سپریم کورٹ کے دو سینیئر ترین ججوں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس طارق مسعود، نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کرنے والے نو رکنی بینچ سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔
ان ججوں کی جانب سے بینچ سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تشکیل دیا گیا نو رکنی نینچ ٹوٹ گیا ہے۔
یاد رہے کہ بدھ کے روز چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف دائر متعدد درخواستوں پر سماعت کے لیے یہ بینچ تشکیل دیا تھا۔
جمعرات کی دوپہر جب اس کیس کی سماعت کا آغاز ہوا تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے مخاطب ہو کر کہا کہ ’آپ روسٹرم پر آ جائیں، میں کچھ آبزرویشن دینا چاہتا ہوں۔‘
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ صرف اور صرف آئین عدالت کو دائرہ سماعت کا اختیار دیتا ہے اور عدالت عظمیٰ کے ہر جج نے حلف اٹھایا ہے کہ وہ آئین اور قانون کے تحت کیسوں کی سماعت کرے گا۔
اس پر درخواست گزار اعتزاز احسن کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’ہمیں خوشی کا اظہار تو کرنے دیں‘ جس پر جسٹس فائزعیسیٰ نے کہا کہ ’آپ خوشی کا اظہار باہر کر سکتے ہیں یہ (عدالت) کوئی سیاسی فورم نہیں ہے۔‘
جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ ’حلف کے مطابق میں آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کروں گا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ قوانین میں ایک قانون پریکٹس اینڈ پروسیجر بھی ہے اور اس قانون کے مطابق اس بینچ کی تشکیل سپریم کورٹ کے تین سینیئر ترین ممبران کے ذریعے ہونی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’کل شام مجھے کاز لسٹ دیکھ کر تعجب ہوا۔‘
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس قانون کو بل کی سطح پر ہی سپریم کورٹ کے آٹھ رکنی بینچ نے روک دیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ کہ اس قانون پر چونکہ فیصلہ نہیں ہوا اس لیے وہ اس پر رائے نہیں دیں گے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ’پانچ مارچ والے فیصلے کو 31 مارچ کو ایک سرکولر کے ذریعے ختم کر دیا گیا، ایک عدالتی فیصلے کو رجسٹرار کی جانب سے نظر انداز کیا گیا۔ یہ عدالت کے ایک فیصلے کی وقعت ہے۔‘
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ’جب مجھ سے چیمبر ورک کے بارے میں پوچھا گیا تو پانچ صفحات کا نوٹ لکھ کر بھیجا۔ اس وجہ سے چہ مگوئیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ میرے دوست یقیناً مجھ سے قابل ہیں، لیکن میں اپنے ایمان پر فیصلہ کروں گا۔‘
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ ’اس چھ ممبر بینچ میں اگر نظر ثانی تھی تو مرکزی کیس کا کوئی جج شامل کیوں نہیں تھا؟‘
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ’میرے چیمبر ورک کرنےکا جواب چیف جسٹس بہتر دے سکتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’مجھے جو درخواست رات گئے موصول ہوئی، اس میں عمران خان کی بھی درخواست تھی، عمران خان کی درخواست پر اعتراض لگایا گیا۔۔۔ آج کاز لسٹ میں آخر میں آنے والی درخواست، جو کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس نے دائر کی تھی، کو سب سے پہلے مقرر کر دیا گیا۔‘
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ’میں اس بینچ کو ’بینچ‘ تصور نہیں کرتا۔ میں کیس سننے سے معذرت نہیں کر رہا، میں اس پر مزید بحث نہیں سُن سکتا۔‘
جسٹس طارق مسعود نے اس موقع پر کہا کہ ’میں قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ اتفاق کرتا ہوں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’پہلے ان درخوستوں کو سُنا جائے، اگر اس کیس میں فیصلہ حق میں آتا ہے تواس کیس کی اپیل آٹھ جج کیسے سنیں گے؟‘
سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ معاملہ 25 کروڑ عوام کا ہے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس طارق مسعود اس کیس میں بیٹھ کر سماعت کریں کیونکہ یہ اہم کیس ہے۔