اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی 11 مقدمات میں عبوری ضمانت میں توسیع جبکہ پانچ مقدمات میں چار جولائی تک ضمانت منظور کی ہے۔
یہ مقدمات جوڈیشل کمپلیکس میں توڑ پھوڑ، جوڈیشل میجسٹریٹ زیبا کو دھمکی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر ہنگامہ آرائی اور نو مئی سمیت دیگر واقعات پر درج کیے گئے تھے۔
’9 مئی کی شفاف تحقیقات ہوئیں تو سب سامنے آئے گا‘
سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان نے عدالت کو بتایا کہ ’ہم الیکشن چاہ رہے تھے، انتشار تو نہیں چاہ رہے تھے۔
’میں نے جوش خطابت میں کہا آئی جی صاحب اور جسٹس زیبا آپ کے خلاف ہم لیگل ایکشن لیں گے۔۔۔ (کارکنان کو) ہدایات دی ہوئی تھیں کہ آپ نے کسی انتشار کا حصہ نہیں بننا۔ ہم ریلی نکالتے ہیں، ایک دم سیکشن 144 لگ جاتا ہے۔ لوگوں پر حملہ ہو جاتا ہے۔ میں اسی وقت ریلی کینسل کرتا ہوں تاکہ انتشار نہ ہو، پھر یہ میرے گھر آتے ہیں وارنٹ لے کر، 24 گھنٹے میرا گھر حملے کی زد میں رہتا ہے۔‘
انھوں نے روسٹرم پر آ کر عدالت کو بتایا کہ ’جوڈیشل کمپلیکس میں ہمیں پتہ نہیں کہاں سے لوگ آئے۔ پولیس نے ان پر شیلنگ شروع کردی۔ اوپر سے پولیس والے پتھر پھینک رہے تھے۔ میں تو ضمانت کرانے آیا تھا، ہمیں رپورٹ آئی کہ اندر ماحول ہی کچھ اور بنا ہوا ہے۔ ہمیں پتہ چلا آئی ایس آئی نے جوڈیشل کمپلیکس کا فلور ٹیک اوور کر رکھا ہے۔
’9 مئی پر بھی آزاد انکوائری ہوگی تو پتہ چلے گا، ہمارے پاس ویڈیوز ہیں کہ پولیس نے خود اپنی گاڑیاں جلائیں۔‘
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ’9 مئی کی صاف شفاف تحقیقات ہوئیں تو سب سامنے آئے گا۔ ہمارے لوگوں نے یہ حملہ نہیں کیا۔۔۔ میری 27 سالہ جدوجہد ہے، ہمیشہ پُر امن رہے۔‘
’کارکنان نے عمران خان کے کہنے پر اشتعال انگیزی کی‘
تاہم پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ’تحقیقات کے دوران درخواست گزار معصوم ثابت نہیں ہوئے، درخواست گزار کو بدنیتی کے الزام لگانے سے پہلے بدنیتی کے ثبوت دینا ہوں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’دیگر شریک ملزمان اور کارکنان نے چیئرمین پی ٹی آئی کے کہنے پر مختلف اوقات اور مقامات پر اشتعال انگیزی کی۔‘
’چشم دید گواہوں کے بیانات کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی گاڑی میں بیٹھ کر کارکنوں کو ہدایات دے رہے تھے، درخواست گزار موجود ہونے کے باوجود کارکنوں کو جرائم کرنے سے نہیں روک رہے تھے۔‘
پراسیکیوٹر نے دعویٰ کیا کہ ’درخواست گزار کی موجودگی میں جوڈیشل کمپلیکس اور اسلام آباد ہائیکورٹ پر حملہ کیا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ حملہ کیس میں عدالت نے واضح کیا کہ ان مقدمات میں دہشتگردی کی دفعات لگتی ہے، کیا قانون میں کسی کو عمر رسیدہ ہونے کے باعث غیر معمولی ریلیف فراہم کرنے کا ذکر ہے؟‘
پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ’انھوں نے کہا مجھے قتل کردیا جائے گا، لوگ گھروں سے نکلیں۔ یہ ایک جتھا لے کر جوڈیشل کمپلیکس پہنچے، امن و امان کی صورتحال پیدا کی، ان کے ٹویٹس ریکارڈ پر موجود ہیں۔‘
’پارٹی کی پوری قیادت جوڈیشل کمپلیکس حملے میں شامل تھی۔‘
پراسیکیوٹر نے مزید کہا کہ ’عمران خان نے کہا جج زیبا چوہدری تمھیں چھوڑوں گا نہیں۔ اس پر عمران خان کو توہین عدالت کا نوٹس جاری ہوا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کی آڈیوز بھی موجود ہیں۔‘
وکیل اور پراسیکیوٹر کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے عمران خان کی پانچ مقدمات میں ضمانت منظور جبکہ دیگر 11 مقدمات میں عبوری ضمانت میں چار جولائی تک توسیع کی۔