آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل: وفاقی حکومت کے اعتراض کے بعد جسٹس منصور علی شاہ بینچ سے علیحدہ

فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر پیر کے روز سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے وفاقی حکومت کے اعتراض کے بعد خود کو بینچ سے علیحدہ کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد ایک مرتبہ پھر یہ کیس سننے والا بینچ ٹوٹ گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کا ایک ہی مقصد ہے کہ کسی طرح پی ٹی آئی کو ختم کیا جا سکے: عمران خان

    حالیہ دنوں میں چند پرانے ساتھیوں سمیت دیگر رہنماؤں کے پی ٹی آئی چھوڑنے کے سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ سنہ 2002 میں مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق میں تبدیل ہو گئی تھی اور صرف مسلم لیگ ن کے صرف دس بارہ افراد بچے تھے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ پوری حکومت اور اسٹیبلشمنٹ مشینری کا ایک ہی مقصد ہے کہ کسی طرح پی ٹی آئی کو ختم کیا جا سکے کیونکہ یہ جانتے ہیں کہ یہ سب سے مقبول عوامی سیاسی جماعت ہے۔ اور وہ اپنے تمام تر کوششوں کے باوجود ناکام ہو رہے ہیں کیونکہ میرا ووٹ بینک کم ہونے کی بجائے بڑھ رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی آج بھی ملک کی سب سے مضبوط جماعت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج لوگوں کو پکڑا جا رہا ہے، ان کے کاروبار بند یا ختم کیے جا رہے ہیں اور انھیں پی ٹی آئی چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ ان کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، ان کے اہلخانہ اور رشتہ داروں کو اٹھایا جا رہا ہے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ اس وقت ان کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ عمران خان سے جان چھڑائی جائے۔

    فوج سے مذاکرات سے متعلق بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک دیوالیہ ہو رہا ہے اور میں جنرل عاصم سے مل کر یہ جاننا چاہتا تھا کہ ہم کس طرف بڑھ رہے ہیں۔ ’میں نے جنرل باجوہ سے بھی ملک کی خاطر بات کرنے کا کہا تھا کہ ملک میں انتخابات ہی ہر مسئلے کا حل ہے۔‘

    ’میں فوج میں جنرل فیض اور جنرل باجوہ کے علاوہ کسی کو نہیں جانتا تھا کیونکہ ان کے علاوہ میرا کسی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں میرے جنرل عاصم کے ساتھ کچھ مسائل تھے لیکن آج مجھے ان سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

    حکومت اور فوج کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ فوج گذشتہ 75 برسوں سے بلواسطہ یا بلاواسطہ حکومت میں ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان کے فوج اور خصوصاً جنرل باجوہ کے ساتھ تعلقات اس وقت خراب ہوئے جب انھوں نے جنرل باجوہ کو توسیع دی۔

    ’اور میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ یہ میری سب سے بڑی غلطی تھی۔ جب میں نے طاقتوروں کو قانون کے نیچے لانے کی کوشش کی تو مجھے احساس ہوا کہ جنرل باجوہ بھی ایسا نہیں چاہتے کیونکہ وہ نیب کو کنٹرول کر رہے تھے۔‘

  2. میں نے ایران کا دورہ محمد بن سلمان کی ایما پر کیا: عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ انھوں اپنے دورِ حکومت میں ایران کا دورہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی درخواست پر کیا تھا تاکہ سعودی عرب اور ایران میں کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔

    18 جون کو اٹلانٹک کونسل کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ اُن کے دور حکومت میں سعودی عرب اور چین کے ساتھ تعلقات اچھے رہے اور ’میں نے سعودی شہزادہ محمد بن سلمان کی ایما پر ایران کا دورہ کیا تھا۔ یاد کریں اس وقت ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی تھی اور مجھے سعودی شہزادے نے ایران کا دورہ کرنے کا کہا تھا۔ وہ دونوں ممالک میں تلخی کو کم کرنا چاہتے تھے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میرے دور حکومت کے مقابلے میں پاکستان آج تنہائی کا شکار ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ چین اور سعودی عرب سے تعلقات کی خرابی کی باتیں بہت مضحکہ خیز ہیں، یہ سب قیاس آرائیاں ہیں اور کوئی انھیں پھیلاتا رہا ہے۔ اور اگر ایسا ہوتا تو کیا وزرائے خارجہ کے کانفرنس میں چینی وزیر خارجہ آتے۔

    اپنے دورِ حکومت کے دوران امریکہ، چین اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کے سوال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو میرا روس کا دورہ پسند نہیں آیا تھا اگرچہ یہ میرے سروسز چیف کی مشاورت سے کیا گیا تھا کیونکہ وہ ان سے عسکری اسلحہ خریدنا چاہتے تھے۔

    چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت گرانے سے متعلق سائفر بھیجے جانے کا الزام امریکہ مخالفت میں نہیں تھا بلکہ میں نے حقائق بیان کیے تھے۔ انھوں نے کہا کہ امریکی سفیر اور پاکستان کے سفیر کی امریکہ میں ہوئی ایک سرکاری ملاقات میں کہا گیا کہ ’اگر عمران خان کو تحریک عدم اعتماد سے ہٹایا نہیں جاتا تو اس کے نتائج ہوں گے‘ اور اس پر میں نے کابینہ اور قومی سلامتی کونسل میں معاملہ اٹھایا اور دونوں اجلاسوں کے بعد امریکہ سے ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کرنے پر سخت مذمت کی گئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد جمع کروائی گئی اور دنوں میں میری حکومت ختم کر دی گئی۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’بعد میں جب چیزیں واضح ہوئی تو پتا چلا کہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ حسین حقانی کے ذریعے یہ کمپین کر رہے تھے کہ میں امریکہ مخالف ہوں۔‘ انھوں نے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا اپنا آرمی چیف اس سب میں ملوث تھا۔‘

    حکومت میں دوبارہ آنے کے لیے امریکی حمایت اور امریکہ کی جانب سے عمران خان کو ایک عام شہری قرار دینے کے سوال کے جواب میں چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ’مجھے پاکستان میں حکومت میں آنے کے لیے کسی کی حمایت کی ضرورت نہیں ہے۔ میں نے عروج دیکھ لیا ہے۔ مجھے اس ملک کی عوام سے سب سے زیادہ عزت اور پیار ملا ہے۔ اس وقت تمام جماعتیں اور اسٹیبلشمنٹ مجھے ہٹانے کے درپے ہیں۔‘

  3. بریکنگ, انڈیا کو کہا تھا ایک قدم بڑھائیں ہم دو قدم آگے آئیں گے: عمران خان

    پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے ’میں نے اپنے دور حکومت میں انڈیا کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، میں نے ان سے کہا تھا کہ آپ ایک قدم بڑھائیں ہم دو قدم آگے آئیں گے۔‘

    18 جون کو اٹلانٹک کونسل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انڈیا سے پرامن تعلقات اور دو طرفہ تجارت کے امکان سے متعلق سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میں نے اپنے دور حکومت میں انڈیا کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، میں نے ان سے کہا تھا کہ آپ ایک قدم بڑھائیں، ہم دو قدم آگے آئیں گے لیکن مجھے احساس ہوا کہ یہ مودی حکومت کی آر ایس ایس ذہنیت ہے جو دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری نہیں چاہتی۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میں معاملات کو فوج کے ذریعے حل کرنے کا حامی نہیں ہوں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ فروری 2019 میں انڈیا کے ساتھ کشیدگی، ان کے طیارے مار گرانے اور پائلٹ واپس کرنے کے بعد انڈیا نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود پانچ اگست 2019 کو کشمیر کی قانونی حیثیت تبدیل کر دی، ’ایسے میں ہم کیا کرتے، خاموشی سے انڈیا کے یکطرفہ اقدام کو تسلیم کر لیتے یا کشمیر کے عوام کے ساتھ کھڑے ہوتے۔

    انڈیا کے ساتھ تجارتی تعلقات کی بحالی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ’مجھے تجارتی تعلقات کے حوالے سے مذاکرات یاد نہیں، میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ ہمارے درمیان کچھ لو کچھ دو کا معاملہ ہونا تھا۔ انڈیا کو کشمیر پر کچھ رعایت دینا تھی، کشمیر کے حوالے سے کسی طرح کا روڈ میپ دینا تھا، اور پھر میں نے وزیر اعظم مودی کو پاکستان دورے کی دعوت دینی تھی۔ لیکن یہ کبھی عملی شکل اختیار نہیں کر سکا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے علم نہیں کہ سابق آرمی چیف جنرل باجوہ کیا باتیں کر رہے ہیں کیونکہ انڈیا سے متعلق تعلقات کے بارے میں یہ طے تھا کہ وہ اگست 2019 کے اقدامات کو واپس لیں تو ہم ان کی طرف بڑھیں گے، ایسا کچھ نہیں ہوا۔‘

    سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے پاکستانی فوج کی عسکری قوت میں کمی اور ٹینکوں کو زنگ لگنے کے بیان سے متعلق سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ایک آرمی چیف کی جانب سے ایسا بیان بہت مضحکہ خیز ہے، اگر ایسا ہو بھی تو کون سا فوجی سربراہ ایسے بیانات دیتا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’اگر جنرل باجوہ کے بیان کی بات کریں تو وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم بہت کمزور ہیں، آپ کبھی ایسے بیانات نہیں دیتے۔ لیکن اگر مدعے کی بات کریں تو انڈیا سے جنگ کون چاہتا ہے، ہم انڈیا سے جنگ کیوں چاہیں گے۔ ہم دونوں مہذب قومیں ہیں، ہم اپنے مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کریں گے جب تک کہ معاملے کے حل نہ نکل آئے۔ جنگ کبھی بھی کوئی حل نہیں ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’وہ اکثر ایسی بات کرتے تھے لیکن یہ سرکاری راز ہوتا ہے آپ ایسی باتیں صحافیوں کے ساتھ نہیں کرتے۔‘

  4. سرمایہ کاری میں سہولت کاری پر خصوصی کونسل کی تشکیل، آرمی چیف جنرل عاصم منیر بھی شامل

    وزیر اعظم شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ کے ممالک سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو بھی اس کا حصہ بنایا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق اس کونسل جسے ’سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل‘ کا نام دیا گیا ہے، کا مقصد دفاع، زراعت، معدنیات، آئی ٹی اور توانائی کے شعبوں میں ’گلف کوآپریشن کونسل‘ یعنی خلیجی ممالک سے سرمایہ کاری کے عمل کو بہتر بنانا ہے۔

    وزیر اعظم نے اس کونسل کے تحت تین مختلف کمیٹیاں بھی تشکیل دی ہیں جن میں اولین ایپکس کمیٹی کی سربراہی شہباز شریف خود کریں گی جبکہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو خصوصی دعوت پر اس کا حصہ بنایا گیا ہے۔

    یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آرمی چیف اس کونسل میں کیا کردار ادا کریں گے۔

    تاہم ایپکس کمیٹی میں وزیر اعظم اور آرمی چیف کے علاوہ وفاقی وزرا برائے منصوبہ بندی، امور خزانہ، آئی ٹی، نیشنل فوڈ اینڈ سکیورٹی، پانی و بجلی اور دفاع شامل ہوں گے۔ صوبوں کے وزرائے اعلی بھی اس ایپکس کمیٹی کا حصہ ہوں گے جبکہ پاکستان فوج کے ایک نیشنل کوارڈینیٹر اور وزیر اعظم کے خصوصی مشیر، جو اس کمیٹی کے سیکرٹری بھی ہوں گے، اس کمیٹی میں شامل ہیں۔

    ایپکس کمیٹی کے بعد ایگزیکٹیو کمیٹی بنائی گئی ہے جس میں وفاقی وزرا برائے دفاع، آئی ٹی، توانائی کے علاوہ وزرائے مملکت برائے پیٹرولیم اور امور خزانہ شامل ہوں گے۔

    ان کے علاوہ صوبائی وزرا برائے زراعت، معدنیات، آئی ٹی، توانائی، امور خزانہ، منصوبہ بندی اور تمام چیف سیکریٹری بھی اس کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔

    تیسری سطح پر ایک عملدرآمد کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں پاکستان فوج کے ایک ڈائریکٹر جنرل، وزیر اعظم کے ایک معاون خصوصی اور کونسل کے سیکریٹری، جو 21ویں گریڈ کے افسر ہوں گے، شامل ہیں۔

    وفاقی وزیر پٹرولیم مصدق ملک نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کونسل کی تشکیل سے پہلے ہی چند ممالک پاکستان میں 20 سے 25 ارب ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری کا وعدہ کر چکے ہیں۔

    سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کا مقصد کیا ہے؟

    وفاقی وزیر پٹرولیم مصدق ملک نے جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے اس کمیٹی کی تشکیل کو غیر ملکی سرمایہ کاری کی سہولت کاری کے لیے ون ونڈو آپریشن کی طرز پر ایک منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’وہ تمام ادارے جن کا کسی بھی طرح سرمایہ کاری سے تعلق ہے وہ اکھٹے کر دیے گئے ہیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’تین لیولز پر عمل درآمد کے لیے کمیٹیاں بنائی گئی ہیں۔ ایک، ایپکس کمیٹی بنائی گئی ہے وزیر اعظم کی سربراہی میں جس میں کابینہ اراکین اور آرمی چیف بھی ہوں گے، جو ابتدائی طور پر ہر مہینے ملے گی۔‘

    ’دوسری ایگزیکٹیو کمیٹی ہے جس میں وزرا اور صوبائی حکومتیں ہیں، وفاقی حکومت کے ادارے ہیں۔ اور تیسری عمل درآمد کمیٹی ہے جو ہر ہفتے ملا کرے گی۔‘

    ڈاکٹر مصدق ملک نے اس کونسل کے مقاصد کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’مقصد یہ ہے کہ جو بھی سرمایہ کاری کرنے آ رہا ہے تو چاہے کوئی قانونی مسئلہ ہے تو اسے دور کیا جائے، قواعد و ضوابط کی دقت ہے تو اسے دور کیا جائے، اور اگر صرف سست رفتار انتظامی معاملات ہیں تو انھیں بھی دور کیا جائے۔‘

    مصدق ملک نے کہا کہ ’جس چیز کو پلان بی کہا جا رہا تھا، آج وہ لوگوں کے سامنے آ گیا ہے۔‘ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’یہ خبر اہم نہیں کہ ایک طریقہ کار طے کیا گیا ہے بلکہ اس سے اہم خبر یہ ہے کہ اس طریقہ کار کے پیچھے کمٹمنٹس ہیں۔‘

    لیکن پروگرام میں ایک اور مقام پر جب مصدق ملک سے سوال ہوا کہ کیا اب آئی ایم ایف سے رجوع نہیں کیا جائے گا تو مصدق ملک نے کہا کہ ’یہ اختیار صرف وزیر اعظم کے پاس ہے کہ وہ کہیں کہ یہ ہمارا معاشی پلان بی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اگلے پانچ، سات سال میں 112 ارب ڈالر کا پروگرام ہے جو آج پیش کیا گیا۔‘

    مصدق ملک نے دعوی کیا کہ ’بے شمار ممالک کی کمٹمنٹس (یقین دہانیاں) ہیں لیکن باالخصوص سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، اور کچھ چین کی کمٹمنٹس ہیں۔‘

    ’ان ممالک سے یہ بات پہلے سے طے کی گئی ہے کہ آپ سرمایہ کاری کریں گے، اور کن کن جگہوں پر کریں گے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یقین دہانیاں تو ہو جاتی ہیں کام نہیں ہوتا۔ وہ یہاں پر آتے ہیں پھر خوار ہوتے ہیں۔‘

    ’تین ممالک نے 20-25 ارب ڈالر مختص کیے ہیں پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم زراعت، معدنیات اور آئی ٹی میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔‘

    سوشل میڈیا پر بحث: ’یہ ایک ایسے مسئلے کا حل ہے جو وجود ہی نہیں رکھتا‘

    وزیر اعظم کے اس فیصلے پر پاکستان کے سوشل میڈیا پر کافی بحث ہوئی جس میں جہاں ایک جانب اس کونسل میں آرمی چیف کی شمولیت پر سوالات اٹھائے گئے تو وہیں دوسری جانب اس کی افادیت پر بھی تنقید کی گئی۔

    تاہم ایسے افراد بھی نظر آئے جنھوں نے اس کونسل کے قیام کو ایک خوش آئند قدم قرار دیا۔

    صحافی کامران خان نے لکھا کہ ’عزم مصمم پاکستان کو معاشی ترقی کی شاہراہ پر ڈالنا ہے۔ آج فوج کی نگرانی و معاونت میں پاکستان کی اقتصادی بحالی کا وسیع منصوبہ ترتیب دیا گیا ہے۔‘

    ’ملک میں زرعی آئی ٹی دفاعی پیداوار معدنیات کان کنی توانائی کے شعبوں میں اربوں ڈالرز کی متوقع سرمایہ کاری کے لیے ون ونڈو آپریشن یقینی بنائے گی۔ یہ پاکستان کی اقتصادی بحالی کا منصوبہ جلد شروع ہونے والا ہے۔‘

    دوسری جانب تجزیہ کار مشرف زیدی نے لکھا کہ ’یہ کونسل ناکام ہو گی کیوںکہ یہ ایک ایسے مسئلے کا حل ہے جو وجود ہی نہیں رکھتا۔‘

    ان کا موقف تھا کہ ’پی ڈی ایم اور جی ایچ کیو کے درمیان اچھے تعلقات سے تو تمام سرمایہ کار واقف ہیں اور سب جانتے ہیں کہ یہ ایک پیج پر ہیں۔‘

    انھوں نے لکھا کہ ’کیا یہ کونسل سیاست دانوں، ججوں، عوام اور ریاست کے مابین امن کی وہ صورتحال قائم کر پائے گی جس کی وجہ سے وہ استحکام پیدا ہو سکے جس کے غیر ملکی سرمایہ کار خواہش مند ہیں۔‘

    علی حسنین نامی صارف نے لکھا کہ ’مصدق ملک تسلیم کر رہے ہیں کہ ہمارے قوانین اور بیورو کریسی میں مسئلہ ہے لیکن ہم ان مسائل کو درست کرنے کے بجائے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ایک راستہ بنائیں گے۔‘

    عزیر یونس نے لکھا کہ ’اب آرمی چیف اور فوج ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری لانے میں براہ راست کردار ادا کریں گے، جن لوگوں کا یہ خیال ہے ان کو میرا سیلوٹ۔‘

  5. ابھی بھی وقت ہے بات چیت کریں، مجھے جیل میں ڈالیں گے تب بھی پی ٹی آئی جیتے گی: عمران خان

    تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ’ظلم کرنے کی پالیسی ناکام ہو گئی ہے۔ آپ جب بھی انتخابات کروائیں گے، تحریک انصاف کامیاب ہو گی۔‘

    عمران خان نے سوشل میڈیا پر اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ’ابھی بھی وقت ہے بات چیت کریں۔ اگر گیم پلان یہ ہے کہ عمران خان کو نکال کر ہمارا ملک ٹھیک ہو جائے گا تو مجھے بتائیں میں پیچھے ہٹ جاتا ہوں۔ ‘

    عمران خان نے مزید کہا ’لیکن گیم پلان صرف یہ ہے کہ عمران خان راستے سے ہٹ جائے کیونکہ لوگوں کو اپنے ذاتی فائدے نظر آ رہے ہیں،لوگوں کو این آر او مل جائے گا اگر صرف اس لیے راستے سے ہٹانا ہے تو عمران خان راستے سے نہیں ہٹے گا۔ جو کرنا ہے کر لیں لیکن تاریخ کبھی اس پر معاف نہیں کرے گی۔‘

    سابق وزیر اعظم نے خطاب میں دعویٰ کیا ’مجھے پورا پتہ ہے کہ انھوں نے جیل کا پلان بنایا ہوا ہے، میں تیار ہوں جیل جانے کے لیے۔ اس سے کیا ہو گا نا اہل کر دیں گے مجھے۔ یہ پولیٹیکل انجحنئیرنگ بار بار فیل ہو گی۔ مجھے جیل میں ڈالیں گے جب بھی پی ٹی آئی جیتے گی۔ تحریک انصاف کا ووٹ بینک بڑھتا جا رہا ہے۔ ظلم کی وجہ سے اور بھی لوگ ہمارے ساتھ آتے جا رہے ہیں۔‘

    عمران خان نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ’میرا وکیل آیا جس کا پارٹی سے تعلق کوئی نہیں، اس کو بھی پکڑ کر لے گئے۔ میری بہن پر کیس اینٹی کرپشن سے کیس کروا دیا۔ میری بہن نے تمام پراپرٹی جب خریدی جب حمزہ شہباز وزیر اعلی تھے۔ تمام ادائیگی چیک کے ذریعے کی گئی ہیں۔ میرے اوپر 160 کیسز ہو گیے ہیں،کیا سمجھتے ہیں کہ میں ڈر جاوں گا۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’پی ڈی ایم کا جنازہ نکال دیا ہے۔ ان جماعتوں کو بلکل ختم کر دیا ہے، یہ جماعتیں اب الیکشن لڑنے کے قابل نہیں رہیں۔ یہ وہ کوشش کریں گے جیسا کراچی کے میئر کے ان ڈائریکٹ الیکشن کئے گئے وہی کریں تو عام انتخابات میں یہ نہیں ہو سکتا۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ’ پچھلے سال 25 مئی سے ہمارے اوپر سختیاں شروع کی گئیں مگر اب ایک اور لیول پر سختیاں کی جا رہی ہیں کہ لوگوں کے گھروں میں گھسا جا رہا ہے عورتوں اور بچوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ میں سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ یہ کون سا ذہن ہے جو یہ کر رہا ہے۔‘

    عمران خان کے مطابق ’ ڈاکٹر طاہر مشرف کے دور میں وزیر رہ چکے ہیں انھوں نے اپنی پوری کہانی بتائی ہے کہ نہ انھوں نے کسی مظاہرے میں شرکت کی۔ ان کے گھر میں آ کر توڑ پھوڑ کی گئی۔ ان کے گھر میں ان کی اہلیہ کو بندوق کے بٹ مارے وہ مرگی کی مریض تھیں، ان کو سٹروک ہو چکا تھا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ خواتین کے ساتھ اتنی بدتمیزی کی اور مارا جا رہا ہے۔ ’ہمارے نبی نے تو جنگ کے دوران عورتوں بزرگوں اور بچوں کے ساتھ ظلم کرنے سے روکا لیکن یہاں اپنے لوگوں پر ظلم کیا جا رہا ہے، بزنس تباہ کئے جا رہے ہیں ملازموں کو لے جاتے ہیں ان پر ظلم کرتے ہیں۔‘

  6. وکیل عبدالرزاق شر قتل کیس: جے آئی ٹی نے انصاف عمران خان کو طلب کر لیا

    سپریم کورٹ کے وکیل عبدالرزاق شر قتل کیس میں قائم جے آئی ٹی نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو طلب کر لیا ہے۔

    ایک سینئر پولیس اہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ تحریک انصاف کے سربراہ کو 26جون کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا ہے۔

    اہلکار کے مطابق جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم نے انھیں ضابطہ فوجداری کے شق160کے تحت نوٹسجاری کیا ہے۔

    اہلکار کا کہنا تھا کہ سربراہ تحریک انصاف کو یہ نوٹس لاہور پولیس کے زریعے وصول کروایا جائے گا۔

    انھوں نے بتایا کہ سربراہ تحریک انصاف جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کروا سکتے ہیں اور اپنی بے گناہی سے متعلق شواہد فراہم کر سکتے ہیں۔

    خیال رہے کہ سربراہ تحریک انصاف پر سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل عبدالرزاق شر کے قتل کا مقدمہ درج ہے۔ بلوچستان حکومت نے سی ٹی ڈی کے ڈی آئی جی کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل دی ہے جو واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

    عبدالرزاق شر ایڈووکیٹ نے عمران خان کے خلاف غداری کے مقدمے کے اندراج کے لیے بلوچستان ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

  7. پاکستان تحریکِ انصاف کا جماعت کی مرکزی قانونی کمیٹی کو معطل کرنے کا اعلان

    چیئرمین عمران خان کی ہدایات پر ممبران مرکزی قانونی کمیٹی تحریک انصاف کا نوٹیفکیشن معطل کردیا گیا ہے۔

    پارٹی کے ٹوئٹر ہینڈل سے کی گئی ٹویٹ کے مطابق ’مرکزی قانونی کمیٹی میں شامل تمام ممبران کے فوری طور پر معطلی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

    سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف عمر ایوب خان کے دستخط سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔

  8. بریکنگ, انسداد دہشت گردی کی عدالت سے عمران خان سمیت متعدد پی ٹی آئی رہنماؤں کے ناقابل ضمانت ورانٹ جاری

    انسداد دہشت گردی کی عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور پارٹی کے دیگررہنماؤں میاں اسلم اقبال ،حماد اظہر سمیت دیگر کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔

    عدالت نے تفتیشی افسر کی استدعا پر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

    ملزمان کے خلاف تھانہ نصیر آباد اور ماڈل ٹاؤن پولیس نے مقدمات درج کررکھے ہیں۔

    تھانہ نصیرآباد میں کنٹینر جلانے اور ماڈل ٹاؤن میں مسلم لیگ ن کے دفتر میں توڑ پھوڑ کا مقدمہ درج ہے۔

    دیگر ملزمان میں مسرت جمشید چیمہ ،مراد راس ،حسان اللہ نیازی ،جمشید چیمہ سمیت سات ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔

    تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کو گرفتار کرنے کی کوشش کی مگر گرفتار نہیں ہوسکے۔

    تفتیشی افسر نے استدعا کی کہ عدالت ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرے۔

  9. بریکنگ, سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے ملٹری کورٹس کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    پاکستان کے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے ملٹری کورٹس کے خلاف درخواست دائر کردی ہے اور اس درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہعام عدالتیں ہوتے ہوئے ملٹری کورٹس کے ذریعے سویلینز کا ٹرائل غیر آئینی قرار دیا جائے۔

    اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ آرمی ایکٹ کے سیکشن ٹو ون ڈی ون اور ٹو آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق سے متصادم ہیں جنھیں کالعدم قرار دیا جائے۔

    سابق چیف جسٹس کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے لیے حوالے کیے گئے افراد کو کہاں رکھا گیا ہے اس کا ڈیٹا طلب کیا جائے اور ملٹری کورٹس میں عام شہریوں کے ٹرائل کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔

    اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کورٹ مارشل کی کاروائی صرف مسلح افواج کے اہلکاروں کے خلاف کی جا سکتی ہے اور کورٹ مارشل کا مقصد افواج میں نظم و ضبط کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سویلین کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل اسی صورت میں ہو سکتا ہے اگر وہ حاضر سروس ملازم ہو اور بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا آئین پاکستان کے تحت سویلین کا کورٹ مارشل کیا جا سکتا ہے۔

    ’ہر شہری کو شفاف ٹرائل کا حق حاصل ہے‘

    اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کیس کے فیصلے کا فوری طور پر بنیادی حقوق پر براہِ راست اثر پڑے گا اور حکومت اور فوج نے واضح کیا ہے کہ نو مئی کے واقعات میں ملوث ملزمان کا ملٹری کورٹس میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

    سابق چیف جسٹس کا اپنی درخواست میں یہ بھی کہنا ہے کہ درخواست گزار کا موقف ہے کہ کوئی جرم سرزد ہونے کی صورت میں ہر شہری کو شفاف ٹرائل کا حق حاصل ہےاور کورٹ مارشل کی صورت میں آئین میں دیئے گئے اس بنیادی حق کی خلاف ورزی ہوگی اور شفاف ٹرائل اسی صورت ممکن ہوگا جب مقدمے کی کھلی سماعت ہو اور ملزمان کو اپنی مرضی کا وکیل کرنے کی اجازت ہو جبکہ کورٹ مارشل کی صورت میں ان اصولوں کی خلاف ورزی ہوگی۔

    سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ملٹری کورٹس کے فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق بھی دستیاب نہیں ہوگا۔

    اس درخواست میںسپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ عدالت ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے لیے بھیجے جانے والے ملزمان کو فوجداری عدالتوں میں ٹرائل کے لیے سول اتھارٹیز کے حوالے کرنے کا حکم جاری کرے اور اس کے ساتھ ساتھ ملٹری کورٹس کی تمام کاروائی روکنے اور کوئی بھی حتمی فیصلہ جاری کرنے سے روکنے کا حکم دیا جائے۔

    ’مقصد کسی جماعت یا ادارے کی حمایت یا حملے کو سپورٹ کرنا نہیں‘

    سابق چیف جسٹس نے واضح کیا ہے کہ ’درخواست گزار کا مقصد کسی جماعت یا ادارے کی حمایت یا حملے کو سپورٹ کرنا نہیں اور درخواست گزار کا اس مقدمے میں کوئی ذاتی مفاد وابستہ نہیں اور درخواست گزار کا مقصد کسی سیاسی وابستگی کے بغیر عام شہریوں کو ریلیف فراہم کرنا ہے‘۔

    ’درخواست گزار کا مقصد مجرمانہ سرگرمیوں کے مشتبہ افراد کو بری کرانا نہیں اور نہ ہی درخواست گزار ملزمان کے کسی فعل کی حمایت کرتا ہے۔‘

    اس درخواست میں وزارت قانون، وزارت دفاعکے علاوہ پنجاب، خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان کی صوبائی حکومتوں کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

  10. شاہ محمود قریشی، اسدعمر اور اسد قیصر کی ضمانت کی درخواستیں مسترد

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں شاہ محمود قریشی اور اسدعمر کےخلاف تھانہ ترنول میں درج مقدمے میں ضمانت کے معاملے پراسد عمر،اسد قیصر اور شاہ محمود قریشی کی ضمانتوں کی درخواستیں خارج کر دی گئی ہیں۔

    ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس سپرا نے درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنا دیا۔

    شاہ محمود قریشی، اسد قیصر اور اسد عمر درخواست ضمانتیں خارج ہونے کے بعد کچہری سے روانہ ہوگئے۔ گرفتاری کے پیش نظر تینوں رہنما مختلف دروازوں سے کچہری سے نکلے۔

    عدالت نے اسد قیصر کی تھانہ سنگجانی مقدمے میں بھی درخواست خارج کر دی۔

    اسد عمر اور شاہ محمود قریشی نے کمرہ عدالت کے دروازے پر کھڑے ہو کر فیصلہ سنا۔ فیصلہ سنتے ہی اسدعمر اور شاہ محمود قریشی ضلعی کچہری سے ایک ہی گاڑی میں روانہ ہوگئے۔

    شریک ملزمان ناصر محمود، خان بہادر، خالد محمود، محمد امتیاز، جمشید مغل ، انور زیب اور خالد محمود کی بھی ضمانت کی درخواستیں خارج کر دی گئیں۔

  11. عمران خان نے بلوچستان میں وکیل کے قتل کے مقدمے میں نامزدگی سپریم کورٹ میں چیلنج کر دی

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے بلوچستان میں وکیل کے قتل کے مقدمے میں نامزدگی سپریم کورٹ میں چیلنج کر دی ہے۔

    درخواست میں ایف آئی ار کو کالعدم کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کو سیاسی مقاصد کے لیے مقدمے میں نامزد کیا گیا، مقدمہ آئین کے آرٹیکل 9,10 اور 14 کی خلاف ورزی ہے۔‘

    درخواست کے مطابق مرکزی ملزم کی گرفتاری، ٹھوس شواہد کے بغیر سابقہ وزیراعظم کو مقدمہ میں طلب بھی نہیں کیا جا سکتا۔

  12. متنازع ٹویٹ کیس: اعظم سواتی کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا آغاز

    پی ٹی آئی کے سینیٹر اعظم سواتی کے خلاف متنازع ٹویٹ کیس میں عدالت نے اعظم سواتی کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اسپیشل جج سینٹرل نے اعظم سواتی کو اب 24 جولائی کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

    اعظم سواتی کی مسلسل عدم پیشی کے باعث اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا حکم دیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ اعظم سواتی کو فرد جرم عائد کرنے کے لیے آج سپیشل جج سینٹرل اعظم خان نے طلب کر رکھا تھا۔

    ایف آئی اے نے اعظم سواتی کی دونوں رہائشگاہ پر وارنٹ کی تعمیلی رپورٹ عدالت میں جمع کروا دی ہے۔

  13. حریم شاہ ویڈیوز لیک کیس: صندل خٹک کی درخواستِ ضمانت منظور کر لی گئی

    حریم شاہ ویڈیوز لیک کیس میں عدالت نے ملزمہ صندل خٹک کی درخواستِ ضمانت منظور کر لی ہے۔

    سپیشل جج سینٹرل اسلام آباد اعظم خان کی عدالت میں ملزمہ صندل خٹک کے وکیل مصدق برقی پیش ہوئے۔

    انھوں نے عدالت کو بتایا کہ صندل خٹک کو کوئی نوٹس نہیں ملا تھا لیکن مقدمہ براہ راست درج کر لیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ حریم شاہ کی صندل خٹک کے خلاف ایف آئی اے لاہور اور پشاور میں درخواست خارج ہوئی۔

    وکیل کے مطابق صندل خٹک نے لائیو سٹریمنگ شیئر کی، خود ریکارڈنگ نہیں کی۔

    وکیل کے مطابق صندل خٹک کے موبائل سے کوئی ثبوت نہیں ملا اور جب ویڈیوز بنائی گئیں تو تب وہ ہنس رہی تھیں۔

    وکیلِ کے مطابق حریم شاہ کی ویڈیوز ان کی رضامندی سے بنائی گئیں اور صندل خٹک سے دوران تفتیش کچھ برآمد نہیں ہوا۔

  14. بریکنگ, اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں چار روپے کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں منگل کے روز چار روپے کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی جب ڈالر گزشتہ روز 295 روپے کی سطح سے کم ہو کر 291 روپے کی سطح پر آگیا۔

    اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز کمی ریکارڈ کی گئی۔

    انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت روپے کے مقابلے میں مستحکم ہے۔ کرنسی ڈیلروں کے مطابق ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں ہونے والی کمی کی خبروں نے اوپن مارکیٹ میں پاکستانی روپے کی قیمت کو سہارا دیا جس کی وجہ سے اس کی قدر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

  15. الیکشن کمیشن ممنوعہ فنڈنگ کیس میں دیے گئے شوکاز نوٹس کے خلاف پی ٹی آئی کے اعتراضات پر سماعت کرے: اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم, شہزاد ملک/ بی بی سی اردو، اسلام آباد

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو ممنوعہ فنڈنگ کیس میں دیے گئے شوکاز نوٹس کے خلاف پی ٹی آئی کے اعتراضات پر سماعت کرنے کا حکم دے دیا۔

    عدالت عالیہ کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو سنتے ہوئے فئیر ٹرائل کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں ممنوعہ فنڈنگ کیس شوکاز نوٹس پر پی ٹی آئی کے اعتراضات سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل انور منصور پیش ہوئے۔الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کے روبرو بتایا کہ ’پٹیشنر کے خلاف شوکاز کی کوئی کارروائی شروع نہیں کی گئی، دیگر گواہوں کو جرح کے لیے طلب کیا گیا ہے۔

    عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے دریافت کیا کہ ’لارجر بنچ نے فیصلہ دیا ہے آپ اس کے مطابق کارروائی آگے کیوں نہیں بڑھا رہے۔ عدالت کا وقت آپ کیوں ضائع کر رہے ہیں؟ جسٹس بابر ستار نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ’درخواست گزار کو کیس کی سماعت کا موقع کیوں نہ دیا جائے؟ آخر ایسی کیا بات تھی؟ الیکشن کمیشن کو فیصلے میں سمجھ نہیں آئی۔ آپ کو کس نے کہا کہ آپ ہائی کورٹ کے آڈر کے پابند نہیں ہیں۔

    عدالت نے ممنوعہ فنڈنگ پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے پی ٹی آئی کی درخواست منظورکر کے الیکشن کمیشن کو کاروائی آگے بڑھانے کی ہدایت کردی۔

    ممنوعہ فنڈنگ کیس میں شوکاز نوٹس کے خلاف پی ٹی آئی کے اعتراضات الیکشن کمیشن نے مسترد کر دئیے تھے جس پرتحریک انصاف نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

    عدالت نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست منظور کر لی۔

  16. بریکنگ, الیکشن کمیشن کا عمران خان،اسد عمر اور فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس میں فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ, شہزاد ملک/ بی بی سی اردو، اسلام آباد

    الیکشن کمیشن نے سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس میں فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان تینوں افراد کو 11جولائی کو ذاتی حثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کے ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں چار رکنی کمیشن نے پی ٹی آئی کے اعتراضات پر محفوظ فیصلہ سنادیا جس کے مطابق عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری پر چارج فریم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    الیکشن کمیشن نے آئندہ سماعت پر چیئرمین پی ٹی آئی، اسد عمر اور فواد چوہدری کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ۔

    فریقین کی جانب سے وکیل فیصل چوہدری الیکشن کمیشن پیش ہوئے اور استدعا کی کہ الیکشن کمیشن کا گزشتہ سماعت کا کوئی آرڈر موصول نہیں ہوا۔

    الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے اعتراضات مسترد کردیے۔ ممبر الیکشن کمیشن نثار درانی نے ریمارکس دیے کہ فریقین آج بھی الیکشن کمیشن پیش نہیں ہوئے۔

    کیس کی سماعت 11 جولائی تک ملتوی کر دی گئی۔

  17. بریکنگ, پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں موجودہ مالی سال میں 12 ارب ڈالر کی کمی, تنویر ملک ، صحافی

    پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں موجودہ مالی سال کے پہلے گیارہ مہینوں میں 81 فیصد کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی جب ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2.9 ارب ڈالر رہا ہے جو گزشتہ مالی سال کے ان مہینوں میں 15.1 ارب ڈالر تھا۔

    پاکستان کے مرکزی بینک کے مطابق ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ مئی کے مہینے میں سرپلس رہا ۔ اس مہینے میں کرنٹ اکاؤنٹ 25 کروڑ پچاس لاکھ سرپلس رہا جب کہ گزشتہ سال مئی میں کرنٹ اکاؤنٹ 1.5 ارب ڈالر خسارے میں تھا۔

    پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں آنے والی کمی کی وجہ ملکی درآمدات میں کمی ہے۔ مئی کے مہینے میں ملکی درآمدات میں 30 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی اور برآمدات میں چھ فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تاہم ترسیلات زر میں 10 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

  18. 1200 میگا واٹ کے منصوبے کا معاہدہ سول ملٹری لیڈرشپ کے ون پیج پر ہونے کا نتیجہ ہے: شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’چشمہ فائیو نیوکلر پاور پلانٹ کے 1200 میگا واٹ کے منصوبے کا معاہدہ سول ملٹری لیڈرشپ کے ون پیج پر ہونے کا نتیجہ ہے۔ پاکستان کی نئی فوجی قیادت کا شکر گزار ہوں کہ اس منصوبے میں گہری دلچسپی لی۔‘

    معاہدے کی تقریب سے خطاب کے دوران شہباز شریف نے کہا کہ ’چین کی قیادت کا شکر گزار ہوں کہ وہ پاکستان میں 4.8 ارب ڈالر کی لاگت کے ساتھ یہ منصوبہ شروع کر رہے ہیں۔ چینی کمپنی نے افراط زر کے باوجود قیمتیں نہیں بڑھائیں۔ یہ منصوبہ پیغام ہےکہ چینی سرمایہ کار پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں۔

    شہباز شریف کے مطابق ’پاکستان نے آئی ایم ایف کے نویں جائزے کے لیے تمام شرائط پوری کر دی ہیں تاہم آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے میں غیر معمولی تاخیر ہو رہی ہے۔ چین نےاس مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔‘

    شہباز شریف نے دعویٰ کیا کہ’ مشکل معاشی حالت کے باوجود پاکستان معاشی بحالی کے لیے پرعزم ہے۔

  19. انسانی سمگنگ کے معاملے پر کمیٹی ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرے گی: رانا ثنا اللہ

    وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ انسانی سمگلروں سے متعلق تحقیحقات جاری ہیں اور ان سے متعلق عالمی تعاون بھی حاصل کیا جائے گا۔

    جیو نیوز کے پروگرام ’جیو پاکستان‘ میں بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’انسانی سمگلرز سے متعلق کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو ایک ہفتے میں کمیٹی اپنا کام مکمل کر کے رپورٹ پیش کرے گی۔ کمیٹی کا مینڈیٹ یہ بھی ہے کہ سزا پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔‘

    وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ ’ سخت ترین قوانین کے تحت کارروائی کر کے ان سمگلرز کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ ان ملزمان نے فی کس 20 سے 25 لاکھ روپے تک وصول کیے۔ اکثر کیسز میں ایجنٹ مدعی کو پیسے دلا کر کیسز ختم کروا دیتے ہیں۔ کمیٹی قوانین میں مزید بہتری کے لیے تجاویز دے دی ہیں۔‘

    رانا ثنا اللہ کے مطابق ’لبنانی کوسٹ گارڈ کے رویے سے متعلق حکومت لبنانی حکومت سے بات کرے گی۔‘

  20. بلوچستان کا 750 ارب روپے کا بجٹ پیش، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 30 سے 35 فیصد اضافہ, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    2023-24 کے لیے بلوچستان کا 750ارب روپے مالیت کا بجٹ پیش کیا گیا جس میں 49 ارب روپے کا خسارہ ظاہر کیا گیا ہے۔

    سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 30 سے 35 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ کم ازکم اجرت 32 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔

    نئے مالی سال کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا جبکہ تعلیم، صحت اور امن وامان کے لیے سب سے زیادہ رقم مختص کی گئی ہے۔

    بجٹ میں گوادر کو خصوصی معاشی ضلع قرار دینے کے علاوہ گوادر خصوصی اکنامک زون کو تمام صوبائی ٹیکسوں سے مستثنی قرار دینے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

    آئندہ مالی سال کا بجٹ بلوچستان کے وزیر خزانہ انجنیئر زمرک خان نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیا۔

    وزیرخزانہ انجنیئر زمرک خان نے بتایا کہ وفاق سے این ایف سی ایوارڈ سمیت آئندہ مالی سال کے لیے بلوچستان کو 521 ارب روپے ملیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی اپنی محصولات سے آمدن کا تخمینہ 57 ارب روپے ہے۔ ’سوئی گیس لیز توسیع کی مد میں 55 ارب روپے کی آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ غیر ملکی امداد کے تحت چلنے والے منصوبوں کے لیے 37 ارب روپے ملیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے لئے بلوچستان کی مجموعی آمدن کا تخمینہ 701 ارب روپے ہے۔

    آئندہ مالی سال کے اخراجات کی تفصیل بتاتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہا کہ بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات کا حجم 437 ارب روپے ہے جبکہ اگلے مالی سال میں ترقیاتی بجٹ کے لیے 229 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

    وزیر خزانہ نے بتایا کہ ترقیاتی بجٹ میں 4721 جاری سکیموں کے لیے 170 ارب روپے جبکہ 5068 نئی سکیموں کے لیے 58 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    وزیرخزانہ نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 4389 نئی اسامیاں تخلیق کی گئی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے گریڈ ایک سے 16 تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 35 فیصد جبکہ گریڈ 17 سے 22 تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 30 فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور پینشن میں ساڑھے 17فیصد اضافہ کیا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں کم سے کم سے اجرت 32 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تعلیم کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر100 ارب روپے رکھے گئے ہیں تاہم ان میں سے 78 ارب روپے تنخواہوں اور دیگر غیرترقیاتی اخراجات کے لیے ہوں گے جبکہ ترقیاتی اخراجات کے لیے 22 ارب روپے دستیاب ہوں گے۔

    بجٹ میں صحت کے لیے مجموعی طور پر 65 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ صحت کے شعبے میں غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 51 ارب 73 کروڑ جبکہ ترقیاتی مد میں 14 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    امن وامان کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر53ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جن میں سے 2 ارب ترقیاتی اخراجات کے لیے ہوں گے۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں صحت کارڈ کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے اور ادویات کی خریداری کے لیے 4 ارب 88 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔