معاملہ ڈسٹرکٹ کورٹ میں بجھوایا تھا۔

    عدالت نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست منظور کر لی ہے۔ واضح رہے کہ عمران خان نے گذشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔

    عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس میں نیب میں تحقیقات جاری ہیں اور آج وہ اسلام آباد میں نیب کی تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہوں گے۔

  18. توشہ خانہ کیس سمیت عمران خان کن مقدمات میں آج اسلام آباد میں مختلف عدالتوں میں پیش ہوں گے؟

    imran khan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے توشہ خانہ کیس میں نیب کا نوٹس وصول کر لیا ہے جس کے بعد وہ آج نیب کی تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہوں گے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کو توشہ خانہ سے حاصل کیے گئے تحائف کی تعداد اور اگر وہ فروخت کیے گئے ہیں تو ان کی اصل رسیدیں ساتھ لانے کا کہا گیا ہے۔ نیب حکام کے مطابق عمران خان نے بطور وزیر اعظم 108 تحائف حاصل کر رکھے ہیں۔

    نیب نے اس سے قبل چیئرمین پی ٹی آئی کو 26 جون کو توشہ خانہ کیس میں طلب کر رکھا تھا۔ اس دوران چیئرمین پی ٹی آئی نے چار جولائی کو نیب میں شامل تفتیش ہونے کی درخواست کی تھی اور نیب نے درخواست منظور کرتے ہوئے 4 جولائی کو چیئرمین پی ٹی آئی کو طلب کرلیا تھا۔

    عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کو القادر ٹرسٹ کیس کی تحقیقات کے لیے بھی طلب کیا گیا ہے۔ بشریٰ بی بی پہلی مرتبہ نیب کی تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہوں گی جبکہ عمران خان اس معاملے کی تحقیقات کے سلسلے میں اس سے قبل دو مرتبہ نیب کی تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔

    چیئرمین پی ٹی آئی آج اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس میں بھی دس مقدمات میں ضمانتوں میں توسیع سے متعلق مختلف عدالتوں میں پیش ہوں گے۔

    عمران خان کے خلاف توشہ خانہ میں فرد جرم کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست پر فیصلہ سنائے جانے کا امکان ہے۔ نو مئی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد مقامی عدالت نے عمران خان پر فرد جرم عائد کر دی تھی تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے مقامی عدالت کو توشہ خانہ کے معاملے میں مزید کارروائی سے روک دیا تھا۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ عمران خان کی طرف سے اس درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ سنائے گی۔

    دوسری جانب عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف کوئٹہ میں وکیل کے قتل کے مقدمے کی تحقیقات کو اسلام آباد منتقل کرنے کے حوالے سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست کی سماعت بھی آج ہو گی۔

    جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا دو رکنی بینچ اس درخواست کی سماعت کرے گا اور عمران خان کی طرف سے سردار لطیف کھوسہ ان کی نمائندگی کریں گے۔

  19. نیب آرڈیننس میں رات گئے ترمیم: انکوائری کی سطح پر گرفتاری، جسمانی ریمانڈ کی مدت بڑھا کر 30 دن کر دی گئی

    sadiq

    ،تصویر کا ذریعہSenate

    قائم مقام صدر اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے نیا نیب ترمیمی آرڈنینس جاری کر دیا ہے جس میں نیب کو ملزم کی انکوائری کی سطح پر گرفتاری کا اختیار دینے کے ساتھ ساتھ جسمانی ریمانڈ کی مدت 14 دن سے بڑھا کر 30 دن کر دی گئی ہے۔

    خیال رہے کہ موجودہ حکومت نے گذشتہ برس قانون سازی کر کے نیب کو انکوائری کی سطح پر ملزم کی گرفتاری سے روک دیا تھا اور ریمانڈ کی مدت 14 دن سے بڑھا کر 30 دن کرنے کے ساتھ ساتھ نیب کے متعدد اختیارات ختم کر دیے تھے۔

  20. اب نہیں تو کب؟ عاصمہ شیرازی کا کالم