آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل: وفاقی حکومت کے اعتراض کے بعد جسٹس منصور علی شاہ بینچ سے علیحدہ

فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر پیر کے روز سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے وفاقی حکومت کے اعتراض کے بعد خود کو بینچ سے علیحدہ کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد ایک مرتبہ پھر یہ کیس سننے والا بینچ ٹوٹ گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. سپریم کورٹ میں حکومتی رپورٹ جمع: فوج کی حراست موجود ملزمان کا ڈیٹا شامل نہیں, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل نے سپریم کے اس سات رکنی بینچ کے سامنے نو مئی کے واقعات کے بعد گرفتار افراد کی تفصیلی رپورٹ جمع کرائی ہے، جو چیف جسٹس کی سربراہی میں فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل چلانے سے متعلق درخواستوں پر سماعت کر رہا ہے۔

    اس رپورٹ میں فوج کی حراست موجود ملزمان کا ڈیٹا شامل نہیں ہے۔ اس حکومتی رپورٹ میں نابالغ بچوں، صحافیوں اور وکلا کا ڈیٹا بھی شامل نہیں ہے۔ تاہم اس رپورٹ میں گرفتار کی جانے والی خواتین کا ڈیٹا شامل ہے۔

    اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت ملک کی مختلف جیلوں میں 39 خواتین قید ہیں۔ ابھی تک 42 خواتین کو رہا کر دیا گیا ہے جبکہ نو مئی کے بعد کل 81 خواتین کو گرفتار کیا گیا تھا۔

    اس رپورٹ کے مطابق نو مئی کے واقعات کے بعد نقص امن کے تحت 2258 افراد کے لیے گرفتاری کے احکامات جاری کیے گئے جبکہ ان میں سے ابھی 21 افراد جیل میں ہیں۔

    انسداد دہشتگردی کے تحت 51 قائم کیے گئے ہیں جبکہ کل گرفتار افراد کی تعداد 1888 ہے۔ جسمانی ریمانڈ پر 108 جبکہ جوڈیشل ریمانڈ پر 1247 افراد ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق جیل میں شناخت پریڈ کے لیے ابھی 368 افراد قید ہیں جبکہ 1201 کو رہا کر دیا گیا ہے۔ ضمانت پر رہائی حاصل کرنے والے افراد کی تعداد 3012 بنتی ہے۔

  2. فوجی عدالتوں میں جن شہریوں کا ٹرائل چلے گا انھیں اپیل کا حق حاصل نہیں ہوگا: وکیل فیصل صدیقی, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے مقدمات چلانے سے متعلق درخواستوں پر سماعت کے دوران سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی نے اپنے تحریری دلائل جمع کروائے ہیں جبکہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے رپورٹ جمع کروائی ہے۔

    فیصل صدیقی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میری درخواست باقی درخواستوں سے کچھ الگ ہے، میں اس پر دلائل نہیں دوں گا کہ سویلین کا ٹرائل آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت ملٹری کورٹس میں نہیں ہو سکتا۔

    ان کے مطابق یہ بھی نہیں کہتا کہ ملٹری کورٹس کے زریعے ٹرائل سرے سے غیر قانونی ہیں۔ فیصل صدیقی نے کہا کہ ’میں یہ بھی نہیں کہوں گا کہ 9 مئی کو کیا ہوا کیا نہیں۔

    ان کے مطابق فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کی ماضی میں بھی مثالیں موجود ہیں۔ فیصل صدیقی کے مطابق فوجی عدالتوں میں فوجداری ضابطے کے تحت کارروائی نہیں ہو سکتی، اس کو چیلنج نہیں کیا۔

    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کسی نے بھی ملزم کی بریت کو چیلنج نہیں کیا۔ ان کے مطابق فوج کے حوالے ملزمان کو کرنے کے عمل میں مخصوص افراد کو چنا گیا ہے۔

    فیصل صدیقی کے مطابق آرمی ایکٹ قانون کو بدنیتی کے تحت استعمال کیا جاتا ہے۔ فیصل صدیقی کے مطابق جن افراد کا انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ٹرائل ہو گا، ان کو اپیل کا حق ملے گا جبکہ جن کا ٹرائل ملٹری کورٹس میں ہو گا انھیں اپیل کا حق حاصل نہیں۔

  3. فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سماعت شروع, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    سپریم کورٹ فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سماعت شروع ہو گئی ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سات رکنی لاجر بینچ سماعت کر رہا ہے۔

    چیف جسٹس جواد ایس خواجہ، بیرسٹر اعتزاز احسن، کرامت علی اور چئیرمین پی ٹی آئی نے درخواستیں دائر کیں تھیں۔

    چیف جسٹس کی سربراہی میں اس سات رکنی بینچ میں دیگر چھ ججز میں اعجاز الاحسن، منصور علی، منیب اختر، یحییٰ آفریدی، مظاہر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک شامل ہیں۔

  4. شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کی قبل از گرفتاری ضمانت منظور, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    نو مئی سے متعلقہ واقعات تھانہ ترنول میں درج مقدمہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے رہنما اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کر لی ہے۔

    عدالت نے ایک ایک لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی۔ عدالت نے شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کی دس جولائی تک عبوری ضمانت منظور کی۔

  5. شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کی درخواست ضمانت پر سماعت آج ہو گی, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    تحریک انصاف کے رہنماؤں شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کی درخواست ضمانت پر سماعت آج اسلام آباد ہائی کورٹ کرے گی۔

    عدالت نے ان دونوں رہنماؤں کو آج پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔ دونوں رہنماؤں نے اسلام آباد کی سیشن عدالت سے ضمانت منسوخی کے پشاور ہائی کورٹ سے اپنی راہداری ضمانت منظور کرائی تھی۔

    گذشتہ روز پولیس نے دونوں رہنماؤں کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے اندر داخل ہونے سے روک دیا تھا۔ دونوں رہنماؤں کی درخواست ضمانت پر سماعت جسٹس ارباب محمد طاہر کریں گے۔

  6. جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس تعیناتی کا نوٹیفکیشن تین ماہ پہلے ہی کیوں کر دیا گیا؟

  7. سویلین کا کورٹ مارشل: سپریم کورٹ کا وفاقی حکومت اور فریقین کو نوٹس، گرفتار افراد کی تفصیلات طلب

    سپریم کورٹ میں عام شہریوں پر فوجی عدالتوں میں مقدمات کے حوالے سے سماعت ہوئی۔ جس کے دوران سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کردیا۔

    سپریم کورٹ نے وزارت قانون، وزارتِ داخلہ، وزراتِ دفاع کو بھی نوٹسز جاری کیے ہیں۔

    اس کے علاوہ عدالت نے اٹارنی جنرل، تمام چیف سیکرٹریز اور آئی جیز کو بھی نوٹسز جاری کر دیے۔

    جن سیاسی شخصیات کو نوٹس جاری کیے گئے ان میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان، رانا ثنا اللہ، خواجہ آصف اور وزیر اعظم شہباز شریف شامل ہیں۔

    عدالت سے حکام سے کہا ہے کہ نو مئی کے واقعے پر زیر حراست افراد کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ ’کتنے وکلاء اور صحافی سول اور ملٹری حراست میں ہے تفصیلات دی جائے۔‘

    عدالت نے زیر حراست افراد میں خواتین اور بچوں سے متعلق بھی تفصیلات طلب کی ہیں۔

  8. بے نظیر انکم سپورٹ کا آئیڈیا میں نے دیا تھا، سیلاب متاثرین کو 80 ارب روپے اس پروگرام کے تحت دیے گئے: اسحاق ڈار

    پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ اسحاق ڈارکا قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران کہنا تھا کہ ’بے نظیر انکم سپورٹ کا آئیڈیا میں نے دیا تھا، اسلامی مملکت کا فرض ہے کہ خواتین کی مدد کریں۔‘

    سیلاب متاثرین میں 18 ارب روپے تقسیم کیے گئے، سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے این ڈی ایم کے لیے 12 ارب کیلئے منظوری دی۔

    ان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لیے 11 ارب سے زائد کے منصوبے ہوں گے۔

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ’2008 میں اتحادی حکومت میں بینظیر انکم سپوٹ پروگرام کا آئیڈیا میں نے پیش کیا تھا۔ شازیہ مری اس پروگرام کو چلانے کے لیے بہت محنت کر رہی ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے لیے کیا فیصلے ہوئے اس کا سب پوچھتے ہیں۔ اسی ارب روپے اِنکم سپورٹ پروگرام کے تحت دیے گئے۔ ‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’سیلاب کے بعد ایک باڈی بنی جس میں حکومتی اداروں کے ساتھ عالمی ادارے تھے۔‘

    وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا ’دو دنوں میں طے کیا کہ بجٹ ہوجائے تو ماسٹر پلان بنایا جائے ، 16 ارب میں آدھا حصہ وفاق ڈالے گا اور آدھا حصہ صوبہ ڈالے گا ، 15 جولائی تک اس کام کو ختم کرنا چاہیے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ تین ایسے پراجیکٹ تھے جن کی فوری ضرورت تھی ،پہلا پراجیکٹ سیلاب متاثرین کی مکانات کی تعمیر سے متعلق ہے اسے صوبائی حکومت نے شروع کی ہے ،آنے والے مالی سال کے لیے 50 ارب روپے رکھی گئی ہے ، اس میں 25 ارب وفاقی حکومت اور 25 ارب سندھ حکومت دے گی ۔ ‘

    انھوں نے بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ امداد کے بارے میں امور طے ہوچکے ہیں۔

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرہ سکولوں کی بحالی کے لیے 11.9 ملیں روپے درکار ہیں اس منصوبےکو بھی دونوں حکومتیں مل کر پایہ تکمیل تک پہنچائیں گی ۔

    وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ تمام منصوبوں میں صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون مساوی بنیادوں پر ہو گا ۔ بلوچستان کے مسائل کے حل کے حوالے سے تمام ایشوز بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔

  9. بریکنگ, فوجی عدالتوں میں شہریوں پر مقدمے چلانے کے خلاف حکم امتناع کی استدعا مسترد، گرفتار شدگان کا ڈیٹا طلب

    سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور لطیف کھوسا کے درمیان مکالمہ ہوا۔ چیف جسٹس کی جانب سے کہا گیا کہ ’آپ کہتے ہیں ملٹری کورٹس کے خلاف اپیل کا حق نہیں ہوتا، آپ کہہ رے ہیں کہ ملٹری کورٹس کا فیصلہ پبلک نہیں ہوتا اس کی وجوہات واضح نہیں ہوتیں۔‘

    جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ’آرمی ایکٹ تو آرمڈ فورسز میں کام کرنے والوں کے متعلق ایکٹ ہے۔ کیا آپ نے اس ایکٹ کو چیلیج کیا؟

    اس بارے میں بات کرتے ہوئے جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا تھا کہ ’ملزمان کو سیکشن 549 تھری کے تحت اے ٹی سی نے ملٹری حکام کے حوالے کیا، آرمی ایکٹ کے تحت سزا کم ہے اور عام قانون میں سزا زیادہ ہے۔‘

    جسٹس منیب اختر نے اس پر کہا کہ ’وزارت قانون کے ویب سائٹ پر549 کی سب سیکشن تھری ہے ہی نہیں۔

    سردار لطیف کھوسہ کی جانب سے ملٹری کورٹس میں ٹرائل پر سٹے جاری کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

    اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’ہر چیز کا جواب سٹے آڈر سے نہیں دیا جا سکتا۔‘

    لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ ’وہاں وہ راتوں رات سزا سنا دیتے ہیں۔‘

    چیف جسٹس نے جواب دیا کہ ’آپ سنیں تو صحیح ہم کیا کرنے لگے ہیں۔‘

    لطیف کھوسہ نے فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کے خلاف حکم امتناع جاری کرنے کی استدعا کی ہے تاہم سپریم کورٹ نے فوری حکم امتناع جاری کرنے کی استدعا مسترد کر دی ہے۔

    چیف جسٹس کی جانب سے نو مئی کے بعد گرفتار ہونے والوں اور سویلین اور فوجی حراست میں افراد کی فہرست مانگ لی ہے۔

    اس کے ساتھ کیس کی مزید سماعت کل ساڑھے نو بجے تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

  10. فوجی عدالتوں کے خلاف درخواستوں پر سماعت کل تک ملتوی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے فوجی عدالتوں کے خلاف درخواستوں پر سماعت کل تک ملتوی کر دی ہے۔

    اعتزاز احسن کے وکیل سردار لطیف کھوسہ کل بھی اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔

  11. فارمیشن کمانڈر نے کہہ دیا ناقابل تردید شواہد ہیں تو ایک کرنل اب ٹرائل میں الگ فیصلہ دے گا؟ لطیف کھوسہ کے دلائل جاری, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ کے سامنے فوجی عدالتوں میں شہریوں کے مقدمات کے خلاف درخواست پر دلائل دیتے ہوئے اعتزاز احسن کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کہا ہے کہ نو مئی کے واقعات سے متعلق کور کمانڈر میٹنگ ہوئی، جس میں کہا گیا کہ جو لوگ بھی ان واقعات میں ملوث ہیں ان کے خلاف ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔

    ان کے مطابق اس کے بعد 20 مئی کو نیشنل سیکیورٹی کے اجلاس میں بھی اسی قسم کے الفاظ دہرائے گئے۔

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ سویلینز کا ٹرائل یا توکوئی کرنل کرے گا یا پھربریگیڈیئر۔ ان کے مطابق جب فارمیشن کمانڈر نے کہہ دیا ناقابل تردید شواہد ہیں تو ایک کرنل اب ٹرائل میں کیا الگ فیصلہ دے گا؟

    جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا انھوں نے یہ کہا کہ ان واقعات میں ملوث افراد کے مقدمات فوجی عدالتوں میں بھجوائے جائیں گے؟

    درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ایسا ہی ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس کی بات کریں نا کیونکہ آپ کی درخواست ہی فوجی عدالتوں کے خلاف ہے۔

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ آرٹیکل 245 نافذ ہونے کے بعد ہائیکورٹس کا کا 199 کا اختیار ختم ہو گیا ہے۔

    جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ فوج طلبی کا وہ نوٹیفیکیشن واپس ہو چکا ہے اور اٹارنی جنرل نے بھی نوٹیفکیشن کے واپس ہونے کی تصدیق کی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ ناقابل تردید شواہد موجود ہیں اس لیے ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہو گا؟

    جی پریس ریلیز میں یہی کہا گیا ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ صرف متعلقہ پیراگراف پڑھیں۔ لطیف کھوسہ نے کہا کہ متعلقہ پیراگراف میں کہا گیا ذمہ داروں کو آرمی ایکٹ کے تحت جلد کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ نو مئی کے واقعات میں ملوث افراد کے لیے کوئی ہمدردی نہیں ہے تاہم ان کے مقدمات انسداد دہشتگردی کی عدالتوں میں چلایا جائے گا۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’کیا سویلینز کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں چل رہا ہے؟‘

    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’بالکل سویلینزکا ٹرائل فوجی عدالتوں میں شروع ہو چکا ہے۔ قومی سلامتی اجلاس کے اعلامیے میں ناقابل تردید شواہد موجود ہونے کا کہا گیا ہے۔

  12. فوجی عدالتوں کے خلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ کی سماعت شروع, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں پر دوبارہ سماعت شروع ہو گئی ہے۔ چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ ان درخواستوں پر سماعت کر رہا ہے۔

    اس وقت درخواست گزار اعتزاز احسن کے وکیل لطیف کھوسہ دلائل دے رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود کے انکار کے بعد اس ضمن میں بنایا گیا نو رکنی بینچ ٹوٹ گیا تھا جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے دوبارہ سات رکنی نیا بینچ تشکیل دیا جس نے مختصر وقفے کے بعد اس دوبارہ سماعت کا آغاز کر دیا۔

    اس سات رکنی بینچ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے علاوہ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک شامل ہیں۔

    خیال رہے کہ سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ، اعتزاز احسن، کرامت علی اور چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان نے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کے خلاف درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔

    سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر کسی کو اس نئے بینچ پر اعتراض ہے تو پہلے بتا دیں۔ جس پر اعتزاز احسن نے کہا کہ ’کسی کو اس بینچ پر اعتراض نہیں۔‘

    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ ’ہمیں بھی بینچ پر اعتراض نہیں۔‘

  13. ڈاکٹر یاسمین راشد کی درخواست ضمانت خارج, ترہب اصغر بی بی سی اردو لاہور

    عسکری ٹاور حملے کے مقدمے میں لاہور کی ‏انسداد دہشتگری کی خصوصی عدالت نے تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کی درخواست ضمانت خارج کردی۔

    ‏عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کردی۔ اے ٹی سی کے جج اعجاز احمد ںٹر نے ضمانتوں پر فیصلہ سنایا۔ عدالت نے مقدمے میں نامزد دیگر 13 ملزمان کی ضمانتیں بھی مسترد کردیں۔

  14. پولیس کی گاڑیوں کو جلانے کے مقدمے میں 23 ملزمان کی ضمانت منظور، تین کی خارج

    گلبرگ میں پولیس کی گاڑیوں کو جلانے کے مقدمے میں ‏عدالت نے 23 ملزمان کی درخواست ضمانت منظور کر لی ہے۔ عدالت نے ایک ایک لاکھ کے ضمانتی مچلکوں کے عوض رہائی کا حکم دیا ہے۔

    ‏عدالت نے شبنم جہانگیر، نیئر عرفان، محمد عثمان اور شعیب لطیف سمیت 23 ملزمان کی ضمانت منظور کی ہے۔

    ‏انسداد دہشتگردی کی عدالت کے جج اعجاز احمد بٹر نے فیصلہ سناتے سنایا۔ اس فیصلے کے مطابق عدالت نے تین ملزمان کی درخواست ضمانت خارج بھی کی ہے۔

  15. کور کمانڈر ہاؤس حملہ کیس: انسداد دہشت گردی عدالت نے 180 ملزمان میں سے 33 کی ضمانت کی درخواستیں منظور کر لیں, ترہب اصغر، بی بی سی اُردو لاہور

    لاہور کی ایک انسداد دہشت گردی عدالت نے کور کمانڈر ہاؤس لاہور پر حملے اور جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے میں نامزد 180 ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

    عدالت نے 16 خواتین سمیت 33 ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں منظور کر لی ہے جبکہ خدیجہ شاہ، صنم جاوید اور طیبہ راجہ سمیت دیگر 147 ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں خارج کر دی گئی ہیں۔

    ‏انسداد دہشت گردی عدالت کے جج اعجاز احمد بٹر کی عدالت نے اس کیس کا فیصلہ سنایا۔ یاد رہے کہ ‏ملزمان کے خلاف تھانہ سرور روڑ پولیس نے کور کمانڈر ہاؤس پر حملے کا مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

    جمعرات کے روز ہونے والی سماعت کے دوران استغاثہ نے چند ملزمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کی استدعا کی جس پر عدالت نے خدیجہ شاہ، صنم جاوید، عالیہ حمزہ سمیت دیگر ملزمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کر دی ہے۔

    جمعرات کو ‏خدیجہ شاہ سمیت 13 خواتین کو جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا۔

    ‏عدالت نے سماعت کے دوران پولیس کو مقدمے کا چالان جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

    وہ 33 ملزمان جن کی ضمانت کی درخواستیں منظور ہوئی ہیں اُن میں عائشہ مسعود، فائزہ عظمت، فرحت فاروق، ثانیہ ساجد، فرح نثار، عالیہ بی بی، ماریہ خان، خالدہ حمید، شمائلہ ستار، ساجدہ بی بی، خدیجہ نعیم، ماہا مسعود، ممتاز بی بی، ہما سعید، صبوحی انعام، مریم مزاری شامل ہیں جبکہ اس کے علاوہ رضوان خان، کامران، سید زین، اظہر رشید، فیصل مسعود، ثاقب طارق، زبیر، ڈاکٹر حمیر آصف، حسن عدنان بھی ضمانت منظور ہونے والوں میں شامل ہیں۔

    عدالت نے ان ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے انھیں ایک، ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

  16. شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کی ایک دن کے لیے راہداری ضمانت منظور, عزیزاللہ خان بی بی سی اردو پشاور

    پشاور ہائی کورٹ نے تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کی ایک روزہ راہداری ضمانت منظور کر لی ہے۔ جسٹس وقار احمد نے کہا کہ عدالت کے احاطے میں کسی کو کوئی ہاتھ نہ لگائے۔

    عدالت کا شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کو کل تک گرفتار نہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے دونوں رہنماؤں سے کہا کہ وہ کل اسلام آباد کی مقامی عدالت کے سامنے پیش ہو جائیں۔

  17. فوجی عدالتوں کے خلاف درخواستوں پر نیا سات رکنی بینچ، سماعت کچھ دیر میں

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس طارق مسعود کی طرف سے سپریم کورٹ کے نو رکنی بنیچ سے علیحدگی اختیار کیے جانے کے بعد چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے نیا سات رکنی بینچ تشکیل دے دیا ہے۔

    چیف جسٹس کی سربراہی میں اب یہ سات رکنی بینچ اب سے کچھ دیر بعد فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے مقدمات چلانے کے خلاف درخواستوں پر سماعت کرے گا۔

  18. بریکنگ, فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے مقدمات چلانے کے خلاف درخواست: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس طارق مسعود نو رکنی بینچ سے علیحدہ

    سپریم کورٹ کے دو سینیئر ترین ججوں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس طارق مسعود، نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کرنے والے نو رکنی بینچ سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔

    ان ججوں کی جانب سے بینچ سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تشکیل دیا گیا نو رکنی نینچ ٹوٹ گیا ہے۔

    یاد رہے کہ بدھ کے روز چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف دائر متعدد درخواستوں پر سماعت کے لیے یہ بینچ تشکیل دیا تھا۔

    جمعرات کی دوپہر جب اس کیس کی سماعت کا آغاز ہوا تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے مخاطب ہو کر کہا کہ ’آپ روسٹرم پر آ جائیں، میں کچھ آبزرویشن دینا چاہتا ہوں۔‘

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ صرف اور صرف آئین عدالت کو دائرہ سماعت کا اختیار دیتا ہے اور عدالت عظمیٰ کے ہر جج نے حلف اٹھایا ہے کہ وہ آئین اور قانون کے تحت کیسوں کی سماعت کرے گا۔

    اس پر درخواست گزار اعتزاز احسن کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’ہمیں خوشی کا اظہار تو کرنے دیں‘ جس پر جسٹس فائزعیسیٰ نے کہا کہ ’آپ خوشی کا اظہار باہر کر سکتے ہیں یہ (عدالت) کوئی سیاسی فورم نہیں ہے۔‘

    جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ ’حلف کے مطابق میں آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کروں گا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ قوانین میں ایک قانون پریکٹس اینڈ پروسیجر بھی ہے اور اس قانون کے مطابق اس بینچ کی تشکیل سپریم کورٹ کے تین سینیئر ترین ممبران کے ذریعے ہونی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’کل شام مجھے کاز لسٹ دیکھ کر تعجب ہوا۔‘

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس قانون کو بل کی سطح پر ہی سپریم کورٹ کے آٹھ رکنی بینچ نے روک دیا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ کہ اس قانون پر چونکہ فیصلہ نہیں ہوا اس لیے وہ اس پر رائے نہیں دیں گے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ’پانچ مارچ والے فیصلے کو 31 مارچ کو ایک سرکولر کے ذریعے ختم کر دیا گیا، ایک عدالتی فیصلے کو رجسٹرار کی جانب سے نظر انداز کیا گیا۔ یہ عدالت کے ایک فیصلے کی وقعت ہے۔‘

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ’جب مجھ سے چیمبر ورک کے بارے میں پوچھا گیا تو پانچ صفحات کا نوٹ لکھ کر بھیجا۔ اس وجہ سے چہ مگوئیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ میرے دوست یقیناً مجھ سے قابل ہیں، لیکن میں اپنے ایمان پر فیصلہ کروں گا۔‘

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ ’اس چھ ممبر بینچ میں اگر نظر ثانی تھی تو مرکزی کیس کا کوئی جج شامل کیوں نہیں تھا؟‘

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ’میرے چیمبر ورک کرنےکا جواب چیف جسٹس بہتر دے سکتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’مجھے جو درخواست رات گئے موصول ہوئی، اس میں عمران خان کی بھی درخواست تھی، عمران خان کی درخواست پر اعتراض لگایا گیا۔۔۔ آج کاز لسٹ میں آخر میں آنے والی درخواست، جو کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس نے دائر کی تھی، کو سب سے پہلے مقرر کر دیا گیا۔‘

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ’میں اس بینچ کو ’بینچ‘ تصور نہیں کرتا۔ میں کیس سننے سے معذرت نہیں کر رہا، میں اس پر مزید بحث نہیں سُن سکتا۔‘

    جسٹس طارق مسعود نے اس موقع پر کہا کہ ’میں قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ اتفاق کرتا ہوں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’پہلے ان درخوستوں کو سُنا جائے، اگر اس کیس میں فیصلہ حق میں آتا ہے تواس کیس کی اپیل آٹھ جج کیسے سنیں گے؟‘

    سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ معاملہ 25 کروڑ عوام کا ہے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس طارق مسعود اس کیس میں بیٹھ کر سماعت کریں کیونکہ یہ اہم کیس ہے۔

  19. وزیراعظم کی پیرس میں آئی ایم ایف کی سربراہ سے ملاقات: ’امید ہے آئی ایم ایف جلد فنڈز جاری کرے گا‘

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کے روز عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے پیرس میں ملاقات کی ہے۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف دورہ فرانس پر ہے جہاں وہ ’نیو گلوبل فنانشل پیکٹ‘ اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔

    وزیراعظم کے دفتر سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اس ملاقات میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری قرض پروگرام اور باہمی تعاون پر بات ہوئی۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم اور ایم ڈی آئی ایم ایف کے درمیان 27 مئی کو فون پر بھی رابطہ ہوا تھا، جس میں وزیراعظم نے انھیں پاکستان کی معاشی صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔

    اس ملاقات میں وزیراعظم نے اُن کی حکومت کی جانب سے اقتصادی ترقی کی شرح اور استحکام کے لیے کیے گئے اقدامات کے بارے میں آئی ایم ایف سربراہ کو آگاہ کیا۔

    انھوں نے بتایا کہ نویں ریویو کے لیے اُن کی حکومت نے تمام پیشگی اقدامات اٹھائے ہیں اور پاکستان آئی ایم ایف سے کیے گئے تمام وعدوں پر عمل پیرا ہو رہا ہے۔ وزیراعظم نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ آئی ایم ایف جلد پاکستان کو اس پروگرام کے تحت مختص رقم جاری کرے گا۔

    انھوں نے کہا کہ اس سے پاکستان کی طرف سے معاشی استحکام کے لیے کوشش کو تقویت دے گا اور عوام کے لیے ریلیف کا باعث بنے گا۔

    اعلامیے کے مطابق آئی ایم ایف کی سربراہ نے بھی جاری جائزہ پروگرام سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔

  20. زیادہ گرمی کی وجہ سے پاکستان کے شمالی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ بڑھ رہا ہے: شیری رحمان

    گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں درجہ حرارت معمول سے چار سے چھ ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کی وجہ سے سیلاب اور گلیشیئل لیک آؤٹبرسٹ فلڈ (جی ایل او ایف) کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ، مقامی ادارے اور کمیونٹیز محتاط رہیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں، خاص طور پر آنے والے ہفتے کے دوران عید الاضحیٰ کے موقع پر جب چھٹیوں کی وجہ سے شمالی علاقہ جات میں سیاحوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گا۔

    پاکستان کے پاس پولر ریجن سے باہر کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ گلیشیئرز ہیں۔ یاد رہے پچھلے سال جی ایل او ایف کے 30 سے ​​زیادہ واقعات نے ہزاروں افراد کو بے گھر کر دیا تھا۔